Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق

    پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق

    اسلام آباد: پاکستان اور روس نے دوطرفہ دفاعی اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق روسی فیڈریشن کے سفیر البرٹ پی خوریف اور پاکستان کے وزیر دفاع و دفاعی پیداوار خواجہ محمد آصف کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی، جس میں دفاع، تجارت، توانائی، اور عوامی روابط پر خصوصی توجہ دی گئی۔ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان علاقائی امن و سلامتی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ دفاع، تجارت، توانائی اور عوامی رابطوں میں طویل المدتی اور کثیرالجہتی شراکت داری قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔خواجہ آصف نے روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تعاون کو مزید فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس عالمی اور علاقائی سطح پر مشترکہ مفادات رکھتے ہیں، اور ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مزید بات چیت ضروری ہے۔
    اس موقع پر روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعاون سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ روس ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دفاعی اور اقتصادی شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور اس سے خطے میں استحکام پیدا ہوگا۔ خواجہ آصف نے روس کے ساتھ توانائی اور دفاع کے شعبوں میں مزید معاہدوں کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ ان شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
    پاکستان اور روس کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک عالمی سطح پر باہمی تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان مزید اعلیٰ سطحی دورے اور معاہدے متوقع ہیں، جس سے دوطرفہ تعلقات میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو خطے میں استحکام اور ترقی کے لیے مثبت اثرات مرتب کرے گا۔

  • وزیر داخلہ کی چینی سفیر سے ملاقات، کراچی دھماکے پر افسوس اور تحقیقات میں پیش رفت پر بریفنگ

    وزیر داخلہ کی چینی سفیر سے ملاقات، کراچی دھماکے پر افسوس اور تحقیقات میں پیش رفت پر بریفنگ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے چینی سفارت خانے میں چین کے سفیر جیانگ ژی ڈونگ سے ملاقات کی جس میں کراچی دھماکے کی تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات کراچی میں گزشتہ رات ہونے والے دھماکے کے تناظر میں ہوئی، جس میں دو چینی شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔ ملاقات کے دوران محسن نقوی نے چینی شہریوں کی ہلاکت پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور چینی سفیر کے ساتھ ساتھ چین کی حکومت اور جاں بحق ہونے والے شہریوں کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔محسن نقوی نے چینی سفیر کو کراچی دھماکے کی تمام تفصیلات فراہم کیں اور تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس افسوسناک واقعے پر نہ صرف دکھ میں شریک ہے بلکہ دُکھ کی اس گھڑی میں اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیر داخلہ نے یقین دلایا کہ حکومت پاکستان واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے گی اور اس سانحے میں ملوث تمام عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
    وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملاقات کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان موجود تاریخی دوستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکہ پاکستان چین دوستی پر حملہ ہے، جو کسی بھی صورت ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کا مقصد دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے، لیکن دشمن اس سازش میں کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چینی شہریوں کی حفاظت پاکستانی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حملے میں ملوث عناصر کو سخت سزا دی جائے گی۔محسن نقوی نے کہا کہ پاکستانی قوم اس سانحے پر چین کے ساتھ ہے اور چینی شہریوں پر حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ دشمن نے نہ صرف چینی شہریوں بلکہ پاکستان پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تاکید کی کہ پاکستان کی ترقی میں حصہ لینے والے چینی شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور ان کی حفاظت کو ہر ممکن طور پر یقینی بنایا جائے گا۔
    ملاقات کے دوران چینی سفیر جیانگ ژی ڈونگ نے پاکستانی حکومت کے فوری ردعمل اور تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا۔ چینی سفیر نے کہا کہ چین کو یقین ہے کہ پاکستان کی حکومت اس سانحے میں ملوث عناصر کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے گی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ملاقات کے بعد، محسن نقوی نے چینی سفارت خانے میں موجود تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے اور جاں بحق ہونے والے چینی شہریوں کے خاندانوں سے گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اس سانحے کو کبھی نہیں بھولے گا اور چینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی جاری رکھے گا۔
    کراچی دھماکے میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر پاکستانی حکومت اور عوام کے دل شدید غمگین ہیں اور چین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے تحقیقات میں پیش رفت کا وعدہ کیا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے کہ اس دہشتگردی کے پیچھے چھپے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

