Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی: سیکیورٹی چیلنجز اور تنازعات معیشت پر بھاری

    اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی: سیکیورٹی چیلنجز اور تنازعات معیشت پر بھاری

    اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز (S&P) نے اسرائیل کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ کو اے پلس سے کم کر کے اے کر دیا ہے، جس کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے فیوچر آؤٹ لک کو بھی تبدیل کر کے منفی کر دیا گیا ہے۔ اس کمی کا براہ راست تعلق اسرائیل کی حالیہ علاقائی سیکیورٹی مسائل اور حزب اللہ کے ساتھ جاری تنازع سے جوڑا جا رہا ہے، جو نہ صرف اسرائیل کی معیشت پر دباؤ ڈال رہے ہیں بلکہ اس کے مستقبل کے اقتصادی امکانات پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ایس اینڈ پی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کو نہ صرف حزب اللہ کے ساتھ تنازع کا سامنا ہے بلکہ ایران کے ساتھ براہ راست جنگ کے خطرات بھی سر پر منڈلا رہے ہیں۔ یہ صورتحال خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے اور اس کے ساتھ اسرائیل کی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ اسرائیل نے حالیہ مہینوں میں حماس اور حزب اللہ کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی کارروائیاں کی ہیں، جس کے دوران غزہ اور جنوبی لبنان میں مخالفین کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے بھاری اخراجات کیے گئے ہیں۔اسرائیل کو اس تنازع کے دوران نہ صرف اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا پڑا ہے بلکہ داخلی طور پر بھی سیکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید وسائل مختص کرنے پڑے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملکی معیشت پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے، جو پہلے ہی عالمی اقتصادی سست روی کے سبب متاثر ہو رہی تھی۔

    ایران کے ساتھ براہ راست جنگ کے خدشات نے اسرائیلی معیشت کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایس اینڈ پی کی رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کسی بڑے تنازع میں بدلتی ہے تو اسرائیل کی معیشت کو غیر معمولی منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سرمایہ کاری کا رخ بدل سکتا ہے، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار محتاط ہو جائیں گے اور ملک میں جاری منصوبے یا تو تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں یا پھر بند ہو سکتے ہیں۔حزب اللہ اور حماس کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ تنازع کے خطرے نے اسرائیل میں مہنگائی اور اشیاء کی قلت جیسے مسائل کو جنم دیا ہے۔ ملک میں کئی اشیاء کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں اور ان کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ بڑے پیمانے پر دفاعی اخراجات اور سیکیورٹی کی ضروریات کے باعث بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے مختص کیے جانے والے وسائل محدود ہو گئے ہیں۔ان حالات میں بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے کاروبار ان تنازعات کے باعث اپنا کام درست طریقے سے جاری نہیں رکھ پا رہے، جس کا اثر اسرائیلی عوام پر بھی پڑا ہے۔ خوف و ہراس کے سبب عمومی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، جو مجموعی معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔

    دنیا بھر کے میڈیا آؤٹ لیٹس اور ماہرین اسرائیل کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی میڈیا نے اسرائیل کی حزب اللہ اور حماس کے ساتھ جاری کشیدگی اور ایران کو سبق سکھانے کی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آنے والے اخراجات پر بھی تجزیے پیش کیے ہیں۔ ان تجزیات میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا معاشی قیمت پر منفی اثرات مرتب ہونا فطری امر ہے۔ اسرائیلی معیشت کو گزشتہ ایک سال کے دوران مسلسل غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جس نے نہ صرف داخلی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی اسرائیل کے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔اسرائیل کے مالیاتی ادارے اور معاشی ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر خطے میں کشیدگی کم نہیں ہوتی اور داخلی معاملات میں بہتری نہیں آتی تو اسرائیل کی معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسرائیلی حکام کو نہ صرف موجودہ تنازعات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ انہیں اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ کس طرح معیشت کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔

    ایس اینڈ پی کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کے بعد اسرائیل کو اپنی اقتصادی پالیسیاں بہتر کرنے کی ضرورت ہوگی۔ حکومت کو دفاعی اخراجات اور سیکیورٹی سے متعلق معاملات میں توازن پیدا کرنا ہوگا تاکہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اسرائیلی معیشت کی بحالی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہو اور اندرونی سیاسی و معاشی استحکام حاصل کیا جائے۔اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی اور معیشت کے فیوچر آؤٹ لک کو منفی کرنے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حالیہ تنازعات اور خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات اسرائیلی معیشت پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔ اسرائیل کو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے نہ صرف اندرونی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنا ہوگا، تاکہ وہ مستقبل میں اقتصادی مشکلات سے بچ سکے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ملاقات، اسلامی تعلیمات کے فروغ پر گفتگو

    وزیراعظم شہباز شریف سے مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ملاقات، اسلامی تعلیمات کے فروغ پر گفتگو

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں اسلامی تعلیمات کے فروغ، امت مسلمہ کے مسائل اور اسلام کے صحیح پیغام کو دنیا بھر میں پھیلانے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔وزیراعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کا پُرتپاک استقبال کیا اور ان کی پاکستان آمد کو باعثِ افتخار قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "ڈاکٹر ذاکر نائیک، آپ کی پاکستان آمد ہمارے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ میں آپ کے لیکچرز بڑے شوق سے سنتا ہوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں آپ کے لیے بے پناہ احترام ہے۔وزیراعظم نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اسلام کی خدمت کے حوالے سے ان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ امت مسلمہ آپ پر نازاں ہے۔ "آپ نے دنیا بھر کو اسلام کا صحیح تشخص سے روشناس کروایا اور آپ کے لیکچرز نوجوانوں میں بھی انتہائی مقبول ہیں۔ آپ کی باتیں پُراثر اور دلوں کو چھونے والی ہوتی ہیں، جو لوگوں کو دین اسلام کی طرف راغب کرتی ہیں۔وزیراعظم نے گفتگو میں مزید کہا، "آپ اسلام کا حقیقی پیغام دنیا تک پہنچا کر ایک انتہائی اہم فریضہ سر انجام دے رہے ہیں، اور مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ آپ کا بیٹا بھی دین اسلام کی خدمت میں مصروف ہے۔شہباز شریف نے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے اپنی 2006ء میں ہونے والی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سے آج تک آپ کا کردار اسلامی تعلیمات کے فروغ میں نمایاں رہا ہے۔

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کا اظہارِ خیال
    اس موقع پر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی اسلامی بنیادوں پر قائم ہونے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، "پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا اور اس سے میرا گہرا تعلق ہے۔ میں نے 1991ء میں پاکستان کا پہلا دورہ کیا تھا، اور وہ یادیں آج بھی میرے دل میں تازہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ "اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں ہر معاملے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، اور اگر ہم اسلام کے راستے پر چلیں گے تو کامیاب ہوں گے۔ میرا مشن یہی ہے کہ دنیا بھر میں اسلام کا پیغام عام کروں، اور اس دورے کے دوران اسلام آباد کے ساتھ ساتھ کراچی اور لاہور میں بھی لیکچرز دوں گا۔مذہبی اسکالر نے اپنے دورے کے دوران مختلف شہروں میں ہونے والے لیکچرز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیکچرز میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہوتی ہے جو اسلامی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کے لیے بے حد متحرک ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اسلام ایک دینِ فطرت ہے اور اگر ہم اس کے اصولوں پر عمل کریں گے تو دنیا اور آخرت میں کامیابی یقینی ہے۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کے لیکچرز اسلام کی حقیقی تعلیمات، عالمی مسائل کے اسلامی حل اور نوجوانوں کے کردار پر مبنی ہوں گے۔ اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں ہونے والے ان لیکچرز میں شرکاء کو اسلام کے بنیادی اصولوں اور جدید دور میں ان کی افادیت کے حوالے سے روشنی ڈالی جائے گی۔ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور ڈاکٹر ذاکر نائیک نے امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز پر بھی بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ امت مسلمہ کو متحد رہ کر اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے تاکہ دنیا میں امن و سلامتی کا پیغام عام کیا جاسکے۔وزیراعظم نے کہا کہ "ہمیں آپ جیسے اسکالرز کی ضرورت ہے جو دنیا کو اسلام کا حقیقی چہرہ دکھا سکیں اور نوجوان نسل کو دین کے قریب لا سکیں۔ آپ کا پیغام امن، بھائی چارے اور محبت کا ہے، اور ہم آپ کے ساتھ مل کر اس پیغام کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

  • بابر اعظم نے قومی ٹیم کی کپتانی سے استعفیٰ دے دیا

    بابر اعظم نے قومی ٹیم کی کپتانی سے استعفیٰ دے دیا

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کپتان بابر اعظم نے کپتانی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے، جس سے کرکٹ کے حلقوں میں ایک ہلچل مچ گئی ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ بطور کھلاڑی اپنے کردار پر زیادہ توجہ دے سکیں۔بابر اعظم نے کپتانی کو اپنے کیریئر کا ایک اہم تجربہ قرار دیا، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ قیادت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے ان پر ورک لوڈ میں اضافہ ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہو سکتی تھی۔ بابر کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ذاتی کارکردگی پر فوکس کرنا چاہتے ہیں تاکہ بطور کھلاڑی بہترین نتائج حاصل کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ "کپتانی ایک اچھا تجربہ تھا لیکن ورک لوڈ کی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب بطور کھلاڑی اپنے کردار پر زیادہ توجہ دوں۔” بابر نے مزید کہا کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں اور اب تک جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، ان پر انہیں فخر ہے۔

    بابر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنے کو بھی ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ ان کے کرکٹ کیریئر کے دوران کام کے دباؤ اور مسلسل دوروں کی وجہ سے ان کا زیادہ وقت فیملی سے دور گزرا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے مداحوں اور ٹیم مینجمنٹ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کی قیادت میں ٹیم کو سپورٹ کیا۔بابر کا کہنا تھا کہ "مجھے فخر ہے کہ میں نے قومی ٹیم کی قیادت کی اور ان تمام لمحات کو ہمیشہ یاد رکھوں گا، مگر اب بطور کھلاڑی اپنی ذمہ داریوں کو مزید بہتر طریقے سے نبھانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔بابر اعظم کے استعفیٰ کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم میں قیادت کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے کہ بابر کے بعد ٹیم کی قیادت کون سنبھالے گا، تاہم امکان ہے کہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت کے لیے نئے کپتان کا جلد اعلان کیا جائے گا۔واضح رہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلنے کے لیے آج پاکستان پہنچ رہی ہے۔ اس سیریز میں قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت شان مسعود کر رہے ہیں جبکہ بابر اعظم بھی قومی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

    بابر اعظم کا کرکٹ کیریئر اور کامیابیاں
    بابر اعظم کا شمار دنیا کے بہترین بیٹسمینوں میں ہوتا ہے، انہوں نے اپنی قیادت میں پاکستان کو کئی اہم میچز اور سیریز جتوائی ہیں۔ ان کے دورِ قیادت میں پاکستان نے خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کپتانی سے استعفیٰ دینے کے باوجود بابر اعظم کا کہنا ہے کہ وہ بطور کھلاڑی ٹیم کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اور ٹیم کو مزید کامیابیاں دلانے کی کوشش کریں گے۔بابر اعظم کے اس فیصلے کو کرکٹ ماہرین مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں، اور یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا یہ فیصلہ ان کی کارکردگی پر مثبت اثر ڈالے گا یا نہیں۔

  • جس طرح ہٹلر کو روکا گیا تھا، نیتن یاہو کو بھی اسی طرح روکا جانا چاہیے۔رجب طیب اردوان

    جس طرح ہٹلر کو روکا گیا تھا، نیتن یاہو کو بھی اسی طرح روکا جانا چاہیے۔رجب طیب اردوان

