وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی حالیہ تقریر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں ان کی پالیسیوں اور تقریر کو طنز کا ہدف بنایا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی روایت ہمیشہ سے انتشار اور افراتفری پھیلانے کی رہی ہے، اور گنڈاپور نے اسی پالیسی کو مزید ہوا دی ہے۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے کارکنوں کو جذباتی تقاریر سے اکساتے ہیں، لیکن جب عملی اقدامات کا وقت آتا ہے تو انہیں بے یار و مددگار چھوڑ کر فرار ہو جاتے ہیں۔گنڈاپور پر الزام ہے کہ انہوں نے اسلام آباد کے لوگوں سے وعدہ کیا کہ وہ قیادت کریں گے اور خود پر گولی کھائیں گے، لیکن جب موقع آیا تو وہ خود غائب ہو گئے، جس سے ان کے کارکن اور حکومتی اہلکار قانون کا سامنا کرنے پر مجبور ہو گئے۔ سوال کیا جا رہا ہے کہ "حقیقی آزادی” کہاں گئی؟
ناقدین کا کہنا ہے کہ گنڈاپور، اپنے رہنما کی طرح، دوغلے پن کا شکار ہیں اور جھوٹ بولنے میں ماہر ہیں۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ ہونے کے بجائے وہ مظاہروں کے انتظامات میں مصروف ہیں تاکہ اڈیالہ میں موجود "انتشار پسند” کو خوش کر سکیں، جب کہ ان کے صوبے کی بہتری کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔گنڈاپور کی تقریر کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایسی تقاریر کو خبروں کے بجائے تفریحی چینلز پر نشر کیا جانا چاہیے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ ان کے اپنے کارکن انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ ان کی پالیسیاں اور طرز عمل کسی سیاستدان کے بجائے ایک آوارہ کی مانند ہیں۔ ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ وزیراعلیٰ کے عہدے کا وقار بحال کریں اور "فراری” کی طرح نہ بھاگیں۔
گنڈاپور کی جانب سے یہ اعتراف کہ وہ چار گھنٹے ایک جگہ چھپے رہے کیونکہ انہیں گرفتاری کا خوف تھا، لیکن پھر کہتے ہیں کہ انہیں گرفتاری کا خوف نہیں، ان کے بیانیے میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی بزدلی کی کہانی، جس پر وہ فخر کر رہے ہیں، کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔یہ بھی الزام لگایا جا رہا ہے کہ گنڈاپور نے اپنے "لاپتہ” ہونے کے بیانیے کو خود ہی تقویت دی، جب کہ انہیں معلوم تھا کہ وہ لاپتہ نہیں تھے۔ ان پر تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے زِلے شاہ کے معاملے پر بھی سچائی چھپانے کا الزام لگایا گیا ہے، جہاں پارٹی نے تفصیلات کو میڈیا اور قوم کے ساتھ شیئر نہیں کیا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاسوں کی تعداد پر بھی تنقید کی گئی، جہاں ان اجلاسوں کا انعقاد اڈیالہ میں موجود "انتشار پسند” کو خوش کرنے کے لئے زیادہ کیا گیا، جب کہ صوبے کی عوام کے لئے کوئی خاص اقدام نہیں اٹھایا گیا۔وزیراعلیٰ گنڈاپور پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ اپنی تقریروں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ان کی مبینہ اغوا کی کہانی دراصل ایک شرمناک پسپائی تھی، جہاں انہوں نے اپنے لوگوں کو تنہا چھوڑ دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تحریک انصاف کی پرانی حکمت عملی ہے کہ اگر عوام کو قائل نہ کر سکو تو انہیں کنفیوز کر دو۔
علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کے خدشات کے حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ انہیں اپنے کارکنوں کی فکر کیوں ہے، جن میں افغان شہری، مقامی لوگ اور سرکاری ملازمین شامل ہیں؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارکنان بتا رہے ہیں کہ انہیں کس طرح پیسے دے کر خونریزی کے لئے اسلام آباد لایا گیا۔وزیراعلیٰ پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ سرکاری مشینری کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں اور ریاستی احکامات پر عمل کرنے والے حکومتی اہلکاروں پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ گنڈاپور کو یاد دلایا گیا کہ یہ اہلکار ریاست کے ملازم ہیں، نہ کہ ان کے یا اڈیالہ میں موجود "انتشار پسند” کے ذاتی ملازم۔
Author: صدف ابرار

تحریک انصاف کی روایت: انتشار اور افراتفری کے پھیلاؤ میں گنڈاپور کا کردار

حکومت آئینی ترامیم کے لیے دو تہائی اکثریت سے محروم،بیرسٹر گوہر کا دعویٰ
اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت آئینی ترامیم کے لیے مطلوبہ دو تہائی اکثریت نہیں رکھتی اور ان کی کوششیں زیادہ تر سیاسی مفادات پر مبنی ہیں۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت عدلیہ کو تنہا کرنے کے لیے آئینی ترامیم متعارف کروا رہی ہے، جس کے لیے ان کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے۔بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ماضی میں کی جانے والی آئینی ترامیم میں بھی کسی حکومت کے پاس واضح اکثریت نہیں تھی، اور موجودہ حالات میں حکومت کی ترامیم کی کوششیں بھی مکمل تیاری کے بغیر ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پارلیمانی کمیٹی میں آئینی ترامیم پر بریفنگ دی، تاہم جب ہم نے ترامیم کا مسودہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا تو وہ مسودہ پیش نہیں کر سکے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق، یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت بغیر کسی ٹھوس منصوبہ بندی کے آئینی ترامیم لا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی اراکینِ اسمبلی، خصوصاً خیبرپختونخوا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے، اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے اور حکومت کے ساتھ اس معاملے میں تعاون نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اپنے لوگ بھی ان ترامیم کو سپورٹ نہیں کریں گے، جس سے حکومتی منصوبہ ناکام ہو سکتا ہے۔علی امین گنڈاپور کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں اسلام آباد سے نکلنے کے لیے محفوظ راستے کی ضرورت تھی، جسے انہوں نے دانشمندی سے اپنایا۔ مزید برآں، انہوں نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے لاپتہ ہونے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جب خبر ملی تو وہ فوری طور پر خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچے، لیکن وزیراعلیٰ کئی گھنٹوں تک لاپتہ رہے، جو بدقسمتی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو بدقسمتی قرار دیا اور کہا کہ صوبے کا وزیراعلیٰ کئی گھنٹوں تک لاپتہ رہا، جس کے نتیجے میں پارٹی رہنماؤں کے پاس اغوا کا موقف اپنانے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں بچا۔
چھوٹے اور درمیانے کاروبار کی فنانسنگ کی حد میں اضافہ
اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے فنانسنگ کی حد میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق، چھوٹے کاروبار کے لیے قرضوں کی حد کو ڈھائی کروڑ روپے سے بڑھا کر 10 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے یہ حد 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔یہ فیصلہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی فنانسنگ کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ ان کاروباروں کو مزید مالی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی، بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رہن رکھے گئے سیال اثاثوں کی مالیت میں کٹوتی کرتے ہوئے قرضوں کی حد کا تعین کریں، تاکہ مالیاتی نظام کی مضبوطی اور ذمہ داری کو یقینی بنایا جا سکے۔اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ترامیم شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق عمل درآمد کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد معیشت کے اس اہم شعبے کو مزید فعال بنانا اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے، جس سے ملک کی اقتصادی ترقی میں مثبت کردار ادا کیا جا سکے۔
بینکوں کے لیے یہ تبدیلیاں امید افزا ہیں، خاص طور پر ان چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے جو مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار نہیں لا پا رہے تھے۔ یہ فنانسنگ کی حد میں اضافہ کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گا، جس سے وہ اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور نئے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں کامیاب ہوں گے۔اسٹیٹ بینک کے اس اقدام کے بعد، کاروباری کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ اس تبدیلی سے معیشت میں استحکام اور ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کو اپنی کاروباری حکمت عملیوں میں اس تبدیلی کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ اپنی معیشت کو مزید مستحکم اور مستحکم کر سکیں۔
