پارلیمنٹ لاجز سے سب جیل کا سٹیٹس ختم کر کے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان اسمبلی کو رہا کر دیا گیا ہے۔ کابینہ ذرائع کے مطابق، رہا ہونے والے پی ٹی آئی کے ارکان میں شیر افضل مروت، شاہ احد، نسیم شاہ، شیخ وقاص اکرم، اور احمد چٹھہ شامل ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کے رہا شدہ ارکان اسمبلی کے لیے پارلیمنٹ لاجز سے سب جیل کا سٹیٹس ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، قومی اسمبلی کے لاج کے باہر سے پولیس کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔
یہ پیشرفت ایک ہفتہ قبل پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں منعقدہ جلسے میں این او سی کی خلاف ورزی پر پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے 10 ارکان اسمبلی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ان ارکان اسمبلی کو گرفتار کر کے ریمانڈ حاصل کیا تھا، جس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ لاجز کو پی ٹی آئی کے زیر حراست تمام 10 ارکان کے لیے سب جیل قرار دے دیا تھا۔اب جبکہ سب جیل کا سٹیٹس ختم کر دیا گیا ہے، پی ٹی آئی کے رہائی پانے والے ارکان اسمبلی کو معمول کی سرگرمیوں کی اجازت مل گئی ہے اور پارلیمنٹ لاجز کے باہر سے پولیس کی موجودگی ختم کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے لیے ایک بڑی راحت کی علامت ہے اور ان کے سیاسی مستقبل پر بھی ممکنہ اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

پارلیمنٹ لاجز سے سب جیل کا سٹیٹس ختم، پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی رہا
-

پی ایس ایکس میں ملا جلا کاروباری دن، 100 انڈیکس میں 158 پوائنٹس کا اضافہ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں آج کاروبار کا دن ملا جلا رہا، جہاں 100 انڈیکس میں 158 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافہ کے بعد پی ایس ایکس بینچ مارک 100 انڈیکس کاروبار کے اختتام پر 79 ہزار 79 پوائنٹس پر بند ہوا۔آج کی کاروباری سرگرمیوں میں حصص بازار میں 53 کروڑ شیئرز کے سودے ہوئے، جن کی مجموعی مالیت 8.9 ارب روپے رہی۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 9 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی، جس کے بعد مارکیٹ کیپٹلائزیشن 10 ہزار 533 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروبار کی اس اتار چڑھاؤ کا اثر مارکیٹ کی مجموعی حالت پر پڑ سکتا ہے، اور سرمایہ کاروں کے لئے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ بازار کی متحرک صورتحال اور حصص کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں سرمایہ کاروں کو مزید فیصلے کرنے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی موجودہ حالت اور مارکیٹ کی مجموعی کیپٹلائزیشن میں کمی سرمایہ کاروں کے لئے ایک چیلنج کی علامت ہو سکتی ہے، اور اس کا اثر مستقبل کی تجارتی سرگرمیوں پر پڑ سکتا ہے۔ -

دانیال چوہدری کی پارلیمان کی خود مختاری پر تاکید، آئینی ترامیم میں تاخیر اور عدالتی اصلاحات پر تشویش
اسلام آباد ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما بیرسٹر دانیال چوہدری نے پارلیمان کی طاقت اور اختیار کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمان ہی وہ ادارہ ہے جو ملک کے اہم فیصلے کرتا ہے اور وہی طے کرے گا کہ اہم قومی امور کو کس طرح آگے بڑھانا ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، طاقت پارلیمان کے پاس ہے اور پارلیمان کے پاس ہی رہے گی، ہمیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا کہ پارلیمان کو کیسے چلانا ہے۔بیرسٹر دانیال چوہدری کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارلیمان میں آئینی ترامیم کی منظوری کا معاملہ زیر بحث ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمان کا یہ حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون کب اور کیسے ڈیم کے لیے فنڈز حاصل کر سکتا ہے اور دیگر قومی مسائل کو کیسے حل کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان ایک خود مختار ادارہ ہے اور اس کے فیصلے کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ "ہمیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا کہ پارلیمان کو کیسے چلانا ہے،” دانیال چوہدری نے واضح کیا۔دانیال چوہدری نے عوام اور وکلاء برادری میں پھیلائے جانے والے ابہام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام میں کئی مسائل ہیں جن کی وجہ سے عوام کی انصاف مانگتے ہوئے زندگی گزر جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، "ایسے بھی کیسز ہیں جن میں ملزمان سزا سے زیادہ سزا پا چکے ہیں۔” ان کا یہ بیان ملک کے عدالتی نظام کی خامیوں اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر پر روشنی ڈالتا ہے، جس پر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔حکومت کی جانب سے پیش کی گئی آئینی ترمیم کی منظوری میں تاخیر کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ یہ معاملہ رواں ماہ کے آخر تک ٹال دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں آج سینیٹ کے اجلاس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بھی غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے بھی اس تاخیر کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ آئینی ترامیم کے معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا، "آئینی ترمیم پیش ہونے میں ہفتہ دس دن لگ سکتے ہیں، اور اگر یہ ترمیم منظور نہ بھی ہو سکی تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ پارلیمان کا کام چلتا رہے گا اور اہم قومی امور پر غور و خوض جاری رہے گا۔پارلیمان میں آئینی ترامیم اور عدالتی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کے دوران دانیال چوہدری نے عوام کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے عدالتی نظام میں تاخیر اور انصاف کی فراہمی میں کمی نے عوام کو مایوس کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر ان مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ -

اسحاق ڈار کی امریکی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات: دو طرفہ تعلقات پر گفتگو
اسلام آباد: وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور قائم مقام امریکی نائب وزیر خارجہ جان باس کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے مابین دو طرفہ تعلقات، تعاون کے جاری منصوبے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دی جارہی ہے۔قائم مقام امریکی نائب وزیر خارجہ جان باس نے حکومت پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مزید مستحکم تعلقات کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے مختلف عالمی فورمز پر کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
جان باس نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو پاکستان کے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے اور امریکہ کو توقع ہے کہ دونوں ممالک عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے مزید قریبی تعاون کریں گے۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ملاقات میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان مثبت اور نتیجہ خیز روابط کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون نہ صرف دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے اہم ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں علاقائی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس حوالے سے امریکی نائب وزیر خارجہ نے پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی، جس میں دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف اقدامات، خطے میں استحکام اور افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ جان باس نے افغانستان سے متعلق پاکستان کے کردار اور افغان مہاجرین کی آبادکاری میں مدد پر شکریہ ادا کیا۔اس اہم ملاقات میں امریکی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری الزبتھ ہورسٹ بھی موجود تھیں۔ انہوں نے بھی پاکستان کی عالمی فورمز پر مثبت کردار کی تعریف کی اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں مزید قریبی تعاون کی توقع ظاہر کی۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان مختلف چیلنجز اور مسائل کے باوجود تعلقات میں بہتری کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔ -

فاروق ستار کا عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے مسلم لیگ ن کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں طریقہ کار اہم ہوتا ہے، اور سیاسی جماعتوں کے دلوں کو جیتنے کے لیے ایک مخصوص طریقہ اپنانا ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن سیاست کرنا بھول چکی ہے، اور ایم کیو ایم انہیں سیاست کے صحیح طریقے سکھانے کے لیے تیار ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کو سب سے پہلے اپنے مخالفین کے تحفظات اور گلے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ ن سیاست کر رہی ہے تو اسے سیاست کے اصول اور طریقے اپنانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا، ن لیگ کو مجھے سکھانے کی ضرورت نہیں، بلکہ انہیں خود سیکھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست میں عوام کے دل کیسے جیتے جاتے ہیں۔
فاروق ستار نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کا بل جس انداز میں پاس کروایا جا رہا ہے، اس پر ان کا شدید تحفظ ہے۔ ان کے مطابق آئین میں ترمیم ایک سنجیدہ اور ذمہ داری والا عمل ہے، اور اسے درست طریقہ کار کے مطابق ہی انجام دیا جانا چاہیے۔فاروق ستار نے عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ عدالتی نظام میں اصلاحات کی جانی چاہئیں تاکہ عام آدمی کو انصاف مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں ہزاروں کیسز زیر التوا ہیں اور لوگوں کو بروقت انصاف نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا، "ہم سب متفق ہیں کہ عدلیہ کی آزادی اور عدالتی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ عام آدمی کو انصاف مل سکے۔فاروق ستار نے عوام کی موجودہ صورت حال پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ عوام اس وقت ایک تماشا دیکھ رہے ہیں اور انہیں کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔ ان کے مطابق عوام کی زندگی مشکل ہو چکی ہے اور وہ زندہ درگور ہو گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی محنت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بلاول نے بہت محنت کی، لیکن مسلم لیگ ن کا ہوم ورک کمزور تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو اپنے سیاسی فیصلوں اور اقدامات پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور بہتر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم جیسے اہم معاملات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور پارلیمنٹ میں ان پر مناسب بحث و مباحثہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ہمیشہ سے آئینی ترمیمات اور اہم قومی معاملات پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔
-

