Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • 30 ستمبر تاریخ کے آئینے میں ایک اہم دن کی حیثیت رکھتا ہے۔

    30 ستمبر تاریخ کے آئینے میں ایک اہم دن کی حیثیت رکھتا ہے۔

    تحقیق : آغا نیاز مگسی
    1452ء دنیا کی پہلی کتاب مشین کے ذریعے چھاپی گئی۔ یہ کتاب یوحنا گٹنبرگ کی بائبل کے نام سے مشہور ہے۔

    1687ء مغل حکمراں اورنگ زیب نے حیدر آباد میں گولکنڈہ کا قلعہ فتح کیا۔

    1898ء امریکی شہر نیو یارک کا قیام عمل میں آیا۔

    1882ء دنیا کی پہلی تجارتی پن بجلی منصوبہ امریکہ کے فاکس دریا میں شروع کیا گیا۔

    1939ء جرمنی اور روس کے درمیان پولینڈ کی تقسیم پر مفاہمت ہوئی۔

    1940ء دوسری عالمی جنگ کے دوران انگلینڈ نے 47 جرمن لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔

    1941ء یوکرین میں کیف کے نزدیک 3721 یہودیوں کو زندہ دفن کر دیا گیا۔

    1946ء نیو رمبرگ میں چلائے گئے مقدمے میں 22 نازی لیڈر قصور وار پائے گئے۔

    1947ء پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی رکنیت اختیار کی۔

    1951ء مشرقی اور مغربی پاکستان کے لئے نیا معیاری وقت نافذ العمل ہوا۔

    1955ء پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے تین ہفتے کی بحث کے بعد ون یونٹ کے مسودہ کی منظوری دیدی۔

    1958ء روس نے نووایا جیملیا میں نیو کلیائی تجربہ کیا۔

    1965ء انڈونیشیا میں جنرل سہارتو نے بغاوت کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

    1966ء بوتسوانہ کو برطانیہ سے آزادی ملی۔

    1967ء بی بی سی ریڈیو کا آغاز ہوا۔

    1975ء میں پاکستان کے محکمہ ڈاک نے تحفظ جنگلی حیات کے عنوان سے ڈاک ٹکٹوں کی ایک نئی سیریز کا آغاز کیا ۔ اس سیریز کے پہلے دو ڈاک ٹکٹ 30 ستمبر 1975ء کو جاری ہوئے جن پر سیاہ تیتر Black Partridge کی تصاویر بنی تھیں۔ 20پیسے اور سوا دو روپے مالیت کے ان دو یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر عادل صلاح الدین نے تیا رکیا تھا۔ ان ڈاک ٹکٹوں پر “Protect Wild Life”اور”Black Partridge”کے الفاظ طبع کیے گئے تھے۔
    1980ء ایران نے عراقی صدر صدام حسین کی مصالحت کی پیشکش مسترد کر دی۔

    1981ء بھارتی جہاز کے اغوا کاروں کے خلاف کمانڈو ایکشن ہوا پینتالیس مسافر بازیاب، پانچ ہائی جیکر گرفتار کر لئے گئے۔

    1986ء امریکہ نے نیوادا میں نیوکلیائی تجربہ کیا۔

    1988ء۔۔سانحہ حیدرآباد۔صرف 15 منٹ میں 300 افراد شہید اور اتنے ہی زخمی۔

    1988ء اسرائیل نے پاؤنڈ کی جگہ شوکیل کو اپنی کرنسی بنائی۔

    1993ء مہاراشٹر میں 4ء6 کی شدت والا زلزلہ آیا جس میں 28 ہزار سے زائد افراد مارے گئے۔

    30ستمبر1993ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے سات روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ جس کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر عادل صلاح الدین نے تیا رکیا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر صنوبر کے درخت کی تصویر طبع کی گئی تھی اورانگریزی میں SAVE JUNIPER FORESTS AT ZIARAT کے الفاظ طبع کیے گئے تھے۔

    2004ء روس نے کوٹو معاہدہ منظور کیا جس سے موسم تبدیلی معاہدے کے لاگو ہونے کا راستہ صاف ہوا۔

    30ستمبر 2011ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے کراچی جم خانہ کے قیام کی ایک سو پچیسویں سالگرہ کے موقع پر آٹھ آٹھ روپے مالیت کے چار ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔ ان ڈاک ٹکٹوں پر کراچی جم خانہ کی عمارت کی چار مختلف تصاویربنی تھیںاور انگریزی میں 125TH FOUNDER’S DAY CELEBERATION OF KARACHI GYMKHANA کے الفاظ تحریر تھے۔ ان ڈاک ٹکٹوں کا ڈیزائن فیضی امیر صدیقی نے تیار کیا تھا۔

    30 ستمبر 2016 کو رائے ونڈ اڈا پلاٹ پہ تحریک انصاف کا پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے تاریخی جلسہ۔

    تعطیلات و تہوار:

    مسیحی یوم ضیافت جیروم
    عالمی یوم ترجمہ، مترجمین کی عالمی فیڈریشن
    یوم آزادی، بوٹسوانا

  • ملک میں سیمنٹ کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ

    ملک میں سیمنٹ کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ

    اسلام آباد: 26 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران، ملک بھر میں سیمنٹ کی ریٹیل قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق، شمالی شہروں میں سیمنٹ کی فی بوری کی اوسط قیمت 1497 روپے ریکارڈ کی گئی، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 0.74 فیصد کی کمی ہے، جب کہ پچھلے ہفتے یہ قیمت 1508 روپے تھی۔اسی طرح، جنوبی شہروں میں بھی سیمنٹ کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں اوسط ریٹیل قیمت 1392 روپے رہی، جو کہ پچھلے ہفتے کی 1393 روپے کے مقابلے میں 0.12 فیصد کم ہے۔
    پچھلے ہفتے کے دوران مختلف شہروں میں سیمنٹ کی قیمتوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
    اسلام آباد: 1459 روپے
    راولپنڈی: 1449 روپے
    گوجرانوالہ: 1500 روپے
    سیالکوٹ: 1500 روپے
    لاہور: 1533 روپے
    فیصل آباد: 1510 روپے
    سرگودھا: 1503 روپے
    ملتان: 1503 روپے
    بہاولپور: 1500 روپے
    پشاور: 1543 روپے
    بنوں: 1470 روپے

    جنوبی شہر:
    کراچی: 1340 روپے
    حیدرآباد: 1333 روپے
    سکھر: 1450 روپے
    لاڑکانہ: 1400 روپے
    کوئٹہ: 1430 روپے
    خضدار: 1393 روپے

    سیمنٹ کی قیمتوں میں کمی کی وجوہات
    سیمنٹ کی قیمتوں میں یہ معمولی کمی مختلف عوامل کی وجہ سے ہوسکتی ہے، جن میں مقامی طلب اور رسد کے عوامل، بین الاقوامی مارکیٹ کی تبدیلیاں، اور مقامی تعمیراتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو یہ تعمیراتی منصوبوں کی لاگت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے۔اس ہفتے کی رپورٹ میں سیمنٹ کی قیمتوں میں کمی کی خبر ملک کے تعمیراتی شعبے کے لیے خوش آئند ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ رجحان مستقبل میں بھی جاری رہے گا یا نہیں، اور یہ تبدیلیاں تعمیراتی منصوبوں پر کس طرح اثر انداز ہوں گی۔

