Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • حکومت نے جی پی فنڈ اور کنٹری بیوٹری پروویڈنٹ فنڈ کی منافع کی شرح میں کمی کر دی

    حکومت نے جی پی فنڈ اور کنٹری بیوٹری پروویڈنٹ فنڈ کی منافع کی شرح میں کمی کر دی

    اسلام آباد: حکومت پاکستان نے جی پی فنڈ اور کنٹری بیوٹری پروویڈنٹ فنڈ (CPF) کے لیے منافع کی شرح میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، مالی سال 2023-24 کے لیے ان فنڈز کی منافع کی شرح میں 0.25 فیصد کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد جی پی فنڈ اور کنٹری بیوٹری پروویڈنٹ فنڈ کے لیے منافع کی نئی شرح 13.97 فیصد سالانہ مقرر کی گئی ہے۔یہ تبدیلی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حکومت مختلف مالی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جس میں مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح اور اقتصادی ترقی کی سست روی شامل ہیں۔ جی پی فنڈ اور CPF کا مجموعی حجم ملک میں سرکاری ملازمین کی بچت اور ریٹائرمنٹ کے فوائد میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ وزارت ریلوے اور وزارت دفاع کے تحت چلنے والے مختلف پروویڈنٹ فنڈز کے بیلنس پر عائد شرح منافع کے بارے میں مزید ہدایات ان وزارتوں کی جانب سے جلد جاری کی جائیں گی۔ یہ اقدام مالی استحکام کو یقینی بنانے اور سرکاری ملازمین کی مالی مدد کے لئے کیا جا رہا ہے۔
    منافع کی اس کمی سے جی پی فنڈ اور CPF کے مجموعی حجم میں متاثر ہونے کی توقع ہے، تاہم یہ تفصیلات نوٹیفکیشن میں فراہم نہیں کی گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام معاشی حالات کے پیش نظر ضروری تھا، مگر اس سے ملازمین کے مستقبل کے مالی منصوبوں پر اثر انداز ہونے کا خدشہ ہے۔ماہرین نے اس فیصلے کو حکومت کی طرف سے مالی استحکام کے حصول کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ اس کمی کے نتیجے میں ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی بچت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مزید وضاحتیں فراہم کرے اور سرکاری ملازمین کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لئے عملی اقدامات کرے۔

  • وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ پالیسی: یومیہ اجرت ملازمین کی خدمات ختم

    وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ پالیسی: یومیہ اجرت ملازمین کی خدمات ختم

    وفاقی حکومت نے اپنی رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت یومیہ اجرت (ڈیلی ویجز) پر کام کرنے والے ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جو کہ عوامی خدمات میں افرادی قوت میں کمی کی ایک بڑی کوشش کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد حکومتی اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں بہتری لانا ہے، تاہم اس سے مختلف شعبوں میں ملازمت کرنے والے ہزاروں یومیہ اجرت ملازمین متاثر ہو رہے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 30 ستمبر 2024 تک یومیہ اجرت پر کام کرنے والے تمام کارکنوں کی خدمات کو سرپلس پول میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان ملازمین کی خدمات اب مزید نہیں لی جائیں گی۔ نوٹیفکیشن میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے سربراہان کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے یومیہ اجرت والے ملازمین کو برطرف کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔نوٹیفکیشن میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ وزارتوں اور ڈویژنز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس فیصلے کی روشنی میں اپنے ملازمین کی خدمات کو ختم کریں، جس کا مقصد حکومت کی رائٹ سائزنگ پالیسی کی کامیابی کو یقینی بنانا ہے۔

    متاثرہ ملازمین کی صورتحال
    یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں متاثر ہونے والے یومیہ اجرت والے ملازمین کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ یہ ملازمین مختلف شعبوں میں کام کر رہے تھے، بشمول صحت، تعلیم، اور انتظامی امور، اور ان کی برطرفی سے ان کی معاشی حالت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بہت سے ملازمین نے اپنے حالات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ یومیہ اجرت پر کام کرنا ان کے لیے واحد ذریعہ معاش ہے۔

    حکومتی دعوے
    حکومت کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ یہ اقدامات ملک کے اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی پینشنز میں اضافہ اور دیگر اخراجات کی بھرمار حکومت کے لیے ایک "بم” کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جس کی روک تھام ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات ایک مستقل اور مستحکم معاشی نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔
    حکومتی فیصلے کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ کئی تجزیہ کاروں اور معاشی ماہرین نے اس اقدام کو عوامی خدمات کی کمی کا باعث قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ برطرفیاں عوامی خدمات کی فراہمی میں کمی لا سکتی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ملازمین کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کرے، تاکہ وہ معاشی مشکلات کا سامنا نہ کریں۔

    وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی برطرفی کا آغاز ایک ایسا اقدام ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ حکومتی دعوے اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں بہتری کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس فیصلے سے متاثر ہونے والے ملازمین کی زندگیوں پر مہلک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت اس صورتحال کا کس طرح انتظام کرتی ہے اور متاثرہ ملازمین کے مسائل کا حل کیسے نکالتا ہے۔

  • خیبر پختونخوا کے اساتذہ کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج، حکومت کی عدم توجہ پر نعرے بازی

    خیبر پختونخوا کے اساتذہ کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج، حکومت کی عدم توجہ پر نعرے بازی

    راولپنڈی: خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اساتذہ نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں انہوں نے حکومتی رویے کے خلاف نعرے بازی کی۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کو بتانے آئے ہیں کہ وہ سراپا احتجاج ہیں اور حکومت ان کی شکایات پر توجہ نہیں دے رہی۔اساتذہ نے اپنی بات چیت میں یہ بھی کہا کہ 2018 سے لے کر اب تک ہزاروں اساتذہ کی بھرتی کی گئی ہے، لیکن خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اساتذہ کی پینشن ختم کرنے کا اقدام ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقل اساتذہ کو بھی سی پی فنڈ کے دائرے میں لایا جا رہا ہے، جو ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔اساتذہ نے علی امین گنڈاپور کے ساتھ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی شکایات کے حوالے سے کوئی مثبت اقدام نہیں اٹھایا۔
    اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ ایڈ ہاک کی بنیاد پر کام کرنے والے اساتذہ کی ریگولائزیشن ضروری ہے، کیونکہ وہ مستقل حیثیت کے حامل اساتذہ کے مقابلے میں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔احتجاج کے دوران اساتذہ نے مزید کہا کہ اگر ان کے مسائل حل نہ ہوئے تو وہ اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔ خیبر پختونخوا کے 34 ہزار اساتذہ اس وقت احتجاج کے موڈ میں ہیں، اور انہوں نے بنی گالہ میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی تھی، لیکن ان کے مسائل ابھی تک حل نہیں ہو سکے۔اساتذہ کے اس احتجاج نے حکومت کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ان کے حقوق اور مشکلات کو حل کیا جا سکے۔ اساتذہ نے واضح کیا کہ جب تک ان کی ریگولائزیشن کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، وہ اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

  • اسپیکر قومی اسمبلی کو عادل بازائی اور الیاس محمد چوہدری کے خلاف ریفرنسز موصول

    اسپیکر قومی اسمبلی کو عادل بازائی اور الیاس محمد چوہدری کے خلاف ریفرنسز موصول

    اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی کو اراکین اسمبلی عادل خان بازائی اور الیاس محمد چوہدری کے خلاف ریفرنسز موصول ہوئے ہیں۔ یہ ریفرنسز پاکستان مسلم لیگ (ق) کی جانب سے دائر کیے گئے ہیں، جن میں ان دونوں ارکان پر پارٹی ڈائریکشنز کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، عادل خان بازائی نے بجٹ سیشن کے دوران حکومتی بینچز سے اٹھ کر اپوزیشن بینچز پر جانے کا فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا۔ اس کے علاوہ، الیاس محمد چوہدری بھی اسی طرح کی کارروائی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ دونوں اراکین کے اس اقدام کو مسلم لیگ (ق) کی پارٹی گائیڈ لائنز کی صریح خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے، اور ریفرنسز میں فوری کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔عادل خان بازائی قومی اسمبلی کے حلقہ 262 (کوئٹہ-1) سے منتخب ہوئے ہیں، جبکہ الیاس محمد چوہدری حلقہ 62 (گجرات) سے رکن قومی اسمبلی ہیں۔ دونوں اراکین نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا تھا، لیکن بعد میں سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کی۔ عادل خان بازائی نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی، جب کہ الیاس محمد چوہدری مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوئے، جس کے بعد ان کے خلاف ریفرنسز دائر کیے گئے ہے ریفرنسز کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ مروجہ قوانین کے تحت تمام اراکین اسمبلی کو اپنی پارٹی کی گائیڈ لائنز کی پیروی کرنا لازمی ہے۔ یہ الزامات ان کی جماعت کی طرف سے ایک ناپسندیدہ اقدام قرار دیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے پارٹی میں انتشار کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے ان ریفرنسز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد پارٹی کی ڈسپلن کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی کے اراکین کو کسی بھی صورت میں پارٹی کی ہدایات کے مطابق چلنا ہوگا، بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔یہ واقعہ مسلم لیگ (ق) کے اندرونی معاملات میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر جب پارٹی کے اراکین کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ سیاسی حلقے اس صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں، تاکہ دیکھ سکیں کہ آیا یہ اقدام مزید تنازعات کا سبب بنے گا یا مسلم لیگ (ق) کی قیادت کو مضبوط کرے گا۔ان ریفرنسز کا اثر نہ صرف عادل خان بازائی اور الیاس محمد چوہدری پر پڑے گا بلکہ مسلم لیگ (ق) کی حکمت عملی اور سیاسی مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان اراکین کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے ممکنہ نتائج پارٹی کے اندر اختلافات کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں، جس سے پارٹی کی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔اس صورتحال پر قومی اسمبلی کی آئندہ میٹنگ میں مزید بحث متوقع ہے، جہاں اسپیکر ان ریفرنسز کا جائزہ لیں گے اور ممکنہ کارروائی کا فیصلہ کریں گے۔

  • پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کا عزم، مشرکہ پریس کانفرنس

    پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کا عزم، مشرکہ پریس کانفرنس

    پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے جمعرات کو وزیراعظم ہائوس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دوطرفہ تعلقات کی ترقی کے لیے اہم عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، زراعت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا اور غزہ اور کشمیر جیسے اہم علاقائی امور پر اپنے پختہ موقف کا اعادہ کیا۔اجلاس کے بعد، وزیراعظم شہباز شریف اور انور ابراہیم نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کی بات چیت میں دوطرفہ مفاد کے مختلف شعبوں پر تفصیل سے غور کیا گیا، جن میں فلسطین اور کشمیر سمیت عالمی امور میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان ملائیشیا کو سالانہ 200 ملین ڈالر مالیت کا حلال گوشت اور 100,000 میٹرک ٹن باسمتی چاول برآمد کرے گا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے یہ بات واضح کی کہ ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان کل تجارت 1.4 بلین امریکی ڈالر ہے، جس میں پام آئل، ملبوسات، ٹیکسٹائل، کیمیکلز اور الیکٹرک مصنوعات شامل ہیں۔

    دفاع اور سرمایہ کاری میں تعاون
    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ "ہم نے تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے علاوہ دفاع، سیاحت، زراعت، گرین انرجی، ہنر مند افرادی قوت اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے شعبوں میں مزید تعاون کی راہیں تلاش کرنے کے لیے شاندار اجلاس کیا۔” انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ دونوں ممالک مشترکہ طور پر تجارت اور سرمایہ کاری میں نئے افق کی تلاش کریں گے تاکہ دونوں قوموں کے روشن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر اعظم انور ابراہیم نے کہا کہ ملائیشیا کے وزیر اعظم نے پاکستان کے چاول کی درآمد میں رکاوٹوں کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملائیشیا پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے جلد ہی کراچی میں ملائیشین ٹریڈ آفس کھولے گا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے فلسطینیوں کی حالت زار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ہم نے غزہ کی دل دہلا دینے والی صورتحال پر بات چیت کی، جہاں معصوم بچے اور خواتین جان سے جا رہے ہیں۔” انہوں نے اسرائیلی افواج کی طرف سے جاری نسل کشی کی مذمت کی اور فوری جنگ بندی پر زور دیا۔
    اسی طرح، مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کشمیری عوام کو حق خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کو جلد ہی ان کا حق ملے گا۔”

    تجارتی معاہدوں کا تبادلہ
    دونوں وزرائے اعظم نے مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) اور تعاون کی ایک دستاویز کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کی۔ اس تقریب کے دوران، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) اور ملائیشیا ایکسٹرنل ٹریڈ ڈویلپمنٹ کوآپریشن کے درمیان تجارتی تعاون پر مفاہمت کی یادداشت اور پاکستان-ملائیشیا بزنس کونسل (پی ایم بی سی) اور ملائیشیا-پاکستان بزنس کونسل (ایم پی بی سی) کے درمیان حلال تجارت میں تعاون کے لیے ایم او یو کا تبادلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور ملائیشین کمیونیکیشن اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن (ایم سی ایم سی) کے درمیان تعاون کی ایک دستاویز پر بھی دستخط کیے گئے۔
    وزیر اعظم انور ابراہیم نے اس موقع پر معروف شاعر علامہ محمد اقبال کی تصانیف کا بہاسا میلیو میں ترجمہ پیش کیا اور اپنی کتاب "ایشیائی نشاۃ ثانیہ” کی اردو کاپی بھی پیش کی۔
    یہ ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارتی اور سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ایک مضبوط باہمی تعلقات کی تشکیل کا عزم کیا ہے، جس سے نہ صرف دونوں ملکوں کی معیشت کو فائدہ ہوگا بلکہ خطے کے امن اور ترقی میں بھی کردار ادا کرے گا۔

  • یورپی یونین کی انتونیو گوتریس کے لیے حمایت کا اعلان: عالمی امن کے لیے عزم کی توثیق

    یورپی یونین کی انتونیو گوتریس کے لیے حمایت کا اعلان: عالمی امن کے لیے عزم کی توثیق

    یورپی یونین نے حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے خلاف چلنے والی مہم کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ حمایت اس وقت سامنے آئی ہے جب مختلف حلقوں کی جانب سے گوتریس پر امن کے حصول میں ناکامی کا الزام لگایا جا رہا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے تناظر میں۔یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ انتونیو گوتریس نے دنیا بھر میں جاری ہر تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ان پر امن کے حصول میں ناکامی کا الزام لگانا درست نہیں۔” بوریل کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یورپی یونین گوتریس کی خدمات اور ان کی کوششوں کی قدر کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی امن و سلامتی کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
    جوزپ بوریل نے مزید کہا کہ "ہم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی تمام تنازعات اور بالخصوص مشرق وسطیٰ میں امن کے حصول کے لیے ان کی انتھک کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گوتریس کی قیادت میں اقوام متحدہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے کارکنوں کی حفاظت اور ان کے حقوق کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔بوریل نے کہا کہ "ہم ان کے خلاف بلاجواز حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں، جن کا مقصد ان کی کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کارکنوں کی ہلاکتوں کی بھی مذمت کی، جو کہ ان کی بہادری اور انسانی خدمت کے عزم کی علامت ہیں۔
    یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی برادری میں امن و سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور مختلف تنازعات کے نتیجے میں انسانی ہمدردی کے بحران بھی جنم لے رہے ہیں۔ یورپی یونین کی اس حمایت کے نتیجے میں توقع کی جا رہی ہے کہ عالمی برادری میں گوتریس کے کردار کو مزید تقویت ملے گی، اور ان کی کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔یورپی یونین کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور امن کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس بیانیے سے واضح ہوتا ہے کہ یورپی یونین انسانی حقوق کی حفاظت اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کی پاسداری کے لیے بھی پختہ عزم رکھتی ہے۔

  • مریم نواز کا ہمت کارڈ منصوبے کے  افتتاح کے دوران کے پی  حکومت پر تنقید

    مریم نواز کا ہمت کارڈ منصوبے کے افتتاح کے دوران کے پی حکومت پر تنقید

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آج ہمت کارڈ منصوبے کا باضابطہ افتتاح کیا، جس کی تقریب میں انہوں نے خصوصی افراد کے حقوق اور ان کی بہبود کے حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہوں کہ ایک اور خواب کی تکمیل ممکن ہوئی، اور ہم خصوصی افراد کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مریم نواز نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت صوبے میں 65 ہزار خصوصی افراد کو ہمت کارڈ دیئے جائیں گے، جنہیں مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمت کارڈ منصوبے کے لیے 2 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اور اس کارڈ کے حامل افراد کو تین ماہ میں ساڑھے دس ہزار روپے ملیں گے۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ "پنجاب حکومت خصوصی افراد کو تنہا نہیں چھوڑے گی، ہم ان کے مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔مریم نواز نے مزید کہا کہ ہمت کارڈ کے ذریعے ملنے والی رقم میں اضافہ کیا جائے گا، اور اس منصوبے کے تحت خصوصی افراد کو میٹرو بس میں فری سفر کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
    وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ "کیا وجہ ہے کہ (ن) لیگ کے دور میں ملک ترقی کرتا ہے؟” انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے دور میں موٹرویز کی تعمیر اور مہنگائی میں کمی ہوئی۔ انہوں نے سابقہ حکومت کی نااہلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "گزشتہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے مہنگائی 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی، لیکن آج یہ مسلسل کم ہو رہی ہے۔مریم نواز نے خاص طور پر روٹی کی قیمت میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "روٹی کی قیمت پہلے 25 روپے تھی اور آج یہ 12 روپے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے، بلکہ وہ ہمیشہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔

    خیبرپختونخوا کے حالات اور پی ٹی آئی پر تنقید
    تقریب کے دوران مریم نواز نے خیبرپختونخوا کے عوام کے حالات پر بھی تبصرہ کیا، کہا کہ "میرا دل خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے دھڑکتا ہے۔” انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا کام صرف "جلاؤ گھیراؤ” کرنا ہے، جو عوام کی خدمت میں خلل پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ دوسرے صوبے پر حملہ کرنے کے بجائے خیبرپختونخوا کے عوام کی خدمت کریں۔وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی کی سرگرمیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا، "یہ لوگ پنجاب کے اوپر بار بار حملہ کر رہے ہیں، اور ریسکیو 1122 کی گاڑیوں کو جلسوں میں لایا جا رہا ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا پیسہ اپنی سیاست چمکانے کے لیے خرچ کیا جا رہا ہے، اور انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھول میں نہ رہنا، "مجھے دہشت گردوں سے نمٹنا آتا ہے۔”

  • آئینی ترمیم کے نتائج سخت ہوں گے،سلمان اکرم راجہ کی وارننگ

    آئینی ترمیم کے نتائج سخت ہوں گے،سلمان اکرم راجہ کی وارننگ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران آئینی ترمیم کے حوالے سے گہرے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان ایک تاریک گھڑی سے گزر رہا ہے، جہاں لوگوں کو غیر قانونی طور پر لوٹنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آئینی ترمیم منظور ہو گئی تو ہر شخص کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔سلمان اکرم راجہ نے شیخ وقاص اکرم کے ساتھ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ اس وقت ملک میں ایک سنگین صورتحال درپیش ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ دعوت گناہ ہے کہ جاؤ اور لوٹو، آئینی ترمیم آ گئی تو ہر کسی کو اس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حق مانگنے والے کو بھگتنا پڑے گا۔” ان کے اس بیان نے معاشرتی اور سیاسی دائرے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ وہ آئینی اصلاحات کے ممکنہ اثرات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
    سلمان اکرم راجہ نے وضاحت کی کہ انہیں ان ترمیمات کی خاطر ووٹ درکار ہیں جو کہ پچاس سال پرانے قوانین میں تبدیلی کی بات کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، "آئینی حقوق سپریم ہیں۔ یہ ترمیم کہتی ہے کہ کسی بھی بنیادی حق کو سلب کیا جا سکتا ہے، ملک کی حفاظت کی خاطر فون کو سنا جا سکتا ہے۔پی ٹی آئی کے رہنما نے مزید کہا کہ اگر آئینی ترمیم منظور ہو گئی تو عوام کے حقوق کا تحفظ مشکل ہو جائے گا۔ "ترمیم کے بعد جو بھی اپنے حقوق کا مطالبہ کرے گا، اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا،” انہوں نے تنبیہ کی۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ عدالتیں عوام کو ریلیف اور تحفظ فراہم کرتی ہیں، لیکن اگر کوئی معاملہ فوجی عدالتوں میں جائے تو ہائی کورٹ اس میں مداخلت نہیں کر سکے گی۔
    سلمان اکرم راجہ نے ملٹری عدالتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملٹری کورٹ نوٹس یا کوئی کارروائی کرتی ہے تو ہائی کورٹ کچھ نہیں کرسکتی۔ "یہی وہ آئینی ترمیم اور پیکج ہے جس کی راہ ہموار ہو چکی ہے،” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ترمیم موجودہ سیاسی اور قانونی ڈھانچے کے لیے ایک خطرہ بن سکتی ہے۔اس پریس کانفرنس کے بعد، سلمان اکرم راجہ کے بیانات نے سیاسی حلقوں میں بحث و مباحثہ کو بڑھا دیا ہے۔ ان کے خدشات نے عوامی سطح پر آئینی حقوق اور قانون کے نفاذ کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے اس مؤقف سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ موجودہ سیاسی صورتحال اور آئینی تبدیلیوں کے خلاف جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی سیاسی عدم استحکام کی موجودہ حالت میں آئینی حقوق کے تحفظ کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

  • محسن نقوی کا پی ٹی آئی احتجاج پر سختی کا اعلان: اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ

    محسن نقوی کا پی ٹی آئی احتجاج پر سختی کا اعلان: اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے کل ہونے والے احتجاج کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کسی قسم کی نرمی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے واضح کیا کہ احتجاج کا حق ہر کسی کو ہے، لیکن اس وقت ملک میں عالمی رہنماؤں کی موجودگی کے دوران احتجاج کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے مزید کہا کہ ملائیشیا کے وزیراعظم پاکستان کے دورے پر ہیں اور اسلام آباد میں اہم عالمی تقریبات جاری ہیں، ایسے میں پی ٹی آئی کا احتجاج مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے کل احتجاج کی کال دی ہے، جبکہ اسلام آباد انتظامیہ نے جلسے کے لیے مخصوص جگہ کا تعین کر دیا ہے، لیکن اگر کوئی گروہ مقررہ مقام سے ہٹ کر قانون شکنی کرے گا تو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں برتی ہے اور کل کے احتجاج کے پیش نظر انتہائی سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ "ہم نے پہلے ہی فوج اور پیراملٹری فورسز کو اسلام آباد طلب کر لیا ہے، اور احتجاج کو روکنے کے لیے ہر حد تک جائیں گے،” انہوں نے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور چین کے وفود بھی پاکستان پہنچ رہے ہیں، جن کی حفاظت کے لیے کنٹینرز کھڑے کرنا حکومت کی مجبوری بن چکی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد کسی قسم کی بدامنی اور ملک کی بدنامی کو روکنا ہے۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان میں کئی سال بعد ایک اہم عالمی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، جو کہ پاکستان کی عالمی سطح پر کامیابی اور ساکھ کے لیے نہایت ضروری ہے۔ "ایس سی او کانفرنس کی کامیابی ہر پاکستانی کی کامیابی ہے، اور پی ٹی آئی کو چاہیے کہ احتجاج کی کال دینے سے پہلے ملک کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھے،” انہوں نے کہا۔وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ احتجاج کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی ہو یا کوئی شرمندگی کا باعث بنے۔ "احتجاج کرنا آپ کا حق ہے، لیکن ان دس سے بارہ دنوں میں نہیں جب عالمی رہنما پاکستان میں موجود ہوں۔ کوئی احتجاج برداشت نہیں کیا جائے گا،” محسن نقوی نے خبردار کیا۔
    اپنے بیان میں وزیر داخلہ نے مولانا سے 25 سالہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلق کسی کی خواہش پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز کچھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن کے پاس سے غلیلیں، پتھر، اور کیلوں والے ڈنڈے برآمد ہوئے ہیں۔ "اگر یہ محض احتجاج ہوتا، تو ایسی تیاری نہ کی جاتی،” انہوں نے کہا۔محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ملک کے مفاد کو دیکھیں اور احتجاج کی کال واپس لیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے ہیں اور کسی بھی قسم کی گڑبڑ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

  • مولانا فضل الرحمن کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے پیش نظر احتجاج اور ترامیم مؤخر کرنے کی تجویز

    مولانا فضل الرحمن کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے پیش نظر احتجاج اور ترامیم مؤخر کرنے کی تجویز

    اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو آئینی ترامیم کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس کے پیش نظر آئینی ترمیم کا بل مؤخر کیا جانا چاہیے اور اپوزیشن کو بھی اس دوران اپنا احتجاج مؤخر کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے ساتھ آئینی ترامیم پر کسی بھی طرح کے "پلس” ہونے پر راضی نہیں ہیں، اور اس پر بظاہر سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہیں ہو رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے آئینی ترامیم میں جلدبازی سمجھ سے باہر ہے۔ مولانا نے اس تناظر میں یاد دلایا کہ ماضی میں 18ویں آئینی ترمیم پر 9 ماہ تک طویل مشاورت اور بحث ہوئی تھی، جب کہ آج کی حکومت 24 گھنٹے کے اندر ترمیم کرنے پر اصرار کر رہی ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر زور دیا کہ ایسی جلدبازی ملکی مفاد میں نہیں ہے اور حکومت کو اس سلسلے میں سنجیدگی دکھانی چاہیے۔مولانا نے واضح طور پر کہا کہ "ہم حکومت کی آئینی ترامیم کی جلدی کو نہیں سمجھتے، اور ہم اس پر ان کے ساتھ نہیں ہیں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ماضی میں مفادات کے لیے آئینی ترامیم تیار کی جاتی رہی ہیں تو حکومت کو اس پر فوری عمل کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، لیکن جب قومی مفاد میں ترامیم کی بات ہوتی ہے تو اسے پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔
    سپریم کورٹ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 63-A کے حوالے سے دیے گئے حالیہ فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی ایف سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول کرتی ہے، لیکن اس فیصلے میں کسی قسم کی "میچ فکسنگ” نہیں ہونی چاہیے۔ مولانا کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے فیصلے خرید و فروخت کا ذریعہ بننے نہیں چاہیے اور اس میں شفافیت اور دیانتداری کا پہلو نمایاں ہونا چاہیے۔مولانا نے مزید کہا کہ ان کی جماعت کے نزدیک قومی مسائل پر آئینی ترامیم میں عجلت کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کو جب اپنے مفادات کے لیے ترامیم کرنی ہوتی ہیں تو وہ فوری عمل کرتی ہے، لیکن جب عوامی مفادات کی بات ہوتی ہے تو تاخیر کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔جے یو آئی کے سربراہ نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ آئینی ترامیم کے حوالے سے مشاورت جاری ہے اور دونوں جماعتوں نے ایک متفقہ ڈرافٹ تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک متفقہ ڈرافٹ تیار کریں اور پھر اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تاکہ آئینی ترامیم پر اتفاق رائے ہو سکے، لیکن فی الحال ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پیپلز پارٹی نے ایک ڈرافٹ تیار کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن بظاہر اس مسئلے پر مکمل اتفاق رائے نہیں بن پا رہا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھیں تاکہ ملک میں ایک متفقہ آئینی ترمیم ممکن ہو سکے۔

    دینی مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ
    مولانا فضل الرحمان نے دینی مدارس کے حوالے سے بھی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملات حکومت کی جانب سے روک دیے گئے ہیں اور یہ مغربی طاقتوں کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔” مولانا کا کہنا تھا کہ حکومت کو دینی مدارس کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قانون سازی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے۔

    فلسطین اور مسلم امہ کی خاموشی
    مولانا فضل الرحمان نے اپنی پریس کانفرنس میں فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا بھی ذکر کیا اور عالمی برادری، بالخصوص مسلم امہ، کی خاموشی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "فلسطینی مسلمانوں کا خون پی پی کر بھی اسرائیل کی پیاس نہیں بجھ رہی، اور اس وحشیانہ دہشتگردی کے خلاف مسلمانوں کو ایک متحدہ کمان میں آنا ہوگا۔” انہوں نے مسلم امہ کے حکمرانوں کی خاموشی کو قابل افسوس قرار دیتے ہوئے کہا کہ "اسرائیل کی تاریخ انسانیت کے قتل سے بھری ہوئی ہے، اور ان کا یہ رویہ ناقابل برداشت ہے۔”مولانا نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ہاتھوں مسلمانوں کی نامور شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور عالمی برادری کو اس پر نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے مغربی طاقتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "اسرائیل امریکا اور مغربی دنیا کے اسلحے سے لیس ہو کر مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی کر رہا ہے۔” مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے مسلم امہ کو اپنی پالیسی کو ازسرنو ترتیب دینا ہوگا اور سعودی عرب کو اس مسئلے پر قیادت کرنی چاہیے۔انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان، انڈونیشیا، ملائیشیا، مصر، اور ترکیہ کو مل کر ایک وفد تشکیل دینا چاہیے جو مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے عالمی فورمز پر اپنا مقدمہ پیش کرے اور فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کرے۔مولانا فضل الرحمان نے اپنی گفتگو کے اختتام پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات میں اپنا احتجاج مؤخر کر دیں اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران ملک میں سیاسی استحکام کو یقینی بنائیں۔
    مولانا نے کہا کہ "ہمیں اپنی تمام تر توانائیاں ملک کی ترقی، خوشحالی، اور عوام کے مسائل کے حل پر مرکوز کرنی چاہیے، اور اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔”