Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ نے کالعدم پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) سے متعلق مختلف پٹیشنز پر فیصلے جاری کیے ہیں۔ یہ فیصلے صوبہ خیبر پختونخوا کے رہائشیوں کی جانب سے پی ٹی ایم کی متوازی عدالتی نظام کے قیام کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کے نتیجے میں سامنے آئے۔خیبر کے رہائشی کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی ایم نے متوازی عدالتی نظام قائم کر رکھا ہے، جو قانون کے خلاف ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پی ٹی ایم کو وفاق کی جانب سے کالعدم قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی ہر قسم کی سرگرمی پر قانونی طور پر پابندی عائد ہے۔
    دوسری جانب، خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک شہری کی طرف سے دائر کی گئی پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ پی ٹی ایم کی جانب سے متوازی عدالتی نظام کے جلسے کے لیے چنی گئی جگہ متنازعہ ہے۔ کیس کی سماعت دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس عتیق شاہ اور جسٹس صاحب زادہ اسداللہ شامل تھے، نے کی۔عدالت نے فیصلہ دیا کہ پی ٹی ایم کی کسی بھی سرگرمی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی قانونی طور پر جائز ہے۔ پشتون قومی عدالت کے لیے استعمال ہونے والی زمین بھی متنازعہ قرار دی گئی۔ اس کے نتیجے میں، عدالت نے متنازعہ زمین پر جلسے سے روکنے کے لیے سٹی آرڈر جاری کیا۔ پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
    عدالت نے پی ٹی ایم کے آرگنائزر اور مقامی کوکی خیل قبائلی رہنماؤں کو بھی زمین پر مداخلت سے روک دیا۔ اس فیصلے کے ذریعے عدالت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی کالعدم تنظیم کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کر سکتے ہیں، اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔یہ فیصلے واضح کرتے ہیں کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی تنظیم کے غیر قانونی اقدامات کو سختی سے روکا جائے گا۔ یہ پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ عوامی مفاد میں قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں گے۔

  • پی ٹی آئی  اراکین کو کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی اجتماع میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت

    پی ٹی آئی اراکین کو کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی اجتماع میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی سیکرٹریٹ سے ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں پارٹی سے منسلک تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے سیاسی، غیر سیاسی اجتماع یا مظاہرے میں شرکت نہ کریں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر علی خان کی جانب سے جاری اس سرکلر میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کو کسی بھی قسم کی عوامی سرگرمیوں میں شرکت سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اگر کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔یہ اعلامیہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے جس میں پی ٹی آئی قیادت اپنے اراکین کو محتاط رہنے کی تلقین کر رہی ہے۔اس فیصلے کے پیچھے ممکنہ وجہ پارٹی کی اندرونی حکمت عملی ہو سکتی ہے، جس میں سیاسی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اراکین کو غیر ضروری تنازعات سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

  • خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کے کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے جلسے میں شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کے لئے کالعدم تنظیم کے پروگرام یا سرگرمیوں میں جسمانی، مالی یا دوسری صورت میں شرکت کرنا غیر قانونی ہوگا۔ ایسی صورت میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے اس پابندی کے پس منظر میں کہا کہ پی ٹی ایم نے پاکستان کے قومی جھنڈے کو نذر آتش کیا ہے اور بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں پر حملے کیے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پی ٹی ایم کو بیرون ملک سے بھی فنڈنگ کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وفاقی وزارت داخلہ نے اسے کالعدم قرار دیا ہے۔
    نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام سرکاری محکمے اور ملازمین اس پابندی سے آگاہ رہیں اور کسی بھی کالعدم تنظیم کے پروگراموں میں شرکت نہ کریں۔ یہ پابندی ان افراد کے لئے بھی ہے جو سرکاری محکموں میں کام کرتے ہیں، اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو ان ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے۔
    پشتون تحفظ موومنٹ کو کالعدم قرار دینے کے بعد، اس کے 52 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ افراد خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع جیسے جنوبی وزیرستان، صوابی، باجوڑ، خیبر، مالاکنڈ اور مہمند سے تعلق رکھتے ہیں۔ عطااللہ تارڑ نے مزید کہا کہ پی ٹی ایم کے افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے روابط ہیں، جس کی بنا پر اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی تنظیم کے خلاف ثبوت کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی، اور ان کے ساتھ رابطہ کرنے والی تنظیموں کے لئے یہ ایک واضح وارننگ ہے کہ کسی بھی صورت میں پاکستان کے نظریے کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی ایم کی حمایت کسی بھی صورت میں نہیں کی جا سکتی، اور انہوں نے ان کے مظاہرین کی سرگرمیوں پر شدید تنقید کی، خاص طور پر بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں پر حملوں کے واقعات کو اجاگر کیا۔ یہ پابندی خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے امن و امان کی بحالی اور سرکاری ملازمین کی فعالیت کی نگرانی کے لئے ایک اہم قدم ہے۔

  • تحریک انصاف کی روایت: انتشار اور افراتفری کے پھیلاؤ میں گنڈاپور کا کردار

    تحریک انصاف کی روایت: انتشار اور افراتفری کے پھیلاؤ میں گنڈاپور کا کردار

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی حالیہ تقریر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں ان کی پالیسیوں اور تقریر کو طنز کا ہدف بنایا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی روایت ہمیشہ سے انتشار اور افراتفری پھیلانے کی رہی ہے، اور گنڈاپور نے اسی پالیسی کو مزید ہوا دی ہے۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے کارکنوں کو جذباتی تقاریر سے اکساتے ہیں، لیکن جب عملی اقدامات کا وقت آتا ہے تو انہیں بے یار و مددگار چھوڑ کر فرار ہو جاتے ہیں۔گنڈاپور پر الزام ہے کہ انہوں نے اسلام آباد کے لوگوں سے وعدہ کیا کہ وہ قیادت کریں گے اور خود پر گولی کھائیں گے، لیکن جب موقع آیا تو وہ خود غائب ہو گئے، جس سے ان کے کارکن اور حکومتی اہلکار قانون کا سامنا کرنے پر مجبور ہو گئے۔ سوال کیا جا رہا ہے کہ "حقیقی آزادی” کہاں گئی؟
    ناقدین کا کہنا ہے کہ گنڈاپور، اپنے رہنما کی طرح، دوغلے پن کا شکار ہیں اور جھوٹ بولنے میں ماہر ہیں۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ ہونے کے بجائے وہ مظاہروں کے انتظامات میں مصروف ہیں تاکہ اڈیالہ میں موجود "انتشار پسند” کو خوش کر سکیں، جب کہ ان کے صوبے کی بہتری کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔گنڈاپور کی تقریر کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایسی تقاریر کو خبروں کے بجائے تفریحی چینلز پر نشر کیا جانا چاہیے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ ان کے اپنے کارکن انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ ان کی پالیسیاں اور طرز عمل کسی سیاستدان کے بجائے ایک آوارہ کی مانند ہیں۔ ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ وزیراعلیٰ کے عہدے کا وقار بحال کریں اور "فراری” کی طرح نہ بھاگیں۔
    گنڈاپور کی جانب سے یہ اعتراف کہ وہ چار گھنٹے ایک جگہ چھپے رہے کیونکہ انہیں گرفتاری کا خوف تھا، لیکن پھر کہتے ہیں کہ انہیں گرفتاری کا خوف نہیں، ان کے بیانیے میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی بزدلی کی کہانی، جس پر وہ فخر کر رہے ہیں، کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔یہ بھی الزام لگایا جا رہا ہے کہ گنڈاپور نے اپنے "لاپتہ” ہونے کے بیانیے کو خود ہی تقویت دی، جب کہ انہیں معلوم تھا کہ وہ لاپتہ نہیں تھے۔ ان پر تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے زِلے شاہ کے معاملے پر بھی سچائی چھپانے کا الزام لگایا گیا ہے، جہاں پارٹی نے تفصیلات کو میڈیا اور قوم کے ساتھ شیئر نہیں کیا۔
    خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاسوں کی تعداد پر بھی تنقید کی گئی، جہاں ان اجلاسوں کا انعقاد اڈیالہ میں موجود "انتشار پسند” کو خوش کرنے کے لئے زیادہ کیا گیا، جب کہ صوبے کی عوام کے لئے کوئی خاص اقدام نہیں اٹھایا گیا۔وزیراعلیٰ گنڈاپور پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ اپنی تقریروں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ان کی مبینہ اغوا کی کہانی دراصل ایک شرمناک پسپائی تھی، جہاں انہوں نے اپنے لوگوں کو تنہا چھوڑ دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تحریک انصاف کی پرانی حکمت عملی ہے کہ اگر عوام کو قائل نہ کر سکو تو انہیں کنفیوز کر دو۔
    علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کے خدشات کے حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ انہیں اپنے کارکنوں کی فکر کیوں ہے، جن میں افغان شہری، مقامی لوگ اور سرکاری ملازمین شامل ہیں؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارکنان بتا رہے ہیں کہ انہیں کس طرح پیسے دے کر خونریزی کے لئے اسلام آباد لایا گیا۔وزیراعلیٰ پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ سرکاری مشینری کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں اور ریاستی احکامات پر عمل کرنے والے حکومتی اہلکاروں پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ گنڈاپور کو یاد دلایا گیا کہ یہ اہلکار ریاست کے ملازم ہیں، نہ کہ ان کے یا اڈیالہ میں موجود "انتشار پسند” کے ذاتی ملازم۔

  • حکومت آئینی ترامیم کے لیے دو تہائی اکثریت سے محروم،بیرسٹر گوہر کا دعویٰ

    حکومت آئینی ترامیم کے لیے دو تہائی اکثریت سے محروم،بیرسٹر گوہر کا دعویٰ

    اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت آئینی ترامیم کے لیے مطلوبہ دو تہائی اکثریت نہیں رکھتی اور ان کی کوششیں زیادہ تر سیاسی مفادات پر مبنی ہیں۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت عدلیہ کو تنہا کرنے کے لیے آئینی ترامیم متعارف کروا رہی ہے، جس کے لیے ان کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے۔بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ماضی میں کی جانے والی آئینی ترامیم میں بھی کسی حکومت کے پاس واضح اکثریت نہیں تھی، اور موجودہ حالات میں حکومت کی ترامیم کی کوششیں بھی مکمل تیاری کے بغیر ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پارلیمانی کمیٹی میں آئینی ترامیم پر بریفنگ دی، تاہم جب ہم نے ترامیم کا مسودہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا تو وہ مسودہ پیش نہیں کر سکے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق، یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت بغیر کسی ٹھوس منصوبہ بندی کے آئینی ترامیم لا رہی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ حکومتی اراکینِ اسمبلی، خصوصاً خیبرپختونخوا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے، اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے اور حکومت کے ساتھ اس معاملے میں تعاون نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اپنے لوگ بھی ان ترامیم کو سپورٹ نہیں کریں گے، جس سے حکومتی منصوبہ ناکام ہو سکتا ہے۔علی امین گنڈاپور کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں اسلام آباد سے نکلنے کے لیے محفوظ راستے کی ضرورت تھی، جسے انہوں نے دانشمندی سے اپنایا۔ مزید برآں، انہوں نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے لاپتہ ہونے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جب خبر ملی تو وہ فوری طور پر خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچے، لیکن وزیراعلیٰ کئی گھنٹوں تک لاپتہ رہے، جو بدقسمتی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو بدقسمتی قرار دیا اور کہا کہ صوبے کا وزیراعلیٰ کئی گھنٹوں تک لاپتہ رہا، جس کے نتیجے میں پارٹی رہنماؤں کے پاس اغوا کا موقف اپنانے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں بچا۔

  • چھوٹے اور درمیانے کاروبار کی فنانسنگ کی حد میں اضافہ

    چھوٹے اور درمیانے کاروبار کی فنانسنگ کی حد میں اضافہ

    اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے فنانسنگ کی حد میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق، چھوٹے کاروبار کے لیے قرضوں کی حد کو ڈھائی کروڑ روپے سے بڑھا کر 10 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے یہ حد 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔یہ فیصلہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی فنانسنگ کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ ان کاروباروں کو مزید مالی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی، بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رہن رکھے گئے سیال اثاثوں کی مالیت میں کٹوتی کرتے ہوئے قرضوں کی حد کا تعین کریں، تاکہ مالیاتی نظام کی مضبوطی اور ذمہ داری کو یقینی بنایا جا سکے۔اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ترامیم شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق عمل درآمد کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد معیشت کے اس اہم شعبے کو مزید فعال بنانا اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے، جس سے ملک کی اقتصادی ترقی میں مثبت کردار ادا کیا جا سکے۔
    بینکوں کے لیے یہ تبدیلیاں امید افزا ہیں، خاص طور پر ان چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے جو مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار نہیں لا پا رہے تھے۔ یہ فنانسنگ کی حد میں اضافہ کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گا، جس سے وہ اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور نئے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں کامیاب ہوں گے۔اسٹیٹ بینک کے اس اقدام کے بعد، کاروباری کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ اس تبدیلی سے معیشت میں استحکام اور ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کو اپنی کاروباری حکمت عملیوں میں اس تبدیلی کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ اپنی معیشت کو مزید مستحکم اور مستحکم کر سکیں۔

  • آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی فائنل کی پاکستان میں میزبانی کی تصدیق اور  پی سی بی یوتھ ڈیولپمنٹ کے لیے نئے عہدے کا آغاز

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی فائنل کی پاکستان میں میزبانی کی تصدیق اور پی سی بی یوتھ ڈیولپمنٹ کے لیے نئے عہدے کا آغاز

