سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے حکومت پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کو تھانہ یا سبزی منڈی بنانا چاہتی ہے۔ ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کی آئینی ترامیم اور سپریم کورٹ کے کردار پر شدید تنقید کی۔سینیٹر کھوکھر، جو خود بھی وکیل ہیں، نے کہا، "پہلے میں وکیل ہوں، بعد میں سیاست دان ہوں۔ مجھے حکومت کے کردار پر سو فیصد شک ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پیش کی گئی آئینی ترامیم سپریم کورٹ کی حیثیت کو کمزور کرنے کے لیے ہیں، جس سے ملک کا پورا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔
مصطفی نواز کھوکھر نے مزید کہا، "تمام وکلا اس ترمیم کو قبول نہیں کریں گے، اور سب احتجاج کریں گے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں پیچھے سے آرڈر موصول ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت یہ ترامیم منظور کروانا چاہتی ہے، حالانکہ خود وزیر اعظم بھی اس ترمیم پر خوش نہیں ہیں۔سینیٹر کھوکھر نے وزیر اعظم کی کارکردگی پر بھی تنقید کی، کہ ان کی جانب سے کسی بھی معاملے میں سنجیدگی دکھائی نہیں جا رہی۔ "جو پرچی آتی ہے، بس اس پر عمل کرتے ہیں” انہوں نے کہا۔یہ بیان ایسے وقت پر آیا ہے جب حکومت نے سپریم کورٹ کے اختیارات میں تبدیلی کے لیے متنازعہ آئینی ترامیم کا اعلان کیا ہے، جس پر وکلاء برادری اور مختلف سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا حکومت پر الزام: سپریم کورٹ کو تھانہ یا سبزی منڈی بنانے کی سازش
-

فیصل واوڈا کی وزیراعلیٰ کے پی اور افغان قونصلیٹ کی قومی ترانے کی خلاف ورزی پر سخت الفاظ میں مذمت
سینیٹر فیصل واوڈا نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اقتدار کے لیے ملک کو سرعام بے عزت کرا رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اقتدار کے لیے ملک توڑنے کی راہ پر گامزن ہے۔فیصل واوڈا نے پشاور میں افغان قونصلیٹ کی جانب سے سفارتی آداب کی خلاف ورزی اور قومی ترانے کے احترام میں کھڑے نہ ہونے پر نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک اس واقعے پر کوئی مذمتی بیان، ایکشن، ڈیمارش یا کوئی اور کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نالائق، نااہل، نکمی اور بزدل ہے، اور وہ ٹک ٹاک کے انداز میں کام کر رہی ہے۔
پشاور میں افغان قونصلیٹ کی جانب سے رحمت اللعالمین کانفرنس کے دوران سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی تھی، جس میں افغان قونصل جنرل محب اللہ شاکر نے قومی ترانے کے دوران کھڑے ہونے سے انکار کیا تھا۔ اس واقعے پر سرکاری ذرائع نے ردعمل میں کہا کہ افغان قونصل جنرل کا یہ عمل پاکستان اور پاکستانی قوم کی بے عزتی ہے۔سفارتی آداب سے واقف ماہرین کے مطابق، افغان قونصل جنرل محب اللہ شاکر کو ناپسندیدہ شخص قرار دے کر پاکستان سے واپس بھیجا جانا چاہیے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر بھی سوال اٹھایا کہ کیا انہیں پاکستان کی عزت اور سفارتی آداب کا کوئی خیال نہیں ہے؟اس واقعے نے پاکستان اور افغانستان کے مابین سفارتی تعلقات کو مزید تناؤ میں ڈال دیا ہے اور اس نے خیبرپختونخوا حکومت کی سفارتی مہارت اور ملکی وقار کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ -

پی ٹی آئی نے آئینی ترامیم پر کوئی رضا مندی ظاہر نہیں کی،بیرسٹر گوہر
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی۔ خواجہ آصف نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے مجوزہ آئینی ترامیم کا مسودہ اب کسی راز سے کم نہیں ہے، کیونکہ یہ ہر لیڈر کے پاس پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کو ترامیم پر کوئی اعتراض نہیں، اور ان کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ صرف یہ درخواست کی گئی ہے کہ ترامیم کو دسمبر تک روکا جائے۔اس بیان کے ردعمل میں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خواجہ آصف پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی گفتگو ان کے ساتھ ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نے نہ تو آئینی ترمیم سے متعلق رضا مندی ظاہر کی ہے اور نہ ہی دسمبر تک کسی خاص فیصلے کی بات کی ہے۔بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے حکومت سے آئینی ترمیم کا ڈرافٹ یا ورکنگ پیپر طلب کیا ہے تاکہ مکمل تفصیلات سامنے آ سکیں۔ انہوں نے تنقید کی کہ جب تک حکومت ترمیم کا مسودہ یا تجویز فراہم نہیں کرتی، پی ٹی آئی کی رضا مندی کی بات کرنا درست نہیں ہے۔یہ بیان ان سیاستی پیچیدگیوں کا عکاس ہے جو آئینی ترامیم کے حوالے سے جاری ہیں، اور یہ بات واضح کرتی ہے کہ پی ٹی آئی کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
-

ایران میں بس کے حادثے میں 10 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
تہران: ایران میں ایک افسوسناک بس حادثے نے کم از کم 10 افراد کی جان لے لی اور درجنوں کو زخمی کر دیا۔ یہ حادثہ جنوب مغربی ایران کے بوشہر اور شمال مشرق میں واقع مشہد شہر کے درمیان سفر کرتے ہوئے پیش آیا، جب بس الٹ گئی۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق، حادثے میں 10 افراد ہلاک اور 41 زخمی ہوئے ہیں، تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں کہ بس میں کل کتنے افراد سوار تھے۔ مقامی میڈیا کے مطابق، عدلیہ کی لیگل میڈیسن آرگنائزیشن نے بتایا ہے کہ ایران میں روڈ سیفٹی کا ریکارڈ کافی خراب ہے، جہاں سالانہ ہزاروں افراد سڑک کے حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق، سال کے دوران ایران میں سڑکوں پر ہونے والے حادثات میں 20 ہزار سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
گزشتہ ماہ، ایرانی شہر یزد میں پاکستانی زائرین کی بس ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس میں 28 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حادثے کے چند روز بعد، ایران میں پاکستانی زائرین کو لے جانے والی ایک اور بس ٹرک سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 48 زخمی ہو گئے تھے۔یہ حادثات ایران میں سڑکوں پر حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، جہاں سڑک کے حالات اور گاڑیوں کی حالت اکثر اوقات انتہائی بدتر ہوتی ہے، اور روڈ سیفٹی کے معیار پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ -

بیروت : ایران کے سفیر مجتبیٰ عمانی اسرائیلی پیجر دھماکوں میں زخمی، لبنان میں خون کے عطیات کی اپیل
بیروت: اسرائیل میں ہونے والے پیجر ڈیوائسز کے دھماکوں میں ایرانی سفیر مجتبیٰ عمانی بھی زخمی ہو گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، عمانی دھماکوں کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق، لبنانی وزارت صحت نے زخمیوں کے علاج کے لیے عوام سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کی ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ خون کی کمی کی وجہ سے زخمیوں کے علاج میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور ہر شہری کی مدد اس وقت انتہائی ضروری ہے۔اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر نے دھماکوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے ممکنہ طور پر اسرائیل کی طرف سے کی گئی کارروائی ہو سکتی ہیں۔ اس بیان نے علاقے میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی گہرائی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔یہ دھماکے لبنان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے سب سے سنگین واقعات میں سے ایک ہیں، اور اس نے لبنان کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مقامی حکومتوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالتے ہیں اور متاثرین کی مدد کس طرح کی جاتی ہے۔
اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک بڑا حملہ کیا ہے، جس میں حزب اللہ کے سیکڑوں ارکان زخمی ہوگئے ہیں۔ مقامی سیکیورٹی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بیروت میں پیجر ڈیوائسز میں دھماکوں کی وجہ سے حزب اللہ کے جنگجو شدید زخمی ہوئے ہیں۔حزب اللہ حکام نے دھماکوں کو سیکیورٹی کی بڑی خلاف ورزی قرار دیا ہے، اور اس حملے کو اپنی تنظیم کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان دھماکوں میں ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں حزب اللہ کے کارکنان بھی شامل ہیں۔عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اسپتالوں میں زخمیوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے جگہ کی کمی ہو گئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں فوری طور پر مدد فراہم کرنا مشکل ہو رہا ہے، اور انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ پر ایک نیا اور مؤثر طریقہ کار ہے، جو کہ ان کے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ -

آزاد کشمیر یونیورسٹی میں نئے ڈریس کوڈ کا نفاذ، طلبہ پر پابندیاں
آزاد کشمیر یونیورسٹی نے اپنی انتظامیہ کی جانب سے ایک تازہ ترین نوٹیفکیشن کے ذریعے یونیورسٹی کے ڈریس کوڈ میں تبدیلیاں کر دی ہیں۔ اس فیصلے کے تحت یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات پر شرٹ اور جینز پہننے کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ لڑکوں کے لیے ڈریس شرٹ اور پینٹ پہننا ضروری ہوگا، جبکہ لڑکیوں کو باحیا کپڑے پہننے کی ہدایت دی گئی ہے اور دوپٹا لینا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ڈسپلن برقرار رکھنے اور یونیورسٹی کی اقدار کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔
یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ جو طلبہ اس نئے ڈریس کوڈ پر عمل نہیں کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ یہ اقدام طلبہ کی بہتر تربیت اور تعلیمی ماحول کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس نئے ڈریس کوڈ کے نفاذ کے بعد یونیورسٹی میں سیکیورٹی اور انتظامی عملے کو اضافی ذمہ داریوں کا سامنا ہوگا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام طلبہ و طالبات اس نئے ضابطے کی پابندی کریں۔ -

پاکستان کی مجوزہ آئینی ترامیم میں شامل آئینی عدالت: عالمی تجربات اور تقرری کے طریقے
پاکستان میں مجوزہ آئینی ترامیم میں آئینی عدالت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جو دنیا کے 85 ممالک میں موجود ہے۔ ان ممالک میں جرمنی، روس، بیلجیئم، لگزمبرگ، ترکی، مصر، جنوبی افریقہ، پرتگال، اسپین اور آسٹریا شامل ہیں۔یورپی تھینک ٹینک، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی کے مطابق، دنیا کی پہلی آئینی عدالت 1919ء میں آسٹریا میں قائم کی گئی تھی۔ یہ عدالتیں آئین کی تشریح اور اس کی خلاف ورزیوں کے مقدمات کی سماعت کرتی ہیں، اور اس طرح وہ ملک میں قانونی اور سیاسی استحکام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔آئینی ججز کی تقرری ایک پیچیدہ اور حساس عمل ہے۔ مختلف ممالک میں اس کے لیے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی فرد یا گروپ آئین کی تشریح پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کرے، کیونکہ آئین کی تشریح اکثر ملک کی سیاسی استحکام سے جڑی ہوتی ہے۔
کچھ ممالک میں، آئینی ججز کی تقرری کے لیے حکومت اور قانون ساز ادارے مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ طریقہ کار دونوں اداروں کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ دیگر ممالک میں صرف قانون ساز ادارہ آئینی ججز کی تقرری کرتا ہے۔ اس میں عام طور پر پارلیمنٹ یا قومی اسمبلی شامل ہوتی ہے، جو امیدواروں کا انتخاب کرتی ہے۔ کچھ ممالک میں، عدلیہ، حکومت، اور پارلیمان مل کر آئینی ججز کی تقرری کرتے ہیں۔ اس سے مختلف اسٹیک ہولڈرز کی رائے شامل ہوتی ہے اور تقرری کے عمل کی شفافیت بڑھتی ہے۔ کچھ ممالک میں آئینی ججز کی تقرری کے لیے ایک خصوصی کمیشن بھی قائم کیا جاتا ہے جو امیدواروں کی اہلیت کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ کمیشن عام طور پر ماہرین پر مشتمل ہوتا ہے جو تقرری کے عمل کو منصفانہ اور شفاف بنانے میں مدد دیتا ہے۔
آئینی ججز کی تقرری عام ججز کی طرح مستقل نہیں ہوتی۔ ان ججز کو مقررہ مدت کے لیے تقرر کیا جاتا ہے، جو عام طور پر 3، 6، 9، یا 12 سال کے لیے ہو سکتی ہے۔ یہ مدت مختلف ممالک میں مختلف ہوتی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ججز کو مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے کام کو انجام دینے کا موقع ملے، جبکہ آئین کی تشریح میں کسی بھی قسم کی تعصب سے بچا جا سکے۔پاکستان میں آئینی عدالت کے قیام کی تجویز کے بعد، یہ جاننا ضروری ہے کہ عالمی تجربات سے سیکھ کر ملک میں ایک مضبوط اور مؤثر آئینی عدالت قائم کی جائے جو انصاف کی فراہمی اور آئین کی تشریح میں توازن برقرار رکھ سکے۔ -

احمد نواز کو برٹش ایمپائر میڈل کا اعلان: ایک دلخراش داستان اور خوشی کی خبر
پشاور، پاکستان: 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے میں احمد نواز اور ان کے بھائی حارث نواز کی کہانی آج بھی دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ اس حملے میں حارث نواز شہید ہو گئے تھے، جبکہ احمد نواز شدید زخمی ہوئے تھے۔ احمد نواز کی زندگی اور ان کے والدین کی جدوجہد کے بعد انہیں برطانوی شاہی ایوارڈ ملنے کی خبر نے ایک نئی روشنی کی کرن فراہم کی ہے۔احمد نواز نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ایک خوشخبری دی ہے: "میں انتہائی اعزاز کے ساتھ یہ ناقابل یقین خبر شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ HM کنگ چارلس III نے مجھے عزت دار برٹش ایمپائر میڈل (BEM) سے نوازا ہے۔ BEM برطانیہ میں دیے جانے والے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک ہے۔ یہ ایوارڈ میری بے پایاں عزم اور نوجوانوں کو عالمی سطح پر بااختیار بنانے کی خدمات کا اعتراف ہے۔ میرا عزم مزید مضبوط ہوا ہے اور میں مستقبل میں مزید نوجوانوں کو متاثر اور بااختیار بناتا رہوں گا۔”

دوسی جانب احمد نواز کے والد محمد نواز خان نے اس ایوارڈ کو اپنے خاندان، پاکستان اور خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے وعدہ کیا کہ احمد نواز اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور ان سب نوجوانوں کے لیے آواز اٹھائے گا جو اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔یہ ایوارڈ احمد نواز کی محنت، عزم اور ان کی کہانی کی علامت ہے، اور یہ پاکستان اور پوری دنیا کے نوجوانوں کے لیے ایک سبق آموز مثال قائم کرتا ہے۔
https://twitter.com/MuhammaddNawaz/status/1836003503791128766
احمد نواز نے سانحے کے متعلق اپنی یادداشتوں میں بتایا کہ واقعے سے ایک دن قبل، جب وہ اسکول سے گھر واپس آئے، انہیں اپنے گاؤں میں ایک قریبی رشتہ دار کے انتقال کی خبر ملی۔ اس کے بعد، ان کے والدین اور چھوٹے بھائی عمر نواز وہاں چلے گئے۔ رات تقریباً ایک بجے واپس آنے پر احمد نواز کے والد نے دیکھا کہ حارث جاگ رہا تھا۔ حارث نے بتایا کہ چونکہ والدہ گھر نہیں ہیں، اس لیے وہ اگلے دن اسکول جانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس بات پر ان کے والد نے اسے فوراً سونے کا کہا تاکہ اگلے دن جلدی اٹھ سکے۔ حارث کی جدوجہد اور احمد نواز کی اس وقت کی حالت ایک دلخراش یادگار ہے۔احمد نواز کے زخمی ہونے اور ان کے بھائی کے شہید ہونے کے بعد، احمد نواز کے والد محمد نواز خان نے اسپتال میں موجود ڈاکٹر سے سنا کہ احمد نواز کی حالت بہت نازک ہے اور انہیں بیرون ملک علاج کی ضرورت ہے۔ تاہم، محمد نواز کے پاس وسائل کی کمی تھی، لیکن انہوں نے احمد کے علاج کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ ناکامی کا سامنا کرتے ہوئے، محمد نواز نے شدید احتجاج کا فیصلہ کیا کہ اگر ان کے بیٹے کو علاج کے لیے باہر نہیں بھیجا گیا تو وہ وزیراعظم ہاؤس کے سامنے احتجاج کریں گے۔محمد نواز خان کی اس فریاد پر پوری قوم اور عالمی برادری نے توجہ دی، اور وفاقی حکومت نے فوری طور پر عمل کیا۔ اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے احمد نواز کے علاج کے لیے دو لاکھ پاؤنڈ اسپتال میں جمع کروا دیے۔ احمد نواز کو آکسفورڈ یونین کا صدر بھی منتخب کیا گیا، جس پر انہیں وزیراعظم اور صدر کی طرف سے مبارکبادیں ملیں۔ -

بھارت نے ایشین ہاکی چیمپیئنز ٹرافی جیت لی، پاکستان تیسری پوزیشن پر
ایشین ہاکی چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے چین کو 0-1 سے شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کر لی۔ بھارتی ٹیم کی کامیابی کا واحد گول جوگراج سنگھ نے اسکور کیا، جس نے انڈین ٹیم کو ٹائٹل دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔فائنل میں بھارت اور چین کے درمیان ایک دلچسپ مقابلہ ہوا، جہاں بھارتی دفاعی حکمت عملی اور مضبوط گول کیپنگ نے چین کے حملوں کو ناکام بنا دیا۔ جوگراج سنگھ کی جانب سے کیا گیا واحد گول فیصلہ کن ثابت ہوا، اور بھارت نے ایشین ہاکی چیمپیئنز ٹرافی جیت کر اپنے ہاکی کی کامیابی کی روایت کو برقرار رکھا۔
دوسری جانب، پاکستان نے جنوبی کوریا کے خلاف تیسری پوزیشن کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انہیں 2-5 سے شکست دے دی۔ پاکستان کی جانب سے حنان شاہد اور سفیان خان نے 2،2 گول اسکور کر کے ٹیم کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ قومی ٹیم نے تیسرے کوارٹر میں 3 گول کیے اور چوتھے کوارٹر میں مزید 2 گول داغے، جس سے ان کی پوزیشن مضبوط ہوئی۔پاکستان کی ٹیم نے ایونٹ میں مجموعی طور پر 3 میچ جیتے، 2 میں شکست کا سامنا کیا، جبکہ 2 میچ برابر رہے۔ یہ کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی ہاکی ٹیم میں قابل کھلاڑیوں کی کمی نہیں، اور آئندہ بھی ان کی کامیابیاں جاری رہ سکتی ہیں۔ایشین ہاکی چیمپیئنز ٹرافی میں بھارت کی جیت اور پاکستان کی تیسری پوزیشن کی کامیابیاں ہاکی کے شائقین کے لئے خوشی کا باعث ہیں اور مستقبل کے ایونٹس کے لیے نئی امیدیں روشن کرتی ہیں۔
-

پی ٹی آئی چیرمین نے قومی اسمبلی میں نلسن منڈیلا کی طلاق پر غلط بیانی کی ہے، اکبر ایس بابر
اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خود ساختہ چیرمین کی جانب سے قومی اسمبلی میں نلسن منڈیلا کی رہائی اور ان کی بیوی ونی منڈیلا سے طلاق کے حوالے سے دی گئی حالیہ تقریر نے تاریخی حقائق کی مسخ شدگی کو اجاگر کیا ہے۔ ان کی تقریر میں کہا گیا کہ منڈیلا نے اپنی رہائی کے بعد ونی منڈیلا کو طلاق دی تاکہ وہ نسلی امتیاز کے خلاف اپنے مشن پر مکمل توجہ دے سکیں۔ تاہم، تاریخ اور نیلسن منڈیلا کے اپنے ریکارڈ شدہ بیانات اس دعوے کے برعکس ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی کلیو ووٹن کی اپریل 2018 کی رپورٹ کے مطابق، نیلسن منڈیلا نے 1990 کی رہائی کے دو سال بعد اپنی بیوی ونی منڈیلا سے طلاق اس لئے حاصل کی کیونکہ ان کی بیوی کا ANC کے ایک کارکن Dali Mpofu سے ناجائز تعلقات تھا۔ منڈیلا نے اس دور کو "تنہائی” کی حالت قرار دیا، جو کہ پی ٹی آئی کے چیرمین کے دعوے سے متضاد ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اگر منڈیلا کی طلاق کا مقصد اپنے مشن کی تکمیل ہوتا، جیسا کہ پی ٹی آئی کے چیرمین نے دعویٰ کیا ہے، تو پھر نیلسن منڈیلا 1998 میں گریکا ماشل سے تیسری شادی نہ کرتے، جو ان کی وفات 2013 تک ان کے ساتھ رہیں۔یہ واقعہ قومی اسمبلی کی کارروائی میں ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ قومی اسمبلی کے سپیکر سے درخواست ہے کہ پی ٹی آئی کے چیرمین کے اس بیان کا نوٹس لیں اور اسمبلی کے ریکارڈ سے اس جھوٹے بیان کو حذف کرنے کی ہدایت دیں۔اکبر ایس بابر، بانی رہنما، نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو تاریخی حقائق کے بارے میں تعلیم بالغاں کی اشد ضرورت ہے۔ یہ صورتحال پی ٹی آئی کی جانب سے تاریخ کی تشریح میں ناپسندیدہ غلطیوں کو اجاگر کرتی ہے، اور قومی اسمبلی کے تقدس کی حفاظت کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