ایران نے اسرائیل پر ایک بڑی میزائل حملہ کیا ہے، جس کی تصدیق اسرائیلی فوج نے کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل کے شہر تل ابیب کو ہدف بنا کر 400 بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جس کے بعد پورے اسرائیل میں سائرن بجنے لگے ہیں۔ یہ واقعہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال میں ایک نئی شدت کا باعث بن سکتا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق، ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کا نشانہ تل ابیب تھا، جہاں مختلف مقامات پر سائرن کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں، اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے فوری طور پر ایک جنگی کابینہ کا اجلاس طلب کیا ہے تاکہ اس نازک صورتحال پر غور کیا جا سکے۔ اسی دوران، امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ میٹنگ بلالی ہے تاکہ اس حملے کے مضمرات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، حالیہ دنوں میں یہ افواہیں گئیں کہ ایران آئندہ 12 گھنٹوں کے اندر اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس کے جواب میں، نیو یارک ٹائمز نے اسرائیل میں موجود اپنے سفارتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بم شیلٹر کے قریب رہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اس صورت حال کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
اس حملے کے پس منظر میں، یہ بات اہم ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس وقت، عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس کشیدہ صورتحال کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
ادھر امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد قومی سلامتی کا اجلاس طلب کر لیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا اسرائیل کا بھرپور دفاع کرے گا، میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بھی اپنی جنگی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ایران کی طرف سے داغے جانے والے اردن کی فضا سے گزر کر اسرائیل کی طرف جا رہے ہیں جب دوسری جانب لبنان سے حزب اللہ نے بھی اسرائیل پرراکٹ حملے شروع کر دیے ہیں۔ پاسداران انقلاب نے اس حملے کو حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کی شہادت کا بدلہ قرار دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس واقعے کے جواب میں شدید کارروائی کر رہا ہے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اسرائیلی حکومت اور امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا تھا کہ ایران آئندہ چند گھنٹوں میں اسرائیل پر مزید حملے کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ خدشات اس وقت بڑھ گئے تھے جب اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کو ہدف بنایا تھا، جس کے بعد ایران کے سخت ردعمل کا امکان تھا۔
اسرائیل کے دفاع کے لیے، رواں برس اپریل میں شام میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے بعد، امریکہ اور مغربی اتحاد اس وقت سامنے آئے تھے جب ایران نے اسرائیل پر بیک وقت میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔یہ حملہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کی ایک نئی مثال ہے، جس کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس کشیدہ صورت حال کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملہ: ایک نئی جنگ کا آغاز
-

بینائی سے محروم افراد کا دھرنا 9ویں روز میں داخل، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج جاری
لاہور: بینائی سے محروم افراد کا احتجاجی دھرنا نویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ مظاہرین نے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کے منصوبے کو تبدیل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج شروع کر دیا ہے۔نابینا افراد نے حکومت کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیے جانے پر فیصل چوک سے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ کا آغاز کیا تھا۔ مارچ کے دوران گورنر ہاؤس کے قریب مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے افراد زخمی ہوئے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران اور ڈی سی لاہور سمیت دیگر حکام جائے وقوعہ پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نابینا افراد پر تشدد کی خبریں غلط ہیں۔ "ہم گزشتہ 9 دنوں سے ان کے ساتھ ہیں اور ہمارے بھی 8 سے 10 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ حکومتی ہدایات کے مطابق ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور ان کے مطالبات کے حوالے سے جلد ایک پلان کا اعلان کیا جائے گا۔دوسری جانب نابینا مظاہرین نے کہا کہ وہ بھی پاکستان کے شہری ہیں اور ان کے مطالبات کو فوری تسلیم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مستقل ملازمتوں کی فراہمی کا اعلان نہیں ہوتا، وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ -

سیالکوٹ میں گاڑی پر فائرنگ: 7 افراد کی ہلاکت، پرانی دشمنی کا شاخسانہ
سیالکوٹ کے علاقے قلعہ کالر والا میں گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ پرانی دشمنی کی بنیاد پر پیش آیا، جس کی تصدیق ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) گوجرانوالہ طیب حفیظ چیمہ نے کی ہے۔فائرنگ کے واقعے کے وقت ایک گروپ اپنے رشتہ داروں کے گھر تعزیت کے لیے آیا ہوا تھا، جس کے دوران دوسری طرف کے گروپ نے ان پر حملہ کیا۔ آر پی او کے مطابق، دونوں گروپوں کے درمیان زمین کے تنازعہ کی وجہ سے یہ دشمنی پیدا ہوئی تھی۔
علاقے میں خوف و ہراس کی فضا ہے، اور پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ طیب حفیظ چیمہ نے یقین دلایا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی ہے، لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ علاقے میں بڑھتی ہوئی مسلح دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے۔ پولیس حکام نے علاقے کی سیکیورٹی بڑھانے کے اقدامات بھی کیے ہیں تاکہ اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔مقامی ذرائع کے مطابق، علاقے میں مختلف گروپوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور اگر فوری طور پر اس کا حل نہ نکالا گیا تو مزید خطرناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے سیکیورٹی کے معاملات پر مزید توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حالات سے بچا جا سکے۔ -

عدلیہ کی آزادی اور مہنگائی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان،جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کا اتحاد
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ساتھ دینے کا باضابطہ اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر پلیٹ فارم پر پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے اور عدلیہ کی آزادی سمیت دیگر اہم امور پر پی ٹی آئی کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔ حافظ نعیم نے کہا کہ ہم اس وقت مہنگائی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں گے۔حافظ نعیم الرحمان پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے تھے، جس میں انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کا وفد پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے آیا تھا اور دونوں جماعتوں کے درمیان اہم امور پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا، "جہاں بھی ممکن ہوگا، ہم پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ البتہ کچھ پارٹی پالیسیز ہیں جن کا خیال رکھا جائے گا۔” اس موقع پر انہوں نے ملک میں جاری مہنگائی اور عوام پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
امیر جماعت اسلامی نے حالیہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "اس الیکشن میں دھاندلی نہیں، بلکہ دھاندلہ ہوا ہے۔” انہوں نے جماعت اسلامی کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تاکہ صاف و شفاف انکوائری کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر غیرجانبدار انکوائری ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو فاتح قرار دیا جائے گا۔حافظ نعیم الرحمان نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں 45 ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں اور اسرائیل کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اسرائیل ایک بد مست ہاتھی کی مانند عمل کر رہا ہے اور اس کے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کا دفاع ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے اور اس وقت فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے۔انہوں نے پاکستانی عوام سے اپیل کی کہ 7 اکتوبر کو دن 12 بجے پورے ملک میں فلسطینیوں کی حمایت میں باہر نکلیں اور احتجاج کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی آنے والے دنوں میں مختلف مارچ اور مظاہروں کا انعقاد کرے گی تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہے۔
پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر نے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی اکھٹے حکومت میں رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا موقف بہت واضح ہے کہ رات کے اندھیرے میں کوئی فیصلہ نہیں ہونا چاہیے، اور تمام فیصلے عوام کے سامنے اور شفافیت کے ساتھ ہونے چاہئیں۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی تجاویز پر پی ٹی آئی کی پارٹی میٹنگ میں غور کیا جائے گا اور ان تجاویز کو سنجیدگی سے لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں مل کر بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔اس پریس کانفرنس کے ذریعے جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے درمیان اتحاد کی وضاحت کی گئی اور دونوں جماعتوں نے مستقبل میں مل کر عدلیہ کی آزادی، مہنگائی کے خاتمے، اور ملک میں سیاسی اصلاحات کے لیے جدوجہد کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ دونوں جماعتوں کا موقف ہے کہ ملک میں انصاف اور شفافیت کے اصولوں پر مبنی نظام کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس حوالے سے دونوں جماعتیں مل کر عملی اقدامات کریں گی۔ -

نئے مالیاتی معاہدے اور زرعی انکم ٹیکس پر صوبوں کا اتفاق: منی بجٹ کا امکان نہیں، وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں صوبوں کے ساتھ نئے قومی مالیاتی معاہدوں کی کامیابی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں کسی بھی قسم کے منی بجٹ کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدے ملک کی اقتصادی استحکام کے لئے ایک مثبت قدم ہیں، خاص طور پر زرعی انکم ٹیکس کے نفاذ کے حوالے سے۔وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں یکساں زرعی انکم ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی حمایت تمام صوبوں نے کی ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس حوالے سے سب سے پہلے دستخط کر کے دیگر صوبوں کے لئے مثال قائم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے صوبوں کے ریونیو میں اضافہ ہوگا اور وہ پی ایس ڈی پی (پاکستان سٹینڈرڈ ڈیولپمنٹ پروگرام) کے کچھ منصوبوں میں بوجھ بھی اٹھائیں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام سے ملک میں معاشی استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی روپیہ مستحکم ہو چکا ہے، اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر ایک ماہ سے بڑھ کر اب دو ماہ کے لئے کافی ہیں۔ اس کے علاوہ، پالیسی ریٹ میں بھی کمی آئی ہے، جو معیشت کی بہتری کا ایک اشارہ ہے۔وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ مالی معاہدوں کے تحت کچھ اخراجات صوبوں کو منتقل کر دیئے جائیں گے، اور گندم اور گنے کی امدادی قیمتیں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل ٹریڈ پر نئے ٹیکس عائد ہوں گے، جو کہ حکومت کی جانب سے مالی اصلاحات کا حصہ ہیں۔
ایک اہم اعلان کرتے ہوئے، سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے ایسی پالیسی مرتب کی ہے کہ نان فائلرز اب گاڑی یا جائیداد خریدنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ، وہ بینک اکاؤنٹ بھی نہیں کھلوا سکیں گے، جو کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ ان کی معاشی اصلاحات اور کوششوں کے نتیجے میں کریڈٹ پالیسی ریٹ میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کے اضافی کلائمیٹ فنڈ ملنے کا بھی امکان ہے، جو کہ ملک کی معاشی صورتحال کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔
یہ تمام اقدامات اور اصلاحات اس بات کا عکاس ہیں کہ حکومت پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ ان کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ -

ملی یکجہتی کونسل کا 7 اکتوبر کو اسرائیل مخالف ملک گیر احتجاج کا اعلان
اسلام آباد : ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی قائدین نے 7 اکتوبر کو اسرائیل مخالف ملک گیر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد فلسطین، لبنان، کشمیر، اور شام کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہے۔ اس احتجاج میں ملک بھر کی 28 معتبر جماعتیں شرکت کریں گی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور جماعت اسلامی کے نائب امیر، لیاقت بلوچ، اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، نے اسرائیل کی جارحیت کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری کی خاموشی پر تنقید کی۔لیاقت بلوچ نے گفتگو کے دوران کہا کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم بڑھتے جا رہے ہیں، غزہ میں 43 ہزار سے زائد شہادتیں ہو چکی ہیں، جبکہ ہزاروں فلسطینی صیہونی جیلوں میں قید ہیں اور بدترین تشدد کا شکار ہیں۔ انہوں نے لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ مزاحمت کاروں کو خاموش نہیں کیا جا سکتا، چاہے اسرائیل کتنی ہی ٹیکنالوجی کا استعمال کر لے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی طاقتیں اسرائیلی جرائم کو نہیں روکیں گی تو کل اسرائیل دنیا بھر کی گلیوں میں آزادی سے گھومتا نظر آئے گا۔ انہوں نے فلسطینی مزاحمت کے رہنماؤں، جیسے احمد یاسین اور حسن نصر اللہ کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں کے باوجود آزادی کی تحریک جاری ہے اور جاری رہے گی۔لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی تنظیمیں اسرائیل کے خلاف کوئی موثر اقدامات نہیں کر رہیں، اور یہ وقت ہے کہ عالم اسلام متحد ہو کر اسرائیل کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرے۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت کی جانب سے دو ریاستی حل کو ایک کمزور موقف قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے معاملے میں کمزور پوزیشن لینا کشمیر کے مستقبل کے لیے بھی نقصان دہ ہو گا
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنی گفتگو میں اسرائیلی جارحیت کو عالم کفر کے خلاف اسلامی مزاحمت کی جنگ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج مزاحمت گر گئی تو کل اسرائیل کے خلاف کوئی بھی بند نہیں باندھ سکے گا۔ انہوں نے اسرائیل کی شکست پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے سٹریٹیجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، اور یہی وقت ہے کہ پوری امت مسلمہ متحد ہو کر اسرائیل کے خلاف کھڑی ہو۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 7 اکتوبر کو پوری پاکستانی قوم کو فلسطین، لبنان، کشمیر، اور شام کے مظلومین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے باہر نکلنا ہو گا۔ علامہ جعفری نے کراچی میں فلسطین کی حمایت میں ہونے والی ریلی پر پولیس کے تشدد کی شدید مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مظاہرین کے خلاف درج کی گئی جھوٹی ایف آئی آرز فوری طور پر خارج کی جائیں۔
شیعہ علماء کونسل کے نائب صدر علامہ عارف واحدی نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف دفاعی محاذ پر پوری امت مسلمہ کو کھڑا ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 28 جماعتوں پر مشتمل ملی یکجہتی کونسل اسرائیلی جارحیت کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کرے گی اور یہ اتحاد امت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ملی یکجہتی کونسل کے قائدین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے خلاف فوری اور موثر عملی اقدامات کیے جائیں، ورنہ خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اسرائیل کی بدمعاشی کے خلاف خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کو روکا جائے۔7 اکتوبر کو ہونے والے اس ملک گیر احتجاج میں شرکت کرنے کے لیے عوام کو اپیل کی گئی ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں، لبنانیوں، کشمیریوں اور شامیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے گھروں سے نکلیں اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ -

ڈاکٹر ذاکر نائیک کا فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے نیٹو طرز کے اسلامی اتحاد کی تجویز
اسلام آباد: معروف اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے فلسطین کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے مسلم دنیا کو متحرک کرنے کے لیے نیٹو طرز کے اتحاد کی تشکیل کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے یہ بات آج ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی، جس میں انہوں نے فلسطین کے مسئلے پر مسلمانوں کی ذمہ داریوں اور اقدامات کے حوالے سے اپنی رائے پیش کی۔ڈاکٹر نائیک نے کہا کہ مسلمان ممالک کو نیٹو کی طرح ایک اتحاد قائم کرنا چاہیے، جس میں تمام 57 اسلامی ممالک شامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کے اصولوں کے تحت، اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو یہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اس طرح مسلمان ممالک زیادہ طاقتور ہوں گے، لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ مسلمان تقسیم کا شکار ہیں۔”
پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں، ڈاکٹر نائیک نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ہر مسلمان کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے اور کم از کم دعا تو ضرور کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دعا کا بہترین وقت تہجد کی نماز ہے، جو ایک روحانی اور جذباتی رابطہ قائم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ڈاکٹر نائیک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، جہاں مسلمان فلسطین کی صورتحال کے بارے میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "ہمیں اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ، انہوں نے مسلمانوں کو انفرادی طور پر فلسطینیوں کی مالی امداد کرنے کی بھی اپیل کی، خواہ یہ امداد 100 روپے ہو یا 1000 روپے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نیت کو دیکھتا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے اس بیان نے اسلامی ممالک کے اتحاد اور فلسطینیوں کی مدد کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز کیا ہے، جس میں ان کی تجاویز کی پذیرائی کی جا رہی ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب فلسطین کے مسئلے پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے اور مسلمانوں کی جانب سے یکجہتی اور مدد کی ضرورت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ -

ایران اسرائیل کے خلاف بیلسٹک میزائل حملے کی تیاری کر رہا ہے: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن: امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران اسرائیل کے خلاف ایک بڑے بیلسٹک میزائل حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو اس بات کے واضح اشارے ملے ہیں کہ ایران اسرائیل کے خلاف فوری طور پر بیلسٹک میزائل حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے پیش نظر اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکہ نے فعال تیاریاں شروع کر دی ہیں۔منگل کو جاری کردہ اس بیان میں وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے مزید کہا کہ اسرائیل پر ایران کی طرف سے براہ راست فوجی حملہ ایران کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اپنے دیرینہ اتحادی اسرائیل کی حفاظت کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ اس بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر کسی بھی حملے کے ردعمل میں امریکہ فوری طور پر اسرائیل کی مدد کو پہنچے گا، جیسے کہ اپریل میں جب ایران نے اسرائیل کے خلاف ڈرون اور میزائل حملے کیے تھے تو امریکہ نے اسرائیل کی مدد کی پیشکش کی تھی۔امریکی نیوز چینل "سی این این” نے بھی اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ امریکہ اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہے اور ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق، ایران کی جانب سے اسرائیل پر ہونے والے آئندہ حملے کا دائرہ کار اور پیمانہ اپریل کے حملے سے بھی بڑا ہو سکتا ہے۔ اپریل میں ایران نے اسرائیل پر ڈرونز اور میزائلوں کی ایک لہر چلا دی تھی، جس کے دوران امریکہ نے فوری مدد کی پیشکش کی تھی اور اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو تقویت دینے کے لیے اپنے اتحادی کے ساتھ کھڑا رہا تھا۔
اسرائیلی ردعمل اور صورتحال کی نگرانی
ایران کے ممکنہ میزائل حملے کے حوالے سے امریکی انتباہات کے فوراً بعد اسرائیلی فوج نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اسے ابھی تک ایران کی طرف سے کوئی فوری فضائی خطرہ نظر نہیں آیا۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان ڈینیل ہگاری نے ایک مختصر ویڈیو پیغام میں کہا کہ فی الحال ایران کی طرف سے کوئی ایسا خطرہ محسوس نہیں کیا گیا ہے جو اسرائیل کے لیے فوری خطرے کا باعث ہو۔ہگاری نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج اس وقت ایران کی طرف سے کسی بھی ممکنہ خطرے کے حوالے سے آسمان کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور اسرائیل جارحانہ اور دفاعی دونوں محاذوں پر چوکس ہے۔ انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پر کسی بھی قسم کے حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
حالیہ ہفتوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور پیر کو اعلان کیا کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف زمینی کارروائی شروع کر دی ہے، تاہم حزب اللہ نے اسرائیل کی اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ حزب اللہ کے مطابق، اسرائیلی دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے، تاہم اسرائیلی ذرائع نے جنوبی لبنان میں ان کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔لبنان کے بعد، اسرائیل نے شام میں بھی کارروائی کی جس میں ایک خاتون صحافی سمیت تین شہری جاں بحق ہو گئے۔ یہ کارروائیاں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو ظاہر کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ایران پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی حمایت میں مزید سرگرم ہو۔
اس صورت حال کے پیش نظر، امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں ہونے والے تمام واقعات کو بہت قریب سے ٹریک کر رہا ہے اور اسرائیل کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکہ نہ صرف اسرائیل کے دفاع کے لیے بلکہ خطے کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بھی متحرک ہے۔موجودہ حالات میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون کی مزید مضبوطی کی توقع کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے خلاف ایران کی طرف سے کسی بھی ممکنہ حملے کے جواب میں امریکہ کے شدید ردعمل کا امکان ہے، جو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔خطے میں اسرائیل کے لبنان اور شام پر حالیہ حملوں اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ ایران کے ممکنہ جوابی حملے کے پیش نظر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ دفاعی حکمت عملی خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔ -

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات: اسلام کی تبلیغ اور اتحاد پر زور
اسلام آباد: پاکستان کے دورے پر موجود معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے اسلامی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا۔ڈاکٹر ذاکر نائیک، جو دنیا بھر میں اپنے تبلیغی کام کی وجہ سے مشہور ہیں، نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے دوران پاکستانی عوام کی محبت اور مہمان نوازی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، "پاکستان کے لوگ بہت محبت کرنے والے ہیں، اور ان کی یہ خصوصیت اسلامی ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔ملاقات کے دوران ڈاکٹر نائیک نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں امت مسلمہ کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں اختلافات کو بھلا کر قرآن اور سنت کی روشنی میں ایک ہونا ہوگا۔” ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا کو امن اور محبت کی ضرورت ہے، اور ان کے تبلیغی کام کا مقصد اسلامی تعلیمات کی حقیقی روح کو اجاگر کرنا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے ڈاکٹر نائیک کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسانیت کو امن، رواداری اور محبت کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا، "امت مسلمہ کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم دنیا میں اسلام کے حقیقی پیغام کو عام کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی کوششیں اسلامی امن و محبت کا پیغام عام کرنے میں قابل ستائش ہیں، اور ان کی گفتگو سے ہمیں ایک نئے عزم کے ساتھ اسلام کی بنیادی تعلیمات کو فروغ دینے کا موقع ملتا ہے۔اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی قوم اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔ اس طرح کی ملاقاتیں اور گفت و شنید ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے اور ہمارے مسائل کا حل تلاش
کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اس دورے کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "محبت اور امن کے پیغام کو عام کرنے کے لیے ہمیں ہر ممکنہ طریقے سے کام کرنا ہوگا ،یہ ملاقات پاکستان میں اسلامی یکجہتی کے لیے ایک مثبت قدم ہے، اور اس کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ مسلم اُمّہ کو اپنے اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔
-

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا مہنگائی کی کم ترین شرح پر اظہار تشکر اور ٹریکوما کے خاتمے کا اعلان
اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ستمبر 2024 میں مہنگائی کی شرح 6.9 فیصد تک کم ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے، جو کہ گزشتہ 44 ماہ میں سب سے کم ہے۔ وزیرِ اعظم نے حکومت کی معاشی ٹیم کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ اس کمی سے عام آدمی کو ریلیف ملے گا۔ انہوں نے اس موقع پر مزید کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متواتر کمی نے بھی عوام کی مشکلات کم کی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے یہ بات ایک تقریب میں کہی جہاں انہوں نے مہنگائی کی شرح میں کمی کو عوامی ریلیف کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ثمر قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "اللہ کے فضل و کرم سے عوام سے کیے گئے عہد کی پاسداری میں کامیابی ملنا شروع ہو گئی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ 2025 تک مہنگائی کی شرح کو 7 فیصد تک لانے کا ہدف 2024 میں ہی حاصل کرنا قابل ستائش ہے۔وزیرِ اعظم نے عوامی ریلیف کے اقدامات کو اپنی حکومت کی پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ "پاکستان کے ڈیفالٹ کی خواہش کرنے والوں کا منصوبہ ناکام ہوا۔” انہوں نے قوم کے سامنے یہ بھی ذکر کیا کہ ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے اور سفارتی تعلقات بھی مضبوط ہو رہے ہیں۔
ٹریکوما کے خاتمے کا اعلان
ایک اور اہم موقع پر، وزیرِ اعظم نے ٹریکوما بیماری کے خاتمے کا اعلان کیا۔ یہ تقریب بھی اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں انہوں نے کہا کہ "آج پاکستان کی تاریخ میں ایک خوش نصیب دن ہے کہ ہم ٹریکوما کے خاتمے کا اعلان کر رہے ہیں۔وزیرِ اعظم نے اس کامیابی کو وزارت صحت، صوبائی حکومتوں، این جی اوز، اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) پاکستان کی شاندار کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ لاکھوں لوگ اس بیماری کی وجہ سے بینائی سے بچ گئے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹریکوما دوبارہ پاکستان میں نہیں آئے گی، لیکن اس کے لیے سخت مانیٹرنگ کی ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ "پولیو کا خاتمہ بھی ہماری اولین ضرورت ہے۔انہوں نے ہیپاٹائٹس کے مرض کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے بارے میں بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کے خاتمے کے لیے پنجاب میں ایک بڑا پروگرام شروع کیا جائے گا۔وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ صوبوں کی مدد کے لیے تیار ہیں اور اس بات کا یقین دلایا کہ اگر ماہرین، ڈاکٹرز، اور فیلڈ آفیسرز یکجا ہو کر کام کریں تو پاکستان زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