Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • 12 ربیع الاول: پنجاب میں موبائل فون سروس بند  کرنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا

    12 ربیع الاول: پنجاب میں موبائل فون سروس بند کرنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا

    پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے 12 ربیع الاول کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کے حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت اس قسم کا فیصلہ انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر کرتی ہے، اور پنجاب کے بڑے علاقوں میں موبائل سروس کی بندش کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔عظمیٰ بخاری نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر صوبے بھر میں جوش و جذبے سے تقریبات منائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کی مکمل ذمہ داری آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو سونپی گئی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ مریم نواز خود سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کریں گی۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عید میلاد النبی ﷺ خوشی کا موقع ہے اور اس دن کے احترام میں ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ اس موقع پر جلوس اور ریلیاں نکالی جائیں گی، اور جب تک یہ تقریبات ختم نہیں ہوتیں، انتظامیہ گراؤنڈ پر موجود رہے گی تاکہ عوام کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
    عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ ابھی تک صوبائی حکومت کی جانب سے موبائل فون سروس بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اور موجودہ اطلاعات کے مطابق پنجاب کے بڑے علاقوں میں موبائل سروس بند کرنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔جلوس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے بھرپور انتظامات کیے گئے ہیں۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں خصوصی لائٹنگ کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ میلاد کی تقریبات کو روشنیوں سے منور کیا جا سکے۔ جلوس کے دوران شرکا میں حلوہ، مٹھائیاں اور نیاز تقسیم کی جائے گی تاکہ اس مبارک موقع کو اور بھی خوشیوں بھرا بنایا جا سکے۔وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ عید میلاد النبی ﷺ کا موقع خوشیوں کا ہے اور اس میں سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت کی ہے کہ جلوس کے شرکا کو تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ لوگ بغیر کسی پریشانی کے اس موقع کو منائیں۔عظمیٰ بخاری نے سیکیورٹی کے حوالے سے بتایا کہ تقریباً 55 ہزار پولیس اہلکار مختلف محافل اور جلوسوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس موقع پر سیکیورٹی کو اولین ترجیح دے رہی ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اس مبارک دن کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

    ##

  • وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے جیکب آباد میں پولیو ورکر کے ساتھ زیادتی کا نوٹس لے لیا

    وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے جیکب آباد میں پولیو ورکر کے ساتھ زیادتی کا نوٹس لے لیا

    جیکب آباد میں حالیہ زیادتی کے واقعے کے بعد وزیر صحت سندھ، ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے مقامی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ پولیو ورکر کی رہائش گاہ کے اطراف سیکیورٹی فراہم کی جائے۔ صوبائی وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق، ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ خواتین پولیو ورکرز انسداد پولیو پروگرام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کی حفاظت ہمیشہ پروگرام کی اولین ترجیح رہی ہے۔ وزیر صحت نے مزید کہا کہ متاثرہ پولیو ورکر کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے بھی درخواست کی ہے کہ متاثرہ ورکر کو معاوضہ فراہم کیا جائے۔یہ اقدام پولیو ورکرز کی حفاظت اور ان کے کردار کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے، تاکہ ان کے کام کی قدر کی جا سکے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

  • شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے پر اتفاق کیا

    شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے پر اتفاق کیا

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان اہم ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور مجوزہ آئینی ترامیم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم اور بلاول بھٹو زرداری نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی تجاویز کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مولانا فضل الرحمان کے تحفظات کو دور کیا جائے گا، تاکہ ملک میں سیاسی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔اس موقع پر ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور آئینی اصلاحات کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی بات چیت کی گئی، جس کا مقصد قومی مفاد میں مؤثر فیصلے کرنا ہے۔

  • پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان مجوزہ آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں فریقین اس ترمیم پر متفق ہو گئے تو حکومت کو آگاہ کیا جائے گا۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی کا وفد مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے پہنچا، جس میں خورشید شاہ، انجنیئر نوید قمر، جمیل سومرو، اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب شامل تھے۔ اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد خورشید شاہ نے میڈیا کو تفصیلات فراہم کیں۔
    خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "کل سے ہم آئینی ترمیم پر بات چیت کر رہے ہیں اور مختلف بل پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان بلوں میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں اور ہم ان نکات پر متفق ہیں جو قومی مفاد میں ہیں۔”انہوں نے کہا کہ ملک و قوم اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے قانون سازی کرنا ہمارا حق ہے اور ہمیں اس حق سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ ہم نے مولانا فضل الرحمان کو اعتماد میں لیا ہے اور جب ہم اور مولانا فضل الرحمان اس معاملے پر متفق ہوں گے تو ہم حکومت کو آگاہ کریں گے۔خورشید شاہ نے مزید کہا کہ "یہ ملاقاتیں جاری رہیں گی اور ہم جو بل لے کر آ رہے تھے، اس کا ذکر پہلے بھی کیا جا چکا ہے۔ آج کی ملاقات کا مقصد یہ تھا کہ جن نکات پر ہم سب متفق ہیں، ان پر بیٹھ کر بات چیت کی جائے اور تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔
    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ بل کی تشکیل قومی مفاد اور پارلیمنٹ کے اصولوں کے مطابق ہو۔ اس عمل میں تمام جماعتوں کی رائے شامل کی جائے گی تاکہ ایک جامع اور متفقہ حل تک پہنچا جا سکے۔یہ ملاقات اور بات چیت پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے درمیان آئینی ترمیم پر ہم آہنگی کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ دونوں جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ قانون سازی کے عمل کو آئین اور پارلیمنٹ کے اصولوں کے مطابق مکمل کیا جائے اور تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔

  • رواں سال کا دوسرا چاند گرہن: تفصیلات اور مشاہدے کی معلومات

    رواں سال کا دوسرا چاند گرہن: تفصیلات اور مشاہدے کی معلومات

    18 ستمبر 2024 کو رواں سال کا دوسرا چاند گرہن وقوع پذیر ہوگا۔ یہ چاند گرہن پاکستان میں قابلِ مشاہدہ نہیں ہوگا، لیکن یہ امریکہ، یورپ کے بیشتر ممالک، آسٹریلیا، افریقا، شمالی اور مشرقی ایشیا میں دیکھا جا سکے گا۔چاند گرہن کے پینمبرل مرحلے کا آغاز صبح 7 بج کر 12 منٹ پر ہوگا۔ یہ مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب چاند زمین کے سائے میں آنا شروع ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر اس میں غرق نہیں ہوتا۔ چاند گرہن عروج پر صبح 7 بج کر 44 منٹ پر پہنچے گا اور یہ مرحلہ 8 بج کر 15 منٹ تک جاری رہے گا۔ پینمبرل مرحلے کا اختتام 9 بج کر 47 منٹ پر ہوگا۔چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جاتی ہے، جس کی وجہ سے چاند پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی اور وہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ چاند گرہن جزوی یا مکمل ہو سکتا ہے، جو چاند کی گردش اور زمین کے سائے کی شدت پر منحصر ہوتا ہے۔ناسا کے مطابق، چاند گرہن کے دوران چاند زمین کے سائے میں آ جاتا ہے، مگر اس کے باوجود کچھ روشنی چاند پر پہنچتی رہتی ہے، جس سے چاند مکمل طور پر اندھیرے میں نہیں آتا۔یہ چاند گرہن خاص طور پر ماہرین فلکیات اور خلا کی تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے اہم ہے، اور ان ممالک میں خوبصورتی سے دیکھا جا سکے گا جہاں یہ چاند گرہن قابلِ مشاہدہ ہے۔

  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ایران کے دورے کی دعوت

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ایران کے دورے کی دعوت

    تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ایران کا دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت دے دی ہے۔ نیوز کانفرنس کے دوران، ایرانی صدر نے اعلان کیا کہ انہوں نے محمد بن سلمان کو ایران آنے کی دعوت دی ہے، اور وہ خود بھی جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔صدر پزشکیان نے حوثی باغیوں کے بارے میں حالیہ رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ساؤنڈ بیریئر توڑنے والے میزائل فراہم کرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کے حوثیوں نے جو میزائل اسرائیل پر حملے میں استعمال کیا، وہ خود ان کی اپنی صلاحیتوں سے بنایا گیا تھا۔ ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور وہ کسی بھی صورت میں اس پر سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
    پریس کانفرنس کے دوران، صدر پزشکیان نے مغربی ممالک پر تنقید کی کہ وہ ایران کے جوہری معاہدے سے توقعات رکھتے ہیں لیکن اس کے بدلے میں کوئی عملی اقدام نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے اور پابندیوں پر مغرب سے بات چیت کے لیے تیار ہے، اور ان غیرملکی پابندیوں کے باوجود ایران اپنے پڑوسی اور دیگر ممالک سے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔مسعود پزشکیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل نے اسمٰعیل ہنیہ کو شہید کروا کر ایران کو علاقائی جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس طرح کی سازشوں کے خلاف مضبوط موقف رکھے گا اور اپنے دفاعی پروگرامز پر کام جاری رکھے گا۔

  • بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی اہم ملاقات، آئینی ترامیم پر تبادلہ خیال

    بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی اہم ملاقات، آئینی ترامیم پر تبادلہ خیال

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے وفد کے ہمراہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائشگاہ پر اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے وفد کے درمیان ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور آئندہ کی قانون سازی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پیپلز پارٹی کے وفد میں اراکین قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ، سید نوید قمر، میئر کراچی مرتضی وہاب، اور چیئرمین بلاول کے پولیٹیکل سیکریٹری جمیل سومرو شامل تھے۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عبدالواسع، مولانا مصباح الدین، سینیٹر کامران مرتضی، مولانا اسد محمود، اور انجینئر ضیاالرحمان نے ان کی معاونت کی۔
    ملاقات کے بعد سید خورشید احمد شاہ اور سید نوید قمر نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی جن بلوں پر متفق ہیں، ان پر مزید مشاورت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ پاکستان کے عوام کے مفاد میں ملک، قوم، آئین اور قانون کے مطابق اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے تحت قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کا حق ہے کہ وہ قانون سازی کرے اور کوئی بھی انہیں اس حق سے محروم نہیں کر سکتا۔ ان کا مقصد پارلیمنٹ کو مزید طاقتور بنانا ہے، اور جب دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہوں گی، تو دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کی جائے گی۔
    سید نوید قمر نے کہا کہ اسپیشل کمیٹی میں مولانا فضل الرحمان نے بھی شرکت کی اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی وہاں موجود تھے۔ ملاقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ تمام شقوں کو جن پر کسی کو اعتراض ہے، الگ کیا جائے اور آخر میں ایک متفقہ مسودہ پارلیمانی طریقہ کار کے تحت پیش کیا جائے۔ دونوں جماعتوں نے آئینی ترمیمات پر وقت دینے اور تمام پارٹیوں بشمول حکومت اور حزب اختلاف کو اس میں شامل کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات کی ایک اہم بات یہ تھی کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی دونوں آئینی عدالت بنانے کی خواہاں ہیں، اور اس کی تفصیلات پر بعد میں مل بیٹھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔یہ ملاقات دونوں جماعتوں کے درمیان مضبوط تعاون اور آئینی اصلاحات پر مشترکہ موقف کی عکاسی کرتی ہے، اور اس بات کا اشارہ ہے کہ آئندہ قانون سازی کے عمل میں ایک معقول اور متفقہ راستہ اختیار کیا جائے گا۔

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے بریت کی درخواست دائر کی

    عمران خان اور بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے بریت کی درخواست دائر کی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور اس وقت کے چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کے نیب کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ انہوں نے احتساب عدالت کی جانب سے بریت کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف چیلنج دائر کیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چودھری ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ احتساب عدالت نے ان کی بریت کی درخواست کو مسترد کر کے انصاف کی خلاف ورزی کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پٹیشنرز کے خلاف ایسا کوئی مواد موجود نہیں جو ان کے خلاف سزا کی بنیاد بن سکے۔ اس لیے، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کو بریت دی جانی چاہیے تھی جو احتساب عدالت نے نہیں دی۔
    درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ احتساب عدالت کے 12 ستمبر کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اس مقدمے سے بری کریں۔ ٹرائل کورٹ میں جاری ٹرائل پروسیڈنگز کو روکنے کے لیے بھی متفرق درخواست دائر کی گئی ہے۔ اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ احتساب عدالت میں ٹرائل کو اس وقت تک روک دیا جائے جب تک ہائی کورٹ بریت کی درخواست پر فیصلہ نہیں سناتی۔اس درخواست کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی مزید کارروائی کی جائے تاکہ انصاف کا تقاضہ پورا کیا جا سکے۔

  • پاکستان اور انڈونیشیا کے  افواج کا  مشترکہ مشق ’’ایلانگ اسٹرائیک ٹو‘‘  کامیابی کے ساتھ مکمل

    پاکستان اور انڈونیشیا کے افواج کا مشترکہ مشق ’’ایلانگ اسٹرائیک ٹو‘‘ کامیابی کے ساتھ مکمل

    پاکستان اور انڈونیشیا کی افواج نے مشترکہ مشق ’’ایلانگ اسٹرائیک ٹو‘‘ کا کامیاب انعقاد کیا، جو انسداد دہشت گردی کے شعبے میں دونوں ممالک کی دوسری مشترکہ مشق تھی۔ یہ مشق 8 ستمبر کو شروع ہوئی اور ہفتہ بھر جاری رہی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، ’’ایلانگ اسٹرائیک ٹو‘‘ کا مقصد دونوں افواج کے درمیان تجربات اور تربیتی طریقہ کار کو فروغ دینا تھا۔ مشق کا مقصد فوجی استعداد کو بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان موجود برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا تھا۔اختتامی تقریب میں جنرل آفیسر کمانڈنگ 17 ڈویژن، میجر جنرل احمد خان، تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ انڈونیشیا کے دفاعی اتاشی کرنل بڈی ورمان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ مشق کے دوران فوجی دستوں نے پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ معیار کا مظاہرہ کیا۔ دونوں افواج نے مشترکہ طور پر انسداد دہشت گردی کی جدید تکنیکوں اور طریقہ کار پر توجہ دی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا۔یہ مشق دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات اور تعاون کو ظاہر کرتی ہے، اور دونوں افواج کے درمیان تجربات اور تربیت کے طریقہ کار کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

  • ڈالر کی قدر پانچویں روز کمی کا شکار، حکومت کی معاشی اقدامات کا اثر یا کچھ اور؟

    ڈالر کی قدر پانچویں روز کمی کا شکار، حکومت کی معاشی اقدامات کا اثر یا کچھ اور؟

    اسلام آباد: انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مسلسل پانچویں روز کمی کا شکار رہی ہے، جس سے اقتصادی استحکام کی امیدیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، آئی ایم ایف قرض پروگرام کی منظوری کے بعد ملٹی لیٹرل اور بائی لیٹرل فنڈز کے ممکنہ اجراء، رسد میں اضافہ، اور عالمی مارکیٹ میں پانڈہ بانڈز متعارف ہونے کی اطلاعات کے باعث، ڈالر کی قدر میں کمی دیکھنے کو ملی۔کاروباری دورانیے کے دوران، ڈالر کی قدر ایک موقع پر 20 پیسے کی کمی سے 277 روپے 96 پیسے کی سطح پر پہنچ گئی تھی۔ تاہم، سپلائی بڑھنے اور مارکیٹ فورسز کی ڈیمانڈ آنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 04 پیسے کی کمی سے 278 روپے 12 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں، ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 280 روپے 75 پیسے پر مستحکم رہی۔گزشتہ سات ہفتوں سے سرکاری زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل اضافہ اور عالمی قیمتوں میں خام تیل کی کمی کا رجحان بھی روپے کے استحکام کا باعث بن رہا ہے۔ ان معاشی عوامل کے پیش نظر، ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں مزید کمی ممکن ہے، جبکہ مارکیٹ کی نگرانی اور معاشی پالیسیوں پر عمل درآمد کا مستقبل قریب میں اثر دیکھنا باقی ہے۔