واشنگٹن: ایک حالیہ پریس بریفنگ کے دوران، ایک امریکی صحافی نے اپنے سوالات کے ذریعے امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کی، جس نے امریکا کی دوہری معیارات کو عیاں کر دیا۔ صحافی نے خاص طور پر اسرائیل کے ایران پر ممکنہ حملے، یوکرین میں روس کے خلاف کارروائیاں، اور بائیڈن انتظامیہ کی غزہ میں نسل کُشی کے حوالے سے سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے۔صحافی نے کہا، "جولائی میں وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ ایران دو ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار حاصل کر لے گا۔ میرے خیال میں، اب تک ایران ایٹم بم بنا چکا ہوگا۔” اس سوال نے بریفنگ کے دوران موجود افراد کو چوکنا کر دیا، کیونکہ یہ سوال امریکا کی اپنی ایٹمی پالیسیوں اور ایران کے خلاف عائد الزامات کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
اس کے بعد صحافی نے یوکرین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "یوکرین نے روس کے علاقوں میں کئی حملے کیے ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ روس کے پاس چھ ہزار ایٹم بم ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، "ایک ایٹمی طاقت کے خلاف ملیشیا کو مسلح کرنا انتہائی خطرناک ہے۔” اس تنقید نے امریکا کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھایا کہ کیا یہ واقعی عالمی امن کے لیے خطرہ نہیں بن سکتا؟صحافی نے انتباہ کرتے ہوئے کہا، "اگر ایٹمی جنگ چھڑی تو انسانیت کی تمام تر محنت لمحوں میں تباہ ہو جائے گی۔” ان کے اس بیان نے یہ ظاہر کیا کہ ایٹمی جنگ کے ممکنہ اثرات کی سنجیدگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی صحافی نے بائیڈن انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "آپ کہتے ہیں کہ پوٹن اور خمینی دہشت گرد ہیں، لیکن آپ نے غزہ میں نسل کُشی کے لیے فنڈنگ کی ہے۔ آپ روزانہ آکر دوسری قوموں کی اخلاقیات پر لیکچر دیتے ہیں، لیکن آپ کے پاس کیا حق ہے؟صحافی کے سوالات پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر واضح طور پر تلملا گئے۔ انہوں نے جواب دیا، "اگر آپ پالیسی کے مطابق سوال کریں گے تو میں جواب دوں گا۔” لیکن صحافی نے جواب دیا کہ "آپ ایٹمی جنگ چھیڑنے کا رسک لے رہے ہیں تو سوالوں کے جواب بھی دیں۔” اس پر ملر نے جواب دینے کے بجائے دوسرے صحافی کی طرف اشارہ کیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کے سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں سوالات کے جواب دینا کتنا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ حکومتی پالیسیوں کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اس پریس بریفنگ نے امریکا کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں اور یہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی سطح پر مسائل کا سامنا کرنے کے لیے شفافیت اور جوابدہی کتنی ضروری ہے۔
Author: صدف ابرار
-

امریکی صحافی کے سخت سوالات: پریس کانفرنس میں امریکا کی دوہری پالیسی بے نقاب
-

مولانا فضل الرحمان کا وانا اور خیبر میں جرگے کے شرکا پر تشدد کی مذمت
جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وانا اور خیبر میں جرگے کے شرکا پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ریاست کو قبائل کی بات سننی چاہیے، بصورت دیگر تشدد اور فائرنگ کے واقعات سے حالات مزید خراب ہوں گے۔مولانا فضل الرحمان نے اس تشدد کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حکومت اور ریاست پر زور دیا کہ وہ حالات کو خراب کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا، "تشدد سے تحریکیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ مزید ابھرتی ہیں۔ مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جرگے، مظاہرے، اور دھرنے جمہوریت کا حسن ہیں، اور یہ سمجھنا مشکل ہے کہ حکومت ان سے اتنی خوفزدہ کیوں ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس دکھ کی گھڑی میں یاد رکھا جائے گا۔ فضل الرحمان نے زخمیوں کے فوری طبی امداد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالی انہیں جلد صحت عطا فرمائے۔
-

اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی ترمیم کے ڈرافٹ کی سماعت کل ہوگی
اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کی درخواست پر آئینی ترمیم کے ممکنہ ڈرافٹ کی سماعت کل مقرر کی گئی ہے۔ عدالت میں یہ درخواست دائر کی گئی ہے کہ آئینی ترمیم کا ڈرافٹ عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اس پر عوامی رائے حاصل کی جا سکے۔سماعت کا عمل چیف جسٹس عامر فاروق کریں گے، جس میں درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئینی ترمیم کے مسودے کو منظر عام پر لانا ضروری ہے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اپنی درخواست میں یاد دلایا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے دوران بھی عوام کی رائے لی گئی تھی، اسی طرح اس نئی آئینی ترمیم کے معاملے میں بھی عوام کو رائے دینے کا حق ملنا چاہیے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی آئینی ترمیم کو ایک دن میں پاس کرنا جمہوری اور پارلیمانی اصولوں کے خلاف ہے۔ سابق سینیٹر نے قومی اسمبلی کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ قانون سازی کو سرکاری گزٹ میں شائع کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ عوام کو اس آئینی ترمیم پر رائے دینے کے لیے کم از کم آٹھ ہفتے کا وقت دیا جائے، اور وفاقی حکومت کو وزارت قانون کی ویب سائٹ پر ڈرافٹ پبلک کرنے کی ہدایت کی جائے۔ -

نادرا کا سول رجسٹریشن کا جدید ڈیجیٹل منصوبہ: شہری سہولتوں میں اہم پیشرفت
نادرا نے سول رجسٹریشن اور اہم اعداد و شمار (سی آر وی ایس) کے ابتدائی منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک میں پیدائش، شادی، طلاق اور اموات کی رجسٹریشن کے عمل کو بہتر اور مؤثر بنانا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی ہدف صوبائی اور وفاقی حکام کے درمیان ڈیٹا کی ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے بہتر رابطہ کاری اور معلومات کا یکجا نظام قائم کرنا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔یہ منصوبہ تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا اور اس کی تکمیل کا دورانیہ دو سال ہوگا۔ پہلے مرحلے میں پنجاب کے 10 بڑے ہسپتالوں میں پیدائش اور موت کی رجسٹریشن کے لیے جدید ڈیجیٹل آلات متعارف کرائے جائیں گے۔ ان ہسپتالوں میں والدین کو اپنے بچے کی پیدائش کا اندراج کرنے کے لیے ایس ایم ایس الرٹس موصول ہوں گے، جس کے ذریعے پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا عمل تیز اور آسان ہو جائے گا۔دوسرے مرحلے میں منصوبے کو مزید وسعت دی جائے گی اور اسے ملک کے 25 فیصد سرکاری صحت کے مراکز تک پہنچایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کے عمل کو بھی ڈیجیٹل کیا جائے گا تاکہ لوگوں کو بروقت اور درست رجسٹریشن میں مدد ملے اور قانونی ریکارڈ کو بہتر طریقے سے محفوظ کیا جا سکے۔تیسرے اور آخری مرحلے میں اس منصوبے کو ملک کے 90 فیصد سرکاری صحت کے مراکز تک پھیلایا جائے گا، جبکہ تمام ٹاؤن کمیٹیوں اور یونین کونسلز کو اس سسٹم کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس طرح پیدائش، موت، شادی اور طلاق کے تمام ریکارڈ کو مؤثر طریقے سے محفوظ اور مستند بنایا جا سکے گا، اور ان کا ڈیٹا ملک گیر سطح پر ایک مربوط نظام کے ذریعے یکجا کیا جا سکے گا۔
نادرا اس منصوبے کے تحت ایک موبائل ایپلی کیشن بھی تیار کر رہا ہے جو شہریوں کو آسانی سے اپنے بچوں کی پیدائش، شادی اور دیگر واقعات کی رجسٹریشن کرنے میں مدد دے گی۔ اس ایپ کے ذریعے نہ صرف شہریوں کی سہولت میں اضافہ ہوگا بلکہ حکام کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔ مزید برآں، وفاقی اور صوبائی سطح پر رجسٹریشن کے نظام کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ضروری قانون سازی اور اصلاحات بھی کی جا رہی ہیں۔یہ منصوبہ شہریوں کے لیے ایک اہم سہولت ثابت ہوگا، کیونکہ وہ اپنی زندگی کے اہم واقعات کی رجسٹریشن اور سرٹیفکیٹ کے حصول میں اب روایتی سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی بجائے جدید ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال کر سکیں گے۔ اس منصوبے کی کامیابی سے ملک میں ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور شہریوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
نادرا کا یہ اقدام ڈیجیٹل پاکستان کی حکومتی وژن کے تحت اٹھایا گیا ایک اہم قدم ہے، جس کے ذریعے ملک میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی دستیابی اور شفافیت کو بڑھانے کے لیے بنیادی انفراسٹرکچر مضبوط کیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف ملک کے مختلف اداروں کو عوامی خدمات بہتر طور پر فراہم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل میں منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے لیے بھی درست ڈیٹا دستیاب ہوگا۔اس منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے نادرا اور دیگر متعلقہ اداروں کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں خاص طور پر دور دراز علاقوں تک نظام کی رسائی، شہریوں کی آگاہی، اور مختلف حکومتی اداروں کے درمیان تعاون شامل ہیں۔ تاہم، یہ منصوبہ ملک میں شہری خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور حکومتی ڈیٹا بیس کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔اس طرح نادرا کی یہ نئی کاوش نہ صرف حکومت کو عوامی خدمات کی فراہمی میں مدد دے گی بلکہ پاکستان کو ڈیجیٹل مستقبل کی طرف ایک اور قدم بڑھانے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔ -

خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی سرگرمیوں پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے، جس کے بعد پی ٹی ایم کو کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس، اجتماع یا کسی اور سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ کالعدم پی ٹی ایم آئین پاکستان اور ریاست کے مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے، اور اس کی ہر سرگرمی پر مکمل پابندی عائد ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 11 سے 13 اکتوبر تک پی ٹی ایم کے اعلان کردہ اجتماع کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس سلسلے میں حکومت کے تمام قانونی اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کالعدم تنظیم کے ارکان کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پائے گئے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔
بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں ضلع خیبر میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس پر فوری طور پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے نوٹس لیا۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی وزیراعلیٰ نے اس مسئلے کے حل کے لیے تحریک انصاف ضلع خیبر کے ارکان اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ علاقے میں جا کر صورتحال کو سنبھالیں۔ مزید برآں، وزیراعلیٰ نے اپنی سرکردگی میں ایک جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کیا، جس میں تمام متعلقہ فریقین کو مدعو کیا گیا ہے تاکہ مسئلے کو پشتون روایات کے مطابق جرگے کے ذریعے پرامن طور پر حل کیا جا سکے۔صوبائی مشیر اطلاعات نے بتایا کہ ضلع خیبر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، تاہم اس کے باوجود کالعدم پی ٹی ایم نے علاقے میں اجتماع کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں تنظیم کے ارکان کا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا۔ پولیس نے موقع پر موجود رہتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی، مگر اس تصادم کے دوران حالات ناخوشگوار ہو گئے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ضلع خیبر میں پیش آئے ناخوشگوار واقعے کے حل کے لیے کوکی خیل قبیلے کے عمائدین کو بھی اس معاملے میں انگیج کیا ہے، تاکہ علاقے میں امن کی بحالی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام اقدامات کمشنر پشاور اور ضلعی انتظامیہ کی زیر نگرانی کیے جا رہے ہیں، اور حکومت کی کوشش ہے کہ ضلع خیبر میں امن عامہ کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جائے۔بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اس پورے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ خیبر پختونخوا کے تمام عوام، چاہے وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، ان کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ وزیراعلیٰ نے تمام فریقین کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کے زیر سرکردگی ہونے والے جرگے میں شامل ہوں اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں۔صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے اپنے ویڈیو بیان میں یہ واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کالعدم پی ٹی ایم کی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گی اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکے اور کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کی گنجائش نہ رہے۔ -

سلمان اکرم راجہ کا مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات کے بعد قوم کے لیے بڑی خوشخبری کا عندیہ
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ایک اعلیٰ سطحی وفد آج مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد اہم سیاسی بیانات کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے مولانا فضل الرحمان کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ مولانا نے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے جس کا اثر آنے والے دنوں میں قوم پر خوشخبری کی صورت میں نظر آئے گا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا، "مولانا فضل الرحمان نے قوم کو بچا لیا ہے۔ اُنہوں نے ایک ایسا تاریخی سٹینڈ لیا ہے جس سے نہ صرف ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو گا بلکہ قوم کی تقدیر بھی بہتر ہو گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور وہ مسلسل قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ملاقات میں پی ٹی آئی کی جانب سے وفد میں چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، روف حسن اور حامد خان شامل تھے جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) کی نمائندگی کرنے والے افراد میں مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی اور جے یو آئی کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عبدالواسع، پارٹی کے مرکزی ترجمان اسلم غوری اور سید محمود شاہ شامل تھے۔
یہ ملاقات ایک اہم موڑ پر ہوئی ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت انتہائی بلند ہے اور مختلف جماعتیں ملک کی سیاسی سمت کے حوالے سے اہم فیصلے کر رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان، جو نہ صرف جمعیت علماء اسلام کے سربراہ ہیں بلکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کے صدر بھی ہیں، اپنی سخت گیر پالیسیوں اور مفاہمتی کردار کے لئے جانے جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس ملاقات کا بنیادی مقصد ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے اس ملاقات کو انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جو ملک کی سیاست کو نئی راہ دکھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ "مولانا کی قیادت میں قوم کو بہت جلد ایک اچھی خبر ملے گی اور ان کا فیصلہ تاریخی ثابت ہو گا۔
مولانا فضل الرحمان پاکستانی سیاست کے ایک اہم ستون ہیں اور ان کا کردار ہمیشہ سے سیاسی استحکام اور مفاہمت کے فروغ میں رہا ہے۔ اس ملاقات میں انہوں نے پی ٹی آئی وفد سے مختلف موضوعات پر بات چیت کی اور سیاسی اتحاد اور استحکام کے حوالے سے اپنی بصیرت فراہم کی۔ مولانا فضل الرحمان نے بھی اس ملاقات میں پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ کھل کر گفتگو کی اور ملک کے وسیع تر مفاد میں بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر اس اقدام کی حمایت کریں گے جو ملک میں امن، استحکام اور جمہوریت کے فروغ کا باعث ہو۔
اس ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوالات زیر گردش ہیں کہ کیا یہ ملاقات کسی بڑے سیاسی اتحاد کا پیش خیمہ ہے یا صرف ایک رسمی بات چیت تھی؟ تاہم، پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے دیے گئے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک کی سیاست میں اہم تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ملاقات کے بعد پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ یہ بات چیت دونوں جماعتوں کے درمیان ایک نئی شروعات کی علامت ہو سکتی ہے۔ روف حسن نے کہا، "ہم سیاسی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہماری بات چیت اسی سمت میں ایک قدم ہے۔
ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے مزید ملاقاتوں اور بات چیت کا عندیہ دیا ہے تاکہ ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالا جا سکے۔ حامد خان نے کہا کہ یہ صرف پہلی ملاقات تھی، ہم مستقبل میں بھی مختلف معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام بحال کیا جا سکے۔مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کی اس ملاقات نے ملک کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور عوامی حلقوں میں یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ کیا یہ ملاقات کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی یا نہیں۔ -

سابق اسپیکر قومی اسمبلی الہٰی بخش سومرو 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
کراچی: ملک کے بزرگ سیاستدان اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی الہٰی بخش سومرو 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ الہٰی بخش سومرو نے 1997 سے 2001 تک قومی اسمبلی کے اسپیکر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور وفاقی وزیر کے طور پر بھی اہم ذمہ داریاں سر انجام دی تھیں۔مرحوم کی نماز جنازہ کل دوپہر کو کراچی میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں ان کے آبائی علاقے احمد میاں سومرو میں سپرد خاک کیا جائے گا۔الہٰی بخش سومرو ایک طویل سیاسی کیریئر کے حامل رہنما تھے اور ان کی وفات کو پاکستان کی سیاست میں ایک اہم خلا قرار دیا جا رہا ہے۔
