Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • حکومت کے ریاستی جبر کا عوام بھرپور جواب دیں گے ،بیرسٹر سیف

    حکومت کے ریاستی جبر کا عوام بھرپور جواب دیں گے ،بیرسٹر سیف

    پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے رہنما بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اپنے تازہ بیان میں ملک کی سیاسی صورتحال اور حکومت کے اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی کال پر عوام کا سمندر ڈی چوک کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کا قافلہ صوابی سے نکل کر اٹک کی طرف روانہ ہو چکا ہے، جس میں عوام کا جوش و خروش قابل دید ہے۔بیرسٹر سیف نے زور دے کر کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور عوام، جو کہ پُرامن احتجاج کی نیت سے نکلے ہیں، اپنی تحریک کو ڈی چوک تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق کے لیے یہ تحریک ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے جسے وفاقی اور صوبائی حکومتیں سنجیدگی سے نہیں لے رہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوابی سے آگے موٹروے پر کیل بچھائے گئے ہیں تاکہ احتجاج کرنے والوں کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔بیرسٹر سیف نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ پُرامن لوگوں سے خوفزدہ ہو چکی ہے اور اسی وجہ سے ایسے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے جو جمہوری اصولوں کے منافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے مینڈیٹ چوری کرنے والے حکمرانوں کے خلاف نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ ان سے حساب لینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ نے پُرامن احتجاج کے دوران حالات کو بگاڑنے اور لاشیں گرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کے مسلح کارکنان کو احتجاج میں شامل کرنے کے شواہد ملے ہیں، جو کہ تحریک انصاف کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ بیرسٹر سیف نے اس حوالے سے برہان انٹرچینج کے قریب موٹروے کی کھدائی کا بھی ذکر کیا، جو ان کے بقول احتجاج کو زبردستی پُرتشدد بنانے کی ایک کوشش ہے۔
    پی ٹی آئی رہنما نے حکومت کے رویے کو ریاستی جبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنے حقوق کے لیے نکلنے والے عوام کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتیں پُرامن احتجاج کو پُرتشدد بنانا چاہتی ہیں تاکہ وہ تحریک انصاف کو بدنام کر سکیں، لیکن عوامی ردعمل ان تمام حربوں کا بھرپور جواب دے گا۔بیرسٹر سیف نے شریف خاندان کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ن لیگ اپنی "گندی سیاست” کے لیے قومی اداروں کا استعمال کر رہی ہے، جو کہ ملکی سیاست اور جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کو سیاسی اداروں تک محدود رہنا چاہیے اور شریف خاندان کو عوام پر مسلط کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شریف خاندان بین الاقوامی سطح پر ایک کرپٹ سیاسی خاندان کے طور پر ثابت ہو چکا ہے، اور پاکستانی عوام کے لیے یہ خاندان کسی سزا سے کم نہیں ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کی سیاسی و اقتصادی صورت حال اس قدر بدتر ہو چکی ہے کہ اب شریف خاندان سے نجات ضروری ہو چکی ہے۔
    بیرسٹر سیف نے اپنے بیان کے اختتام پر زور دیا کہ تحریک انصاف عوام کی طاقت پر بھروسہ رکھتی ہے اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف کی جانے والی تمام سازشوں کو ناکام بنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک عوام کے حقوق کی بازیابی کی تحریک ہے، جسے کسی بھی قیمت پر نہیں روکا جا سکتا۔پاکستان میں اس وقت سیاسی کشمکش عروج پر ہے، اور تحریک انصاف کی قیادت یہ واضح پیغام دے رہی ہے کہ وہ عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ PTI کی یہ احتجاجی تحریک آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، اور دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کس طرح اس صورتحال سے نمٹتی ہے۔

  • اسلام آباد: تحریک انصاف کے کارکنان کا احتجاج جاری، انتظامیہ نے ڈی چوک کی لائٹس بند کر دیں

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے کارکنان کا احتجاج جاری، انتظامیہ نے ڈی چوک کی لائٹس بند کر دیں

