Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • اسلام آباد پولیس کے پاس  خیبر پختونخوا  محکمہ ریسکیو کی 17 گاڑیاں موجود

    اسلام آباد پولیس کے پاس خیبر پختونخوا محکمہ ریسکیو کی 17 گاڑیاں موجود

    اسلام آباد پولیس نے حالیہ احتجاج کے دوران خیبر پختونخوا کے محکمہ ریسکیو کی 17 گاڑیوں کو قبضے میں لے لیا ہے۔ یہ گاڑیاں تحریک انصاف کے مظاہرین کے ساتھ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی حمایت میں رکاوٹیں ہٹانے کے لیے اسلام آباد لائی گئی تھیں۔ اس کارروائی کے دوران خیبر پختونخوا ریسکیو ڈپارٹمنٹ کے 64 اور خیبر پختونخوا پولیس کے 24 اہلکار بھی گرفتار کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق، ان گرفتار اہلکاروں کی کارروائیاں قانون کے دائرے میں تھیں، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ذرائع کے مطابق، قبضے میں لی گئی ریسکیو گاڑیوں میں 6 ایمبولینس، 7 فائر ٹینڈرز، 3 واٹر باؤزرز، اور ایک کرین شامل ہیں۔ یہ گاڑیاں اب کیس پراپرٹی بن گئی ہیں، جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا حکومت کے لیے یہ ناقابل استعمال ہو گئی ہیں۔
    ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا سے آئی مشینری اور عملے نے اسلام آباد پر چڑھائی کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مشینری مقدمات میں شامل ہے اور اسے بطور شواہد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل ریسکیو، ڈاکٹر ایاز نے اس صورت حال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی ایک ٹیم اسلام آباد میں مشینری اور اہلکاروں کی بازیابی کے لیے موجود ہے۔ ڈاکٹر ایاز نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ جلد ہی مشینری اور عملے کو واپس لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ سیاسی مظاہرے کس طرح عوامی خدمات کی فراہمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عملے کی حفاظت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کی پیشرفت اور قانونی کارروائیاں عوامی دلچسپی کا مرکز رہیں گی۔

  • چینی وزیراعظم لی کیانگ کے متوقع دورہ پاکستان کے دوران قرضوں کی ری پروفائلنگ کا معاہدہ

    چینی وزیراعظم لی کیانگ کے متوقع دورہ پاکستان کے دوران قرضوں کی ری پروفائلنگ کا معاہدہ

    اسلام آباد: چینی وزیراعظم لی کیانگ کے متوقع دورہ پاکستان کے دوران ایک اہم پیشرفت کے طور پر پاکستان اور چین کے درمیان قرضوں کی ری پروفائلنگ کے معاہدے پر دستخط ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ معاہدہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت بجلی کے منصوبوں کے قرضوں کی ری پروفائلنگ کے حوالے سے ہوگا، جس کا حجم تقریباً 15 ارب 40 کروڑ ڈالرز ہے۔پاکستان نے چینی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سی پیک کے تحت جاری بجلی منصوبوں کے قرضوں کی ری پروفائلنگ کی اجازت دے۔ اس ری پروفائلنگ کے نتیجے میں پاکستان کی مجموعی ادائیگی کا بوجھ 1 ارب 22 کروڑ ڈالرز تک بڑھ جائے گا۔ اس ادائیگی کی مدت میں 5 سال کی توسیع کی صورت میں، قرض کا حجم 15.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 16.62 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
    ذرائع نے مزید بتایا کہ اس معاہدے پر دستخط پاکستان کے پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ اور چینی کمپنیوں کے درمیان ہوں گے۔ اس ڈیٹ ری پروفائلنگ میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ چین کو تین سال تک ادائیگی نہ کی جائے۔پاکستانی حکومت نے اس معاہدے کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کی اجازت حاصل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔چینی وزیراعظم لی کیانگ کے دورے کا مقصد نہ صرف قرضوں کی ری پروفائلنگ بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا بھی ہے۔ اس دورے کے دوران دیگر اقتصادی معاہدوں پر بھی بات چیت کی جانے کی توقع ہے، جس سے پاکستان کو اپنے مالیاتی چیلنجز پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
    پاکستان کی معیشت حالیہ برسوں میں کئی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضے اور امداد اس کی اقتصادی پالیسی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ سی پیک کے تحت کئی منصوبے جاری ہیں، جو پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اہم ہیں۔ ان منصوبوں کی کامیابی اور مالی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے چینی حکومت کی حمایت اہمیت رکھتی ہے۔لی کیانگ کا دورہ اور قرضوں کی ری پروفائلنگ کے معاہدے کی تیاری دونوں ممالک کے درمیان گہرے اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے پاکستان کو اپنے مالی مسائل میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔

  • علی امین گنڈاپور کی 30 گھنٹوں کی گمشدگی پر لب کشائی

    علی امین گنڈاپور کی 30 گھنٹوں کی گمشدگی پر لب کشائی

    اسلام آباد میں پانچ اکتوبر کے احتجاج سے غائب ہونے اور 30 گھنٹوں تک منظر عام سے غائب رہنے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے تفصیلات بیان کر دیں۔ منگل کو صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس دوران پیش آنے والے واقعات اور اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا۔علی امین گنڈاپور نے بتایا کہ وہ اسلام آباد کے احتجاج کے بعد خیبرپختونخوا ہاؤس چلے گئے تھے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کریں، تاہم اس دوران پولیس نے خیبرپختونخوا ہاؤس پر چھاپہ مارا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ "میں نے کے پی ہاؤس میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ صورتحال کا جائزہ لے سکوں، مگر اچانک آئی جی نے کے پی ہاؤس پر دھاوا بولا، اور پولیس نے آنسو گیس اور فائرنگ شروع کر دی۔
    گنڈاپور نے مزید کہا کہ "میرے ایک ساتھی نے مجھے وہاں سے نکالا اور کے پی ہاؤس کے سامنے واقع ایک پکٹ میں پہنچا دیا۔ میں چار گھنٹے وہاں پکٹ میں بیٹھا رہا، میرے ساتھ میرا محافظ سمیع بھی تھا۔ اس دوران میرے گارڈ نے اطلاع دی کہ تمام گاڑیوں کے ٹائر پنکچر کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "کچھ گھنٹوں بعد، گاڑی کا انتظام کیا گیا اور مونال کی طرف بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ شدید بارش ہو رہی تھی، اور پولیس کی گاڑیاں ہر جگہ موجود تھیں۔ میں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پکٹ سے چھلانگ لگائی اور پیدل ہی چلنے لگا تاکہ پولیس کی نظر میں نہ آسکوں۔ نہ میرے پاس موبائل تھا، نہ ایک روپیہ، بس اللہ کی مدد پر بھروسہ تھا۔”

    وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ "میں نے ایک گاڑی کو روکنے کے لیے اس پر پتھر مارا، اور خوش قسمتی سے وہ وہی گاڑی تھی جس کا انتظام کیا گیا تھا۔ گاڑی کو میرا سی ایم ہاؤس کا ڈرائیور افتخار چلا رہا تھا، جبکہ میرے گارڈ عارف خٹک اور طارق موٹر سائیکل پر تھے۔ طارق گاڑی میں میرے ساتھ بیٹھ گیا اور ہم پشاور کی طرف روانہ ہو گئے۔انہوں نے گاڑی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "گاڑی کا نمبر ‘اے اے 4263’ تھا، جو کے پی ہاؤس اسلام آباد کی سرکاری گاڑی تھی، اور موٹر وے کے ایم ٹیگ کی رسید بھی موجود ہے۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ موٹر وے سے اترنے کے بعد انہوں نے ایک ضلع کے ڈی پی او کے گھر پناہ لینے کی کوشش کی، لیکن ڈی پی او کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے ڈی پی او سے رابطہ کیا اور اسے کہا کہ مجھے پشاور سی ایم ہاؤس جانا ہے، مگر اسے کہا کہ کسی کو اس کا علم نہ ہو۔ تاہم، اس نے کہا کہ وہ اس بات کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔”
    گنڈاپور نے مزید بتایا کہ "صبح جب میں نے دوبارہ اس ڈی پی او کو فون کیا تو اس نے کہا کہ میرے چھوٹے بچے ہیں، میرا نام مت لینا، ورنہ میری نوکری چلی جائے گی۔ یہ سن کر میں حیران ہوں کہ صوبے کا وزیر اعلیٰ جس کے وہ ماتحت ہے، وہ اس کے گھر آیا تو وہ ڈر رہا تھا کہ اس کی نوکری چلی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کارکنوں کی گرفتاریوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "جتنے کارکن گرفتار ہوئے ہیں، سب کو رہا کرایا جائے گا۔ یہ گرتی ہوئی دیوار ہے، جسے اگلا دھکا ہم دیں گے۔ عمران خان کے حکم کا انتظار ہے، اور اگر حکم ملا تو شہباز شریف کے بیڈروم تک پہنچ جائیں گے۔ آئی جی اسلام آباد کو ہٹایا نہ گیا تو ہم دوبارہ دھاوا بولیں گے کیونکہ اس نے ہمارے صوبے پر حملہ کیا ہے۔”انہوں نے کارکنوں کو متحرک رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے نعرہ لگایا "سادا حق ایتھے رکھ” اور کہا کہ "تیار رہو، ہم دوبارہ آرہے ہیں۔”

  • خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، ارکان میں تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ،تین افراد گرفتار

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، ارکان میں تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ،تین افراد گرفتار

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے باعث تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تحریک انصاف کے نیک محمد اور تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کے اقبال وزیر کے درمیان جھگڑا ہوا، دونوں ایم پی ایز کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے۔ اس لڑائی کے دوران ان کے حمایتی بھی شامل ہو گئے، جس کی وجہ سے ہنگامہ آرائی میں مزید اضافہ ہوا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے غیر متعلقہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار ہونے والے تین افراد ایم پی اے اقبال وزیر کے ساتھی بتائے جا رہے ہیں، جنہیں بعد ازاں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
    خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں آج شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جب شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو ایم پی ایز نیک محمد اور اقبال وزیر کے درمیان تلخ کلامی بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ دونوں نے اسمبلی فلور پر ایک دوسرے کے خلاف لاتوں اور مکوں کا آزادانہ استعمال کیا، جس کے بعد ماحول مچھلی منڈی بن گیا۔اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے سپیکر سے بات کرنے کا وقت مانگا، تاہم انہیں موقع نہ ملنے پر تلخی شروع ہو گئی۔ سپیکر نے اجلاس 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دیا، لیکن وقفے کے دوران دونوں ایم پی ایز میں گالم گلوچ اور ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ صورتحال مزید خراب اس وقت ہوئی جب ان کے حامی بھی گیلری سے نیچے آ کر لڑائی میں شامل ہو گئے۔
    ہنگامہ آرائی کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کو فوری طور پر طلب کیا گیا، جنہوں نے دونوں فریقین اور ان کے حامیوں کو اسمبلی سے باہر نکال کر حالات قابو میں کیے۔ اس وقت اسمبلی ہال کے داخلی دروازے پر سخت سیکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے، اور غیر متعلقہ افراد کو اسمبلی میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔سپیکر ابھی تک اپنے چیمبر میں موجود ہیں اور اجلاس کی کارروائی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ سیکیورٹی اہلکار مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کر رہے ہیں تاکہ اسمبلی کا ماحول معمول پر لایا جا سکے۔

  • عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تحریک کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان کے ساتھ روابط ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تمام شواہد کے سامنے آنے کے بعد حکومت نے پی ٹی ایم پر پابندی عائد کی، جو ملک کے مفادات کے خلاف سرگرم تھی۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی ایم کے ارکان نے پاکستان کے جھنڈے کو نذر آتش کیا اور بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں پر حملے کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی ایم کو بیرون ملک سے فنڈنگ کی جارہی تھی، اور ان کی کارروائیوں میں افغان باشندے بھی ملوث پائے گئے ہیں۔عطا تارڑ نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو پی ٹی ایم کے معاملات سے سبق لینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی نہیں تو پاکستان بھی نہیں۔ اسی دوران علی امین گنڈا پور کا بھی ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ گنڈا پور نے دعویٰ کیا کہ وہ بارہ اضلاع سے گزرتے ہوئے خیبرپختونخوا پہنچا۔
    انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی ایم کے کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان سے روابط کے تمام شواہد سامنے آچکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ اس تحریک پر پابندی لگائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی گروہ یا شخص کو ملک کے خلاف سازش کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اور ملکی مفادات کو نقصان پہنچانے والی ہر کارروائی کو روکا جائے گا۔عطا تارڑ نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ ملکی معیشت میں بہتری آرہی ہے اور پاکستان کو مستحکم کرنے کے لیے موجودہ حکومت سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی استحکام کے لیے قومی یکجہتی ضروری ہے اور جو بھی اس کے خلاف کارروائیاں کرے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ان کے ان بیانات نے سیاسی اور سیکیورٹی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں پی ٹی ایم پر پابندی اور اس کے کالعدم تنظیموں سے مبینہ روابط کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس بیان کے بعد پی ٹی ایم کی قیادت اور پی ٹی آئی دونوں کو چیلنج کا سامنا ہے کہ وہ ان الزامات کا کیا جواب دیں گے۔

  • پی ٹی آئی کا فوج سے کوئی لڑائی یا مخالف ایجنڈا نہیں،علی امین گنڈاپور

    پی ٹی آئی کا فوج سے کوئی لڑائی یا مخالف ایجنڈا نہیں،علی امین گنڈاپور

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ہماری فوج کے ساتھ نہ کوئی لڑائی ہے اور نہ ہی کوئی فوج مخالف ایجنڈا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ خیبرپختونخوا ہاؤس پر پولیس اور رینجرز کے دھاوے کے دوران وہاں موجود پارٹی کارکنوں اور اہلکاروں پر تشدد کیا گیا۔ علی امین گنڈاپور نے کہا، "کے پی ہاؤس میں موجود ہمارے کارکنوں پر غیر انسانی سلوک کیا گیا، حالانکہ ہم ہمیشہ پرامن احتجاج کے قائل رہے ہیں۔انہوں نے اپنی ممکنہ گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ میری گرفتاری وقار کے ساتھ نہیں ہوگی۔ لہٰذا، میں نے فیصلہ کیا کہ کے پی ہاؤس جا کر اپنے کارکنوں کے ساتھ مل کر احتجاج کے حوالے سے کوئی قدم اٹھایا جائے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ جب وہ کے پی ہاؤس سے نکلے تو ان کے پاس نہ کوئی موبائل تھا اور نہ ہی ایک روپیہ جیب میں تھا۔ یہاں تک کہ صوبے کے ایک ڈی پی او نے انہیں یقین دہانی کرانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں بحفاظت پشاور نہیں پہنچا سکیں گے۔
    وزیراعلیٰ نے مزید کہا، "میرے چھوٹے بچے ہیں، اور یہ کہنا کہ کوئی میرے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتا، یہ اس نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔” انہوں نے اس موقع پر ان لوگوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے بقول ملک کے فیصلے کر رہے ہیں۔ "جو لوگ اس ملک کے فیصلے کر رہے ہیں، انہیں اس ملک کی بہتری کا کوئی خیال نہیں ہے۔”اپنے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے گرفتار پارٹی کارکنوں کی رہائی کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ "ہمارے جتنے بھی کارکن گرفتار ہیں، ہم انہیں رہا کرائیں گے۔ جو لوگ نظریے کے ساتھ مخلص نہیں ہیں، اللّٰہ انہیں غرق کرے۔ قوم کو کسی کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔”
    انہوں نے فرعون کے انجام کی مثال دیتے ہوئے کہا، "فرعون بھی یہ سمجھتا تھا کہ وہ ہی طاقتور ہے، مگر ہم جانتے ہیں کہ ایسے طاقتوروں کا کیا انجام ہوتا ہے۔” علی امین گنڈاپور نے اپنے خطاب کے دوران حکومت کی جانب سے جلسوں کے لیے مختص کی جانے والی جگہوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں جلسوں کے لیے ایسی جگہیں دی گئیں جیسے کہ وہ جانور ہوں۔ "پہلے ہمیں سنگجانی کی مویشی منڈی میں جگہ دی گئی، اور بعد میں کاہنہ کی مویشی منڈی میں۔ یہ رویہ ہمارے ساتھ مناسب نہیں ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ ان کی جماعت پرامن احتجاج کے حق میں ہے، لیکن انہیں جلسے کے لیے مناسب اور قابل احترام مقامات دیے جانے چاہئیں تاکہ وہ عوام تک اپنی آواز پہنچا سکیں۔

  • این ڈی ایم اے کا بحیرہ عرب میں ممکنہ طوفانی صورتحال کا الرٹ

    این ڈی ایم اے کا بحیرہ عرب میں ممکنہ طوفانی صورتحال کا الرٹ

    اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بحیرہ عرب میں پیدا ہونے والی ممکنہ طوفانی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا ہے، جس میں ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد اور متعلقہ حکام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق، بحیرہ عرب میں موجودہ موسمی سسٹم تیزی سے تبدیل ہو کر ایک بڑے ساحلی طوفان کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ یہ سسٹم اس وقت لکشدیپ وادی انڈیا کے قریب ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ یہ طوفان بھارت کے شمال مغربی علاقوں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اگر یہ طوفان مزید شدت اختیار کرتا ہے تو یہ پاکستان کے ساحلی علاقوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
    این ڈی ایم اے کے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ موسمی سسٹم اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں پاکستان کی ساحلی پٹی سے ٹکرا سکتا ہے۔ پاکستان کے ساحلی علاقے، بالخصوص کراچی، ٹھٹھہ، بدین، اور بلوچستان کے مکران کے ساحلی علاقوں کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ طوفان کے نتیجے میں تیز ہوائیں، شدید بارشیں اور ساحلی علاقوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، جس سے رہائشی اور زرعی زمینیں زیر آب آسکتی ہیں۔
    این ڈی ایم اے نے ساحلی علاقوں کی ضلعی انتظامیہ، فشریز ڈیپارٹمنٹ، اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ فوری طور پر حفاظتی اقدامات کریں اور عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے تیاریاں کریں۔ ماہی گیروں کو خصوصی طور پر تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ سمندر میں جانے سے گریز کریں اور اپنی کشتیوں کو محفوظ مقامات پر رکھیں۔این ڈی ایم اے نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر حکام کے ساتھ رابطہ کریں۔ ساتھ ہی انہیں تاکید کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔پاکستان کی ساحلی پٹیوں پر طوفانی حالات کے پیش نظر این ڈی ایم اے نے پہلے سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں اور عوام کو بھی فوری طور پر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب ، اہم معاملات زیر غور

    وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب ، اہم معاملات زیر غور

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس کل صبح ساڑھے 11 بجے طلب کر لیا ہے۔ یہ اجلاس ملک کی حالیہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ کابینہ کے اس اجلاس کو اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف کے امریکہ کے حالیہ دورے کے بعد یہ پہلا اجلاس ہوگا۔ذرائع کے مطابق، اجلاس کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی آئندہ کانفرنس کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستان کی جانب سے اس کانفرنس میں شرکت کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ملک کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کو مؤثر بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف حال ہی میں امریکہ کے دورے سے واپس آئے ہیں، جہاں انہوں نے اہم بین الاقوامی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دورے کے دوران پاکستان کو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز کے حل پر بھی گفتگو ہوئی، جن پر کابینہ کے اجلاس میں مزید بات چیت کی جائے گی۔اس اجلاس میں ملک کی داخلی سیاسی صورتحال پر بھی بات کی جائے گی، جہاں حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ ملک میں جاری مہنگائی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، اور معاشی بحران جیسے مسائل کابینہ کے اجلاس کے اہم ایجنڈے میں شامل ہوں گے۔اس کے علاوہ، حکومت کی جانب سے مختلف اہم معاشی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے حکمت عملی پر بھی بات چیت متوقع ہے، تاکہ ملک کو معاشی استحکام کی جانب لے جانے کے اقدامات پر غور کیا جا سکے۔

  • پی آئی اے کے طیاروں کی فنی خرابیوں کے باعث سی اے اے کا مکمل انکوائری کا فیصلہ

    پی آئی اے کے طیاروں کی فنی خرابیوں کے باعث سی اے اے کا مکمل انکوائری کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے طیاروں میں حالیہ دنوں میں بار بار پیش آنے والی فنی خرابیوں کی وجہ سے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے وزارت ہوابازی کی ہدایت پر طیاروں کے فلائٹ سیفٹی اور ایروردینیس کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مستقبل میں ممکنہ حادثات اور فنی مسائل سے بچنا ہے۔ذرائع کے مطابق، سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل نے پی آئی اے کے تمام طیاروں کا فلائٹ سیفٹی چیک کرنے اور ان کے ایروردینیس ہونے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں، سی اے اے کا شعبہ ایروردینیس تحقیقات کرکے اس کی رپورٹ جلد ہی ڈائریکٹر جنرل کو پیش کرے گا۔
    سی اے اے نے مزید یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ پی آئی اے کے بعد نجی ایئرلائنز کے طیاروں کی جانچ بھی کی جائے گی۔ یہ اقدام حالیہ دنوں میں پی آئی اے کے طیاروں میں خرابیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات کے بعد اٹھایا گیا ہے، جن کی وجہ سے مسافروں کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
    اس کے علاوہ، پی آئی اے سمیت تمام ایئرلائنز کے طیاروں کی پروازیں اکثر فنی خرابیوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوتی ہیں، جس سے مسافروں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ صورتحال ایئر لائن کے معیارات اور مسافروں کے اعتماد پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔حکومت کے اس اقدام کا مقصد فضائی سفر کو محفوظ بنانا اور مسافروں کی سہولت کو یقینی بنانا ہے۔ سی اے اے کے اس فیصلے کے بعد عوام کی توقع ہے کہ جلد ہی ایئر لائنز کی جانب سے فنی مسائل کی روک تھام کے لیے بہتر اقدامات کیے جائیں گے۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں پی آئی اے کے طیاروں میں پیش آنے والی خرابیوں کے باعث عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ایئر لائن کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ اس حوالے سے عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر فضائی سفر کے معیارات کو بہتر بنائے تاکہ مسافروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

  • علی امین گنڈاپور نے مولا جٹ کا کردار ادا کیا،خواجہ آصف

    علی امین گنڈاپور نے مولا جٹ کا کردار ادا کیا،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ بیان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی امین گنڈاپور کی قیادت پر شدید تنقید کی ہے، جس میں انہیں مولا جٹ کے کردار میں تشبیہ دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان علی امین گنڈاپور کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کریں گے کیونکہ وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں گنڈاپور ان کے لیے ایک طاقتور مہرہ بن سکتے ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حالیہ پی ٹی آئی کے احتجاج میں ڈی چوک تک پہنچنے والے لوگوں کی تعداد بہت کم تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب علی امین گنڈاپور احتجاج کے دوران بھاگ گئے تو اس سے کارکنوں کے حوصلے اور بھی پست ہوگئے۔
    وزیر دفاع نے کہا کہ ان واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی ایک خطرہ نہیں رہی۔ علی امین گنڈاپور کے بھاگ جانے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنان ان پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کے حوصلے ٹوٹ چکے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا، "ہمارے لیے پی ٹی آئی کے خطرہ ہونے کا تاثر زائل ہوگیا ہے۔
    وزیر دفاع نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران ڈی چوک پہنچنے والے لوگ زیادہ تر اسلام آباد کے رہائشی تھے۔ علی امین گنڈاپور، جو خیبرپختونخوا کے رہنما ہیں، نے احتجاج کے دوران خیبرپختونخوا کی حدود میں داخل ہونے کے بعد ہری پور جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں رات عمر ایوب کے گھر پر گزاری۔خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پہلے دن سے ہی کہا تھا کہ پی ٹی آئی کا یہ احتجاج غیر سنجیدہ ہے، اور اس میں پارٹی کا کوئی بھی اہم لیڈر شامل نہیں ہوا۔ انہوں نے خاص طور پر فلسطین کے معاملے پر بلائی گئی کانفرنس کا ذکر کیا، جس میں پی ٹی آئی نے بائیکاٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بائیکاٹ اس لیے کیا گیا تاکہ وہ ان لوگوں کو ناراض نہ کریں جن کے ساتھ ان کے روابط ہیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس بیان نے پی ٹی آئی کی قیادت اور ان کے احتجاجی ایجنڈے پر سوالات اٹھائے ہیں، اور سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث کا آغاز کیا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پی ٹی آئی اس صورتحال کا کیسے جواب دیتی ہے اور آیا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پارٹی کے اندرونی اختلافات بڑھیں گے یا کم ہوں گے۔