  • آل پارٹیز  کانفرنس کا اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے اہم اعلامیہ جاری

    آل پارٹیز کانفرنس کا اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے اہم اعلامیہ جاری

    تمام جماعتوں کی کانفرنس کی طرف سے منظور شدہ اعلامیہ میں کہا کہ ہم پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے نمائندے، جو پاکستانی معاشرے کے مختلف پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں، ہم اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف جاری وحشیانہ جارحیت اور نسل کشی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں، حالانکہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل، بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) اور عالمی برادری کی طرف سے بار بار جنگ بندی کی اپیلیں کی جا چکی ہیں۔ہم اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ اسرائیل بلا روک ٹوک جنگ کی وسعت میں اضافہ کر رہا ہے، جو علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرہ ہے، اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، جس میں لبنان کے خلاف حالیہ جارحیت، مغربی کنارے میں حملے، تہران میں حماس کے رہنما کے قتل اور لبنان میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کا قتل شامل ہیں، جو علاقائی امن اور سلامتی کے لئے ایک خطرہ ہے۔
    ہم فلسطین اور کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی بے پناہ حمایت کا اظہار کرتے ہیں، اور فلسطین کے حوالے سے OIC اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی حمایت کرتے ہیں، جو اسرائیلی افواج کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کرتی ہیں اور تنازعہ کے حل کے لئے ایک پرامن اور مذاکراتی راستے کی حمایت کرتی ہیں۔پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے 2 اگست 2024 کو منظور کردہ قرارداد "اسرائیلی مظالم اور فلسطینی عوام کے خلاف بربریت کی مذمت” اور دیگر متعلقہ قراردادوں کی یاد دلاتے ہوئے،
    1. اسرائیل کی نسل کشی مہم کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، جس کے نتیجے میں 42,000 سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، اور 96,000 سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں، علاوہ ازیں غزہ کی تقریباً پوری آبادی کی بڑے پیمانے پر تباہی اور بے گھر ہونے کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔
    2. اسرائیل کے اسکولوں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں، پناہ گزین کیمپوں پر حملوں، اور انسانی ہمدردی کے کام کرنے والوں اور صحافیوں کے قتل کی مذمت کرتی ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل خلاف ورزی ہے۔
    3. فلسطینی عوام کے خلاف ظلم و ستم کے خاتمے کے لئے فوری اور بغیر شرط جنگ بندی کا مطالبہ کرتی ہے؛ غزہ کی ناکہ بندی کو ختم کیا جائے؛ بلا رکاوٹ انسانی اور طبی امداد فراہم کی جائے؛ اور اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں، جنگی جرائم اور نسل کشی کے اعمال کے لئے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
    4. بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کو علاقائی امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچانے سے روکنے کے لئے فوری اقدامات کرے، بشمول لبنان اور دیگر علاقائی ممالک کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی روک تھام۔
    5. OIC، عرب ریاستوں کی لیگ، اقوام متحدہ، اور دیگر برادر ممالک کی جاری سیاسی اور سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتی ہے، جو مقبوضہ فلسطین کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے ہیں، نیز وسیع تر علاقائی امن و استحکام کے لئے بھی۔
    6. اسلامی تعاون تنظیم (OIC) سے درخواست کرتی ہے کہ وہ فلسطین کی صورت حال، اسرائیل کی جارحیت اور اس کے علاقائی امن و سلامتی پر اثرات کے بارے میں ہنگامی سمٹ کا انعقاد کرے، اور اسلامی اُمہ کی اتحاد کی ضرورت کو اجاگر کرے۔
    7. اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 18 ستمبر 2024 کی قرارداد ES-10/24 کی مکمل عمل درآمد کی اپیل کرتی ہے، جو اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے؛ بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کی عارضی تدابیر کا حوالہ دیتی ہے جو اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف مزید نسل کشی کے اعمال سے روکنے کی بات کرتی ہیں؛ اور 19 جولائی 2024 کے ICJ کے مشاورتی رائے کی تجدید کرتی ہے، جو اسرائیلی قبضے کی غیر قانونی حیثیت کو دوبارہ اجاگر کرتی ہے۔
    8. 11 نومبر 2023 کے عرب-اسلامی سمٹ کے مشترکہ اعلامیے کی یاد دلاتی ہے، جس میں تمام ممالک سے کہا گیا تھا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے حکام کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کی برآمد بند کریں۔
    9. فلسطینی عوام کی امداد کے لئے اقوام متحدہ کے امدادی و خدمات کے ادارے (UNRWA) کے کردار کی حمایت کا اظہار کرتی ہے۔
    10. پاکستان کے عزم کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے لئے ممکنہ سیاسی، سفارتی، اخلاقی اور انسانی امداد کی کوششوں میں اضافہ کرے گا۔
    11. غزہ کے لوگوں کے لئے پاکستان سے 10 انسانی امداد کی کھیپوں کے بھیجنے کی تعریف کرتی ہے، اور لبنان کے لوگوں کے لئے طبی امداد کی درخواست کرتی ہے، اور فلسطینی عوام کے لئے انسانی امداد کے سلسلے کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے، بشمول فلسطینی طلباء کے لئے تعلیمی مواقع اور پاکستان میں زخمی فلسطینی بچوں کے علاج کی ضرورت۔
    12. فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور دیگر بنیادی حقوق کے حصول، اور ایک قابل عمل، محفوظ، باہم جڑے ہوئے اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، اور ساتھ ہی فلسطین کی مکمل اقوام متحدہ کی رکنیت کے لئے بھی۔
    13. پاکستان کی حکومت سے درخواست کرتی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کو سیاسی، سفارتی اور انسانی امداد فراہم کرتی رہے، اور غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کے لئے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتی رہے۔
    14. 29 نومبر 2024 کو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے دن کے طور پر خصوصی جوش و خروش کے ساتھ منانے کا فیصلہ کرتی ہے۔
    15. کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی پختہ طور پر تصدیق کرتی ہے اور جموں و کشمیر کے تنازعہ کے حل کے لئے کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کی اپیل کرتی ہے۔
    یہ قرارداد 07 اکتوبر 2024 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی تمام جماعتوں کی کانفرنس کے ذریعہ منظور کی گئی۔