    اسلام آباد میں تحریک انصاف کے کارکنان کا احتجاج جاری ہے، جس کے جواب میں انتظامیہ نے ڈی چوک کی تمام لائٹس بند کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جناح ایونیو پر بھی لائٹس بند کی گئی ہیں۔ احتجاج کے دوران پولیس، ایلیٹ فورس، اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی بھاری نفری جناح ایونیو اور ڈی چوک پر موجود ہے، جس کی وجہ سے صورتحال میں مزید کشیدگی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔تحریک انصاف کے رہنما نعیم پنجوٹا بھی احتجاج میں شرکت کے لیے ڈی چوک پہنچ گئے ہیں، جس سے مظاہرین کے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں۔
    دوسری جانب، وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس بھی شروع ہو گیا ہے، جس میں انہوں نے پولیس افسران کو آر بلاک طلب کیا ہے۔ اجلاس میں آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی آپریشن، اور دیگر افسران بھی شریک ہیں۔ اس اجلاس میں احتجاج کے پیش نظر پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان علاقوں سے دور رہیں۔

  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر فضائی معائنہ

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر فضائی معائنہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جاری احتجاج کے پیش نظر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے مختلف علاقوں کا فضائی دورہ کیا تاکہ سیکیورٹی انتظامات اور مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے۔وزیر داخلہ نے معائنہ کے دوران سیکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور ایسی ہدایات جاری کیں کہ امن و امان خراب کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت میں کسی بھی شخص کو امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔محسن نقوی نے یہ بھی یقین دلایا کہ اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس ہر ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا عزم کیا۔
    پی ٹی آئی نے آج اسلام آباد کے ڈی چوک میں احتجاج کی کال دی ہے، اور ملک بھر سے کارکنان دارالحکومت کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔ ان قافلوں میں سب سے بڑا قافلہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں آ رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق، پی ٹی آئی کے کارکنان ڈی چوک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں، جہاں پولیس نے مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے آنسو گیس اور دیگر اقدامات کا استعمال کیا۔ دارالحکومت کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے وسیع سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
    صورتحال تناؤ کا شکار ہے کیونکہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں اسلام آباد میں ہونے والے واقعات کی تیاری کر رہے ہیں، جہاں یہ احتجاج خاصی توجہ کا مرکز بننے کا امکان ہے۔حکام اس پیشرفت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں، یہ یقینی بناتے ہوئے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی طرح کی بے امنی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، جبکہ دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔

  • بلاول بھٹو زرداری کا فلسطین پر آل پارٹیز کانفرنس کا خیرمقدم

    بلاول بھٹو زرداری کا فلسطین پر آل پارٹیز کانفرنس کا خیرمقدم

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فلسطین کے مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پورے ملک کو صیہونی ایجنڈے کے خلاف یک زبان ہونا چاہیے۔ بلاول بھٹو نے اپنے ایکس (Twitter) پر پیغام میں اس بات کی تصدیق کی کہ یہ کانفرنس 7 اکتوبر کو منعقد ہوگی، جس کا مقصد فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں شعور بڑھانا اور بین الاقوامی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرنا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا، "میں 7 اکتوبر کو فلسطین پر آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی کے لیے صدر اور وزیر اعظم کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔”
    بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ اسرائیلی قابض افواج نے غزہ میں بے رحمانہ قتل عام شروع کرنے کے ایک سال کے بعد اپنے جنگی میدان میں لبنان کو بھی شامل کر لیا ہے، جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہمیں صیہونی سامراج کے ایجنڈے کے خلاف یک آواز ہو کر بولنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب ایک ساتھ کھڑے ہوں اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔”
    یہ آل پارٹیز کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب فلسطین میں جاری تنازعہ نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، اور بلاول بھٹو کی جانب سے یہ اقدام پاکستانی حکومت کے اندر اس مسئلے کے حوالے سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنانے کی کوشش ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے اس اقدام کے پیچھے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں مل کر فلسطین کے حق میں آواز اٹھائیں، تاکہ عالمی سطح پر اس معاملے کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ کانفرنس فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کا ایک موقع ہوگا۔

