اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔اس ملاقات کے دوران تجارت، معیشت، بینکنگ سیکٹر، فوڈ ٹیکنالوجی اور زراعت جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک نے اہم دوطرفہ معاملات پر مزید تعاون پر اتفاق کیا اور اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم انور ابراہیم کے دورہ پاکستان سے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید استحکام ملے گا۔
غزہ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے اسرائیل کے مظالم اور فلسطینی عوام کی نسل کشی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام پر مظالم رکوانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے ملاقات کے دوران کہا کہ ان کی وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بھی مثبت اور مفید بات چیت ہوئی ہے۔ وزیر اعظم انور ابراہیم نے اپنے سیاسی کیرئیر میں ہمیشہ انسانی حقوق اور اسلامی اقدار کی حمایت کی ہے اور وہ حقِ خود ارادیت کی تحریکوں کے بھی حامی رہے ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم انور ابراہیم علامہ اقبال کے افکار اور شاعری کے بڑے مداح ہیں، اور وہ اسلامی فلسفے کو اپنی سیاسی زندگی میں اہمیت دیتے ہیں۔ملاقات کے اختتام پر صدر مملکت نے ملائیشیا کے وزیر اعظم اور اُن کے وفد کے اعزاز میں ایک عشائیے کا اہتمام بھی کیا۔
Author: صدف ابرار

صدر زرداری اور وزیراعظم انور ابراہیم کی ملاقات: تجارت، معیشت اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

الیکشن کمیشن کا اہم اقدام: پنجاب میں آٹھ انتخابی ٹریبونلز کا قیام
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پنجاب میں عام اور ضمنی انتخابات کے حوالے سے انتخابی معا ملات نمٹانے کے لیے آٹھ انتخابی ٹریبونلز کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام انتخابات کے دوران پیدا ہونے والے تنازعات اور انتخابی نتائج کے خلاف دائر ہونے والی درخواستوں کو فوری اور مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ای سی پی کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ان ٹریبونلز میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ انتخابات کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کو قانون کے مطابق حل کیا جا سکے۔ ریٹائرڈ ججز میں رانا زاہد محمود، ظفر اقبال، عبدالشکور پراچہ، اور محمود مقبول باجوہ شامل ہیں، جبکہ حاضر سروس ججز میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر احمد، جسٹس محمد اقبال، جسٹس چودھری انوار حسین اور جسٹس سرفراز ڈوگر شامل ہیں۔
یہ انتخابی ٹریبونلز پنجاب کے مختلف شہروں میں قائم کیے گئے ہیں، جن میں لاہور، ملتان، بہاولپور اور راولپنڈی شامل ہیں۔ ان ٹریبونلز کا مقصد انتخابی عذرداریاں جلدی نمٹانا اور الیکشن کے نتائج کو قانونی دائرے میں لانا ہے تاکہ عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد بحال رہے۔انتخابی ٹریبونلز کا قیام ایک اہم اقدام ہے کیونکہ یہ انتخابات کے دوران شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔ ان ٹریبونلز کی کارکردگی عوامی اعتماد کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور ملک کے جمہوری نظام میں استحکام پیدا کرے گی۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے میڈیا کو سب سے بڑا اور خطرناک ہتھیار قرار دیا
کراچی: معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے دنیا کے سب سے بڑے اور خطرناک ہتھیار کے طور پر میڈیا کو نامزد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا وہ طاقتور ہتھیار ہے جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیان انہوں نے کراچی کے گورنر ہاؤس سندھ میں "میڈیا اور اس کی اہمیت” کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب کے دوران دیا۔ڈاکٹر ذاکر نائیک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، جس سے مسلمانوں کو ہر زاویے سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان صرف انٹرٹینمنٹ میڈیا میں مہارت رکھتے ہیں، اور اس کی اہمیت کو مکمل طور پر انٹرٹینمنٹ تک محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ میڈیا، خصوصاً سوشل میڈیا، بذات خود برا نہیں ہے، بلکہ اس کا غلط استعمال حرام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر سوشل میڈیا کو دین اسلام کے پیغام کو عام کرنے کے لئے استعمال کیا جائے تو یہ مسلمانوں کے لئے جنت میں داخلے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ اگر مسلمان سوشل میڈیا کو دعوت کے کام کے لئے استعمال کریں تو یہ ان کی نجات کا راستہ بن سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب سوشل میڈیا جائنٹس یہ دیکھتے ہیں کہ آپ دین اسلام کا پیغام پھیلا رہے ہیں تو وہ آپ کو "شیڈو بین” کرنے لگتے ہیں، یعنی آپ کا مواد کم لوگوں تک پہنچتا ہے اور فالوورز کی تعداد میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً پورا سوشل میڈیا یہودیوں کے کنٹرول میں ہے، اور مسلمان اس میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ڈاکٹر ذاکر نائیک نے مزید کہا کہ اللہ نے مسلمانوں کو بلیک گولڈ یعنی تیل کی صورت میں ایک عظیم نعمت عطا کی ہے، مگر بدقسمتی سے مسلمان اس نعمت کا درست استعمال نہیں کر رہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمیں دنیا کی موجودہ ٹیکنالوجیز اور وسائل کو دین اسلام کے فروغ کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں اس سے بہتر ٹول اسلام کے فروغ کے لئے موجود نہیں ہے، لیکن بدقسمتی سے مسلمان اس میں کوئی خاص کام نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس نیوکلیئر ٹیکنالوجی ہے، اور میری خواہش ہے کہ پاکستان آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر بھی تحقیق کرے اور اسے دین اسلام کی تبلیغ کے لئے استعمال کرے تاکہ اس کا اجر پوری قوم کو ملے۔ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے خطاب کے دوران اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان جیسے ملک کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے دین اسلام کے پیغام کو پوری دنیا میں پھیلانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو میڈیا کے تمام پہلوؤں میں اپنی موجودگی مضبوط کرنی چاہئے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسے ٹولز کو استعمال کرتے ہوئے اپنے پیغام کو عالمی سطح پر پہنچانا چاہئے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اعلان کیا کہ وہ 5 اور 6 اکتوبر کو کراچی کے باغ جناح گراؤنڈ میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کریں گے، جہاں وہ مزید اہم موضوعات پر بات کریں گے اور مسلمانوں کو میڈیا کے درست استعمال کی تلقین کریں گے۔
21 اکتوبر تک پاکستان میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ،فیصل واوڈا کا دعویٰ
سینیئر سیاستدان فیصل واوڈا نے حالیہ گفتگو میں حکومت کی ناکامی اور پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ڈی چوک میں احتجاج کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، جبکہ نااہل حکومت پی ٹی آئی کے احتجاج سے پہلے ہی کنٹینر لگا کر عوامی جذبات کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے پیشگوئی کی کہ "21 اکتوبر سے پہلے پاکستان میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، کیونکہ اس روز میری سالگرہ ہے اور میں نے کیک کھانا ہے۔” یہ تبصرہ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی میلاد کی خوشی کا بھی اشارہ ہے۔انہوں نے پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ وہ "لاشوں کی سیاست” کر رہی ہے اور یہ کہ وہ کسی بھی طرح خون خرابہ چاہتی ہیں، اس لئے کہ سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل (ر) فیض حمید نے عمران خان کا نام لیا ہے۔ واوڈا نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ حکومت کی توقعات کے برعکس، ملک کی معیشت اب ٹریک پر آ چکی ہے۔
انہوں نے مہنگائی میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "مہنگائی سنگل ڈیجیٹ پر آ گئی ہے” اور آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو بھی ایک مثبت علامت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ پی ٹی آئی کو کہیں کسی گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت دے دیتی۔واوڈا نے عمران خان کی آزادی کی جدوجہد کے جذبے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں اس معاملے میں واقعی دلچسپی ہے تو انہیں اپنے بیٹوں کو بھی یہاں بلانا چاہیے۔اس کے علاوہ، فیصل واوڈا نے واضح کیا کہ جنرل (ر) فیض حمید کو کورٹ مارشل کے بعد سزا ہوگی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ملکی فوجی قیادت کے فیصلوں کے بارے میں اپنی رائے رکھتے ہیں۔ فیصل واوڈا کی یہ گفتگو ان کے سیاسی موقف اور موجودہ حکومت کی کارکردگی پر ایک جامع تجزیہ فراہم کرتی ہے، اور اس میں ملک کی موجودہ صورت حال کے بارے میں ان کی بصیرت بھی شامل ہے۔
پی ٹی آئی احتجاج: اسلام آباد میں اسکول بند، راستے سیل، موبائل سروس بھی معطل ہونے کا خدشہ
اسلام آباد میں حالیہ صورت حال کے پیش نظر، شہر بھر میں کل تمام پرائیویٹ اسکول بند رہیں گے۔ یہ فیصلہ پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کی جانب سے کیا گیا ہے، جس کا مقصد بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری، وحید خان، نے اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہماری پہلی ترجیح بچوں کی حفاظت ہے، اور ہم نے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی کوشش کی ہے تاکہ طلباء کو کسی بھی قسم کی مشکلات سے بچایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق، راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، میٹرو بس سروس بھی معطل رہے گی، جبکہ موٹر وے ایم 1 اور ایم 2 مکمل طور پر بند کی جائیں گی۔ ٹیکسلا، چکری، روات، اور اے ڈبلیو ٹی سے آنے جانے والے راستے بھی بند کیے جائیں گے۔ یہ تمام اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ احتجاج کے دوران عوامی نقل و حرکت میں مشکلات پیدا نہ ہوں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلا ضرورت سفر سے گریز کریں اور موجودہ حالات کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اسکولوں کی بندش اور راستوں کی بندش سے متعلق یہ فیصلے شہریوں کی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد ہی یہ پابندیاں ختم ہوں گی۔
ذرائع کے مطابق صوابی، ہارون آباد، برہان، جی ٹی روڈ، براہمہ بہتر، واہ کینٹ، اور میاں خان کے مقامات پر موٹروے کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ موٹروے ایم ون چار مقامات پر مکمل طور پر سیل کر دی گئی ہے تاکہ احتجاج کے دوران کسی بھی قسم کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ ریسٹ ایریاز میں ہیوی مشینری بھی پہنچا دی گئی ہیں، جبکہ فائربرگیڈ، موبائل کرینز، اور ایمبولینسز بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔راولپنڈی پولیس کے 4000 سے زائد افسران و اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ اینٹی رائٹ فورس کے دستے بھی الگ سے تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس کو آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔ خیبر پختونخوا سے آنے والے تمام راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے ہیں، اور جی ٹی روڈ اٹک خورد، حسن ابدال، اور چسکا پوائنٹ سے مکمل طور پر بند ہے۔ اس کے علاوہ سی پیک کے مختلف مقامات کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔ان اقدامات کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ضلع بھر کے داخلی و خارجی راستے بند ہونے سے شہریوں کو روزمرہ امور میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
دوسری جانب، اسلام آباد میں موجود جرمن سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ احتجاج کی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر 4 اکتوبر بروز جمعہ ویزا سیکشن بند رہے گا۔ جرمن سفارت خانے کے بیان میں ویزا درخواست دہندگان سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ اپنی مقررہ اپائنٹمنٹس کے لیے سفارت خانے نہ آئیں، اور اگلے ہفتے کے دوران نئی اپائنٹمنٹس دوبارہ شیڈول کی جائیں گی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو موبائل نیٹ ورک بند رکھنے کی تجویز دی ہے تاکہ احتجاج کے دوران کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی کو روکا جا سکے۔ راولپنڈی پولیس کے چار ہزار سے زائد افسران و اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ اینٹی رائڈ فورس کے دستے بھی مخصوص مقامات پر تعینات کیے جائیں گے۔ پولیس کو آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں بھی فراہم کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے پیش نظر سرگودھا اور اٹک میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ پابندیاں چار اکتوبر سے چھ اکتوبر تک نافذ العمل رہیں گی، جس کے تحت کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس، یا عوامی اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس فیصلے کا مقصد عوامی حفاظت اور امن و امان کو برقرار رکھنا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اگر کوئی کارکنان احتجاج کی کوشش کریں گے تو انہیں فوری طور پر گرفتار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، راولپنڈی انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ پی ٹی آئی کے احتجاج نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک چیلنج پیدا کر دیا ہے، جس کے جواب میں سخت سیکیورٹی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کو نشان پاکستان سے نوازا
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کو پاکستان کا سب سے بڑا شہری اعزاز، نشان پاکستان، سے نوازنے کی تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد کی۔ یہ تقریب ایک اہم موقع پر منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزراء، اور اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ نشان پاکستان دینے کی تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، اور گورنر پنجاب بھی موجود تھے، جو کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا مظہر ہیں۔ ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کا یہ دورہ پاکستان وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ہو رہا ہے، اور وہ گزشتہ روز پاکستان پہنچے تھے۔وزیر اعظم ہاؤس میں انور ابراہیم کا شاندار استقبال کیا گیا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے انور ابراہیم کو گارڈ آف آنر پیش کیا، جو پاکستان کے ساتھ ان کی مضبوطی کی علامت ہے۔

دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے مابین دوطرفہ ملاقات ہوئی، جس میں وفود کی سطح پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس ملاقات میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے مختلف مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کا تبادلہ ہوا۔ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، زراعت اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر انور ابراہیم نے کہا کہ ملائیشیا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی روابط اور ثقافتی ہم آہنگی ہیں، جو کہ مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔دونوں رہنماؤں نے غزہ اور کشمیر سمیت علاقائی امور پر اپنے پختہ موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ضروری ہے کہ عالمی برادری ان مسائل کے حل کے لیے یکجا ہو تاکہ امن اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات کی مضبوطی کی ایک مثال ہے، اور اس میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے عزم و ارادے کا واضح اظہار نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے مابین دوستی کے ایک نئے باب کا آغاز کرتی ہیں، جو مستقبل میں مختلف شعبوں میں مشترکہ ترقی کی راہیں ہموار کرے گی۔
پی ٹی آئی کا عزم: 4 اکتوبر کو ڈی چوک میں احتجاج، وفاقی حکومت کے ہتھکنڈوں کی مذمت
پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا، جس میں 4 اکتوبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں ہر صورت احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس بار ایک مخصوص اور تربیت یافتہ دستہ قافلوں سے پہلے روانہ ہوگا اور مشینری کو قافلوں سے آگے بھیجا جائے گا۔ یہ اقدام اس لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ پچھلی بار کی طرح راستے بند ہونے کی صورت میں ڈی چوک پہنچنے میں تاخیر نہ ہو۔ اجلاس میں پرامن احتجاج کی تیاریوں اور انتظامات پر تفصیلی مشاورت کی گئی، اور پارٹی قائدین کے ساتھ ساتھ منتخب عوامی نمائندوں کو مخصوص ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ کارکنوں اور عوام کو متحرک کرنا ہوگا تاکہ خیبر پختونخوا کے قافلے منظم انداز میں اسلام آباد پہنچ سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کسی بھی قسم کے تصادم کی خواہاں نہیں اور پولیس اہلکاروں کو اپنے بھائیوں کی طرح سمجھتے ہیں۔علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ احتجاج کو روکنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "پرامن احتجاج ہمارا آئینی اور جمہوری حق ہے، اور ہم اس حق کو ضرور استعمال کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ عوام وفاقی حکومت کے تمام اقدامات کو غلط سمجھ رہے ہیں، خاص طور پر آئینی ترمیم کے نام پر پی ٹی آئی کو کمزور کرنے کی کوششوں پر۔

اسرائیل کو ایرانی جوابی کارروائی سے روکا گیا: بائیڈن کا دلاسہ
امریکی صدر جو بائیڈن نے عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ اسرائیل کو ایران کے خلاف جوابی کارروائی کرنے سے روکا گیا ہے، یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران نے دو دن قبل اسرائیل پر 200 سے زائد سپر سونک بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔ بائیڈن نے پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ اسرائیل کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جوابی کارروائی سے گریز کرے، کیونکہ اس کے نتیجے میں لڑائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔صدر بائیڈن نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی نازک ہے اور کسی بھی بڑے واقعے کا وقوع پذیر ہونا کئی ممالک کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم نے اسرائیل کو ایران کے خلاف جوابی کارروائی کی اجازت نہیں دی۔ اس مرحلے پر زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔اس تناظر میں، اسرائیلی اخبار "ییدیعوت آہرونوت” نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی کمانڈو یونٹ (ایگوز) نے ایک خصوصی آپریشن کے دوران حزب اللہ کے جانبازوں کو ایک اسرائیلی فوجی کی لاش اغوا کرنے سے روک دیا۔ یہ واقعہ جنوبی لبنان کے سرحدی علاقے میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں اسرائیلی فوجیوں اور حزب اللہ کے جانبازوں کے درمیان خونی جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ بعض مقامات پر اسرائیلی زمینی دستوں کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے، جبکہ بیک اپ کے لیے اسرائیلی توپ خانہ بھی موجود ہے۔ حزب اللہ کے کارکنوں نے بھی دفاعی لائنیں مضبوط کر رکھی ہیں، جس کے باعث صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔یہ واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی صورتحال کس حد تک خطرناک ہو چکی ہے، اور ایک جانب بائیڈن انتظامیہ کی کوششیں ہیں کہ اسرائیل کو ایران کے خلاف جوابی کارروائی سے روکا جائے، تو دوسری جانب علاقے میں جاری لڑائی کے اثرات بھی عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت عالمی برادری کی نظر اس کشیدہ صورتحال پر ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ تمام فریقین صلح کے راستے پر گامزن ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرمبادلہ کے ذخائر کی ہفتہ وار رپورٹ جاری
