Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • علی امین گنڈاپور نے مولا جٹ کا کردار ادا کیا،خواجہ آصف

    علی امین گنڈاپور نے مولا جٹ کا کردار ادا کیا،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ بیان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی امین گنڈاپور کی قیادت پر شدید تنقید کی ہے، جس میں انہیں مولا جٹ کے کردار میں تشبیہ دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان علی امین گنڈاپور کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کریں گے کیونکہ وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں گنڈاپور ان کے لیے ایک طاقتور مہرہ بن سکتے ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حالیہ پی ٹی آئی کے احتجاج میں ڈی چوک تک پہنچنے والے لوگوں کی تعداد بہت کم تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب علی امین گنڈاپور احتجاج کے دوران بھاگ گئے تو اس سے کارکنوں کے حوصلے اور بھی پست ہوگئے۔
    وزیر دفاع نے کہا کہ ان واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی ایک خطرہ نہیں رہی۔ علی امین گنڈاپور کے بھاگ جانے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنان ان پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کے حوصلے ٹوٹ چکے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا، "ہمارے لیے پی ٹی آئی کے خطرہ ہونے کا تاثر زائل ہوگیا ہے۔
    وزیر دفاع نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران ڈی چوک پہنچنے والے لوگ زیادہ تر اسلام آباد کے رہائشی تھے۔ علی امین گنڈاپور، جو خیبرپختونخوا کے رہنما ہیں، نے احتجاج کے دوران خیبرپختونخوا کی حدود میں داخل ہونے کے بعد ہری پور جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں رات عمر ایوب کے گھر پر گزاری۔خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پہلے دن سے ہی کہا تھا کہ پی ٹی آئی کا یہ احتجاج غیر سنجیدہ ہے، اور اس میں پارٹی کا کوئی بھی اہم لیڈر شامل نہیں ہوا۔ انہوں نے خاص طور پر فلسطین کے معاملے پر بلائی گئی کانفرنس کا ذکر کیا، جس میں پی ٹی آئی نے بائیکاٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بائیکاٹ اس لیے کیا گیا تاکہ وہ ان لوگوں کو ناراض نہ کریں جن کے ساتھ ان کے روابط ہیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس بیان نے پی ٹی آئی کی قیادت اور ان کے احتجاجی ایجنڈے پر سوالات اٹھائے ہیں، اور سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث کا آغاز کیا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پی ٹی آئی اس صورتحال کا کیسے جواب دیتی ہے اور آیا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پارٹی کے اندرونی اختلافات بڑھیں گے یا کم ہوں گے۔

  • بیرسٹر  سیف کا علی امین گنڈاپور کی گمشدگی پر رؤف حسن کو جواب

    بیرسٹر سیف کا علی امین گنڈاپور کی گمشدگی پر رؤف حسن کو جواب

    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے سابق پارٹی ترجمان رؤف حسن کو جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی پراسرار گمشدگی کے معاملے پر اپنی وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہدایات کے مطابق احتجاج ریکارڈ کروانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ علی امین گنڈاپور نے کسی قسم کی ڈیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "در حقیقت، وہ لوگ جو ڈیل کر رہے ہیں، وہ فارم 47 کے تحت اقتدار میں ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "حالات کے مطابق حکمت عملی تبدیل ہوتی ہے، اور اگر ریاستی جبر کا استعمال ہو رہا ہے تو کیا کسی نے رؤف حسن کو فون کرنا تھا؟”
    بیرسٹر سیف نے اس بات پر زور دیا کہ اگر علی امین گنڈاپور کے خلاف وارنٹ ہوتے، تو وہ خود سرینڈر کر دیتے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "جب رینجرز چلی گئی، تو وہ باہر نکلے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے صرف ڈی چوک پر احتجاج کرنے کا کہا تھا، دھرنے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام سینیٹرز اور اراکین اسمبلی کو ہدایت کی گئی تھی کہ علی امین گنڈاپور احتجاج میں شرکت نہ کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ "جب علی امین خیبر پختونخوا ہاؤس میں مشاورت کر رہے تھے، تب ان پر حملہ ہوا، اور اس دوران وزیراعلیٰ کا فون وہیں رہ گیا۔” بیرسٹر سیف نے بتایا کہ "ہم نے اس معاملے میں ان لوگوں سے رابطہ کیا جن کے بارے میں ہمیں معلوم تھا، تو جواب ملا کہ علی امین گنڈاپور ہماری کسٹڈی میں نہیں ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ضمانت پر تھے، لہذا ان کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں تھا۔یہ وضاحتیں اس وقت سامنے آئیں جب رؤف حسن نے علی امین گنڈاپور کی گمشدگی پر سوالات اٹھائے تھے، جس کے بعد مشیر اطلاعات نے اس معاملے کی وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ ان کا یہ بیان موجودہ سیاسی حالات میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

