Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پاکستان بار کونسل کی مجوزہ آئینی ترامیم پر تفصیلی تجاویز وفاقی حکومت کو ارسال

    پاکستان بار کونسل کی مجوزہ آئینی ترامیم پر تفصیلی تجاویز وفاقی حکومت کو ارسال

    اسلام آباد: پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے آئینی ترامیم کے حوالے سے اپنی تحریری تجاویز وفاقی حکومت کو بھیج دی ہیں، جس میں اہم ترامیم کی سفارشات شامل ہیں۔ یہ تجاویز خاص طور پر آئینی اور عدالتی اصلاحات کے حوالے سے ہیں، جو ملک کے عدلیہ کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔پاکستان بار کونسل نے تجویز دی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے میں یہ وضاحت شامل کی جائے کہ ‘ووٹ شمار بھی ہوگا’۔ یہ ترمیم اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اگر کسی ممبر نے پارٹی ہدایت کے برخلاف ووٹ دیا تو اس کے ووٹ کی شمار کی حیثیت واضح ہو جائے گی۔ پی بی سی کی جانب سے یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ ایسے ممبران کی نااہلی کی مدت پانچ سال مقرر کی جائے جو پارٹی ہدایت کے برخلاف ووٹ ڈالیں۔
    پی بی سی نے جوڈیشل کمیشن کے ممبران میں تبدیلی کی تجویز دی ہے۔ ان کی رائے ہے کہ کمیشن میں شامل ہونے والے افراد میں چیف جسٹس متعلقہ ہائی کورٹ، صوبائی وزیر قانون، اور صوبائی بار کے نمائندے کو شامل کیا جائے۔ خاص طور پر یہ سفارش کی گئی ہے کہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کے معاملے میں ہائیکورٹ کے سینئر جج کو بطور ممبر شامل نہ کیا جائے، تاکہ تنازعہ کی صورت حال سے بچا جا سکے۔وفاقی حکومت کی مجوزہ آئینی ترامیم میں چیف جسٹس کے تقرر کے لیے تین سینئر ججز کے نام پر غور کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ پاکستان بار کونسل نے اس پر بھی اپنی رائے دی ہے کہ چیف جسٹس پاکستان اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے لیے علیحدہ علیحدہ تین سینئر ججز کے ناموں پر غور کیا جائے۔
    پاکستان بار کونسل کی تجویز میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے صدارتی آرڈر کے ذریعے تبدیلی کی شق کو حذف کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مزید برآں، اس عدالت کے سربراہ کے تقرر کی مدت تین سال جبکہ ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ہائیکورٹ میں جج کی تعیناتی کی عمر کی شرط 45 سال رکھنے کی بھی سفارش کی گئی ہے، جو نئے ججوں کی بھرتی کے عمل میں شفافیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔پی بی سی نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ ہائیکورٹ سے ایک کیس کو دوسری ہائیکورٹ میں منتقل کر سکے۔ یہ تجویز عدلیہ کی افادیت کو بڑھانے کے لیے اہم قرار دی گئی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ہائیکورٹ کے دباؤ کو کم کیا جا سکے گا۔
    بار کونسل نے آرٹیکل 215 سے متعلق مجوزہ ترمیم کو مسودے سے حذف کرنے کی بھی سفارش کی ہے، جسے وہ غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ ان تمام تجاویز کے پس منظر میں پاکستان بار کونسل کا مقصد عدلیہ کی اصلاحات کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو مزید موثر اور شفاف بنانا ہے۔یہ تجاویز ملک کے قانونی نظام میں بہتری لانے کے لیے ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہیں اور ان پر وفاقی حکومت کی جانب سے غور کیا جائے گا۔ بار کونسل کی یہ کوششیں عدلیہ کی خودمختاری اور عوامی اعتماد کی بحالی کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہیں، جو ملک کی جمہوریت کی مضبوطی میں معاون ثابت ہوں گی۔

  • وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی اہم ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی اہم ملاقات

