Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کا وفد پاکستان پہنچ گیا: 2 ارب ڈالر کے معاہدوں کی توقعات

    سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کا وفد پاکستان پہنچ گیا: 2 ارب ڈالر کے معاہدوں کی توقعات

    اسلام آباد: سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری، خالد بن عبدالعزیز الفالح کی قیادت میں 130 افراد پر مشتمل اعلیٰ سطحی تجارتی وفد تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا ہے۔ یہ وفد نور خان ایئربیس پر وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان اور عبدالعلیم خان کی موجودگی میں خوش آمدید کہا گیا۔وفد کی آمد سے قبل، وفاقی وزیر پیٹرولیم نے یہ بات زور دی تھی کہ سعودی عرب سے اس نوعیت کا اتنا بڑا وفد پہلے کبھی نہیں آیا۔ وفد میں توانائی، مائننگ، زراعت، ٹورزم، انڈسٹری، اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہم عہدیداران اور کمپنیوں کے نمائندے شامل ہیں۔سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 2 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدوں کا امکان ہے، جس کے تحت مختلف شعبوں میں تقریباً 30 معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ یہ وفد پاک سعودی تجارتی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا اور اس دورے سے پاکستانی معیشت کو دور رس فوائد حاصل ہوں گے۔
    سعودی وفد کی پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں بھی شیڈول کی گئی ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد مختلف معاہدوں پر دستخط کرنا ہے، جن میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعمیراتی مواد، اور پٹرولیم کے شعبے کے معاہدے شامل ہیں۔وزیر نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے 2027 تک 5 ارب ڈالر سے زائد کی مجموعی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ پہلے مرحلے میں، سعودی عرب سے نجی شعبہ پاکستان میں تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ سعودی عرب کا سرکاری وفد سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ کے تحت مختلف منصوبوں پر بات چیت کرے گا۔اس کے علاوہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان فوڈ سکیورٹی، میٹ ایکسپورٹ، اور پاکستانی چاول کی برآمد کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔ مائننگ، آئل ریفائنری، اور ریلوے کے شعبوں کے لیے طے شدہ معاہدوں کی پیشرفت کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔
    یہ وفد سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں زیادہ سرمایہ کاری کے لیے اپنے لوکل نمائندے تعینات کرے گا۔ حکومت نے سرمایہ کاری کے لیے ریگولیٹری منظوری دے دی ہے، اور این او سی سے متعلقہ پیشرفت کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اہم قدم ثابت ہو گا، جس سے دونوں ملکوں کی معیشت میں مثبت تبدیلیاں آنے کی توقع ہے۔

  • انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ

    انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ

    نان فائلرز کے خلاف کارروائیاں یکم نومبر 2024 سے شروع ہوں گی ،حکومت پاکستان نے واضح کیا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد لنگڑیال نے اس بات کی تصدیق کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سخت ہدایت ہے کہ ٹیکس چوروں کے خلاف سختی سے کارروائی کی جائے اور کسی کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔راشد لنگڑیال نے مزید کہا کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو دگنی ہو کر 40 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ سال صرف 14 لاکھ افراد نے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے تھے، جبکہ اس بار کی گنتی میں 9 لاکھ 42 ہزار نئے ٹیکس فائلر شامل ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار 1 جولائی سے 8 اکتوبر 2024 کے درمیان جمع کی گئی معلومات کی بنیاد پر فراہم کیے گئے ہیں۔
    ایف بی آر کے حکام کے مطابق، 8 اکتوبر تک 40 لاکھ 78 ہزار سے زائد افراد نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروائے ہیں۔ گزشتہ برس اسی مدت میں 20 لاکھ 67 ہزار گوشوارے جمع ہوئے تھے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس بار جلدی فائلنگ کرنے والوں کی تعداد میں 20 لاکھ 11 ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2024 کے دوران، ایف بی آر نے گوشواروں کے ساتھ 106 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس جمع کیا ہے۔ پچھلے مالی سال 2023 میں 63 لاکھ 54 ہزار گوشوارے جمع ہوئے تھے، جو اس سال کی کامیابی کا ایک اور ثبوت ہے۔
    ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے 8 اکتوبر تک 9 لاکھ 42 ہزار نئے فائلرز نے رجسٹریشن کرائی، جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں تقریباً 4 لاکھ نئے فائلر رجسٹر ہوئے تھے۔ یہ اعداد و شمار حکومتی کوششوں کی کامیابی کو ظاہر کرتے ہیں جو ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے جاری ہیں۔حکام نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ کی قریبی صورتحال کے پیش نظر، افراد کو جلد از جلد اپنے گوشوارے جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ وہ نان فائلر کی فہرست میں شامل نہ ہوں۔ حکومت کی جانب سے طے شدہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی کی روشنی میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ نان فائلرز کے خلاف کاروائیاں یکم نومبر سے متوقع ہیں۔

  • وزیر اعلیٰ پنجاب کا  آب و ہوا کی ڈپلومیسی اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کا آغاز

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا آب و ہوا کی ڈپلومیسی اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کا آغاز

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آج لاہور میں "گرین پنجاب ایپ” اور "سموگ ہیلپ لائن 1373” کا افتتاح کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہمیں بھارت کے ساتھ کلائمیٹ ڈپلومیسی کرنی چاہیے” اور اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی مسائل صرف پنجاب یا پاکستان تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری قوم کے لئے ایک اہم چیلنج ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ انہیں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کرنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انٹرن شپ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو ملنے والی وظیفہ 25 ہزار روپے سے بڑھا کر 60 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 25 ہزار روپے کی رقم بچوں کے لئے ناکافی تھی، اسی لئے انہوں نے اس میں اضافہ کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پورے پنجاب سے ایک ہزار انٹرنز کو شامل کیا گیا ہے، جن میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ انٹرن شپ کے بعد نوجوانوں کو ان کے اپنے شعبے میں نوکریاں فراہم کی جائیں گی۔
    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "پاکستان میں ماحولیات کے مسائل پر حکومتوں نے درست طریقے سے کام نہیں کیا”، اور اب جب یہ مسائل روزمرہ کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، تو ہمیں ان کی اہمیت کا احساس ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اپنے ماحول کو بہتر بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے” اور یہ کہ ان کی حکومت نے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے مختلف منصوبے شروع کئے ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ "جو طلبہ صوبائی حکومت اور نجی شعبے کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، ان کے لئے سہولت کاری کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سموگ کی وجہ سے سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے اور سموگ کے سبب سکول اور دفاتر بند کرنا پڑتے ہیں۔ مریم نواز نے اس بات پر زور دیا کہ "ہمیں بھارت کے ساتھ کلائمیٹ ڈپلومیسی کرنی چاہیے” کیونکہ انڈسٹری کی وجہ سے ایئر کوالٹی خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دسمبر میں 28 الیکٹرک بسیں لاہور میں متعارف کرائی جائیں گی اور بسوں کے الیکٹرک چارجنگ سٹیشن سولر پر تعمیر کئے جا رہے ہیں۔
    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "پنجاب حکومت روزانہ ایک نیا منصوبہ لانچ کرتی ہے” اور یہ کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ "پنجاب حکومت کبھی عوام سے جھوٹے وعدے نہیں کرتی” اور ماحولیاتی مسائل کو بہتر بنانے کے لئے 25 کروڑ عوام کو اس مسئلے کا حصہ سمجھنا ہوگا۔
    مریم نواز نے اپنی تقریر کے دوران اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، بغیر نام لئے کہا کہ "ان کو احتجاج کے لئے سرکاری لوگوں کو بلانا پڑتا ہے” اور یہ کہ "آپ کا ایجنڈا ملک میں افراتفری پھیلانا ہے۔” انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ "اسی افراتفری کے دوران اسلام آباد کا ایک جوان شہید ہو گیا” اور واضح کیا کہ سیاسی سموگ پھیلانے والوں کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔ مریم نواز نے مریم اورنگزیب اور ان کی ٹیم کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "جتنا میں ماحولیات پر کام کرنا چاہتی تھی اس سے زیادہ مریم اورنگزیب نے اس پر کام کیا ہے۔”