  • پی ٹی آئی اور بی ایل اے کو صیہونی پراکسی قرار، سربراہی اجلاس سبوتاژ کی سازش بے نقاب

    پی ٹی آئی اور بی ایل اے کو صیہونی پراکسی قرار، سربراہی اجلاس سبوتاژ کی سازش بے نقاب

    ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو پاکستان کے دشمن اور صیہونیوں کی پراکسی قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں گروہوں کو بین الاقوامی سازش کے تحت ہدایات دی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو نقصان پہنچایا جا سکے اور اہم عالمی اجلاسوں میں رکاوٹیں کھڑی کی جا سکیں۔ذرائع کے مطابق، جیسے جیسے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا سربراہی اجلاس قریب آ رہا ہے، صیہونی حکومت کی طرف سے اپنے تمام پیادوں کو اس اہم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس ایجنڈے کے تحت پی ٹی آئی کو اسلام آباد کے امن کو خراب کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے داخلی استحکام پر سوالات اٹھائے جا سکیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صیہونی عناصر پی ٹی آئی کے ذریعے دارالحکومت اسلام آباد کو سیاسی کشیدگی اور انتشار کا شکار بنا کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازش کر رہے ہیں۔
    اسی منصوبے کے تحت کراچی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کو چینی شہریوں کو نشانہ بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو کمزور کرنے کی ایک گہری سازش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے اہم منصوبوں کو متاثر کرنا ہے۔ ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی برادری میں خوف و ہراس پھیلانے اور چین کے خلاف پاکستانی سرزمین کو غیر محفوظ ثابت کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ذرائع نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کے تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے، جو حالیہ برسوں میں نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ ان عناصر کو اس بات پر تشویش ہے کہ پاک چین دوستی مزید مضبوط ہو رہی ہے اور دونوں ممالک کی شراکت داری عالمی سطح پر ایک طاقتور اتحاد بن چکی ہے۔
    ذرائع نے پی ٹی آئی اور بی ایل اے کو ایک دوسرے کی نظریاتی بہن قرار دیا ہے، جو اپنے آقاؤں کے حکم پر کھلے اور خفیہ طور پر دونوں پاکستان کے مفادات کے خلاف سرگرم ہیں۔ پی ٹی آئی کو سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے اور بی ایل اے کو دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ ان عناصر کو جے شنکر کو پاکستان مدعو کرنے پر کوئی شرم محسوس نہیں ہوئی، جو کہ بھارت کے وزیر خارجہ ہیں اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا باعث رہے ہیں۔ اس اقدام کو پی ٹی آئی اور بی ایل اے کی عالمی سازش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنا ہے۔یہ تمام انکشافات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے اندر اور باہر موجود کچھ عناصر ملک کے استحکام اور امن کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ صیہونی حکومت کے پیادے، پی ٹی آئی اور بی ایل اے، بین الاقوامی سازشوں کے تحت ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کے ترقیاتی منصوبے اور عالمی حیثیت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

  • انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا

    انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا

    اسلام آباد: انسداد دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کا تین روزہ ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ انسداد دہشتگری عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے سنایا۔اعظم سواتی کے خلاف تھانہ کوہسار میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ انہیں 5 اکتوبر کی رات 11 بجے تھانہ سنگجانی کی حدود سے گرفتار کیا گیا تھا، اور دو روز بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران اعظم سواتی نے جج طاہر عباس سپرا سے سوال کیا، "آپ میرا انتظار کر رہے تھے؟” جس پر جج نے جواب دیا کہ وہ صرف اعظم سواتی کے لیے نہیں بلکہ 200 دیگر افراد کے مقدمات کی سماعت بھی کر رہے تھے۔اعظم سواتی کے وکیل، سہیل سواتی نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان کے موکل کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اعظم سواتی پر مالی معاونت کا الزام لگایا جا رہا ہے، جس کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ وکیل نے مزید کہا کہ اعظم سواتی حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوئے، اس لیے یہ الزام بھی غیر معقول ہے۔
    ایس ایچ او تھانہ کوہسار، شفقت فیض نے عدالت سے اعظم سواتی کا جسمانی ریمانڈ مانگا، جس کا مقصد موبائل فون اور مالی معاونت سے متعلق معلومات کی بازیابی تھا۔ ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ موبائل فونز سے مزید معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں جو اس مقدمے کے حوالے سے اہم ہیں۔اعظم سواتی نے عدالت کے سامنے بتایا کہ ان کے دونوں موبائل فونز پہلے ہی پولیس کے پاس ہیں، جو انہوں نے گرفتاری کے وقت تھانہ سنگجانی کے ایس ایچ او کے حوالے کیے تھے۔ سواتی نے کہا کہ اگر موبائل فونز کی ریکوری ضروری ہے، تو تھانہ سنگجانی کے ایس ایچ او کو گرفتار کیا جائے۔ سواتی نے مزید کہا کہ انہوں نے پولیس اہلکاروں کو مظاہرین سے بچانے میں مدد فراہم کی تھی اور یہ حقائق عدالت کے سامنے پیش کیے جانے چاہئیں۔عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، اور بعد ازاں اعظم سواتی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ پولیس نے 30 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے تین روزہ ریمانڈ کی منظوری دی۔اعظم سواتی کو آئندہ سماعت کے دوران دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں ان کے کیس کی مزید سماعت ہوگی۔

  • عام شہریوں کو مزید نقصان نہیں ہونا چاہیے، صدر بائیڈن کا اسرائیل اور فلسطین تنازع پر خصوصی پیغام

    عام شہریوں کو مزید نقصان نہیں ہونا چاہیے، صدر بائیڈن کا اسرائیل اور فلسطین تنازع پر خصوصی پیغام