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کے بارے میں برطانوی اخبار کی جانب سے کیے گئے دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ برطانوی اخبار نے خبر دی تھی کہ اگر بھارت فائنل میں پہنچتا ہے تو یہ میچ پاکستان سے باہر کھیلا جائے گا، تاہم پی سی بی نے اس دعوے کی مکمل طور پر نفی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف فائنل سمیت چیمپئنز ٹرافی کے تمام میچز کے اپنے ملک میں انعقاد کے بارے میں غیر مبہم ہے۔پی سی بی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے، "ہماری واضح پوزیشن ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے تمام میچز پاکستان میں منعقد ہوں گے، اور اس حوالے سے کسی بھی طرح کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔” اس بیان کے ذریعے پی سی بی نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔

    دوسری جانب پی سی بی نے یوتھ ڈیولپمنٹ کے شعبے میں بھی اہم اقدام اٹھایا ہے۔ پی سی بی نے ہیڈ آف یوتھ ڈیولپمنٹ کا عہدہ متعارف کرایا ہے اور اس کے لئے امیدواروں کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔ ہیڈ آف یوتھ ڈیولپمنٹ کی ذمہ داری انڈر 13 سے انڈر 19 تک کی کرکٹ کی ترقی کو فروغ دینا ہوگی۔
    پی سی بی نے اس عہدے کے لئے اشتہار جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہیڈ آف یوتھ ڈیولپمنٹ ملک بھر میں ٹیلنٹ کی تلاش کے لئے ریجنل اکیڈمیز، کوچز اور ایسوسی ایشنز کے ساتھ کام کرے گا اور گراس روٹ اسٹرکچر کی تشکیل کے ساتھ نوجوان ٹیلنٹ کی تلاش کو فروغ دے گا۔ اس عہدے کے لئے پی سی بی نے لیول 2 ایکریڈیشن کے ساتھ کم از کم 50 ٹیسٹ یا ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلنے کی شرط رکھی ہے۔ امیدواروں کو 24 اکتوبر تک اپنی درخواستیں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے، اور اس عہدے کے لئے نامور سابق کرکٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا ارادہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی سی بی نے حال ہی میں سابق کرکٹرز کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں، اور اظہر علی اس عہدے کے لئے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔یہ واضح ہے کہ پی سی بی نہ صرف چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے لئے پرعزم ہے بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی اور ان کے ٹیلنٹ کی تلاش کے لئے بھی بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔ چیمپئنز ٹرافی کی تیاریوں کے سلسلے میں اسٹیڈیمز کی اپ گریڈیشن کا کام جاری ہے، جس پر پی سی بی اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

  • پی ٹی آئی کی بھارتی وزیر خارجہ کو دعوت غیر مناسب ہے، خواجہ آصف

    پی ٹی آئی کی بھارتی وزیر خارجہ کو دعوت غیر مناسب ہے، خواجہ آصف

    خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی جانب سے بھارتی وزیر خارجہ کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دینے پر بھی تنقید کی، کہ یہ بات نامناسب ہے، کیونکہ بھارت ہمیشہ سے پاکستان کا ازلی دشمن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف پی ٹی آئی کا احتجاج ہے اور دوسری طرف چینیوں پر حملے ہو رہے ہیں، جو کہ ملک کی سیکیورٹی کے لئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی، بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) اور ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کو پاکستان پر حملہ آور قرار دیا۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گنڈاپور نے پہلے سافٹ ویئر کی اپ ڈیٹ کی، اور پھر ہری پور کے راستے پشاور پہنچے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے مخصوص حکمت عملی اختیار کی۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد پر حملہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جب بھی پاکستان کی معیشت بہتر ہونے لگتی ہے، ایسے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں جو ترقی کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
    وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اس وقت فوج کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے، جیسا کہ سابق وزیراعظم عمران خان بھی اس معاملے میں وضاحت کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورت حال خاص طور پر اس وقت دیکھی گئی جب 2014 میں چینی صدر پاکستان آنے والے تھے، اور اب شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے پہلے بھی احتجاج جاری ہے۔وزیر دفاع نے پی ٹی آئی کی پالیسیوں پر سوال اٹھایا، خاص طور پر فلسطین کے معاملے پر۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف واقعی فلسطین کے ساتھ ہے تو انہیں فلسطین کے معاملے پر بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کرنی چاہیے تھی، لیکن ان کی غیر موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اصل میں دوسری طرف کھڑی ہیں۔
    خواجہ آصف نے افغانستان سے آئے ہوئے شہریوں کے بارے میں بھی کہا کہ پی ٹی آئی نے انہیں پیسے دے کر اسلام آباد لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے افغان جنگ میں پاکستان کے کردار پر بھی تنقید کی، کہ ہم نے ایک بڑی غلطی کی جب ہم اس جنگ میں شریک ہوئے۔عدلیہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ججز کی تعیناتی کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہونا چاہیے اور اس کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں پارلیمان اور عدلیہ دونوں کے نمائندے شامل ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کا نوٹیفکیشن آجائے۔ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ اگر عمران خان بات چیت نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کا ملٹری ٹرائل بھی ممکن ہے، اگر وہ اپنی پوزیشن کو تبدیل نہیں کرتے۔

  • ضلع خیبر میں سیکیورٹی خطرات کے باعث دفعہ 144 نافذ

    ضلع خیبر میں سیکیورٹی خطرات کے باعث دفعہ 144 نافذ

    ضلع خیبر: سیکیورٹی صورتحال اور خطرات کی شدت کے پیش نظر ضلع خیبر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور تھریٹ الرٹ کے پیش نظر یہ اقدام اٹھانے کی وضاحت کی ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ضلع بھر میں غیر قانونی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، پانچ یا اس سے زائد افراد کے ایک ساتھ اکٹھے ہونے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے تاکہ عوامی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش پر بھی سخت پابندی عائد کی گئی ہے، تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
    دفعہ 144 کا نفاذ 9 اکتوبر 2024 سے شروع ہوگا اور یہ 7 نومبر 2024 تک 30 دنوں کے لیے برقرار رہے گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں تعزیرات پاکستان کے سیکشن 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس حوالے سے ضلعی پولیس سربراہ خیبر اور تمام اسسٹنٹ کمشنروں کو ضروری کارروائی کے لیے مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔یہ اقدام اس وقت کیا گیا ہے جب سیکیورٹی ادارے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، اور حالیہ دنوں میں بعض واقعات نے سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت کے احکامات کی پاسداری کریں اور کسی بھی غیر قانونی اجتماع سے گریز کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
    علاقے میں سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے اقدامات کے بعد یہ اقدام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ عوامی سیکیورٹی کے حوالے سے یہ احتیاطی تدابیر ضروری سمجھی جا رہی ہیں، اور حکومت کا مقصد علاقے میں امن و امان کی بحالی اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ضلع خیبر کے عوام کو اس بات کی بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔ سیکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر، عوامی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ سیکیورٹی کے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

  • پاکستان تحریک انصاف کا دوبارہ ڈی چوک میں احتجاج کا عندیہ : 11 اکتوبر سے ملک گیر مظاہروں کا آغاز

    پاکستان تحریک انصاف کا دوبارہ ڈی چوک میں احتجاج کا عندیہ : 11 اکتوبر سے ملک گیر مظاہروں کا آغاز

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایک بار پھر اسلام آباد کے ڈی چوک میں احتجاج کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، تحریک انصاف نے نئے احتجاج کے لئے ایک تفصیلی شیڈول تیار کر لیا ہے، جس کے تحت 11 اکتوبر کو ملتان اور ساہیوال میں مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، پارٹی 12 اکتوبر کو گوجرانوالا اور سرگودھا میں احتجاج کرے گی۔ اس کے بعد 13 اکتوبر کو ڈی جی خان اور 14 اکتوبر کو لاہور اور فیصل آباد میں بھی مظاہرے کیے جائیں گے۔ یہ احتجاج پی ٹی آئی کے کارکنوں کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرے گا، جہاں وہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے آواز بلند کر سکیں گے۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ہونے والے ان احتجاجوں کے بعد تحریک انصاف کی قیادت اسلام آباد میں بھی ایک بڑے مظاہرے کی کال دینے پر غور کر رہی ہے۔ اس فیصلے کے حوالے سے تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی اہم مشاورت کرے گی، جس کے بعد اسلام آباد میں احتجاج کی تاریخ اور دیگر تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا۔
    پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں کو ان مظاہروں کی تیاری کے لیے اہم ہدایات جاری کر دی ہیں، جس میں شامل ہے کہ وہ پرامن رہیں اور احتجاج کے دوران کسی بھی قسم کی بدنظمی سے بچیں۔ پارٹی کی قیادت نے کارکنوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مقامی قائدین کے ساتھ ہم آہنگی رکھیں اور مظاہروں کی کامیابی کے لیے بھرپور شرکت کریں۔یہ مظاہرے اس وقت ہو رہے ہیں جب پاکستان کی سیاسی صورت حال میں بے چینی اور عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے احتجاج کی ان سرگرمیوں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے، اور ان کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ عوامی مفادات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