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں قومی اور سیاسی امور پر اہم گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر اور صوبائی وزیر سندھ شرجیل انعام میمن شامل تھے، جبکہ وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور معاون خصوصی عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔اس ملاقات کے دوران ملک کے سیاسی منظرنامے اور مختلف اہم قومی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے گزشتہ روز منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا خصوصی ذکر کیا، جس کا مقصد ملک میں جمہوری استحکام اور آئینی بالادستی کو یقینی بنانا تھا۔ اس کانفرنس میں صدر مملکت آصف علی زرداری کے کردار کو سراہا گیا، جنہوں نے سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا کر قومی ہم آہنگی اور جمہوریت کے فروغ کے لیے قابل قدر اقدامات کیے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ جمہوری اداروں کی مضبوطی اور آئینی اقدار کی پاسداری ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے بہتر مستقبل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔
    ملاقات میں فلسطینی عوام کی حالتِ زار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار میں پیش پیش رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرتی ہے۔ اس ضمن میں فلسطینیوں کی امداد کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔شرکاء نے فلسطینی عوام کے حق میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کو خوش آئند قرار دیا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ پاکستان کی قومی پالیسی ہے کہ ہم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اسرائیلی ظلم و ستم کے شکار بے گناہ فلسطینیوں کی امداد کے لیے بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ پوری پاکستانی قوم فلسطینی عوام کی حمایت میں متحد ہے اور اسرائیلی ظلم و بربریت کی مذمت کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے اور عالمی فورمز پر ان کے حقوق کی بھرپور وکالت کی ہے۔ فلسطینی عوام کی مدد کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ ان کے مسائل کا حل نکالا جا سکے اور ان پر جاری ظلم و ستم کا خاتمہ ہو۔یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، اور قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

  • اڈیالہ جیل کے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کا پتا چل گیا، اینٹی کرپشن کے مقدمے میں تحقیقات جاری

    اڈیالہ جیل کے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کا پتا چل گیا، اینٹی کرپشن کے مقدمے میں تحقیقات جاری

    اڈیالہ جیل کے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم، جو گزشتہ دو ماہ سے لاپتہ تھے، کا پتا چل گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق محمد اکرم کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی تحویل میں رکھا گیا ہے اور ان پر رشوت لینے کا مقدمہ درج ہے۔ اس وقت وہ تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔محمد اکرم کے اہلخانہ نے اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں محمد اکرم کی موجودہ صورتحال اور عدالتی پیشیوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ تک نہیں بتایا گیا کہ محمد اکرم کو کس عدالت میں پیش کیا گیا۔ اہلخانہ کے مطابق انہیں اینٹی کرپشن کے مقدمے کا علم ہوا ہے، لیکن محمد اکرم کی بازیابی سے متعلق انہیں ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا۔
    اہلخانہ نے مزید بتایا کہ محمد اکرم کی بازیابی سے متعلق کیس لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ میں زیر سماعت ہے، اور آئی جی جیل خانہ جات بھی اس کیس کی سماعت میں پیش ہو چکے ہیں۔ عدالت نے 11 اکتوبر کو دوبارہ سماعت مقرر کی ہے، جس میں محمد اکرم کی بازیابی کے حوالے سے مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔ عدالت نے راولپنڈی پولیس سے محمد اکرم کی بازیابی سے متعلق پیشرفت رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔محمد اکرم کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ، "اگر محمد اکرم کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا گیا تھا، تو ہمیں آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔ ہمیں اب تک کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں اور اگر انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے، تو یہ بھی ہم سے چھپایا جا رہا ہے۔”
    محمد اکرم کے خلاف شیخوپورہ میں ایک مقدمہ درج ہے، جس کے مدعی ریاض قریشی نے ان پر 95 ہزار روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس الزام کی بنیاد پر اینٹی کرپشن حکام محمد اکرم سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ انہیں 10 اکتوبر کو سینیئر سول جج کریمنل ڈویژن خدا یار کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔محمد اکرم کا یہ کیس عوامی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جہاں ان کی گمشدگی اور بازیابی سے متعلق قانونی معاملات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • سپیکر پنجاب اسمبلی کا الیکشن کمیشن کو دوسرا خط: انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 کے فوری نفاذ کا مطالبہ

    سپیکر پنجاب اسمبلی کا الیکشن کمیشن کو دوسرا خط: انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 کے فوری نفاذ کا مطالبہ