    ترکیہ صدر رجب طیب اردوان نے لبنان میں اسرائیل کی حالیہ زمینی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اسرائیل کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو ترک پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران کہی، جہاں انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مزید وقت ضائع کیے بغیر فوری کارروائی کرنی چاہیے۔طیب اردوان نے کہا، "اسرائیل نے غزہ میں جو دہشت گردی اور نسل کشی کی تھی، وہ اب لبنان تک پہنچ چکی ہے۔ اگر اسے نہ روکا گیا تو اسرائیلی قیادت اپنی نگاہیں ترکیہ کی طرف پھیر لے گی۔” انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جارحیت کا سلسلہ ختم ہونے کی بجائے بڑھتا جا رہا ہے، اور یہ کسی بھی وقت ترکیہ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
    اس کے ساتھ ہی، اردوان نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا موازنہ نازی جرمنی کے رہنما ایڈولف ہٹلر سے کرتے ہوئے کہا، "اسرائیلی قیادت جو وعدہ شدہ سرزمین کے فریب اور ہٹلر کی طرح خالص مذہبی جنون کے ساتھ کام کرتی ہے، وہ فلسطین اور لبنان کے بعد ہماری سرزمین پر بھی اپنی نگاہیں جمائے گی۔اردوان نے مزید کہا کہ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے اپنے دفاع اور جوابی کارروائی کے لیے فوجی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، جبکہ ایران نے اپنے نیوکلئیر پروگرام کی تکمیل کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت اور ان کے خلاف اقدامات کرنے کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ اردوان کا یہ موقف ترکیہ کے تاریخی حمایت فلسطینی عوام کے حقوق کی عکاسی کرتا ہے، اور ان کی حکومت کی خارجہ پالیسی کے اہم نکات میں شامل ہے۔

  • اسرائیل ایران پر حملے کے لیے تیار، نیتن یاہو نے ایران کو جنگ کے لیے مجبور کیا: الجزیرہ تجزیہ

    اسرائیل ایران پر حملے کے لیے تیار، نیتن یاہو نے ایران کو جنگ کے لیے مجبور کیا: الجزیرہ تجزیہ

    الجزیرہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایران کو حملے پر اکسانے کی کوشش کی ہے تاکہ اسرائیل کو ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا جواز فراہم ہو۔ یہ بات الجزیرہ کی تجزیہ نگار دورسا جابری نے اپنی رپورٹ میں کہی، جس میں انہوں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کا جائزہ لیا۔الجزیرہ کی انگریزی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اس تجزیے کے مطابق، جب 13 اپریل کو ایران نے اسرائیل پر میزائل حملہ کیا تھا، تو ایران نے پس پردہ چینلز کے ذریعے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو پہلے سے مطلع کر دیا تھا۔ تاہم، اس بار اسرائیل کو ایرانی حملے کی اطلاع صرف چند گھنٹے پہلے ملی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں تیزی آئی ہے۔تجزیہ میں بتایا گیا کہ اسرائیل اپنی دفاعی اور جوابی کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اسرائیلی فوج نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹا تو اسرائیل ایران کی چھ بڑی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیل نے اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کو اس کے جوہری منصوبوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دے گا۔

    دورسا جابری کے مطابق، ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ ایران اس حملے سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کیا یہ حملہ ایران کی طاقت کے اظہار کی کوشش تھی یا پھر وہ اسرائیل کے سامنے ایک "سرخ لکیر” کھینچنا چاہتا تھا؟ تجزیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے اقدامات عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں اور خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔تجزیہ نگار کے مطابق، نیتن یاہو ایران کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ وہ اپنی جوابی کارروائی کے لیے عالمی برادری سے حمایت حاصل کر سکیں۔ حالیہ واقعات، بشمول حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کے قتل، سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو اس موقعے کی تلاش میں تھے۔ ان واقعات کے بعد اسرائیل کو وہ جواز مل گیا ہے جس کی اسے ضرورت تھی یعنی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا۔
    الجزیرہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نیتن یاہو ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے اپنے مقصد کو حماس اور حزب اللہ جیسے گروہوں کے نام پر آگے بڑھا رہے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ گروہ ایران کی حمایت یافتہ ہیں اور انہیں نشانہ بنا کر اسرائیل دراصل ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ تازہ ترین پیش رفت اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود تنازعات کو مزید ہوا دے رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل واقعی ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرتا ہے تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے۔عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک اسرائیل اور ایران دونوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کر رہے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اس تنازعے کے ممکنہ اثرات سے خوفزدہ ہیں۔یہ صورتحال عالمی سیاست میں ایک نیا بحران پیدا کر سکتی ہے، جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا بھر کے امن کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔

  • پی آئی اے نے ایرانی فضائی حدود کے استعمال سے اپنی پروازوں کو روک دیا

    پی آئی اے نے ایرانی فضائی حدود کے استعمال سے اپنی پروازوں کو روک دیا

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر حالیہ میزائل حملے کے بعد اپنی تمام پروازوں کو ایرانی فضائی حدود کے استعمال سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایران کی فضائی حدود میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کیا گیا، جس سے مسافروں کی سلامتی اور پروازوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق، ایرانی فضائی حدود کے استعمال سے بچنے کے لیے تمام فلائٹ پلانز کو نئے سرے سے ترتیب دیا جا رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جب تک خطے میں صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہوتی، ایرانی فضائی حدود کا استعمال معطل رہے گا۔ اس فیصلے سے مسافروں کو ممکنہ تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم ان کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ترجمان نے مزید وضاحت دی کہ پی آئی اے عموماً ایران کی فضائی حدود کے دو اہم کوریڈورز کو استعمال کرتی ہے۔ **ناردرن کوریڈور** کو کینیڈا اور ترکی جانے والی پروازوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ **سدرن کوریڈور** کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، بحرین، قطر (دوحہ)، اور سعودی عرب کی پروازوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
    اس فیصلے کے بعد پاکستان ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) کو نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے ذرائع کے مطابق، ایران اور افغانستان سے آنے والی تمام پروازوں پر سخت نگرانی کا حکم دیا گیا ہے۔ پاکستان کی فضائی حدود کے قریب ہونے والی ہر قسم کی نقل و حرکت پر ایئر ٹریفک کنٹرول افسران (اے ٹی سی اوز) کو کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال کا فوری طور پر جواب دیا جا سکے۔یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کیا گیا ہے، جس میں ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی خاص طور پر نمایاں ہے۔ ایرانی میزائل حملے کے بعد، خطے میں فضائی نقل و حرکت کے حوالے سے متعدد ایئر لائنز نے اپنے روٹس میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ایرانی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کے لیے سکیورٹی کے خطرات میں اضافے کے بعد، پی آئی اے نے بھی فوری حفاظتی اقدامات کیے ہیں تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • حسن نصر اللّٰہ کی شہادت: اسرائیلی حملے کے خدشے کے پیش نظر تدفینی مقام خفیہ رکھا گیا

    حسن نصر اللّٰہ کی شہادت: اسرائیلی حملے کے خدشے کے پیش نظر تدفینی مقام خفیہ رکھا گیا

    لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ کے شہید رہنما حسن نصر اللّٰہ کی نماز جنازہ اور تدفین کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مقام کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ حسن نصر اللّٰہ، جو 27 ستمبر کو اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے، کی نماز جنازہ انتہائی مختصر رکھنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ اسرائیلی حملے سے بچا جا سکے۔ذرائع کے مطابق، حسن نصر اللّٰہ کی تدفین کے لیے مختلف مقامات پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں عراق کے مقدس شہر نجف اشرف اور کربلا، یا ایران میں کوئی خاص مقام شامل ہے۔ ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ ان کی تدفین کہاں کی جائے گی، لیکن حزب اللّٰہ کے قریبی رفقاء نے سیکیورٹی خدشات کے باعث مقام کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے اسرائیلی حملے سے بچا جا سکے۔
    حسن نصر اللّٰہ کے قریبی رفقاء نے اسرائیل کے ممکنہ حملوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی نماز جنازہ کو مختصر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی قسم کی بدامنی سے بچا جا سکے۔ عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کے مسلسل حملوں کے خدشات کے باعث اس موقع پر زیادہ ہجوم جمع کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق، حزب اللّٰہ کے شہید رہنما حسن نصر اللّٰہ کے ساتھ شہادت پانے والے علی کرکی اور دیگر شہداء کی تدفین پہلے ہی ہو چکی ہے۔ تاہم، حسن نصر اللّٰہ کی تدفین کے معاملے میں سیکیورٹی خدشات کے باعث غیر معمولی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ حزب اللّٰہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید حسن نصر اللّٰہ کی تدفین کے مقام کا اعلان عین وقت پر کیا جائے گا تاکہ اسرائیلی حملے کا خدشہ کم ہو سکے۔
    یہ بات یاد رہے کہ حسن نصر اللّٰہ 27 ستمبر کو اپنے ساتھیوں سمیت لبنانی دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد حزب اللّٰہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ حزب اللّٰہ کے حامیوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جبکہ اس واقعے نے خطے میں موجود سیاسی اور فوجی تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔حسن نصر اللّٰہ کی شہادت کے بعد خطے میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر چکی ہے۔ حزب اللّٰہ کی جانب سے اس حملے کا جواب دینے کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ اسرائیل نے اپنی سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ حزب اللّٰہ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور اس واقعے کا حساب اسرائیل سے لیا جائے گا۔
    حسن نصر اللّٰہ کی شہادت پر عالمی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ خطے کے مختلف ممالک اور تنظیموں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور اسرائیل کے اس اقدام کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ ایران اور عراق سمیت کئی ممالک نے حسن نصر اللّٰہ کی شہادت کو مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہوئے ان کی قربانی کو سراہا ہے۔اس صورتحال میں آنے والے دنوں میں حزب اللّٰہ اور اسرائیل کے درمیان مزید کشیدگی کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ حسن نصر اللّٰہ کی تدفین اور جنازے کے حوالے سے صورتحال پر بھی دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

