Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • اسمبلی سے نکلتے ہی پولیس نے ن لیگ کی ایم این اے شائستہ جدون کی گاڑی روک دی

    اسمبلی سے نکلتے ہی پولیس نے ن لیگ کی ایم این اے شائستہ جدون کی گاڑی روک دی

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی گرفتاریاں جاری ہیں، اور اس دوران ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے اسمبلی سے نکلتے وقت ن لیگ کی ایم این اے شائستہ جدون کی گاڑی کو روک دیا، حالانکہ وہ پی ٹی آئی کے رکن کے طور پر شناخت کی گئی تھیں۔ جب شائستہ جدون اپنی گاڑی میں اسمبلی سے نکل رہی تھیں، پولیس اہلکاروں نے انہیں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے مشتبہ رکن کے طور پر روکا۔ شائستہ جدون نے گاڑی کا شیشہ کھول کر پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ وہ ن لیگ کی ایم این اے ہیں۔ اس پر ویڈیو بنانے والے افراد نے قہقہے بلند کیے.
    یہ واقعہ اس وقت ہوا جب پولیس نے اسمبلی کے اندر اور باہر پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کی گرفتاریوں اور چھاپوں کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق، پولیس نے پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کو اسمبلی سے گرفتار کر لیا ہے اور کچھ کے خلاف چھاپے مارے جا رہے ہیں۔یہ واقعہ نہ صرف شائستہ جدون بلکہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے لیے بھی توجہ کا باعث بنا ہے، اور اس نے سیاسی حلقوں میں مزید بحث و مباحثے کو جنم دیا ہے۔ شائستہ جدون نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے اس اقدام سے ان کے ساتھ غیر ضروری مشکلات پیش آئیں۔

  • صدر آصف علی زرداری کی جانب سے سیاسی قیادت کے اعزاز میں عشائیہ

    صدر آصف علی زرداری کی جانب سے سیاسی قیادت کے اعزاز میں عشائیہ

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایوانِ صدر میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ اس موقع پر چیئرمین سینیٹ، گورنر پنجاب اور خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت اہم ملکی سیاسی قیادت نے شرکت کی۔عشائیے میں اے این پی کے صدر و سینیٹر ایمل ولی خان، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین، سابق نگران وزیراعظم و سینیٹر انوار الحق کاکڑ، اور صدر استحکام پاکستان پارٹی عبد العلیم خان سمیت دیگر اہم سیاسی رہنما موجود تھے۔صدر زرداری نے اپنے خطاب میں پارلیمانی جمہوریت کو مزید مضبوط کرنے اور سیاسی استحکام کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش سیاسی، اقتصادی، اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی اتحاد کی ضرورت ہے۔
    صدر مملکت نے رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینے، اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح اور معاشی خوشحالی کے لیے سیاسی، معاشی، اور گورننس اصلاحات ناگزیر ہیں، اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر پرعزم طریقے سے کام کرنا ہوگا۔ صدر زرداری نے محاذ آرائی کی سیاست کے خلاف اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکی مفاد کے لیے اختلافات کے باوجود متحد ہو کر کام کرنا ضروری ہے۔ عشائیے کے دوران سیاسی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے استحکام اور عوامی ریلیف کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں، اور صدر مملکت کی سیاسی دانشمندی اور وژن کو سراہا۔

  • پشاور: بیرسٹر سیف کی پی ٹی آئی رہنماوں کی گرفتاری پر شدید مذمت

    پشاور: بیرسٹر سیف کی پی ٹی آئی رہنماوں کی گرفتاری پر شدید مذمت

    پشاور— پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر سیف نے شیرافضل مروت اور شعیب شاہین کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت "اوچھے ہتھکنڈوں” پر اتر آئی ہے اور پی ٹی آئی کے رہنماوں کو کامیاب جلسے کی سزا دی جارہی ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ایک بیان میں الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماوں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے اور حکومت جان بوجھ کر حالات کو خراب کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام حکومت کی اپنی ڈوبتی سلطنت کو مزید وقت دینے کی ناکام کوشش ہے۔بیر سٹر سیف نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے آج دن سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا، اور علی امین گنڈا پور سے بھی کوئی رابطہ ممکن نہیں ہو رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ نے بتایا تھا کہ وہ اسلام آباد جا رہے ہیں اور کسی میٹنگ میں شرکت کرنی ہے، لیکن خیبر پختونخوا کے اسٹاف کا نمبر بھی بند جا رہا ہے۔
    انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کی باتوں کا بھی ذکر کیا، اور کہا کہ حکومت کی حرکتوں سے واضح ہوتا ہے کہ وہ "خودکشی کرنے پر تلی ہوئی ہے”۔ بیرسٹر سیف نے اس بات پر زور دیا کہ "جعلی حکومت” حالات کی ذمہ دار ہے اور پی ٹی آئی اس فسطائیت پر خاموش نہیں بیٹھے گی .بیر سٹر سیف نے حکومت کے اقدامات کو "جعلی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ایسے اقدامات کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی اور عوام کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

  • پنجاب وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا  علی امین گنڈا پور کو  سخت الفاظ میں جواب

    پنجاب وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا علی امین گنڈا پور کو سخت الفاظ میں جواب

    لاہور— وزیر اطلاعات و نشریات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈا پور پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ "غنڈا اور موالی والی زبان” استعمال کر رہے ہیں۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے، بخاری نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کی زبان کی نوعیت ایسی ہے جو پہلے بھی پی ٹی آئی کی جانب سے استعمال کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا، "ہم ڈھول پھاڑ کر گلے میں ڈال کر واپس بھجوائیں گے، عظمیٰ بخاری نے پنجاب پولیس کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "پنجاب پولیس نشیئوں کے نشے بہت اچھے طریقے سے اتارنا جانتی ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ علی امین گنڈا پور نے جلسے میں پنجاب سے جانے والوں کی تعداد کو کم ظاہر کیا اور اعلان کیا کہ پنجاب میں ان کے جلسوں کو ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی جلسے کی اجازت مانگے گی تو وزیراعلیٰ پنجاب اس معاملے کو دیکھیں گی۔عظمی بخاری نے علی امین گنڈا پور کی زبان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "انہیں شرافت کی زبان سمجھ نہیں آتی، اور انہوں نے ایسی باتیں پہلی بار نہیں کی ہیں”۔

  • علی امین گنڈا پور کے بیان پر  عمر ایوب شبلی فراز اور  بیر سٹر گوہر کی معذرت

    علی امین گنڈا پور کے بیان پر عمر ایوب شبلی فراز اور بیر سٹر گوہر کی معذرت

    گزشتہ روز اسلام آباد کے سنگجانی کی مویشی منڈی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے صحافیوں کے خلاف دیے گئے بیان کے بعد پارلیمنٹ کی پریس گیلری سے صحافیوں نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ علی امین گنڈاپور نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ عوام ان صحافیوں کو پہچانیں جو "قلم بیچ رہے ہیں”۔ اس بیان نے صحافیوں میں شدید ردعمل کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں انہوں نے پارلیمانی کارروائی سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
    واک آؤٹ کے بعد پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر پریس گیلری میں پہنچے اور صحافیوں کو منانے کی کوشش کی۔ عمر ایوب نے علی امین گنڈاپور کے ریمارکس پر غیر مشروط معذرت کی اور صحافیوں کو یقین دہانی کروائی کہ علی امین گنڈاپور بھی صحافیوں سے معافی مانگیں گے۔ اس یقین دہانی کے بعد پارلیمانی رپورٹرز نے اپنا بائیکاٹ ختم کر دیا۔
    اس واقعے کے بعد میڈیا میں مختلف آراء اور تجزیے سامنے آئے ہیں۔ کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کی جانب سے صحافیوں پر اس طرح کے الزامات لگانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ یہ جمہوری اصولوں کے بھی منافی ہے۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، اور ایسے بیانات صحافیوں کی آزادی اور خودمختاری پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔صحافیوں کی جانب سے علی امین گنڈاپور کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ صحافت کو دبانے کی کوشش کسی بھی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ صحافیوں کے مطابق، عوامی نمائندے کو اپنے الفاظ کے انتخاب میں محتاط رہنا چاہیے اور کسی بھی طرح کے الزام تراشی سے گریز کرنا چاہیے۔

    دوسری جانب، شبلی فراز نے بھی اس تنازعے کے حل کے لیے کوششیں کیں اور صحافیوں کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت آزادی صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے اور علی امین گنڈاپور کا بیان تمام صحافیوں سے متعلق نہیں تھا بلکہ ان کا مقصد صرف چند افراد پر تنقید کرنا تھا جو اپنے قلم کو فروخت کر رہے ہیں۔علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیان نے ایک مرتبہ پھر سیاسی حلقوں اور میڈیا کے درمیان تعلقات میں تناؤ کو جنم دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے اس حوالے سے مزید کوئی وضاحت یا معافی سامنے آتی ہے یا نہیں۔ اس تمام صورتحال کے دوران، پارلیمانی صحافیوں کی جانب سے احتجاج اور بائیکاٹ ایک واضح پیغام ہے کہ صحافت کی آزادی اور صحافیوں کی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • ایوان بالا میں وزیر خزانہ اور سینیٹر شبلی فراز کے درمیان تلخ کلامی

    ایوان بالا میں وزیر خزانہ اور سینیٹر شبلی فراز کے درمیان تلخ کلامی

    سینیٹ میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر شبلی فراز کے درمیان تلخ کلامی کا واقعہ پیش آیا۔ یہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب شبلی فراز نے وزیر خزانہ سے سوال کیا کہ ان کے پاس ملک کی معیشت کے حوالے سے کیا پلان ہے۔شبلی فراز نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، "آپ بتائیں کہ آپ کے پاس کیا اکنامک پلان ہے؟” وزیر خزانہ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، "میں دو گھنٹوں سے آپ کی باتیں سن رہا ہوں، مجھے بھی بات کرنے کا موقع دیں۔” شبلی فراز نے وزیر خزانہ کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا، "آپ نے مجھ پر احسان کیا ہے، آپ ایوان میں نئے ہیں۔اس موقع پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن شیری رحمان نے شبلی فراز کو تنبیہ کی کہ ذاتیات پر نہ جائیں اور بحث کو پروفیشنل انداز میں جاری رکھیں۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کو جلد ہی معیشت کے حوالے سے بریفنگ دیں گے۔ انہوں نے مہنگائی کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا، "مہنگائی اب سنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے، روپے کی قدر مستحکم ہے، اور ترسیلات زر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ میکرو اکنامک استحکام بہت اہم ہے اور حکومت کو مالیاتی نظم و ضبط قائم کرنا ہوگا۔وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ حکومت کا کام بزنس کرنا نہیں، بلکہ پرائیویٹ سیکٹر کو کاروبار چلانا ہے۔ "میں خود پرائیویٹ سیکٹر میں نوکری کر کے آیا ہوں۔” انہوں نے بجٹ میں آئی ٹی سیکٹر کے بجٹ کو بڑھانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایکوسسٹم بہتر ہوگا اور فری لانسرز مارکیٹ کو فائدہ ہوگا۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ چھوٹے سیکٹر کو آسان قرضے فراہم کرنے پر کام جاری ہے اور ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن پر توجہ دی جا رہی ہے۔محمد اورنگزیب نے تنقید کی کہ اگر ٹیکس اتھارٹی بہتر نہیں ہوگی تو مسائل درپیش ہوں گے۔ "یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم کہیں کہ ہم ٹیکس اس لیے نہیں دیں گے کہ ادارے منظم نہیں ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ملک میں سٹرکچرل ریفارمز لانے کا ارادہ رکھتی ہے اور اگر تین نکاتی ایجنڈا پر کامیابی حاصل کر لی گئی تو یہ ممکنہ طور پر آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو گا۔