پاکستان کے اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر کے اعداد و شمار کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں اہم مالیاتی تبدیلیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض پروگرام کی پہلی قسط موصول ہونے کے بعد ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب 2 کروڑ 69 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔ اس قسط کے بعد ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ یہ قسط نہ صرف زرمبادلہ کی صورتحال کو بہتر بناتی ہے بلکہ اقتصادی استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔27 ستمبر 2024 تک، اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران 1 ارب 16 کروڑ 81 لاکھ ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی کل مالیت 10 ارب 70 کروڑ 17 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹ میں پاکستان کی صورتحال کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
تاہم، رپورٹ میں ایک تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 5 کروڑ 83 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں، کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر کی مجموعی مالیت 5 ارب 28 کروڑ 12 لاکھ ڈالر رہ گئی ہے۔ یہ کمی درحقیقت ملکی معیشت کے لیے ایک چیلنج کی علامت ہے، کیونکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام کی تلاش میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق، مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی موجودہ سطح 15 ارب 98 کروڑ 29 لاکھ ڈالر ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کی مالی حالت کا ایک مکمل منظر پیش کرتے ہیں، جس کے تحت ملک کی معیشت کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی ہوتی ہے۔
یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی معیشت بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے ملنے والے قرضوں کے ذریعے کس طرح مستحکم ہو رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے حاصل کردہ فنڈز زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا سبب بنے ہیں، جس سے معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔ تاہم، کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اقتصادی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔اس تمام تر صورتحال میں، ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے مؤثر پالیسیوں پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کی جا سکے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان کی تلاش : بابر اعظم کی قیادت کا دور اختتام پذیر
سابق کپتان بابر اعظم کے اچانک وائٹ بال ٹیم کی کپتانی چھوڑنے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے مستقبل کے کپتان کے انتخاب کا سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب بابر اعظم نے کپتانی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا، جس نے کرکٹ کے حلقوں میں بے پناہ بحث و مباحثہ کا آغاز کر دیا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق وکٹ کیپر محمد رضوان اور فاسٹ بولر شاہین آفریدی کے کپتان بننے کے امکانات بہت کم ہیں۔ حالیہ سیزن کے دوران، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے شاہین آفریدی کو امریکا اور ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ سے پہلے قیادت سے ہٹا دیا تھا، جبکہ محمد رضوان کو ٹیسٹ ٹیم کی نائب کپتانی سے بھی علیحدہ کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں سعود شکیل کو شان مسعود کا نائب مقرر کیا گیا۔
آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی ناکامی کے بعد یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ قومی ٹیم میں کھلاڑیوں کے تین گروپس موجود ہیں۔ اس صورتحال نے پی سی بی کے سامنے ایک نئے کپتان کی تلاش کا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ بورڈ اب کسی ایسے کھلاڑی کو قیادت کے لیے سامنے لانے پر غور کر رہا ہے جس کا نام کسی تنازعے میں نہ ہو، تاکہ ٹیم کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں کپتانی کا عہدہ ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے، اور اس وقت پی سی بی کو ایک ایسے قائد کی ضرورت ہے جو کھلاڑیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر سکے۔ نئے کپتان کے لیے ممکنہ امیدواروں میں ایسے کھلاڑی شامل ہو سکتے ہیں جو نہ صرف اپنے کھیل میں بہترین ہوں بلکہ ٹیم کے اتحاد کو بھی فروغ دے سکیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے آئندہ کپتان کا انتخاب نہ صرف قومی کرکٹ کی سمت کا تعین کرے گا بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ نئے قائد کے آنے سے ٹیم کی کارکردگی میں کیا بہتری آتی ہے۔ پی سی بی کی کوشش ہے کہ وہ ایک مضبوط اور متفقہ قیادت فراہم کرے، تاکہ ٹیم کو مستقبل میں کامیابی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔










