Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • نادرا کا سول رجسٹریشن کا جدید ڈیجیٹل منصوبہ: شہری سہولتوں میں اہم پیشرفت

    نادرا کا سول رجسٹریشن کا جدید ڈیجیٹل منصوبہ: شہری سہولتوں میں اہم پیشرفت

    نادرا نے سول رجسٹریشن اور اہم اعداد و شمار (سی آر وی ایس) کے ابتدائی منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک میں پیدائش، شادی، طلاق اور اموات کی رجسٹریشن کے عمل کو بہتر اور مؤثر بنانا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی ہدف صوبائی اور وفاقی حکام کے درمیان ڈیٹا کی ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے بہتر رابطہ کاری اور معلومات کا یکجا نظام قائم کرنا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔یہ منصوبہ تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا اور اس کی تکمیل کا دورانیہ دو سال ہوگا۔ پہلے مرحلے میں پنجاب کے 10 بڑے ہسپتالوں میں پیدائش اور موت کی رجسٹریشن کے لیے جدید ڈیجیٹل آلات متعارف کرائے جائیں گے۔ ان ہسپتالوں میں والدین کو اپنے بچے کی پیدائش کا اندراج کرنے کے لیے ایس ایم ایس الرٹس موصول ہوں گے، جس کے ذریعے پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا عمل تیز اور آسان ہو جائے گا۔دوسرے مرحلے میں منصوبے کو مزید وسعت دی جائے گی اور اسے ملک کے 25 فیصد سرکاری صحت کے مراکز تک پہنچایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کے عمل کو بھی ڈیجیٹل کیا جائے گا تاکہ لوگوں کو بروقت اور درست رجسٹریشن میں مدد ملے اور قانونی ریکارڈ کو بہتر طریقے سے محفوظ کیا جا سکے۔تیسرے اور آخری مرحلے میں اس منصوبے کو ملک کے 90 فیصد سرکاری صحت کے مراکز تک پھیلایا جائے گا، جبکہ تمام ٹاؤن کمیٹیوں اور یونین کونسلز کو اس سسٹم کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس طرح پیدائش، موت، شادی اور طلاق کے تمام ریکارڈ کو مؤثر طریقے سے محفوظ اور مستند بنایا جا سکے گا، اور ان کا ڈیٹا ملک گیر سطح پر ایک مربوط نظام کے ذریعے یکجا کیا جا سکے گا۔
    نادرا اس منصوبے کے تحت ایک موبائل ایپلی کیشن بھی تیار کر رہا ہے جو شہریوں کو آسانی سے اپنے بچوں کی پیدائش، شادی اور دیگر واقعات کی رجسٹریشن کرنے میں مدد دے گی۔ اس ایپ کے ذریعے نہ صرف شہریوں کی سہولت میں اضافہ ہوگا بلکہ حکام کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔ مزید برآں، وفاقی اور صوبائی سطح پر رجسٹریشن کے نظام کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ضروری قانون سازی اور اصلاحات بھی کی جا رہی ہیں۔یہ منصوبہ شہریوں کے لیے ایک اہم سہولت ثابت ہوگا، کیونکہ وہ اپنی زندگی کے اہم واقعات کی رجسٹریشن اور سرٹیفکیٹ کے حصول میں اب روایتی سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی بجائے جدید ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال کر سکیں گے۔ اس منصوبے کی کامیابی سے ملک میں ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور شہریوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
    نادرا کا یہ اقدام ڈیجیٹل پاکستان کی حکومتی وژن کے تحت اٹھایا گیا ایک اہم قدم ہے، جس کے ذریعے ملک میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی دستیابی اور شفافیت کو بڑھانے کے لیے بنیادی انفراسٹرکچر مضبوط کیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف ملک کے مختلف اداروں کو عوامی خدمات بہتر طور پر فراہم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل میں منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے لیے بھی درست ڈیٹا دستیاب ہوگا۔اس منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے نادرا اور دیگر متعلقہ اداروں کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں خاص طور پر دور دراز علاقوں تک نظام کی رسائی، شہریوں کی آگاہی، اور مختلف حکومتی اداروں کے درمیان تعاون شامل ہیں۔ تاہم، یہ منصوبہ ملک میں شہری خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور حکومتی ڈیٹا بیس کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔اس طرح نادرا کی یہ نئی کاوش نہ صرف حکومت کو عوامی خدمات کی فراہمی میں مدد دے گی بلکہ پاکستان کو ڈیجیٹل مستقبل کی طرف ایک اور قدم بڑھانے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔

  • خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان

    خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان

    پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی سرگرمیوں پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے، جس کے بعد پی ٹی ایم کو کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس، اجتماع یا کسی اور سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ کالعدم پی ٹی ایم آئین پاکستان اور ریاست کے مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے، اور اس کی ہر سرگرمی پر مکمل پابندی عائد ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 11 سے 13 اکتوبر تک پی ٹی ایم کے اعلان کردہ اجتماع کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس سلسلے میں حکومت کے تمام قانونی اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کالعدم تنظیم کے ارکان کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پائے گئے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔
    بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں ضلع خیبر میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس پر فوری طور پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے نوٹس لیا۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی وزیراعلیٰ نے اس مسئلے کے حل کے لیے تحریک انصاف ضلع خیبر کے ارکان اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ علاقے میں جا کر صورتحال کو سنبھالیں۔ مزید برآں، وزیراعلیٰ نے اپنی سرکردگی میں ایک جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کیا، جس میں تمام متعلقہ فریقین کو مدعو کیا گیا ہے تاکہ مسئلے کو پشتون روایات کے مطابق جرگے کے ذریعے پرامن طور پر حل کیا جا سکے۔صوبائی مشیر اطلاعات نے بتایا کہ ضلع خیبر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، تاہم اس کے باوجود کالعدم پی ٹی ایم نے علاقے میں اجتماع کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں تنظیم کے ارکان کا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا۔ پولیس نے موقع پر موجود رہتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی، مگر اس تصادم کے دوران حالات ناخوشگوار ہو گئے۔
    بیرسٹر سیف نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ضلع خیبر میں پیش آئے ناخوشگوار واقعے کے حل کے لیے کوکی خیل قبیلے کے عمائدین کو بھی اس معاملے میں انگیج کیا ہے، تاکہ علاقے میں امن کی بحالی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام اقدامات کمشنر پشاور اور ضلعی انتظامیہ کی زیر نگرانی کیے جا رہے ہیں، اور حکومت کی کوشش ہے کہ ضلع خیبر میں امن عامہ کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جائے۔بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اس پورے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ خیبر پختونخوا کے تمام عوام، چاہے وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، ان کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ وزیراعلیٰ نے تمام فریقین کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کے زیر سرکردگی ہونے والے جرگے میں شامل ہوں اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں۔صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے اپنے ویڈیو بیان میں یہ واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کالعدم پی ٹی ایم کی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گی اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکے اور کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کی گنجائش نہ رہے۔

  • سلمان اکرم راجہ کا  مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات کے بعد  قوم کے لیے بڑی خوشخبری کا عندیہ

    سلمان اکرم راجہ کا مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات کے بعد قوم کے لیے بڑی خوشخبری کا عندیہ