  • موجودہ حکومت ایک مجبوری کا اتحاد ہے،  گورنر پنجاب

    موجودہ حکومت ایک مجبوری کا اتحاد ہے، گورنر پنجاب

    رحمان پورہ میں ایک تقریب کے دوران گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت، جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہیں، دراصل محبت کا نہیں بلکہ مجبوری کا اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا، "ملک اس وقت کسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا،” اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ استحکام اور مؤثر حکومت کی ضرورت ہے۔گورنر خان نے صوبے کی بہتری کے لیے اولین ترجیح دینے پر زور دیا اور کہا کہ انتظامیہ کو اسلامی اصولوں کے مطابق میرٹ پر چلنا چاہیے۔ انہوں نے بدعنوانی کے خلاف سخت زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کیا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اخلاقی حکمرانی عوام کا اعتماد بحال کرنے اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔
    گورنر نے اتحادی حکومت کے چیلنجز کا ذکر کیا اور کہا کہ اگرچہ وہ اتحاد کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر پیپلز پارٹی کو اس کے نتیجے میں سیاسی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ملک کی عزت و وقار کے لیے اکھٹے ہوں، حالانکہ وہ اپنے احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ "ہمیں اتحاد کو چلانا ہے، لیکن اس کی سیاسی مضمرات کا خیال رکھنا چاہیے، خاص طور پر پیپلز پارٹی کے لیے ہے،سردار سلیم حیدر خان نے پاکستان کی سلامتی پر اثر انداز ہونے والے خارجی عوامل پر بھی روشنی ڈالی، خاص طور پر چینی صدر کے دورے کے حوالے سے، جو انہوں نے اس وقت میں اہم قرار دیا جب بین الاقوامی رہنما پاکستان آنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ انہوں نے بیرونی سازشوں، دہشت گردی، اور قانون و نظم کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کیا، اور ان مسائل کا تعلق ناقص حکمرانی سے جوڑا۔
    گورنر نے ایک زیادہ خوش امید لہجے میں کہا کہ چیزیں بہتری کی طرف بڑھ رہی ہیں، مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا ذکر کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کامیاب شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کانفرنس سے بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں سے درخواست کی کہ وہ عوامی بھلائی کے لیے اپنے ذاتی ایجنڈے کو چھوڑ دیں، کہا، "خدا کے لیے، تھوڑی دیر کے لیے سیاست کو چھوڑ دیں اور غریبوں کو ریلیف دینے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں۔سابق وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کے لیے ایک واضح پیغام دیتے ہوئے، گورنر خان نے انہیں ہٹ دھرمی چھوڑنے کی اپیل کی، کہا کہ "اگر انہوں نے منفی سیاست نہ چھوڑی تو پھر پی ٹی آئی تباہ ہو جائے گی۔ عقل کا استعمال کریں، یہ ملک کے لیے اور ان کے لیے بھی بہتر ہوگا۔”یہ تقریر گورنر کے پنجاب اور پاکستان کے درپیش مسائل کے حل کے لیے عزم کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ اس نے مشکل وقت میں سیاسی جماعتوں کے درمیان یکجہتی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

  • علی امین گنڈاپور کی سیاست کا مستقبل خطرے میں ہے،سینیٹر واوڈا

    علی امین گنڈاپور کی سیاست کا مستقبل خطرے میں ہے،سینیٹر واوڈا

    سینیٹر فیصل واوڈا، نے حالیہ ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس بات کی خواہش رکھتی ہے کہ پارٹی کے بانی، عمران خان، جیل میں رہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پارٹی کی اندرونی سیاسی کشیدگی اور عوامی احتجاجات کا موضوع زیر بحث آیا۔
    فیصل واوڈا نے پروگرام کے دوران خیبرپختونخوا کے عوام کی مشکلات پر روشنی ڈالی، کہا کہ نوکری پیشہ افراد کو بے رحمی سے کام پر لگا دیا جاتا ہے، اور پھر قیادت خود کسی ذمہ داری کے بغیر ان کو چھوڑ دیتی ہے۔ انہوں نے علی امین گنڈاپور کے حوالے سے کہا کہ عوام نے ان کی ڈرامہ بازی کو سمجھ لیا ہے اور باقی لیڈران بھی بند کمروں میں بیٹھ کر دعوے کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سیاسی کھیل ان لوگوں کے لیے مضحکہ خیز ہے جو صرف ویڈیو بنانے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔
    سینیٹر واوڈا نے کہا کہ "خیبرپختونخوا سے آئے ہوئے لوگ بھی اپنے ہی پاکستانی ہیں” اور انہوں نے یہ بات کہی کہ پی ٹی آئی کی سیاست اب ایم کیو ایم لندن کی طرح ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کوئی قانون ہاتھ میں لے گا تو حکومت اس کے خلاف سختی سے کارروائی کرے گی۔سینیٹر نے پی ٹی آئی کے حالیہ احتجاج کا ذکر کیا، جسے انہوں نے "مچھر کے برابر” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "جب آدمی بھگوڑا ہوتا ہے تو وہ کسی ہاؤس میں نہیں ہوتا۔” واوڈا نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے پورے دن یہ پروپیگنڈا چلایا کہ گنڈاپور کو ادارے لے گئے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کے عہدیداران کی باتوں کی کوئی حقیقت نہیں بچی۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے پوری سرکاری مشینری کو پی ٹی آئی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا، اور یہ "بچوں والی باتیں” ہیں۔ انہوں نے مولا جٹ والی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ انتہائی غیر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے علی امین گنڈاپور کو نصیحت کی کہ وہ اپنی اصلاح کریں، بصورت دیگر وقت ختم ہونے والا ہے۔ واوڈا کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور پارٹی کی قیادت کے فیصلے ان کے مستقبل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی صورتحال میں دراڑیں اور اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں، جو آنے والے دنوں میں ملک کی سیاسی سمت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

  • اٹک:اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے خلاف مقدمہ درج

    اٹک:اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے خلاف مقدمہ درج

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے اٹک تھانے میں سابق وزیراعظم عمران خان سمیت متعدد کارکنان اور رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ ایف آئی آر تھانہ کے ایس ایچ او سجاد حیدر کی مدعیت میں درج کی گئی ہے، جس میں پارٹی کے بانی عمران خان، علیمہ خان، اور عظمی خان سمیت 53 رہنما اور تقریباً 4 ہزار نامعلوم کارکنان نامزد کیے گئے ہیں۔ایف آئی آر میں نامزد دیگر ملزمان میں زین قریشی، شوکت بسرا، شیخ وقاص اکرم، عمر ایوب، نعیم حیدر پنجوتھہ، صنم جاوید، اور سلمان اکرم راجہ شامل ہیں۔ یہ ملزمان احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف ہنگامہ آرائی اور تشدد کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔مقدمے میں دہشت گردی سمیت 22 مختلف دفعات لگائی گئی ہیں۔ یہ مقدمہ موٹروے ایم ون پر کٹی پہاڑی پتھرگڑھ کے مقام پر ہونے والے احتجاج کے دوران درج ہوا ہے، جہاں مظاہرین نے پولیس پر ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کیا۔ ایف آئی آر کے مطابق، اس تشدد کے نتیجے میں 3 ڈی ایس پیز سمیت 56 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
    احتجاج کی یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب پی ٹی آئی کارکنان اور رہنما حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ یہ مظاہرہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف جاری تھا، جس نے پولیس کے ساتھ جھڑپوں کی صورت اختیار کر لی۔ ایف آئی آر میں موجود تفصیلات کے مطابق، پولیس اہلکاروں پر حملے کی شدت نے صورت حال کو مزید بگاڑ دیا، جس کے بعد قانونی کارروائی کی گئی۔اس واقعے کے بعد حکومت اور انتظامیہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس کے علاوہ، پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ ممکنہ مزید تشدد کو روکنے کے لئے سیکیورٹی کے انتظامات بھی سخت کر دیے گئے ہیں۔یہ مقدمہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتا ہے، جو ملک کی سیاسی صورتحال پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے یہ معاملہ آگے بڑھے گا، عوام اور سیاسی جماعتوں کی نظریں اس پر مرکوز رہیں گی۔

  • وزیراعظم کا چینی سفیر سے ملاقات، کراچی دہشتگرد حملے پر اظہار افسوس

    وزیراعظم کا چینی سفیر سے ملاقات، کراچی دہشتگرد حملے پر اظہار افسوس

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں واقع چینی سفارت خانے کا دورہ کیا اور وہاں پاکستان میں تعینات چینی سفیر عزت مآب جیانگ زیڈانگ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں انہوں نے کراچی میں چینی قافلے پر ہونے والے دہشتگرد حملے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے دہشتگردی کے اس واقعے میں چینی شہریوں کے جاں بحق ہونے پر نہایت رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے اس گھناؤنے فعل کی مذمت کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت پاکستان دہشتگردی کے اس واقعے کے ذمہ داران کو جلد از جلد گرفتار کرنے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی اور دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان اپنے ملک میں موجود چینی باشندوں کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور ان کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان قائم مضبوط دوستی اور تعلقات کو کمزور کرنے کی یہ کوشش ایک ناکام سازش ہے اور اسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ "یہ حملہ ہمارے تعلقات کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے، لیکن ہم ہر حال میں اس کی تحقیقات کریں گے اور اس کی نگرانی میں خود کروں گا،” وزیراعظم نے کہا۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر غیر ملکی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے احکامات بھی جاری کیے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں موجود ہر غیر ملکی کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ سیکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر بنائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔چینی سفیر جیانگ زیڈانگ نے اس دہشتگردی کے واقعے کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے فوری ردعمل اور بروقت تحقیقات کے آغاز پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کو پاکستان کی حکومت پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ اس معاملے کی مؤثر تحقیقات کرے گی، ذمہ دار دہشتگردوں کی فوری شناخت کرے گی اور انہیں جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچائے گی۔چینی سفیر نے کہا، "ہمیں یقین ہے کہ پاکستان حکومت اس واقعے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گی اور انہیں سخت سزائیں دی جائیں گی۔” انہوں نے اس موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان دوستانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دہشتگردی کی کارروائیاں ہمارے مضبوط رشتے کو متاثر نہیں کر سکتیں۔
    ملاقات میں وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، اور دیگر اعلیٰ حکومتی افسران بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات، سیکیورٹی مسائل، اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی۔اس ملاقات نے پاکستان اور چین کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید تقویت بخشی اور دونوں ممالک کی قیادت نے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • پی ٹی آئی کارکنان کے خطرناک انکشافات: 9 مئی کے واقعات کو دہرانے کی مبینہ منصوبہ بندی

    پی ٹی آئی کارکنان کے خطرناک انکشافات: 9 مئی کے واقعات کو دہرانے کی مبینہ منصوبہ بندی

    پی ٹی آئی کارکنان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ویڈیو میں کارکنان کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسے اور اس کے دوستوں کو پٹرول بم دیے گئے تھے اور انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ ڈی چوک میں ہر چیز کو آگ لگا دیں۔ اس کے مطابق، وہ جلسے میں اپنے دوستوں کے ساتھ آیا تھا اور اسے جلسے کی معلومات نہیں تھیں۔ کارکنان مزید بتاتا ہے کہ ملک کو کسی غلط کام کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے اور ایسے عمل کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان لرکوں کے ہاتھوں میں پتول کی بوتل اور بم ہے ،
    pti confes

    اس انکشاف میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے کارکنان کو 9 مئی کے واقعات کو دہرانے کی ہدایت کی تھی، اور ویڈیو میں مذکورہ شخص کا بیان اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ پی ٹی آئی مشکل حالات میں کارکنان سے خطرناک اقدامات کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔یہ انکشاف اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ کارکنان کو مبینہ طور پر تشدد پر اکسانے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی تھی۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب اور پرتگالی سفیر کی ملاقات: سرمایہ کاری و تعلقات پر گفتگو

    وزیراعلیٰ پنجاب اور پرتگالی سفیر کی ملاقات: سرمایہ کاری و تعلقات پر گفتگو

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے پرتگال کے سفیر مینوئل فریڈریکو پنہیرو ڈا سلوا کی ملاقات اہم پیش رفت ثابت ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے مابین معاشی اور سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ ملاقات کے دوران پنجاب میں بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے مراعاتی پیکیج کو از سر نو ڈیزائن کرنے پر اتفاق ہوا تاکہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو صوبے میں لایا جا سکے۔ملاقات میں پرتگالی تجربات سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا اور مختلف شعبوں جیسے تعلیم، صحت، آئی ٹی، زراعت اور سیاحت کے فروغ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس ضمن میں دونوں ممالک نے مشترکہ تجارتی ٹیمیں تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا تاکہ باہمی تعلقات کو عملی جامہ پہنایا جا سکے اور دونوں ممالک کے تجارتی حجم کو بڑھایا جا سکے۔
    وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں سرمایہ کاری کے لیے موجود سازگار ماحول پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پرتگال کے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پرتگال کے ساتھ سفارتی تعلقات کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے اور ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پائیدار اور مؤثر پلان ترتیب دینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔پرتگال کے اعزازی قونصل افتخار فیروز، چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان، ایڈیشنل سیکرٹری سارہ حیات اور دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید گہرائی دینے اور معاشی استحکام کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

  • پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق

    پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق

    اسلام آباد: پاکستان اور روس نے دوطرفہ دفاعی اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق روسی فیڈریشن کے سفیر البرٹ پی خوریف اور پاکستان کے وزیر دفاع و دفاعی پیداوار خواجہ محمد آصف کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی، جس میں دفاع، تجارت، توانائی، اور عوامی روابط پر خصوصی توجہ دی گئی۔ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان علاقائی امن و سلامتی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ دفاع، تجارت، توانائی اور عوامی رابطوں میں طویل المدتی اور کثیرالجہتی شراکت داری قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔خواجہ آصف نے روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تعاون کو مزید فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس عالمی اور علاقائی سطح پر مشترکہ مفادات رکھتے ہیں، اور ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مزید بات چیت ضروری ہے۔
    اس موقع پر روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعاون سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ روس ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دفاعی اور اقتصادی شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور اس سے خطے میں استحکام پیدا ہوگا۔ خواجہ آصف نے روس کے ساتھ توانائی اور دفاع کے شعبوں میں مزید معاہدوں کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ ان شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
    پاکستان اور روس کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک عالمی سطح پر باہمی تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان مزید اعلیٰ سطحی دورے اور معاہدے متوقع ہیں، جس سے دوطرفہ تعلقات میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو خطے میں استحکام اور ترقی کے لیے مثبت اثرات مرتب کرے گا۔

  • وزیر داخلہ کی چینی سفیر سے ملاقات، کراچی دھماکے پر افسوس اور تحقیقات میں پیش رفت پر بریفنگ

    وزیر داخلہ کی چینی سفیر سے ملاقات، کراچی دھماکے پر افسوس اور تحقیقات میں پیش رفت پر بریفنگ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے چینی سفارت خانے میں چین کے سفیر جیانگ ژی ڈونگ سے ملاقات کی جس میں کراچی دھماکے کی تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات کراچی میں گزشتہ رات ہونے والے دھماکے کے تناظر میں ہوئی، جس میں دو چینی شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔ ملاقات کے دوران محسن نقوی نے چینی شہریوں کی ہلاکت پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور چینی سفیر کے ساتھ ساتھ چین کی حکومت اور جاں بحق ہونے والے شہریوں کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔محسن نقوی نے چینی سفیر کو کراچی دھماکے کی تمام تفصیلات فراہم کیں اور تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس افسوسناک واقعے پر نہ صرف دکھ میں شریک ہے بلکہ دُکھ کی اس گھڑی میں اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیر داخلہ نے یقین دلایا کہ حکومت پاکستان واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے گی اور اس سانحے میں ملوث تمام عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
    وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملاقات کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان موجود تاریخی دوستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکہ پاکستان چین دوستی پر حملہ ہے، جو کسی بھی صورت ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کا مقصد دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے، لیکن دشمن اس سازش میں کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چینی شہریوں کی حفاظت پاکستانی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حملے میں ملوث عناصر کو سخت سزا دی جائے گی۔محسن نقوی نے کہا کہ پاکستانی قوم اس سانحے پر چین کے ساتھ ہے اور چینی شہریوں پر حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ دشمن نے نہ صرف چینی شہریوں بلکہ پاکستان پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تاکید کی کہ پاکستان کی ترقی میں حصہ لینے والے چینی شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور ان کی حفاظت کو ہر ممکن طور پر یقینی بنایا جائے گا۔
    ملاقات کے دوران چینی سفیر جیانگ ژی ڈونگ نے پاکستانی حکومت کے فوری ردعمل اور تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا۔ چینی سفیر نے کہا کہ چین کو یقین ہے کہ پاکستان کی حکومت اس سانحے میں ملوث عناصر کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے گی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ملاقات کے بعد، محسن نقوی نے چینی سفارت خانے میں موجود تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے اور جاں بحق ہونے والے چینی شہریوں کے خاندانوں سے گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اس سانحے کو کبھی نہیں بھولے گا اور چینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی جاری رکھے گا۔
    کراچی دھماکے میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر پاکستانی حکومت اور عوام کے دل شدید غمگین ہیں اور چین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے تحقیقات میں پیش رفت کا وعدہ کیا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے کہ اس دہشتگردی کے پیچھے چھپے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