اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان، شہباز شریف، نے جاپان کے نو منتخب وزیراعظم شیگیرو ایشیبا کو عہدہ سنبھالنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ جاپان کے وزیراعظم کے طور پر شیگیرو ایشیبا کے انتخاب پر ان کی قدر کرتے ہیں اور ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔وزیراعظم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان جاپان کے ساتھ اپنے تاریخی اور دوستانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، جو گزشتہ برسوں کے دوران مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جاپان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور متنوع بنانے کے لیے کام کرنے کے منتظر ہیں۔جاپانی حکمراں پارٹی کے رہنما، شیگیرو ایشیبا، کو منگل کو پارلیمنٹ میں وزیراعظم منتخب کیا گیا۔ شیگیرو ایشیبا نے گزشتہ ہفتے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر کے طور پر بھی کامیابی حاصل کی تھی۔
جاپان کے طاقتور ایوان زیریں میں شیگیرو ایشیبا نے ڈالے گئے 461 ووٹوں میں سے 291 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ایوان بالا میں انہوں نے 242 ووٹوں میں سے 143 ووٹ حاصل کیے۔ اس انتخاب کے ساتھ ہی وہ جاپان کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔پاکستان کے وزیراعظم کی جانب سے دی گئی مبارکباد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری اور دوستی کی بنیاد پر نئے دور کی شروعات کی امیدیں وابستہ ہیں۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی، اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کی راہ ہموار کرے گا۔وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اس اقدام کو بین الاقوامی تعلقات کے فروغ اور دوطرفہ باہمی تعاون کی اہمیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو بھی فائدہ ہوگا۔
Author: صدف ابرار
-

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی جاپان کے نو منتخب وزیراعظم شیگیرو ایشیبا کو مبارکباد
-

کراچی میں حسن نصراللہ کی شہادت کے خلاف ریلی میں ہنگامہ آرائی: مقدمہ درج
کراچی کے علاقے ایم ٹی خان روڈ پر دو روز قبل ہونے والے ہنگامہ خیز واقعے کے مقدمے کا اندراج ڈاکس تھانے میں سرکاری مدعیت میں کرلیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت کے خلاف نکالی جانے والی ریلی میں ہونے والے تصادم اور پولیس پر حملے کے واقعات کے بعد درج کیا گیا ہے۔اتوار کے روز امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) اور دیگر تنظیموں کی جانب سے حسن نصراللہ کی شہادت کے خلاف نکالی جانے والی ریلی کے دوران یہ تصادم اس وقت ہوا جب مظاہرین نے امریکن ایمبیسی کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس اور ریلی میں شریک مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
واقعے کی ایف آئی آر میں تفصیلات درج ہیں کہ مائی کلاچی اور ایم ٹی خان روڈ پر وحدت المسلمین مجلس کی قیادت میں چار سے پانچ ہزار افراد نیٹی جیٹی پل سے امریکن ایمبیسی کی جانب بڑھنے لگے۔ وحدت المسلمین کے رہنماؤں میں مولانا اصغر حسین شہیدی، مولانا ناظر حسین تقوی، مولانا باقرعباس اور مولانا صادق جعفری شامل تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق امامیہ اسٹوڈنٹس (ISO) کی قیادت میں موجود رضی حیدر، مبشر زیدی، صابر ابو مریم، غیور عباس اور ان کے ساتھ موجود دس سے بارہ افراد نے مظاہرین کو اشتعال دلایا۔ ان کی تقریروں کے بعد مشتعل افراد، جو ڈنڈوں اور پتھروں سے مسلح تھے، کنٹینرز کو ہٹانے کی کوشش کرنے لگے۔ اس موقع پر پولیس نے انہیں روکنے کی حکمت عملی اپنائی، لیکن مظاہرین نے پولیس پر حملہ کرتے ہوئے پتھراؤ اور ڈنڈوں کا استعمال کیا، جس سے متعدد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ جب پولیس نے مشتعل افراد کو قابو میں لانے کی کوشش کی تو مظاہرین نے خوف و ہراس پھیلایا اور آتشیں اسلحے سے فائرنگ شروع کردی۔ اس حملے میں کئی پولیس افسران اور ملازمین زخمی ہو گئے۔ مظاہرین نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، جن میں سرکاری موبائل گاڑی کا فرنٹ شیشہ اور بونٹ توڑ دیا گیا، جبکہ ایک موٹر سائیکل کو بھی آگ لگا دی گئی۔مظاہرین کے تشدد کا نشانہ میڈیا نمائندگان بھی بنے۔ جیو ٹی وی کے نمائندے دانیال کو سر پر پتھر مارا گیا، جس کے باعث وہ زخمی ہو گئے۔مقدمے میں رضی حیدر، مبشر زیدی، صابر ابو مریم، غیور عباس اور دیگر سو سے ڈیڑھ سو افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں کارسرکار میں مداخلت، ہنگامہ آرائی اور دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تمام نامزد افراد اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کر رہی ہے، اور اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں تاکہ ہنگامہ آرائی اور حملے کے ذمہ داران کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ -

پشاور بی آر ٹی بسوں کے کرایوں میں اضافہ
پشاور بی آر ٹی (بڑی رفتار ٹرانزٹ) بسوں کے کرایوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ بی آر ٹی کے ترجمان کے مطابق، حالیہ اضافہ ایکسپریس روٹ پر چلنے والی بسوں کے کرایوں میں کیا گیا ہے، جس کے بعد اب فیلٹ کرایہ 55 روپے ہو گیا ہے۔ترجمان نے مزید وضاحت کی ہے کہ طویل سفر کرنے والے مسافروں پر اس اضافے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن وہ شہری جو صرف ایک یا دو سٹاپ کے بعد اترتے ہیں، انہیں زیادہ کرایے سے بچنے کے لیے ایکسپریس روٹ کا استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل فی اسٹاپ کرایہ میں 10 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے باعث مسافروں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ بی آر ٹی کی انتظامیہ نے شہریوں کو مزید معلومات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
-

حزب اللہ کا اسرائیل پر پہلا بڑا حملہ: تل ابیب کے قریب فوجی انٹیلی جنس بیس نشانہ بنا
حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد، ایرانی حمایت یافتہ لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف ایک اہم فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے، جس میں تل ابیب کے قریب واقع اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس بیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے کا مقصد نصراللہ کے مقام و مرتبے کو برقرار رکھنا اور اسرائیل کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔حزب اللہ نے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے "فوجی انٹیلی جنس یونٹ 8200 کے گلیلوٹ بیس” اور تل ابیب کے مضافات میں واقع "موساد کے ہیڈ کوارٹر” پر فادی 4 راکٹوں کا ایک سالوو لانچ کیا ہے۔ حزب اللہ نے اس آپریشن کا نام "آپ کی خدمت میں نصراللہ” رکھا ہے، جو اس بات کا اظہار ہے کہ یہ حملہ ان کے سابق سربراہ کے نام سے منسوب ہے۔یہ حملہ حسن نصراللہ کی اگست کے آخر میں کی گئی اس دھمکی کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا گروپ اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرنے کے لیے تیار ہے، اور اس میں "گلیلوٹ اڈے اور اہم اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس بیس” کو نشانہ بنایا جائے گا۔ادھر، اسرائیلی فوج نے اس حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ اس وقت تنصیب پر حملہ کرنے میں ناکام رہی تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس عسکری گروپ کے آپریشن کی تفصیلات اور ان کی منصوبہ بندی میں کچھ ناکامیاں بھی موجود ہیں۔
اس کارروائی کے بعد، اسرائیلی فضائیہ نے شام میں بھی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں خاتون صحافی سمیت تین شہری جاں بحق ہو گئے۔ یہ واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اس خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ایک نئی جنگ کا امکان موجود ہے۔حزب اللہ کے اس تازہ ترین حملے نے نہ صرف اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی کو چیلنج کیا ہے، بلکہ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ لبنانی تنظیم اپنی قوت اور عزم میں کمیاب نہیں ہوئی ہے۔ اس دوران عالمی برادری اور علاقائی طاقتیں اس نئی صورت حال کو بغور دیکھ رہی ہیں، جبکہ اسرائیل کی حکومت اور فوجی حکام اس حملے کا مؤثر جواب دینے کے لیے متحرک ہیں۔اس واقعے کے بعد سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر عسکری کارروائیاں متوقع ہیں۔ یہ حملہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں جاری سیاسی اور فوجی مسائل کی پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات عالمی امن و امان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا اس کارروائی کے نتیجے میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا یا اس سے بات چیت کی راہ ہموار ہوگی۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس واقعے کا اثر ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک پر جو اس خطے میں استحکام کی کوششیں کر رہے ہیں۔
-

وزیر اعظم شہباز شریف کا نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی رہائشگاہ پر تعزیتی دورہ
اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی رہائشگاہ پر پہنچ کر ان کے بڑے بھائی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے مرحوم کی مغفرت اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی جبکہ اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔تعزیت کے اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ وزیرِ اعظم نے دکھ اور غم کی اس گھڑی میں اسحاق ڈار اور ان کے خاندان کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سانحے میں ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔واضح رہے کہ اسحاق ڈار کے بڑے بھائی کا انتقال گزشتہ روز ہوا تھا، جس پر ملک کی سیاسی اور سماجی شخصیات کی جانب سے اظہارِ تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف حکومتی عہدیداروں اور اہم سیاسی رہنماؤں نے بھی تعزیتی پیغامات بھیجے ہیں، جس میں انہوں نے مرحوم کی خدمات کو سراہا اور ان کے خاندان کے لیے دعا گو ہوئے۔اس موقع پر وزیر اعظم نے اسحاق ڈار کے اہلِ خانہ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ دکھ اور تکلیف کے اس لمحے میں پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
-

شمالی وزیرستان ہیلی کاپٹر حادثہ: دو روسی اور ایک بیلاروسی پائلٹ کی ہلاکت، روسی سفارت خانے کی تصدیق
اسلام آباد: 28 ستمبر کو خیبر پختونخواہ کے علاقے شمالی وزیرستان میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے کے حوالے سے روسی سفارت خانے نے باضابطہ بیان جاری کیا ہے، جس میں اس افسوسناک واقعے میں دو روسی اور ایک بیلاروسی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر شیوہ آئل فیلڈ کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا اور حادثے میں چھ افراد جاں بحق اور آٹھ زخمی ہوئے تھے۔روسی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "پاکستان میں واقع روسی سفارت خانے کی جانب سے نہایت افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ 28 ستمبر کو شمالی وزیرستان خیبر پختونخواہ میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے میں دو روسی شہریوں نکولائی ریباکووچ اور سیمویل مردوئین، اور ایک بیلاروسی پائلٹ سرگئی کوشیلوف کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے”۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہم اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کے اہل خانہ اور احباب سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔یہ افسوسناک حادثہ 28 ستمبر بروز ہفتہ شمالی وزیرستان کے شیوہ آئل فیلڈ کے قریب اس وقت پیش آیا جب ماڑی پیٹرولیم کمپنی کا چارٹرڈ ہیلی کاپٹر اڑان بھرتے ہی تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کا شکار ہونے والا ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر تھا، جس میں تین غیر ملکی پائلٹس سمیت کریو اور 14 مسافر سوار تھے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے میں چھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ آٹھ زخمی ہوئے۔ایوی ایشن ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، حادثے کا شکار ہیلی کاپٹر پاکستان میں چارٹرڈ پروازیں فراہم کرنے والی کمپنی "پرنسلے جیٹ” نے روس سے ویٹ لیز پر حاصل کیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر عملے سمیت لیز پر لیا گیا تھا۔ حادثے کی وجوہات کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں، تاہم ابتدائی رپورٹوں کے مطابق تکنیکی خرابی اس حادثے کا سبب بنی۔روس اور بیلاروس کی حکومتوں کے درمیان اس حادثے کے بعد تعاون کا عمل جاری ہے، جبکہ پاکستانی حکام بھی حادثے کی تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ روسی اور بیلاروسی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے حادثے کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔حادثے کے بعد جائے وقوعہ کی تصاویر اور ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں، جن میں تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ حکام نے علاقے کو فوری طور پر سیل کر دیا تھا اور امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا۔ ماڑی پیٹرولیم کمپنی کی جانب سے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کمپنی اس افسوسناک واقعے کی مکمل تحقیقات میں تعاون کرے گی۔ کمپنی کے بیان کے مطابق، "ہم حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہیں۔” -

پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس: سیکیورٹی صورتحال پر اہم فیصلوں کی توقع
قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پارلیمانی رہنما شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس 2 اکتوبر 2024 کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دینا ہے، جو حالیہ دنوں میں کافی تشویش کا باعث بنی ہے۔قومی اسمبلی کے ترجمان کے مطابق یہ اجلاس ان کیمرہ ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ اس میں ہونے والی گفتگو عوامی سطح پر شائع نہیں کی جائے گی۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت حساس مسائل پر گفتگو کرتے وقت ایک محتاط نقطہ نظر اپناتی ہے، خاص طور پر جب بات سیکیورٹی سے متعلقہ امور کی ہو۔
اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کل وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے، جس کی وجہ وزیراعظم کی مصروفیت بتائی گئی ہے۔ اس اجلاس کا 10 نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا تھا، جس میں پی ٹی آئی کے سنگجانی جلسے کے حوالے سے بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا معاملہ بھی زیر غور تھا۔ یہ صورتحال پاکستان کی سیاسی ماحول میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً جب کہ پارلیمنٹ کے اندر سیکیورٹی کی صورتحال پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ پارلیمانی رہنما اس اجلاس میں اپنے خیالات اور تجاویز پیش کریں گے، جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو مزید مستحکم کرنا اور موجودہ بحرانوں کا موثر حل تلاش کرنا ہے۔ اجلاس میں ہونے والی گفتگو اور فیصلے مستقبل کے سیاسی منظرنامے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، لہذا اس پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔ -

سوات: مالم جبہ اور مٹہ میں پولیس چیک پوسٹوں پر فائرنگ، دو اہلکار زخمی،
سوات کے سیاحتی مقام مالم جبہ اور تحصیل مٹہ کے علاقے چپریال میں پولیس اسٹیشن اور چیک پوسٹوں پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کے واقعات سامنے آئے ہیں جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ ان واقعات کے بعد علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔پولیس کے مطابق مالم جبہ پولیس اسٹیشن پر نامعلوم افراد نے اچانک فائرنگ کی جس پر پولیس نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آواروں کا مقابلہ کیا۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی قریبی دیہات کے لوگ بھی باہر نکل آئے اور انہوں نے پولیس کی مدد کا اعلان کرتے ہوئے اسلحہ اٹھا لیا۔ تاہم سیکیورٹی فورسز نے صورتحال کو قابو میں کرتے ہوئے مقامی افراد کو واپس جانے کی ہدایت کی اور پولیس نے خود صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش جاری رکھی۔
دوسری جانب تحصیل مٹہ کے علاقے چپریال میں واقع پولیس چیک پوسٹ پر بھی نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔فائرنگ کے ان واقعات کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ سوات پولیس کے ترجمان کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں تاہم ان کی تلاش جاری ہے اور قریبی علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
سوات میں حالیہ مہینوں میں سیکورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مالم جبہ، جو کہ سوات کا ایک مشہور سیاحتی مقام ہے، اس قسم کے حملوں سے متاثرہ علاقے میں شامل ہو گیا ہے۔ عوام میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے، تاہم پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کی جانب سے اس بات کی یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ علاقے کی صورتحال کو جلد قابو میں کیا جائے گا۔حالیہ حملوں کے بعد سوات کے عوام نے امن و امان کی بحالی کے لیے حکومتی اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی حکومت سے مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ سیاحت اور عام زندگی متاثر نہ ہو۔ -

آئینی ترمیم پر مولانا فضل الرحمان کی حمایت حاصل : پارلیمان کو مستحکم کرنا ضروری ہے، بیرسٹر گوہر
اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے دو اراکین قومی اسمبلی اس وقت پی ٹی آئی سے رابطے میں نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ اعتراف ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں گفتگو کے دوران کیا، جس میں انہوں نے پارٹی کے اندرونی مسائل، موجودہ سیاسی حالات اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے بیان پر روشنی ڈالی۔بیرسٹر گوہر نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کسی بھی صوبے پر چڑھائی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور ہمیشہ پرامن رہے ہیں اور ان کا بیان پارٹی کے لیے کسی زحمت کا باعث نہیں بنا۔ انہوں نے مزید کہا کہ علی امین آئندہ بھی پارٹی کے پرامن جلسوں میں شرکت کرتے رہیں گے۔بیرسٹر گوہر نے اس حوالے سے اپنی علی امین سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرامن طور پر عوام کے ساتھ آئے تھے اور ان کی نیت پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔ "لاہور میں چھ بجے کے بعد پولیس نے جلسہ ختم کرنے کے لیے اسٹیج پر قدم رکھا کیونکہ احتجاج کا وقت ختم ہو چکا تھا”، انہوں نے وضاحت کی۔اپنی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی کی چیئرمین شپ ان کے پاس بانی پی ٹی آئی کی امانت ہے اور وہ اس ذمہ داری کو بخوبی نبھا رہے ہیں۔ انٹراپارٹی الیکشن کا معاملہ اس وقت الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے اور اس کی سماعت 2 اکتوبر کو ہو گی۔ بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ انٹراپارٹی الیکشن کیس کی وجہ سے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، لیکن انہوں نے پارٹی کے اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا۔
بشریٰ بی بی کے حوالے سے کیے گئے سوالات پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کا توشہ خانہ کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر قیاس آرائیوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کو بلاوجہ اس کیس میں ملوث کیا جا رہا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آئینی ترمیم کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں اور اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کے آئین کو مضبوط کرنے کے لیے پارلیمان کو مزید مستحکم کرنا چاہیے۔ "آئین کو توڑنے سے روکنے کے لیے ہم سب کو متحد ہونا ہو گا”، انہوں نے کہا۔ بیرسٹر گوہر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ کسی بھی ایسی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کا حصہ بنیں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہو گی۔عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے غزہ کی تباہ کن حالت کا ذکر کیا اور اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو میں دو دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں ہونے والی تباہی اس قدر شدید ہے کہ وہاں سے ملبہ ہٹانے اور بحالی کا عمل ایک طویل اور مشکل مرحلہ ثابت ہو گا۔بیرسٹر گوہر نے اپنی پارٹی کی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے بنیادی نظریات پر قائم ہے اور ملک کے آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ ملک کے مفادات کو ترجیح دی ہے اور آئندہ بھی یہی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
-

چاولوں میں خطرناک زرعی ادویات کی ملاوٹ: پاکستان کی معیشت کے لیے نیا بحران
پاکستان میں گندم کی امپورٹ کے بعد اب چاول کی ایکسپورٹ کا اسکینڈل بھی منظر عام پر آ گیا ہے، جس کے باعث ملکی معیشت کو ایک اور دھچکا لگا ہے۔ ذرائع کے مطابق، رواں سال یورپ میں ایکسپورٹ کیے گئے چاولوں کی بڑی کھیپ پر اعتراضات عائد کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں 120 ارب روپے سے زائد کی چاول کی کھیپ واپس ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔یہ معاملہ جنوری سے جون 2024 تک ایکسپورٹ کیے گئے 45 اقسام کے چاولوں کا ہے، جن میں خطرناک زرعی ادویات کی آمیزش پائی گئی ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے کیونکہ پاکستان کو نان جی ایم او (غیر جینیاتی طور پر تبدیل شدہ) ملک مانا جاتا ہے۔ لیکن یہ سوال اٹھتا ہے کہ چاولوں میں جی ایم او (جینیاتی طور پر تبدیل شدہ) کی ملاوٹ کہاں سے ہوئی؟ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ یورپی یونین کے وزیر اقتصادیات نے پاکستانی حکام کو اس معاملے پر اعتراضات سے بھرپور متعدد خطوط ارسال کیے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یورپ میں پاکستانی چاولوں کی ایکسپورٹ پر پابندی لگنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے، وزیراعظم نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمیٹی سابق سیکرٹری داخلہ شاہ خان کی سربراہی میں تحقیقات کرے گی۔ کمیٹی نے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کراچی سے گزشتہ پانچ سال کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے تاکہ اس معاملے کی حقیقت جان سکیں۔تحقیقات میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا چاولوں کی کاشت کے دوران خطرناک زرعی ادویات کا تجربہ کیا گیا؟ مزید یہ کہ کیا چاولوں کو جاذب نظر بنانے کے لیے خطرناک زرعی ادویات کا سپرے کیا گیا؟ اس کے علاوہ، محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کراچی نے چیک کیے بغیر چاول کی ایکسپورٹ کی اجازت کیوں دی؟
تحقیقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام بھی شامل ہوں گے تاکہ اس بات کی مکمل تصدیق کی جا سکے کہ یہ اسکینڈل کس طرح سامنے آیا اور اس کے پس پردہ عوامل کیا ہیں۔
اگر یہ تحقیقات یہ ثابت کرتی ہیں کہ چاولوں میں خطرناک زرعی ادویات کی ملاوٹ کی گئی ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف پاکستانی چاولوں کی یورپ میں ایکسپورٹ پر پابندی لگ سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ معاملہ پاکستانی حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس کی درست جانچ پڑتال کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔ عوام اور کسانوں کی حفاظت کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ یہ تحقیقات جلد مکمل ہوں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔یہ چاول ایکسپورٹ اسکینڈل پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نئے امتحان کی مانند ہے، اور اس کے اثرات عوام، کسانوں، اور ملکی تجارت پر نمایاں ہوسکتے ہیں۔ وزیر اعظم اور متعلقہ اداروں کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا یہ صورتحال کنٹرول میں ہے یا ملک کو ایک اور بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