  • قومی کرکٹرز کی فٹنس بحران کا شکار، 8 کھلاڑی فٹنس ٹیسٹ میں ناکام

    قومی کرکٹرز کی فٹنس بحران کا شکار، 8 کھلاڑی فٹنس ٹیسٹ میں ناکام

    پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فٹنس ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے، اور اس بحران کی شدت اس وقت واضح ہو گئی جب قومی کرکٹ ٹیم کے 12 میں سے 8 کھلاڑی اپنے فٹنس ٹیسٹ میں ناکام ہو گئے۔ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں لیے گئے فٹنس ٹیسٹ میں جن کھلاڑیوں کا امتحان ہوا، ان میں کئی سینئر کھلاڑی شامل تھے، جو پاکستان کرکٹ کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ آج ہونے والے فٹنس ٹیسٹ میں سعود شکیل، محمد رضوان، امام الحق، میر حمزہ، نعمان علی سمیت دیگر اہم کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ تاہم، تمام کھلاڑی دوسری مرتبہ فٹنس ٹیسٹ میں شرکت کے باوجود مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔ فٹنس ٹیسٹ کے معیار کے مطابق کھلاڑیوں کو 2 کلومیٹر کا فاصلہ 8 منٹ میں طے کرنا تھا، لیکن یہ ہدف حاصل کرنے میں ناکامی نے کرکٹ ٹیم کی فٹنس کے معیار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔یہ امر قابلِ غور ہے کہ کھلاڑیوں کا سنٹرل کنٹریکٹ بھی اسی فٹنس ٹیسٹ کی ناکامی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تمام کھلاڑیوں کے لیے کم از کم 80 فیصد کا فٹنس ہدف مقرر کیا تھا، جس میں آج کے فٹنس ٹیسٹ میں شامل کوئی بھی کھلاڑی کامیاب نہ ہو سکا۔

    فٹنس ٹیسٹ میں ناکامی کی اہم وجوہات میں کھلاڑیوں کا تربیتی عمل میں نرمی برتنا اور غیر تسلسل کے ساتھ فٹنس ٹریننگ شامل ہیں۔ پی سی بی کے عہدیداران کے مطابق، کھلاڑیوں کو سخت محنت کے ساتھ دوبارہ اپنی فٹنس پر کام کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ مستقبل کے اہم ایونٹس میں قومی ٹیم اپنی بہترین کارکردگی دکھا سکے۔
    مزید یہ کہ چیمپئینز کپ کا فائنل کھیلنے والے چار سے پانچ کھلاڑیوں کا فٹنس ٹیسٹ رواں ہفتے لیا جانے کا امکان ہے، جس کے بعد سنٹرل کنٹریکٹ کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ فائنل کھیلنے والے ان کھلاڑیوں کو چند دن کا آرام دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے فٹنس ٹیسٹ کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکیں۔پی سی بی اور کوچنگ عملے کی جانب سے فٹنس کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی کیمپ کا انعقاد بھی متوقع ہے، جہاں کھلاڑیوں کو فٹنس کے جدید تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کی جائے گی۔ ٹریننگ کے دوران نہ صرف کھلاڑیوں کی جسمانی فٹنس پر کام کیا جائے گا بلکہ ان کی ذہنی تربیت اور ڈائٹ پلان بھی تشکیل دیے جائیں گے تاکہ آئندہ کے لیے وہ اپنی فٹنس کے مسائل کو حل کر سکیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم کی فٹنس کی صورتحال نے شائقین اور ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ عالمی کرکٹ میں کامیابی کے لیے فٹنس ایک بنیادی عنصر ہے، اور موجودہ صورتحال میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

    پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

    اسلام آباد: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت عوام کو معمولی مگر اہم ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ نئے نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 7 پیسے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 247 روپے 3 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ قبل ازیں پیٹرول کی قیمت 249 روپے 10 پیسے تھی۔ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی کی گئی ہے، جس کے تحت ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 40 پیسے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں نئی قیمت 246 روپے 29 پیسے ہو گئی ہے، جو پہلے 249 روپے 15 پیسے تھی۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 1 روپے 3 پیسے کم ہو کر 140 روپے 90 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے، جو پہلے 141.93 روپے فی لیٹر تھی۔

    مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 3 روپے 57 پیسے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 154.90 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جو پہلے 158.47 روپے فی لیٹر تھی۔
    حکومت کی جانب سے یکم جون سے یکم اکتوبر تک پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 21.23 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 18.67 روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے، جو کہ عوام کے لیے ایک مثبت اقدام ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود 15 ستمبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا تھا، جس نے عوام کی مشکلات کو کم کرنے میں مدد فراہم کی۔ستمبر میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کے باوجود حالیہ دنوں میں اڑھائی ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں قیمت 72 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ ستمبر میں تیل کی قیمتوں میں 7 روپے کی کمی کی وجہ سے حکومت نے 15 ستمبر کو پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر کی کمی کا اعلان کیا تھا۔یہ اقدامات حکومت کی جانب سے عوام کی معاشی مشکلات کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، اور ان قیمتوں میں کمی کا اثر براہ راست عوام کی زندگیوں پر پڑے گا۔

  • وفاقی حکومت کی جانب سے معاشی شرح نمو کے نظر ثانی شدہ اعداد و شمار جاری

    وفاقی حکومت کی جانب سے معاشی شرح نمو کے نظر ثانی شدہ اعداد و شمار جاری

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2023-24 کے لیے نظر ثانی شدہ معاشی شرح نمو کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جس کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی (مجموعی قومی پیداوار) میں اضافہ ہوا ہے۔ وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جی ڈی پی کی شرح 2.38 فیصد سے بڑھ کر 2.52 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک کی معیشت کے مختلف شعبوں کی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں اور معیشتی ترقی کے لیے امید کی کرن فراہم کرتے ہیں۔زرعی شعبے کی مجموعی پیداوار میں بھی مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جو 6.36 فیصد رہی، جبکہ تمام فصلوں کی پیداوار میں 10.28 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے زرعی اصلاحات اور جدید طریقوں کے نفاذ کے نتیجے میں زراعت کے شعبے میں ترقی ہو رہی ہے۔

    صنعتی شعبے کی صورتحال میں کچھ چیلنجز موجود ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں صنعتی شعبے کی پیداوار منفی 1.15 فیصد رہی۔ اس کے باوجود، مینوفیکچرنگ کے شعبے کی پیداوار میں 3.13 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس نے ایک بہتر تصویر پیش کی ہے۔ اسی طرح، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بھی 1.08 فیصد کا اضافہ ہوا، جبکہ خدمات کے شعبے کی پیداوار 2.15 فیصد رہی۔وزارت منصوبہ بندی نے مزید بتایا کہ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں جی ڈی پی کے نظر ثانی شدہ اعداد و شمار کی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار حکومت کی معیشتی پالیسیوں کے اثرات اور ملک کی معاشی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ حکومت نے یہ بات واضح کی ہے کہ زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ صنعتی شعبے میں کمی کے باوجود حکومت نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگرچہ ملک کو کچھ معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، مگر معیشت کے بعض شعبے مستحکم ہیں اور ترقی کی جانب گامزن ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار ملکی معیشت کے لیے خوشخبری کی حیثیت رکھتے ہیں، اور امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے مالی سالوں میں معیشت مزید مستحکم ہو گی۔

  • ایف بی آر نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کی خبروں کی تردید کر دی

    ایف بی آر نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کی خبروں کی تردید کر دی

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ ایف بی آر کے اعلامیے کے مطابق مالی سال 2024 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں کوئی توسیع نہیں کی جا رہی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کو جرمانوں اور قانونی کارروائیوں سے بچنے کے لیے فوری طور پر اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ ایف بی آر نے خبردار کیا ہے کہ تاریخ میں توسیع سے متعلق پھیلائی جانے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، لہٰذا ٹیکس دہندگان کو دی گئی حتمی تاریخ تک اپنے واجبات پورے کرنے کی ضرورت ہے۔یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب بعض حلقوں کی جانب سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ممکنہ توسیع کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔

  • ایران کے خفیہ ادارے کا سربراہ موساد کا ایجنٹ نکلا: احمدی نژاد کا تہلکہ خیز انکشاف

    ایران کے خفیہ ادارے کا سربراہ موساد کا ایجنٹ نکلا: احمدی نژاد کا تہلکہ خیز انکشاف

    تہران: ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے ایک اہم اور تشویشناک انکشاف کیا ہے جس نے ایرانی خفیہ اداروں کی صلاحیتوں اور ان کی فعالیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں احمدی نژاد نے انکشاف کیا کہ ایرانی سیکریٹ سروس نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس کو نشانہ بنانے کے لیے جو خصوصی یونٹ قائم کیا تھا، اس یونٹ کا سربراہ ہی موساد کا ایجنٹ تھا۔ یہ انکشاف نہ صرف ایران کی سکیورٹی سروسز کے لیے ایک دھچکہ ہے بلکہ اس سے خطے میں اسرائیل کی خفیہ کارروائیوں کی وسعت اور ان کے ایران پر اثرات بھی نمایاں ہوتے ہیں۔محمود احمدی نژاد کے مطابق ایرانی خفیہ ادارے نے موساد کے ایجنٹس کا قلع قمع کرنے کے لیے خصوصی یونٹ قائم کیا تھا جس کا مقصد اسرائیلی ایجنسی کی سرگرمیوں کا سدباب کرنا تھا۔ اس یونٹ کی سربراہی جس شخص کو سونپی گئی، وہ نہ صرف موساد کا ایجنٹ تھا بلکہ اس کے تحت کام کرنے والے دیگر ایجنٹس بھی اسرائیلی ایجنسی کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ یہ موساد ایجنٹس 20 دیگر اسرائیلی ایجنٹس کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے اور انہیں ایرانی خفیہ اداروں کے اعلیٰ عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔یہ انکشاف اس وقت اور بھی سنجیدہ نوعیت اختیار کر جاتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ یہی یونٹ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق حساس دستاویزات چوری کرنے اور ایرانی جوہری سائنسدانوں کے قتل میں ملوث تھا۔ ایران کے کئی جوہری سائنسدان گزشتہ برسوں میں مختلف حملوں اور سازشوں کا نشانہ بنے، اور اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ان کارروائیوں کے پیچھے موساد کے ایجنٹس تھے، جنہوں نے ایرانی خفیہ سروس کے اندر سے اپنے مقاصد کو پورا کیا۔

    سابق صدر احمدی نژاد نے اس پورے معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی سلامتی اور خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص کو ایرانی سیکریٹ سروس نے اپنے ملک کی حفاظت کے لیے خصوصی طور پر تعینات کیا تھا، وہی شخص نہ صرف ایران کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا تھا بلکہ موساد کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری پروگرام کو بھی نشانہ بنا رہا تھا۔احمدی نژاد کے مطابق یہ واقعہ ایران کی تاریخ کے بدترین سیکیورٹی سکینڈلز میں سے ایک ہے۔ یہ انکشاف ظاہر کرتا ہے کہ موساد کس قدر گہرائی میں ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر چکا تھا۔ ایران کے اندرونی حلقے بھی اس معاملے پر حیران و پریشان ہیں اور یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیسے ایرانی خفیہ ایجنسیوں نے ایک ایسے شخص کو حساس عہدے پر تعینات کر دیا جو ملک کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہوا۔یہ انکشاف نہ صرف ایران کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک بڑے سکینڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کی سکیورٹی ایجنسیوں کی ساکھ اور ان کی صلاحیتیں اس وقت شدید دباؤ میں ہیں۔ ایرانی حکومت پر بھی اس معاملے کی مکمل تحقیقات اور جواب دہی کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔

    احمدی نژاد کے انکشافات نے موساد کی ایران کے اندر سرگرمیوں کے حوالے سے بھی ایک نیا پہلو پیش کیا ہے۔ موساد کی کامیابیاں اور ایرانی ایجنسیوں میں ان کی دراندازی کا یہ واقعہ خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ اب تک ایرانی حکومت کی جانب سے اس انکشاف پر کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا، تاہم اندرونی ذرائع کے مطابق ایرانی سکیورٹی ادارے اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس دوران ایران کے عوام اور بین الاقوامی برادری اس معاملے کی مکمل حقیقت اور اس کے اثرات جاننے کے منتظر ہیں۔یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور خطے میں جاری مختلف تنازعات کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان خفیہ جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔ ایران کے لیے یہ چیلنج نہ صرف سکیورٹی کے معاملے میں سنگین ہے بلکہ داخلی استحکام اور حکومتی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔محمود احمدی نژاد کے اس تہلکہ خیز انکشاف نے ایران کی سکیورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایران کی حکومت کو اس سکینڈل سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوگی تاکہ آئندہ اس قسم کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں اور ملک کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ موساد کے ایجنٹس کی ایرانی سکیورٹی اداروں میں دراندازی کا یہ واقعہ خطے میں مستقبل کے تعلقات اور خفیہ جنگوں پر گہرا اثر ڈالے گا۔

  • سپریم کورٹ میں آئندہ پیش رفت: نیا بینچ یا جسٹس منیب اختر کی شمولیت؟

    سپریم کورٹ میں آئندہ پیش رفت: نیا بینچ یا جسٹس منیب اختر کی شمولیت؟

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کے تحت جاری نظرثانی کیس کی سماعت سے متعلق ایک اہم تحریری حکم نامہ سامنے آیا ہے۔ حکم نامے میں رجسٹرار سپریم کورٹ کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ جسٹس منیب اختر کو اس کیس کی سماعت کے لیے بنائے گئے بینچ میں شمولیت کی درخواست کریں۔ اگر جسٹس منیب اختر انکار کریں تو ججز کمیٹی کا نیا جج اس بینچ میں شامل کیا جائے گا۔تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس منیب اختر آج کمرہ عدالت نمبر 3 میں بینچ کی سربراہی کر رہے تھے، اور وہ دیگر ججز کے ہمراہ ٹی روم میں بھی موجود تھے۔ اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ جسٹس منیب عدالت کی معمول کی کارروائی میں شریک ہیں، تاہم انہوں نے اس خاص کیس کی سماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ رجسٹرار جسٹس منیب اختر سے درخواست کریں گے کہ وہ بینچ میں شمولیت اختیار کریں اور اس کیس کی سماعت کا حصہ بنیں۔ اگر جسٹس منیب اختر بینچ کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہیں تو سپریم کورٹ کی ججز کمیٹی نیا جج بینچ میں شامل کرنے کا عمل شروع کرے گی۔
    حکم نامے میں جسٹس منیب اختر کی جانب سے رجسٹرار کو لکھا گیا ایک خط بھی شامل کیا گیا ہے، جسے باقاعدہ طور پر ریکارڈ پر رکھا گیا ہے۔ اس خط کے آخری الفاظ میں جسٹس منیب اختر نے واضح کیا کہ وہ اس کیس کی سماعت میں شامل نہیں ہو سکتے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی سماعت میں شرکت سے معذرت کو "Recusal” نہ سمجھا جائے، یعنی یہ ان کا رسمی انکار نہیں ہے بلکہ کچھ مخصوص وجوہات کی بناء پر وہ اس سماعت کا حصہ نہیں بن سکتے۔یہ مؤقف سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ میں یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا جسٹس منیب اختر کے اس انکار کے بعد وہ اس حکم نامے پر دستخط کریں گے یا نہیں۔ اگر وہ دستخط کرنے سے انکار کرتے ہیں تو اس کا کیا قانونی اور آئینی مفہوم ہوگا، یہ تاحال واضح نہیں ہو سکا ہے۔
    حکم نامے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اگر جسٹس منیب اختر بینچ کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہیں تو نیا بینچ تشکیل دیا جائے گا۔ اس بینچ کی تشکیل ججز کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی، جو سپریم کورٹ میں اہم معاملات کو حل کرنے کے لیے بینچ کی تشکیل کے عمل کا انتظام کرتی ہے۔حکم نامے پر چیف جسٹس اور چار دیگر ججوں کے دستخط کے لیے جگہ رکھی گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جسٹس منیب اختر کو بھی اس دستاویز میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ اگر جسٹس منیب اختر نے اس حکم نامے پر دستخط کرنے سے انکار کیا تو اس کے کیا اثرات ہوں گے۔یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالت کے اندرونی نظام میں ججز کے درمیان بعض اوقات سماعت میں شمولیت اور بینچ کی تشکیل کے حوالے سے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ جسٹس منیب اختر کا موقف ان پیچیدگیوں کی ایک مثال ہے، جس سے یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ ججز کے انفرادی فیصلے کس طرح عدالتی عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
    آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس، جو سیاسی طور پر اہمیت کا حامل ہے، میں جسٹس منیب اختر کی عدم شمولیت اور نئے بینچ کی تشکیل کے عمل کو بہت غور سے دیکھا جا رہا ہے، اور اس کے آئندہ دنوں میں سپریم کورٹ کی کارروائیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔اس حکم نامے کے بعد، آئندہ دنوں میں سپریم کورٹ میں اس حوالے سے کیا پیش رفت ہوگی، اور آیا جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہوں گے یا نیا بینچ تشکیل دیا جائے گا، یہ سب قانونی حلقوں اور میڈیا میں بحث کا موضوع بنے گا۔ یہ صورتحال ملک کے عدالتی نظام میں ججز کی انفرادی آزادی اور ان کی آئینی ذمہ داریوں کے درمیان توازن کی اہمیت کو بھی نمایاں کرتی ہے۔

