Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • اسلام آباد: تحریک انصاف کے کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپیں، ایکسپریس وے کی لائٹس بند

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپیں، ایکسپریس وے کی لائٹس بند

    اسلام آباد میں تحریک انصاف (PTI) کے کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جس کے باعث حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے دارالحکومت کے اہم علاقوں میں لائٹس بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق، ایکسپریس وے پر لائٹس بند کر دی گئی ہیں، جس سے علاقے میں اندھیرا چھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈی چوک کے قریب جناح ایونیو کی لائٹس بھی بند کر دی گئیں۔ذرائع کے مطابق جناح ایونیو اور ڈی چوک کے علاقوں میں پولیس، ایلیٹ فورس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) کی بھاری نفری تعینات ہے۔ اہلکاروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے احتجاجی کارکنان پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اہم اجلاس
    ان صورتحال کے پیش نظر وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس شروع ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اجلاس میں پولیس افسران کو خصوصی طور پر آر بلاک طلب کیا گیا ہے جہاں موجودہ حالات کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں آئی جی اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر (DC)، ڈی آئی جی آپریشنز اور دیگر اعلیٰ افسران شریک ہیں۔
    محسن نقوی کی زیر صدارت اس اجلاس میں احتجاجی صورتحال پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس افسران کو مظاہرین سے نمٹنے اور امن و امان کی بحالی کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔

    احتجاجی مظاہرین کی تعداد میں اضافہ
    دوسری جانب، PTI کے کارکنان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور مظاہرین مختلف علاقوں سے ڈی چوک کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے متعدد سڑکیں اور راستے بند کیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کو مرکزی علاقوں تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ تاہم، مظاہرین کی جانب سے سڑکوں کی رکاوٹیں عبور کرنے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب حکومت کی جانب سے لائٹس بند کرنے کا فیصلہ سامنے آیا، جس کا مقصد احتجاجی مظاہرین کو روکنے کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنا ہے۔ تاہم، احتجاجی مظاہرین کی بڑی تعداد کے پیش نظر یہ کوششیں ناکافی نظر آ رہی ہیں۔اجلاس کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے مزید اقدامات کا اعلان متوقع ہے۔ حکومت کی حکمت عملی اس وقت مظاہرین کو منتشر کرنے اور امن و امان کی بحالی پر مرکوز ہے، تاہم احتجاج کی شدت اور مظاہرین کے عزم کو دیکھتے ہوئے صورتحال مزید گھمبیر ہو سکتی ہے۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری  سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی اہم ملاقات، کے پی کی سیکیورٹی صورتحال پر غور

    وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی اہم ملاقات، کے پی کی سیکیورٹی صورتحال پر غور

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وفاقی وزراء محسن نقوی، احسن اقبال اور احد چیمہ بھی شریک تھے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اس اہم ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر کے پی میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی کے خطرے اور احتجاجی تحریکوں سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔
    kundi
    صدر زرداری کی اہم ہدایات
    دریں اثناء، ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری نے بھی گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو اسلام آباد میں موجود رہنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ ہدایت اُس وقت سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف کے کارکنان ڈی چوک میں احتجاج کر رہے ہیں، اور اسلام آباد کی صورتحال کشیدہ ہے۔ صدر زرداری کی ہدایت کا مقصد وفاقی حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنا اور صوبے کی نمائندگی کو یقینی بنانا ہے تاکہ احتجاجی سرگرمیوں سے نمٹنے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
    تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے ڈی چوک میں جاری احتجاج کے سبب اسلام آباد میں صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے۔ مقامی انتظامیہ مظاہرین کو قابو میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، جبکہ وفاقی حکومت کے بڑے بھی اس مسئلے کے حل کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ اس دوران خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی اسلام آباد کی جانب پیش قدمی نے مزید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اور اس سے منسلک مسائل کے حوالے سے وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان قریبی تعاون ضروری ہے۔ وزیر اعظم اور گورنر خیبرپختونخوا کی اس ملاقات کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے تاکہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے موثر اقدامات کئے جا سکیں۔
    ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں خیبرپختونخوا کے حوالے سے اہم فیصلے کئے جا سکتے ہیں۔ حکومت سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے اور صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، جن میں ممکنہ طور پر انتظامی تبدیلیاں اور مزید سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی شامل ہو سکتی ہے۔اس ملاقات میں کئے گئے فیصلے خیبرپختونخوا کے عوام کے تحفظ اور ملک کے استحکام کے لئے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔

  • خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کٹی پہاڑی پر مظاہرین کے ساتھ شدید مزاحمت کا سامنا

    خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کٹی پہاڑی پر مظاہرین کے ساتھ شدید مزاحمت کا سامنا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور، جو کٹی پہاڑی کے مقام پر موجود ہیں، نے اپنے قافلے کی صورتحال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، "جسے گولی مارنی ہے، مجھے مارے، گولی سینے پر مارنا، چھپ کر نہ مارنا۔” ان کے اس بیان نے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ گنڈا پور کی قیادت میں پی ٹی آئی کارکنوں کا قافلہ چھچھ اور برہان کے راستے کنٹینرز ہٹا کر جمعہ کی سہ پہر براہمہ پہنچا تھا۔ تاہم، پولیس کی شیلنگ کے باعث یہ قافلہ براہمہ پر ہی پھنس گیا۔ کچھ وقت بعد، قافلے نے آگے بڑھنے کی کوشش کی اور کامیاب ہو گیا۔تاہم، شام کو تقریباً پونے 8 بجے، کٹی پہاڑی پر علی امین گنڈا پور کے قافلے پر شدید شیلنگ کا آغاز ہوا، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ اس شدید شیلنگ کے دوران علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا، اور مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کا سلسلہ جاری ہے۔یہ واقعہ خیبرپختونخوا میں سیاسی کشیدگی کی ایک اور مثال ہے، جس میں مظاہرین کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان کی معیشت مستحکم، عالمی سطح پر اعتراف: عطا تارڑ کی پریس کانفرنس

    پاکستان کی معیشت مستحکم، عالمی سطح پر اعتراف: عطا تارڑ کی پریس کانفرنس

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کی معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم نکات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شرح سود میں کمی نے معیشت کو مستحکم کیا ہے، اور دنیا بھر کے ممالک اس پیشرفت کو تسلیم کر رہے ہیں۔عطا تارڑ نے بتایا کہ سعودی عرب سے ایک اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان کا دورہ کرنے والا ہے، جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس بھی پاکستان میں منعقد کی جائے گی۔ اس کانفرنس میں 12 ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے، جو کہ پاکستان کی عالمی سطح پر اہمیت کا ثبوت ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری، تجارت، اور سیاحت کے لیے ایک نئی منزل بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے ملک کی نئی پالیسیوں کی کامیابی پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کے بارے میں ہر ملک مثبت بات کر رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ملائیشیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا اور ملائیشین وزیراعظم کے متوقع دورے کو پاکستان کی معیشت کے لیے خوش آئند قرار دیا۔
    عطا تارڑ نے آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی کو بھی اجاگر کیا، جس کے نتیجے میں ملک کی معیشت مستحکم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر نے بھی پاکستان کے ٹیکس اصلاحات کی تعریف کی ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکس فائلرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں بھی اضافہ ہوگا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اسٹاک ایکسچینج میں روز نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں، اور مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے جو کہ 32 فیصد سے کم ہو کر 6.9 فیصد پر آ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایکسپورٹس میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ملکی تجارتی خسارہ بھی کم ہوا ہے۔عطا تارڑ نے عالمی رہنماؤں اور جریدوں کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ چائنہ نے بھی شہباز شریف کی قیادت کی تعریف کی ہے اور یہ امید ظاہر کی ہے کہ اگر معیشت بحال ہو گئی تو ملک کی ترقی میں مزید اضافہ ہوگا۔
    وزیر اطلاعات نے سیاسی مخالفین کو مشورہ دیا کہ وہ بھی دنیا کی طرح معیشت میں بہتری کی تعریف کریں۔ انہوں نے خاص طور پر وزیراعظم کی جنرل اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کی تعریف کی، جسے اپوزیشن کے رہنماؤں نے بھی سراہا۔عطا تارڑ نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی اور دیگر صوبوں کے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی قیمتوں کے کنٹرول کے لیے کمیٹیاں بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ مہمان نواز ہونے کی حیثیت سے ہمیں ایک اچھا پاکستان دکھانا چاہیے تاکہ ملائیشین وزیراعظم کا دورہ مثبت اثرات چھوڑ سکے۔عطا تارڑ کا یہ بیان پاکستان کی معیشت کی بہتری اور بین الاقوامی تعلقات میں نئے مواقع کے حوالے سے اہم اشارے فراہم کرتا ہے، جو ملک کی ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • روسی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف کا دورہ پاکستان

    روسی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف کا دورہ پاکستان

    روسی فیڈریشن کی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف کرنل جنرل سرگئی یوروویچ اسٹراکوف نے پاکستان کا ایک اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹر، راولپنڈی میں چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی اور پیشہ ورانہ امور سمیت دفاعی تعاون پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ملاقات میں دونوں فریقوں نے دوطرفہ دفاعی تعاون میں ہونے والی مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا اور کرنل جنرل سرگئی یوروویچ اسٹراکوف نے اس بات پر زور دیا کہ دفاعی شراکت داری میں مزید مضبوطی اور استحکام لانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔
    ملاقات کے دوران خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور اس کے اثرات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں عسکری رہنماؤں نے علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ دفاعی حکمت عملی خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق، کرنل جنرل سرگئی یوروویچ اسٹراکوف نے پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کی بھرپور تعریف کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے عالمی دہشت گردی کے خاتمے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس کی دنیا بھر میں پذیرائی ہونی چاہیے۔
    روس اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون پہلے ہی سے ایک مستحکم تعلقات کی بنیاد پر استوار ہے۔ حالیہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس تعاون کو مزید وسعت دینے اور دفاعی تکنیکی تبادلے، مشترکہ فوجی مشقوں اور تربیتی پروگرامز کو فروغ دینے کے مواقع کا جائزہ لیا۔یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دفاعی تعلقات کی ایک اور اہم کڑی ہے۔ روس اور پاکستان نے حالیہ برسوں میں دفاعی شراکت داری کو مضبوط کیا ہے، جس میں متعدد فوجی تربیتیں، مشقیں اور ہتھیاروں کے تبادلے شامل ہیں۔ روس نے خاص طور پر پاکستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے قریبی تعاون کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعلقات کو فروغ ملا ہے۔کرنل جنرل سرگئی یوروویچ اسٹراکوف کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی کی صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے، اور عالمی سطح پر طاقتوں کے درمیان نئے اتحاد اور کشیدگیوں کا دور چل رہا ہے۔ اس تناظر میں، روس اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات کو فروغ دینا نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔اس دورے اور ملاقات کے نتیجے میں روس اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات میں مزید مثبت پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کی عسکری قیادت کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے آنے والے دنوں میں خطے کے سیکیورٹی ماحول پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔یہ ملاقات پاکستان کی عالمی عسکری اور سیکیورٹی معاملات میں اہمیت اور کردار کو واضح کرتی ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان مزید قریبی تعاون کے راستے ہموار کرتی ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی اور اسرائیل کی ملی بھگت، خواجہ آصف کا الزام

    بانی پی ٹی آئی اور اسرائیل کی ملی بھگت، خواجہ آصف کا الزام

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اسرائیل کو پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے ممکنہ عواقب کے بارے میں غور کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، اور یہ اقدامات بانی پی ٹی آئی کے ذریعے ہو رہے ہیں۔خواجہ آصف نے سی پیک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان اور چین کے درمیان اہم ترین معاہدے ہو رہے تھے، بانی پی ٹی آئی کی طرف سے حملے کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے اسرائیل کی سازش کا حصہ ہیں، جو پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ حالیہ ایس سی او (شنگھائی تعاون تنظیم) اجلاس کے موقع پر بھی احتجاج شروع کیا گیا ہے، جو ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام واقعات کو جوڑا جائے تو پاکستان کے خلاف ایک بڑے منصوبے کا حصہ نظر آتا ہے۔ خواجہ آصف نے عوام کو یقین دلایا کہ یہ سازشیں بے نقاب ہو رہی ہیں اور عوام کو جلد ہی تمام معاملات سمجھ میں آ جائیں گے۔
    وزیر دفاع نے آئینی ترمیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس پر بحث ہو رہی ہے، لیکن سیاسی انتشار اور احتجاج کی سیاست اب ایک بار پھر سے عروج پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 126 دن کے دھرنے کے بعد دوبارہ انتشار پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان ایک اہم ترین عالمی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے۔خواجہ آصف نے اسرائیل کے ایجنڈے اور بانی پی ٹی آئی کے کردار پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اسرائیل کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں اور ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل براہِ راست پاکستان سے مقابلہ نہیں کرسکتا، اور اس لیے بانی پی ٹی آئی کو استعمال کرکے سازش کی جا رہی ہے۔
    خواجہ آصف نے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو یہ بات اچھی طرح سمجھنا ہوگی کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اگر اسرائیل نے پاکستان کے خلاف کوئی جارحانہ قدم اٹھایا تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے لیے پاکستان سے براہِ راست پنگا لینا ممکن نہیں ہے، کیونکہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے باعث اسے سنگین ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔خواجہ آصف کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازشیں جاری ہیں، لیکن حکومت نے ان سازشوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کا عزم کیا ہوا ہے۔

  • حکومتی کارروائیاں غیر قانونی اور سیاسی انتقام ہیں: علی امین گنڈاپور

    حکومتی کارروائیاں غیر قانونی اور سیاسی انتقام ہیں: علی امین گنڈاپور

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پرامن سیاسی کارکنوں پر بے تحاشا شیلنگ اور فائرنگ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی کارکن زخمی ہوچکے ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ گنڈاپور نے اس صورتحال کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا قافلہ برہان انٹرچینج کے قریب روک دیا گیا ہے، جہاں موٹر وے کو کھود کر بند کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں اسلام آباد جانے سے روکا جاسکے۔علی امین گنڈاپور نے اپنے بیان میں کہا، "ہمارا قافلہ صوابی سے روانہ ہوا تھا اور ہم ڈی چوک پہنچنے کے لیے پرعزم ہیں۔ تمام رکاوٹوں کے باوجود ہم اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کریں گے۔” انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ قافلے میں شامل کارکنان ہیوی مشینری کا استعمال کرتے ہوئے راستے میں لگائی گئی رکاوٹیں ہٹا رہے ہیں۔ برہان انٹرچینج کے قریب پولیس نے قافلے کو روکنے کے لیے شیلنگ کی، جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔
    دوسری طرف، اسلام آباد میں حالات مزید کشیدہ ہوچکے ہیں۔ ڈی چوک کو کنٹینر لگا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے تاکہ مظاہرین کو وہاں پہنچنے سے روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ، اسلام آباد میں داخل ہونے والے اہم راستوں کو بھی کنٹینرز اور دیگر رکاوٹوں سے بند کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری ہر جگہ تعینات ہے اور کسی بھی غیر قانونی کارروائی کو روکنے کے لیے مستعد ہے۔فیض آباد چوک پر پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی، جس سے علاقے میں صورت حال مزید بگڑ گئی۔ اس جھڑپ میں کئی کارکن زخمی ہو گئے اور متعدد کو گرفتار کر لیا گیا۔راولپنڈی میں بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں شمس آباد کے علاقے میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ یہاں بھی کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں اور اب تک درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں، خاص طور پر بلیو ایریا جناح ایونیو پر چائنہ چوک کے مقام پر پی ٹی آئی کے کارکنوں پر مسلسل شیلنگ کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عوامی املاک کو محفوظ رکھنے اور قانون کی عملداری کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
    علی امین گنڈاپور نے حکومت کی ان سخت کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات سیاسی انتقام کے زمرے میں آتے ہیں اور انہیں کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے اور حکومت کو اپنے مخالفین پر طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔ "ہم اپنے کارکنوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے اور اپنے آئینی حق کے حصول کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،” گنڈاپور نے واضح کیا۔
    اس ساری صورتحال میں ملک بھر میں سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو چکا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے مزید بڑھا سکتی ہے اور سیاسی بحران کو طول دے سکتی ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں کچھ لوگ حکومت کی کارروائیوں کو ضروری سمجھتے ہیں، وہیں دوسری طرف کئی حلقے اسے سیاسی کارکنوں کے خلاف غیر ضروری تشدد قرار دے رہے ہیں۔سیاسی صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی مذاکراتی عمل شروع ہوتا ہے یا پھر حالات مزید بگڑتے ہیں۔ علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کی جانب سے آئندہ کی حکمت عملی کیا ہوگی، اس پر بھی نظر رکھی جائے گی، جبکہ حکومت کا ردعمل اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا موجودہ کشیدگی کا خاتمہ جلد ممکن ہوگا یا نہیں۔