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی فائنل کی پاکستان میں میزبانی کی تصدیق اور پی سی بی یوتھ ڈیولپمنٹ کے لیے نئے عہدے کا آغاز
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کے بارے میں برطانوی اخبار کی جانب سے کیے گئے دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ برطانوی اخبار نے خبر دی تھی کہ اگر بھارت فائنل میں پہنچتا ہے تو یہ میچ پاکستان سے باہر کھیلا جائے گا، تاہم پی سی بی نے اس دعوے کی مکمل طور پر نفی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف فائنل سمیت چیمپئنز ٹرافی کے تمام میچز کے اپنے ملک میں انعقاد کے بارے میں غیر مبہم ہے۔پی سی بی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے، "ہماری واضح پوزیشن ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے تمام میچز پاکستان میں منعقد ہوں گے، اور اس حوالے سے کسی بھی طرح کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔” اس بیان کے ذریعے پی سی بی نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب پی سی بی نے یوتھ ڈیولپمنٹ کے شعبے میں بھی اہم اقدام اٹھایا ہے۔ پی سی بی نے ہیڈ آف یوتھ ڈیولپمنٹ کا عہدہ متعارف کرایا ہے اور اس کے لئے امیدواروں کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔ ہیڈ آف یوتھ ڈیولپمنٹ کی ذمہ داری انڈر 13 سے انڈر 19 تک کی کرکٹ کی ترقی کو فروغ دینا ہوگی۔
پی سی بی نے اس عہدے کے لئے اشتہار جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہیڈ آف یوتھ ڈیولپمنٹ ملک بھر میں ٹیلنٹ کی تلاش کے لئے ریجنل اکیڈمیز، کوچز اور ایسوسی ایشنز کے ساتھ کام کرے گا اور گراس روٹ اسٹرکچر کی تشکیل کے ساتھ نوجوان ٹیلنٹ کی تلاش کو فروغ دے گا۔ اس عہدے کے لئے پی سی بی نے لیول 2 ایکریڈیشن کے ساتھ کم از کم 50 ٹیسٹ یا ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلنے کی شرط رکھی ہے۔ امیدواروں کو 24 اکتوبر تک اپنی درخواستیں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے، اور اس عہدے کے لئے نامور سابق کرکٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا ارادہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی سی بی نے حال ہی میں سابق کرکٹرز کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں، اور اظہر علی اس عہدے کے لئے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔یہ واضح ہے کہ پی سی بی نہ صرف چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے لئے پرعزم ہے بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی اور ان کے ٹیلنٹ کی تلاش کے لئے بھی بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔ چیمپئنز ٹرافی کی تیاریوں کے سلسلے میں اسٹیڈیمز کی اپ گریڈیشن کا کام جاری ہے، جس پر پی سی بی اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔
پی ٹی آئی کی بھارتی وزیر خارجہ کو دعوت غیر مناسب ہے، خواجہ آصف
خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی جانب سے بھارتی وزیر خارجہ کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دینے پر بھی تنقید کی، کہ یہ بات نامناسب ہے، کیونکہ بھارت ہمیشہ سے پاکستان کا ازلی دشمن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف پی ٹی آئی کا احتجاج ہے اور دوسری طرف چینیوں پر حملے ہو رہے ہیں، جو کہ ملک کی سیکیورٹی کے لئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی، بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) اور ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کو پاکستان پر حملہ آور قرار دیا۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گنڈاپور نے پہلے سافٹ ویئر کی اپ ڈیٹ کی، اور پھر ہری پور کے راستے پشاور پہنچے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے مخصوص حکمت عملی اختیار کی۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد پر حملہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جب بھی پاکستان کی معیشت بہتر ہونے لگتی ہے، ایسے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں جو ترقی کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اس وقت فوج کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے، جیسا کہ سابق وزیراعظم عمران خان بھی اس معاملے میں وضاحت کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورت حال خاص طور پر اس وقت دیکھی گئی جب 2014 میں چینی صدر پاکستان آنے والے تھے، اور اب شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے پہلے بھی احتجاج جاری ہے۔وزیر دفاع نے پی ٹی آئی کی پالیسیوں پر سوال اٹھایا، خاص طور پر فلسطین کے معاملے پر۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف واقعی فلسطین کے ساتھ ہے تو انہیں فلسطین کے معاملے پر بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کرنی چاہیے تھی، لیکن ان کی غیر موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اصل میں دوسری طرف کھڑی ہیں۔
خواجہ آصف نے افغانستان سے آئے ہوئے شہریوں کے بارے میں بھی کہا کہ پی ٹی آئی نے انہیں پیسے دے کر اسلام آباد لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے افغان جنگ میں پاکستان کے کردار پر بھی تنقید کی، کہ ہم نے ایک بڑی غلطی کی جب ہم اس جنگ میں شریک ہوئے۔عدلیہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ججز کی تعیناتی کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہونا چاہیے اور اس کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں پارلیمان اور عدلیہ دونوں کے نمائندے شامل ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کا نوٹیفکیشن آجائے۔ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ اگر عمران خان بات چیت نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کا ملٹری ٹرائل بھی ممکن ہے، اگر وہ اپنی پوزیشن کو تبدیل نہیں کرتے۔
ضلع خیبر میں سیکیورٹی خطرات کے باعث دفعہ 144 نافذ
ضلع خیبر: سیکیورٹی صورتحال اور خطرات کی شدت کے پیش نظر ضلع خیبر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور تھریٹ الرٹ کے پیش نظر یہ اقدام اٹھانے کی وضاحت کی ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ضلع بھر میں غیر قانونی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، پانچ یا اس سے زائد افراد کے ایک ساتھ اکٹھے ہونے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے تاکہ عوامی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش پر بھی سخت پابندی عائد کی گئی ہے، تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
دفعہ 144 کا نفاذ 9 اکتوبر 2024 سے شروع ہوگا اور یہ 7 نومبر 2024 تک 30 دنوں کے لیے برقرار رہے گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں تعزیرات پاکستان کے سیکشن 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس حوالے سے ضلعی پولیس سربراہ خیبر اور تمام اسسٹنٹ کمشنروں کو ضروری کارروائی کے لیے مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔یہ اقدام اس وقت کیا گیا ہے جب سیکیورٹی ادارے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، اور حالیہ دنوں میں بعض واقعات نے سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت کے احکامات کی پاسداری کریں اور کسی بھی غیر قانونی اجتماع سے گریز کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
علاقے میں سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے اقدامات کے بعد یہ اقدام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ عوامی سیکیورٹی کے حوالے سے یہ احتیاطی تدابیر ضروری سمجھی جا رہی ہیں، اور حکومت کا مقصد علاقے میں امن و امان کی بحالی اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ضلع خیبر کے عوام کو اس بات کی بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔ سیکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر، عوامی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ سیکیورٹی کے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
پاکستان تحریک انصاف کا دوبارہ ڈی چوک میں احتجاج کا عندیہ : 11 اکتوبر سے ملک گیر مظاہروں کا آغاز
