Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • صدر مملکت کا اہم فیصلہ: متوفی ملازم کے بیٹے کی تقرری کی ہدایت

    صدر مملکت کا اہم فیصلہ: متوفی ملازم کے بیٹے کی تقرری کی ہدایت

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایک اہم کیس میں وفاقی محتسب کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کو متوفی ملازم کے بیٹے کی تقرری کا حکم جاری کر دیا ہے۔ صدر نے سی اے اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر کراچی سے تعلق رکھنے والے شہری فہیم احمد کو ملازمت دے، جو 1999ء میں اپنے والد کی وفات کے وقت نابالغ تھے اور اس وقت ملازمت کے لیے درخواست نہیں دے سکے تھے۔یہ معاملہ 1999ء میں فہیم احمد کے والد کی وفات سے شروع ہوا، جب ان کے والد، جو سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ملازم تھے، کینسر کے باعث انتقال کر گئے۔ اُس وقت فہیم کی عمر صرف چھ سال تھی اور وہ قانونی طور پر ملازمت کی درخواست دینے کے اہل نہیں تھے۔ فہیم احمد کا تعلق کراچی سے ہے اور ان کے والد کی موت کے بعد خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گیا تھا۔فہیم احمد نے اپنی عمر پوری ہونے کے بعد 2005ء میں اُس وقت کے موجودہ قوانین اور پالیسیوں کے تحت سول ایوی ایشن اتھارٹی سے اپنے والد کی جگہ ملازمت کی درخواست دی تھی۔ 2005ء کی اس پالیسی کے مطابق متوفی ملازمین کے بچوں کو ملازمت دینے کا اصول قائم کیا گیا تھا، تاکہ خاندان کی کفالت ممکن ہو سکے۔ تاہم، اتھارٹی نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا مؤقف تھا کہ فہیم احمد کی درخواست اس وقت کے قوانین کے مطابق نہیں تھی۔فہیم احمد نے جب سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے درخواست مسترد ہونے پر وفاقی محتسب سے رجوع کیا، تو محتسب نے اتھارٹی کے مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ اس معاملے میں کوئی بے انتظامی یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوتی، لہٰذا فہیم احمد کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

    محتسب کے فیصلے کے بعد فہیم احمد نے آخری امید کے طور پر صدر مملکت آصف علی زرداری سے اپیل کی۔ صدر پاکستان نے اس اپیل پر غور کیا اور تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ ایوان صدر اسلام آباد سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ فہیم احمد اُس وقت نابالغ تھے جب ان کے والد کا انتقال ہوا تھا، لہٰذا وہ ملازمت کی درخواست دینے کے اہل نہیں تھے۔صدر مملکت نے فہیم احمد کے کیس کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تسلیم کرتے ہوئے سی اے اے کو ہدایت کی کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر فہیم احمد کی تقرری کا عمل مکمل کرے۔فہیم احمد کے والد کی وفات کے بعد ان کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ فہیم احمد کی جانب سے ملازمت کی درخواست ایک اہم موقع تھی کہ وہ اپنے خاندان کی مدد کر سکیں اور اپنے والد کی خدمات کے بدلے میں ایک محفوظ مستقبل حاصل کر سکیں۔ اس فیصلے سے ان کے خاندان کو نہ صرف مالی تحفظ حاصل ہوگا بلکہ انصاف کی فراہمی کا ایک اہم پیغام بھی دیا گیا ہے کہ نظام کے تحت نادیدہ ہونے والے حق داروں کو ان کا حق ملنا چاہیے۔صدر مملکت آصف علی زرداری کا یہ فیصلہ اُن کے عوامی مسائل کے حل میں دلچسپی اور انسانی ہمدردی کے تحت کیے جانے والے اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک مثال قائم کرتا ہے کہ ریاستی ادارے شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں اور ہر شہری کے ساتھ انصاف کیا جائے۔

  • اگر پنجاب کے ہسپتال اچھے ہیں تو شریف خاندان لندن میں علاج کیوں کراتا ہے، ؟ بیر سٹر سیف

    اگر پنجاب کے ہسپتال اچھے ہیں تو شریف خاندان لندن میں علاج کیوں کراتا ہے، ؟ بیر سٹر سیف

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر سیف نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ بیانات پر سخت تنقید کی ہے۔ بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور دونوں رہنماؤں کے اعصاب پر سوار ہیں، اور ان کا پنجاب میں احتجاج کرنا ان کا جمہوری و آئینی حق ہے۔انہوں نے نواز شریف کی جانب سے گنڈا پور کے احتجاج کے حوالے سے کہا کہ "اقتدار کی کئی باریاں لینے کے باوجود نواز شریف کس سے گلہ کر رہے ہیں؟ شاید وہ اپنی بھائی کی حکومت کو ن لیگی حکومت نہیں مانتے ہیں۔ نواز شریف کی تقریر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ بھائی کی حکومت سے خوش نہیں ہیں۔بیرسٹر سیف نے نواز شریف کے اس بیان پر کہ پنجاب میں مریضوں کا علاج کرنے کے لیے پنجاب جانا پڑتا ہے، تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان "مضحکہ خیز” ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "شریف خاندان تو خود سردرد کے علاج کے لیے بھی لندن جاتا ہے، اگر پنجاب کے ہسپتال اتنے اچھے ہیں تو وہ خود علاج کیوں نہیں کرواتے؟”

    پی ٹی آئی کے رہنما نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ "پنجاب میں کئی باریاں لینے کے باوجود صحت کارڈ منصوبہ کیوں شروع نہیں کیا گیا؟” انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اپنا گھر اسکیم” منصوبہ کی نقل کرنے کے باوجود "صحت کارڈ منصوبہ کب کاپی کریں گے؟بیرسٹر سیف نے ن لیگ کے معاشی استحکام کے دعوے کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا، کہتے ہوئے، "کیا ملک پر مسلط جعلی فارم 47 کی حکومت ن لیگ کی نہیں؟اس سے قبل، نواز شریف نے کہا تھا کہ "پچاس لاکھ گھر کہاں ہیں؟ پنجاب میں کونسا تیر مار کر گھسنے کی کوشش کرتے ہیں؟” انہوں نے مزید کہا کہ "پنجاب میں آنسو گیس کے شیل لے کر یلغار کرنے آتے ہیں، کیا یہ لوگ صوبوں کو لڑانا چاہتے ہیں؟”

    نواز شریف نے عوامی نمائندوں کی حکومتوں کو کام کرنے کا موقع نہ دینے پر بھی تنقید کی، کہتے ہوئے کہ "اگر عوامی نمائندوں کو کام کرنے دیا جاتا تو آج کوئی بے گھر نہ ہوتا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "پی ٹی آئی کے پیچھے چلنے والے لوگوں سے پوچھیں کہ پچاس لاکھ گھر کہاں ہیں؟ ان کی کارکردگی صفر ہے، اور ان کا کام ہی سڑکوں پر احتجاج کرنا ہے۔ ہم نے یہ موٹرویز احتجاج کے لیے نہیں بنائیں۔اس بیان بازی نے پی ٹی آئی اور ن لیگ کے درمیان سیاسی تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ عوامی مسائل پر دونوں جماعتوں کے مابین چپقلش واضح ہے۔ یہ صورتحال پاکستانی سیاست میں عوامی مسائل کے حل میں دونوں جماعتوں کی ناکامی کو اجاگر کرتی ہے، جبکہ عوام کی بھلائی کے لیے مؤثر حکمت عملی کی ضرورت کو بھی واضح کرتی ہے۔

  • ایرانی صدر کا دورہ قطر: اہم معاہدوں اور ایشیا تعاون ڈائیلاگ اجلاس میں شرکت کی توقع

    ایرانی صدر کا دورہ قطر: اہم معاہدوں اور ایشیا تعاون ڈائیلاگ اجلاس میں شرکت کی توقع

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان قطر کے دورے پر دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق، صدر پزشکیان نے اس دورے کے موقع پر کہا کہ ان کی قطر کے حکام سے ملاقات میں دو طرفہ امور پر مفصل بات چیت کی جائے گی۔ایرانی صدر نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ ایران اور قطر کے درمیان اہم معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی قیادت اس بات پر توجہ دے گی کہ کس طرح ایشیائی ممالک کو اسرائیلی جرائم سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے، جو کہ حالیہ دنوں میں ایک بڑا موضوع بن چکا ہے۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، صدر پزشکیان اس دورے کے دوران ایشیا تعاون ڈائیلاگ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جہاں وہ متعدد اہم مسائل پر بات چیت کریں گے۔ یہ اجلاس ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون کو بڑھانے اور مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
    قطر اور ایران کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں مستحکم رہے ہیں، اور یہ دورہ اس بات کا عکاس ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس موقع پر بین الاقوامی مسائل، اقتصادی تعاون، اور سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا، جو کہ نہ صرف ایران اور قطر بلکہ پورے خطے کے لیے اہم ہیں۔

  • امن کے ساتھ احتجاج ہمارا حق ہے،علی امین گنڈاپور

    امن کے ساتھ احتجاج ہمارا حق ہے،علی امین گنڈاپور

    خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج میں بھرپور شرکت کے لیے قافلے منظم طریقے سے روانہ کرے گی۔ انہوں نے یہ بات خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرینز اور قائدین کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کہی۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کسی قسم کے تصادم کی خواہاں نہیں ہے، اور یہ کہ پولیس اہلکار ان کے بھائی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کا نقصان بھی ان کے لیے نقصان کی مانند ہے، اس لیے وہ پرامن احتجاج کو ترجیح دیتے ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی ترمیم کے نام پر پی ٹی آئی کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اور ان کا پرامن احتجاج ایک آئینی اور جمہوری حق ہے جسے وہ لازمی طور پر استعمال کریں گے۔انہوں نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مظاہرین کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، جبکہ عوام ان کے تمام اقدامات کو غلط سمجھتے ہیں.
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا کے قائدین کو قافلوں میں نظم و ضبط اور طے شدہ لائحہ عمل کو یقینی بنانا ہوگا، تاکہ 4 اکتوبر کے احتجاج میں شرکت کرنے والے لوگوں کے لیے سہولت فراہم کی جا سکے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی ہے، جس کے لیے جماعت کی جانب سے بھرپور تیاری کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، حکومت نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے بھی حکمت عملی تیار کر لی ہے، جس کے تحت حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جائیں گے۔علی امین گنڈاپور کے اس اعلان کے بعد پی ٹی آئی کارکنان میں جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ اس احتجاج میں شمولیت نہ کرنے پر بعض کارکنان نے ان کے خلاف احتجاج کا اظہار کیا ہے۔ ایسے میں، یہ دیکھنا باقی ہے کہ 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج میں کتنے لوگ شریک ہوتے ہیں اور حکومت کی جانب سے مظاہرین کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔

  • پنجاب حکومت نے دفعہ 144 نافذ کردی، مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن اور احتجاج کی ممانعت

    پنجاب حکومت نے دفعہ 144 نافذ کردی، مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن اور احتجاج کی ممانعت

    پنجاب حکومت نے مختلف شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں میانوالی میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، رینجرز کی دو کمپنیوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے تاکہ عوامی اجتماع کو روکا جا سکے۔ بہاولپور میں پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ شہر میں مہنگائی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا ہے، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
    بہاولپور کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مقامی قیادت اور کارکنان کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ مقامی پولیس نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا ہے، اور انتظامیہ نے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو الرٹ کر دیا ہے تاکہ پی ٹی آئی کے مہنگائی کے خلاف احتجاج کو ناکام بنایا جا سکے۔

    فیصل آباد میں احتجاج اور گرفتاریاں
    فیصل آباد میں بھی پی ٹی آئی کے صدر حماد اظہر نے احتجاج میں شرکت کی، جہاں کارکنان کے ہمراہ نعرے لگاتے ہوئے وہ پولیس کے ساتھ آمنے سامنے آ گئے۔ پولیس نے حماد اظہر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، لیکن کارکنان نے ان کا تحفظ کیا۔ گھنٹہ گھر چوک میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں پولیس نے شیلنگ کا استعمال کیا۔ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مزید چھ ارکان اسمبلی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی طور پر گرفتار شدہ ارکان کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔ یہ گرفتاریاں گھنٹہ گھر چوک سے رائے احسن کھرل، خیال کاسترو، اور اسد محمود کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی ایم پی اے جاوید نیاز منج کی رہائش گاہ سے کی گئیں۔
    دفعہ 144 کا نفاذ میانوالی، فیصل آباد، بہاولپور، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور چنیوٹ میں کیا گیا ہے۔ میانوالی میں یہ پابندی یکم سے سات اکتوبر تک نافذ رہے گی، جبکہ دیگر پانچ اضلاع میں یہ پابندی دو دن کے لیے ہے۔ یہ فیصلہ صوبے میں دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اس پابندی کا مقصد عوامی اجتماعات کو دہشت گردوں کے ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
    پنجاب حکومت کے اس اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہر شہری کو آئین کے تحت احتجاج کا حق ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ عدالت دفعہ 144 کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے، کیونکہ یہ صرف پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔حکومت نے حال ہی میں صوبائی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا ہے، جس کے تحت دفعہ 144 کو کم از کم تین ماہ کے لیے نافذ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ، حکومت کی جانب سے عوامی اجتماعات پر پابندی کی مذمت کی جا رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

  • مریم نواز شریف نے "اپنی چھت، اپنا گھر” سکیم کا افتتاح کیا

    مریم نواز شریف نے "اپنی چھت، اپنا گھر” سکیم کا افتتاح کیا

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کے ہمراہ "اپنی چھت، اپنا گھر” سکیم کا باقاعدہ آغاز کیا۔ یہ سکیم عوامی رہائش کے مسائل کے حل کے لیے متعارف کروائی گئی ہے، جس کا مقصد کم آمدنی والے افراد کو گھر کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ تقریب ایک شاندار موقع پر منعقد کی گئی، جہاں مریم نواز نے نواز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس موقع پر شرکت کی۔ انہوں نے کہا، "نواز شریف صاحب کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔ انہوں نے میری درخواست پر یہاں تشریف لائے۔ یہ تقریب نواز شریف کے بغیر ادھوری رہتی۔” مریم نواز نے نواز شریف کی بصیرت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1980 کی دہائی میں عوام کے لیے ایک خواب دیکھا تھا، اور اسی خواب کے تحت "اپنی چھت، اپنا گھر” سکیم کا آغاز ہوا۔
    مریم نواز نے مزید کہا کہ نواز شریف ہمیشہ انہیں ہدایت دیتے ہیں کہ عوام کی خدمت کے لیے ہمیشہ کوشاں رہیں۔ انہوں نے اس سکیم کے تحت 700 بلین روپے کے منصوبے کا ذکر کیا اور بتایا کہ یہ منصوبہ ابتدائی طور پر چھوٹے سطح پر شروع کیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت پنجاب بھر سے 5 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان درخواستوں کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ 5 لاکھ قرضے دیے جائیں گے، جس سے 5 لاکھ گھر بنائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ شہروں میں 5 مرلے اور دیہاتوں میں 10 مرلے زمین کے مالکان کو قرض دیا جائے گا۔ درخواست دہندگان کو صرف اپنا شناختی کارڈ اور زمین کا کاغذ دکھانا ہوگا، اور وہ قرض حاصل کر سکیں گے۔ مریم نواز نے بتایا کہ یہ سکیم 15 لاکھ تک کے قرضے فراہم کرے گی، اور ہر سال ایک لاکھ گھروں کے لیے قرضے دیے جائیں گے۔ مزید برآں، غریب طبقوں سے بھی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اس قرض کی واپسی کی مدت 9 سال ہوگی، اور خاص بات یہ ہے کہ اس قرض سکیم میں کوئی سود نہیں لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج لوگوں کو اس منصوبے کی پہلی قسط فراہم کی جا رہی ہے، جو کہ ڈیڑھ ماہ کی قلیل مدت میں فراہم کی جائے گی۔
    وزیراعلیٰ نے اس موقع پر عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت دن رات عوام کی خدمت میں مصروف ہے اور ملک اب ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔ مریم نواز نے اس تقریب میں اپنے خطاب میں کہا کہ بعض عناصر ابھی بھی ملک میں انتشار پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے تنقید کی کہ جبکہ حکومت عوام کی خدمت میں مصروف ہے، کچھ لوگ صرف گالیاں دینے اور پروپیگنڈا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ لوگ صوبے کی ترقی اور خوشحالی کی جانب توجہ دینے کے بجائے تخریب کاری کی باتیں کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس تقریب کے ذریعے عوام کو یہ یقین دلایا کہ حکومت ان کی مشکلات کو سمجھی رہی ہے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ یہ سکیم ایک تاریخی قدم ہے جو عوام کے لیے رہائشی سہولیات فراہم کرے گی اور انہیں مالی طور پر مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔

  • ایرانی سپریم لیڈر کا اسرائیل کو دھمکی: "اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا

    ایرانی سپریم لیڈر کا اسرائیل کو دھمکی: "اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران کی طاقت کا دوسرا نام ہے اور انہوں نے اسرائیل کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ اسے ایران کے ساتھ تصادم سے گریز کرنا چاہیے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے عبرانی زبان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے جارحیت سے باز نہ آیا تو اس کا اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایرانی حملہ اسرائیلی جارحیت کا فیصلہ کن جواب ہے اور یہ ایران کے مفاد میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کو یہ سمجھ جانا چاہئے کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے کیا گیا، جس میں انہوں نے عبرانی زبان میں کہا کہ ایران کی طاقت کو کمزور نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ پوسٹ ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغنے کے چند لمحے بعد کی گئی۔
    ایرانی سپریم لیڈر کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے آفیشل اکاؤنٹ سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے بنائی گئی میزائلوں کی تصویر بھی شیئر کی گئی، جس پر عربی میں ’نصر من اللہ و فتح قریب‘ کا جملہ درج تھا۔ اس ٹوئٹ کو چند منٹ میں سیکڑوں بار ری ٹوئٹ کیا گیا، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پیغام عوام میں کس قدر مقبول ہوا ہے۔
    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی ایک پیغام میں کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ ایران کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے بھی عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر ان کی سرزمین پر کوئی حملہ کیا گیا تو اسرائیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میزائلوں کی بوچھاڑ بڑی شدت کے ساتھ دہرائی جائے گی اور یہودی حکومت کے تمام بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔
    یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایران نے اسرائیل پر 400 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے، جو اصفہان، تبریز، خرم آباد، کرج اور اراک سے فائر کیے گئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں مقبوضہ بیت المقدس سمیت اسرائیل بھر میں سائرن بجنے لگے، اور اسرائیلی شہریوں نے اپنی حفاظت کے لیے بنکرز میں پناہ لی۔ایرانی حکام کے اس عزم اور بیانات کے پس پردہ یہ خدشات موجود ہیں کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کا اثر نہ صرف ایران اور اسرائیل بلکہ پورے مشرق وسطیٰ پر پڑ سکتا ہے۔

  • اسلام آباد میں متوقع احتجاج کے پیش نظر پولیس کی تیاریاں

    اسلام آباد میں متوقع احتجاج کے پیش نظر پولیس کی تیاریاں

    اسلام آباد: دارالحکومت میں متوقع احتجاج کے پیش نظر، اسلام آباد پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر اضافی نفری اور ساز و سامان طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسلام آباد پولیس نے پنجاب اور سندھ پولیس سے ہر ایک سے 3,000 اہلکار طلب کیے ہیں، جبکہ 4,000 فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) اہلکاروں کی فوری فراہمی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ پنجاب کانسٹبلری سے 10,000 آنسو گیس شیل اور 500 ٹیر گیس بندوقوں کے ساتھ ساتھ دیگر اینٹی رائٹس کٹس کی طلب کی گئی ہے۔ پولیس کے ذرائع نے مزید بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے وزارت داخلہ کو ہنگامی بنیادوں پر سیکیورٹی فورسز اور مطلوبہ ساز و سامان فراہم کرنے کی درخواست کی ہے، جس پر وزارت داخلہ نے فوری عملدرآمد کی ہدایت جاری کر دی ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ممکنہ احتجاج کے باعث کشیدگی سے نمٹنے کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی سے بچا جائے۔
    اس کے ساتھ ہی، پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) نے راولپنڈی کے بعد اسلام آباد میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ممکنہ طور پر دارالحکومت میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، اور اس کے اثرات عوامی زندگی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی تیاریاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت نے سیکیورٹی کے معاملات میں سنجیدگی سے غور کیا ہے تاکہ شہر کے امن کو برقرار رکھا جا سکے۔یہ اقدامات آنے والے دنوں میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے بہت اہم ہیں، خاص طور پر جب احتجاجی مظاہروں کی تیاری جاری ہے۔ پولیس کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں شہریوں کی سلامتی کے لیے ایک اہم پہلو ہیں، اور اس کے نتیجے میں شہر میں امن قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔

  • فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں بڑی تنظیم نو: وزیراعظم کی ہدایت پر اہم تبدیلیاں

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں بڑی تنظیم نو: وزیراعظم کی ہدایت پر اہم تبدیلیاں

    اسلام آباد: وزیراعظم کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں بڑے پیمانے پر تنظیم نو کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد شعبے ضم یا ختم کر دیے گئے ہیں۔ اس تنظیم نو کے تحت نئی پوسٹیں بھی تخلیق کی گئی ہیں اور اس سلسلے میں ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق، ممبر پبلک ریلیشنز کی پوسٹ کو اب ممبر ٹیکس پیئر سروسز جبکہ ممبر اکاؤنٹنگ کی پوسٹ کو ممبر آرگنائزیشنل آڈٹ کے طور پر تبدیل کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ممبر آئی ٹی اور ممبر ڈیجیٹل انیشی ایٹیوز کو ڈی جی آئی ٹی اور ڈی ٹی میں ضم کردیا گیا ہے۔تنظیم نو کے تحت، ڈی جی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اب ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشن کے ماتحت کام کریں گے۔ اسی طرح، ڈائریکٹر جنرل انٹرنل آڈٹ اب ممبر آرگنائزیشنل آڈٹ کے طور پر اپنی خدمات انجام دے گا جبکہ ڈی جی ریونیو اینالسز اب ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی کے تحت کام کرے گا۔اس کے علاوہ، ممبر آئی ٹی اور ممبر ڈیجیٹل انیشی ایٹیوز کے اختیارات بھی ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز کو تفویض کیے گئے ہیں۔ یہ تبدیلیاں ایف بی آر کے کام کرنے کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور اس کی کارکردگی کو بڑھانے کے لئے کی گئی ہیں، تاکہ ٹیکس کی وصولی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اس تنظیم نو کے بعد، ایف بی آر کی حکمت عملی اور کارکردگی میں بہتری کے امکانات روشن ہوئے ہیں، جو ملک کی معیشت میں مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

  • نواز شریف کا جارہانہ خطاب: عمران خان، خیبرپختونخوا حکومت اور عدلیہ پر سخت تنقید

    نواز شریف کا جارہانہ خطاب: عمران خان، خیبرپختونخوا حکومت اور عدلیہ پر سخت تنقید

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک جارحانہ خطاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، خیبرپختونخوا حکومت اور عدلیہ پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سابق وزیراعظم عمران خان کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ ڈی چوک میں کھڑے ہوکر ایک منتخب وزیراعظم کو رسہ ڈالنے کی دھمکیاں دینے والا شخص آج جیل میں ہے۔ نواز شریف نے کہا، "یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔”نواز شریف نے لاہور میں پنجاب حکومت کے تحت شروع کیے گئے ‘اپنی چھت اپنا گھر’ اسکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پنجاب پر یلغار کی باتیں ہو رہی ہیں۔ نواز شریف نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے درمیان لڑائی کرانا چاہتے ہیں تاکہ خون خرابہ ہو؟ انہوں نے کہا، "یہ کبھی نہیں ہوگا، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
    نواز شریف نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی صفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں بیٹھے شخص سے پوچھا جانا چاہیے کہ اس نے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے کیا کیا؟ انہوں نے استفسار کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایک ارب درختوں کا منصوبہ اور دیگر بڑی اسکیمیں کہاں ہیں؟ نواز شریف نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت صرف مار دھاڑ میں نمبر ون اور کارکردگی میں صفر ہے۔نواز شریف نے آئی ایم ایف سے متعلق اپنی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ن لیگ کی حکومت میں آئی تو انہوں نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہا تھا، لیکن مخالفین نے دوبارہ آئی ایم ایف کا سہارا لیا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ کی سیاست اور خدمت کی سیاست میں واضح فرق ہوتا ہے اور ن لیگ ہمیشہ عوام کی خدمت کی سیاست کرتی آئی ہے۔
    نواز شریف نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس آج بھی وہ آڈیو موجود ہے جس میں ثاقب نثار کہہ رہے تھے کہ "نواز شریف کو نکالنا ہے اور عمران خان کو لانا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے اس آڈیو پر سوالات نہیں اٹھائے جو افسوس کی بات ہے۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ ریاست کے ستونوں نے پاکستان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور 5 ججوں نے 25 کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیا، لیکن ان سے کسی نے سوال نہیں کیا۔نواز شریف نے واضح طور پر کہا کہ ان عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنا چاہیے جو پاکستان میں افراتفری اور انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے ملکی ترقی کو پیچھے دھکیلا اور عوام کو دھوکے میں رکھا۔
    نواز شریف نے ‘اپنی چھت اپنا گھر’ اسکیم کو پنجاب حکومت کا ایک شاندار منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ یہ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کرنے کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ن لیگ کی حکومت کو کام کرنے دیا جاتا تو آج ملک میں کوئی بھی بے گھر نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا، "ہمیں کبھی اڑھائی سال تو کبھی تین سال بعد نکال دیا گیا، جس کی وجہ سے ملکی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر توجہ دیتی آئی ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمیں ہمیشہ کام سے روکا گیا۔ نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت جب بھی ترقی کے چار قدم آگے بڑھتی، مخالفین آٹھ قدم پیچھے دھکیل دیتے، جو کہ پاکستان کی بدقسمتی ہے۔
    نواز شریف نے اپنے خطاب میں ن لیگ کی حکومت کی کارکردگی کا بھرپور دفاع کیا اور پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے عوامی خدمات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے عناصر سے نمٹا جائے جو ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔نواز شریف کا یہ خطاب ان کے مستقبل کے سیاسی عزائم اور عوام کی حمایت کے حصول کی کوششوں کا حصہ تھا، جس میں انہوں نے اپنی پارٹی کی خدمات کو اجاگر کیا اور مخالفین پر سخت تنقید کی۔