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ایک اعلیٰ سطحی وفد آج مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد اہم سیاسی بیانات کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے مولانا فضل الرحمان کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ مولانا نے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے جس کا اثر آنے والے دنوں میں قوم پر خوشخبری کی صورت میں نظر آئے گا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا، "مولانا فضل الرحمان نے قوم کو بچا لیا ہے۔ اُنہوں نے ایک ایسا تاریخی سٹینڈ لیا ہے جس سے نہ صرف ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو گا بلکہ قوم کی تقدیر بھی بہتر ہو گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور وہ مسلسل قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ملاقات میں پی ٹی آئی کی جانب سے وفد میں چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، روف حسن اور حامد خان شامل تھے جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) کی نمائندگی کرنے والے افراد میں مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی اور جے یو آئی کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عبدالواسع، پارٹی کے مرکزی ترجمان اسلم غوری اور سید محمود شاہ شامل تھے۔
    یہ ملاقات ایک اہم موڑ پر ہوئی ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت انتہائی بلند ہے اور مختلف جماعتیں ملک کی سیاسی سمت کے حوالے سے اہم فیصلے کر رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان، جو نہ صرف جمعیت علماء اسلام کے سربراہ ہیں بلکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کے صدر بھی ہیں، اپنی سخت گیر پالیسیوں اور مفاہمتی کردار کے لئے جانے جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس ملاقات کا بنیادی مقصد ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے اس ملاقات کو انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جو ملک کی سیاست کو نئی راہ دکھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ "مولانا کی قیادت میں قوم کو بہت جلد ایک اچھی خبر ملے گی اور ان کا فیصلہ تاریخی ثابت ہو گا۔
    مولانا فضل الرحمان پاکستانی سیاست کے ایک اہم ستون ہیں اور ان کا کردار ہمیشہ سے سیاسی استحکام اور مفاہمت کے فروغ میں رہا ہے۔ اس ملاقات میں انہوں نے پی ٹی آئی وفد سے مختلف موضوعات پر بات چیت کی اور سیاسی اتحاد اور استحکام کے حوالے سے اپنی بصیرت فراہم کی۔ مولانا فضل الرحمان نے بھی اس ملاقات میں پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ کھل کر گفتگو کی اور ملک کے وسیع تر مفاد میں بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر اس اقدام کی حمایت کریں گے جو ملک میں امن، استحکام اور جمہوریت کے فروغ کا باعث ہو۔
    اس ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوالات زیر گردش ہیں کہ کیا یہ ملاقات کسی بڑے سیاسی اتحاد کا پیش خیمہ ہے یا صرف ایک رسمی بات چیت تھی؟ تاہم، پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے دیے گئے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک کی سیاست میں اہم تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ملاقات کے بعد پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ یہ بات چیت دونوں جماعتوں کے درمیان ایک نئی شروعات کی علامت ہو سکتی ہے۔ روف حسن نے کہا، "ہم سیاسی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہماری بات چیت اسی سمت میں ایک قدم ہے۔
    ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے مزید ملاقاتوں اور بات چیت کا عندیہ دیا ہے تاکہ ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالا جا سکے۔ حامد خان نے کہا کہ یہ صرف پہلی ملاقات تھی، ہم مستقبل میں بھی مختلف معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام بحال کیا جا سکے۔مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کی اس ملاقات نے ملک کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور عوامی حلقوں میں یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ کیا یہ ملاقات کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی یا نہیں۔

  • سابق اسپیکر قومی اسمبلی الہٰی بخش سومرو 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    سابق اسپیکر قومی اسمبلی الہٰی بخش سومرو 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    کراچی: ملک کے بزرگ سیاستدان اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی الہٰی بخش سومرو 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ الہٰی بخش سومرو نے 1997 سے 2001 تک قومی اسمبلی کے اسپیکر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور وفاقی وزیر کے طور پر بھی اہم ذمہ داریاں سر انجام دی تھیں۔مرحوم کی نماز جنازہ کل دوپہر کو کراچی میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں ان کے آبائی علاقے احمد میاں سومرو میں سپرد خاک کیا جائے گا۔الہٰی بخش سومرو ایک طویل سیاسی کیریئر کے حامل رہنما تھے اور ان کی وفات کو پاکستان کی سیاست میں ایک اہم خلا قرار دیا جا رہا ہے۔

  • شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو دہشت گرد ہلاک، وزیراعظم کا خراج تحسین

    شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو دہشت گرد ہلاک، وزیراعظم کا خراج تحسین

    شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں ایک کامیاب کارروائی کے دوران دو خوارج کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ کارروائی انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے تحت کی گئی، جس کا مقصد علاقے میں موجود دہشت گردوں کی موجودگی کو ختم کرنا تھا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز کو خوارج کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ اس دوران سکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں دو دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے۔
    آئی ایس پی آر نے مزید وضاحت کی کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ یہ خوارج سکیورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملوں اور علاقے میں بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے، جس کی وجہ سے یہ کارروائی خاص طور پر اہمیت کی حامل ہے۔علاقے میں سکیورٹی کی صورت حال کو مزید مستحکم کرنے کے لیے آئی ایس پی آر نے یہ بھی بتایا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے ہمدردوں اور دیگر خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ پاک فوج نے ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ملک بھر میں سکیورٹی فورسز کی کوششیں شدت اختیار کر چکی ہیں تاکہ ملک میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھا جا سکے۔ سکیورٹی ادارے اپنے عزم میں مضبوط ہیں کہ وہ ملک کی سرزمین سے ہر قسم کی دہشت گردی کا قلع قمع کریں گے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خوارجی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کی بھرپور تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران دو خوارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔
    وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز اور بے گناہ شہریوں پر دہشت گردانہ حملوں میں ملوث تھے، جو کہ قوم کے لیے ایک سنگین خطرہ تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وطن عزیز سے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی ادارے پر عزم ہیں۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ پوری قوم اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے، اور وہ ان کی قربانیوں اور محنتوں کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور قومی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں شدت اختیار کر چکی ہیں، اور وہ دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔ یہ کامیاب آپریشن سیکیورٹی فورسز کی مہارت اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال کو بحال کرنے کے لیے حکومتی عزم مضبوط ہے۔

  • ایمنڈ کا پیمرا کے نوٹسز کیخلاف شدید ردعمل، سندھ ہائی کورٹ میں عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کا معاملہ زیر غور

    ایمنڈ کا پیمرا کے نوٹسز کیخلاف شدید ردعمل، سندھ ہائی کورٹ میں عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کا معاملہ زیر غور

    ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائیریکٹرز (ایمنڈ) نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے ٹی وی چینلز کو جاری کیے گئے نوٹسز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ایمنڈ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ٹی وی چینلز کو پیمرا کی جانب سے مسلسل اعلانیہ اور غیراعلانیہ پابندیوں کے احکامات کا سامنا ہے۔ یہ پابندیاں خاص طور پر حالیہ دہشتگردی کے واقعے کی کوریج کے تناظر میں عائد کی گئی ہیں، جس کے تحت کئی ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹسز دیے گئے ہیں۔ ایمنڈ نے شوکاز نوٹسز کو غیر قانونی سنسرشپ کا اطلاق قرار دیتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ چینلز نے اس واقعے کی انتہائی ذمہ دارانہ کوریج کی ہے، جو قومی و معاشرتی مفاد کے عین مطابق ہے۔
    ایمنڈ کے اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ چینلز نے حکومتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا موقف عوام تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ ٹریفک کی روانی اور بندش کے بارے میں بھی ناظرین کو آگاہ کیا۔ ایمنڈ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام معلومات عوام تک پہنچانا میڈیا کا فرض اور عوام کا حق ہے، جسے وہ ذمہ داری کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔ ایمنڈ نے کہا کہ بلا تفریق نوٹسز جاری کرنا بدنیتی کی علامت اور ناقابل قبول ہے۔ اگر کسی چینل نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تو اسے قانون کے مطابق دیکھا جا سکتا ہے۔ ایمنڈ نے دیگر میڈیا تنظیموں سے رابطے کے ساتھ ساتھ اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس میں عدالتوں سے رجوع کرنے سمیت تمام آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

    سندھ ہائی کورٹ میں عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کی سماعت
    دوسری جانب، سندھ ہائی کورٹ نے عدالتی رپورٹنگ پر پیمرا کی پابندی کے خلاف درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ دورانِ سماعت، عدالتِ عالیہ نے پیمرا کے وکیل سے سوال کیا کہ اگر سماعت کے دوران عدالت کے ریمارکس رپورٹ ہوتے ہیں تو کیا یہ غلط ہے؟ پیمرا کے وکیل نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی پیچیدگیاں عام آدمی کو سمجھ نہیں آتیں، اور ان کے مطابق، یہ صورتحال معاشرے میں بے چینی پھیلانے کا سبب بن سکتی ہے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ عامر فاروق نے جواب دیا کہ اگر عوام کو یہ نہیں بتایا جائے گا کہ کیا ہو رہا ہے تو انہیں بے چینی سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟
    عدالت نے مزید کہا کہ لوگوں کا جاننا حق ہے کہ عدالت میں کیا چل رہا ہے، اور اگر کچھ عدالت میں ہو رہا ہے تو اسے عوام تک پہنچانا ضروری ہے۔ معیز جعفری ایڈووکیٹ نے کہا کہ پیمرا کو بغیر کونسل آف کمپلینٹ کے فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے، اور اس کے چیئرمین کو بھی بورڈ کی مشاورت کے بغیر ازخود فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ یہ تمام صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایمنڈ نے پیمرا کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جو کہ میڈیا کے آزادی کے حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اس صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر، ایمنڈ کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے عدالتی رپورٹنگ پر پیمرا کی پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • ایشیائی ترقیاتی بینک کی نئی حکمت عملی: پاکستان کو 8.41 ارب ڈالر کی امداد

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی نئی حکمت عملی: پاکستان کو 8.41 ارب ڈالر کی امداد

    اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے لیے اپنی نئی کنٹری آپریشنل اسٹریٹجی 2024-2027 کی تیاری کے بارے میں بتایا ہے، جس کے تحت ملک میں 8.41 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ اہم اعلان بدھ کو سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کیا گیا، جہاں اے ڈی بی کے حکام نے اپنی بریفنگ میں مختلف منصوبوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔اے ڈی بی حکام کے مطابق، نئی کنٹری آپریشنل اسٹریٹجی کے تحت پاکستان کو اس سال 7 منصوبوں کے لیے 2 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، 2025 میں 15 منصوبوں کے لیے 1.85 ارب ڈالر فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ 2026 میں 2.30 ارب ڈالر اور 2027 میں 12 منصوبوں کے لیے 2.25 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ اس طرح، مجموعی طور پر 2024 سے 2027 تک پاکستان کو 8.41 ارب ڈالر کی امداد ملے گی۔
    اے ڈی بی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ نئی اسٹریٹجی حکومت اور نجی شعبے کی مشاورت سے تیار کی جائے گی۔ اس طرح یہ یقینی بنایا جائے گا کہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور مالی معاونت کا بہتر استعمال ہو۔حکام نے یہ بھی وضاحت کی کہ اے ڈی بی قرض کی صورت میں کمٹمنٹ چارجز کے طور پر معمولی رقم کاٹے جاتے ہیں، جو کہ پاکستان کی مالی صورتحال کے پیش نظر ایک اہم پہلو ہے۔ اجلاس کے دوران بی آر ٹی پشاور کے بارے میں کچھ شکایات کا بھی ذکر کیا گیا۔ اے ڈی بی کے حکام نے بتایا کہ نیب (قومی احتساب بیورو) بھی بی آر ٹی پشاور پروجیکٹ کے حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے، جس سے منصوبے کی شفافیت اور کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔
    یہ نئی کنٹری آپریشنل اسٹریٹجی پاکستان کے ترقیاتی اہداف کے حصول میں مدد فراہم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے، جس کے تحت مالی معاونت کے ذریعے مختلف اہم منصوبوں کی تکمیل کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون بھی بڑھانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ یہ ایک امید افزا پیشرفت ہے، جو کہ پاکستان کے ترقیاتی مستقبل کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

  • وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی کی جانب سے آئی ایس ایم او پالیسی کی منظوری

    وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی کی جانب سے آئی ایس ایم او پالیسی کی منظوری

    وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی نے حال ہی میں انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹرز (آئی ایس ایم او) پالیسی کی منظوری دی ہے، جس کے تحت بجلی صارفین کو حکومت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ آپریٹرز سے بھی بجلی خریدنے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ فیصلہ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کیا گیا۔آئی ایس ایم او پالیسی بجلی کی مارکیٹ کو ایک ملٹی پلیئر انڈیپینڈنٹ مارکیٹ میں تبدیل کرے گی، جس کے نتیجے میں ایک شفاف اور مسابقتی مارکیٹ قائم ہوگی۔ اس فیصلے کے تحت بجلی کے نرخوں میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے، اور حکومت کے بجلی کے واحد خریدار کے کردار کو بتدریج ختم کرنے کی سمت میں قدم اٹھایا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق، یہ پالیسی بجلی کے شعبے میں گردشی قرضوں کی روک تھام اور بجلی چوری کے مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر زور دیا کہ بجلی کے شعبے کی اصلاحات کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، اور بجلی چوری میں ملوث تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔
    آئی ایس ایم او کو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت ایس ای سی پی سے رجسٹر کیا جائے گا، اور اس کے بورڈ میں بجلی کے شعبے کے ماہرین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس ادارے کے ذریعے پاکستان میں بجلی کی مؤثر اور شفاف مسابقتی مارکیٹ قائم کی جائے گی، جو کم سے کم لاگت کی بجلی پیداوار اور ترسیل کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کی سہولت فراہم کرے گی۔آئی ایس ایم او کے قیام سے بجلی صارفین کو تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سپلائرز سے بجلی خریدنے کی سہولت ملے گی، جس سے مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی اور صارفین کو بہتر قیمتوں اور خدمات کی فراہمی ممکن ہوگی۔
    آئی ایس ایم او کی پالیسی کی وفاقی کابینہ سے بھی توثیق لی جائے گی، جس کے بعد اس پر عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔ کابینہ کمیٹی کو بجلی کے شعبے کے گردشی قرضوں پر بھی بریفنگ دی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بجلی کی چوری اور نقصانات کو کم کرنے کے لیے موثر اقدامات کرنے پر عزم ہے۔یہ فیصلہ نہ صرف بجلی کی صنعت میں اصلاحات کے لیے ایک اہم قدم ہے بلکہ یہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے اور بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔

  • آئینی ترمیم کی جلد منظوری کے لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے، بلاول

    آئینی ترمیم کی جلد منظوری کے لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے، بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ بیانات میں آئینی ترمیم کے حوالے سے اپنی پارٹی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ مجوزہ آئینی ترمیم کو جلد از جلد منظور کروایا جائے اور انہیں یقین ہے کہ یہ ترمیم 25 اکتوبر تک پاس کر لی جائے گی۔ بیٹ رپورٹرز کے ساتھ ملاقات کے دوران بلاول نے واضح کیا کہ ان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی خاص ڈیڈ لائن نہیں رکھی گئی، البتہ حکومت کے لیے یہ ایک اہم مسئلہ ہو سکتا ہے۔بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ساتھ لے کر چلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس ضمیر پر ووٹ لینے کا آپشن موجود ہے، لیکن ان کی پارٹی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اتفاق رائے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیپلز پارٹی دیگر سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے تاکہ آئینی اصلاحات میں مشترکہ کوششیں کی جا سکیں۔
    چیئرمین پیپلز پارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب جے یو آئی کا ڈرافٹ سامنے آئے گا تو اس پر بیٹھ کر غور کیا جائے گا اور جو بھی بات سامنے آئے گی، اس کے مطابق ترمیم لائی جائے گی۔ انہوں نے ایوان صدر میں ہونے والی اہم ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں موجود پانچ بڑے رہنماؤں کے ساتھ سنجیدہ بات چیت ہوئی ہوگی۔
    بلاول بھٹو نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ حالیہ عدالتی احکامات اور اصلاحات کے بارے میں بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ صوبوں کے مساوی حقوق کے لیے بھی کوشاں ہیں اور عدالتوں میں اصلاحات کے لیے اہم اقدامات چاہتے ہیں۔
    انہوں نے پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا کہ عمران خان اور ان کی جماعت کو ہر موقع فراہم کیا گیا، لیکن انہوں نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ بلاول نے کہا کہ اگر عمران خان اپریل 2022 سے سیاسی فیصلے کرتے تو وہ آج دوبارہ وزیر اعظم ہوتے۔ انہوں نے عمران خان کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی سیاستدانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتے ہیں اور ان کا سیاسی مستقبل روشن نظر نہیں آتا۔بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ چیف جسٹس کون ہے، لیکن افتخار چودھری کا طرز عمل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبوں میں آئینی عدالتیں قائم کی جائیں تاکہ عوام کو فوری ریلیف مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں میں تقرریاں عدلیہ، پارلیمنٹ اور وکلاء کی متناسب نمائندگی کے ذریعے ہونی چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب تک نیب موجود ہے، ملک میں سیاسی انجینئرنگ جاری رہے گی۔

  • کے پی اسمبلی میں لڑائی ، 4 سکیورٹی ملازمین معطل

    کے پی اسمبلی میں لڑائی ، 4 سکیورٹی ملازمین معطل

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایم پی ایز کے درمیان ہونے والے لڑائی جھگڑے کے معاملے میں سپیکر نے اسمبلی کے 4 سکیورٹی ملازمین کو معطل کر دیا ہے۔ اسمبلی ذرائع کے مطابق ان سکیورٹی اہلکاروں پر معاون خصوصی برائے ریلیف نیک محمد کو پکڑنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔واقعے کے حوالے سے معاون خصوصی برائے ریلیف نیک محمد کا کہنا ہے کہ لڑائی کے دوران ان سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں پکڑ رکھا تھا، جس کے دوران مخالفین نے ان پر تشدد کیا۔ نیک محمد نے اس واقعے کی شکایت کرتے ہوئے سپیکر کے سامنے ان سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ معطل کیے جانے والے 4 اہلکاروں کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انکوائری کے دوران سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سمیت دیگر شواہد کو بھی دیکھا جائے گا تاکہ واقعے کی حقیقت کو سامنے لایا جا سکے۔ سپیکر نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ انصاف کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ افراد کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔یہ واقعہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی سکیورٹی کی صورتحال پر سوالات اٹھاتا ہے اور اسمبلی میں کام کرنے والے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت پر بھی سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انکوائری کے نتائج کیا پیش کرتے ہیں اور اس کے بعد سکیورٹی کے نظام میں کسی بہتری کی ضرورت ہوگی یا نہیں۔