Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر سلمان علی آغا "ٹیسٹ میچ کا رزلٹ   آنے کے لئے پر امید

    پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر سلمان علی آغا "ٹیسٹ میچ کا رزلٹ آنے کے لئے پر امید

    ملتان: پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر سلمان علی آغا نے ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ وکٹ پر کافی کریکس کھل رہے ہیں، جس کے باعث انہیں یقین ہے کہ اس ٹیسٹ میچ کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا۔ سلمان علی آغا نے اپنے کھیل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپنرز پر اٹیک کرنا ان کی گیم کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا، "اٹیکنگ کرکٹ کھیلنے کا کوئی خاص پلان نہیں تھا، لیکن میں ہمیشہ سپنرز پر اٹیک کرتا ہوں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہمیں اندازہ تھا کہ انگلش ٹیم تیز کرکٹ کھیلے گی، اور ہم امید کرتے ہیں کہ اٹیکنگ کرکٹ کے دوران مہمان ٹیم غلطیاں کرے گی۔سلمان علی آغا نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "میں نے باؤنڈری پر خود کو کیچ آؤٹ ہوتے دیکھا، جس نے میرے لیے یہ ثابت کر دیا کہ انگلینڈ کی ٹیم ایک اچھی ٹیم ہے۔ میری کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ میں اپنا بہترین کھیل پیش کروں، کیونکہ جب آپ 500 سکورز کرتے ہیں تو آپ کی خود اعتمادی بڑھ جاتی ہے۔”
    سلمان آغا نے مزید کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ انگلینڈ کل غلطیاں کرے، کیونکہ ایسی غلطیاں کھیل کے نتیجے پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے کھلاڑیوں کو مسلسل محنت کرنی ہوگی تاکہ اپنی ٹیم کو کامیابی دلائی جا سکے۔یہ بات قابل غور ہے کہ سلمان علی آغا کی اس پریس کانفرنس نے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری ٹیسٹ سیریز میں دلچسپی بڑھا دی ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اس مقابلے میں جوش و خروش موجود ہے، اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر سب کی نظریں ہیں۔اس موقع پر یہ بھی ذکر کیا گیا کہ انگلش گیند باز وطن واپسی کی تیاری کر رہے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیریز کا نتیجہ کیسے سامنے آسکتا ہے۔ سلمان علی آغا کی گفتگو اور ان کی حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم اس ٹیسٹ میچ میں بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

  • اسلام آباد ہائی کورٹ میں بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل مقرر

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل مقرر

    اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ، بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی۔ عدالت نے یہ سماعت توشہ خانہ ٹو کیس کے سلسلے میں بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر مقرر کی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اس درخواست پر سماعت کریں گے۔ اس سے قبل اسپیشل جج سینٹرل نے بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی، جس کے بعد انہوں نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔عدالت نے اس حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو درخواست ضمانت پر اپنا جواب داخل کرنے کے لیے نوٹس جاری کر رکھا ہے، جس میں ایف آئی اے کو اس کیس میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی پر الزامات ہیں کہ انہوں نے قیمتی تحائف اور اثاثہ جات کی خرید و فروخت میں بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا۔ یہ کیس پی ٹی آئی حکومت کے دوران اعلیٰ سطح پر ملنے والے تحائف کی فروخت اور ان کی آمدنی کے ذرائع کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ ایف آئی اے نے اس کیس کی تحقیقات کی تھیں اور بشریٰ بی بی سمیت دیگر افراد پر الزامات عائد کیے تھے۔بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کا درست طور پر جائزہ نہیں لیا اور انہیں انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی بے گناہ ہیں اور ان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔ اس لیے عدالت سے درخواست ہے کہ ان کی ضمانت کو منظور کیا جائے۔

  • کراچی ایئرپورٹ حملے میں ہلاک چینی انجینئرز کا تعلق قرض مذاکرات سے تھا،  وزیر خزانہ