  • اسلام آباد: محکمہ موسمیات کی جانب سے 5 سے 8 اکتوبر تک ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات کی جانب سے 5 سے 8 اکتوبر تک ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف شہروں میں 5 سے 8 اکتوبر کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جس میں خاص طور پر اسلام آباد اور اس کے گردونواح شامل ہیں۔ موسمیاتی ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ مغربی ہوائیں 5 اکتوبر سے ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوں گی، جس کی وجہ سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔ایڈوائزری کے مطابق، 5 سے 8 اکتوبر کے دوران چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، اور صوابی میں بارش کا امکان ہے۔ اس دوران مردان، کرم، اورکزئی، کوہاٹ، ہنگو، اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی 5 سے 7 اکتوبر کے درمیان بارشیں متوقع ہیں۔محکمہ موسمیات نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ 5 سے 7 اکتوبر کے دوران مری، گلیات، گجرات، اور وسطی و جنوبی پنجاب کے چند علاقوں میں بھی بادل برسیں گے۔
    اسلام آباد میں، بارش کی پیشگوئی 5 سے 7 اکتوبر تک کی گئی ہے، جب کہ 5 سے 8 اکتوبر کے دوران کوئٹہ، ژوب، اور لسبیلہ میں بھی بارشوں کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بارشیں گرمی کے اثرات کو کم کرنے اور فصلات کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گی۔ شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بارشوں کی شدت بڑھ سکتی ہے۔ یہ پیشگوئی اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ آنے والے دنوں میں موسم میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ شہری اور دیہی علاقوں میں بھی ہلکی اور تیز بارش کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں۔

  • پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی طرف احتجاجی قافلہ برہان انٹرچینج پہنچ گیا

    پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی طرف احتجاجی قافلہ برہان انٹرچینج پہنچ گیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کا ایک بڑا قافلہ، جو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا تھا، برہان انٹرچینج پہنچ گیا ہے۔ اس قافلے کو راستے میں پولیس کی جانب سے متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اٹک کے علاقے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اٹک میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان سخت جھڑپیں جاری ہیں، جہاں پولیس مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پولیس کی جانب سے تعینات کردہ نفری نے مظاہرین کو ہروپل موٹروے پر دو گھنٹے تک روک کر رکھا، لیکن شدید مزاحمت کے بعد پی ٹی آئی کا قافلہ موٹروے ہروپل کراس کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس دوران مظاہرین کی جانب سے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا گیا، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
    اٹک میں موبائل سروس مکمل طور پر بند ہے، جس سے مظاہرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ برہان انٹرچینج کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے مظاہرین کی گاڑیاں پولیس کی جانب سے کھودی گئی خندقوں کے باعث آگے نہیں بڑھ سکیں، جس کے نتیجے میں مظاہرین نے پیدل چلنے کا فیصلہ کیا۔ برہان انٹرچینج اور کٹی پہاڑی کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، تاکہ مظاہرین کی مزید پیش قدمی کو روکا جا سکے۔ پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈا پور کی قیادت میں یہ قافلہ اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں مظاہرین نے احتجاجی جلسے کا منصوبہ بنایا ہے۔

  • اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا احتجاج شدت اختیار کرگیا: پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں،

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا احتجاج شدت اختیار کرگیا: پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں،