    لاہور: اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔ منگل کے روز اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے ای سی پی کو دوسرا خط لکھا گیا، جس میں انہوں نے زور دیا کہ اس اہم قانون کی عمل درآمد میں مزید تاخیر جمہوریت اور عوامی خواہشات کے منافی ہے۔ملک احمد خان نے اپنے خط میں پارلیمانی بالادستی کو جمہوریت کا بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 پر فوری عملدرآمد نہ ہونا عوام کی مرضی اور جمہوری نظام کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کا احترام کرے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔
    سپیکر پنجاب اسمبلی نے خط میں مزید لکھا کہ انتخابات ایکٹ پر فوری عملدرآمد جمہوری نظام کی سالمیت کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے تقدس کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اس قانون کے نفاذ میں مزید تاخیر ناقابلِ قبول ہوگی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو یاد دلایا کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی عوامی مفاد میں ہوتی ہے اور اس کی بروقت عمل درآمد کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ملک احمد خان نے اپنے خط میں اس بات پر بھی زور دیا کہ پارلیمانی بالادستی جمہوری نظام کی کامیابی کا سنگِ بنیاد ہے اور انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 پر عملدرآمد کے حوالے سے تاخیر سے جمہوری نظام میں عوام کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی فیصلوں کو نظرانداز کرنا عوامی نمائندگی کی توہین ہے اور الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری کا ادراک کرنا چاہیے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ملک احمد خان اس سے قبل بھی الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھ چکے ہیں جس میں انہوں نے انتخابات ترمیمی ایکٹ کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم، تاحال الیکشن کمیشن کی جانب سے اس پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔
    انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 پاکستانی انتخابی نظام میں شفافیت اور اصلاحات لانے کے حوالے سے ایک اہم قانون ہے جسے پارلیمنٹ نے حال ہی میں منظور کیا ہے۔ اس ایکٹ کا مقصد انتخابی عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے تاکہ انتخابات کے نتائج عوامی امنگوں کے عین مطابق ہوں۔ملک احمد خان کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے مسلسل خطوط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 کی فوری عمل درآمد کو جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔

  • بانی پی ٹی آئی سے وکلاء کی ملاقات نہ کرانے پر توہینِ عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    بانی پی ٹی آئی سے وکلاء کی ملاقات نہ کرانے پر توہینِ عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے اڈیالہ جیل میں وکلاء کی ملاقات نہ کرانے پر دائر کی گئی توہینِ عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر لی ہے۔ جسٹس ثمن رفعت امتیاز اس کیس کی سماعت کریں گی، جو کل بانی پی ٹی آئی کے وکیل انتظار پنجوتھہ کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر ہوگی۔درخواست میں سیکرٹری داخلہ اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ جیل حکام نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور ان کے وکلاء کے درمیان ملاقات کو روک دیا ہے، جو عدالتی حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔
    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سے قبل حکم دیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی ان کے وکلاء سے ہفتے میں دو دن ملاقات کرائی جائے۔ اس حکم کے تحت جیل حکام کو ایس او پیز کے مطابق آج ملاقات کرنے والے وکلاء کی فہرست بھی بھیجی گئی تھی، تاہم درخواست میں بتایا گیا ہے کہ جیل حکام نے آگاہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ فریقین کا یہ عمل عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اس کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جانی چاہیے۔ وکیل انتظار پنجوتھہ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے وکلاء کی ملاقات کے احکامات فوری طور پر جاری کیے جائیں تاکہ قانونی کاروائی جاری رکھی جا سکے۔یہ کیس بانی پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، کیوں کہ جیل حکام کی جانب سے ملاقات کی اجازت نہ دینے سے قانونی کارروائیوں میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔

  • اعظم سواتی کا مقدمات کی تفصیلات کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، اعظم سواتی، نے حالیہ دنوں میں اپنی قانونی حیثیت کو واضح کرنے اور مقدمات کی تفصیلات کے حصول کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ یہ درخواست، سید محمد علی بخاری ایڈوکیٹ کے ذریعے جمع کرائی گئی ہے، اور اس میں آئی جی پولیس، ڈی جی ایف آئی اے، ڈپٹی کمشنر، اور سیکرٹری داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں اعظم سواتی نے 5 اکتوبر کو تھانہ کوہسار میں درج ہونے والے ایک دہشت گردی کے مقدمے کا ذکر کیا۔ سواتی نے کہا کہ وہ اپنے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن احتجاج میں شریک تھے، جس کے بعد ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر کے ایف آئی آر کو سیل کر دیا گیا۔ سواتی کی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت آئی جی پولیس کو حکم دے کہ وہ ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کریں۔ اس کے علاوہ، درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے کو زیر التوا مقدمات اور ان کی تحقیقات کی تفصیل فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔
    اعظم سواتی نے مزید کہا کہ اگر ڈپٹی کمشنر کی جانب سے حراست میں لینے کا کوئی آرڈر جاری ہوا ہے تو وہ بھی عدالت کو فراہم کیا جائے۔ انہوں نے اپنے مؤقف میں کہا کہ یہ تمام معلومات ان کے قانونی حقوق کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں اور ان کا مطالبہ عوامی مفاد میں ہے۔یہ درخواست اس وقت سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی کے کارکنان اور رہنما حالیہ مہینوں میں بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ اور قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ سواتی کی اس قانونی کارروائی کے نتیجے میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس کے اثرات پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی اور کارکنوں کے مورال پر پڑیں گے۔حالیہ سیاسی صورتحال اور ملک میں جاری قانونی معاملات کے پیش نظر، سواتی کی یہ درخواست ایک اہم پیشرفت تصور کی جا رہی ہے، جو کہ نہ صرف ان کی ذاتی حیثیت بلکہ پی ٹی آئی کے مستقبل کے حوالے سے بھی کئی سوالات اٹھاتی ہے۔

  • وفاقی حکومت کے قرضوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

    وفاقی حکومت کے قرضوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

    اسلام آباد: پاکستان میں وفاقی حکومت کے قرضوں کا حجم ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 70 ہزار 362 ارب روپے پر پہنچ گیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگست 2024 تک وفاقی حکومت کے قرضوں کا ڈیٹا اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق ملک کی مالیاتی صورتحال میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
    دستاویز کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں وفاقی حکومت کا قرض 1448 ارب روپے بڑھ گیا۔ خاص طور پر، اگست کے مہینے میں مرکزی حکومت کے قرضے میں 739 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ ملکی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ستمبر 2023 سے اگست 2024 کے ایک سال کے دوران وفاقی حکومت کا قرضہ 6 ہزار 392 ارب روپے بڑھا۔ اس عرصے میں مجموعی طور پر قرضوں میں ہونے والا یہ اضافہ ملک کی اقتصادی استحکام کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔
    اگست 2024 تک وفاقی حکومت کا مقامی قرضہ 48 ہزار 339 ارب روپے تھا، جب کہ بیرونی قرضہ 22 ہزار 23 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملکی معیشت میں عدم توازن اور مالیاتی انحصار کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، جس سے عوامی خدمات میں کمی اور ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قرض کے بڑھتے ہوئے حجم کے ساتھ، معیشت میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ، حکومتی اخراجات میں اضافہ اور محصولات میں کمی کی صورت میں، عوام کو مزید مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال ملک کی معیشتی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔اس تمام صورتحال میں، وفاقی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے قرضے کے حجم کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی مستحکم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ یہ اقدامات عوامی خدمات کی بہتری اور ملک کی ترقی کے لیے نہایت اہم ہوں گے، تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

  • "فلاپ سٹوری” پر کوئی یقین نہیں کر رہا ،عظمیٰ بخاری

    "فلاپ سٹوری” پر کوئی یقین نہیں کر رہا ،عظمیٰ بخاری

    وزیراطلاعات پنجاب، عظمیٰ بخاری، نے علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ گنڈاپور کی "فلاپ سٹوری” پر اس کے اپنے لوگ بھی یقین نہیں کر رہے۔ عظمیٰ بخاری نے علی امین گنڈاپور کی جانب سے "گینگ آف کالا چور” کے بارے میں بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کارکنوں میں "مظلوم بچہ” بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کے بھائی اس وقت وزیراعظم ہیں اور بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔
    عظمی بخاری نے زور دیا کہ گنڈاپور کا لیڈر، نوازشریف کے بغض میں جلتا ہوا، اڈیالہ جیل پہنچ چکا ہے، جبکہ نوازشریف پاکستان اور قوم کی بات کرنے والے قومی لیڈر ہیں۔
    عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ گنڈاپور اور اس کی جماعت کنویں کے مینڈک کی طرح ہیں جو اس سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جانوروں کی جگہ مویشیوں کی منڈیاں ہوتی ہیں، نہ کہ اسمبلیاں۔ وزیراطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ اگر صوبہ چلانے کے قابل نہیں ہیں تو پختونخواہ کی جان چھوڑ دیں، اور ہر ہفتے پنجاب اور وفاق پر چڑھائی کرنے کے بجائے اپنے صوبے کی عوام پر رحم کھائیں۔ یہ بیان پنجاب کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر جب سیاسی بیانات کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے۔