  • حکومت کے ریاستی جبر کا عوام بھرپور جواب دیں گے ،بیرسٹر سیف

    حکومت کے ریاستی جبر کا عوام بھرپور جواب دیں گے ،بیرسٹر سیف

    پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے رہنما بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اپنے تازہ بیان میں ملک کی سیاسی صورتحال اور حکومت کے اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی کال پر عوام کا سمندر ڈی چوک کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کا قافلہ صوابی سے نکل کر اٹک کی طرف روانہ ہو چکا ہے، جس میں عوام کا جوش و خروش قابل دید ہے۔بیرسٹر سیف نے زور دے کر کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور عوام، جو کہ پُرامن احتجاج کی نیت سے نکلے ہیں، اپنی تحریک کو ڈی چوک تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق کے لیے یہ تحریک ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے جسے وفاقی اور صوبائی حکومتیں سنجیدگی سے نہیں لے رہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوابی سے آگے موٹروے پر کیل بچھائے گئے ہیں تاکہ احتجاج کرنے والوں کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔بیرسٹر سیف نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ پُرامن لوگوں سے خوفزدہ ہو چکی ہے اور اسی وجہ سے ایسے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے جو جمہوری اصولوں کے منافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے مینڈیٹ چوری کرنے والے حکمرانوں کے خلاف نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ ان سے حساب لینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ نے پُرامن احتجاج کے دوران حالات کو بگاڑنے اور لاشیں گرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کے مسلح کارکنان کو احتجاج میں شامل کرنے کے شواہد ملے ہیں، جو کہ تحریک انصاف کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ بیرسٹر سیف نے اس حوالے سے برہان انٹرچینج کے قریب موٹروے کی کھدائی کا بھی ذکر کیا، جو ان کے بقول احتجاج کو زبردستی پُرتشدد بنانے کی ایک کوشش ہے۔
    پی ٹی آئی رہنما نے حکومت کے رویے کو ریاستی جبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنے حقوق کے لیے نکلنے والے عوام کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتیں پُرامن احتجاج کو پُرتشدد بنانا چاہتی ہیں تاکہ وہ تحریک انصاف کو بدنام کر سکیں، لیکن عوامی ردعمل ان تمام حربوں کا بھرپور جواب دے گا۔بیرسٹر سیف نے شریف خاندان کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ن لیگ اپنی "گندی سیاست” کے لیے قومی اداروں کا استعمال کر رہی ہے، جو کہ ملکی سیاست اور جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کو سیاسی اداروں تک محدود رہنا چاہیے اور شریف خاندان کو عوام پر مسلط کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شریف خاندان بین الاقوامی سطح پر ایک کرپٹ سیاسی خاندان کے طور پر ثابت ہو چکا ہے، اور پاکستانی عوام کے لیے یہ خاندان کسی سزا سے کم نہیں ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کی سیاسی و اقتصادی صورت حال اس قدر بدتر ہو چکی ہے کہ اب شریف خاندان سے نجات ضروری ہو چکی ہے۔
    بیرسٹر سیف نے اپنے بیان کے اختتام پر زور دیا کہ تحریک انصاف عوام کی طاقت پر بھروسہ رکھتی ہے اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف کی جانے والی تمام سازشوں کو ناکام بنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک عوام کے حقوق کی بازیابی کی تحریک ہے، جسے کسی بھی قیمت پر نہیں روکا جا سکتا۔پاکستان میں اس وقت سیاسی کشمکش عروج پر ہے، اور تحریک انصاف کی قیادت یہ واضح پیغام دے رہی ہے کہ وہ عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ PTI کی یہ احتجاجی تحریک آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، اور دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کس طرح اس صورتحال سے نمٹتی ہے۔

  • اسلام آباد: تحریک انصاف کے کارکنان کا احتجاج جاری، انتظامیہ نے ڈی چوک کی لائٹس بند کر دیں

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے کارکنان کا احتجاج جاری، انتظامیہ نے ڈی چوک کی لائٹس بند کر دیں

    اسلام آباد میں تحریک انصاف کے کارکنان کا احتجاج جاری ہے، جس کے جواب میں انتظامیہ نے ڈی چوک کی تمام لائٹس بند کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جناح ایونیو پر بھی لائٹس بند کی گئی ہیں۔ احتجاج کے دوران پولیس، ایلیٹ فورس، اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی بھاری نفری جناح ایونیو اور ڈی چوک پر موجود ہے، جس کی وجہ سے صورتحال میں مزید کشیدگی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔تحریک انصاف کے رہنما نعیم پنجوٹا بھی احتجاج میں شرکت کے لیے ڈی چوک پہنچ گئے ہیں، جس سے مظاہرین کے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں۔
    دوسری جانب، وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس بھی شروع ہو گیا ہے، جس میں انہوں نے پولیس افسران کو آر بلاک طلب کیا ہے۔ اجلاس میں آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی آپریشن، اور دیگر افسران بھی شریک ہیں۔ اس اجلاس میں احتجاج کے پیش نظر پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان علاقوں سے دور رہیں۔

  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر فضائی معائنہ

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر فضائی معائنہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جاری احتجاج کے پیش نظر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے مختلف علاقوں کا فضائی دورہ کیا تاکہ سیکیورٹی انتظامات اور مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے۔وزیر داخلہ نے معائنہ کے دوران سیکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور ایسی ہدایات جاری کیں کہ امن و امان خراب کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت میں کسی بھی شخص کو امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔محسن نقوی نے یہ بھی یقین دلایا کہ اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس ہر ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا عزم کیا۔
    پی ٹی آئی نے آج اسلام آباد کے ڈی چوک میں احتجاج کی کال دی ہے، اور ملک بھر سے کارکنان دارالحکومت کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔ ان قافلوں میں سب سے بڑا قافلہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں آ رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق، پی ٹی آئی کے کارکنان ڈی چوک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں، جہاں پولیس نے مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے آنسو گیس اور دیگر اقدامات کا استعمال کیا۔ دارالحکومت کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے وسیع سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
    صورتحال تناؤ کا شکار ہے کیونکہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں اسلام آباد میں ہونے والے واقعات کی تیاری کر رہے ہیں، جہاں یہ احتجاج خاصی توجہ کا مرکز بننے کا امکان ہے۔حکام اس پیشرفت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں، یہ یقینی بناتے ہوئے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی طرح کی بے امنی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، جبکہ دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