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری مناقشے میں عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک خصوصی پیغام میں صدر بائیڈن نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں فریقین کے درمیان جاری تنازع میں بے گناہ شہریوں نے بہت کچھ جھیلا ہے اور یہ سلسلہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔صدر بائیڈن نے اپنے پیغام میں خاص طور پر 7 اکتوبر کا ذکر کیا، جو انہوں نے اسرائیل کے لیے ایک "یومِ سیاہ” قرار دیا، جبکہ فلسطینیوں کے لیے بھی یہ دن مصائب کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ بائیڈن نے کہا کہ اُس دن حماس کے ایک بڑے حملے نے تنازع کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک موڑ پر پہنچا دیا۔ انہوں نے اس دن کو اس اعتبار سے یاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیا کہ اس کے بعد کی صورتحال نے دونوں طرف کے عوام کو غیر معمولی مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
    امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کُریلا نے حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اسرائیلی حکام کے ساتھ خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، اس ملاقات کا مقصد خاص طور پر ایران اور شمالی محاذ (لبنان) کی صورتحال پر بات کرنا تھا۔ بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ جنرل کُریلا نے یہ دورہ کب کیا، تاہم اس دورے کو موجودہ حالات میں بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔
    جنرل کُریلا کے دورے کے دوران ایران کی مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور لبنان سے ممکنہ سیکیورٹی خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ امور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں اسرائیل کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، جہاں ایران اور حزب اللہ کے اثرات کو روکنے کے لیے ممکنہ حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔امریکی صدر کے ایلچی، ایموز ہاچسٹین نے بھی حالیہ دنوں میں خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا نے اسرائیل کو جنوبی لبنان اور بیروت پر حملوں کے لیے کوئی گرین سگنل نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اب بھی اس قضیے کے سفارتی حل کی تلاش میں مصروف ہے اور فریقین کے درمیان مزید تنازع روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایموز ہاچسٹین نے میڈیا سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں رپورٹنگ کرتے وقت احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جھوٹی اور غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہے۔
    ایموز ہاچسٹین نے بتایا کہ امریکا اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں کے ساتھ مذاکراتی عمل میں مصروف ہے اور تنازع کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سفارتی راستے سے اس تنازع کو حل کرنے کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں دونوں فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ اور لبنان کی جانب سے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی حکومت ان حالات میں اپنی سفارتی اور عسکری حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے استحکام کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔صدر بائیڈن اور امریکی حکام کی جانب سے واضح پیغام سامنے آیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کا واحد حل سفارتکاری ہے۔ امریکی قیادت اسرائیل اور فلسطینی عوام کے درمیان تنازع کو جلد از جلد ختم کرنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے تاکہ دونوں فریقین کے عام شہریوں کو مزید نقصان نہ اٹھانا پڑے۔

  • پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں فلسطینی طلباء کی تعلیم کے لیے اسپانسرشپ فراہم کی جائے،  خالد مقبول

    پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں فلسطینی طلباء کی تعلیم کے لیے اسپانسرشپ فراہم کی جائے، خالد مقبول

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے ایوان صدر میں اہل فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں ایک اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی مذمت ہم پہلے ہی کر چکے ہیں، لیکن اب ہمیں عملی اقدامات کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے مزید آگے بڑھے اور موثر سفارتی اقدامات کرے۔خالد مقبول صدیقی نے اے پی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سیاسی طور پر مظاہرے کیے ہیں، لیکن اب ہمیں مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کے تعلیمی ادارے اس وقت تباہ ہو چکے ہیں، اور اس صورت حال میں پاکستان کو اپنی آواز کو تمام اسلامی ممالک تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
    ایم کیو ایم کے سربراہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اعلان کریں کہ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں فلسطینی طلباء کی تعلیم کے لیے اسپانسرشپ فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے عوام کا مطالبہ ایک آزاد ریاست ہے، اور یہ مطالبہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ میں بھی بڑے بڑے احتجاج کے ذریعے اٹھایا جا رہا ہے۔خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ہم نے مذمت کر دی ہے، لیکن اب وقت ہے کہ ہم عملی اقدامات کا اعلان کریں۔ انہوں نے حکومت، ریاست اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی بچوں کی تعلیم کی حمایت کریں، تاکہ ان کے مستقبل کی تعمیر کی جا سکے۔یہ اے پی سی اس وقت منعقد کی گئی جب فلسطین کے عوام کے حقوق کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھانے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ خالد مقبول صدیقی کے اس مؤقف نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان میں فلسطینی عوام کی حمایت میں ایک مشترکہ عزم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمی برادری میں فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے ایک مؤثر وکیل بن سکتا ہے۔ایم کیو ایم کے سربراہ کے اس بیان نے ایک نئے عزم کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کی مشکلات کو سامنے لانا اور عالمی برادری کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کروانا ہے۔

  • پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ: محکمہ خوراک ختم، نئی پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا قیام

    پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ: محکمہ خوراک ختم، نئی پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا قیام

    لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں غذائی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے محکمہ خوراک پنجاب کو ختم کر دیا ہے۔ اس کی جگہ نیا پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے جو خوراک کے متعلق تمام اہم امور کی ذمہ داری سنبھالے گا۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو غذائی اشیاء کی قیمتوں اور انتظامی امور کی نگرانی کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کا قیام بنیادی طور پر اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں استحکام اور مناسب کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ نیا ڈیپارٹمنٹ نہ صرف گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی کے بارے میں فیصلے کرے گا بلکہ ان پر عملدرآمد کی بھی نگرانی کرے گا۔ یہ ادارہ اشیائے خورونوش کی پیداوار سے لے کر ان کی مارکیٹ تک رسائی کے تمام مراحل پر نظر رکھے گا تاکہ عوام کو معیاری اور مناسب قیمت پر غذائی اجناس دستیاب ہوں۔
    محکمہ خوراک کا خاتمہ ایک اہم قدم ہے جسے صوبائی حکومت نے اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف لڑائی کے تناظر میں اٹھایا ہے۔ صوبائی حکومت کے ذرائع کے مطابق، محکمہ خوراک کو ختم کرنے کا مقصد نظام کو بہتر بنانا اور عوامی مفاد میں زیادہ شفافیت اور فوری عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔حالیہ برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ذخیرہ اندوزی کے واقعات نے عوام کو شدید مشکلات کا شکار کیا ہوا تھا، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔ نئے ڈیپارٹمنٹ کے قیام کا بنیادی مقصد اشیاء خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا اور مصنوعی مہنگائی کا تدارک کرنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے قیمتوں کے تعین اور ان پر عملدرآمد کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔پنجاب حکومت کے اس اہم فیصلے سے توقع کی جا رہی ہے کہ صوبے میں اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور عوام کو سستے اور معیاری غذائی اجناس فراہم ہوں گی۔
    ڈیپارٹمنٹ کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس میں اس کے اختیارات اور ذمہ داریوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ تمام غذائی اجناس کے کاروبار اور قیمتوں کے کنٹرول سے متعلق پالیسی سازی اور ان پر عمل درآمد کی ذمہ داری سنبھالے گا۔یہ اقدام پنجاب حکومت کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی کے چنگل سے نجات دلانے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے میں سنجیدہ ہے۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف کا اسرائیلی وزیر اعظم کی نظر اندازی کا انکشاف

    وزیر اعظم شہباز شریف کا اسرائیلی وزیر اعظم کی نظر اندازی کا انکشاف

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کو اسلام آباد میں منعقدہ کثیر الجماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک اہم واقعے کا ذکر کیا، جس میں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسرائیلی وزیر اعظم، بنجمن نیتن یاہو کو نظر انداز کرنے کے اپنے فیصلے کی تفصیلات بتائیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ نیتن یاہو ان کے بعد اجلاس سے خطاب کریں گے۔ شہباز شریف نے واضح کیا کہ وہ اس بات سے آگاہ تھے کہ نیتن یاہو اسی کمرے میں موجود ہوں گے جہاں دوسرے رہنما تقریر کرنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی کے بارے میں کہا، "میں نے اس کمرے میں اس طرح بیٹھنے کا فیصلہ کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم پیچھے سے آئیں اور گزر جائیں، تاکہ مجھے ان کے سامنے آنے کا موقع نہ ملے۔ جب وہ گزر جائیں گے تو میں بھی پیچھے سے نکل جاؤں گا تاکہ مجھے ان سے ہاتھ ملانے کی نوبت نہ آئے۔
    شہباز شریف نے اس موقع پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کا نیتن یاہو کے ساتھ واسطہ نہیں پڑا، مگر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جیسے ہی نیتن یاہو خطاب کے لیے کھڑے ہوئے، ان کی قیادت میں پاکستانی وفد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے واک آؤٹ کر دیا۔انہوں نے کہا، "یہ کوئی بتانے کی باتیں نہیں ہیں، بلکہ یہ باتیں دل کی اتاہ گہرائیوں سے ہیں۔” ان کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستانی حکومت اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے مظالم اور فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے حوالے سے کتنا حساس ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کے اس فیصلے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ بات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلسطینی عوام کے حقوق اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی برادری میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔
    کثیر الجماعتی کانفرنس میں موجود شرکاء نے وزیر اعظم کے اس موقف کو سراہا، اور ان کے فیصلے کو انسانی حقوق کے لیے ایک مضبوط پیغام کے طور پر دیکھا۔ یہ واقعہ بین الاقوامی سیاست میں پاکستان کی فعال شرکت اور مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ شہباز شریف کی جانب سے یہ اقدام ان کی حکومت کے اس عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی فورمز پر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

  • عدالتی فیصلوں کی مثالوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔چیف جسٹس

    عدالتی فیصلوں کی مثالوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں محکمہ آبادی پنجاب کے ایک ملازم کی نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مارشل لاء اور غیر آئینی اقدامات کی توثیق کے حوالے سے اہم اور سخت ریمارکس دیے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عدالت کے فیصلوں پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے عدلیہ کے کردار پر سوالات اٹھائے اور عدالتی نظام کی اصلاحات پر زور دیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالتوں کے فیصلے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "عدالتی فیصلوں کی مثالوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ عدلیہ کبھی مارشل لاء کی توثیق کر دیتی ہے اور ایسے فیصلے ملک میں جمہوریت اور آئین کو نقصان پہنچاتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ججز آئین کے پابند ہیں اور انہیں غیر آئینی اقدامات کی توثیق کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔
    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ "پاکستان میں یہی ہو رہا ہے، ایک کے بعد دوسرا مارشل لاء آجاتا ہے اور عدلیہ غیر آئینی اقدامات کی توثیق کر دیتی ہے۔ ججز کی اتنی فراخ دلی کیوں دکھائی جاتی ہے کہ غیر آئینی اقدامات کو درست قرار دے دیا جاتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے آئین اور قانون کے دائرے میں ہونے چاہئیں اور جہاں آئین و قانون میں کوئی ابہام نہ ہو، وہاں عدالتی فیصلے کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ "عدالتی فیصلہ آئین و قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔” انہوں نے ججز کی تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے وقت آگیا ہے کہ ججز کی کلاسز کرائی جائیں تاکہ وہ آئین اور قانون کے تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
    عدلیہ کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ کیا جج بننے کے بعد آئین و قانون کے تقاضے ختم ہو جاتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ وکلاء کو آئین کی کتاب سے الرجی ہو گئی ہے اور اب وکلاء اپنے ساتھ آئین کی کتاب نہیں لاتے، حالانکہ یہ قانونی نظام کی بنیاد ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ عدالتوں پر نظر ثانی درخواستیں جلدی لگانے کی شکایت کی جاتی ہے، اور اس پر تنقید کی جاتی ہے کہ ڈھائی سال پرانی نظرثانی درخواست کیوں سنی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے محکمہ آبادی پنجاب کے ملازم کی نظر ثانی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست میں کوئی قانونی بنیاد نہیں پائی گئی۔