Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا پارلیمان میں ارکان اسمبلی کی گرفتاری پر شدید ردعمل

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا پارلیمان میں ارکان اسمبلی کی گرفتاری پر شدید ردعمل

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے قومی اسمبلی میں اپنے 10 ارکان اسمبلی کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو ملک کی جمہوریت کا سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ نقاب پوشوں نے ایوان میں داخل ہو کر ان کے ارکان اسمبلی کو گرفتار کیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ انہوں نے خود گرفتاری دینے کا ارادہ ظاہر کیا، مگر انہوں نے مزاحمت کی نہ کبھی کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسمبلی کے دروازے کے باہر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی اور نقاب پوشوں نے ان کے 10 ارکان اسمبلی کو ایوان سے اغوا کر لیا، جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں۔بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ اس بار سی سی ٹی وی ویڈیوز منظر عام پر آئیں گی جو اس کارروائی کی تصدیق کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران سختیاں ہوئیں، ماؤں بہنوں کی چادر کھینچی گئی اور ان کے کاروبار تباہ ہوئے، لیکن ان لوگوں نے ملک اور جمہوریت کی خاطر معاف کر دیا۔
    انہوں نے پارلیمان میں اپنے کردار کا دفاع کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کسی ملک میں ایسا ہوتا ہے کہ جلسہ 7 کے بجائے ساڑھے 8 بجے ختم کرنے پر کیس بن جائے؟ بیرسٹر گوہر نے عدلیہ سے درخواست کی کہ کسی بھی صورت میں توسیع عدلیہ پر قدغن ہے اور عوام عدلیہ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے عدلیہ سے متعلق کسی بھی قانون سازی کی مذمت اور مخالفت کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ کسی بھی جج کی ایکسٹینشن عدلیہ کی آزادی پر قدغن ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حالیہ سیاسی حالات میں راستے بند ہو گئے ہیں، مگر اب راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے خود کو این آر او دیا ہے اور پی ٹی آئی اقتدار میں آ کر این آر او کے قانون کو واپس لے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کے جسمانی ریمانڈ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
    بیرسٹر گوہر نے اپنے جلسے کا شیڈول برقرار رکھنے اور جلسوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے ارکان کی گرفتاری کو شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پارلیمان پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ پارلیمان کے اندر سے گرفتاری نہیں ہوسکتی، یہ پارلیمان پر حملہ تھا جس پر اسپیکر کو کارروائی کرنی چاہیے۔آخر میں، انہوں نے صحافیوں سے متعلق اپنے بیان پر کسی کی دل آزاری ہونے کی صورت میں معذرت بھی کی۔

  • سینیٹ میں فیصل واوڈا کی پی ٹی آئی پر شدید تنقید، سنگین الزامات اور انتباہ

    سینیٹ میں فیصل واوڈا کی پی ٹی آئی پر شدید تنقید، سنگین الزامات اور انتباہ

    سینیٹ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما اور موجودہ سینیٹر فیصل واوڈا نے اپنی تقریر کے دوران پارٹی پر کڑی تنقید کی اور سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کئی سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک بٹن دبا کر ان کو منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑوں گا۔فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ پنجاب، سندھ اور بلوچستان آئیں، ہم آپ کو مسٹر گنڈا پور کو مس گنڈا پور بنا کر واپس بھیجیں گے۔” اس دوران ان کا اشارہ پی ٹی آئی کے سابق وزیر علی امین گنڈاپور کی جانب تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ آئیں، اور آپ کو لٹائیں گے۔ اس بیان کے بعد سینیٹر واوڈا نے پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی کوششوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ "آپ منت ترلے کر رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ آپ سے بات کرے۔

    فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی کی قیادت پر ارشد شریف کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مراد سعید، جنرل فیض اور بانی پی ٹی آئی کو کیسے پتا تھا کہ یہ ہونے والا ہے؟ آپ نے اپنی گندی سیاست کے لیے بے گناہ آدمی ارشد شریف کو مروا دیا۔ یہ الزامات نہ صرف پی ٹی آئی کے خلاف تھے بلکہ انہوں نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا بھی ذکر کیا، جنہیں پی ٹی آئی کے ساتھ قریبی تعلقات کا الزام دیا جاتا ہے۔فیصل واوڈا کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے سینیٹرز ایوان میں واپس آگئے اور سینیٹر فلک ناز چترالی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ "ان کی کیا حیثیت ہے، یہ کیوں بول رہے ہیں؟اس پر فیصل واوڈا نے کہا کہ "میں آپ کو جانتا نہیں، آپ کی کیا حیثیت ہے؟

    حکومتی سینیٹرز فیصل واوڈا کے دفاع میں سامنے آئے اور پی ٹی آئی کے سینیٹرز کے احتجاج کو رد کیا۔ فیصل واوڈا نے اپنی تقریر میں پی ٹی آئی پر ملک کے خلاف سازشیں کرنے اور اداروں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ "آپ ملک توڑ رہے ہیں، سازش کر رہے ہیں۔فیصل واوڈا نے نیب ترمیم پر پی ٹی آئی کی مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "نیب ترمیم کی مخالف پی ٹی آئی نے سب سے پہلے اس سے مستفید ہونے کی درخواست دی۔انہوں نے مزید کہا کہ "ملکی مفادات کے خلاف پی ٹی آئی کے اقدامات کی ایک تاریخ ہے، یہ ملک توڑنے کی بات نہ کرتے تو ہم ساتھ کھڑے ہوتے۔

    فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کے تمام لوگ کمپرومائز ہیں، جلد مزید ثبوت دوں گا۔” انہوں نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے لیے منتیں کر رہی ہے اور اس دوران جنرل فیض حمید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ جنرل فیض کی گود میں بیٹھ کر آئے تھے۔
    فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ "یہ لوگ مر رہے ہیں فوج سے بات کرنے کے لیے، یہ لوگ اندر خانے معافیاں مانگتے ہیں۔” انہوں نے پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈاپور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "گنڈاپور کہتے ہیں جیل بریک کریں گے، یہی کام انہوں نے ارشد شریف کے ساتھ کیا۔فیصل واوڈا نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو انتباہ دیا کہ "ایک بٹن دبانے پر انہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑوں گا، آپ کو لاوارث اس لیے لگ رہا ہے کہ ’باپ‘ اندر ہے۔” ان کا اشارہ بانی پی ٹی آئی کی جانب تھا جو اس وقت مختلف کیسز میں ملوث ہیں۔سینیٹ اجلاس کے دوران فیصل واوڈا کی اس تقریر نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور پی ٹی آئی کے خلاف ان کے الزامات نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

  • پی ٹی آئی سینیٹر فلک ناز کی رکنیت معطل

    پی ٹی آئی سینیٹر فلک ناز کی رکنیت معطل

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینیٹر فلک ناز کو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے 2 دن کے لیے سینیٹ کی رکنیت سے معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سینیٹ کے اجلاس کے دوران کیے گئے غیر مناسب الفاظ کے استعمال کے بعد کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، سینیٹر فلک ناز نے سینیٹ کے اجلاس میں دورانِ بحث کچھ نازیبا الفاظ استعمال کیے جس پر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان کی رکنیت 2 دن کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے فلک ناز کے غیر مہذب الفاظ کو ایوان کے ریکارڈ سے بھی حذف کرنے کا حکم دیا۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ سینیٹ ایک معتبر ادارہ ہے اور اس کے تقدس کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراکینِ سینیٹ کو چاہیے کہ وہ اپنے الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برتیں تاکہ ایوان کا وقار بحال رہے۔
    پی ٹی آئی کی جانب سے سینیٹر فلک ناز کی معطلی پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن ذرائع کے مطابق پارٹی کے رہنماؤں نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے اراکین نے کہا کہ وہ اس معاملے کو پارٹی کے اندرونی سطح پر دیکھیں گے اور مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے حکمت عملی بنائیں گے۔دوسری جانب، دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین نے چیئرمین سینیٹ کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں نظم و ضبط اور شائستگی کو برقرار رکھنا ضروری ہے، اور ایسے اقدامات ضروری ہیں تاکہ غیر مناسب رویے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔سینیٹ کا اجلاس 12 ستمبر، سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران مختلف موضوعات پر بحث کی گئی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، معاشی مسائل، اور دیگر اہم قومی معاملات شامل تھے۔ تاہم، فلک ناز کی معطلی کے واقعے کے بعد ایوان کی فضا میں تناؤ پایا گیا۔
    سینیٹر فلک ناز کی معطلی کے بعد، یہ دیکھنا باقی ہے کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرے گی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا فلک ناز معطلی کے بعد ایوان میں واپس آ کر معافی مانگیں گی یا نہیں۔ ایوان میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اس قسم کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے، اور ممکن ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید اقدامات بھی کیے جائیں۔سینیٹ اجلاس کی کارروائی اور اس کے بعد کے ممکنہ سیاسی نتائج پر سب کی نظر ہے، اور ملک بھر میں عوام اس معاملے کے حل کے لیے مزید تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔

  • پی ٹی آئی کے وکیل اور ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کے درمیان ہاتھا پائی

    پی ٹی آئی کے وکیل اور ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کے درمیان ہاتھا پائی

    اسلام آباد: نجی ٹی وی ہم نیوز کے پروگرام میں پی ٹی آئی کے وکیل اظہر صدیق اور ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کوثر کاظمی کے درمیان ہاتھا پائی کی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پہلے دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جو کہ بعد میں ہاتھا پائی میں بدل گئی۔سٹوڈیو میں موجود میزبان منصور علی خان نے بار بار دونوں فریقین کو لڑائی سے روکنے کی کوشش کی، لیکن ہاتھا پائی رکنے کی بجائے بڑھتی گئی۔ سٹوڈیو عملے نے بڑی مشکل سے دونوں کو الگ کر کے جھگڑا ختم کروایا۔یہ واقعہ سیاسی اختلافات اور عدم برداشت کی مثال پیش کرتا ہے، جہاں اعلیٰ سطحی نمائندے بھی ایک دوسرے کی تنقید برداشت نہ کر پائے۔ اس قسم کی صورتحال نہ صرف پروگرام کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے بلکہ سیاسی ماحول کو بھی گرم کر دیتی ہے۔

  • سپریم کورٹ بار کا  پی ٹی آئی وکلاء کی گرفتاریوں کی مذمت ، فوری رہائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ بار کا پی ٹی آئی وکلاء کی گرفتاریوں کی مذمت ، فوری رہائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، شعیب شاہین، اور شیر افضل مروت کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ایسوسی ایشن نے گرفتاریوں کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "تینوں وکلاء سپریم کورٹ کے وکیل اور سپریم کورٹ بار کے ممبران ہیں۔ ان کی گرفتاری غیر قانونی ہے اور آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی ہے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئینی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے۔ ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ اگر وکلاء کی فوری رہائی عمل میں نہیں آئی تو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
    بار نے مزید کہا کہ وکلاء کی گرفتاری سیاسی انتقام کے مترادف ہے، جس کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔ ان گرفتاریوں کو آزاد عدلیہ اور اظہار رائے کے حق پر حملہ قرار دیتے ہوئے، سپریم کورٹ بار نے ملک کی عدلیہ کی آزادی اور وکلاء کے حقوق کی تحفظ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔یہ اقدام پی ٹی آئی کے لیڈران کی سیاسی سرگرمیوں کے دوران سامنے آیا ہے، جسے بار نے غیر ضروری اور بلاجواز قرار دیا۔ اس صورتحال نے ملک بھر کے وکلاء اور انسانی حقوق کے حامیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جو آزادی اظہار اور قانونی حقوق کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں۔

  • وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور

    وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے ہمیں سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے جلسے میں استعمال کی گئی نازیبا زبان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی زبان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔اتحادی جماعتوں کے پارلیمنٹیرینز کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے اشارہ کیا کہ اگست کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 9.6 فیصد پر آنا معیشت میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے اور اس میں حکومتی اقدامات کا کردار اہم ہے۔وزیرِ اعظم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اتحادی جماعتوں کے پارلیمنٹیرینز نے حالیہ معاشی استحکام پر اعتماد کا اظہار کیا اور ان کی قیادت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر میں افراط زر کی شرح میں مزید کمی کی پیشگوئی قوم کے لیے خوشخبری ہے۔

    شہباز شریف نے بتایا کہ 2018 میں بھی افراط زر کی شرح کو سنگل ڈیجیٹ پر چھوڑا گیا تھا، اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملک میں بتدریج بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے اپریل 2022 میں ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کی جدوجہد کو کامیاب قرار دیا اور کہا کہ اس جدوجہد کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی کی ابتدا بھی ہوئی ہے۔
    وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنی سیاست کی قربانی دے کر ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، اور معاشی ٹیم کی محنت کی بدولت معیشت مستحکم ہوئی اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے عوام سے عہد کیا تھا کہ ان کی پریشانیوں کو کم کرکے ہی دم لیں گے، اور آج حکومتی معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج عوام کی خوشحالی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

    وزیرِ اعظم نے معیشت کی ڈیجیٹائزیشن کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ بجلی کے بلوں میں غریب اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور خرچے میں کمی کے حوالے سے رائٹ سائزنگ اور ڈاؤن سائزنگ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔وزیرِ اعظم نے ملک کو سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ نواز شریف کی قیادت میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا تھا، لیکن بدقسمتی سے دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے عزم کا اظہار کیا۔

  • علی امین اور پی ٹی آئی بڑھکیں رنگ بازی سے زیادہ کچھ نہیں،خواجہ آصف

    علی امین اور پی ٹی آئی بڑھکیں رنگ بازی سے زیادہ کچھ نہیں،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے علی امین کی باتوں کو محض "رنگ بازی” قرار دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کے خلاف ان کے 15 دن گزرنے کے بعد کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر گنڈاپور سیاسی عزائم لے کر پنجاب آئیں گے تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا، لیکن اگر ان کے عزائم سیاسی نہ ہوئے تو پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اب کوئی رنجش یا ناراضی نہیں رہی، اور دو ایک روز میں اس پر مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ وزیر دفاع نے بانی پی ٹی آئی کی مایوسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حالیہ جلسے اور بنگلادیش کی مثالیں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی قوم کو ضرورت ہے اور ان کی طویل جدوجہد کو مدنظر رکھتے ہوئے، پی ٹی آئی کے ایک سال کی مشکلات کو کم اہمیت دی جانی چاہیے۔

  • پُرامن احتجاج کے قانون کا مقصد انتظامی حقوق کا توازن برقرار رکھنا ہے، سینیٹر عرفان صدیقی

    پُرامن احتجاج کے قانون کا مقصد انتظامی حقوق کا توازن برقرار رکھنا ہے، سینیٹر عرفان صدیقی