  • امریکی صدر جو بائیڈن نے ایرانی حملوں کے بعد امریکی افواج کو اسرائیل کے دفاع کا حکم دے دیا

    امریکی صدر جو بائیڈن نے ایرانی حملوں کے بعد امریکی افواج کو اسرائیل کے دفاع کا حکم دے دیا

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد امریکی فوج کو اسرائیل کے دفاع کے لیے فوری طور پر متحرک ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر اور نائب صدر کملا ہیرس وائٹ ہاؤس میں موجود ہیں اور ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق صدر بائیڈن نے امریکی افواج کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف آنے والے میزائلوں کو مار گرائیں اور اسرائیل کا مکمل دفاع کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ صدر بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا کہ "امریکا اسرائیل کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور ہم خطے میں موجود اپنے اہلکاروں اور مفادات کی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں گے۔”
    ایران کی جانب سے یہ حملہ اس وقت ہوا جب پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر 400 بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ اس حملے کے بعد اسرائیل نے فوری طور پر جنگی کابینہ کا اجلاس طلب کیا اور ہنگامی صورتحال کا جائزہ لیا۔ امریکی صدر نے بھی قومی سلامتی ٹیم کی میٹنگ بلالی ہے تاکہ خطے کی موجودہ صورتحال پر غور کیا جا سکے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے حملے کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کا بدلہ ہے۔ پاسداران انقلاب نے مزید دھمکی دی کہ اگر اسرائیل نے کوئی جوابی کارروائی کی تو ایران ایک بار پھر اسرائیل کو نشانہ بنائے گا۔
    اسرائیلی وزیردفاع نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ ایران کو اس حملے پر پچھتانا پڑے گا، اور اسرائیل کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی اس کارروائی کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب امریکی میڈیا نے خبردار کیا تھا کہ ایران اگلے 12 گھنٹوں میں اسرائیل پر حملہ کرسکتا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل میں موجود امریکی سفارتکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بم شیلٹرز کے قریب رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کا باعث بن رہی ہے، جہاں پہلے ہی مختلف ممالک کے درمیان تنازعات جاری ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی نوعیت کے پیش نظر، یہ بحران عالمی سطح پر شدید سیاسی اور عسکری ردعمل کا سبب بن سکتا ہے۔

  • ایران کے میزائل حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی: اسرائیلی فوج

    ایران کے میزائل حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینئیل ہاگاری نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے حالیہ میزائل حملے میں کوئی اسرائیلی زخمی نہیں ہوا، لیکن اسرائیل نے ایران کو سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔ ریئر ایڈمرل ڈینئیل ہاگاری نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایران کی طرف سے کیا گیا حملہ سنگین تھا، اور اسرائیل اس کا بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی میزائلوں نے وسطی اور جنوبی اسرائیل میں متعدد مقامات پر براہ راست ہدف بنایا، تاہم اسرائیلی دفاعی نظام نے زیادہ تر میزائلوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے، اور صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیل کو ایران کی جانب سے اس طرح کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ایرانی پاسداران انقلاب نے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کو ایک اور بڑی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے کوئی ردعمل دیا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔
    اسرائیلی فوج کے ترجمان، ڈینیئل ہگاری، نے ایرانی حملے کے بعد شہریوں کو شیلٹرز سے باہر آنے کی اجازت دے دی ہے۔ ہگاری نے ٹیلی ویژن پر ایک اہم خطاب میں ایرانی حملے کی شدت کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ اسرائیلی فوج دفاعی اور جوابی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔منگل کی رات، ایران نے اسرائیل کی جانب 400 بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے درجنوں مختلف اسرائیلی علاقوں میں گرنے کی اطلاع ملی۔ خاص طور پر نگیو کے نیوکلیئر پاور اسٹیشن کے قریب بھی کئی میزائل گرنے کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہوئے۔ یہ حملہ ایران کی طرف سے اسرائیل کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا فوجی اقدام تصور کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد مقامات پر ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ملی ہیں۔ہگاری نے اس موقع پر واضح کیا کہ اسرائیلی فوج کسی بھی قسم کی خطرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے اور جوابی کارروائی کا وقت مناسب اور موثر انداز میں طے کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، "جواب صحیح وقت پر دیا جائے گا، جس کا مقصد اسرائیل کے قومی مفادات کی حفاظت کرنا ہے۔”
    اسرائیلی فوج کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کا نیوکلئیر پروگرام اب خطرے کے نشان پر ہے اور اس کی خاتمے کے آثار نمایاں ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف اسرائیل کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نیا چیلنج بن گئی ہے، جہاں ایران کے عسکری اقدامات کے خلاف دیگر ممالک کی بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔حملے کے دوران، اسرائیلی شہریوں نے اپنی حفاظت کے لیے گھروں کو چھوڑ کر پناہ گاہوں میں پناہ لی۔ اسرائیل کی حکومت نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا، اور شہریوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت ہدایت کی کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہوں۔ اس تمام صورتحال کے درمیان، شہریوں میں خوف و ہراس اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ حکومت کی طرف سے مزید حفاظتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔اس صورتحال کے پیش نظر، بین الاقوامی برادری نے بھی ایران کے اقدامات کی مذمت کی ہے اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسرائیل میں یہ ایرانی حملہ ایک نئی کشیدگی کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کو اس مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اس بحران کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔

  • پنجاب کے 6 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ

    پنجاب کے 6 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ

    پنجاب کے 6 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق میانوالی، فیصل آباد، بہاولپور، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اور چنیوٹ میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوامی اجتماعات اور احتجاجی سرگرمیوں کو روکنا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گردی کے حملے سے بچا جا سکے۔میانوالی میں دفعہ 144 کا نفاذ یکم اکتوبر سے 7 اکتوبر تک رہے گا۔ جبکہ فیصل آباد، بہاولپور، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اور چنیوٹ میں دفعہ 144 صرف دو دن کے لیے لاگو ہو گی۔محکمہ داخلہ کے مطابق، یہ فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی سفارشات کے بعد کیا گیا ہے، جن کا کہنا تھا کہ عوامی اجتماعات اور مظاہرے دہشت گردوں کے لیے "سافٹ ٹارگٹ” ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی خبردار کر چکے ہیں کہ بڑے عوامی اجتماعات کے دوران دہشت گرد عناصر کسی بڑے حملے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
    دفعہ 144 کے تحت ان اضلاع میں سیاسی جلسوں، احتجاجی مظاہروں، اور دیگر عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔ کسی بھی شخص یا گروہ کو بغیر اجازت کسی بھی قسم کا عوامی اجتماع منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا ہے تاکہ ممکنہ سکیورٹی خدشات سے بچا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان دنوں میں دہشت گردی کے خطرات زیادہ ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر کے طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے اور یہ پابندی عارضی ہوگی، جو حالات کے بہتر ہوتے ہی ختم کر دی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دوران کسی بھی قسم کی غیر ضروری نقل و حرکت اور اجتماعات سے گریز کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