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایک بار پھر اسلام آباد کے ڈی چوک میں احتجاج کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، تحریک انصاف نے نئے احتجاج کے لئے ایک تفصیلی شیڈول تیار کر لیا ہے، جس کے تحت 11 اکتوبر کو ملتان اور ساہیوال میں مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، پارٹی 12 اکتوبر کو گوجرانوالا اور سرگودھا میں احتجاج کرے گی۔ اس کے بعد 13 اکتوبر کو ڈی جی خان اور 14 اکتوبر کو لاہور اور فیصل آباد میں بھی مظاہرے کیے جائیں گے۔ یہ احتجاج پی ٹی آئی کے کارکنوں کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرے گا، جہاں وہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے آواز بلند کر سکیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ہونے والے ان احتجاجوں کے بعد تحریک انصاف کی قیادت اسلام آباد میں بھی ایک بڑے مظاہرے کی کال دینے پر غور کر رہی ہے۔ اس فیصلے کے حوالے سے تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی اہم مشاورت کرے گی، جس کے بعد اسلام آباد میں احتجاج کی تاریخ اور دیگر تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں کو ان مظاہروں کی تیاری کے لیے اہم ہدایات جاری کر دی ہیں، جس میں شامل ہے کہ وہ پرامن رہیں اور احتجاج کے دوران کسی بھی قسم کی بدنظمی سے بچیں۔ پارٹی کی قیادت نے کارکنوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مقامی قائدین کے ساتھ ہم آہنگی رکھیں اور مظاہروں کی کامیابی کے لیے بھرپور شرکت کریں۔یہ مظاہرے اس وقت ہو رہے ہیں جب پاکستان کی سیاسی صورت حال میں بے چینی اور عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے احتجاج کی ان سرگرمیوں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے، اور ان کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ عوامی مفادات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر سلمان علی آغا "ٹیسٹ میچ کا رزلٹ آنے کے لئے پر امید
ملتان: پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر سلمان علی آغا نے ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ وکٹ پر کافی کریکس کھل رہے ہیں، جس کے باعث انہیں یقین ہے کہ اس ٹیسٹ میچ کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا۔ سلمان علی آغا نے اپنے کھیل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپنرز پر اٹیک کرنا ان کی گیم کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا، "اٹیکنگ کرکٹ کھیلنے کا کوئی خاص پلان نہیں تھا، لیکن میں ہمیشہ سپنرز پر اٹیک کرتا ہوں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہمیں اندازہ تھا کہ انگلش ٹیم تیز کرکٹ کھیلے گی، اور ہم امید کرتے ہیں کہ اٹیکنگ کرکٹ کے دوران مہمان ٹیم غلطیاں کرے گی۔سلمان علی آغا نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "میں نے باؤنڈری پر خود کو کیچ آؤٹ ہوتے دیکھا، جس نے میرے لیے یہ ثابت کر دیا کہ انگلینڈ کی ٹیم ایک اچھی ٹیم ہے۔ میری کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ میں اپنا بہترین کھیل پیش کروں، کیونکہ جب آپ 500 سکورز کرتے ہیں تو آپ کی خود اعتمادی بڑھ جاتی ہے۔”
سلمان آغا نے مزید کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ انگلینڈ کل غلطیاں کرے، کیونکہ ایسی غلطیاں کھیل کے نتیجے پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے کھلاڑیوں کو مسلسل محنت کرنی ہوگی تاکہ اپنی ٹیم کو کامیابی دلائی جا سکے۔یہ بات قابل غور ہے کہ سلمان علی آغا کی اس پریس کانفرنس نے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری ٹیسٹ سیریز میں دلچسپی بڑھا دی ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اس مقابلے میں جوش و خروش موجود ہے، اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر سب کی نظریں ہیں۔اس موقع پر یہ بھی ذکر کیا گیا کہ انگلش گیند باز وطن واپسی کی تیاری کر رہے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیریز کا نتیجہ کیسے سامنے آسکتا ہے۔ سلمان علی آغا کی گفتگو اور ان کی حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم اس ٹیسٹ میچ میں بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل مقرر
اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ، بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی۔ عدالت نے یہ سماعت توشہ خانہ ٹو کیس کے سلسلے میں بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر مقرر کی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اس درخواست پر سماعت کریں گے۔ اس سے قبل اسپیشل جج سینٹرل نے بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی، جس کے بعد انہوں نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔عدالت نے اس حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو درخواست ضمانت پر اپنا جواب داخل کرنے کے لیے نوٹس جاری کر رکھا ہے، جس میں ایف آئی اے کو اس کیس میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی پر الزامات ہیں کہ انہوں نے قیمتی تحائف اور اثاثہ جات کی خرید و فروخت میں بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا۔ یہ کیس پی ٹی آئی حکومت کے دوران اعلیٰ سطح پر ملنے والے تحائف کی فروخت اور ان کی آمدنی کے ذرائع کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ ایف آئی اے نے اس کیس کی تحقیقات کی تھیں اور بشریٰ بی بی سمیت دیگر افراد پر الزامات عائد کیے تھے۔بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کا درست طور پر جائزہ نہیں لیا اور انہیں انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی بے گناہ ہیں اور ان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔ اس لیے عدالت سے درخواست ہے کہ ان کی ضمانت کو منظور کیا جائے۔

کراچی ایئرپورٹ حملے میں ہلاک چینی انجینئرز کا تعلق قرض مذاکرات سے تھا، وزیر خزانہ
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کراچی ایئرپورٹ پر ہونے والے حالیہ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے چینی انجینئرز، جن کا تعلق پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ سے تھا، حکومت پاکستان کے ساتھ قرض کی ری پروفائلنگ پر بات چیت میں شامل تھے۔ یہ بیان انہوں نے منگل کو ایک خصوصی پیغام میں دیا۔وزیر خزانہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "ہلاک ہونے والے وہ آئی پی پی (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسر) انجینئرز تھے جن کے ساتھ وزیر توانائی اویس لغاری اور میں ملکی قرضوں کو ری پروفائل کرنے اور میچورٹی (ادائیگی) کو بڑھانے کے سلسلے میں بات چیت کر رہے تھے، تاکہ ہم بجلی کے نرخوں کو کم کر سکیں اور عوام کو ریلیف فراہم کر سکیں۔یہ حملہ اتوار کو اس وقت ہوا جب چینی عملے کو لے جانے والا قافلہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنا۔ اس حملے میں دو چینی شہری ہلاک ہوئے جبکہ ایک زخمی ہوا۔ اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے، جو کہ ایک بار پھر پاکستان میں عدم استحکام کی علامت بنی ہوئی ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت اور چینی پاور کمپنیوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جن میں چینی وزیر اعظم لی کیانگ کے حالیہ دورے کے دوران 16 بلین ڈالر سے زائد کی ادائیگی پر قرضوں کی ری پروفائلنگ اور موریٹوریم کے معاہدوں پر دستخط کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ یہ اقدامات پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں کا حصہ ہیں۔معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے، محمد اورنگزیب نے کہا کہ "معاشی استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔ حکومتی اقدامات کی بدولت مہنگائی میں کمی آئی ہے، اور آئندہ دنوں میں مزید کمی کی توقع ہے۔” انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے 2025 تک مہنگائی کی شرح میں کمی کا تخمینہ 5 یا 6 فیصد لگایا تھا، لیکن موجودہ مہنگائی کی شرح 6.9 فیصد پر آ گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے روپے کی قدر میں بہتری اور پالیسی ریٹ میں کمی کا ذکر کیا، جو کہ معاشی استحکام کے لئے ایک مثبت علامت ہے۔ انہوں نے کہا، "پچھلے دو تین ہفتوں میں حکومت نے درآمدات میں کمی کی ہے تاکہ قیمتوں میں کمی لائی جا سکے، جس سے شرح سود میں کمی آئی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ "معیشت کے استحکام کے لئے کام جاری ہے، اور ہم بڑی محنت سے ملک میں معاشی استحکام لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہڑتالوں اور احتجاجوں کے باعث معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "شہری ہڑتالوں کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر 190 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے باعث آٹھ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، اور ان اقدامات کے نتائج کو مثبت بنانے کے لئے حکومت کوششیں جاری رکھے گی۔ یہ واقعہ اور اس کے اثرات نہ صرف معیشت پر، بلکہ ملکی سلامتی کی صورت حال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ حکومت کی کوششیں ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے جاری ہیں، تاکہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور عوام کو بہتر زندگی کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔









