Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پشاور :افغان قونصل جنرل کا قومی ترانے کے احترام سے گریز: سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی

    پشاور :افغان قونصل جنرل کا قومی ترانے کے احترام سے گریز: سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی

    پشاور میں محکمہ حج، اوقاف اور مذہبی امور کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی قومی رحمت اللعالمین کانفرنس، جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت کے جشن کے طور پر منائی گئی، ایک تنازعے کا شکار ہو گئی ہے۔ اس تقریب میں افغان قونصل جنرل محب اللہ شاکر کی جانب سے پاکستان کے قومی ترانے کے احترام سے گریز نے سفارتی اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔کانفرنس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، بزرگ سیاستدان اعظم خان سواتی، صوبائی وزیر مینا خان افریدی، ایم پی اے و چیئرمین ضلع خیبر عبدالغنی افریدی، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، ملک بھر سے علماء کرام، مشائخ عظام، مختلف محکموں کے افسران اور معزز مہمانان گرامی بھی موجود تھے۔

    قومی ترانے کی بے حرمتی اور سفارتی پروٹوکول کی خلاف ورزی
    تقریب کے دوران جب پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا تو تمام شرکاء اور دیگر سفارتی شخصیات نے احتراماً کھڑے ہو کر ترانے کو سنا، لیکن افغان قونصل جنرل نے اس پروٹوکول کا احترام نہیں کیا۔ یہ رویہ سفارتی اصولوں کے منافی قرار دیا جا رہا ہے، جہاں میزبان ملک کے قومی ترانے کا احترام نہ کرنے کو ایک بڑی سفارتی بے حرمتی سمجھا جاتا ہے۔یہ واقعہ نہ صرف افغان قونصل جنرل کی حرکت کی وجہ سے تنقید کا باعث بنا بلکہ خیبرپختونخوا حکومت کی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی موجودگی میں اس طرح کا واقعہ پیش آنا حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث ہے، اور ناقدین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ افغان مہاجرین اور سفارتکاروں کو دی جانے والی چھوٹ کا غلط فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
    اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں میں سخت ردعمل سامنے آیا۔ صحافی حسن ایوب نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ "افغان قونصل جنرل محب اللہ شاکر نے قومی ترانے کا احترام نہ کر کے ثابت کر دیا ہے کہ انہیں پاکستان اور اس کی قوم کا کوئی احترام نہیں ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ محب اللہ شاکر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان سے نکال دیا جائے، اور خیبرپختونخوا حکومت سے بھی سوال کیا جائے کہ انہوں نے ایسے شخص کو کیوں مدعو کیا۔
    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی کے پی کے کہا کہ عید میلاد النبیﷺ کے پر مسرت موقع پر پوری امت مسلمہ خصوصا اہل پاکستان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، عشرہ رحمت العالمینﷺ کے انعقاد پر محکمہ مذہبی امور اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، حضورﷺ کی ولادت نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری عالم انسانیت کے لئے باعث رحمت ہے، اور
    آپ ﷺ سے محبت اور آپﷺ کی تعلیمات کی پیروی ایمان کا بنیادی تقاضا ہے، آپﷺ کا اسوہ حسنہ تمام انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے، آپﷺ کی آفاقی تعلیمات زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں، آپﷺ نے خواتین، بچوں، یتیموں، اقلیتوں اور غلاموں سمیت سب کے حقوق کا واضح تعین کیا ہے، آپﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر انسان دنیا اور آخرت میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے، آپﷺ نے انسانیت، محبت، امن، عدل و انصاف اور ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا درس دیا، آپﷺ کا خطبہ حجتہ الوداع ایک ایسا منشور ہے جو رہتی دنیا تک بنی نوع انسان کے لئے رہنمائی کا سر چشمہ ہے،

  • امریکی عہدیدار کے قتل کی سازش میں گرفتار آصف مرچنٹ نیویارک کی عدالت میں پیش

    امریکی عہدیدار کے قتل کی سازش میں گرفتار آصف مرچنٹ نیویارک کی عدالت میں پیش

    نیویارک: امریکی عہدیدار کے قتل کی سازش کے الزام میں گرفتار آصف مرچنٹ کو نیویارک کی عدالت میں پیش کردیا گیا، جہاں انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق آصف مرچنٹ پر امریکا میں دہشت گردی کی کوشش اور ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے قتل کی سازش کے الزامات ہیں۔ انہوں نے عدالت کے سامنے ان الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک کی عدالت نے آصف مرچنٹ کو مزید تحقیقات تک زیرِ حراست رکھنے کا حکم دیا ہے۔ آصف مرچنٹ کو 15 جولائی کو امریکی ریاست ٹیکساس سے گرفتار کیا گیا تھا، جہاں ان پر دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔آصف مرچنٹ کی گرفتاری اور الزامات پر مبنی یہ کیس امریکی میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مزید تفتیش کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ آیا آصف مرچنٹ کے خلاف لگائے گئے الزامات کے حوالے سے مزید شواہد سامنے آتے ہیں یا نہیں۔

  • آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    وزیراعظم کے مشیر برائے وزارت قانون و انصاف، بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ آئینی عدالتوں کا قیام کوئی نیا یا انوکھا قدم نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عالمی ضرورت اور روایت ہے جس پر دنیا کے بیشتر ممالک عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اپنے فہم کے مطابق ایک بہتر اور مثبت اقدام کی جانب بڑھ رہی ہے تاکہ عدلیہ کے اختیارات میں توازن پیدا کیا جا سکے اور جوڈیشل ایکٹوزم کے نظام پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار بیرسٹر عقیل ملک نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز خصوصی کمیٹی میں آئینی عدالتوں کے قیام پر تفصیلی اور سیر حاصل گفتگو ہوئی، جہاں مختلف آراء پر غور و خوض کیا گیا۔
    بیرسٹر عقیل ملک نے کمیٹی کے اندر ہونے والی بات چیت کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک ورکنگ پیپر تھا اور اسے ابھی حتمی حیثیت حاصل نہیں ہوئی۔ کچھ معاملات پر تحفظات کی بنا پر اس معاملے کو آگے نہیں بڑھایا جا سکا۔ تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے آئینی عدالتوں کے قیام کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تجویز کو متفقہ طور پر منظور کروانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ حکومت الیکشن کمیشن کی مدت میں توسیع دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ "یہ ایک غلط تاثر ہے کہ ہم الیکشن کمیشن کو کوئی توسیع دینے جا رہے ہیں،” بیرسٹر عقیل ملک نے کہا۔
    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے آئینی ترامیم پر اٹھائے گئے سوالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے سب سے زیادہ سوالات اٹھائے گئے ہیں اور دیگر جماعتوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آئینی عدالتوں کا قیام ضروری ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ یہ ترامیم خاص طور پر سپریم کورٹ کے سینئر جج قاضی فائز عیسیٰ کے لیے لائی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ کا نام صرف تجاویز میں سے ایک کے طور پر زیر غور آیا ہے، لیکن یہ ترامیم صرف ان کی ذات کے لیے نہیں ہیں بلکہ آئینی عدالتوں کے قیام کے وسیع تر اصول پر مبنی ہیں۔انہوں نے کہا، "ہم نے کب کہا کہ یہ ترامیم قاضی فائز عیسیٰ کے لیے لائی جا رہی ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ بہت سی تجاویز میں سے ایک ہوسکتے ہیں، لیکن ہمارا مقصد صرف ایک شخص یا کیس تک محدود نہیں ہے۔

  • گھوٹکی: شہید صحافی نصراللّٰہ گڈانی کے اہلخانہ پر مسلح حملہ، متعدد افراد زخمی

    گھوٹکی: شہید صحافی نصراللّٰہ گڈانی کے اہلخانہ پر مسلح حملہ، متعدد افراد زخمی

    گھوٹکی : صحافی برادری پر ایک اور حملے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں شہید صحافی نصراللّٰہ گڈانی کے اہلخانہ کو مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق یہ حملہ ایس ایس پی آفس کے قریب ہوا، جس میں نصراللّٰہ گڈانی کے بھائی سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔واقعے کے خلاف مقامی افراد اور صحافی برادری نے قومی شاہراہ پر شدید احتجاج کیا، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور کئی گھنٹوں تک سڑک بند رہی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حملہ آوروں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کیے اور انہیں یقین دلایا کہ حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب نصراللّٰہ گڈانی کے اہلخانہ پہلے ہی قاتلانہ حملے اور قتل کے غم میں مبتلا ہیں۔ نصراللّٰہ گڈانی پر رواں سال مئی میں میرپور ماتھیلو کے علاقے میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا، جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں کراچی کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ دوران علاج جانبر نہ ہو سکے۔ اس قتل نے سندھ بھر میں صحافیوں اور سول سوسائٹی کے حلقوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا تھا۔واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے نصراللّٰہ گڈانی کی والدہ کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست پر گزشتہ ماہ ایس ایس پی گھوٹکی سے رپورٹ طلب کی تھی۔ عدالت نے مقتول صحافی کے کیس کا چالان پیش نہ کرنے پر پولیس سے وضاحت بھی طلب کی تھی اور مقتول کے اہلخانہ کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ تاہم، اس حالیہ حملے کے بعد پولیس کی کارکردگی اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
    صحافی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس واقعے کی شدید مذمت کر رہی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ صحافی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک میں صحافیوں کے خلاف ہونے والے حملوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اگر حکومت نے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو یہ سلسلہ مزید خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا آغاز کر دیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جلد ہی مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور زخمیوں کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں تک پہنچا جا سکے۔

  • جنوبی افریقا ویمنز نے پہلے ٹی 20 میں پاکستان کو 10 رنز سے شکست دے دی

    جنوبی افریقا ویمنز نے پہلے ٹی 20 میں پاکستان کو 10 رنز سے شکست دے دی

    ملتان: جنوبی افریقا ویمنز کرکٹ ٹیم نے تین میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کو 10 رنز سے شکست دے دی۔ ملتان میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان ویمنز ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء نے ٹاس جیت کر مہمان ٹیم کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ جنوبی افریقا ویمنز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 132 رنز بنائے۔ جنوبی افریقا کی تزمین برٹس 56 رنز بنا کر نمایاں رہیں، جبکہ سن لوس نے 27، ماریزان کپ نے 14 اور چلو ٹریون نے 15 رنز بنائے۔ پاکستان کی جانب سے سعدیہ اقبال نے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ندا ڈار کے حصے میں ایک وکٹ آئی۔

    پاکستانی ٹیم 133 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 122 رنز ہی بنا سکی۔ عالیہ ریاض نے 52 اور کپتان فاطمہ ثناء نے 37 رنز کی اننگز کھیلی، لیکن ٹیم کو فتح دلانے میں ناکام رہیں۔ جنوبی افریقا کی جانب سے ماریزان کپ اور تمی سکھونے نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ سیشنی نائیڈو نے ایک وکٹ حاصل کی۔ تین میچوں کی سیریز کے بقیہ دو میچز 18 اور 20 ستمبر کو ملتان میں کھیلے جائیں گے۔

  • آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما بیرسٹر علی ظفر نے حکومت کی آئینی ترمیم کی کوشش پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کسی کے کہنے پر ترمیم لانے کی کوشش کی، اور انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ نمبر پورے کرلیے جائیں گے۔ بیرسٹر علی ظفر نے یہ انکشاف ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو مکمل یقین تھا کہ اسمبلی میں ان کے پاس مطلوبہ نمبرز موجود ہیں، اور وہ اس آئینی ترمیم کو باآسانی منظور کروا لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئینی ترمیم کوئی معمولی بات نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک بہت بڑا اور سنجیدہ معاملہ ہے، جس پر مکمل غور و خوض ہونا چاہیے۔ علی ظفر نے 18ویں ترمیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم پر ایک سال کا عرصہ لگا تھا، اس لیے حکومت کی موجودہ ترمیم کی جلد بازی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    دوسری طرف، ن لیگ کے رہنما طارق فضل چوہدری نے بھی پروگرام میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ اسمبلی میں ان کے پاس 13 اراکین کی کمی تھی، جس کی وجہ سے وہ ترمیم پیش نہ کر سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت دو ہفتوں بعد دوبارہ اس آئینی ترمیم کو سامنے لائے گی۔بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ حکومت کی جلدبازی کے پیچھے کچھ اور عوامل کارفرما تھے، اور ان کے اتحادی بھی اس عمل سے گھبرا گئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے کئی رہنما بھی اس معاملے پر اختلاف رکھتے تھے اور چند ترامیم کے حوالے سے مزید تفصیلات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ علی ظفر نے مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا نے شکایت کی کہ انہیں کئی شقوں کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا، اور اس ہی بات سے حکومت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ علی ظفر نے کہا کہ ججز کی تعیناتی کے عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اور ہوسکتا ہے کہ کچھ ترامیم درست بھی ہوں، لیکن اس پورے عمل میں کھچڑی سی پک گئی ہے۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے کی گئی آئینی ترمیم کی کوشش کو نہ صرف مخالفین بلکہ ان کے اپنے اتحادیوں کی طرف سے بھی شک و شبہات کا سامنا ہے۔

  • 16 ستمبر: تاریخ کے آئینے میں

    16 ستمبر: تاریخ کے آئینے میں

    تحقیق: آغا نیاز مگسی

    1654ء: روسی فوجیوں نے پولینڈ کے سیمولینسک پر قبضہ کیا۔ یہ قبضہ روس اور پولینڈ کے درمیان جاری تنازع کا حصہ تھا، جس نے دونوں ممالک کی تاریخ اور جغرافیائی حدود پر گہرا اثر ڈالا۔
    1662ء: سورج گرہن کا پہلی بار مشاہدہ کیا گیا۔ یہ مشاہدہ سائنس کی ترقی اور فلکیات کے میدان میں اہم پیشرفت کی علامت تھا، جس نے ماہرین فلکیات کو سورج کے نظام اور دیگر فلکیاتی مظاہر کی تفہیم میں مدد فراہم کی۔
    1795ء: برطانیہ نے جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن پر قبضہ کر لیا۔ یہ قبضہ برطانوی نوآبادیاتی توسیع کی ایک کوشش تھی، جس نے جنوبی افریقہ کی سیاسی اور اقتصادی تاریخ پر دیرپا اثرات مرتب کئے۔
    1873ء: جرمن فوج کی فرانس سے واپسی شروع ہوئی۔ یہ واپسی فرانسیسی-پروسین جنگ کے اختتام کے بعد ہوئی، جس نے یورپ میں طاقت کے توازن کو بدل دیا اور نئی سرحدی ترتیبات کی بنیاد رکھی۔
    1913ء: کستوربا گاندھی کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ واقعہ بھارتی تحریک آزادی کی تاریخ میں اہم ہے، کیونکہ کستوربا گاندھی مہاتما گاندھی کی شریک حیات تھیں اور انہوں نے تحریک آزادی میں فعال کردار ادا کیا تھا۔
    1922ء: ترکی فوجیوں نے یونانیوں کو ایشیا بھگایا۔ یہ واقعہ ترکی-یونان جنگ کے دوران پیش آیا، جس نے ایشیاء کی سرحدوں اور نسلی تعلقات پر اثر ڈالا۔
    1928ء: اٹلی اور رومانیہ نے امن معاہدے پر دستخط کئے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان امن اور دوستی کی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش تھی، جس کا مقصد خطے میں استحکام کو فروغ دینا تھا۔
    1928ء: امریکہ کے فلوریڈا صوبہ میں سمندری طوفان سے 3000 افراد کی موت واقع ہوئی۔ یہ طوفان فلوریڈا کے ساحلی علاقوں میں شدید تباہی کا باعث بنا، جس نے مقامی حکومت اور عالمی امداد کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
    1931ء: کھڑک پور کے بالمقابل ہجلی جیل میں انگریز افسر نے سیاسی قیدیوں تار کیشور دتہ اور سنتوش مشرا کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ یہ واقعہ برطانوی ہندوستان میں سیاسی کشیدگی اور احتجاج کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
    1945ء: جاپانی فوج کے آخری دستہ نے ہانگ کانگ میں برطانوی فوج کے سامنے خود سپردگی کی۔ اس خود سپردگی نے جاپانی تسلط کے خاتمے اور برطانوی حکمرانی کے دوبارہ قیام کا اشارہ دیا۔
    1954ء: بھارتی لوک سبھا نے اتفاق رائے سے طلاق کے لئے خصوصی شادی قانون میں نئی شق شامل کی۔ یہ شق بھارتی معاشرت میں طلاق کی قانونی حیثیت اور حقوق کی بہتری کے لئے اہم قدم تھی۔
    1959ء: حکومت پاکستان نے ادارئہ تحقیقاتِ اسلامی آئی آر آئی قائم کیا۔ اس ادارے کا مقصد اسلامی تحقیق اور تعلیم کو فروغ دینا تھا، جو پاکستان کے تعلیمی اور تحقیقی منظرنامے میں ایک اہم پیشرفت تھی۔
    1961ء: پاکستان نے پاکستان خلائی و بالا فضائی تحقیقی ماموریہ قائم کیا، جس کے عبدالسلام پہلے سربراہ مقرر ہوئے۔ یہ ادارہ پاکستان کی خلائی تحقیق اور فضائی ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل تھا۔
    1963ء: ملایا، سنگاپور، سراوک اور صیاح کو ملا کر فیڈریشن آف ملائش کی تشکیل کی۔ اس فیڈریشن نے ملائشیا کی تشکیل کی راہ ہموار کی، جس نے خطے کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال کو مستحکم کیا۔
    1965ء: چین کی طرف سے بھارت کو تین دن میں سِّکم بارڈر سے فوج ہٹانے کی وراننگ دی۔ یہ انتباہ چین-بھارت سرحدی تنازع کی شدت کو ظاہر کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی علامت تھا۔
    1967ء: ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان پاکستانی سیاست میں ایک نئی تبدیلی کا اشارہ تھا، جس نے بعد میں ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کئے۔
    1967ء: تبت سکم سرحد پر واقع ناتھولا در پر تبت بھارت اور چین کی افواج کے درمیان لڑائی۔ یہ لڑائی چین-بھارت سرحدی تنازع کا حصہ تھی، جس نے علاقائی سیکیورٹی اور سیاسی تعلقات پر اثر ڈالا۔
    1971ء: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی کرنسی روپیہ کو برطانوی پاؤنڈ اسٹرلنگ سے الگ کر کے امریکی ڈالر سے وابستہ کیا۔ یہ اقدام پاکستانی معیشت کی بین الاقوامی مالیاتی نظام میں ادغام کی کوشش کا حصہ تھا۔
    1975ء: کیپ ورڈی، موزمبیق اور ساؤ ٹومے و پرنسپے اقوام متحدہ کے رکن بنے۔ ان ممالک کا اقوام متحدہ میں شامل ہونا عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں ان کی حیثیت کی تصدیق تھی۔
    1976ء: امریکہ کے ایک چرچ نے عورتوں کو پادری اور بشپ بنانے کے لئے حکم نامے کو منظوری دی۔ یہ فیصلہ خواتین کے حقوق اور مذہبی قیادت میں ان کی شرکت کی ترقی کی طرف ایک اہم قدم تھا۔
    1976ء: مصر میں انور سادات دوبارہ صدر منتخب ہوئے۔ ان کی دوسری بار صدر منتخب ہونے نے مصر کی داخلی سیاست اور علاقائی تعلقات میں اہم تبدیلیوں کا آغاز کیا۔
    1978ء: چوہدری فضل الہی کے استعفے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے صدر پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ اس تبدیلی نے پاکستان کی سیاست میں ایک نئی سمت کی نشاندہی کی۔
    1978ء: ایران کے تبر میں بھیانک زلزلہ میں 25000 افراد کی موت واقع ہوئی۔ یہ زلزلہ ایران میں انسانی و قدرتی وسائل کی ضرورت اور امداد کی فراہمی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
    1980ء: سینٹ وینسینٹ و گریناڈینز اقوام متحدہ کا رکن بنا۔ اس رکنیت نے اس ملک کی بین الاقوامی شناخت اور عالمی برادری میں اس کی حیثیت کو مضبوط کیا۔
    1982ء: جنگ لبنان 1982: صبرا و شاتیلا قتل عام میں نہتے فلسطینیوں کا قتل عام، 3000 افراد شہید۔ یہ واقعہ مشرق وسطیٰ کے سیاسی تناظر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
    1984ء: صدر پاکستان نے کراچی میں سوزوکی کار پلانٹ کا افتتاح کیا۔ اس افتتاح نے پاکستان کی صنعتی ترقی اور مقامی پیداوار کی بڑھوتری کی سمت کو ظاہر کیا۔
    1986ء: جنوبی افریقہ کے ٹرانسوال میں سونے کے ایک کان میں آگ لگنے سے 177 کان کنوں کی موت ہو گئی۔ یہ حادثہ جنوبی افریقہ کی معدنیات کی صنعت میں کام کرنے والوں کی حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
    1992ء: ملتان میں سیلاب کی تباہ کاریاں، نو سو افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس سیلاب نے جنوبی پنجاب کے علاقے میں انسانی زندگی اور بنیادی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کئے۔
    1994ء: برطانوی وزیر اعظم جان میجر نے آئی آر اے کی سیاسی شاخ سن فین پر لگی میڈیا پابندی ختم کی۔ یہ اقدام امن مذاکرات کی طرف ایک مثبت قدم تھا اور شمالی آئرلینڈ کے تنازع کے حل کی طرف اشارہ تھا۔
    1994ء: امریکہ نے جنگ سے متاثرہ صومالیہ سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا۔ یہ اقدام صومالیہ کی انسانی اور سیاسی بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
    1996ء: رومانیہ اور ہنگری نے باہمی تنازعات کو ختم کرنے کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کئے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کے حل اور تعاون کی نئی راہیں کھولتا ہے۔
    2001ء: تہران کے میئر مرتضی الویری نے 11 ستمبر کو ہوئے حملے پر نیویارک کے میئر روڈلف گلیانی کو تعزیت کا پیغام بھیجا۔ یہ تعزیت بین الاقوامی ہمدردی اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ ردعمل کی علامت تھی۔
    2007ء: غیر ملکی سیاحوں کو لے جا رہا طیارہ تھائی لینڈ کے فکیت جزیرہ پر زبردست بارش کے دوران اترتے وقت حادثے کا شکار ہو گیا، 98 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ سیاحتی سفر کی حفاظت اور قدرتی آفات کے دوران ہوشیاری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

    تعطیلات و تہوار
    1975ء: پاپوا نیوگنی آسٹریلیا کے قبضے سے آزاد ہوا۔ آزادی کے بعد، پاپوا نیوگنی نے ایک آزاد اور خودمختار قوم کے طور پر عالمی

  • پاکستان ماحولیاتی اثرات کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے

    پاکستان ماحولیاتی اثرات کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے

    آئی اے ای اے (بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی) کی جنرل کانفرنس کا 68 واں اجلاس حال ہی میں ویانا میں منعقد ہوا، جہاں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر علی رضا نے خطبہ دیا۔ ڈاکٹر علی رضا نے اپنے خطاب میں آئی اے ای اے کے ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار کو سراہا اور یقین دہانی کروائی کہ پاکستان آئی اے ای اے کے مقرر کردہ اہداف کے حصول کے لیے بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں حصہ داری کے لحاظ سے معمولی ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ ماحولیاتی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
    ڈاکٹر علی رضا نے مزید بتایا کہ پاکستان نے جوہری توانائی کے ذریعے تقریباً 100 ملین ٹن گرین ہاؤس گیس کے اخراج سے بچا لیا ہے، اور نیوکلیئر انرجی پائیدار توانائی کا ایک مؤثر حل فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان میں موجود چھ نیوکلیئر پاور پلانٹس مجموعی طور پر 3،530 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں، اور ایک نئے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر کا آغاز جلد متوقع ہے۔ اجلاس کے دوران ڈاکٹر علی رضا نے نیوکلیئر توانائی کے فوائد اور اس کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت پر زور دیا، اور عالمی برادری کو یقین دلایا کہ پاکستان اس ضمن میں مکمل عزم کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔یہ اجلاس عالمی سطح پر ایٹمی توانائی کی پھیلاؤ اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جاری کوششوں کے تناظر میں منعقد ہوا، اور پاکستان کے عزم کو واضح کرنے کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

  • سونے کی قیمتوں میں عالمی ریکارڈ اضافہ، پاکستان میں بھی نئی بلندیاں

    سونے کی قیمتوں میں عالمی ریکارڈ اضافہ، پاکستان میں بھی نئی بلندیاں

    سونے کی قیمتوں میں عالمی صرافہ میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس نے پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ امریکی معیشت میں شرح سود میں کمی کی توقعات نے سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 1700 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ قیمت دو لاکھ 68 ہزار روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح، 10 گرام سونے کی قیمت 1458 روپے اضافے کے ساتھ دو لاکھ 19 ہزار 767 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
    عالمی صرافہ میں سونے کی قیمتوں کا جائزہ لیتے ہوئے، ایسوسی ایشن نے بتایا کہ فی اونس سونے کی قیمت میں 10 ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جو اب 2 ہزار 587 ڈالر پر پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ عالمی مالیاتی مارکیٹ میں شرح سود میں کمی کی توقعات کے اثرات کا نتیجہ ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو سونے کی جانب راغب کیا ہے۔ سونے کو عام طور پر عالمی اقتصادی عدم استحکام اور مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلیوں کے وقت ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ حالیہ قیمتوں کا اضافہ پاکستان میں سونے کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم موضوع بن چکا ہے، اور اس کا اثر ملک میں سونے کی تجارت اور صارفین کے رویے پر بھی پڑ سکتا ہے۔

  • پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف ہدایتکار الطاف حسین انتقال کر گئے

    پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف ہدایتکار الطاف حسین انتقال کر گئے

    پاکستانی فلم انڈسٹری کے نامور فلم ساز الطاف حسین طویل عرصے کی بیماری کے بعد انتقال کر گئے۔ اہل خانہ نے پیر کو ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 70 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ حال ہی میں انہوں نے اپنی نئی پنجابی فلم تیرے پیار نو سلام پر کام شروع کیا تھا۔الطاف حسین نے 1969ء میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز فلم پنچھی تے پردیسی سے کیا، جو باکس آفس پر کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ تاہم، 12 سال بعد 1981ء میں انہوں نے فلم اتھرا پتر کی ہدایتکاری کی، جو باکس آفس پر کامیاب رہی۔ اس فلم میں سلطان راہی، آسیہ، بازغہ، اجمل، ساون، اور مصطفی قریشی نے مرکزی کردار ادا کیے۔ ان کے کیریئر میں کئی دیگر کامیاب فلمیں بھی شامل ہیں، جن میں صاحب جی، قدرت، لاوارث، چوڑیاں، نکاح، مہندی، اور نوری شامل ہیں۔ الطاف حسین کی وفات پر شوبز شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے، اور ان کے انتقال کو فلم انڈسٹری کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