    سینیٹر عرفان صدیقی نے سینیٹ اجلاس میں احتجاجی قوانین پر تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے مہذب ممالک میں پُرامن احتجاج کو منظم کرنے کے لیے مخصوص قوانین موجود ہیں۔ انہوں نے جمعہ کے روز اپوزیشن کی جانب سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر اظہار تشکر کیا اور شبلی فراز کی جانب سے پُرامن احتجاج کے متعلق قانون پر تنقید کا جواب دیا۔عرفان صدیقی نے سینیٹ میں نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے شبلی فراز کے بیان کو نظر انداز کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج کے حوالے سے قانون کوئی نیا نہیں ہے، بلکہ یہ پانچ جماعتوں کی جانب سے پیش کردہ بل پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کا مقصد احتجاج کو منظم کرنا اور اس کے اثرات کو معتدل رکھنا ہے تاکہ عوامی اور انتظامی حقوق کا توازن برقرار رہے۔
    انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں پُرامن احتجاج کے حوالے سے تین سخت قوانین ہیں جن میں 10 سال تک کی سزا بھی شامل ہے۔ اسی طرح امریکہ میں بھی پُرامن احتجاج کو منظم کرنے کے لیے مخصوص قوانین موجود ہیں۔سینیٹر صدیقی نے مزید کہا کہ یہ قانون انتظامیہ کے اختیارات کو بے لگام کرنے سے روکنے کے لیے ہے اور اس میں احتجاج کرنے والوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ عام عوام کے حقوق کا بھی تحفظ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قانون کنٹینرز لگا کر کروڑوں روپے خرچ کرنے اور راستے بند کرنے سے متعلق نہیں ہے، بلکہ یہ قانون احتجاج کے منظم اور پُرامن ہونے کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔یہ بیان سینیٹر صدیقی نے سینیٹ اجلاس میں کیا، جہاں انہوں نے واضح کیا کہ پُرامن احتجاج کا حق ہر شہری کا ہے، لیکن اس حق کو منظم کرنے اور عوامی سہولت کے لیے قوانین کی ضرورت ہے۔

  • ڈی آئی خان: وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پر حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی

    ڈی آئی خان: وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پر حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی

    ڈی آئی خان میں وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ اور ان کے عملے پر حملہ کیا گیا ہے۔ حملے میں وائس چانسلر اور ان کا عملہ محفوظ رہا۔ واقعہ کے بعد، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وائس چانسلر پر حملے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وائس چانسلر ڈاکٹر شکیب اللہ پر فائرنگ کے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گومل یونیورسٹی، زرعی یونیورسٹی، اور لکی مروت یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر پر حملہ افسوسناک ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ حملے میں وائس چانسلر اور ان کے ساتھیوں کے محفوظ رہنے پر اللہ کا شکر گزار ہیں۔ انہوں نے اس واقعے پر صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا، کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور قانون کی عملداری کی کمی دکھائی دے رہی ہے۔

  • پارلیمنٹ میں موجود پی ٹی آئی ارکان کی  سپیکر قومی اسمبلی سے مداخلت کی اپیل

    پارلیمنٹ میں موجود پی ٹی آئی ارکان کی سپیکر قومی اسمبلی سے مداخلت کی اپیل

    اسلام آباد: پارلیمنٹ میں موجود پی ٹی آئی کے ارکان نے سپیکر قومی اسمبلی سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ پی ٹی آئی ایم این ایز نے اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور سپیکر سے درخواست کی کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں۔ذرائع کے مطابق، پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے ارکان میں صاحب زادہ حامد رضا، شیخ وقاص اکرم، زین قریشی اور احمد چھٹہ شامل ہیں۔ یہ ارکان اس وقت پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود ہیں، جبکہ پارلیمنٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے تعینات ہے۔پولیس نے ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے ہیں۔ ڈی چوک، نادرا چوک، سرینا ہوٹل اور میریٹ ہوٹل کے مقامات سے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ریڈ زون میں داخلے اور باہر جانے کے لیے صرف مارگلا روڈ کا راستہ کھلا ہے، جس سے علاقے میں مزید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔شیخ وقاص اکرم، صاحب زادہ حامد رضا، زین قریشی اور شاہد خٹک بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود ہیں، اور ان کے مطابق، پولیس کی کارروائیوں نے پارلیمنٹ کے اندر موجود ارکان کو شدید مشکلات کا سامنا کرایا ہے۔یہ صورت حال ملک کی سیاسی فضا کو مزید کشیدہ بنا رہی ہے اور پی ٹی آئی کے ارکان نے سپیکر قومی اسمبلی سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ ارکان کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور پارلیمنٹ کے کام کاج کو جاری رکھا جا سکے۔