  • خواتین کو شرعی وراثتی حق فراہم کرنے کی ضرورت،سپریم کورٹ کا فیصلہ

    خواتین کو شرعی وراثتی حق فراہم کرنے کی ضرورت،سپریم کورٹ کا فیصلہ

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک اہم فیصلہ سنایا ہے جس میں بہنوں کو وراثت میں حصہ دینے کے بارے میں واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تحریر کردہ اس فیصلہ میں خواتین کے شرعی وراثتی حقوق کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے، خواتین کو اکثر ان کے قانونی ورثے سے محروم رکھا جاتا ہے، اور اس ظلم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی ضرورت ہے۔عدالت عظمٰی نے واضح کیا کہ خواتین کی وراثتی جائیدادوں کو تحفظ ملنا چاہیے، اور اس میں کسی بھی قسم کی ناانصافی کے خلاف فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ فیصلے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کچھ وکلا ایسے مقدمات کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں خواتین کو ان کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ عدالت نے بے بنیاد مقدمات کی روک تھام کے لیے بھی سخت پیغام دیا، اور درخواست گزار پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ یہ رقم ان بہنوں کو ادا کی جائے گی جنہیں وراثتی جائیداد سے محروم رکھا گیا۔ اس فیصلے کے تحت، عدالت نے اس بات کی وضاحت کی کہ درخواست کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے 3 لاکھ روپے کا اضافی جرمانہ بھی عائد کیا گیا، جو ان افراد کو ادا کیا جائے گا جنہیں ان کے قانونی حصے سے محروم کیا گیا تھا۔
    یہ مقدمہ سرفراز احمد خان کی جائیداد کے بارے میں تھا، جو 2010 میں وفات پا گئے تھے۔ مرحوم اپنے پیچھے 5 بیٹے، 5 بیٹیاں، اور ایک بیوہ چھوڑ گئے تھے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مرحوم کی جائیداد میں ایک 12 مرلے اور 218 مربع فٹ پر واقع مکان شامل تھا۔ جب درخواست گزار کی بہنوں نے وراثت کا دعویٰ کیا تو درخواست گزار نے جائیداد کی قیمت لگانے پر اتفاق کیا۔ عدالت نے مزید بتایا کہ درخواست گزار نے اپنے قانونی ورثا کو شریعت کے مطابق حصے دینے کی رضامندی ظاہر کی، لیکن بعد میں وعدے سے انحراف کیا۔ جب بہنوں نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا تو درخواست گزار نے ہائیکورٹ میں اپنے دستخط شدہ رضامندی کو چیلنج کیا۔
    اس فیصلے کا مقصد خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بات واضح کی ہے کہ خواتین کو ان کے شرعی وراثتی حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، اور ان کے حقوق کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔ یہ فیصلہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشرتی انصاف کے لیے ضروری ہے کہ قانونی نظام ان افراد کے خلاف سختی سے کاروائی کرے جو خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ فریقین کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ ان تمام دنوں کے لیے منافع کا دعویٰ کریں، جس کا مطلب ہے کہ خواتین کو ان کی وراثتی جائیداد کا مکمل حق دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ دیگر مقدمات میں بھی خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے، اور یہ کہ آئندہ کے مقدمات میں ایسی کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔
    یہ فیصلہ پاکستانی عدلیہ کی جانب سے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے بلکہ یہ ایک ایسا پیغام بھی ہے جو خواتین کی طاقت اور ان کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا اس طرح کے اقدامات دیگر کیسز میں بھی دیکھے جائیں گے، تاکہ خواتین کو ان کے شرعی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

  • سپریم کورٹ کا صنعتوں پر لیوی ٹیکس عائد کرنے سے متعلق فیصلہ

    سپریم کورٹ کا صنعتوں پر لیوی ٹیکس عائد کرنے سے متعلق فیصلہ

    سپریم کورٹ نے صنعتوں پر لیوی ٹیکس عائد کرنے سے متعلق فیصلہ سات ماہ بعد جاری کردیا۔ جسٹس منیب اختر کی تحریر کردہ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فریقین کا پرائیویٹ جنریٹرز کے ذریعے 500 کے وی کیپسٹی کی بجلی ذاتی استعمال کے لیے پیدا کرنا تسلیم شدہ حقیقت ہے۔صوبائی حکومت کا موقف تھا کہ 1985 کے نوٹیفکیشن کے تحت 2001 تک اس ٹیکس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا، جبکہ پنجاب حکومت نے نئے نوٹیفکیشن کے تحت الیکٹریکسٹی ڈیوٹی کا نفاذ کیا ہے۔ فیصلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ذاتی استعمال کے لیے 500 کے وی کیپسٹی کے جنریٹرز پر لیوی ٹیکس کا نفاذ نہیں ہوگا۔یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیلوں پر آیا ہے، جس میں 43 صنعتوں نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائیکورٹ میں معاملہ جے ڈبلیو شوگر مل کے لیوی ٹیکس سے متعلق تھا، اور کیس کی آخری سماعت 29 فروری 2024 کو ہوئی تھی۔یہ فیصلہ صنعتوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے اور اس سے ملک کی صنعتی ترقی پر مثبت اثرات متوقع ہیں۔