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنان کے احتجاج کے دوران حالات کشیدہ ہوگئے ہیں، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ ڈی چوک سمیت جڑواں شہروں کے مختلف علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے مابین تصادم کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والوں میں ایس پی علی رضا بھی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔اسلام آباد پولیس کے سربراہ، آئی جی علی ناصر رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہر بھر سے اب تک 30 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں پولیس اور سرکاری و نجی املاک پر حملے ہو رہے ہیں، وہاں سیکیورٹی فورسز بھرپور جواب دے رہی ہیں۔ ڈی چوک میں بھی صورتحال انتہائی نازک ہے، جہاں مزید 15 پی ٹی آئی کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے۔
    احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ جڑواں شہروں میں دفعہ 144 نافذ ہے اور تمام اہم راستے کنٹینرز اور رکاوٹوں کے ذریعے بند کر دیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کے ہجوم کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔ پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک کے تمام راستوں کو خاردار تاروں سے بند کر دیا ہے اور اسلام آباد ایکسپریس وے پر بھی ہر قسم کی ٹریفک کی آمد و رفت معطل کردی گئی ہے۔اس کے علاوہ، مظاہرین کو روکنے کے لیے فیض آباد پل پر ڈبل لیئر کنٹینرز رکھے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ پولیس کی بھاری نفری کو دارالحکومت کے اہم مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ شہر میں موبائل فون سروس بھی بند کر دی گئی ہے تاکہ مظاہرین آپس میں رابطہ نہ کر سکیں۔ مزید برآں، میٹرو بس سروس کو تاحکم ثانی معطل کر دیا گیا ہے اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
    حالات کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد کے بیشتر کاروباری مراکز بھی بند کر دیے گئے ہیں، خاص طور پر مری روڈ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں معطل ہوچکی ہیں۔ راستوں کی بندش کے باعث شہر کے تمام نجی اور سرکاری اسکولوں میں بھی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ شہریوں کو رکاوٹوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو بیمار ہیں یا ہسپتال جانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے لیے صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔پی ٹی آئی کے بانی کی بہنیں، علیمہ خان اور نورین خان، کو بھی اسلام آباد میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے، اور اس گرفتاری کے بعد مظاہرین کی جانب سے مزید شدید ردعمل کا خدشہ ہے۔داخلی امور کے وزیر، محسن نقوی، نے ان تمام واقعات پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت امن و امان کو بحال کرنے کے لیے کسی بھی صورت میں نرمی نہیں کرے گی اور قانون توڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد: شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے سلسلے میں وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے، جس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت بنانے کے لیے فوجی دستے تعینات کیے جائیں گے۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ فوج کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کی گئی ہے، جو کہ مخصوص حالات میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کی تعیناتی کا اختیار دیتا ہے۔ اس دفعہ کے تحت فوج کو ایک محدود مدت کے لیے مخصوص علاقوں میں امن و امان اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔ایس سی او کانفرنس کے دوران اسلام آباد میں 5 اکتوبر سے 17 اکتوبر تک فوج موجود رہے گی، جس دوران فوج شہر کی مجموعی سکیورٹی کی ذمہ دار ہوگی۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے فوج کی مکمل معاونت کریں گے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے یا ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔
    اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے فوج کی تعیناتی کے حوالے سے ایک بیان میں کہا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے فوجی دستوں کی موجودگی ناگزیر ہے، تاکہ کسی بھی داخلی یا خارجی خطرے کا سامنا کرنے کے لیے بھرپور تیاری ہو۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس: اہم عالمی رہنماؤں کی شرکت

    واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا سربراہی اجلاس 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں چین، روس، بھارت، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس پاکستان کے لیے سفارتی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس میں خطے کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں اقتصادی ترقی، سکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام کے امور شامل ہیں۔
    شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی اور فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر کارروائیاں کریں گے۔ سڑکوں پر گشت، داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹس، اور اہم مقامات پر سکیورٹی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔اس کانفرنس میں بھارت کی شرکت بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں کشیدگی رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی وزیر اعظم یا ان کے نمائندے کی شرکت کی تصدیق کی جا چکی ہے، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
    دوسری جانب، فوج کی تعیناتی پر عوامی سطح پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ شہری اسے ایک مثبت اقدام قرار دے رہے ہیں، جو اسلام آباد میں سکیورٹی کو بہتر بنانے اور غیر ملکی مہمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فوج کی طویل المدتی تعیناتی سے شہری آزادیوں پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں اور عوام کو روزمرہ کی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس نہ صرف پاکستان کے لیے بین الاقوامی تعلقات اور علاقائی استحکام کے حوالے سے اہم ہے بلکہ اس دوران سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے انتظامات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد اس اعلیٰ سطحی اجلاس کو کامیاب اور پرامن بنانا ہے۔

  • اسلام آباد میں پی ٹی آئی احتجاج،  بانی کی بہنوں سمیت کارکنان گرفتار، علی امین پر دھاوا بولنے کا الزام

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی احتجاج، بانی کی بہنوں سمیت کارکنان گرفتار، علی امین پر دھاوا بولنے کا الزام

    اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران ڈی چوک سے پارٹی کے کارکنان کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں، علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خانم، کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق علیمہ خان اور ان کی بہنوں کو ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ گرفتار کیے گئے دیگر کارکنان کو تھانہ کوہسار بھیجا گیا ہے۔گرفتاری کے وقت علیمہ خان سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ وہ اس پر کیا کہیں گی؟ جس پر علیمہ خان کا مختصر جواب تھا: "گرفتار کرنا ہے تو گرفتار کر لیں۔”
    پی ٹی آئی کے احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان اہم راستوں کو کنٹینرز اور دیگر رکاوٹوں سے بند کر دیا گیا ہے۔ ڈی چوک کے تمام راستے خاردار تاریں لگا کر سیل کر دیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد ایکسپریس وے بھی عوام کے لیے بند ہے۔دارالحکومت میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے اور فیض آباد پل پر دوہرے کنٹینرز رکھے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہجوم کو روکنے میں مدد مل سکے۔ مزید برآں، جڑواں شہروں میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    موبائل سروس اور کاروباری سرگرمیاں معطل
    حفاظتی اقدامات کے تحت اسلام آباد میں موبائل فون سروس معطل کر دی گئی ہے، جبکہ میٹرو بس سروس بھی غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہے۔ شہر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس دوران راولپنڈی کے مری روڈ اور دیگر اطراف کے کاروباری مراکز بھی بند ہیں، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شہر میں سکولوں کی تعطیلی کا اعلان بھی کیا گیا ہے، کیونکہ رکاوٹوں کی وجہ سے طلباء اور اساتذہ کا بروقت پہنچنا ناممکن تھا۔ اس کے علاوہ، راستے بند ہونے کے باعث شہریوں، خاص طور پر مریضوں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کی قیادت، خاص طور پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد پر "دھاوا” بول رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "علی امین گنڈا پور سب سے پہلے پاکستانی ہیں اور پھر کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو درخواست کی تھی کہ موجودہ حالات میں جلسے جلوس یا احتجاج نہ کریں۔ ان کے مطابق احتجاج کرنا پی ٹی آئی کا حق ہے، لیکن طریقہ کار مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ حکومتی فورسز میں کسی کے پاس اسلحہ نہیں ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنان کے ساتھ ہتھیار دکھائی دے رہے ہیں۔

  • عالمی طاقتیں اسرائیل کے تنازع سے دور رہیں،ایران کا انتباہ

    عالمی طاقتیں اسرائیل کے تنازع سے دور رہیں،ایران کا انتباہ

    ایران نے دیگر ممالک کو اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع میں خود کو شامل نہ کرنے کے لیے خبردار کیا ہے، یہ بیان حال ہی میں اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کی جانب سے جاری کیا گیا۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی ملک نے اسرائیل کے حملے میں مدد فراہم کی تو اسے بھی اس تنازع کا حصہ سمجھا جائے گا اور اس کو بھی جائز ہدف قرار دیا جائے گا۔ایرانی مشن کے مطابق، ایران کا ردعمل صرف حملہ آور کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے دیگر ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس تنازع میں ملوث ہونے سے پرہیز کریں اور اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے اس جھگڑے سے دور رہیں۔ یہ بیان سلامتی کونسل کے ایک اہم اجلاس کے تقریباً 24 گھنٹے بعد آیا ہے، جس میں ایرانی سفیر امیر سعید ایروانی نے اسرائیل کے خلاف ایرانی حملے کی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کی حیثیت سے بیان کی۔
    ایرانی سفیر نے اس اجلاس میں مزید کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ایران مزید دفاعی اقدامات کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے اس بیان کا مقصد عالمی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری کی حفاظت کے لیے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ایران کی اس دھمکی کے پس منظر میں حالیہ دنوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے، جس نے خطے میں سیاسی اور عسکری ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہیں اور اس سلسلے میں عالمی طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تنازع میں غیر جانبدار رہیں۔یہ بیان اس وقت آیا ہے جب اسرائیل کے ساتھ متعدد دیگر ممالک کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں، اور ایران کی اس تنبیہ سے خطے کی جغرافیائی صورتحال میں مزید ابہام پیدا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا اثر بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سلامتی پر بھی پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر نئی جغرافیائی تقسیم اور طاقت کے توازن میں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