  • آئینی ترامیم: حکومت کو نمبرز پورے کرنے میں چیلنج، اراکین کو واپسی کی ہدایت

    آئینی ترامیم: حکومت کو نمبرز پورے کرنے میں چیلنج، اراکین کو واپسی کی ہدایت

    آئینی ترامیم کے حوالے سے حکومت کو نمبرز پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اہم آئینی ترامیم کے لیے پارلیمان اور سینیٹ میں مطلوبہ تعداد پوری کرنے کے لیے حکومت کو اپنے بیرون ملک دوروں پر موجود اراکین پارلیمنٹ کو فوری طور پر واپس بلانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق، حکومت نے اپنے تمام غیر ملکی دوروں پر گئے ہوئے اراکین پارلیمنٹ کو 15 اکتوبر تک وطن واپسی کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ آئینی ترامیم کے اہم اجلاس میں ان کی شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔حکومتی ذرائع کے مطابق، اس وقت تقریباً 10 سے 15 حکومتی اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ ملک سے باہر موجود ہیں، جن میں اہم سیاسی شخصیات شامل ہیں۔ ان میں مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر طارق فضل چودھری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ بھی شامل ہیں۔ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر رانا محمود الحسن، بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے دنیشن کمار اور سینیٹر عبدالقادر بھی بیرون ملک دوروں پر ہیں۔
    یہ غیر موجودگی حکومت کے لیے آئینی ترامیم کی منظوری کے عمل میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ آئینی ترامیم کے لیے مطلوبہ دو تہائی اکثریت کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمان میں اراکین کی حاضری انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بیرون ملک موجود تمام ارکان 15 اکتوبر تک وطن واپس پہنچیں تاکہ آئینی ترامیم کے لیے اہم اجلاس میں ان کی شرکت یقینی بنائی جا سکے۔دوسری جانب اپوزیشن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بھی بعض اہم اراکین بیرون ملک موجود ہیں۔ ان میں پی ٹی آئی کے ایم این اے ریاض فتیانہ اور سینیٹر فیصل سلیم بھی شامل ہیں، جن کی غیر موجودگی سے پی ٹی آئی کے لیے بھی آئینی ترامیم کی مخالفت میں ممکنہ طور پر مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
    حکومت نے پارلیمان اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس کے لیے 18 اکتوبر کو اہم اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں مجوزہ آئینی ترامیم پیش کی جائیں گی۔ حکومتی اراکین کی فوری واپسی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے خصوصی انتظامات کیے ہیں تاکہ کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور ترامیم کو متفقہ طور پر منظور کیا جا سکے۔یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کے لیے آئینی ترامیم کی منظوری کا عمل نہ صرف سیاسی اعتبار سے اہم ہے بلکہ حکومتی کارکردگی اور حکومتی اراکین کی حاضری پر بھی منحصر ہے۔ اگر تمام ارکان بروقت واپس پہنچ جاتے ہیں تو حکومت کے لیے آئینی ترامیم کی منظوری کا عمل نسبتاً آسان ہو جائے گا، بصورت دیگر حکومت کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان آئینی ترامیم پر اہم ملاقات طے

    پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان آئینی ترامیم پر اہم ملاقات طے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان چھبیسویں مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے ایک بار پھر رابطہ ہوا ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا امکان پیدا ہوگیا ہے، جس میں پی ٹی آئی کے وفد کے مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچنے کی توقع ہے۔ اس ملاقات میں پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم بھی شامل ہوگی، جو آئینی ترمیم کے مسودے پر بات چیت کرے گی۔ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کا وفد آئینی ترامیم کے حوالے سے اپنی تجاویز اور خدشات پیش کرے گا، جس کے تحت دونوں جماعتوں کے درمیان ایک مفاہمت کی کوشش کی جائے گی۔ یہ ملاقات اس وقت کی جارہی ہے جب حکومت نے پارلیمان اور سینیٹ کے اجلاس 18 اکتوبر کو بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں آئینی ترامیم کی منظوری کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
    معلومات کے مطابق، مولانا فضل الرحمان نے مجوزہ آئینی ترامیم پر مشروط رضا مندی ظاہر کی ہے، جس کی تصدیق کرتے ہوئے ذرائع نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ پیپلز پارٹی کے ساتھ جاری مذاکرات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ تاہم، جمیعت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر اور قانونی ٹیم کے رکن کامران مرتضیٰ نے مولانا فضل الرحمان کی رضا مندی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے، جو اس صورتحال کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات میں کوئی پیشرفت ہوئی تو پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ جمیعت علماء اسلام (ف) اور پیپلز پارٹی دونوں ہی آئینی ترامیم کے معاملے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں، اور ان کی جانب سے مشترکہ موقف اختیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
    اس تناظر میں، سیاسی حلقوں میں آئینی ترامیم کی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہیں بلکہ ملک کی جمہوریت کی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے بھی اہم ہیں۔ پی ٹی آئی اور جمیعت علماء اسلام (ف) کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی اختلافات کو ختم کرکے ملکی مفاد میں اکٹھا ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔آئینی ترامیم کے مسودے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں، مگر اگر دونوں جماعتوں کے درمیان یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔ سیاستدانوں کی یہ کوششیں عوام کی امیدوں اور توقعات کے عین مطابق ہیں کہ وہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

  • پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی

    پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بدھ کو اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ملک میں کسی بھی صورت متوازی عدالتی نظام کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے ساتھ بیٹھنے والے افراد کے شناختی کارڈ بلاک کیے جائیں گے۔ انہوں نے پی ٹی ایم کی حالیہ سرگرمیوں اور ریاست مخالف رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت کسی بھی قسم کی بغاوت یا فساد کو برداشت نہیں کرے گی۔محسن نقوی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پی ٹی ایم کی جانب سے ریاستی اداروں اور پولیس کو گالیاں دی گئیں، جو ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو جرگہ کے خلاف کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن جرگے کے نام پر عدالت قائم کرنے کی کوشش کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی ایم پر پابندی وزارت داخلہ نے عائد کی ہے اور یہ پابندی اس کے ملک مخالف سرگرمیوں کے باعث لگائی گئی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پی ٹی ایم کے جرگے میں ہزاروں افراد کی شمولیت کو بھی ریاست کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جرگہ چند لوگوں کا ہوتا ہے، ہزاروں افراد کا ہجوم کسی بھی طور پر جرگہ نہیں ہو سکتا اور اس کو ریاست مخالف اقدام کے طور پر دیکھا جائے گا۔
    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مزید کہا کہ حکومت ان تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے گی جو پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھیں گے یا اسے کسی بھی صورت میں سپورٹ کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پی ٹی ایم کے ساتھ جڑنے والے افراد کے شناختی کارڈ بلاک کیے جائیں گے تاکہ انہیں کسی بھی قسم کی سرکاری سہولیات میسر نہ آسکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت حقوق کی بات کرنے والے افراد کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ لوگ جو پی ٹی ایم کی حمایت کرتے ہیں یا اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، انہیں کسی بھی صورت میں معاف نہیں کیا جائے گا۔ "ہم کسی کو بھی بندوق اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔” نقوی نے کہا، "یہ ممکن نہیں کہ کوئی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور ہم اسے برداشت کریں۔”
    محسن نقوی نے اپنی پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ پی ٹی ایم کی ڈاکیومنٹری ایک بھارتی فلم ساز کمپنی نے بنائی ہے، جو پی ٹی ایم کی سرگرمیوں کو عالمی سطح پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے اور اسی لیے پی ٹی ایم پر پابندی عائد کی گئی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ٹی ایم کے ساتھ ایک دو سیاسی جماعتوں نے بھی اتحاد کیا تھا، لیکن حکومت ایسے کسی بھی اتحاد یا حمایت کو قبول نہیں کرے گی جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہو۔ "پاکستان میں کسی کو فساد کی اجازت نہیں دی جا سکتی،” انہوں نے کہا۔ "ہماری ریاست کے خلاف کام کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔”
    محسن نقوی نے واضح کیا کہ ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے ساتھ کسی بھی صورت نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کے سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی اور ان کا احتساب کیا جائے گا۔ "یہ جاننا ضروری ہے کہ پی ٹی ایم پر پابندی کیوں لگائی گئی۔ ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی گرفت سخت ہوگی،” انہوں نے کہا۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی بغاوت یا انتشار کو ختم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور جو بھی فرد یا جماعت پی ٹی ایم کی حمایت میں ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوگی، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
    محسن نقوی کی پریس کانفرنس ایک واضح پیغام ہے کہ حکومت پی ٹی ایم کی ریاست مخالف سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گی اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت حقوق کے لیے بات کرنے والوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن پی ٹی ایم جیسے گروہوں کی حمایت یا معاونت کرنے والوں کے خلاف کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

  • اسماعیل قاآنی خیریت سے ہیں، عنقریب "نشانِ فتح” سے نوازا جائے گا: ایرانی حکام

    اسماعیل قاآنی خیریت سے ہیں، عنقریب "نشانِ فتح” سے نوازا جائے گا: ایرانی حکام

    ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی کے حوالے سے ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ وہ خیریت سے ہیں اور عنقریب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے انہیں "نشانِ فتح” سے نوازا جائے گا۔ یہ بات ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم نے پاسداران انقلاب کے سینئر مشیر ابراہیم جباری کے حوالے سے بتائی ہے۔تسنیم نیوز کے مطابق، اسماعیل قاآنی کو حالیہ دنوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں زخمی ہونے یا ہلاک ہونے کے حوالے سے افواہوں کے باوجود، وہ بحفاظت اور روبہ صحت ہیں۔ ان کے بارے میں یہ افواہیں اس وقت گردش کرنے لگیں جب 27 ستمبر کو بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے کے دوران حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی مبینہ شہادت کی خبریں سامنے آئیں۔ اس حملے کے بعد اسماعیل قاآنی لبنان کا دورہ کر رہے تھے، اور اس کے بعد سے ان کے بارے میں معلومات محدود ہو گئی تھیں۔
    اس سے قبل غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ بیروت میں حملے کے دوران اسماعیل قاآنی بھی موجود تھے، جس سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ وہ بھی حملے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ کے ممکنہ نئے سربراہ ہاشم صفی الدین کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی حملے کیے جا رہے تھے، اور اسی دوران اسماعیل قاآنی بھی اس علاقے میں موجود تھے۔ تاہم، عہدیداروں کے مطابق، اس وقت اسماعیل قاآنی ہاشم صفی الدین سے کسی ملاقات میں مصروف نہیں تھے۔ان افواہوں کے بعد قدس فورس کے ڈپٹی کمانڈر ارج مسجدی نے پیر کے روز اس بات کی تردید کی کہ اسماعیل قاآنی اسرائیلی حملے کی زد میں آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ قاآنی بالکل محفوظ ہیں اور ان کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔
    ابراہیم جباری کے تازہ بیان کے مطابق، اسماعیل قاآنی کی صحت ٹھیک ہے اور انہیں مستقبل قریب میں ایران کی قیادت کی جانب سے "نشانِ فتح” کے ساتھ اعزاز دیا جائے گا، جو ایران میں ایک اعلیٰ فوجی تمغہ سمجھا جاتا ہے۔یہ واضح رہے کہ اسماعیل قاآنی قدس فورس کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے مشرق وسطیٰ کے متعدد محاذوں پر ایران کے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے ہیں، خاص طور پر لبنان، شام اور عراق میں حزب اللہ اور دیگر شیعہ ملیشیا گروپوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس صورت حال میں یہ بیان کہ انہیں "نشانِ فتح” سے نوازا جائے گا، ان کے اہم کردار اور خدمات کو سراہنے کا اظہار ہے۔

  • پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ نے کالعدم پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) سے متعلق مختلف پٹیشنز پر فیصلے جاری کیے ہیں۔ یہ فیصلے صوبہ خیبر پختونخوا کے رہائشیوں کی جانب سے پی ٹی ایم کی متوازی عدالتی نظام کے قیام کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کے نتیجے میں سامنے آئے۔خیبر کے رہائشی کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی ایم نے متوازی عدالتی نظام قائم کر رکھا ہے، جو قانون کے خلاف ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پی ٹی ایم کو وفاق کی جانب سے کالعدم قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی ہر قسم کی سرگرمی پر قانونی طور پر پابندی عائد ہے۔
    دوسری جانب، خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک شہری کی طرف سے دائر کی گئی پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ پی ٹی ایم کی جانب سے متوازی عدالتی نظام کے جلسے کے لیے چنی گئی جگہ متنازعہ ہے۔ کیس کی سماعت دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس عتیق شاہ اور جسٹس صاحب زادہ اسداللہ شامل تھے، نے کی۔عدالت نے فیصلہ دیا کہ پی ٹی ایم کی کسی بھی سرگرمی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی قانونی طور پر جائز ہے۔ پشتون قومی عدالت کے لیے استعمال ہونے والی زمین بھی متنازعہ قرار دی گئی۔ اس کے نتیجے میں، عدالت نے متنازعہ زمین پر جلسے سے روکنے کے لیے سٹی آرڈر جاری کیا۔ پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
    عدالت نے پی ٹی ایم کے آرگنائزر اور مقامی کوکی خیل قبائلی رہنماؤں کو بھی زمین پر مداخلت سے روک دیا۔ اس فیصلے کے ذریعے عدالت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی کالعدم تنظیم کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کر سکتے ہیں، اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔یہ فیصلے واضح کرتے ہیں کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی تنظیم کے غیر قانونی اقدامات کو سختی سے روکا جائے گا۔ یہ پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ عوامی مفاد میں قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں گے۔

  • پی ٹی آئی  اراکین کو کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی اجتماع میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت

    پی ٹی آئی اراکین کو کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی اجتماع میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی سیکرٹریٹ سے ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں پارٹی سے منسلک تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے سیاسی، غیر سیاسی اجتماع یا مظاہرے میں شرکت نہ کریں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر علی خان کی جانب سے جاری اس سرکلر میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کو کسی بھی قسم کی عوامی سرگرمیوں میں شرکت سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اگر کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔یہ اعلامیہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے جس میں پی ٹی آئی قیادت اپنے اراکین کو محتاط رہنے کی تلقین کر رہی ہے۔اس فیصلے کے پیچھے ممکنہ وجہ پارٹی کی اندرونی حکمت عملی ہو سکتی ہے، جس میں سیاسی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اراکین کو غیر ضروری تنازعات سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

  • خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کے کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے جلسے میں شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کے لئے کالعدم تنظیم کے پروگرام یا سرگرمیوں میں جسمانی، مالی یا دوسری صورت میں شرکت کرنا غیر قانونی ہوگا۔ ایسی صورت میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے اس پابندی کے پس منظر میں کہا کہ پی ٹی ایم نے پاکستان کے قومی جھنڈے کو نذر آتش کیا ہے اور بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں پر حملے کیے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پی ٹی ایم کو بیرون ملک سے بھی فنڈنگ کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وفاقی وزارت داخلہ نے اسے کالعدم قرار دیا ہے۔
    نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام سرکاری محکمے اور ملازمین اس پابندی سے آگاہ رہیں اور کسی بھی کالعدم تنظیم کے پروگراموں میں شرکت نہ کریں۔ یہ پابندی ان افراد کے لئے بھی ہے جو سرکاری محکموں میں کام کرتے ہیں، اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو ان ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے۔
    پشتون تحفظ موومنٹ کو کالعدم قرار دینے کے بعد، اس کے 52 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ افراد خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع جیسے جنوبی وزیرستان، صوابی، باجوڑ، خیبر، مالاکنڈ اور مہمند سے تعلق رکھتے ہیں۔ عطااللہ تارڑ نے مزید کہا کہ پی ٹی ایم کے افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے روابط ہیں، جس کی بنا پر اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی تنظیم کے خلاف ثبوت کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی، اور ان کے ساتھ رابطہ کرنے والی تنظیموں کے لئے یہ ایک واضح وارننگ ہے کہ کسی بھی صورت میں پاکستان کے نظریے کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی ایم کی حمایت کسی بھی صورت میں نہیں کی جا سکتی، اور انہوں نے ان کے مظاہرین کی سرگرمیوں پر شدید تنقید کی، خاص طور پر بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں پر حملوں کے واقعات کو اجاگر کیا۔ یہ پابندی خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے امن و امان کی بحالی اور سرکاری ملازمین کی فعالیت کی نگرانی کے لئے ایک اہم قدم ہے۔