    کراچی ایئرپورٹ حملے میں ہلاک چینی انجینئرز کا تعلق قرض مذاکرات سے تھا، وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کراچی ایئرپورٹ پر ہونے والے حالیہ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے چینی انجینئرز، جن کا تعلق پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ سے تھا، حکومت پاکستان کے ساتھ قرض کی ری پروفائلنگ پر بات چیت میں شامل تھے۔ یہ بیان انہوں نے منگل کو ایک خصوصی پیغام میں دیا۔وزیر خزانہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "ہلاک ہونے والے وہ آئی پی پی (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسر) انجینئرز تھے جن کے ساتھ وزیر توانائی اویس لغاری اور میں ملکی قرضوں کو ری پروفائل کرنے اور میچورٹی (ادائیگی) کو بڑھانے کے سلسلے میں بات چیت کر رہے تھے، تاکہ ہم بجلی کے نرخوں کو کم کر سکیں اور عوام کو ریلیف فراہم کر سکیں۔یہ حملہ اتوار کو اس وقت ہوا جب چینی عملے کو لے جانے والا قافلہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنا۔ اس حملے میں دو چینی شہری ہلاک ہوئے جبکہ ایک زخمی ہوا۔ اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے، جو کہ ایک بار پھر پاکستان میں عدم استحکام کی علامت بنی ہوئی ہے۔
    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت اور چینی پاور کمپنیوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جن میں چینی وزیر اعظم لی کیانگ کے حالیہ دورے کے دوران 16 بلین ڈالر سے زائد کی ادائیگی پر قرضوں کی ری پروفائلنگ اور موریٹوریم کے معاہدوں پر دستخط کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ یہ اقدامات پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں کا حصہ ہیں۔معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے، محمد اورنگزیب نے کہا کہ "معاشی استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔ حکومتی اقدامات کی بدولت مہنگائی میں کمی آئی ہے، اور آئندہ دنوں میں مزید کمی کی توقع ہے۔” انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے 2025 تک مہنگائی کی شرح میں کمی کا تخمینہ 5 یا 6 فیصد لگایا تھا، لیکن موجودہ مہنگائی کی شرح 6.9 فیصد پر آ گئی ہے۔
    وزیر خزانہ نے روپے کی قدر میں بہتری اور پالیسی ریٹ میں کمی کا ذکر کیا، جو کہ معاشی استحکام کے لئے ایک مثبت علامت ہے۔ انہوں نے کہا، "پچھلے دو تین ہفتوں میں حکومت نے درآمدات میں کمی کی ہے تاکہ قیمتوں میں کمی لائی جا سکے، جس سے شرح سود میں کمی آئی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ "معیشت کے استحکام کے لئے کام جاری ہے، اور ہم بڑی محنت سے ملک میں معاشی استحکام لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہڑتالوں اور احتجاجوں کے باعث معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "شہری ہڑتالوں کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر 190 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے باعث آٹھ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، اور ان اقدامات کے نتائج کو مثبت بنانے کے لئے حکومت کوششیں جاری رکھے گی۔ یہ واقعہ اور اس کے اثرات نہ صرف معیشت پر، بلکہ ملکی سلامتی کی صورت حال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ حکومت کی کوششیں ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے جاری ہیں، تاکہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور عوام کو بہتر زندگی کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

  • پاکستان بار کونسل کی مجوزہ آئینی ترامیم پر تفصیلی تجاویز وفاقی حکومت کو ارسال

    پاکستان بار کونسل کی مجوزہ آئینی ترامیم پر تفصیلی تجاویز وفاقی حکومت کو ارسال

    اسلام آباد: پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے آئینی ترامیم کے حوالے سے اپنی تحریری تجاویز وفاقی حکومت کو بھیج دی ہیں، جس میں اہم ترامیم کی سفارشات شامل ہیں۔ یہ تجاویز خاص طور پر آئینی اور عدالتی اصلاحات کے حوالے سے ہیں، جو ملک کے عدلیہ کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔پاکستان بار کونسل نے تجویز دی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے میں یہ وضاحت شامل کی جائے کہ ‘ووٹ شمار بھی ہوگا’۔ یہ ترمیم اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اگر کسی ممبر نے پارٹی ہدایت کے برخلاف ووٹ دیا تو اس کے ووٹ کی شمار کی حیثیت واضح ہو جائے گی۔ پی بی سی کی جانب سے یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ ایسے ممبران کی نااہلی کی مدت پانچ سال مقرر کی جائے جو پارٹی ہدایت کے برخلاف ووٹ ڈالیں۔
    پی بی سی نے جوڈیشل کمیشن کے ممبران میں تبدیلی کی تجویز دی ہے۔ ان کی رائے ہے کہ کمیشن میں شامل ہونے والے افراد میں چیف جسٹس متعلقہ ہائی کورٹ، صوبائی وزیر قانون، اور صوبائی بار کے نمائندے کو شامل کیا جائے۔ خاص طور پر یہ سفارش کی گئی ہے کہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کے معاملے میں ہائیکورٹ کے سینئر جج کو بطور ممبر شامل نہ کیا جائے، تاکہ تنازعہ کی صورت حال سے بچا جا سکے۔وفاقی حکومت کی مجوزہ آئینی ترامیم میں چیف جسٹس کے تقرر کے لیے تین سینئر ججز کے نام پر غور کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ پاکستان بار کونسل نے اس پر بھی اپنی رائے دی ہے کہ چیف جسٹس پاکستان اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے لیے علیحدہ علیحدہ تین سینئر ججز کے ناموں پر غور کیا جائے۔
    پاکستان بار کونسل کی تجویز میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے صدارتی آرڈر کے ذریعے تبدیلی کی شق کو حذف کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مزید برآں، اس عدالت کے سربراہ کے تقرر کی مدت تین سال جبکہ ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ہائیکورٹ میں جج کی تعیناتی کی عمر کی شرط 45 سال رکھنے کی بھی سفارش کی گئی ہے، جو نئے ججوں کی بھرتی کے عمل میں شفافیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔پی بی سی نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ ہائیکورٹ سے ایک کیس کو دوسری ہائیکورٹ میں منتقل کر سکے۔ یہ تجویز عدلیہ کی افادیت کو بڑھانے کے لیے اہم قرار دی گئی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ہائیکورٹ کے دباؤ کو کم کیا جا سکے گا۔
    بار کونسل نے آرٹیکل 215 سے متعلق مجوزہ ترمیم کو مسودے سے حذف کرنے کی بھی سفارش کی ہے، جسے وہ غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ ان تمام تجاویز کے پس منظر میں پاکستان بار کونسل کا مقصد عدلیہ کی اصلاحات کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو مزید موثر اور شفاف بنانا ہے۔یہ تجاویز ملک کے قانونی نظام میں بہتری لانے کے لیے ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہیں اور ان پر وفاقی حکومت کی جانب سے غور کیا جائے گا۔ بار کونسل کی یہ کوششیں عدلیہ کی خودمختاری اور عوامی اعتماد کی بحالی کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہیں، جو ملک کی جمہوریت کی مضبوطی میں معاون ثابت ہوں گی۔

  • وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی اہم ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی اہم ملاقات

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں قومی اور سیاسی امور پر اہم گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر اور صوبائی وزیر سندھ شرجیل انعام میمن شامل تھے، جبکہ وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور معاون خصوصی عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔اس ملاقات کے دوران ملک کے سیاسی منظرنامے اور مختلف اہم قومی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے گزشتہ روز منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا خصوصی ذکر کیا، جس کا مقصد ملک میں جمہوری استحکام اور آئینی بالادستی کو یقینی بنانا تھا۔ اس کانفرنس میں صدر مملکت آصف علی زرداری کے کردار کو سراہا گیا، جنہوں نے سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا کر قومی ہم آہنگی اور جمہوریت کے فروغ کے لیے قابل قدر اقدامات کیے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ جمہوری اداروں کی مضبوطی اور آئینی اقدار کی پاسداری ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے بہتر مستقبل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔
    ملاقات میں فلسطینی عوام کی حالتِ زار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار میں پیش پیش رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرتی ہے۔ اس ضمن میں فلسطینیوں کی امداد کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔شرکاء نے فلسطینی عوام کے حق میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کو خوش آئند قرار دیا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ پاکستان کی قومی پالیسی ہے کہ ہم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اسرائیلی ظلم و ستم کے شکار بے گناہ فلسطینیوں کی امداد کے لیے بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ پوری پاکستانی قوم فلسطینی عوام کی حمایت میں متحد ہے اور اسرائیلی ظلم و بربریت کی مذمت کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے اور عالمی فورمز پر ان کے حقوق کی بھرپور وکالت کی ہے۔ فلسطینی عوام کی مدد کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ ان کے مسائل کا حل نکالا جا سکے اور ان پر جاری ظلم و ستم کا خاتمہ ہو۔یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، اور قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

  • اڈیالہ جیل کے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کا پتا چل گیا، اینٹی کرپشن کے مقدمے میں تحقیقات جاری

    اڈیالہ جیل کے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کا پتا چل گیا، اینٹی کرپشن کے مقدمے میں تحقیقات جاری