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر سرکاری ٹیلی وژن پر برہم
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے سرکاری ٹیلی وژن پر تنقید کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ٹی وی پر صرف پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان کی تقریر ہی نہیں بلکہ ارسا اور پانی کے مسائل پر بھی ان کی باتیں سینسر کی گئی ہیں۔نوید قمر نے اسپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ گرفتاریاں کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی بات پر سختی سے عملدرآمد کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان قابل مذمت ہے، اور یہ کہ اس زبان کو بہانہ بنا کر پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ میں گھس کر گرفتاری کرنا پی ٹی آئی پر حملہ نہیں بلکہ پارلیمنٹ پر حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بنیادوں کو نشانہ بناتے ہیں، جس کا دفاع کرنا ضروری ہے۔ نوید قمر نے تاریخی حوالے دیتے ہوئے کہا کہ برٹش پارلیمنٹ پر حملے کے بعد ہی یہ اصول بنے کہ کس کا اختیار کہاں شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم ہوتا ہے۔
نوید قمر نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں صرف اسپیکر کا اختیار ہوتا ہے، اور اسپیکر کی اجازت کے بغیر پارلیمنٹ میں داخل ہونا اور گرفتاریوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں سیاسی اور غیرجمہوری واقعات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، اور کل کا واقعہ ایک نئی حد کو عبور کر گیا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ اگر اس پر خاموش رہا گیا یا جواز پیش کیا گیا تو اگلے اقدامات کی کوئی حد نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں اداروں پر حملہ ہوتا ہے، وہاں ان کا دفاع کرنا ضروری ہے، ورنہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کا مستقبل خطرے میں ہے۔نوید قمر نے کہا کہ ایف آئی آر کے معاملے پر پولیس کی جانب سے انکار کا سامنا ہے اور اس سلسلے میں کیمرے کے ذریعے شناخت کی مخلصانہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں کیمرے نصب ہیں اور ان کے ذریعے شناخت کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے، حالانکہ ہاؤس کی بتیاں بند کر دی گئی تھیں تاکہ شناخت چھپائی جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کی تقریریں بھی سینسر کی جا رہی ہیں۔ نوید قمر نے کہا کہ اگر یہی رویہ برقرار رکھا گیا تو بہتر ہوگا کہ سرکاری ٹی وی کو بند کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پسندیدہ تقریریں دکھانا جمہوریت اور آزادی اظہار رائے کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔یہ صورتحال پاکستان کی سیاست میں ایک نئے بحران کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں آزادی اظہار اور پارلیمانی اصولوں کی خلاف ورزی کے مسائل سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ نوید قمر کے بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ سیاسی عدم استحکام اور اداروں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جو ملک کی جمہوری روایات کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔
-

پی سی بی نے قومی انڈر-19 تھری ڈے چیمپئن شپ اور ون ڈے انڈر-19 کپ کو ملتوی کر دیا
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آج سے شروع ہونے والی قومی انڈر-19 تھری ڈے چیمپئن شپ اور ون ڈے انڈر-19 کپ کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ پی سی بی کی جانب سے جاری کیے گئے مختصر اعلامیے کے مطابق، ان مقابلوں کو ناگزیر وجوہات کی بنا پر ملتوی کیا گیا ہے، اور نئے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔پی سی بی کے اعلان کے مطابق، تھری ڈے چیمپئن شپ اور ون ڈے کپ کے میچز آج سے شروع ہونے والے تھے، لیکن پہلے راؤنڈ کے پہلے روز ہی اس اعلان کے بعد، ان کھیلوں کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔ ایونٹ نئے شیڈول کے مطابق ازسرنو شروع کیا جائے گا۔ اس وقت کی صورتحال کی وجہ سے کھلاڑیوں، ٹیموں اور کرکٹ شائقین میں بے چینی پائی جاتی ہے، اور سب کی نظریں نئے شیڈول کے اعلان پر مرکوز ہیں۔
-

رحیم یار خان، غیرت کے نام پر پانچ افراد قتل
رحیم یار خان کے علاقے ماچھکہ میں غیرت کے نام پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق، یہ فائرنگ کوش قبیلے کے ایگ گروپ نے خواتین کے ساتھ تعلقات کے الزام میں دوسرے گروپ پر کی۔ فائرنگ کے بعد ملزمان کچے کے علاقے کی طرف فرار ہو گئے ہیں۔پولیس نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع دیر سے ملی جس کی وجہ سے پولیس موقع پر دیر سے پہنچی۔ پولیس نے لاشوں کو تحویل میں لے لیا ہے اور کارروائی شروع کر دی ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
-

کل رات کسی نے زبردستی کہیں نہیں بٹھایا، علی امین گنڈا پور
پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی اب منظر عام پر آچکی ہے، جو پارٹی کے اندرونی معاملات اور مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے اہم انکشافات پیش کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق، اجلاس میں ایک اہم موضوع وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی غیر حاضری کا تھا، جس پر اراکین نے وزیراعلیٰ سے سوالات کیے کہ آپ کل رات کہاں تھے؟ وزیراعلیٰ نے اراکین کو بتایا کہ وہ کل رات سرکاری حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں مصروف تھے۔وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس بات کی وضاحت کی کہ کل رات کسی نے انہیں زبردستی کہیں نہیں بٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک معمول کا اجلاس تھا، لیکن جیمر کی وجہ سے ان کا رابطہ نہیں ہوسکا۔ وزیراعلیٰ نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ وہ جلسے میں اپنے خطاب کے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی معافی مانگیں گے۔
اجلاس کے دوران، اراکین اسمبلی نے وزیراعلیٰ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ جلسے میں وزیراعلیٰ کے مؤقف کی حمایت کریں گے۔ اراکین نے فیصلہ کیا کہ آئندہ جلسوں میں مزید سخت مؤقف اپنایا جائے گا۔ اس دوران، اسمبلی فلور پر روزانہ پانچ اراکین کے حکومت اور سرکاری حکام کے خلاف سخت مؤقف اپنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اس سلسلے میں مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے سرکاری حکام سے میٹنگ کے بارے میں پارلیمانی پارٹی کو آگاہ کیا۔ بیرسٹر سیف نے مزید بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کی تیاری بھی کی گئی ہے، جس کے تحت پارٹی کی حکمت عملی اور جلسوں کے بارے میں تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔یہ اجلاس پارٹی کے مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے، جس سے پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت اور اراکین کی سیاسی سمت اور مؤقف کی وضاحت ہوتی ہے۔ -

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 4 فیصد کمی
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 4 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے عالمی معیشت اور توانائی کی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ لندن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، برینٹ خام تیل کی قیمت 69 ڈالر فی بیرل تک گر گئی ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) خام تیل کی قیمت 66 ڈالر فی بیرل کی سطح پر موجود ہے۔ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی کئی وجوہات ہیں، جن میں عالمی سطح پر طلب و رسد کے عدم توازن، بڑے پیداواری ممالک کے فیصلے، اور معاشی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ عالمی سطح پر طلب میں کمی کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر چین اور بھارت جیسے بڑے صارف ممالک میں معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے خام تیل کی طلب میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ دوسری طرف، امریکہ اور سعودی عرب جیسے بڑے پیداواری ممالک کی پیداوار میں اضافہ بھی قیمتوں میں کمی کا باعث بنا ہے۔خام تیل کی قیمت میں کمی کے عالمی معیشت پر بھی مثبت اور منفی دونوں قسم کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف، خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے صارفین کو ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں ریلیف مل سکتا ہے، جس سے عام آدمی کے اخراجات میں کمی ہوگی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
دوسری طرف، تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر وہ ممالک جو اپنی معیشت کا بڑا حصہ تیل کی برآمدات پر منحصر رکھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان ممالک کی مالیاتی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں کمی ایک ملا جلا اثر رکھتی ہے۔ ایک طرف، پاکستان کو تیل کی درآمدات کے لیے کم ادائیگی کرنا پڑے گی جس سے تجارتی خسارہ کم ہو سکتا ہے اور روپے پر دباؤ بھی کم ہوگا۔ دوسری طرف، حکومت کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اس کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کے لیے فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرے، تاکہ عوام کو براہ راست فائدہ ہو سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی یا استحکام کا دارومدار عالمی سیاسی و معاشی حالات پر ہوگا۔ اگر موجودہ حالات برقرار رہتے ہیں اور طلب میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی تو خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں۔ تاہم، اگر کسی بڑی جغرافیائی یا سیاسی صورتحال میں تبدیلی آتی ہے، تو قیمتوں میں اضافہ یا مزید کمی بھی ممکن ہے۔خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی ایک اہم پیش رفت ہے جس پر عالمی معیشت کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو نظر رکھنی ہوگی، تاکہ وہ اپنے مستقبل کے فیصلوں کو بہتر طور پر کر سکیں۔