Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • اسلام آباد: خیبر پختونخوا ہاؤس کو سیل کرنے پر کے پی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کا شدید ردعمل

    اسلام آباد: خیبر پختونخوا ہاؤس کو سیل کرنے پر کے پی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کا شدید ردعمل

    اسلام آباد انتظامیہ اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے خیبر پختونخوا ہاؤس کو سیل کرنے پر خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پختونخوا ہاؤس کو سیل کرنا غیر قانونی اقدام ہے اور یہ وفاقی اکائی پر ایک جعلی حکومت کی جانب سے حملہ ہے۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا ہاؤس خیبر پختونخوا حکومت کی ملکیت ہے اور جعلی حکومت کا یہ اقدام غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اس غیر قانونی اقدام کے خلاف ہر ممکن قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ اس سے پہلے بھی وفاقی حکومت کے احکامات پر خیبر پختونخوا ہاؤس پر دھاوا بولا گیا تھا اور عمارت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جعلی حکمران خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف فسطائیت کے ہر حربے کا استعمال کر رہی ہے، لیکن ان غیر قانونی اقدامات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت اس معاملے کو عدالت میں لے کر جائے گی اور جعلی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کو چیلنج کرے گی۔خیال رہے کہ اس واقعے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت اور وفاق کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ قانونی کارروائی کے بعد معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

  • حافظ نعیم الرحمان کا پی ٹی آئی کے احتجاج کی حمایت اور حکومت کے اقدامات پر شدید تنقید

    حافظ نعیم الرحمان کا پی ٹی آئی کے احتجاج کی حمایت اور حکومت کے اقدامات پر شدید تنقید

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے موجودہ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کا قانونی حق تسلیم کیا جانا چاہیے اور حکومت کو مظاہرین کو سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ امن و امان کے نام پر جمہوری اقدار کی پامالی کر رہی ہے۔ منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے ملک کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے دیگر رہنما، بشمول لیاقت بلوچ، امیر العظیم، اور قیصر شریف بھی موجود تھے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پی ٹی آئی کے احتجاج کو قانونی اور جمہوری حق کے طور پر تسلیم کرے، لیکن اس کے بجائے حکومت نے اسلام آباد کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا ہے اور اس کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف اسلام آباد بلکہ لاہور کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ "ہم نے کئی رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کیا جب ہم شہروں اور دیہاتوں سے گزر کر لاہور پہنچے۔ کنٹینرز کی بھرمار حکومت کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔” حافظ نعیم نے سوال اٹھایا کہ کیا فوج کو عوام کے سامنے لا کھڑا کرنا حکومت کے لیے فائدہ مند ہوگا؟ انہوں نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس سے فوج اور عوام کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
    حافظ نعیم الرحمان نے آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے تحت فوج کو امن و امان کے قیام کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے ملک میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ "آنسو گیس اور عوام کو صوبہ جام کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ مارشل لاء کے دوران بھی ایسی صورتحال نہیں دیکھی گئی جو اس نام نہاد جمہوری حکومت کے دوران پیدا ہو رہی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جو سیاسی جماعت جہاں جلسہ کرنا چاہتی ہے اسے اجازت دی جائے اور راستے کھولے جائیں تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی ہو سکے۔ "پنجاب کا پورا صوبہ پریشانی میں مبتلا ہے۔ موٹروے اور جی ٹی روڈ بند ہیں، بیماروں اور عام شہریوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ حکومت کے پاس طاقت ہے تو وہ اسے عوامی مفاد میں استعمال کرے اور حالات کو بہتر بنائے۔”
    حافظ نعیم الرحمان نے اپنی پریس کانفرنس میں غزہ کی موجودہ صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسرائیل کی بمباری کو بدترین ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں فلسطینی شہری، بشمول بچے اور خواتین، زخمی اور شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے خطے میں جنگ کو مزید پھیلانے کا منصوبہ بنایا ہے، اور اب یمن اور ایران پر بھی حملے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ ایک عالمی جنگ کا آغاز ہو سکے۔امیر جماعت اسلامی نے پاکستان کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر اسلامی ممالک کی کانفرنس طلب کرنی چاہیے تاکہ تمام اسلامی ممالک کو متحد کیا جا سکے۔ "اگر پورا عرب خطہ جنگ کی آگ میں جل رہا ہو گا، تو کیا ہم بچ پائیں گے؟” انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ غزہ کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے اور ایک مشترکہ موقف اپنائے تاکہ دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیا جا سکے۔
    حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 7 اکتوبر کو یوم یکجہتی غزہ منائے گی اور عوام سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس دن دوپہر بارہ بجے سڑکوں پر نکلیں اور اپنے خاندان کے ساتھ مل کر غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ "ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستانی عوام غزہ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ 7 اکتوبر کو لوگ ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کریں اور ثابت کریں کہ وہ غزہ کے ساتھ ہیں۔انہوں نے حکومت کے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا کہ 7 اکتوبر کو یوم یکجہتی غزہ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ملک میں حالات خراب رہے اور صوبے لاک ڈاؤن رہے تو دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟حافظ نعیم الرحمان کی پریس کانفرنس نے موجودہ سیاسی اور علاقائی مسائل پر نہ صرف حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ عوام کو بھی فعال ہونے کی ترغیب دی، خاص طور پر فلسطینی عوام کے لیے حمایت کے اظہار کے لیے 7 اکتوبر کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کا احتجاج رکوانے کی درخواست پر سماعت، وزیر داخلہ اور اہم سرکاری عہدیداران