    اڈیالہ جیل کے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم، جو گزشتہ دو ماہ سے لاپتہ تھے، کا پتا چل گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق محمد اکرم کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی تحویل میں رکھا گیا ہے اور ان پر رشوت لینے کا مقدمہ درج ہے۔ اس وقت وہ تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔محمد اکرم کے اہلخانہ نے اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں محمد اکرم کی موجودہ صورتحال اور عدالتی پیشیوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ تک نہیں بتایا گیا کہ محمد اکرم کو کس عدالت میں پیش کیا گیا۔ اہلخانہ کے مطابق انہیں اینٹی کرپشن کے مقدمے کا علم ہوا ہے، لیکن محمد اکرم کی بازیابی سے متعلق انہیں ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا۔
    اہلخانہ نے مزید بتایا کہ محمد اکرم کی بازیابی سے متعلق کیس لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ میں زیر سماعت ہے، اور آئی جی جیل خانہ جات بھی اس کیس کی سماعت میں پیش ہو چکے ہیں۔ عدالت نے 11 اکتوبر کو دوبارہ سماعت مقرر کی ہے، جس میں محمد اکرم کی بازیابی کے حوالے سے مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔ عدالت نے راولپنڈی پولیس سے محمد اکرم کی بازیابی سے متعلق پیشرفت رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔محمد اکرم کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ، "اگر محمد اکرم کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا گیا تھا، تو ہمیں آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔ ہمیں اب تک کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں اور اگر انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے، تو یہ بھی ہم سے چھپایا جا رہا ہے۔”
    محمد اکرم کے خلاف شیخوپورہ میں ایک مقدمہ درج ہے، جس کے مدعی ریاض قریشی نے ان پر 95 ہزار روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس الزام کی بنیاد پر اینٹی کرپشن حکام محمد اکرم سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ انہیں 10 اکتوبر کو سینیئر سول جج کریمنل ڈویژن خدا یار کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔محمد اکرم کا یہ کیس عوامی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جہاں ان کی گمشدگی اور بازیابی سے متعلق قانونی معاملات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • سپیکر پنجاب اسمبلی کا الیکشن کمیشن کو دوسرا خط: انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 کے فوری نفاذ کا مطالبہ

    سپیکر پنجاب اسمبلی کا الیکشن کمیشن کو دوسرا خط: انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 کے فوری نفاذ کا مطالبہ

    لاہور: اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔ منگل کے روز اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے ای سی پی کو دوسرا خط لکھا گیا، جس میں انہوں نے زور دیا کہ اس اہم قانون کی عمل درآمد میں مزید تاخیر جمہوریت اور عوامی خواہشات کے منافی ہے۔ملک احمد خان نے اپنے خط میں پارلیمانی بالادستی کو جمہوریت کا بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 پر فوری عملدرآمد نہ ہونا عوام کی مرضی اور جمہوری نظام کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کا احترام کرے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔
    سپیکر پنجاب اسمبلی نے خط میں مزید لکھا کہ انتخابات ایکٹ پر فوری عملدرآمد جمہوری نظام کی سالمیت کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے تقدس کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اس قانون کے نفاذ میں مزید تاخیر ناقابلِ قبول ہوگی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو یاد دلایا کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی عوامی مفاد میں ہوتی ہے اور اس کی بروقت عمل درآمد کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ملک احمد خان نے اپنے خط میں اس بات پر بھی زور دیا کہ پارلیمانی بالادستی جمہوری نظام کی کامیابی کا سنگِ بنیاد ہے اور انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 پر عملدرآمد کے حوالے سے تاخیر سے جمہوری نظام میں عوام کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی فیصلوں کو نظرانداز کرنا عوامی نمائندگی کی توہین ہے اور الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری کا ادراک کرنا چاہیے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ملک احمد خان اس سے قبل بھی الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھ چکے ہیں جس میں انہوں نے انتخابات ترمیمی ایکٹ کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم، تاحال الیکشن کمیشن کی جانب سے اس پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔
    انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 پاکستانی انتخابی نظام میں شفافیت اور اصلاحات لانے کے حوالے سے ایک اہم قانون ہے جسے پارلیمنٹ نے حال ہی میں منظور کیا ہے۔ اس ایکٹ کا مقصد انتخابی عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے تاکہ انتخابات کے نتائج عوامی امنگوں کے عین مطابق ہوں۔ملک احمد خان کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے مسلسل خطوط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ انتخابات ترمیمی ایکٹ 2024 کی فوری عمل درآمد کو جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔

  • بانی پی ٹی آئی سے وکلاء کی ملاقات نہ کرانے پر توہینِ عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    بانی پی ٹی آئی سے وکلاء کی ملاقات نہ کرانے پر توہینِ عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے اڈیالہ جیل میں وکلاء کی ملاقات نہ کرانے پر دائر کی گئی توہینِ عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر لی ہے۔ جسٹس ثمن رفعت امتیاز اس کیس کی سماعت کریں گی، جو کل بانی پی ٹی آئی کے وکیل انتظار پنجوتھہ کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر ہوگی۔درخواست میں سیکرٹری داخلہ اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ جیل حکام نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور ان کے وکلاء کے درمیان ملاقات کو روک دیا ہے، جو عدالتی حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔
    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سے قبل حکم دیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی ان کے وکلاء سے ہفتے میں دو دن ملاقات کرائی جائے۔ اس حکم کے تحت جیل حکام کو ایس او پیز کے مطابق آج ملاقات کرنے والے وکلاء کی فہرست بھی بھیجی گئی تھی، تاہم درخواست میں بتایا گیا ہے کہ جیل حکام نے آگاہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ فریقین کا یہ عمل عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اس کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جانی چاہیے۔ وکیل انتظار پنجوتھہ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے وکلاء کی ملاقات کے احکامات فوری طور پر جاری کیے جائیں تاکہ قانونی کاروائی جاری رکھی جا سکے۔یہ کیس بانی پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، کیوں کہ جیل حکام کی جانب سے ملاقات کی اجازت نہ دینے سے قانونی کارروائیوں میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔

  • اعظم سواتی کا مقدمات کی تفصیلات کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، اعظم سواتی، نے حالیہ دنوں میں اپنی قانونی حیثیت کو واضح کرنے اور مقدمات کی تفصیلات کے حصول کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ یہ درخواست، سید محمد علی بخاری ایڈوکیٹ کے ذریعے جمع کرائی گئی ہے، اور اس میں آئی جی پولیس، ڈی جی ایف آئی اے، ڈپٹی کمشنر، اور سیکرٹری داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں اعظم سواتی نے 5 اکتوبر کو تھانہ کوہسار میں درج ہونے والے ایک دہشت گردی کے مقدمے کا ذکر کیا۔ سواتی نے کہا کہ وہ اپنے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن احتجاج میں شریک تھے، جس کے بعد ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر کے ایف آئی آر کو سیل کر دیا گیا۔ سواتی کی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت آئی جی پولیس کو حکم دے کہ وہ ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کریں۔ اس کے علاوہ، درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے کو زیر التوا مقدمات اور ان کی تحقیقات کی تفصیل فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔
    اعظم سواتی نے مزید کہا کہ اگر ڈپٹی کمشنر کی جانب سے حراست میں لینے کا کوئی آرڈر جاری ہوا ہے تو وہ بھی عدالت کو فراہم کیا جائے۔ انہوں نے اپنے مؤقف میں کہا کہ یہ تمام معلومات ان کے قانونی حقوق کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں اور ان کا مطالبہ عوامی مفاد میں ہے۔یہ درخواست اس وقت سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی کے کارکنان اور رہنما حالیہ مہینوں میں بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ اور قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ سواتی کی اس قانونی کارروائی کے نتیجے میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس کے اثرات پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی اور کارکنوں کے مورال پر پڑیں گے۔حالیہ سیاسی صورتحال اور ملک میں جاری قانونی معاملات کے پیش نظر، سواتی کی یہ درخواست ایک اہم پیشرفت تصور کی جا رہی ہے، جو کہ نہ صرف ان کی ذاتی حیثیت بلکہ پی ٹی آئی کے مستقبل کے حوالے سے بھی کئی سوالات اٹھاتی ہے۔

  • وفاقی حکومت کے قرضوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

    وفاقی حکومت کے قرضوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

    اسلام آباد: پاکستان میں وفاقی حکومت کے قرضوں کا حجم ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 70 ہزار 362 ارب روپے پر پہنچ گیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگست 2024 تک وفاقی حکومت کے قرضوں کا ڈیٹا اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق ملک کی مالیاتی صورتحال میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
    دستاویز کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں وفاقی حکومت کا قرض 1448 ارب روپے بڑھ گیا۔ خاص طور پر، اگست کے مہینے میں مرکزی حکومت کے قرضے میں 739 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ ملکی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ستمبر 2023 سے اگست 2024 کے ایک سال کے دوران وفاقی حکومت کا قرضہ 6 ہزار 392 ارب روپے بڑھا۔ اس عرصے میں مجموعی طور پر قرضوں میں ہونے والا یہ اضافہ ملک کی اقتصادی استحکام کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔
    اگست 2024 تک وفاقی حکومت کا مقامی قرضہ 48 ہزار 339 ارب روپے تھا، جب کہ بیرونی قرضہ 22 ہزار 23 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملکی معیشت میں عدم توازن اور مالیاتی انحصار کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، جس سے عوامی خدمات میں کمی اور ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قرض کے بڑھتے ہوئے حجم کے ساتھ، معیشت میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ، حکومتی اخراجات میں اضافہ اور محصولات میں کمی کی صورت میں، عوام کو مزید مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال ملک کی معیشتی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔اس تمام صورتحال میں، وفاقی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے قرضے کے حجم کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی مستحکم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ یہ اقدامات عوامی خدمات کی بہتری اور ملک کی ترقی کے لیے نہایت اہم ہوں گے، تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