ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو پاکستان کے دشمن اور صیہونیوں کی پراکسی قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں گروہوں کو بین الاقوامی سازش کے تحت ہدایات دی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو نقصان پہنچایا جا سکے اور اہم عالمی اجلاسوں میں رکاوٹیں کھڑی کی جا سکیں۔ذرائع کے مطابق، جیسے جیسے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا سربراہی اجلاس قریب آ رہا ہے، صیہونی حکومت کی طرف سے اپنے تمام پیادوں کو اس اہم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس ایجنڈے کے تحت پی ٹی آئی کو اسلام آباد کے امن کو خراب کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے داخلی استحکام پر سوالات اٹھائے جا سکیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صیہونی عناصر پی ٹی آئی کے ذریعے دارالحکومت اسلام آباد کو سیاسی کشیدگی اور انتشار کا شکار بنا کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازش کر رہے ہیں۔
اسی منصوبے کے تحت کراچی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کو چینی شہریوں کو نشانہ بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو کمزور کرنے کی ایک گہری سازش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے اہم منصوبوں کو متاثر کرنا ہے۔ ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی برادری میں خوف و ہراس پھیلانے اور چین کے خلاف پاکستانی سرزمین کو غیر محفوظ ثابت کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ذرائع نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کے تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے، جو حالیہ برسوں میں نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ ان عناصر کو اس بات پر تشویش ہے کہ پاک چین دوستی مزید مضبوط ہو رہی ہے اور دونوں ممالک کی شراکت داری عالمی سطح پر ایک طاقتور اتحاد بن چکی ہے۔
ذرائع نے پی ٹی آئی اور بی ایل اے کو ایک دوسرے کی نظریاتی بہن قرار دیا ہے، جو اپنے آقاؤں کے حکم پر کھلے اور خفیہ طور پر دونوں پاکستان کے مفادات کے خلاف سرگرم ہیں۔ پی ٹی آئی کو سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے اور بی ایل اے کو دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ ان عناصر کو جے شنکر کو پاکستان مدعو کرنے پر کوئی شرم محسوس نہیں ہوئی، جو کہ بھارت کے وزیر خارجہ ہیں اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا باعث رہے ہیں۔ اس اقدام کو پی ٹی آئی اور بی ایل اے کی عالمی سازش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنا ہے۔یہ تمام انکشافات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے اندر اور باہر موجود کچھ عناصر ملک کے استحکام اور امن کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ صیہونی حکومت کے پیادے، پی ٹی آئی اور بی ایل اے، بین الاقوامی سازشوں کے تحت ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کے ترقیاتی منصوبے اور عالمی حیثیت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
Author: صدف ابرار

پی ٹی آئی اور بی ایل اے کو صیہونی پراکسی قرار، سربراہی اجلاس سبوتاژ کی سازش بے نقاب

انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا
اسلام آباد: انسداد دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کا تین روزہ ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ انسداد دہشتگری عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے سنایا۔اعظم سواتی کے خلاف تھانہ کوہسار میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ انہیں 5 اکتوبر کی رات 11 بجے تھانہ سنگجانی کی حدود سے گرفتار کیا گیا تھا، اور دو روز بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران اعظم سواتی نے جج طاہر عباس سپرا سے سوال کیا، "آپ میرا انتظار کر رہے تھے؟” جس پر جج نے جواب دیا کہ وہ صرف اعظم سواتی کے لیے نہیں بلکہ 200 دیگر افراد کے مقدمات کی سماعت بھی کر رہے تھے۔اعظم سواتی کے وکیل، سہیل سواتی نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان کے موکل کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اعظم سواتی پر مالی معاونت کا الزام لگایا جا رہا ہے، جس کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ وکیل نے مزید کہا کہ اعظم سواتی حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوئے، اس لیے یہ الزام بھی غیر معقول ہے۔
ایس ایچ او تھانہ کوہسار، شفقت فیض نے عدالت سے اعظم سواتی کا جسمانی ریمانڈ مانگا، جس کا مقصد موبائل فون اور مالی معاونت سے متعلق معلومات کی بازیابی تھا۔ ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ موبائل فونز سے مزید معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں جو اس مقدمے کے حوالے سے اہم ہیں۔اعظم سواتی نے عدالت کے سامنے بتایا کہ ان کے دونوں موبائل فونز پہلے ہی پولیس کے پاس ہیں، جو انہوں نے گرفتاری کے وقت تھانہ سنگجانی کے ایس ایچ او کے حوالے کیے تھے۔ سواتی نے کہا کہ اگر موبائل فونز کی ریکوری ضروری ہے، تو تھانہ سنگجانی کے ایس ایچ او کو گرفتار کیا جائے۔ سواتی نے مزید کہا کہ انہوں نے پولیس اہلکاروں کو مظاہرین سے بچانے میں مدد فراہم کی تھی اور یہ حقائق عدالت کے سامنے پیش کیے جانے چاہئیں۔عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، اور بعد ازاں اعظم سواتی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ پولیس نے 30 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے تین روزہ ریمانڈ کی منظوری دی۔اعظم سواتی کو آئندہ سماعت کے دوران دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں ان کے کیس کی مزید سماعت ہوگی۔
عام شہریوں کو مزید نقصان نہیں ہونا چاہیے، صدر بائیڈن کا اسرائیل اور فلسطین تنازع پر خصوصی پیغام
واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری مناقشے میں عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک خصوصی پیغام میں صدر بائیڈن نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں فریقین کے درمیان جاری تنازع میں بے گناہ شہریوں نے بہت کچھ جھیلا ہے اور یہ سلسلہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔صدر بائیڈن نے اپنے پیغام میں خاص طور پر 7 اکتوبر کا ذکر کیا، جو انہوں نے اسرائیل کے لیے ایک "یومِ سیاہ” قرار دیا، جبکہ فلسطینیوں کے لیے بھی یہ دن مصائب کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ بائیڈن نے کہا کہ اُس دن حماس کے ایک بڑے حملے نے تنازع کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک موڑ پر پہنچا دیا۔ انہوں نے اس دن کو اس اعتبار سے یاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیا کہ اس کے بعد کی صورتحال نے دونوں طرف کے عوام کو غیر معمولی مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کُریلا نے حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اسرائیلی حکام کے ساتھ خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، اس ملاقات کا مقصد خاص طور پر ایران اور شمالی محاذ (لبنان) کی صورتحال پر بات کرنا تھا۔ بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ جنرل کُریلا نے یہ دورہ کب کیا، تاہم اس دورے کو موجودہ حالات میں بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔
جنرل کُریلا کے دورے کے دوران ایران کی مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور لبنان سے ممکنہ سیکیورٹی خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ امور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں اسرائیل کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، جہاں ایران اور حزب اللہ کے اثرات کو روکنے کے لیے ممکنہ حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔امریکی صدر کے ایلچی، ایموز ہاچسٹین نے بھی حالیہ دنوں میں خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا نے اسرائیل کو جنوبی لبنان اور بیروت پر حملوں کے لیے کوئی گرین سگنل نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اب بھی اس قضیے کے سفارتی حل کی تلاش میں مصروف ہے اور فریقین کے درمیان مزید تنازع روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایموز ہاچسٹین نے میڈیا سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں رپورٹنگ کرتے وقت احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جھوٹی اور غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہے۔
ایموز ہاچسٹین نے بتایا کہ امریکا اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں کے ساتھ مذاکراتی عمل میں مصروف ہے اور تنازع کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سفارتی راستے سے اس تنازع کو حل کرنے کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں دونوں فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ اور لبنان کی جانب سے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی حکومت ان حالات میں اپنی سفارتی اور عسکری حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے استحکام کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔صدر بائیڈن اور امریکی حکام کی جانب سے واضح پیغام سامنے آیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کا واحد حل سفارتکاری ہے۔ امریکی قیادت اسرائیل اور فلسطینی عوام کے درمیان تنازع کو جلد از جلد ختم کرنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے تاکہ دونوں فریقین کے عام شہریوں کو مزید نقصان نہ اٹھانا پڑے۔
پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں فلسطینی طلباء کی تعلیم کے لیے اسپانسرشپ فراہم کی جائے، خالد مقبول
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے ایوان صدر میں اہل فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں ایک اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی مذمت ہم پہلے ہی کر چکے ہیں، لیکن اب ہمیں عملی اقدامات کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے مزید آگے بڑھے اور موثر سفارتی اقدامات کرے۔خالد مقبول صدیقی نے اے پی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سیاسی طور پر مظاہرے کیے ہیں، لیکن اب ہمیں مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کے تعلیمی ادارے اس وقت تباہ ہو چکے ہیں، اور اس صورت حال میں پاکستان کو اپنی آواز کو تمام اسلامی ممالک تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
ایم کیو ایم کے سربراہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اعلان کریں کہ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں فلسطینی طلباء کی تعلیم کے لیے اسپانسرشپ فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے عوام کا مطالبہ ایک آزاد ریاست ہے، اور یہ مطالبہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ میں بھی بڑے بڑے احتجاج کے ذریعے اٹھایا جا رہا ہے۔خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ہم نے مذمت کر دی ہے، لیکن اب وقت ہے کہ ہم عملی اقدامات کا اعلان کریں۔ انہوں نے حکومت، ریاست اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی بچوں کی تعلیم کی حمایت کریں، تاکہ ان کے مستقبل کی تعمیر کی جا سکے۔یہ اے پی سی اس وقت منعقد کی گئی جب فلسطین کے عوام کے حقوق کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھانے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ خالد مقبول صدیقی کے اس مؤقف نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان میں فلسطینی عوام کی حمایت میں ایک مشترکہ عزم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمی برادری میں فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے ایک مؤثر وکیل بن سکتا ہے۔ایم کیو ایم کے سربراہ کے اس بیان نے ایک نئے عزم کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کی مشکلات کو سامنے لانا اور عالمی برادری کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کروانا ہے۔
پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ: محکمہ خوراک ختم، نئی پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا قیام
لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں غذائی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے محکمہ خوراک پنجاب کو ختم کر دیا ہے۔ اس کی جگہ نیا پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے جو خوراک کے متعلق تمام اہم امور کی ذمہ داری سنبھالے گا۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو غذائی اشیاء کی قیمتوں اور انتظامی امور کی نگرانی کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کا قیام بنیادی طور پر اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں استحکام اور مناسب کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ نیا ڈیپارٹمنٹ نہ صرف گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی کے بارے میں فیصلے کرے گا بلکہ ان پر عملدرآمد کی بھی نگرانی کرے گا۔ یہ ادارہ اشیائے خورونوش کی پیداوار سے لے کر ان کی مارکیٹ تک رسائی کے تمام مراحل پر نظر رکھے گا تاکہ عوام کو معیاری اور مناسب قیمت پر غذائی اجناس دستیاب ہوں۔
محکمہ خوراک کا خاتمہ ایک اہم قدم ہے جسے صوبائی حکومت نے اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف لڑائی کے تناظر میں اٹھایا ہے۔ صوبائی حکومت کے ذرائع کے مطابق، محکمہ خوراک کو ختم کرنے کا مقصد نظام کو بہتر بنانا اور عوامی مفاد میں زیادہ شفافیت اور فوری عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔حالیہ برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ذخیرہ اندوزی کے واقعات نے عوام کو شدید مشکلات کا شکار کیا ہوا تھا، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔ نئے ڈیپارٹمنٹ کے قیام کا بنیادی مقصد اشیاء خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا اور مصنوعی مہنگائی کا تدارک کرنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے قیمتوں کے تعین اور ان پر عملدرآمد کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔پنجاب حکومت کے اس اہم فیصلے سے توقع کی جا رہی ہے کہ صوبے میں اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور عوام کو سستے اور معیاری غذائی اجناس فراہم ہوں گی۔
ڈیپارٹمنٹ کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس میں اس کے اختیارات اور ذمہ داریوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ تمام غذائی اجناس کے کاروبار اور قیمتوں کے کنٹرول سے متعلق پالیسی سازی اور ان پر عمل درآمد کی ذمہ داری سنبھالے گا۔یہ اقدام پنجاب حکومت کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی کے چنگل سے نجات دلانے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے میں سنجیدہ ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا اسرائیلی وزیر اعظم کی نظر اندازی کا انکشاف
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کو اسلام آباد میں منعقدہ کثیر الجماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک اہم واقعے کا ذکر کیا، جس میں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسرائیلی وزیر اعظم، بنجمن نیتن یاہو کو نظر انداز کرنے کے اپنے فیصلے کی تفصیلات بتائیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ نیتن یاہو ان کے بعد اجلاس سے خطاب کریں گے۔ شہباز شریف نے واضح کیا کہ وہ اس بات سے آگاہ تھے کہ نیتن یاہو اسی کمرے میں موجود ہوں گے جہاں دوسرے رہنما تقریر کرنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی کے بارے میں کہا، "میں نے اس کمرے میں اس طرح بیٹھنے کا فیصلہ کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم پیچھے سے آئیں اور گزر جائیں، تاکہ مجھے ان کے سامنے آنے کا موقع نہ ملے۔ جب وہ گزر جائیں گے تو میں بھی پیچھے سے نکل جاؤں گا تاکہ مجھے ان سے ہاتھ ملانے کی نوبت نہ آئے۔
شہباز شریف نے اس موقع پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کا نیتن یاہو کے ساتھ واسطہ نہیں پڑا، مگر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جیسے ہی نیتن یاہو خطاب کے لیے کھڑے ہوئے، ان کی قیادت میں پاکستانی وفد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے واک آؤٹ کر دیا۔انہوں نے کہا، "یہ کوئی بتانے کی باتیں نہیں ہیں، بلکہ یہ باتیں دل کی اتاہ گہرائیوں سے ہیں۔” ان کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستانی حکومت اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے مظالم اور فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے حوالے سے کتنا حساس ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کے اس فیصلے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ بات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلسطینی عوام کے حقوق اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی برادری میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔
کثیر الجماعتی کانفرنس میں موجود شرکاء نے وزیر اعظم کے اس موقف کو سراہا، اور ان کے فیصلے کو انسانی حقوق کے لیے ایک مضبوط پیغام کے طور پر دیکھا۔ یہ واقعہ بین الاقوامی سیاست میں پاکستان کی فعال شرکت اور مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ شہباز شریف کی جانب سے یہ اقدام ان کی حکومت کے اس عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی فورمز پر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
عدالتی فیصلوں کی مثالوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔چیف جسٹس
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں محکمہ آبادی پنجاب کے ایک ملازم کی نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مارشل لاء اور غیر آئینی اقدامات کی توثیق کے حوالے سے اہم اور سخت ریمارکس دیے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عدالت کے فیصلوں پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے عدلیہ کے کردار پر سوالات اٹھائے اور عدالتی نظام کی اصلاحات پر زور دیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالتوں کے فیصلے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "عدالتی فیصلوں کی مثالوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ عدلیہ کبھی مارشل لاء کی توثیق کر دیتی ہے اور ایسے فیصلے ملک میں جمہوریت اور آئین کو نقصان پہنچاتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ججز آئین کے پابند ہیں اور انہیں غیر آئینی اقدامات کی توثیق کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ "پاکستان میں یہی ہو رہا ہے، ایک کے بعد دوسرا مارشل لاء آجاتا ہے اور عدلیہ غیر آئینی اقدامات کی توثیق کر دیتی ہے۔ ججز کی اتنی فراخ دلی کیوں دکھائی جاتی ہے کہ غیر آئینی اقدامات کو درست قرار دے دیا جاتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے آئین اور قانون کے دائرے میں ہونے چاہئیں اور جہاں آئین و قانون میں کوئی ابہام نہ ہو، وہاں عدالتی فیصلے کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ "عدالتی فیصلہ آئین و قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔” انہوں نے ججز کی تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے وقت آگیا ہے کہ ججز کی کلاسز کرائی جائیں تاکہ وہ آئین اور قانون کے تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
عدلیہ کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ کیا جج بننے کے بعد آئین و قانون کے تقاضے ختم ہو جاتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ وکلاء کو آئین کی کتاب سے الرجی ہو گئی ہے اور اب وکلاء اپنے ساتھ آئین کی کتاب نہیں لاتے، حالانکہ یہ قانونی نظام کی بنیاد ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ عدالتوں پر نظر ثانی درخواستیں جلدی لگانے کی شکایت کی جاتی ہے، اور اس پر تنقید کی جاتی ہے کہ ڈھائی سال پرانی نظرثانی درخواست کیوں سنی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے محکمہ آبادی پنجاب کے ملازم کی نظر ثانی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست میں کوئی قانونی بنیاد نہیں پائی گئی۔
عالمی سطح پر ہم سیاسی اور ڈپلومیٹک جنگ لڑنے کو تیار ہیں ، بلاول
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ فلسطین پر متحد ہیں اور فلسطین کی حمایت میں عالمی سطح پر سفارتی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بات ایوان صدر میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا مقصد فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور غزہ میں جاری بربریت کی مذمت تھا۔آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرنے والی تمام جماعتوں نے فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیلی ظلم و بربریت کے خلاف پاکستان کی حکومت اور عوام فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے صدر مملکت اور وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے فلسطین کے مسئلے پر اس اہم فورم کا انعقاد کیا۔ انہوں نے کہا، "آج کا فورم دنیا کو واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان فلسطین کے ساتھ کھڑا ہے۔”
بلاول بھٹو نے غزہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت کو ایک سال ہو چکا ہے اور اس وقت فلسطینی عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خود بھی معاشی بحران اور دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے، لیکن جب بات فلسطین کی ہو تو تمام پاکستانی ایک صف میں کھڑے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم پاکستان کے اقوام متحدہ میں فلسطین کے مسئلے پر جرات مندانہ موقف کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر پر واک آؤٹ کر کے ایک بہادرانہ فیصلہ کیا جو پاکستان کی فلسطین کے ساتھ دیرینہ وابستگی کا ثبوت ہے۔ "وزیراعظم کے اس اقدام پر تمام سیاسی جماعتیں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور انہیں مکمل تعاون فراہم کریں گی،” بلاول بھٹو نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے آج ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ان کی آزادی کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے عالمی سفارتی میدان میں سرگرم ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کے پیچھے صہیونی سازشیں کارفرما ہیں جنہیں بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیدی محض ایک بہانہ تھے، اسرائیل کا اصل مقصد پورے فلسطین پر قبضہ کرنا ہے اور ہم اس سازش کو عالمی برادری کے سامنے لائیں گے۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ اگر کبھی جنگ کی نوبت آئی تو پاکستانی قوم اور سیاسی جماعتیں اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔
اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے امریکا اور برطانیہ کے عوام کی اکثریت کو فلسطین کا حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اسپین اور جنوبی افریقہ کو فلسطین کے حق میں جرات مندانہ موقف اپنانے پر سراہا اور کہا کہ ان ممالک نے عالمی سطح پر فلسطینیوں کے حق میں ایک مضبوط پیغام دیا ہے۔بلاول بھٹو نے اس موقع پر ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی تشکیل کا بھی اعلان کیا جو عالمی سطح پر اسرائیلی سازشوں کو بے نقاب کرے گی اور فلسطین کی آزادی کے لیے بین الاقوامی فورمز پر مؤثر آواز اٹھائے گی۔ "فلسطینی عوام کو ان کے حقوق دلوانے تک ہم وزیراعظم کے ساتھ کھڑے رہیں گے،” بلاول بھٹو نے اپنے خطاب کا اختتام کیا۔کانفرنس میں موجود دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں فلسطین کے مسئلے پر ایک صف میں ہیں اور اس حوالے سے کوئی اختلاف نہیں۔ کانفرنس کے دوران تمام جماعتوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔یہ کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے لیے عالمی سطح پر آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور پاکستان بھی اس اہم مسئلے پر اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ریفرنس کی وصولی: اسپیکر قومی اسمبلی نے سہیل سلطان کے خلاف کارروائی شروع کردی
اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی نے سوات کے ایم این اے سہیل سلطان کے خلاف ریفرنس موصول ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ سہیل سلطان، جو این اے 4 سوات سے سنی اتحاد کونسل کے رکن ہیں، پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی سرکاری ملازمت کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں جھوٹ بولا ہے۔ذرائع کے مطابق، یہ ریفرنس سوات کے شہری نصراللّٰہ خان کی جانب سے جمع کرایا گیا ہے۔ ریفرنس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سہیل سلطان نے بطور ڈپٹی اٹارنی جنرل خیبر پختونخوا اپنی خدمات انجام دی تھیں، اور کوئی سرکاری ملازم انتخابات میں حصہ لینے کے لئے اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد دو سال تک انتظار نہیں کر سکتا۔
درخواست گزار نے اسپیکر سے درخواست کی ہے کہ وہ اس ریفرنس کو الیکشن کمیشن کو بھیجنے کی استدعا کریں۔ نصراللّٰہ خان کے مطابق، انہیں امید ہے کہ ریفرنس پر فوری کارروائی کرکے متعلقہ ممبر کو نااہل قرار دیا جائے گا۔اسپیکر نے اس معاملے پر غور کرنے کے بعد سہیل سلطان کو نااہل قرار دینے کے لئے الیکشن کمیشن کو خط بھیج دیا ہے۔ اس حوالے سے عوامی حلقوں میں بھی تبصرے جاری ہیں، اور لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کیا الیکشن کمیشن اس معاملے پر فوری کارروائی کرے گا۔
سیاسی میدان میں شفافیت اور ایمانداری کی ضرورت کتنی اہم ہے، اور عوامی نمائندوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے عہدوں کے تقاضوں کے مطابق عمل کریں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو سہیل سلطان کی رکنیت خطرے میں پڑ سکتی ہے، جو کہ ان کے حامیوں اور سیاسی حریفوں کے لیے ایک اہم موضوع ہوگا۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں 3 روزہ عام تعطیل کا اعلان
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہی کانفرنس کے باعث 3 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیر، منگل اور بدھ یعنی 14، 15، اور 16 اکتوبر کو دونوں اضلاع میں عام تعطیل ہوگی۔ اس فیصلے کا مقصد کانفرنس کے انعقاد کے دوران جڑواں شہروں میں انتظامی اور حفاظتی امور کو بہتر طریقے سے انجام دینا ہے۔کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کانفرنس کے پیش نظر یہ تعطیل دی جا رہی ہے تاکہ کانفرنس کے دوران دونوں شہروں میں ہونے والی سرگرمیوں کو مؤثر طریقے سے منظم کیا جا سکے۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو ہفتہ اور اتوار کو ویسے ہی چھٹی ہوتی ہے، لہٰذا 3 روزہ تعطیل کے ساتھ سرکاری ملازمین کو مجموعی طور پر 5 روز تک کا آرام میسر ہوگا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کانفرنس ایک انتہائی اہم بین الاقوامی ایونٹ ہے، جس میں رکن ممالک کے سربراہان اور دیگر اہم شخصیات شرکت کریں گی۔ اس کانفرنس کے انعقاد کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں، جس کے دوران جڑواں شہروں میں سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ان تعطیلات کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ جبکہ ایمرجنسی سروسز جیسے ہسپتال، فائر بریگیڈ، اور دیگر ضروری ادارے معمول کے مطابق اپنی خدمات سرانجام دیتے رہیں گے۔شہریوں کو بھی اس دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ سکیورٹی اور انتظامی امور کو بلا رکاوٹ انجام دیا جا سکے۔ عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں تاکہ اس اہم کانفرنس کا انعقاد بغیر کسی رکاوٹ کے ممکن ہو سکے۔
شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) ایک بین الاقوامی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان سکیورٹی، معیشت، اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس تنظیم کے رکن ممالک میں چین، روس، پاکستان، بھارت، اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔









