Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ میں اکھاڑ پچھاڑ کی تیاری، کھلاڑیوں کی شمولیت کا جائزہ

    پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ میں اکھاڑ پچھاڑ کی تیاری، کھلاڑیوں کی شمولیت کا جائزہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 2023-24 کے سیزن کے لیے چار کیٹیگریز میں 25 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ فراہم کیا تھا، جن کے معاہدے 30 جون 2024ء کو ختم ہو چکے ہیں۔ تاہم، پی سی بی نے ابھی تک 2024-25 کے سیزن کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے، جس سے کرکٹ حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق، نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے، اور متعدد کھلاڑیوں کی پوزیشنز کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

    کیٹیگری اے
    میں کوئی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے، اور پچھلے سال کی طرح اس میں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم، وکٹ کیپر محمد رضوان، اور فاسٹ بولر شاہین آفریدی شامل رہیں گے۔
    کیٹگری بی
    ٹیسٹ کپتان شان مسعود کو کیٹیگری "بی” تک محدود رکھا جائے گا، ان کے ساتھ نسیم شاہ، فخر زمان، اور شاداب خان کی موجودگی بھی کنفرم سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم، پچھلے سال کیٹیگری "بی” کا حصہ بننے والے سابق کپتان سرفراز احمد اور فاسٹ بولر محمد حارث کے اس کیٹیگری میں رہنے کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح محمد نواز، جو ایک نمایاں آل راؤنڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں، اس سال کیٹیگری "بی” میں شامل نہیں ہوں گے، جس سے اس کیٹیگری میں ان کی جگہ خالی رہ سکتی ہے۔
    کیٹیگری سی میں نئے نام شامل
    کیٹیگری "سی” میں عبداللہ شفیق کی موجودگی برقرار رکھی گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ نئے ناموں کی شمولیت متوقع ہے۔ صائم ایوب، سعود شکیل، اسامہ میر، اور میر حمزہ جیسے کھلاڑیوں کو اس کیٹیگری میں شامل کرنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جو کہ پاکستان کرکٹ کی نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔
    مراعات میں کمی کی خبریں
    ایک اہم پہلو جو سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ آئی سی سی ورلڈ کپ 2023ء سے قبل کھلاڑیوں کی جانب سے چیئرمین پی سی بی چوہدری ذکاء اشرف سے مراعات میں اضافے کے مطالبات تو تسلیم کر لیے گئے تھے، لیکن نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں مالی فوائد میں اضافے کا امکان کم ہے۔ اس کی بڑی وجہ قومی ٹیم کی گزشتہ 12 ماہ کے دوران کارکردگی میں واضح کمی ہے۔کرکٹ کے حلقوں میں یہ خبریں گرم ہیں کہ پی سی بی کی انتظامیہ کھلاڑیوں کے کنٹریکٹس اور مراعات پر نظرثانی کر رہی ہے، اور اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کن کھلاڑیوں کو اگلے سیزن کے لیے برقرار رکھا جائے اور کس کو فارغ کیا جائے۔

  • ڈریپ کا مشتبہ اینٹی ریبیز ویکسین پر الرٹ: بھارتی ویکسین کی فوری ری کال کا حکم

    ڈریپ کا مشتبہ اینٹی ریبیز ویکسین پر الرٹ: بھارتی ویکسین کی فوری ری کال کا حکم

    ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ایک خطرناک اینٹی ریبیز ویکسین کی موجودگی کے حوالے سے الرٹ جاری کرتے ہوئے اس کے فوری طور پر مارکیٹ سے واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ویکسین، جو "شور ریب” کے نام سے بھارتی کمپنی کی جانب سے تیار کی گئی ہے، مضر صحت ثابت ہوئی ہے اور ڈریپ کے پاس رجسٹرڈ بھی نہیں ہے۔ اس ویکسین کا بیچ نمبر RO 10821 ہے، جو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ڈریپ نے اپنے الرٹ میں فیلڈ فورس، ڈرگ اتھارٹی، ہیلتھ پروفیشنلز، اور فارمیسز کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اینٹی ریبیز ویکسین کی غیر قانونی سپلائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ الرٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ شور ریب نامی اس اینٹی ریبیز ویکسین کی کوالٹی اور سیفٹی غیر واضح ہے اور یہ ڈریپ کے ریگولیٹری معیار پر پورا نہیں اترتی۔ ویکسین کے استعمال سے لوگوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
    ڈریپ نے اپنی ریگولیٹری فیلڈ فورس کو حکم دیا ہے کہ وہ میڈیسن مارکیٹ میں اس ویکسین کی موجودگی کا سروے کرے اور فوری طور پر جعلی ویکسین کا خاتمہ یقینی بنائے۔ فیلڈ فورس کو اس بات کی بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس مضر ویکسین کی سپلائی چین کی مکمل تحقیقات کرے تاکہ اس غیر قانونی ویکسین کے ذرائع اور تقسیم کاروں کا پتا لگایا جا سکے۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ادویات کے ڈسٹری بیوٹرز اور فارمیسز کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اسٹاک میں موجود اینٹی ریبیز ویکسین کا جائزہ لیں اور کسی بھی مشتبہ یا غیر رجسٹرڈ بیچ کو فوری طور پر رپورٹ کریں۔ ڈریپ نے واضح کیا کہ کسی بھی غیر رجسٹرڈ اور جعلی ویکسین کی دستیابی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اگر کسی فارمیسی یا ڈسٹری بیوٹر کے پاس یہ ویکسین پائی گئی تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    ڈریپ کے اس اقدام کا مقصد عوام کی صحت کو بچانا اور ایسی مضر ادویات سے محفوظ رکھنا ہے جو غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی طریقے سے مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہیں۔ ڈریپ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر معمولی ویکسین یا دوا کے بارے میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں تاکہ ان کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔ڈریپ کی جانب سے اس غیر رجسٹرڈ اور مضر ویکسین کے خلاف کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ پاکستان میں دستیاب ادویات کی کوالٹی اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہا ہے۔ جعلی ادویات کی فروخت نہ صرف عوامی صحت کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ ملک کے صحت کے نظام کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ڈریپ کا یہ الرٹ عوامی مفاد میں جاری کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو ایسی خطرناک ادویات سے محفوظ رکھا جا سکے اور مارکیٹ میں جعلی ادویات کی روک تھام ممکن ہو۔

  • پاکستان کی فتح: ٹی 20 ورلڈ کپ میں سری لنکا کو 31 رنز سے شکست

    پاکستان کی فتح: ٹی 20 ورلڈ کپ میں سری لنکا کو 31 رنز سے شکست

    پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوسرے میچ میں سری لنکا کو 31 رنز سے شکست دے کر ایونٹ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کی۔ شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 20 اوورز میں 116 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی۔پاکستان کی اننگز میں کوئی بھی کھلاڑی لمبی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہوسکی، تاہم ٹیم کی مجموعی کوششوں سے وہ 116 رنز کا ہدف سیٹ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ سری لنکا کے خلاف 117 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکن ٹیم مشکلات کا شکار رہی اور مقررہ 20 اوورز میں صرف 85 رنز بنا سکی۔ سری لنکا کی جانب سے نیلکشیکا سلوا 22 رنز اور وشمی گونارتنے 20 رنز کے ساتھ نمایاں رہیں، لیکن دیگر کھلاڑی ڈبل فگر تک نہیں پہنچ سکیں۔
    پاکستان کی باؤلنگ میں سعدیہ اقبال نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا ساتھ دیتے ہوئے فاطمہ ثناء، عمائمہ سہیل اور نشرہ سندھو نے دو دو وکٹیں لے کر سری لنکا کی بیٹنگ لائن کو پریشان رکھا۔میچ کے دوران پاکستانی فاسٹ باؤلر ڈیانا بیگ انجری کا شکار ہو گئیں۔ ڈیانا بیگ کی دائیں ٹانگ کے پٹھے میں کچھاؤ پیدا ہوا جس کے باعث وہ صرف ایک گیند ہی کر سکیں۔ پاکستانی ڈاکٹر اور فزیو نے ان کا معائنہ کیا اور انہیں آرام کا مشورہ دیا گیا، جس کے بعد وہ میچ میں مزید حصہ نہ لے سکیں۔پاکستان کی اس فتح نے ٹیم کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے اور ان کی ورلڈ کپ مہم کا آغاز کامیابی کے ساتھ ہوا۔

  • صدر زرداری اور وزیراعظم انور ابراہیم کی ملاقات: تجارت، معیشت اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

    صدر زرداری اور وزیراعظم انور ابراہیم کی ملاقات: تجارت، معیشت اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔اس ملاقات کے دوران تجارت، معیشت، بینکنگ سیکٹر، فوڈ ٹیکنالوجی اور زراعت جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک نے اہم دوطرفہ معاملات پر مزید تعاون پر اتفاق کیا اور اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم انور ابراہیم کے دورہ پاکستان سے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید استحکام ملے گا۔
    غزہ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے اسرائیل کے مظالم اور فلسطینی عوام کی نسل کشی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام پر مظالم رکوانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے ملاقات کے دوران کہا کہ ان کی وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بھی مثبت اور مفید بات چیت ہوئی ہے۔ وزیر اعظم انور ابراہیم نے اپنے سیاسی کیرئیر میں ہمیشہ انسانی حقوق اور اسلامی اقدار کی حمایت کی ہے اور وہ حقِ خود ارادیت کی تحریکوں کے بھی حامی رہے ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم انور ابراہیم علامہ اقبال کے افکار اور شاعری کے بڑے مداح ہیں، اور وہ اسلامی فلسفے کو اپنی سیاسی زندگی میں اہمیت دیتے ہیں۔ملاقات کے اختتام پر صدر مملکت نے ملائیشیا کے وزیر اعظم اور اُن کے وفد کے اعزاز میں ایک عشائیے کا اہتمام بھی کیا۔

  • الیکشن کمیشن کا اہم اقدام: پنجاب میں آٹھ انتخابی ٹریبونلز کا قیام

    الیکشن کمیشن کا اہم اقدام: پنجاب میں آٹھ انتخابی ٹریبونلز کا قیام

    الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پنجاب میں عام اور ضمنی انتخابات کے حوالے سے انتخابی معا ملات نمٹانے کے لیے آٹھ انتخابی ٹریبونلز کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام انتخابات کے دوران پیدا ہونے والے تنازعات اور انتخابی نتائج کے خلاف دائر ہونے والی درخواستوں کو فوری اور مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ای سی پی کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ان ٹریبونلز میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ انتخابات کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کو قانون کے مطابق حل کیا جا سکے۔ ریٹائرڈ ججز میں رانا زاہد محمود، ظفر اقبال، عبدالشکور پراچہ، اور محمود مقبول باجوہ شامل ہیں، جبکہ حاضر سروس ججز میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر احمد، جسٹس محمد اقبال، جسٹس چودھری انوار حسین اور جسٹس سرفراز ڈوگر شامل ہیں۔
    یہ انتخابی ٹریبونلز پنجاب کے مختلف شہروں میں قائم کیے گئے ہیں، جن میں لاہور، ملتان، بہاولپور اور راولپنڈی شامل ہیں۔ ان ٹریبونلز کا مقصد انتخابی عذرداریاں جلدی نمٹانا اور الیکشن کے نتائج کو قانونی دائرے میں لانا ہے تاکہ عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد بحال رہے۔انتخابی ٹریبونلز کا قیام ایک اہم اقدام ہے کیونکہ یہ انتخابات کے دوران شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔ ان ٹریبونلز کی کارکردگی عوامی اعتماد کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور ملک کے جمہوری نظام میں استحکام پیدا کرے گی۔

  • ڈاکٹر ذاکر نائیک نے  میڈیا کو  سب سے بڑا اور خطرناک ہتھیار قرار دیا

    ڈاکٹر ذاکر نائیک نے میڈیا کو سب سے بڑا اور خطرناک ہتھیار قرار دیا

    کراچی: معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے دنیا کے سب سے بڑے اور خطرناک ہتھیار کے طور پر میڈیا کو نامزد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا وہ طاقتور ہتھیار ہے جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیان انہوں نے کراچی کے گورنر ہاؤس سندھ میں "میڈیا اور اس کی اہمیت” کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب کے دوران دیا۔ڈاکٹر ذاکر نائیک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، جس سے مسلمانوں کو ہر زاویے سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان صرف انٹرٹینمنٹ میڈیا میں مہارت رکھتے ہیں، اور اس کی اہمیت کو مکمل طور پر انٹرٹینمنٹ تک محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ میڈیا، خصوصاً سوشل میڈیا، بذات خود برا نہیں ہے، بلکہ اس کا غلط استعمال حرام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر سوشل میڈیا کو دین اسلام کے پیغام کو عام کرنے کے لئے استعمال کیا جائے تو یہ مسلمانوں کے لئے جنت میں داخلے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ اگر مسلمان سوشل میڈیا کو دعوت کے کام کے لئے استعمال کریں تو یہ ان کی نجات کا راستہ بن سکتا ہے۔
    ان کا مزید کہنا تھا کہ جب سوشل میڈیا جائنٹس یہ دیکھتے ہیں کہ آپ دین اسلام کا پیغام پھیلا رہے ہیں تو وہ آپ کو "شیڈو بین” کرنے لگتے ہیں، یعنی آپ کا مواد کم لوگوں تک پہنچتا ہے اور فالوورز کی تعداد میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً پورا سوشل میڈیا یہودیوں کے کنٹرول میں ہے، اور مسلمان اس میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ڈاکٹر ذاکر نائیک نے مزید کہا کہ اللہ نے مسلمانوں کو بلیک گولڈ یعنی تیل کی صورت میں ایک عظیم نعمت عطا کی ہے، مگر بدقسمتی سے مسلمان اس نعمت کا درست استعمال نہیں کر رہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمیں دنیا کی موجودہ ٹیکنالوجیز اور وسائل کو دین اسلام کے فروغ کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔
    آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں اس سے بہتر ٹول اسلام کے فروغ کے لئے موجود نہیں ہے، لیکن بدقسمتی سے مسلمان اس میں کوئی خاص کام نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس نیوکلیئر ٹیکنالوجی ہے، اور میری خواہش ہے کہ پاکستان آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر بھی تحقیق کرے اور اسے دین اسلام کی تبلیغ کے لئے استعمال کرے تاکہ اس کا اجر پوری قوم کو ملے۔ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے خطاب کے دوران اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان جیسے ملک کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے دین اسلام کے پیغام کو پوری دنیا میں پھیلانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو میڈیا کے تمام پہلوؤں میں اپنی موجودگی مضبوط کرنی چاہئے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسے ٹولز کو استعمال کرتے ہوئے اپنے پیغام کو عالمی سطح پر پہنچانا چاہئے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اعلان کیا کہ وہ 5 اور 6 اکتوبر کو کراچی کے باغ جناح گراؤنڈ میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کریں گے، جہاں وہ مزید اہم موضوعات پر بات کریں گے اور مسلمانوں کو میڈیا کے درست استعمال کی تلقین کریں گے۔

  • 21 اکتوبر تک پاکستان میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ،فیصل واوڈا کا دعویٰ

    21 اکتوبر تک پاکستان میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ،فیصل واوڈا کا دعویٰ

    سینیئر سیاستدان فیصل واوڈا نے حالیہ گفتگو میں حکومت کی ناکامی اور پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ڈی چوک میں احتجاج کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، جبکہ نااہل حکومت پی ٹی آئی کے احتجاج سے پہلے ہی کنٹینر لگا کر عوامی جذبات کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے پیشگوئی کی کہ "21 اکتوبر سے پہلے پاکستان میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، کیونکہ اس روز میری سالگرہ ہے اور میں نے کیک کھانا ہے۔” یہ تبصرہ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی میلاد کی خوشی کا بھی اشارہ ہے۔انہوں نے پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ وہ "لاشوں کی سیاست” کر رہی ہے اور یہ کہ وہ کسی بھی طرح خون خرابہ چاہتی ہیں، اس لئے کہ سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل (ر) فیض حمید نے عمران خان کا نام لیا ہے۔ واوڈا نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ حکومت کی توقعات کے برعکس، ملک کی معیشت اب ٹریک پر آ چکی ہے۔
    انہوں نے مہنگائی میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "مہنگائی سنگل ڈیجیٹ پر آ گئی ہے” اور آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو بھی ایک مثبت علامت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ پی ٹی آئی کو کہیں کسی گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت دے دیتی۔واوڈا نے عمران خان کی آزادی کی جدوجہد کے جذبے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں اس معاملے میں واقعی دلچسپی ہے تو انہیں اپنے بیٹوں کو بھی یہاں بلانا چاہیے۔اس کے علاوہ، فیصل واوڈا نے واضح کیا کہ جنرل (ر) فیض حمید کو کورٹ مارشل کے بعد سزا ہوگی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ملکی فوجی قیادت کے فیصلوں کے بارے میں اپنی رائے رکھتے ہیں۔ فیصل واوڈا کی یہ گفتگو ان کے سیاسی موقف اور موجودہ حکومت کی کارکردگی پر ایک جامع تجزیہ فراہم کرتی ہے، اور اس میں ملک کی موجودہ صورت حال کے بارے میں ان کی بصیرت بھی شامل ہے۔

  • پی ٹی آئی احتجاج: اسلام آباد میں اسکول بند، راستے سیل، موبائل سروس بھی معطل ہونے کا خدشہ

    پی ٹی آئی احتجاج: اسلام آباد میں اسکول بند، راستے سیل، موبائل سروس بھی معطل ہونے کا خدشہ

    اسلام آباد میں حالیہ صورت حال کے پیش نظر، شہر بھر میں کل تمام پرائیویٹ اسکول بند رہیں گے۔ یہ فیصلہ پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کی جانب سے کیا گیا ہے، جس کا مقصد بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری، وحید خان، نے اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہماری پہلی ترجیح بچوں کی حفاظت ہے، اور ہم نے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی کوشش کی ہے تاکہ طلباء کو کسی بھی قسم کی مشکلات سے بچایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق، راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، میٹرو بس سروس بھی معطل رہے گی، جبکہ موٹر وے ایم 1 اور ایم 2 مکمل طور پر بند کی جائیں گی۔ ٹیکسلا، چکری، روات، اور اے ڈبلیو ٹی سے آنے جانے والے راستے بھی بند کیے جائیں گے۔ یہ تمام اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ احتجاج کے دوران عوامی نقل و حرکت میں مشکلات پیدا نہ ہوں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلا ضرورت سفر سے گریز کریں اور موجودہ حالات کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اسکولوں کی بندش اور راستوں کی بندش سے متعلق یہ فیصلے شہریوں کی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد ہی یہ پابندیاں ختم ہوں گی۔
    ذرائع کے مطابق صوابی، ہارون آباد، برہان، جی ٹی روڈ، براہمہ بہتر، واہ کینٹ، اور میاں خان کے مقامات پر موٹروے کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ موٹروے ایم ون چار مقامات پر مکمل طور پر سیل کر دی گئی ہے تاکہ احتجاج کے دوران کسی بھی قسم کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ ریسٹ ایریاز میں ہیوی مشینری بھی پہنچا دی گئی ہیں، جبکہ فائربرگیڈ، موبائل کرینز، اور ایمبولینسز بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔راولپنڈی پولیس کے 4000 سے زائد افسران و اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ اینٹی رائٹ فورس کے دستے بھی الگ سے تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس کو آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔ خیبر پختونخوا سے آنے والے تمام راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے ہیں، اور جی ٹی روڈ اٹک خورد، حسن ابدال، اور چسکا پوائنٹ سے مکمل طور پر بند ہے۔ اس کے علاوہ سی پیک کے مختلف مقامات کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔ان اقدامات کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ضلع بھر کے داخلی و خارجی راستے بند ہونے سے شہریوں کو روزمرہ امور میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
    دوسری جانب، اسلام آباد میں موجود جرمن سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ احتجاج کی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر 4 اکتوبر بروز جمعہ ویزا سیکشن بند رہے گا۔ جرمن سفارت خانے کے بیان میں ویزا درخواست دہندگان سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ اپنی مقررہ اپائنٹمنٹس کے لیے سفارت خانے نہ آئیں، اور اگلے ہفتے کے دوران نئی اپائنٹمنٹس دوبارہ شیڈول کی جائیں گی۔
    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو موبائل نیٹ ورک بند رکھنے کی تجویز دی ہے تاکہ احتجاج کے دوران کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی کو روکا جا سکے۔ راولپنڈی پولیس کے چار ہزار سے زائد افسران و اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ اینٹی رائڈ فورس کے دستے بھی مخصوص مقامات پر تعینات کیے جائیں گے۔ پولیس کو آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں بھی فراہم کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے پیش نظر سرگودھا اور اٹک میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ پابندیاں چار اکتوبر سے چھ اکتوبر تک نافذ العمل رہیں گی، جس کے تحت کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس، یا عوامی اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس فیصلے کا مقصد عوامی حفاظت اور امن و امان کو برقرار رکھنا ہے۔
    ذرائع کے مطابق، اگر کوئی کارکنان احتجاج کی کوشش کریں گے تو انہیں فوری طور پر گرفتار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، راولپنڈی انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ پی ٹی آئی کے احتجاج نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک چیلنج پیدا کر دیا ہے، جس کے جواب میں سخت سیکیورٹی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔

  • صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کو نشان پاکستان سے نوازا

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کو نشان پاکستان سے نوازا

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کو پاکستان کا سب سے بڑا شہری اعزاز، نشان پاکستان، سے نوازنے کی تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد کی۔ یہ تقریب ایک اہم موقع پر منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزراء، اور اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ نشان پاکستان دینے کی تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، اور گورنر پنجاب بھی موجود تھے، جو کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا مظہر ہیں۔ ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کا یہ دورہ پاکستان وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ہو رہا ہے، اور وہ گزشتہ روز پاکستان پہنچے تھے۔وزیر اعظم ہاؤس میں انور ابراہیم کا شاندار استقبال کیا گیا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے انور ابراہیم کو گارڈ آف آنر پیش کیا، جو پاکستان کے ساتھ ان کی مضبوطی کی علامت ہے۔

    دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے مابین دوطرفہ ملاقات ہوئی، جس میں وفود کی سطح پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس ملاقات میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے مختلف مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کا تبادلہ ہوا۔ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، زراعت اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر انور ابراہیم نے کہا کہ ملائیشیا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی روابط اور ثقافتی ہم آہنگی ہیں، جو کہ مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔دونوں رہنماؤں نے غزہ اور کشمیر سمیت علاقائی امور پر اپنے پختہ موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ضروری ہے کہ عالمی برادری ان مسائل کے حل کے لیے یکجا ہو تاکہ امن اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
    یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات کی مضبوطی کی ایک مثال ہے، اور اس میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے عزم و ارادے کا واضح اظہار نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے مابین دوستی کے ایک نئے باب کا آغاز کرتی ہیں، جو مستقبل میں مختلف شعبوں میں مشترکہ ترقی کی راہیں ہموار کرے گی۔

  • پی ٹی آئی کا عزم: 4 اکتوبر کو ڈی چوک میں احتجاج، وفاقی حکومت کے ہتھکنڈوں کی مذمت

    پی ٹی آئی کا عزم: 4 اکتوبر کو ڈی چوک میں احتجاج، وفاقی حکومت کے ہتھکنڈوں کی مذمت

    پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا، جس میں 4 اکتوبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں ہر صورت احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس بار ایک مخصوص اور تربیت یافتہ دستہ قافلوں سے پہلے روانہ ہوگا اور مشینری کو قافلوں سے آگے بھیجا جائے گا۔ یہ اقدام اس لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ پچھلی بار کی طرح راستے بند ہونے کی صورت میں ڈی چوک پہنچنے میں تاخیر نہ ہو۔ اجلاس میں پرامن احتجاج کی تیاریوں اور انتظامات پر تفصیلی مشاورت کی گئی، اور پارٹی قائدین کے ساتھ ساتھ منتخب عوامی نمائندوں کو مخصوص ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ کارکنوں اور عوام کو متحرک کرنا ہوگا تاکہ خیبر پختونخوا کے قافلے منظم انداز میں اسلام آباد پہنچ سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کسی بھی قسم کے تصادم کی خواہاں نہیں اور پولیس اہلکاروں کو اپنے بھائیوں کی طرح سمجھتے ہیں۔علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ احتجاج کو روکنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "پرامن احتجاج ہمارا آئینی اور جمہوری حق ہے، اور ہم اس حق کو ضرور استعمال کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ عوام وفاقی حکومت کے تمام اقدامات کو غلط سمجھ رہے ہیں، خاص طور پر آئینی ترمیم کے نام پر پی ٹی آئی کو کمزور کرنے کی کوششوں پر۔