پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے حالیہ بیانات پر شدید ردعمل دیا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے فیصل واوڈا کے اس بیان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واوڈا خود ایک پیادہ ہیں اور انہیں یہ وضاحت دینی چاہیے کہ وہ کس کے کہنے پر "بھگوڑے” بنے ہیں۔ سیف نے سوال اٹھایا کہ واوڈا کن مقاصد اور کس ہدایت پر ایسے بیانات دے رہے ہیں جو نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ ملک کی سیاسی صورتحال کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ واوڈا کی جانب سے عمران خان پر الزامات دراصل ایک منظم مہم کا حصہ ہیں جس کے پیچھے کچھ "پوشیدہ ہاتھ” ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیصلواوڈا کو یہ وضاحت دینی ہوگی کہ وہ کن قوتوں کے اشارے پر ایسی حرکات کر رہے ہیں جو ملک میں انتشار اور فساد پھیلانے کا باعث بن رہی ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے اپنے بیان میں مسلم لیگ (ن) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ مسلسل سرکاری وسائل اور اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور مریم نواز کو اپنے ضمیر کا جائزہ لینا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ وہ عوامی نمائندے بننے کے اہل ہیں یا نہیں۔بیرسٹر سیف نے ن لیگ کی ماضی کی سیاسی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ن لیگ پنجاب کارڈ کا ہمیشہ سے غلط استعمال کرتی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہتے مظاہرین پر گولیاں چلانا جمہوریت کے خلاف بغاوت کے مترادف ہے، اور ن لیگ نے ماڈل ٹاؤن کے سانحے میں نہتے لوگوں پر گولیاں برسائیں۔
بیرسٹر سیف نے موجودہ وفاقی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عوام کا مینڈیٹ چوری کرکے خود کو زبردستی عوام پر مسلط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے ڈنڈا بردار جتھوں نے ماضی میں سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا اور آج بھی وہی ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور ان کے "آلہ کار” ملکی اداروں کو سیاست کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں، اور ملک کو اس وقت اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ سیاست کو صرف سیاسی اداروں کے حوالے کیا جا سکے۔
بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ تصادم کی سیاست وفاقی حکومت کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان نے ہمیں احتجاج کا حق دیا ہے، اور اس حق کو دبانے کے لیے ن لیگ طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک کے مختلف طبقات کو تقسیم کرنے اور اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرنے کے لیے مسلسل تشدد کا سہارا لیا ہے۔بیرسٹر سیف کے مطابق تمام قومیں پاکستانی ہیں اور کسی بھی سیاسی جماعت کو یہ حق نہیں کہ وہ عوامی مسائل کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاست میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے سیاسی اداروں کو مضبوط کیا جا سکے۔آخر میں بیرسٹر سیف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سیاست کو گمراہ کن مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے اور ملکی اداروں کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
واضح رہے کہ فیصل واوڈا نے عمران خان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اقتدار کے لیے "لاشیں گرانے” کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ واوڈا کے مطابق عمران خان غریب عوام کے بچوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے ان کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ فیصل واوڈا کا یہ بیان پی ٹی آئی کے اندر اور باہر دونوں جانب ایک بڑی بحث کا باعث بنا ہے۔واوڈا نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ عمران خان صرف اپنے اقتدار کے لیے عوامی جانوں کو داو پر لگا رہے ہیں اور اپنی سیاست کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے انتہاپسندانہ رویوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "عمران خان کہتے ہیں کہ میرے اقتدار کے لیے لاشیں گرا دو۔” یہ بیان ملک کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں تشویش کا باعث بنا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا فیصل واوڈا کے بیان پر شدید ردعمل
-

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا ڈاکٹر ذاکر نائیک کے لیکچر کا اعلان
کراچی: گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اعلان کیا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کل رات 7 بجے گورنر ہاؤس میں ایک لیکچر دیں گے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ پروگرام میں شرکت کے لیے دعوت نامہ اور شناختی کارڈ کی ضرورت ہوگی، جس کا مقصد سکیورٹی مسائل کو مدنظر رکھنا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ آئی ٹی کے طلبہ اگر شرکت کرنا چاہیں تو وہ اپنا دعوت نامہ گورنر ہاؤس سے حاصل کر سکتے ہیں۔کامران خان ٹیسوری نے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ اپنے ہمراہ دعوت نامہ اور شناختی کارڈ ضرور لائیں، کیونکہ بغیر دعوت نامہ گورنر ہاؤس میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کل کے پروگرام کے شاندار انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ اس سے قبل ڈاکٹر ذاکر نائیک نے گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی تھی، جہاں انہیں گلدستہ پیش کیا گیا۔ معروف سکالر نے خیر مقدم کرنے پر گورنر سندھ کا شکریہ ادا کیا۔
-

لبنان کی سفارتی کوششیں تیز، اسرائیل کو لگام ڈالنے کی عالمی اپیل
بیروت: لبنان کے وزیرِاعظم نجیب میکاتی نے عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت کے خلاف فوری اقدامات اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض خاموش تماشائی بننے کے بجائے اسرائیل کو لگام ڈالنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے عوام کے درمیان اتحاد و یگانگت ملک کو اس مشکل وقت میں بچانے کی بنیادی شرط ہے، اور موجودہ صورتحال میں ہر شہری کو ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔وزیرِاعظم نجیب میکاتی نے ایک سرکاری بریفنگ میں واضح کیا کہ ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ ہے اور لوگوں کو باہمی تعاون اور اتحاد کے ذریعے اس بحران کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو روکنے میں لبنان کی اخلاقی مدد کرے۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ جان بوجھ کر لڑائی کو طول دے رہا ہے، جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
نجیب میکاتی کا یہ بیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکا، فرانس، یورپی یونین، جاپان، سعودی عرب، قطر، جرمنی، آسٹریلیا، کینیڈا اور اٹلی کے اہم اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔ وزیرِاعظم نے لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبی بیری اور پروگریسیو سوشلسٹ پارٹی کے سابق لیڈر ولید جنبلات سے ملاقات کے بعد عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کو کنٹرول کرے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں لبنان کے نمائندے السید ہادی ہاشم نے کہا کہ اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ لبنان میں محدود پیمانے پر زمینی کارروائی کرے گا، لیکن حقیقت میں اسرائیلی فوج زیادہ وسیع کارروائی کی تیاری میں مصروف ہے۔ ہادی ہاشم نے عالمی برادری کو متنبہ کیا کہ اسرائیل کے ارادے خطرناک ہیں اور فوری طور پر عالمی طاقتوں کو اس پر قابو پانے کے لیے اقدام کرنا چاہیے۔لبنان میں سیکیورٹی فورسز کو مکمل طور پر الرٹ کر دیا گیا ہے کیونکہ اسرائیلی فوج کی کارروائیاں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ تاہم، ابھی تک اسرائیلی فوج اور لبنانی فوج کے درمیان براہ راست کوئی جھڑپ نہیں ہوئی، اور اسرائیلی فورسز نے لبنانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا ہے۔لبنانی حکومت کی جانب سے اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے بین الاقوامی رابطے تیز کر دیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں بھی لبنانی سفارتی مشن اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے تاکہ اسرائیل کے خلاف فوری اور موثر اقدامات کیے جا سکیں۔ -

امریکی صدر جو بائیڈن کی ایران کو مزید پابندیوں کی دھمکی، اسرائیل کے دفاع میں سخت اقدامات کا عندیہ
واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل پر ایرانی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ یہ بیان مشرق وسطیٰ میں جاری بڑھتے ہوئے تنازعے کے تناظر میں سامنے آیا، جہاں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ ایران پر جلد ہی مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی حمایت نہیں کرتا، لیکن خطے میں اپنے اتحادیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکا ہر ممکن اقدام کرے گا۔ صدر بائیڈن نے اس بات کا اعلان بھی کیا کہ وہ جلد ہی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کریں گے تاکہ خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جی سیون کے رہنماؤں کا ایک اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں خطے کے اہم معاملات پر مشاورت کی جائے گی۔
یہ صورتحال اُس وقت شدید ہوگئی جب گزشتہ رات ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے، جن کے جواب میں اسرائیل نے کہا ہے کہ ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ اسرائیلی حکام نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر بھرپور حملہ کریں گے اور اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسرائیل کی جانب سے جاری کی جانے والی دھمکی کے بعد ایران نے اپنے دفاع کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے کوئی فوجی کارروائی کی، تو ایران اس کے انفراسٹرکچر کو جوابی حملے میں نشانہ بنائے گا۔ ایران نے اپنے بیانات میں واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اسرائیل کے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دے گا۔
یہ بات اہم ہے کہ اس خطے میں تنازعے کی جڑ گزشتہ برس 7 اکتوبر کو ہونے والے ایک آپریشن سے جڑی ہے، جب فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کے خلاف ایک بڑا حملہ کیا۔ اس حملے کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا، جو آج تک جاری ہے۔ اس جنگ نے پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کو جنم دیا ہے، اور اب یہ کشمکش ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی میں تبدیل ہو رہی ہے۔ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے علاوہ، اسرائیل نے غزہ کے بعد اب لڑائی کا رخ لبنان کی طرف موڑ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل نے لبنان میں متعدد حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے ساتھ بھی تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ حزب اللہ، جو ایران کی حمایت یافتہ ایک مسلح تنظیم ہے، اسرائیل کی کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے تیار نظر آتی ہے، جس سے پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ -

مولانا فضل الرحمان کے اعتراضات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ سینیٹر عرفان صدیقی
اسلام آباد : سینیٹر عرفان صدیقی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ سیاست میں انتشار پھیلانے کا باعث بنی ہے اور موجودہ احتجاجی صورتحال میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے۔ یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔عرفان صدیقی نے کہا کہ آپ شاید کسی بڑی خبر کا انتظار کر رہے تھے لیکن کوئی بڑی خبر نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی ملاقات غیرسیاسی نوعیت کی تھی، اور وہ صرف مولانا فضل الرحمان کو امیر جماعت بننے پر مبارکباد دینے کے لیے آئے تھے۔ عرفان صدیقی نے بتایا کہ ان کے مولانا فضل الرحمان سے دو تہائی سے زیادہ عرصے پر مشتمل دیرینہ تعلقات ہیں اور ان کی ملاقات دوستانہ اور ذاتی نوعیت کی تھی۔
ملاقات کے دوران آئینی ترمیم کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا مؤقف وہی ہے جو پہلے تھا کہ آئینی عدالتیں ہونی چاہئیں اور کوئی ایسی آئینی ترمیم نہ کی جائے جو آئین سے متصادم ہو۔ مولانا فضل الرحمان چاہتے ہیں کہ آئینی ترامیم میں احتیاط برتی جائے اور کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے آئین کی خلاف ورزی ہو۔سینیٹر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ آنے والے دو ہفتوں کے اندر معاملات بہتر ہوجائیں گے، کیونکہ چند ذیلی نکات پر مولانا فضل الرحمان کو اعتراض ہے، جو حل ہونے کی امید ہے۔
عرفان صدیقی نے آئین کی شق 63 اے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ شق واضح کرتی ہے کہ جو رکن پارلیمنٹ پارٹی کے خلاف ووٹ دیتا ہے، اسے ڈی سیٹ کر دیا جائے گا اور اس کا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کو آئین کی شکل میں لانا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ اس کی مزید وضاحت ہو۔انہوں نے جولائی 12 کے فیصلے کو آئین اور قانون سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آئین کی شقوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہم ذوالفقار علی بھٹو کو کہاں سے زندہ کریں؟ اگر آج ہم آئین کی غلط تشریحات کرتے ہیں تو اس کے اثرات آئندہ دس سال تک ہمیں بھگتنا پڑیں گے۔عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ کسی بھی وجہ سے آئینی ترامیم کو چھیڑا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم لا کر ہمارا گلا دبوچا گیا اور اب ہمیں انیسویں ترمیم کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ججوں نے خود اپنا انتخاب کرنا ہے تو یہ عمل درست نہیں ہوگا۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ آئینی ترامیم کا عمل نہایت ذمہ داری سے کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین ایک مقدس دستاویز ہے اور اسے توڑنے مروڑنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیاں ہمیں بھگتنی پڑ رہی ہیں اور آج اگر ہم دوبارہ ایسی غلطیاں کریں گے تو ان کا خمیازہ آئندہ نسلوں کو اٹھانا پڑے گا۔مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد سینیٹر عرفان صدیقی کا بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آئینی معاملات پر حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت کی کوششیں جاری ہیں، اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید پیش رفت متوقع ہے۔ -

ملائیشیا کے وزیراعظم کا پاکستان دورہ: دوطرفہ تعلقات میں نئی روح پھونکنے کی کوشش
اسلام آباد: ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم اپنے وفد کے ہمراہ تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ اس موقع پر انہیں نور خان ایئربیس پر پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم انور ابراہیم کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جو مہمانوں کے اعزاز میں ایک قدیم اور روایتی فوجی اعزاز ہے۔استقبالیہ تقریب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے متعدد ارکان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ روایتی پاکستانی لباس میں ملبوس بچوں نے وزیراعظم انور ابراہیم کو خوش آمدید کہنے کے لیے پھول پیش کیے، جو دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک علامت سمجھی جاتی ہے۔استقبالی تقریب میں پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے وزیراعظم انور ابراہیم کو سلامی دی، جو ایک غیر معمولی پروٹوکول کا حصہ ہے۔ وزیراعظم کے ہمراہ ملائیشیا کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود ہے، جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیں۔
اپنے دورے کے دوران، ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں اقتصادی، دفاعی، اور تجارتی تعاون کے علاوہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے بھی گفتگو ہوگی۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے جانے کی توقع ہے۔پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات ہمیشہ سے دوستانہ اور باہمی تعاون پر مبنی رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے مختلف عالمی فورمز پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ دفاعی اور تعلیمی شعبوں میں بھی پیش رفت کی ہے۔ اس دورے کے دوران ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ، تکنیکی معاونت، اور دیگر اہم شعبوں میں نئے معاہدے متوقع ہیں۔یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے ایک اہم موقع ہے، خاص طور پر جب عالمی سطح پر اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ -

مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کریں،پاکستان کی بین الاقوامی برادری سے اپیل
پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر تنازعات کے حل اور کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کو خطے میں جاری حالیہ پیش رفت پر شدید تشویش ہے اور تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ امن کو ترجیح دیتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ پاکستان نے اسرائیل کے مسلسل بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں خطے میں سنگین انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، اسرائیلی کارروائیاں نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔لبنان پر حالیہ اسرائیلی حملے نے کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے اور اس سے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حملے بے گناہ شہریوں کی جانوں کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں، اور لبنان کی خودمختاری کو پامال کیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ خطے کے عوام، بشمول فلسطین اور لبنان کے شہری، خوف اور تشدد سے آزاد زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔ممتاز زہرہ بلوچ نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لے اور خطے میں قیام امن کے لیے اقدامات کرے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان کی خودمختاری کے تحفظ اور غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
پاکستان نے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے، جو نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کا ضامن ہے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے۔ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے فلسطینی عوام کو ان کا جائز حق دیا جا سکتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے فلسطین کے عوام کے حقوق کا علمبردار رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ہر فورم پر فلسطین کے موقف کی حمایت کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین اور لبنان کے عوام کے حق میں آواز اٹھائیں اور اسرائیلی مظالم کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کریں۔دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی نے خطے میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور اسرائیلی حملوں سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے بے گناہ شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی فوری مداخلت ضروری ہے تاکہ اس بحران کو ختم کیا جا سکے اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار کی جا سکے۔
-

اسرائیل نے لبنان میں 8 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی
اسرائیلی فوج نے حال ہی میں لبنان میں ایک زمینی کارروائی کے نتیجے میں اپنے آٹھ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی دراندازی کی تھی، جو کہ ایک بڑی عسکری مہم کا حصہ ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوج کی جانب سے اپنے فوجیوں کی ہلاکت کا یہ اعتراف زمینی کارروائی کے ایک دن بعد سامنے آیا۔ اسرائیلی حکام نے اس واقعے کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے، اس کی وجوہات اور اس کے اثرات پر مزید معلومات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
بدھ کے روز، لبنان میں حزب اللّٰہ کی جانب سے بھی اس واقعے پر اپنا بیان جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں کی مذمت کی۔ حزب اللّٰہ نے اسرائیلی فوج کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھنے کا عزم کیا ہے، اور ان کے رہنماؤں نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔اسرائیلی حکام نے ایرانی میزائل حملے کے بعد ملک کے شمالی حصے میں عوامی اجتماعات پر عائد پابندی میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے گولان کی پہاڑیوں میں رہائشی افراد کو کھلے مقامات پر 50 افراد کے جمع ہونے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ بند جگہوں پر 250 افراد تک اجتماع کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ اس کے باوجود، لبنانی سرحد کے قریب رہنے والے اسرائیلی شہریوں کے انخلا کے احکامات پر عمل درآمد جاری ہے، جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اسرائیلی حکومت اپنی سیکیورٹی کی صورتحال کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب خطے میں ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے ہونے والی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔ اسرائیل نے ہمیشہ لبنان میں حزب اللّٰہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، اور یہ حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان یہ حالیہ کشیدگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کس حد تک نازک ہے۔ بین الاقوامی برادری کی طرف سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ تاہم، فی الحال دونوں جانب سے سخت بیانات اور فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ -

کٹھ پتلی حکومت کا مقصد کالی آئینی عدالت بنانا ہے ،سلمان اکرم راجا
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد ایک "کالی آئینی عدالت” بنانا ہے۔ انہوں نے یہ بیان سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران دیا۔سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ "حق اور سچ کا ساتھ دو”، اور کہا کہ آئینی ترمیم کا مقصد عدلیہ کو مفلوج کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت عدلیہ سے بنیادی حقوق کا اختیار چھین رہی ہے، جو کہ عوام کے لیے خطرناک ہے۔پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کا منصوبہ یہ ہے کہ انہیں اور ان کے بچوں کو فوجی عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں آئین اور قانون کا کوئی وجود نہیں رہے گا۔
سلمان اکرم راجا نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کی، اور کہا کہ ماضی میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والے اب ظلم و جبر کے لیے "پیادے” بنے ہوئے ہیں۔ ان کے اس بیان نے موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ پیدا کیا ہے، جہاں آئینی حقوق اور عدلیہ کی آزادی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی عدم استحکام اور عدلیہ کے کردار پر تنازعہ بڑھ رہا ہے۔ -

بلاول بھٹو زرداری کا آئینی ترامیم پر تشویش کا اظہار، سیاسی پولرائزیشن کو ختم کرنے کی ضرورت ہے
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے ہونے والے حالیہ فیصلوں پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال آئینی ترامیم میں مشکلات کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وہ ترامیم کی قیادت کرتے تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو بھی شامل کرتے۔ بلاول نے یہ بات کورٹ رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے موجودہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بنیاد پر پارلیمنٹ کے قانون سازی کے حق کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے ترامیم کا خیال پہلے ہی عدلیہ کے ساتھ شیئر کر دیا، جس کی وجہ سے یہ نشستیں پیپلز پارٹی سے چھین لی گئیں۔ بلاول نے اشارہ دیا کہ 25 اکتوبر کے بعد آئینی ترامیم میں مزید مشکلات پیش آ سکتی ہیں اور شاید اسی لیے ان ترامیم کو خفیہ رکھا گیا ہے۔
جب صحافی نے پوچھا کہ کیا بانی پی ٹی آئی کا ملٹری ٹرائل ہونا چاہیے تو بلاول نے جواب دیا کہ اگر ملٹری ٹرائل کرنا ہے تو ثبوت پیش کرنے ہوں گے، اور معافی کا اختیار ان کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو عدلیہ میں خامیاں 2022 کے بعد نظر آئیں، اور 90 کی دہائی میں ان کی جماعت وکیل کرتی تھی جبکہ مسلم لیگ (ن) ججز کرتی تھی۔ بلاول نے نشاندہی کی کہ آئینی عدالت کا قیام میثاق جمہوریت کا حصہ ہے اور وہ صوبائی سطح پر بھی آئینی عدالتیں چاہتے ہیں۔بلاول بھٹو نے کراچی بدامنی کیس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس برسوں سے زیر التوا ہے، اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا بدامنی صرف کراچی میں ہے یا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی موجود ہے؟ انہوں نے عدالت کی جانب سے سندھ کے بلدیاتی نظام میں تبدیلی کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا کہ اگر کوئی جج یہ کہتا ہے کہ 50 کی دہائی والا کراچی چاہئے تو یہ صورتحال افسوسناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ اختیارات کا غلط استعمال کرے تو وہ بول سکتے ہیں، لیکن عدلیہ کے اختیارات کے استعمال پر بات کرنے پر توہین لگ جاتی ہے۔ بلاول بھٹو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئینی عدالت کے سربراہ، چاہے وہ فائز عیسی ہوں یا جسٹس منصور، انہیں اختیارات کے غلط استعمال سے دور رہنا چاہیے۔آخر میں، بلاول نے سیاستدانوں سے اپیل کی کہ وہ سیاست کے دائرے میں واپس آئیں اور "کون بنے گا وزیر اعظم” جیسے کھیلوں کو ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پولرائزیشن اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب کہا جاتا ہے کہ جو خان کے ساتھ ہے، بس وہی ٹھیک ہے۔یہ بیانات بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں سیاسی عدم استحکام اور آئینی مسائل کا سامنا ہے۔ ان کی طرف سے پیش کردہ نکات آئندہ کی سیاست کے لیے اہم ہیں، اور ان کا مقصد موجودہ حالات میں سیاسی جماعتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