  • مولانا فضل الرحمان اور عبدالغفور حیدری کو پی ٹی آئی چیئرمین کی مبارکباد

    مولانا فضل الرحمان اور عبدالغفور حیدری کو پی ٹی آئی چیئرمین کی مبارکباد

    اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے امیر مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور ملکی سیاسی صورتحال اور پارلیمانی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ٹیلیفونک گفتگو کے دوران، بیرسٹر گوہر خان نے مولانا فضل الرحمان کو جمعیت علماء اسلام کا پانچ سال کے لیے امیر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے جمعیت کے کردار کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی ملک میں جمہوری اقدار کو فروغ دینے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر پی ٹی آئی چیئرمین نے مولانا عبدالغفور حیدری کو بھی جے یو آئی کے سیکریٹری جنرل منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے کامیابیوں کی دعا کی۔دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو میں ملک کے موجودہ سیاسی حالات، پارلیمانی مسائل، اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کا مطالبہ، تاجر تنظیموں کا دباؤ

    ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کا مطالبہ، تاجر تنظیموں کا دباؤ

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کی درخواست وزیر خزانہ کو ارسال کر دی ہے۔ یہ درخواست اس وقت آئی ہے جب آج انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ ہے، اور صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس (آئی سی سی آئی) احسن ظفر بختاوری نے مطالبہ کیا ہے کہ اس تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے۔ذرائع کے مطابق، ایف بی آر انکم ٹیکس ریٹرن کی تاریخ میں 15 روز کی توسیع کا امکان ظاہر کر رہا ہے۔ تاجر تنظیموں اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرانے کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ احسن بختاوری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کو گوشوارے جمع کرانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے سسٹم کو اپ گریڈ کرے اور گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کرے تاکہ ٹیکس دہندگان کو مزید سہولت فراہم کی جا سکے۔
    ظفر بختاوری نے مزید کہا کہ اس سال اب تک تاریخ میں سب سے زیادہ ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے ہیں، اور ان کی امید ہے کہ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے طریقہ کار کو مزید آسان بنایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، گوشوارے جمع کرانے کے دوران سسٹم پر بہت بوجھ ہے، اور 28 ستمبر تک 29 لاکھ گوشوارے جمع ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ سال اس تاریخ تک 14 لاکھ گوشوارے جمع کرائے گئے تھے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکس دہندگان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ روز وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ رواں سال فائلرز کی تعداد دوگنا ہو کر 32 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ گزشتہ سال 3 لاکھ نئے فائلرز تھے، جبکہ رواں سال یہ تعداد 7 لاکھ 23 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
    وزیر خزانہ نے نان فائلرز کے حوالے سے بھی کہا کہ وہ گاڑیاں اور پراپرٹی خریدنے کی اہل نہیں ہوں گے اور انڈر فائلنگ سے متعلق بھی فیصلہ کیا جائے گا۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس نظام کو بہتر بنانا اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ملک کی معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔اس صورتحال میں، ٹیکس دہندگان کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایف بی آر کی جانب سے اگر 15 روز کی توسیع کی جاتی ہے تو یہ ٹیکس دہندگان کے لئے ایک بڑی سہولت ہوگی، جس سے انہیں اپنے گوشوارے بروقت جمع کرانے کا موقع ملے گا۔ تاجر برادری اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے کی جانے والی کوششیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ٹیکس جمع کرنے کے عمل کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ ٹیکس دہندگان کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