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کا احتجاج رکوانے کی درخواست پر سماعت، وزیر داخلہ اور اہم سرکاری عہدیداران

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حالیہ احتجاج کو رکوانے کے لیے دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے کی، جس کے دوران اہم حکومتی عہدیداران کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی گئی۔ یہ سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے کورٹ روم نمبر ون میں ہوئی، جہاں درخواست گزار کی نمائندگی راجہ حسن اختر کر رہے تھے۔ سماعت کا آغاز عدالت کے سوالات اور درخواست گزار کے وکیل کی فوری نوعیت کی وضاحت سے ہوا۔چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کے آغاز میں درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اتنی جلدی کیا ہے جس کی وجہ سے ہفتے کے روز کیس کی سماعت کی جا رہی ہے؟ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہفتہ کے روز سماعت عموماً نہیں ہوتی، تاہم اگر درخواست فوری نوعیت کی ہے تو وضاحت کی جائے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے کہ گزشتہ دو دنوں سے اسلام آباد میں شدید احتجاج کی صورتحال ہے، جس کی وجہ سے شہر بھر میں نظام زندگی درہم برہم ہو چکا ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہیں، طلبہ کے امتحانات متاثر ہو رہے ہیں، اور یومیہ ڈیڑھ لاکھ شہریوں کی آمدورفت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آئندہ چند دنوں میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی کانفرنس بھی ہونے جا رہی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد میں ابھی کچھ وقت ہے، تاہم شہریوں کے حقوق اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
    چیف جسٹس عامر فاروق نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے، اور حکومت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا اسی کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ایک شہری کے حقوق کے ساتھ ساتھ دیگر شہریوں کے حقوق کا بھی احترام ضروری ہے، اور حکومت کو اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو حکم دیا کہ سیکریٹری داخلہ کو عدالت میں طلب کیا جائے اور پولیس کے کسی ذمہ دار افسر کو بھی عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ شہر کی موجودہ صورتحال پر وضاحت دی جا سکے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ کو طلب کرنا شاید مناسب نہ ہو، تاہم اگر وہ دستیاب ہیں تو انہیں بھی عدالت میں پیش ہونے کا کہا جائے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق نے شہر میں موبائل سگنلز کی معطلی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ دو دنوں سے موبائل سروس کیوں بند ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی شہری کو ایمرجنسی کی صورت میں ضرورت پڑ جائے تو وہ کیسے مدد حاصل کرے گا؟ عدالت نے کہا کہ شہریوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور حکومت کو اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔
    سیکریٹری داخلہ کی وضاحت
    عدالت میں سیکریٹری داخلہ خرم علی آغا کی آمد پر چیف جسٹس نے براہ راست استفسار کیا کہ شہر کی مکمل بندش کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ سیکریٹری داخلہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ملائشیا کے وزیراعظم اسلام آباد میں موجود تھے، جس کی وجہ سے سکیورٹی خدشات کے تحت یہ اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند روز میں اہم سعودی وفد بھی پاکستان پہنچ رہا ہے، جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس بھی ملک کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اس لیے حکومت کو حفاظتی اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو شہریوں کے برابر کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے متوازن فیصلے کرنے ہوں گے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے حقوق کا تحفظ کرے اور انہیں ان کی بنیادی ضروریات سے محروم نہ کرے۔سماعت کے اختتام پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ اور دیگر سرکاری عہدیداران کو حکم دیا کہ وہ امن و امان کی صورتحال اور شہریوں کے حقوق کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کریں اور آئندہ سماعت پر عدالت کو تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔

  • ایوان عدل ،جی پی او چوک اور مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کا احتجاج، حکومتی کریک ڈاؤن

    ایوان عدل ،جی پی او چوک اور مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کا احتجاج، حکومتی کریک ڈاؤن

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے زیر اہتمام اسلام آباد کے بعد لاہور میں بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان جھڑپوں اور گرفتاریوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ اس احتجاج کا مقصد بانی تحریک انصاف، عمران خان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنا اور کارکنوں کی گرفتاریوں پر احتجاج ریکارڈ کروانا ہے۔لاہور میں احتجاج کا آغاز جی پی او چوک سے ہوا، جہاں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پرچم اٹھا کر حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کی۔ کارکنوں کا مطالبہ تھا کہ پارٹی قیادت کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات اور کارکنوں کی گرفتاریوں کو فوری روکا جائے۔ تاہم، جب مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوا اور احتجاج زیادہ منظم ہوا تو پولیس نے فوری طور پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔ کریک ڈاؤن کے دوران معروف وکیل اور پی ٹی آئی کے قانونی مشیر سلمان اکرم راجا سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
    لاہور میں ایوان عدل کے باہر پولیس اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے وکلا کے درمیان تصادم کا واقعہ پیش آیا ہے۔ تصادم کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گیا۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے وابستہ 6 سے زائد وکلا کو گرفتار کر لیا ہے۔ زخمی پولیس اہلکار کو طبی امداد کے لیے پی ایم جی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز نے اس واقعے پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں شرپسند عناصر پولیس اہلکاروں کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور انتشار پھیلانے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
    مینار پاکستان سے بھی پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جہاں ایک خاتون کارکن نے تمام سیکیورٹی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے مینارِ پاکستان کے پل تک رسائی حاصل کی اور وہاں پہنچ کر پارٹی پرچم لہرایا۔ یہ واقعہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے لیے چیلنج ثابت ہوا، جس نے سیکیورٹی رکاوٹوں کو مزید سخت کرنے پر مجبور کر دیا۔ پولیس نے فوری طور پر خاتون کارکن سمیت کئی دیگر کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔احتجاج کے نتیجے میں لاہور کے مختلف علاقوں میں داخلی اور خارجی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر جی پی او چوک، داتا دربار اور مینارِ پاکستان کے گردونواح میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ شہریوں کی روزمرہ کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، اور جگہ جگہ ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کو دفاتر اور دیگر مقامات پر پہنچنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ سڑکوں پر کنٹینرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری تعداد موجود ہے، جس سے آمدورفت کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔
    پنجاب حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے پہلے سے موجود پولیس کی نفری کے ساتھ ساتھ فوج کو بھی تعینات کیا تھا، تاہم بڑھتے ہوئے مظاہروں اور کشیدہ صورتحال کے پیش نظر رینجرز کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ رینجرز کی تعیناتی کا مقصد مظاہروں کو قابو میں رکھنا اور لاہور میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے اور شہر میں مزید انتشار پھیلنے سے روکا جا سکے۔
    پی ٹی آئی کی قیادت نے ان گرفتاریوں اور حکومتی کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عمران خان نے اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ کارکنوں کی بلا جواز گرفتاریوں کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے۔

  • علی امین گنڈاپور کی گرفتاری: رینجرز اور اسلام آباد پولیس کے اقدام پر عمر ایوب کا رد عمل

    علی امین گنڈاپور کی گرفتاری: رینجرز اور اسلام آباد پولیس کے اقدام پر عمر ایوب کا رد عمل

    علی امین گنڈاپور کو اسلام آباد کے کے پی ہاؤس سے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا، جو آئینی اور قانونی حدود کی کھلی خلاف ورزی ہے۔علی امین گنڈاپور کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب وہ خیبرپختونخوا ہاؤس میں موجود تھے۔ عمر ایوب نے اپنے بیان میں کہا کہ رینجرز اور اسلام آباد پولیس نے کے پی ہاؤس کی حدود میں داخل ہوکر کارروائی کی، جو ایک آئینی ادارے کے تقدس کی خلاف ورزی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے اس اقدام کو "غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین، آئین کے تحت ریاست پاکستان کا حصہ ہیں اور اس طرح کی گرفتاری ایک آئینی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
    اپنے بیان میں عمر ایوب نے مزید کہا کہ رینجرز، پولیس اور آرمڈ فورسز ریاست کے آلات ہیں اور انہیں آئین کے تحت چلنا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لاء لگ چکا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کا یہ اقدام جمہوری اداروں پر حملے کے مترادف ہے اور فارم 47 کی حکومت کے لیے یہ قدم ان کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔
    عمر ایوب نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اس گرفتاری کے خلاف ہر قانونی راستہ اختیار کرے گی اور اس معاملے کو عدالتوں تک لے جایا جائے گا۔ انہوں نے رینجرز اور پولیس کے اس اقدام کو آئین سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی اجاگر کیا جائے گا، تاکہ دنیا کو پاکستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا علم ہو سکے۔پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے حالیہ دنوں میں مختلف شہروں میں کارکنان اور رہنماؤں کی گرفتاریوں پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کو پارٹی کے لیے ایک اور بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب پی ٹی آئی نے ملک میں سیاسی بحران اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی مہم شروع کر رکھی ہے۔علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے کارکنوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں پی ٹی آئی کے حمایتی سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آرہے ہیں اور حکومت سے فوری طور پر علی امین کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
    اب تک حکومت کی جانب سے علی امین گنڈاپور کی گرفتاری پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق علی امین پر مبینہ طور پر قانون شکنی اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں۔

  • پی ٹی آئی کے رہنما خود باہر نہیں آتے، دوسروں کو احتجاج کیلیے بھڑکاتے ہیں ، فیصل واوڈا

    پی ٹی آئی کے رہنما خود باہر نہیں آتے، دوسروں کو احتجاج کیلیے بھڑکاتے ہیں ، فیصل واوڈا

    سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک بار پھر خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورنر راج لگانے سے پی ٹی آئی کو سیاسی شہید نہیں بنانا چاہیے۔ واوڈا نے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت کی جانب سے جو وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں، وہ علی امین گنڈا پور کے زیر استعمال ہیں۔انہوں نے پی ٹی آئی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے رہنما خود باہر نہیں نکلتے اور دوسروں کو احتجاج کے لیے اکساتے ہیں۔ فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور کی اسلام آباد آمد کے حوالے سے پہلے ہی پریس کانفرنس میں بتا دیا تھا کہ وہ ڈی چوک نہیں آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں پی ٹی آئی کو لاشیں چاہیے تھیں، لیکن انہیں لاشیں نہیں ملیں گی۔

    واوڈا نے حکومت کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی نالائق حکومت پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ انہوں نے کنٹینرز لگانے کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے عام آدمی کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک طوفان نہیں بلکہ پانی کا بلبلا ہے، اور ان کے غبارے میں ہوا حکومت بھرتی ہے۔
    پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ پارٹی کے رہنما جیسے عمر ایوب احتجاج میں کہاں ہیں؟ جو خود باہر نہیں نکلتے، وہ دوسروں کو احتجاج میں جانے کا کہہ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاری کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا جیل سے نکلنا تقریباً ناممکن ہے۔

    ایس آئی ایف سی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اس کی بدولت ملک کے معاشی حالات میں بہتری آ رہی ہے اور 21 اکتوبر تک ملک کے کئی مسائل حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی میں بھی کمی آئے گی۔واوڈا نے طنزیہ طور پر کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنے بچوں کو احتجاج میں شامل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مقابلے میں اگر کوئی شخص قمیض اتار کر کھڑا ہو جائے تو وہ زیادہ لوگوں کو اکٹھا کر لے گا۔ نااہل حکومت کو جلسے کی اجازت دینی چاہیے تھی، اگر اجازت مل جاتی تو اتنی ہائپ نہ بنتی، حکومت پی ٹی آئی کی مارکٹنگ فورس بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو ملک کے معاشی حالات بہتر کرنے کا کریڈٹ دینا چاہیے، کیونکہ فوج نے آئی پی پیز کے معاملے پر بھی مذاکرات کیے ہیں اور ملک میں بجلی کے بلوں میں کمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ واوڈا نے کہا کہ ہمیں فوج کو ان کی کوششوں کا کریڈٹ دیتے ہوئے جھجک نہیں کرنی چاہیے۔

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا کنٹرول روم کا دورہ: امن و امان کی بحالی اور شہریوں کی حفاظت کی یقین دہانی

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کنٹرول روم کا دورہ: امن و امان کی بحالی اور شہریوں کی حفاظت کی یقین دہانی

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے رات گئے وزارت داخلہ کے کنٹرول روم کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے دارالحکومت کے مختلف حصوں کی مانیٹرنگ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر سیکرٹری داخلہ خرم علی آغا بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔وزیر داخلہ نے کنٹرول روم میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے اسلام آباد کے مختلف علاقوں کی براہ راست نگرانی کی۔ انہوں نے شہر میں امن و امان کی صورتحال کا بغور مشاہدہ کیا اور اس حوالے سے اہلکاروں سے معلومات حاصل کیں۔ وزیر داخلہ کو اسلام آباد کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور حفاظتی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
    محسن نقوی نے کنٹرول روم میں اہلکاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ حکومت شر پسند عناصر پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کنٹرول روم کے اہلکاروں کو ہدایت دی کہ وہ دارالحکومت میں ہونے والی کسی بھی مشکوک یا غیر قانونی سرگرمی پر فوری کارروائی کریں تاکہ شہر کے امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
    وزیر داخلہ نے کنٹرول روم کے عملے اور سیکیورٹی فورسز کی خدمات کو سراہا اور ان کی مستعدی اور کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ چوکسی اختیار کیے ہوئے ہے اور اسلام آباد کے رہائشیوں کو ایک محفوظ اور پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔بریفنگ کے دوران وزیر داخلہ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موجودہ تیاریوں پر بھی آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور عوام کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات پہلے سے طے شدہ ہیں۔

  • گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کی افواہیں مسترد کر دی

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کی افواہیں مسترد کر دی

    خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج سے متعلق فی الحال کوئی سوچ نہیں ہے، حالانکہ آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابھی گورنر راج کی بات نہیں ہوئی، اور یہ بھی کہا کہ "کل کا پتہ نہیں۔”نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) یہ چاہتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگے تاکہ وہ خود کو سیاسی شہید ثابت کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "میری پوری کوشش ہوگی کہ سیاسی یتیموں کو سیاسی شہید نہ بنایا جائے۔گورنر ن کے پی نے مزید کہا کہ "جو لوگ ملک دشمنی پر اتر آئیں، ان کے لیے کیا رول پلے کیا جا سکتا ہے؟” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے چین کے صدر کے دورے کے دوران دھرنا دیا۔ فیصل کریم کنڈی نے یاد دلایا کہ جب ملائیشیا کا وزیراعظم آیا تو پی ٹی آئی نے احتجاج شروع کر دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ "آئی ایم ایف کو خط کس نے لکھے تھے؟” اور یہ بھی کہ "انہوں نے بھی آنسو گیس شیل خرید رکھے ہیں۔ جو کرتوت بانی پی ٹی آئی نے کیے، وہ بھگتیں گے۔”
    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ "جلسے جلوس سے بانی پی ٹی آئی باہر نہیں آئیں گے۔” انہوں نے اس بات پر تنقید کی کہ بانی پی ٹی آئی چاہتے ہیں کہ انہیں این آر او دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ڈی چوک آ بھی جائیں تو وہاں آ کر کیا کریں گے؟ "کیا انہیں سرکاری املاک کو جلانے کی اجازت دی جائے گی؟گورنر نے مزید کہا کہ "یہ ماضی میں بھی کندھوں پر سوار ہو کر آئے تھے، اور اب بھی ان کی خواہش ہے کہ انہیں بیساکھیوں سے لایا جائے۔” انہوں نے علی امین گنڈا پور کے بارے میں کہا کہ "جب سے ان کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوا، وہ متعلقہ مقام پر نہیں پہنچیں گے۔” فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ "علی امین گنڈا پور ڈی چوک نہیں پہنچیں گے، اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔
    یاد رہے کہ فیصل کریم کنڈی نے حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے، جس میں انہوں نے صوبے کی سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ ملاقات کے دوران، فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ وہ مرکز کی جانب سے دی جانے والی کسی بھی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے تیار ہیں۔

  • فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں ، بیر سٹر سیف

    فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں ، بیر سٹر سیف

    خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ڈی چوک پہنچ کر احتجاج کریں گے اور محسن نقوی کو چائے پلائیں گے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کےدوران انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومت کے اقدامات پر بات کی۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ڈی چوک پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گی اور یہ احتجاج تحریک انصاف کے بانی کی کال پر ختم ہوگا۔ انہوں نے اسلحہ لانے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "وزیر داخلہ غلط بیانی کر رہے ہیں، ہم اسلحہ کیوں لائیں گے؟” ان کا مزید کہنا تھا کہ پر امن احتجاج ان کے مفاد میں ہے اور اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری مخالفین پر ہوگی۔
    بیرسٹر محمد علی سیف نے فوج کے ساتھ مقابلے کی افواہوں کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ہم فوج سے کیوں مقابلہ کریں گے؟ ہمارا ان سے کوئی جھگڑا نہیں ہے، بلکہ ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ فوج تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کے لیے نہیں بلکہ ایس سی او کی سیکیورٹی کے لیے آ رہی ہے۔
    جمہوریت میں احتجاج کے حق پر زور دیتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ آئین کے آرٹیکلز 17 اور 15 کے تحت ہر شہری کو پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے محسن نقوی کی جانب سے دیے گئے بیانات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ہمیں ملک کی پرواہ ہے اور ہم آئینی حقوق کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کریں گے۔”

  • پاک فوج کی اسلام آباد میں تعیناتی: آرٹیکل 245 کے تحت سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لی گئی

    پاک فوج کی اسلام آباد میں تعیناتی: آرٹیکل 245 کے تحت سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لی گئی

    اسلام آباد: وزارت داخلہ نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاکستان کے فوجی دستوں کی تعیناتی کے احکامات جاری کیے ہیں، جس کے بعد پاک فوج نے اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ یہ اقدام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کی بحالی کے لیے کیا گیا ہے، خصوصاً شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سمٹ کے قریب آنے کی وجہ سے۔ذرائع کے مطابق، پاک فوج کے دستوں کی تعیناتی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اب فوج کے جوان شہر بھر میں گشت کر رہے ہیں۔ یہ گشت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی شرپسند کو امن و امان کے حالات کو بگاڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔
    ایس سی او سمٹ کے انعقاد کی تیاریوں کے سلسلے میں وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ تعیناتی 17 اکتوبر تک برقرار رہے گی۔ اس وقت اسلام آباد میں مختلف ممالک کے رہنما اور نمائندے اس سمٹ میں شرکت کے لیے آئیں گے، اور حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ تمام شرکاء کی سیکیورٹی کو اعلیٰ درجے پر برقرار رکھا جائے۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات کے مطابق، پاک فوج کی موجودگی شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی حفاظت کے لیے بھی ضروری ہے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوام کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال کا سامنا ہے، اور عوامی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وزارت داخلہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں۔اس طرح، اسلام آباد میں پاک فوج کی تعیناتی ایک اہم قدم ہے جو کہ نہ صرف شہریوں کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والے اہم اجلاس کے دوران امن و امان کی صورتحال کو بھی مستحکم کرتا ہے۔