Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • بلاول بھٹو زرداری کا فلسطین پر آل پارٹیز کانفرنس کا خیرمقدم

    بلاول بھٹو زرداری کا فلسطین پر آل پارٹیز کانفرنس کا خیرمقدم

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فلسطین کے مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پورے ملک کو صیہونی ایجنڈے کے خلاف یک زبان ہونا چاہیے۔ بلاول بھٹو نے اپنے ایکس (Twitter) پر پیغام میں اس بات کی تصدیق کی کہ یہ کانفرنس 7 اکتوبر کو منعقد ہوگی، جس کا مقصد فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں شعور بڑھانا اور بین الاقوامی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرنا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا، "میں 7 اکتوبر کو فلسطین پر آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی کے لیے صدر اور وزیر اعظم کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔”
    بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ اسرائیلی قابض افواج نے غزہ میں بے رحمانہ قتل عام شروع کرنے کے ایک سال کے بعد اپنے جنگی میدان میں لبنان کو بھی شامل کر لیا ہے، جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہمیں صیہونی سامراج کے ایجنڈے کے خلاف یک آواز ہو کر بولنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب ایک ساتھ کھڑے ہوں اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔”
    یہ آل پارٹیز کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب فلسطین میں جاری تنازعہ نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، اور بلاول بھٹو کی جانب سے یہ اقدام پاکستانی حکومت کے اندر اس مسئلے کے حوالے سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنانے کی کوشش ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے اس اقدام کے پیچھے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں مل کر فلسطین کے حق میں آواز اٹھائیں، تاکہ عالمی سطح پر اس معاملے کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ کانفرنس فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کا ایک موقع ہوگا۔

  • اسلام آباد: محکمہ موسمیات کی جانب سے 5 سے 8 اکتوبر تک ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات کی جانب سے 5 سے 8 اکتوبر تک ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف شہروں میں 5 سے 8 اکتوبر کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جس میں خاص طور پر اسلام آباد اور اس کے گردونواح شامل ہیں۔ موسمیاتی ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ مغربی ہوائیں 5 اکتوبر سے ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوں گی، جس کی وجہ سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔ایڈوائزری کے مطابق، 5 سے 8 اکتوبر کے دوران چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، اور صوابی میں بارش کا امکان ہے۔ اس دوران مردان، کرم، اورکزئی، کوہاٹ، ہنگو، اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی 5 سے 7 اکتوبر کے درمیان بارشیں متوقع ہیں۔محکمہ موسمیات نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ 5 سے 7 اکتوبر کے دوران مری، گلیات، گجرات، اور وسطی و جنوبی پنجاب کے چند علاقوں میں بھی بادل برسیں گے۔
    اسلام آباد میں، بارش کی پیشگوئی 5 سے 7 اکتوبر تک کی گئی ہے، جب کہ 5 سے 8 اکتوبر کے دوران کوئٹہ، ژوب، اور لسبیلہ میں بھی بارشوں کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بارشیں گرمی کے اثرات کو کم کرنے اور فصلات کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گی۔ شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بارشوں کی شدت بڑھ سکتی ہے۔ یہ پیشگوئی اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ آنے والے دنوں میں موسم میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ شہری اور دیہی علاقوں میں بھی ہلکی اور تیز بارش کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں۔

  • پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی طرف احتجاجی قافلہ برہان انٹرچینج پہنچ گیا

    پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی طرف احتجاجی قافلہ برہان انٹرچینج پہنچ گیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کا ایک بڑا قافلہ، جو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا تھا، برہان انٹرچینج پہنچ گیا ہے۔ اس قافلے کو راستے میں پولیس کی جانب سے متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اٹک کے علاقے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اٹک میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان سخت جھڑپیں جاری ہیں، جہاں پولیس مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پولیس کی جانب سے تعینات کردہ نفری نے مظاہرین کو ہروپل موٹروے پر دو گھنٹے تک روک کر رکھا، لیکن شدید مزاحمت کے بعد پی ٹی آئی کا قافلہ موٹروے ہروپل کراس کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس دوران مظاہرین کی جانب سے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا گیا، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
    اٹک میں موبائل سروس مکمل طور پر بند ہے، جس سے مظاہرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ برہان انٹرچینج کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے مظاہرین کی گاڑیاں پولیس کی جانب سے کھودی گئی خندقوں کے باعث آگے نہیں بڑھ سکیں، جس کے نتیجے میں مظاہرین نے پیدل چلنے کا فیصلہ کیا۔ برہان انٹرچینج اور کٹی پہاڑی کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، تاکہ مظاہرین کی مزید پیش قدمی کو روکا جا سکے۔ پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈا پور کی قیادت میں یہ قافلہ اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں مظاہرین نے احتجاجی جلسے کا منصوبہ بنایا ہے۔

  • اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا احتجاج شدت اختیار کرگیا: پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں،

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا احتجاج شدت اختیار کرگیا: پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں،

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنان کے احتجاج کے دوران حالات کشیدہ ہوگئے ہیں، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ ڈی چوک سمیت جڑواں شہروں کے مختلف علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے مابین تصادم کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والوں میں ایس پی علی رضا بھی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔اسلام آباد پولیس کے سربراہ، آئی جی علی ناصر رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہر بھر سے اب تک 30 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں پولیس اور سرکاری و نجی املاک پر حملے ہو رہے ہیں، وہاں سیکیورٹی فورسز بھرپور جواب دے رہی ہیں۔ ڈی چوک میں بھی صورتحال انتہائی نازک ہے، جہاں مزید 15 پی ٹی آئی کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے۔
    احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ جڑواں شہروں میں دفعہ 144 نافذ ہے اور تمام اہم راستے کنٹینرز اور رکاوٹوں کے ذریعے بند کر دیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کے ہجوم کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔ پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک کے تمام راستوں کو خاردار تاروں سے بند کر دیا ہے اور اسلام آباد ایکسپریس وے پر بھی ہر قسم کی ٹریفک کی آمد و رفت معطل کردی گئی ہے۔اس کے علاوہ، مظاہرین کو روکنے کے لیے فیض آباد پل پر ڈبل لیئر کنٹینرز رکھے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ پولیس کی بھاری نفری کو دارالحکومت کے اہم مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ شہر میں موبائل فون سروس بھی بند کر دی گئی ہے تاکہ مظاہرین آپس میں رابطہ نہ کر سکیں۔ مزید برآں، میٹرو بس سروس کو تاحکم ثانی معطل کر دیا گیا ہے اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
    حالات کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد کے بیشتر کاروباری مراکز بھی بند کر دیے گئے ہیں، خاص طور پر مری روڈ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں معطل ہوچکی ہیں۔ راستوں کی بندش کے باعث شہر کے تمام نجی اور سرکاری اسکولوں میں بھی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ شہریوں کو رکاوٹوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو بیمار ہیں یا ہسپتال جانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے لیے صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔پی ٹی آئی کے بانی کی بہنیں، علیمہ خان اور نورین خان، کو بھی اسلام آباد میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے، اور اس گرفتاری کے بعد مظاہرین کی جانب سے مزید شدید ردعمل کا خدشہ ہے۔داخلی امور کے وزیر، محسن نقوی، نے ان تمام واقعات پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت امن و امان کو بحال کرنے کے لیے کسی بھی صورت میں نرمی نہیں کرے گی اور قانون توڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد: شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے سلسلے میں وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے، جس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت بنانے کے لیے فوجی دستے تعینات کیے جائیں گے۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ فوج کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کی گئی ہے، جو کہ مخصوص حالات میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کی تعیناتی کا اختیار دیتا ہے۔ اس دفعہ کے تحت فوج کو ایک محدود مدت کے لیے مخصوص علاقوں میں امن و امان اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔ایس سی او کانفرنس کے دوران اسلام آباد میں 5 اکتوبر سے 17 اکتوبر تک فوج موجود رہے گی، جس دوران فوج شہر کی مجموعی سکیورٹی کی ذمہ دار ہوگی۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے فوج کی مکمل معاونت کریں گے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے یا ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔
    اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے فوج کی تعیناتی کے حوالے سے ایک بیان میں کہا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے فوجی دستوں کی موجودگی ناگزیر ہے، تاکہ کسی بھی داخلی یا خارجی خطرے کا سامنا کرنے کے لیے بھرپور تیاری ہو۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس: اہم عالمی رہنماؤں کی شرکت

    واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا سربراہی اجلاس 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں چین، روس، بھارت، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس پاکستان کے لیے سفارتی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس میں خطے کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں اقتصادی ترقی، سکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام کے امور شامل ہیں۔
    شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی اور فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر کارروائیاں کریں گے۔ سڑکوں پر گشت، داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹس، اور اہم مقامات پر سکیورٹی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔اس کانفرنس میں بھارت کی شرکت بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں کشیدگی رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی وزیر اعظم یا ان کے نمائندے کی شرکت کی تصدیق کی جا چکی ہے، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
    دوسری جانب، فوج کی تعیناتی پر عوامی سطح پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ شہری اسے ایک مثبت اقدام قرار دے رہے ہیں، جو اسلام آباد میں سکیورٹی کو بہتر بنانے اور غیر ملکی مہمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فوج کی طویل المدتی تعیناتی سے شہری آزادیوں پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں اور عوام کو روزمرہ کی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس نہ صرف پاکستان کے لیے بین الاقوامی تعلقات اور علاقائی استحکام کے حوالے سے اہم ہے بلکہ اس دوران سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے انتظامات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد اس اعلیٰ سطحی اجلاس کو کامیاب اور پرامن بنانا ہے۔

  • اسلام آباد میں پی ٹی آئی احتجاج،  بانی کی بہنوں سمیت کارکنان گرفتار، علی امین پر دھاوا بولنے کا الزام

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی احتجاج، بانی کی بہنوں سمیت کارکنان گرفتار، علی امین پر دھاوا بولنے کا الزام

    اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران ڈی چوک سے پارٹی کے کارکنان کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں، علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خانم، کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق علیمہ خان اور ان کی بہنوں کو ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ گرفتار کیے گئے دیگر کارکنان کو تھانہ کوہسار بھیجا گیا ہے۔گرفتاری کے وقت علیمہ خان سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ وہ اس پر کیا کہیں گی؟ جس پر علیمہ خان کا مختصر جواب تھا: "گرفتار کرنا ہے تو گرفتار کر لیں۔”
    پی ٹی آئی کے احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان اہم راستوں کو کنٹینرز اور دیگر رکاوٹوں سے بند کر دیا گیا ہے۔ ڈی چوک کے تمام راستے خاردار تاریں لگا کر سیل کر دیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد ایکسپریس وے بھی عوام کے لیے بند ہے۔دارالحکومت میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے اور فیض آباد پل پر دوہرے کنٹینرز رکھے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہجوم کو روکنے میں مدد مل سکے۔ مزید برآں، جڑواں شہروں میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    موبائل سروس اور کاروباری سرگرمیاں معطل
    حفاظتی اقدامات کے تحت اسلام آباد میں موبائل فون سروس معطل کر دی گئی ہے، جبکہ میٹرو بس سروس بھی غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہے۔ شہر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس دوران راولپنڈی کے مری روڈ اور دیگر اطراف کے کاروباری مراکز بھی بند ہیں، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شہر میں سکولوں کی تعطیلی کا اعلان بھی کیا گیا ہے، کیونکہ رکاوٹوں کی وجہ سے طلباء اور اساتذہ کا بروقت پہنچنا ناممکن تھا۔ اس کے علاوہ، راستے بند ہونے کے باعث شہریوں، خاص طور پر مریضوں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کی قیادت، خاص طور پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد پر "دھاوا” بول رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "علی امین گنڈا پور سب سے پہلے پاکستانی ہیں اور پھر کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو درخواست کی تھی کہ موجودہ حالات میں جلسے جلوس یا احتجاج نہ کریں۔ ان کے مطابق احتجاج کرنا پی ٹی آئی کا حق ہے، لیکن طریقہ کار مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ حکومتی فورسز میں کسی کے پاس اسلحہ نہیں ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنان کے ساتھ ہتھیار دکھائی دے رہے ہیں۔

  • عالمی طاقتیں اسرائیل کے تنازع سے دور رہیں،ایران کا انتباہ

    عالمی طاقتیں اسرائیل کے تنازع سے دور رہیں،ایران کا انتباہ

    ایران نے دیگر ممالک کو اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع میں خود کو شامل نہ کرنے کے لیے خبردار کیا ہے، یہ بیان حال ہی میں اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کی جانب سے جاری کیا گیا۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی ملک نے اسرائیل کے حملے میں مدد فراہم کی تو اسے بھی اس تنازع کا حصہ سمجھا جائے گا اور اس کو بھی جائز ہدف قرار دیا جائے گا۔ایرانی مشن کے مطابق، ایران کا ردعمل صرف حملہ آور کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے دیگر ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس تنازع میں ملوث ہونے سے پرہیز کریں اور اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے اس جھگڑے سے دور رہیں۔ یہ بیان سلامتی کونسل کے ایک اہم اجلاس کے تقریباً 24 گھنٹے بعد آیا ہے، جس میں ایرانی سفیر امیر سعید ایروانی نے اسرائیل کے خلاف ایرانی حملے کی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کی حیثیت سے بیان کی۔
    ایرانی سفیر نے اس اجلاس میں مزید کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ایران مزید دفاعی اقدامات کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے اس بیان کا مقصد عالمی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری کی حفاظت کے لیے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ایران کی اس دھمکی کے پس منظر میں حالیہ دنوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے، جس نے خطے میں سیاسی اور عسکری ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہیں اور اس سلسلے میں عالمی طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تنازع میں غیر جانبدار رہیں۔یہ بیان اس وقت آیا ہے جب اسرائیل کے ساتھ متعدد دیگر ممالک کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں، اور ایران کی اس تنبیہ سے خطے کی جغرافیائی صورتحال میں مزید ابہام پیدا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا اثر بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سلامتی پر بھی پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر نئی جغرافیائی تقسیم اور طاقت کے توازن میں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

  • پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ میں اکھاڑ پچھاڑ کی تیاری، کھلاڑیوں کی شمولیت کا جائزہ

    پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ میں اکھاڑ پچھاڑ کی تیاری، کھلاڑیوں کی شمولیت کا جائزہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 2023-24 کے سیزن کے لیے چار کیٹیگریز میں 25 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ فراہم کیا تھا، جن کے معاہدے 30 جون 2024ء کو ختم ہو چکے ہیں۔ تاہم، پی سی بی نے ابھی تک 2024-25 کے سیزن کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے، جس سے کرکٹ حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق، نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے، اور متعدد کھلاڑیوں کی پوزیشنز کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

    کیٹیگری اے
    میں کوئی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے، اور پچھلے سال کی طرح اس میں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم، وکٹ کیپر محمد رضوان، اور فاسٹ بولر شاہین آفریدی شامل رہیں گے۔
    کیٹگری بی
    ٹیسٹ کپتان شان مسعود کو کیٹیگری "بی” تک محدود رکھا جائے گا، ان کے ساتھ نسیم شاہ، فخر زمان، اور شاداب خان کی موجودگی بھی کنفرم سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم، پچھلے سال کیٹیگری "بی” کا حصہ بننے والے سابق کپتان سرفراز احمد اور فاسٹ بولر محمد حارث کے اس کیٹیگری میں رہنے کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح محمد نواز، جو ایک نمایاں آل راؤنڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں، اس سال کیٹیگری "بی” میں شامل نہیں ہوں گے، جس سے اس کیٹیگری میں ان کی جگہ خالی رہ سکتی ہے۔
    کیٹیگری سی میں نئے نام شامل
    کیٹیگری "سی” میں عبداللہ شفیق کی موجودگی برقرار رکھی گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ نئے ناموں کی شمولیت متوقع ہے۔ صائم ایوب، سعود شکیل، اسامہ میر، اور میر حمزہ جیسے کھلاڑیوں کو اس کیٹیگری میں شامل کرنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جو کہ پاکستان کرکٹ کی نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔
    مراعات میں کمی کی خبریں
    ایک اہم پہلو جو سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ آئی سی سی ورلڈ کپ 2023ء سے قبل کھلاڑیوں کی جانب سے چیئرمین پی سی بی چوہدری ذکاء اشرف سے مراعات میں اضافے کے مطالبات تو تسلیم کر لیے گئے تھے، لیکن نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں مالی فوائد میں اضافے کا امکان کم ہے۔ اس کی بڑی وجہ قومی ٹیم کی گزشتہ 12 ماہ کے دوران کارکردگی میں واضح کمی ہے۔کرکٹ کے حلقوں میں یہ خبریں گرم ہیں کہ پی سی بی کی انتظامیہ کھلاڑیوں کے کنٹریکٹس اور مراعات پر نظرثانی کر رہی ہے، اور اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کن کھلاڑیوں کو اگلے سیزن کے لیے برقرار رکھا جائے اور کس کو فارغ کیا جائے۔

  • ڈریپ کا مشتبہ اینٹی ریبیز ویکسین پر الرٹ: بھارتی ویکسین کی فوری ری کال کا حکم

    ڈریپ کا مشتبہ اینٹی ریبیز ویکسین پر الرٹ: بھارتی ویکسین کی فوری ری کال کا حکم

    ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ایک خطرناک اینٹی ریبیز ویکسین کی موجودگی کے حوالے سے الرٹ جاری کرتے ہوئے اس کے فوری طور پر مارکیٹ سے واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ویکسین، جو "شور ریب” کے نام سے بھارتی کمپنی کی جانب سے تیار کی گئی ہے، مضر صحت ثابت ہوئی ہے اور ڈریپ کے پاس رجسٹرڈ بھی نہیں ہے۔ اس ویکسین کا بیچ نمبر RO 10821 ہے، جو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ڈریپ نے اپنے الرٹ میں فیلڈ فورس، ڈرگ اتھارٹی، ہیلتھ پروفیشنلز، اور فارمیسز کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اینٹی ریبیز ویکسین کی غیر قانونی سپلائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ الرٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ شور ریب نامی اس اینٹی ریبیز ویکسین کی کوالٹی اور سیفٹی غیر واضح ہے اور یہ ڈریپ کے ریگولیٹری معیار پر پورا نہیں اترتی۔ ویکسین کے استعمال سے لوگوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
    ڈریپ نے اپنی ریگولیٹری فیلڈ فورس کو حکم دیا ہے کہ وہ میڈیسن مارکیٹ میں اس ویکسین کی موجودگی کا سروے کرے اور فوری طور پر جعلی ویکسین کا خاتمہ یقینی بنائے۔ فیلڈ فورس کو اس بات کی بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس مضر ویکسین کی سپلائی چین کی مکمل تحقیقات کرے تاکہ اس غیر قانونی ویکسین کے ذرائع اور تقسیم کاروں کا پتا لگایا جا سکے۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ادویات کے ڈسٹری بیوٹرز اور فارمیسز کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اسٹاک میں موجود اینٹی ریبیز ویکسین کا جائزہ لیں اور کسی بھی مشتبہ یا غیر رجسٹرڈ بیچ کو فوری طور پر رپورٹ کریں۔ ڈریپ نے واضح کیا کہ کسی بھی غیر رجسٹرڈ اور جعلی ویکسین کی دستیابی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اگر کسی فارمیسی یا ڈسٹری بیوٹر کے پاس یہ ویکسین پائی گئی تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    ڈریپ کے اس اقدام کا مقصد عوام کی صحت کو بچانا اور ایسی مضر ادویات سے محفوظ رکھنا ہے جو غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی طریقے سے مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہیں۔ ڈریپ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر معمولی ویکسین یا دوا کے بارے میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں تاکہ ان کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔ڈریپ کی جانب سے اس غیر رجسٹرڈ اور مضر ویکسین کے خلاف کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ پاکستان میں دستیاب ادویات کی کوالٹی اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہا ہے۔ جعلی ادویات کی فروخت نہ صرف عوامی صحت کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ ملک کے صحت کے نظام کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ڈریپ کا یہ الرٹ عوامی مفاد میں جاری کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو ایسی خطرناک ادویات سے محفوظ رکھا جا سکے اور مارکیٹ میں جعلی ادویات کی روک تھام ممکن ہو۔

  • پاکستان کی فتح: ٹی 20 ورلڈ کپ میں سری لنکا کو 31 رنز سے شکست

    پاکستان کی فتح: ٹی 20 ورلڈ کپ میں سری لنکا کو 31 رنز سے شکست

    پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوسرے میچ میں سری لنکا کو 31 رنز سے شکست دے کر ایونٹ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کی۔ شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 20 اوورز میں 116 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی۔پاکستان کی اننگز میں کوئی بھی کھلاڑی لمبی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہوسکی، تاہم ٹیم کی مجموعی کوششوں سے وہ 116 رنز کا ہدف سیٹ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ سری لنکا کے خلاف 117 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکن ٹیم مشکلات کا شکار رہی اور مقررہ 20 اوورز میں صرف 85 رنز بنا سکی۔ سری لنکا کی جانب سے نیلکشیکا سلوا 22 رنز اور وشمی گونارتنے 20 رنز کے ساتھ نمایاں رہیں، لیکن دیگر کھلاڑی ڈبل فگر تک نہیں پہنچ سکیں۔
    پاکستان کی باؤلنگ میں سعدیہ اقبال نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا ساتھ دیتے ہوئے فاطمہ ثناء، عمائمہ سہیل اور نشرہ سندھو نے دو دو وکٹیں لے کر سری لنکا کی بیٹنگ لائن کو پریشان رکھا۔میچ کے دوران پاکستانی فاسٹ باؤلر ڈیانا بیگ انجری کا شکار ہو گئیں۔ ڈیانا بیگ کی دائیں ٹانگ کے پٹھے میں کچھاؤ پیدا ہوا جس کے باعث وہ صرف ایک گیند ہی کر سکیں۔ پاکستانی ڈاکٹر اور فزیو نے ان کا معائنہ کیا اور انہیں آرام کا مشورہ دیا گیا، جس کے بعد وہ میچ میں مزید حصہ نہ لے سکیں۔پاکستان کی اس فتح نے ٹیم کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے اور ان کی ورلڈ کپ مہم کا آغاز کامیابی کے ساتھ ہوا۔