Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ایران کے بیلسٹک میزائل روس پہنچانے کے دعوے امریکی  ردعمل

    ایران کے بیلسٹک میزائل روس پہنچانے کے دعوے امریکی ردعمل

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل روس کو فراہم کر دیے ہیں، جنہیں ممکنہ طور پر روس آنے والے ہفتوں میں یوکرین جنگ میں استعمال کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس یوکرین جنگ کے دوران اپنی فوجی طاقت کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔روس کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم روسی حکومت نے ایران کو "اہم ساتھی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حساس شعبوں سمیت تمام ممکنہ شعبوں میں دو طرفہ معاشی اور تجارتی تعاون جاری ہے اور یہ تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق، ایران کے ساتھ معاشی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
    دوسری جانب، ایران نے ان بیلسٹک میزائلوں کی روس کو فراہمی کے الزام کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسے "گمراہ کُن اطلاعات” اور "بھونڈا پروپیگنڈا” قرار دیا، جو غزہ میں نسل کشی کے لیے امریکی اور مغربی ہتھیاروں کے غیر قانونی استعمال کو چُھپانے کی کوشش ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ہتھیار دوسرے ممالک کو نہیں بھیجے جا رہے اور یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ایران اور روس کے درمیان بیلسٹک میزائلوں کی ترسیل کے الزامات پر امریکا، برطانیہ، فرانس، اور جرمنی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے روس اور ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، نئی پابندیوں میں روس اور ایران کی 10 شخصیات، 6 کمپنیاں اور بحری جہاز شامل ہیں۔ یہ پابندیاں دونوں ممالک پر دباؤ بڑھانے اور ان کی فوجی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے عائد کی گئی ہیں۔
    امریکا کے علاوہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی ایران کے ساتھ دو طرفہ فضائی سروسز پر مبنی تعاون منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام اس الزام کے تناظر میں کیا گیا ہے کہ ایران نے بیلسٹک میزائل فراہم کرکے یوکرین جنگ میں روس کی مدد کی ہے۔ یورپی ممالک کا موقف ہے کہ یہ ایران اور روس کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ایران، روس اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایران کے انکار کے باوجود مغربی ممالک کے اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خطے میں تناؤ کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے، جو عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔یہ معاملہ اب بین الاقوامی سیاست کا اہم موڑ بن چکا ہے اور دنیا کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا واقعی ایران نے بیلسٹک میزائل روس کو فراہم کیے ہیں یا یہ محض سیاسی بیانات اور پروپیگنڈا کا حصہ ہیں۔

  • چیف جسٹس کے بیان کی غلط رپورٹنگ پر سیکریٹری کا وضاحتی بیان

    چیف جسٹس کے بیان کی غلط رپورٹنگ پر سیکریٹری کا وضاحتی بیان

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ آف دی ریکارڈ گفتگو کے حوالے سے رپورٹنگ کو غلط قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس کے سیکریٹری، مشتاق احمد، نے وضاحت جاری کی ہے۔سیکریٹری چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ جب صحافی نے چیف جسٹس سے عدلیہ کی مدتِ معیاد میں توسیع کے بارے میں سوال کیا تو چیف جسٹس نے بتایا کہ "کئی ماہ پہلے وزیر قانون ہمارے چیمبر میں ملاقات کے لیے آئے تھے۔ وزیر قانون نے اس دوران بتایا کہ حکومت چیف جسٹس کی مدتِ معیاد تین سال کرنے پر غور کر رہی ہے۔مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے سیکریٹری چیف جسٹس نے کہا کہ ملاقات کے دوران وزیر قانون نے ججز کی تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کی حیثیت کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ "تجویز دی جا رہی ہے کہ ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو ایک باڈی میں تبدیل کیا جائے گا۔” اس پر چیف جسٹس نے وزیر قانون کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ "یہ پارلیمنٹ کی صوابدید ہے۔

    سیکریٹری چیف جسٹس کے مطابق، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ملاقات کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ ججز کی تقرری کے لیے مجوزہ باڈی میں اپوزیشن کے ارکان کو باہر نہیں رکھا جانا چاہیے، تاکہ اس عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جا سکے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس ملاقات میں واضح طور پر کہا تھا کہ "اگر یہ تجویز کسی فرد کے لیے مخصوص ہے اور اگر اسے نافذ کیا گیا تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔” اس بیان سے چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے اور کسی بھی قسم کی تجویز جو کسی مخصوص شخص کے لیے ہو، وہ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔سیکریٹری چیف جسٹس نے مزید بتایا کہ وزیر قانون کے ساتھ اس ملاقات میں اٹارنی جنرل اور جسٹس منصور علی شاہ بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ، سیکریٹری نے واضح کیا کہ وزیر قانون نے کبھی بھی چیف جسٹس سے کوئی نجی ملاقات نہیں کی۔چیف جسٹس کے سیکریٹری کا یہ بیان اس بات کی وضاحت کے لیے جاری کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے بیان کی کسی بھی طرح سے غلط رپورٹنگ نہیں کی جانی چاہیے، اور اس حوالے سے شفافیت اور درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

  • میاں اسلم اقبال سمیت تین ملزمان  اشتہاری قرار

    میاں اسلم اقبال سمیت تین ملزمان اشتہاری قرار

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایک اہم کیس کی سماعت کے دوران میاں اسلم اقبال سمیت تین ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ یہ کیس گلبرگ کینٹر جلانے اور کار سرکار میں مداخلت کے واقعات سے متعلق ہے، جس میں ملزمان پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی، جس میں پولیس نے عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزمان میاں اسلم اقبال، علی ملک، اور شہزاد خرم کی گرفتاری کے لیے متعدد چھاپے مارے گئے، لیکن وہ تاحال گرفتار نہیں ہو سکے ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ تینوں ملزمان نے خود کو روپوش کر رکھا ہے اور گرفتاری سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کو قانون کے مطابق اشتہاری قرار دیا جائے تاکہ ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کی بلکہ عوامی املاک کو نقصان پہنچانے میں بھی ملوث رہے ہیں۔ یہ واقعات دہشت گردی کی دفعات کے تحت آتے ہیں اور اس کیس میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
    عدالت نے پولیس کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے میاں اسلم اقبال، علی ملک، اور شہزاد خرم کو اشتہاری قرار دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیئے۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ وہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مزید اقدامات کرے اور انہیں جلد از جلد عدالت میں پیش کرے۔یہ کیس تھانہ گلبرگ میں درج کیا گیا تھا جس میں ملزمان پر دہشت گردی سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ ان واقعات نے نہ صرف مقامی کمیونٹی میں خوف و ہراس پھیلایا بلکہ عوامی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق، ملزمان کا روپوش ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے جرائم کی سنگینی سے آگاہ ہیں اور قانونی کارروائی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد ملزمان کے لیے گرفتاری کا امکان مزید بڑھ گیا ہے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پولیس پر دباؤ میں اضافہ ہو گا۔
    ملزمان کی گرفتاری کے بعد عدالت میں ان کے خلاف مقدمے کی سماعت ہو گی جس میں ان پر عائد الزامات کا جائزہ لیا جائے گا اور عدالت فیصلہ کرے گی کہ آیا وہ مجرم ہیں یا نہیں۔ اگر ملزمان گرفتار نہیں ہوتے تو ان کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے، جس میں ان کی جائیداد کی ضبطی اور دیگر پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں۔یہ واقعہ پاکستانی معاشرے میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے اور اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • یروشلم پوسٹ کا پی ٹی آئی کے حق میں آرٹیکل شائع

    یروشلم پوسٹ کا پی ٹی آئی کے حق میں آرٹیکل شائع

    اسلام آباد: اسرائیلی میڈیا کے بڑے ادارے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے حق میں کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ٹائمز آف اسرائیل کے بعد یروشلم پوسٹ نے بھی عمران خان کی حمایت میں مہم شروع کر دی ہے۔یروشلم پوسٹ نے اپنے حالیہ آرٹیکل میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں پر شور مچایا ہے، اور پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری کے ایکس پر دیے گئے بیان کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اخبار نے وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے حکومت اور فوج مخالف بیانات کو نمایاں طور پر پیش کیا ہے۔آرٹیکل میں قانون توڑنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کا ذکر کیا گیا ہے اور پی ٹی آئی کا مؤقف پیش کیا گیا ہے، لیکن گرفتاریوں پر پولیس کے مؤقف کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ یروشلم پوسٹ نے اپنے آرٹیکل میں علی امین گنڈاپور کے ریاست مخالف بیانیے کی تشہیر کی ہے، جس پر صحافتی حلقوں نے سوال اٹھائے ہیں اور اسے صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
    آرٹیکل میں پی ٹی آئی کی جانب سے پولیس پر ہونے والے پتھراؤ کا ذکر نہیں کیا گیا، نہ ہی زخمی ہونے والے سینئر پولیس افسران کا کوئی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس ساری صورتحال سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی لابی عمران خان کے حق میں کھل کر سامنے آ رہی ہے اور پی ٹی آئی کے لیے بھرپور لابنگ کی جا رہی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی میڈیا کے اس طرح کے اقدامات سے پی ٹی آئی اور عمران خان کی بین الاقوامی حمایت میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے پیچھے چھپے سیاسی مقاصد پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

  • نئے الیکشن کا انعقاد ضروری ہے،عمر ایوب خان

    نئے الیکشن کا انعقاد ضروری ہے،عمر ایوب خان

    اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ سے متعلق قانون سازی کے حوالے سے اپنے عزائم میں ناکام ہوگی اور وہ ایوان میں اکثریت ثابت نہیں کرسکے گی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کے اقدامات کو بھرپور مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔عمر ایوب خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کے لیے محمود خان اچکزئی کو اختیار دے رکھا ہے، جو اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی جماعت سے مذاکرات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے موجودہ ملکی حالات کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ معیشت روز بروز گرتی جا رہی ہے، اور عوام کے گھروں کے چولہے جلانا مشکل ہوگیا ہے۔ اسی وجہ سے نئے الیکشن کا انعقاد ضروری ہے۔

    اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ملک بھر میں جلسوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور اگلا بڑا جلسہ لاہور میں منعقد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوابی میں تاریخی جلسہ ہوا جبکہ اسلام آباد میں تمام رکاوٹوں کے باوجود جلسہ کامیاب رہا۔انہوں نے مزید بتایا کہ علی امین گنڈاپور اسلام آباد میں کسی اہم میٹنگ میں مصروف تھے اور وہاں جیمرز کی موجودگی کے باعث ان سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ وہ کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی پوری کوشش کریں گے اور اس سے قبل حفاظتی ضمانت حاصل کریں گے کیونکہ ان پر کئی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

  • نالائقوں کی 4 سالہ حکومت نے 40 سال کی ترقی کو تباہ کر دیا ہے،مریم نواز

    نالائقوں کی 4 سالہ حکومت نے 40 سال کی ترقی کو تباہ کر دیا ہے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی مخالفت کو دشمنی میں بدلنے کے رجحان نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے صوبائی وزراء، پارلیمانی اور انتظامی سیکریٹریز سے ملاقات کے دوران کہا کہ نالائقوں کی 4 سالہ حکومت نے 40 سال کی ترقی کو تباہ کر دیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے مزید کہا کہ اگر انہیں شہباز شریف کا ترقی کرتا ہوا پنجاب ملتا تو ترقی کی رفتار بہت زیادہ ہوتی۔ ن لیگ کے سابق دور میں دن رات کی محنت کو چند سالوں میں ضائع کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی اور حکومت 5 سال میں اتنی اسکیمیں نہیں لا سکتی جتنی ہم نے 6 ماہ میں متعارف کروا دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کسان کارڈ کے لیے 8 لاکھ سے زائد لوگوں نے درخواست دی ہے اور اب تک 4 لاکھ کسان کارڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔
    وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں کسان کارڈ کی ڈلیوری شروع ہو چکی ہے، جبکہ گرین ٹریکٹر اسکیم میں 10 لاکھ روپے سبسڈی دینا ایک بڑا اقدام ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے بہت محنت کی ہے، لیکن چھ ماہ میں مثالی بہتری کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ "جتنا بھی کام کرلوں، میں کبھی اپنے کام سے مطمئن نہیں ہوتی”، مریم نواز نے کہا۔انہوں نے مہنگائی میں کمی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پہلے پرائس کا گراف اوپر جاتا تھا، اب نیچے جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں آٹا 80 روپے فی کلو دستیاب ہے، جبکہ دوسرے صوبوں میں 140 روپے فی کلو ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ دودھ اور دیگر ضروری اشیاء کے نرخ بھی کم ہو رہے ہیں اور وہ ذاتی ذرائع سے ان نرخوں کی تصدیق کرتی ہیں۔ پنجاب میں 70 لاکھ صارفین کو بجلی کے بلوں میں دو ماہ تک کا ریلیف دیا گیا ہے۔
    انہوں نے اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت شہر میں 5 اور دیہات میں 10 مرلے کے پلاٹ کے مالکان 15 لاکھ روپے تک قرض لے سکتے ہیں۔ ان کا ہدف 5 لاکھ نئے گھر بنانے کا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ عوام کی مشکلات کا اندازہ دفاتر میں بیٹھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔ فیلڈ میں جا کر ہی زمینی حقائق کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "پارلیمانی سیکرٹریز بھی میرے لیے وزراء سے کم حیثیت نہیں رکھتے، آپ حکومتی امور کی انجام دہی میں میرے معاون بنیں”۔

  • بھارتی فضائیہ کی خاتون افسر نے سینئر ونگ کمانڈر کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کروا دیا

    بھارتی فضائیہ کی خاتون افسر نے سینئر ونگ کمانڈر کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کروا دیا

    نئی دہلی: بھارتی فضائیہ کی خاتون فلائنگ افسر نے اپنے سینئر ونگ کمانڈر کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، خاتون افسر نے شکایت میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ دو سال سے مسلسل جنسی ہراسانی، زیادتی اور ذہنی اذیت کا شکار رہی ہیں۔شکایت کے مطابق، نیو ایئر پارٹی کے دوران سینئر ونگ کمانڈر نے تحفہ دینے کے بہانے خاتون افسر کو اپنے کمرے میں بلا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خاتون افسر کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اس معاملے کو رپورٹ کرنے کی کوشش کی، تو انہیں حوصلہ شکنی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، دیگر خواتین افسران کی رہنمائی کے بعد ہی انہوں نے باضابطہ طور پر شکایت درج کروائی۔

    خاتون افسر نے یہ بھی الزام لگایا کہ تحقیقات کے دوران سینئر افسر کو بچانے کی کوششیں کی گئیں اور انہیں ذہنی طور پر مسلسل ہراساں کیا جاتا رہا ہے، باوجود اس کے کہ انہوں نے متعدد درخواستیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف نہ ملنے اور انتظامیہ کے رویے نے انہیں انتہائی قدم اٹھانے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔یہ واقعہ بھارت میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کی ایک اور مثال ہے، جہاں آئے روز خواتین کو جنسی ہراسانی اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کیس نے ایک بار پھر بھارت میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

  • سینیٹر عرفان صدیقی نے  تحریک انصاف کے جلسے میں   تقاریر اور لب و لہجے کو قابل مذمت قرار دیا

    سینیٹر عرفان صدیقی نے تحریک انصاف کے جلسے میں تقاریر اور لب و لہجے کو قابل مذمت قرار دیا

    اسلام آباد: سینیٹر عرفان صدیقی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حالیہ جلسے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس جلسے کے ذریعے کوئی مثبت پیغام نہیں دیا گیا۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کے جلسے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس جلسے کو ماحول خراب کرنے کی کوشش قرار دیا۔عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے 8 ستمبر کو ہونے والے جلسے میں جو تقاریر کی گئیں اور جس لب و لہجے کا استعمال کیا گیا، وہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلسے میں خواتین کے بارے میں غیر پارلیمانی زبان استعمال کی گئی، جو کہ انتہائی ناپسندیدہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پی ٹی آئی نے جلسے میں میڈیا پر الزام تراشی کی، جس سے ماحول میں بگاڑ پیدا ہوا۔
    عرفان صدیقی نے یہ بھی کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے اراکین کی گرفتاری کے معاملے پر اقدامات کیے ہیں اور وہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسپیکر قومی اسمبلی اس معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کریں گے۔سینیٹر عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کی سیاست کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جلسے اور تقاریر سے ملکی سیاست میں مزید انتشار اور تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے بیانات اور اقدامات سے گریز کریں جو ملک میں انتشار اور عدم استحکام کا باعث بنیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی سیاست مثبت انداز میں کرنی چاہیے اور عوام کو درست اور مثبت پیغامات دینے چاہئیں تاکہ ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ عرفان صدیقی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارلیمان اور سیاست میں مہذب رویے اور مثبت لب و لہجے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی سیاسی فضاء کو بہتر بنایا جا سکے۔

  • وفاقی وزیر مصدق ملک کا توجہ دلاؤ نوٹس پر تفصیلی جواب، ارسا ایکٹ میں ترمیم اور صوبائی اعتراضات

    وفاقی وزیر مصدق ملک کا توجہ دلاؤ نوٹس پر تفصیلی جواب، ارسا ایکٹ میں ترمیم اور صوبائی اعتراضات

    وفاقی وزیر مصدق ملک نے ارسا ایکٹ میں ترمیم سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں کے مسائل قومی مفاد میں ہوتے ہیں اور کسی بھی صوبے کی طرف سے اعتراض کی صورت میں اس مسئلے کو حل کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب تک کوئی ایسا قانون منظور نہیں ہوا جسے صرف ایک صوبے کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہو۔وزیر نے کہا کہ تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی کسی بھی قانون سازی کا عمل آگے بڑھے گا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ کوئی بھی مجوزہ قانون ایوانوں سے منظور ہو کر ہی لاگو ہوگا، جس سے اتحادیوں کی مشاورت کے بغیر کوئی بھی تبدیلی یا ترمیم نہیں ہوگی۔
    مصدق ملک نے مزید کہا کہ حالیہ پیش کردہ کاغذات ارسا کی جانب سے متفقہ طور پر بھیجے گئے ہیں اور ان پر تمام ارسا کے ممبران نے دستخط کیے ہیں، بشمول سندھ کے نمائندے نے بھی اس پر دستخط کر کے اس کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ترمیم یا تبدیلی کے عمل میں تمام صوبوں کی آراء کو مدنظر رکھا جائے گا تاکہ ملک بھر کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔یہ جواب وفاقی وزیر کی جانب سے اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی بھی نیا قانون یا ترمیم صوبائی تحفظات اور مشاورت کے بغیر نہیں کی جائے گی۔

  • پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری: عمر ایوب اور اسد قیصر کی شدید تنقید

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری: عمر ایوب اور اسد قیصر کی شدید تنقید

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ 9 ستمبر کو پی ٹی آئی قیادت کی گرفتاری پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی کے رہنماؤں کو قومی اسمبلی سے گرفتار کر کے لے جایا گیا، اور اسد قیصر نے اس بات پر تنقید کی کہ این او سی کے باوجود اسلام آباد اور راولپنڈی کو یرغمال بنایا گیا۔عمر ایوب نے پی ٹی آئی کے قیادت کی گرفتاری کو بین الاقوامی برادری کے سامنے ایک نیا مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ 8 ستمبر کے جلسے نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کے کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود گرفتاریاں ہوئیں، جس کے نتیجے میں انہوں نے 9 ستمبر کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔
    انہوں نے ایاز صادق پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے انٹلیجنس اداروں کو گرفتاری کی اجازت دی اور گرفتاری کے وقت قومی اسمبلی کی لائٹیں بند کردی گئیں۔ عمر ایوب نے کہا کہ مسائل کا واحد حل فوری انتخابات ہیں اور انہوں نے جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا۔ انہوں نے سپیکر ایاز صادق کو پیغام بھیجا کہ ان کے اقدام کے بدلے ان کے لوگوں کو مستقبل میں پکڑ کر کھینچا جائے گا۔اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این او سی کے باوجود اسلام آباد اور راولپنڈی کو یرغمال بنایا گیا تھا، اور انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ جو ادارے آئینی حقوق سے تجاوز کرتے ہیں، انہیں روکنا ہوگا۔ انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے بارے میں سوال اٹھایا کہ کیا وہاں موجود لوگ عوام کے نمائندے نہیں ہیں اور کہا کہ بلوچستان میں عملاً حکومت ختم ہو چکی ہے۔
    سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ملک کے جمہوری عمل پر کچھ لوگ حاوی ہیں اور ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے جمہوری عمل اور آئین کو آزادی دیں۔ انہوں نے صحافت کے حوالے سے کہا کہ صحافت ریاست کا پانچواں ستون ہے، لیکن علی امین نے صحافت میں موجود کالی بھیڑوں کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مزید ایسے حالات کا متحمل نہیں ہوسکتا اور کل کے واقعے کو پارلیمان کی توہین قرار دیا۔سلمان اکرم راجا نے سوال کیا کہ آئین کی ایسی کیا ترمیم ہے کہ لوگوں کو اغوا کیا جائے اور کہا کہ اس واقعے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ارکان کو اغوا کرکے پارلیمان میں اپنی مرضی سے آئین میں ترامیم کی جائیں۔ انہوں نے حکومت کے اقدامات کے خلاف سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا اور کہا کہ "آدھا سچ ہمیشہ جھوٹ ہوتا ہے”، اور مطالبہ کیا کہ 9 مئی کی ویڈیوز منظر عام پر لائی جائیں تاکہ حقیقت سامنے آئے۔