-

شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو دہشت گرد ہلاک، وزیراعظم کا خراج تحسین
شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں ایک کامیاب کارروائی کے دوران دو خوارج کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ کارروائی انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے تحت کی گئی، جس کا مقصد علاقے میں موجود دہشت گردوں کی موجودگی کو ختم کرنا تھا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز کو خوارج کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ اس دوران سکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں دو دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے۔
آئی ایس پی آر نے مزید وضاحت کی کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ یہ خوارج سکیورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملوں اور علاقے میں بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے، جس کی وجہ سے یہ کارروائی خاص طور پر اہمیت کی حامل ہے۔علاقے میں سکیورٹی کی صورت حال کو مزید مستحکم کرنے کے لیے آئی ایس پی آر نے یہ بھی بتایا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے ہمدردوں اور دیگر خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ پاک فوج نے ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ملک بھر میں سکیورٹی فورسز کی کوششیں شدت اختیار کر چکی ہیں تاکہ ملک میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھا جا سکے۔ سکیورٹی ادارے اپنے عزم میں مضبوط ہیں کہ وہ ملک کی سرزمین سے ہر قسم کی دہشت گردی کا قلع قمع کریں گے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خوارجی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کی بھرپور تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران دو خوارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز اور بے گناہ شہریوں پر دہشت گردانہ حملوں میں ملوث تھے، جو کہ قوم کے لیے ایک سنگین خطرہ تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وطن عزیز سے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی ادارے پر عزم ہیں۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ پوری قوم اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے، اور وہ ان کی قربانیوں اور محنتوں کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور قومی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں شدت اختیار کر چکی ہیں، اور وہ دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔ یہ کامیاب آپریشن سیکیورٹی فورسز کی مہارت اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال کو بحال کرنے کے لیے حکومتی عزم مضبوط ہے۔ -

ایمنڈ کا پیمرا کے نوٹسز کیخلاف شدید ردعمل، سندھ ہائی کورٹ میں عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کا معاملہ زیر غور
ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائیریکٹرز (ایمنڈ) نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے ٹی وی چینلز کو جاری کیے گئے نوٹسز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ایمنڈ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ٹی وی چینلز کو پیمرا کی جانب سے مسلسل اعلانیہ اور غیراعلانیہ پابندیوں کے احکامات کا سامنا ہے۔ یہ پابندیاں خاص طور پر حالیہ دہشتگردی کے واقعے کی کوریج کے تناظر میں عائد کی گئی ہیں، جس کے تحت کئی ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹسز دیے گئے ہیں۔ ایمنڈ نے شوکاز نوٹسز کو غیر قانونی سنسرشپ کا اطلاق قرار دیتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ چینلز نے اس واقعے کی انتہائی ذمہ دارانہ کوریج کی ہے، جو قومی و معاشرتی مفاد کے عین مطابق ہے۔
ایمنڈ کے اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ چینلز نے حکومتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا موقف عوام تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ ٹریفک کی روانی اور بندش کے بارے میں بھی ناظرین کو آگاہ کیا۔ ایمنڈ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام معلومات عوام تک پہنچانا میڈیا کا فرض اور عوام کا حق ہے، جسے وہ ذمہ داری کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔ ایمنڈ نے کہا کہ بلا تفریق نوٹسز جاری کرنا بدنیتی کی علامت اور ناقابل قبول ہے۔ اگر کسی چینل نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تو اسے قانون کے مطابق دیکھا جا سکتا ہے۔ ایمنڈ نے دیگر میڈیا تنظیموں سے رابطے کے ساتھ ساتھ اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس میں عدالتوں سے رجوع کرنے سمیت تمام آپشنز پر غور کیا جائے گا۔سندھ ہائی کورٹ میں عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کی سماعت
دوسری جانب، سندھ ہائی کورٹ نے عدالتی رپورٹنگ پر پیمرا کی پابندی کے خلاف درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ دورانِ سماعت، عدالتِ عالیہ نے پیمرا کے وکیل سے سوال کیا کہ اگر سماعت کے دوران عدالت کے ریمارکس رپورٹ ہوتے ہیں تو کیا یہ غلط ہے؟ پیمرا کے وکیل نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی پیچیدگیاں عام آدمی کو سمجھ نہیں آتیں، اور ان کے مطابق، یہ صورتحال معاشرے میں بے چینی پھیلانے کا سبب بن سکتی ہے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ عامر فاروق نے جواب دیا کہ اگر عوام کو یہ نہیں بتایا جائے گا کہ کیا ہو رہا ہے تو انہیں بے چینی سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟
عدالت نے مزید کہا کہ لوگوں کا جاننا حق ہے کہ عدالت میں کیا چل رہا ہے، اور اگر کچھ عدالت میں ہو رہا ہے تو اسے عوام تک پہنچانا ضروری ہے۔ معیز جعفری ایڈووکیٹ نے کہا کہ پیمرا کو بغیر کونسل آف کمپلینٹ کے فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے، اور اس کے چیئرمین کو بھی بورڈ کی مشاورت کے بغیر ازخود فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ یہ تمام صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایمنڈ نے پیمرا کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جو کہ میڈیا کے آزادی کے حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اس صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر، ایمنڈ کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے عدالتی رپورٹنگ پر پیمرا کی پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ -

ایشیائی ترقیاتی بینک کی نئی حکمت عملی: پاکستان کو 8.41 ارب ڈالر کی امداد
اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے لیے اپنی نئی کنٹری آپریشنل اسٹریٹجی 2024-2027 کی تیاری کے بارے میں بتایا ہے، جس کے تحت ملک میں 8.41 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ اہم اعلان بدھ کو سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کیا گیا، جہاں اے ڈی بی کے حکام نے اپنی بریفنگ میں مختلف منصوبوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔اے ڈی بی حکام کے مطابق، نئی کنٹری آپریشنل اسٹریٹجی کے تحت پاکستان کو اس سال 7 منصوبوں کے لیے 2 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، 2025 میں 15 منصوبوں کے لیے 1.85 ارب ڈالر فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ 2026 میں 2.30 ارب ڈالر اور 2027 میں 12 منصوبوں کے لیے 2.25 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ اس طرح، مجموعی طور پر 2024 سے 2027 تک پاکستان کو 8.41 ارب ڈالر کی امداد ملے گی۔
اے ڈی بی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ نئی اسٹریٹجی حکومت اور نجی شعبے کی مشاورت سے تیار کی جائے گی۔ اس طرح یہ یقینی بنایا جائے گا کہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور مالی معاونت کا بہتر استعمال ہو۔حکام نے یہ بھی وضاحت کی کہ اے ڈی بی قرض کی صورت میں کمٹمنٹ چارجز کے طور پر معمولی رقم کاٹے جاتے ہیں، جو کہ پاکستان کی مالی صورتحال کے پیش نظر ایک اہم پہلو ہے۔ اجلاس کے دوران بی آر ٹی پشاور کے بارے میں کچھ شکایات کا بھی ذکر کیا گیا۔ اے ڈی بی کے حکام نے بتایا کہ نیب (قومی احتساب بیورو) بھی بی آر ٹی پشاور پروجیکٹ کے حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے، جس سے منصوبے کی شفافیت اور کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔
یہ نئی کنٹری آپریشنل اسٹریٹجی پاکستان کے ترقیاتی اہداف کے حصول میں مدد فراہم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے، جس کے تحت مالی معاونت کے ذریعے مختلف اہم منصوبوں کی تکمیل کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون بھی بڑھانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ یہ ایک امید افزا پیشرفت ہے، جو کہ پاکستان کے ترقیاتی مستقبل کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