  • خیبرپختونخوا دہشتگردی کے رحم و کرم پر، ریاستی اداروں کے کردار پر تحفظات ہے ،  ایمل ولی خان

    خیبرپختونخوا دہشتگردی کے رحم و کرم پر، ریاستی اداروں کے کردار پر تحفظات ہے ، ایمل ولی خان

    اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور ریاستی اداروں کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹ کے اجلاس میں نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشتگردی کا شکار ہے، اور پولیس کے جاتے ہی رات کے وقت دہشتگرد علاقے میں آ جاتے ہیں۔ایمل ولی خان نے لکی مروت کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے فوج کو بلانے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ "دہشتگرد جانے اور پولیس جانے”۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیا جائے؟انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی جوڈیشل انکوائری کمیشن کے ذریعے تحقیقات کی جائیں اور بتایا جائے کہ معاہدے کے نکات کیا ہیں؟ انہوں نے استفسار کیا کہ 40 ہزار دہشتگردوں کو واپس کیوں بسایا گیا؟ اگر معاہدہ کرنے والے سہولت کار ہیں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
    خیبرپختونخوا میں سستی بجلی کی پیداوار کے حوالے سے بھی ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا کہ آئی پی پیز چارجز خیبرپختونخوا سے نکالے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ چارجز ختم نہ کیے گئے تو اے این پی تحریک چلائے گی۔سینیٹر ایمل ولی خان نے سینیٹر ہدایت اللہ کی شہادت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کی قربانی کو بھول گئے ہیں۔ جس پر وفاقی وزیر شیری رحمان نے آئی پی پیز اور سینیٹر ہدایت اللہ شہید کے معاملے کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کرنے کا اعلان کیا۔

  • ارشد شریف کے قتل سے قبل عمران خان کو بڑی کارروائی کا علم تھا،فیصل واوڈا

    ارشد شریف کے قتل سے قبل عمران خان کو بڑی کارروائی کا علم تھا،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کو اینکر پرسن اور صحافی ارشد شریف کے قتل سے پہلے ہی معلوم تھا کہ کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے۔ فیصل واوڈا نے یہ بات نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔فیصل واوڈا نے پروگرام کے دوران عمران خان کی ایک مبینہ آڈیو کلپ کا ذکر کیا جو انہوں نے حامد میر کو بھیجی تھی۔ اس آڈیو میں عمران خان نے کہا تھا، "میں احتجاج کا اعلان 30 اکتوبر کو یا پھر اتوار کو کروں گا۔” فیصل واوڈا نے کہا کہ اس آڈیو کلپ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کو پہلے سے ہی اس بات کا علم تھا کہ کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے۔
    فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیان کے بعد پی ٹی آئی کے پاس اب کوئی راہ فرار نہیں بچی ہے۔ "9 مئی کے واقعات میں انہی کا مائنڈ سیٹ شامل تھا،” واوڈا نے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیان کے بعد پی ٹی آئی کے بانی کی زندگی کی ذمے داری اب علی امین گنڈاپور پر آتی ہے۔سینیٹر فیصل واوڈا نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید پر بھی سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کے مطابق، علی امین گنڈاپور کی گرفتاری سے پتہ چلا ہے کہ وہ جنرل (ر) فیض کے ساتھ رابطے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ "جنرل (ر) فیض کو معلوم ہے کہ ان کے وزیر اعلیٰ کے دن گنے جا چکے ہیں۔” مزید برآں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ جنرل (ر) فیض اور ان کا بھائی بدعنوانی میں ملوث ہیں، اور ان کے اثاثوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے پاس ان کی نااہلی کے لیے مناسب بنیاد موجود ہے۔
    فیصل واوڈا کے یہ بیانات پی ٹی آئی کے لیے مزید مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں، خاص طور پر 9 مئی کے واقعات کے بعد سے پارٹی کو درپیش قانونی اور سیاسی چیلنجز کے تناظر میں۔ فیصل واوڈا کے الزامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں بھی تناؤ موجود ہے اور بعض افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی باتیں ہو رہی ہیں۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی اور اس کے رہنماؤں کو مختلف قانونی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ فیصل واوڈا کی جانب سے عمران خان، علی امین گنڈاپور، اور جنرل (ر) فیض پر لگائے گئے الزامات نے اس بحث کو مزید گرم کر دیا ہے کہ آیا پارٹی کے اندرونی معاملات میں کوئی بڑا دھچکا آنے والا ہے یا نہیں۔

  • پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری: بیرسٹر گوہر، عامر ڈوگر، اور محمود خان اچکزئی بھی گرفتار

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں میں نیا موڑ آیا ہے، کیونکہ شیر افضل مروت، شعیب شاہین اور بیرسٹر گوہر کے بعد عامر ڈوگر، محمود خان اچکزئی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، شیر افضل مروت کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا، جبکہ شعیب شاہین کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ شیر افضل مروت نے گرفتاری کے وارنٹ طلب کیے اور گاڑی سے باہر آنے سے انکار کیا، جس کے بعد انہیں نئے قانون کے تحت قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور پولیس کے ساتھ تصادم کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔بیرسٹر گوہر کی گرفتاری کے بعد، پی ٹی آئی کے مزید رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عامر ڈوگر کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔محمود خان اچکزئی، جو کہ ایک اہم سیاسی شخصیت ہیں، کی بھی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔
    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے اور ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ ڈی چوک، نادرا چوک، سرینا، اور میریٹ ہوٹل کے مقام سے ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے، اور داخلے اور باہر جانے کے لیے صرف مارگلا روڈ کا راستہ کھلا ہے۔پولیس نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن لیڈر اور دیگر لوگوں کے چیمبروں کو لاک کر دیا ہے، اور پی ٹی آئی کے رہنما سروس برانچ کے کمروں میں چھپ گئے ہیں۔ علی محمد خان پارلیمنٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے، اور پولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا۔ زرتاج گل نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپنے بیان میں کہا کہ وہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی لیڈر ہیں اور ان پر دہشتگردی کا الزام بے بنیاد ہے۔ انہوں نے وضاحت طلب کی کہ ان کے خلاف درج مقدمات میں کیا جرم ثابت کیا جا رہا ہے، حالانکہ جلسے کا این او سی بھی موجود تھا یہ گرفتاریاں اور پارلیمنٹ ہاؤس کی سیکیورٹی کی صورتحال ملک بھر میں سیاسی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف جاری کارروائیوں سے قانونی اور سیاسی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جو پارٹی کی قیادت اور حامیوں میں مزید بے چینی پیدا کر سکتے ہیں۔
    قبل ازیں، قومی اسمبلی اجلاس کے دوران، زرتاج گل نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی لیڈر ہیں اور ان پر دہشتگردی کا الزام لگانا بے بنیاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ڈیڑھ لاکھ ووٹ لے کر پارلیمنٹ میں جگہ بنائی ہے اور جلسے کا این او سی بھی موجود تھا۔ ان کے خلاف 47 مقدمات درج ہیں، اور انہوں نے وضاحت طلب کی کہ ان کے خلاف کیا جرم ثابت کیا جا رہا ہے۔پارلیمنٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ ڈی چوک، نادرا چوک، سرینا، اور میریٹ ہوٹل کے مقام سے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، اور یہاں تک کہ داخلے اور باہر جانے کے لیے صرف مارگلا روڈ کا راستہ کھلا ہے۔
    یہ گرفتاریاں اور پارلیمنٹ ہاؤس کی سیکیورٹی کی صورتحال ملک بھر میں سیاسی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف جاری کارروائیوں سے قانونی اور سیاسی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جو پارٹی کی قیادت اور حامیوں میں مزید بے چینی پیدا کر سکتے ہیں۔پارلیمنٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی رہنما کی موجودگی اور سیکیورٹی کی صورت حال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیانات کے مطابق مزید کارروائیاں متوقع ہیں، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ریڈ زون کے ارد گرد سیکورٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے دیگر رہنما بھی متوقع طور پر مزید گرفتاریوں کے خدشے کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال سیاسی طور پر بھی اہمیت رکھتی ہے، اور آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں سیکیورٹی کی صورتحال میں مزید پیچیدگیوں کا امکان ہے۔

  • تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    اسلام آباد کے علاقے سنگجانی میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور اس کی قیادت کو انقلابی حکمت عملی کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحریک انصاف کو لاکھوں لوگوں کی حمایت حاصل ہے، لیکن اتنی بڑی عوامی حمایت کے باوجود وہ انقلاب لانے میں ناکام کیوں ہے۔ محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں کہا، "میں آج عمران خان کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آج تک دنیا میں جتنے بھی انقلاب آئے ہیں، چاہے وہ مذہبی ہوں یا سیاسی، کسی بھی انقلاب کو پی ٹی آئی سے بڑی حمایت حاصل نہیں تھی۔” انہوں نے پی ٹی آئی کے حامیوں کی بڑی تعداد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان خوش قسمت ہیں کہ انہیں اتنی بڑی عوامی حمایت ملی ہے، لیکن پھر بھی انقلاب نہیں آ رہا۔

    انہوں نے کہا کہ "لاکھوں لوگوں کا ساتھ ہونے کے باوجود پی ٹی آئی کا انقلاب کیوں نہیں آ رہا؟ انقلاب کے لیے بنیادی چیز تنظیم ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کارکنان کی عمران خان سے محبت اور عشق اپنی جگہ، لیکن تنظیم کی کمی ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ صرف بڑی تعداد میں لوگ جمع کر لینے سے انقلاب نہیں آ سکتا، بلکہ اس کے لیے ایک منظم اور مضبوط تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے جو عوامی حمایت کو صحیح طریقے سے استعمال کر سکے۔محمود خان اچکزئی نے جلسے کی بدنظمی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جلسے کے دوران لوگوں کی جیبیں کٹ جاتی ہیں، کپڑے پھٹ جاتے ہیں، اور لوگ اسٹیج سے نیچے گر جاتے ہیں۔ "آپ اندازہ لگائیں کہ جب آپ اسٹیج پر چڑھتے ہیں تو لوگوں کے کپڑے پھٹ جاتے ہیں، لوگوں کی جیبیں کٹ جاتی ہیں، لوگ اسٹیج سے نیچے گرتے ہیں۔ ایسا مجمع انقلاب نہیں لا سکتا۔” انہوں نے کہا کہ ایسی حالت میں انقلاب کی توقع کرنا ممکن نہیں جب کہ اس میں بنیادی شرائط، خصوصاً تنظیم، کی کمی ہو۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے پاس اس وقت تاریخی موقع ہے کیونکہ "آج تک کسی بھی لیڈر کو عوام کی اتنی بڑی حمایت حاصل نہیں ہوئی ہے۔” لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ یہ حمایت پاکستان کو انقلاب کی طرف بھی لے جا سکتی ہے اور بربادی کی طرف بھی۔ "اس حمایت سے پاکستان انقلاب یا بربادی کے دورائے پر کھڑا ہے۔ انقلاب ووٹ کے ذریعے آ چکا ہے،” انہوں نے کہا، جو کہ ایک اشارتاً پیغام ہے کہ عوامی حمایت کو منظم طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ وہ مثبت تبدیلی لا سکے۔محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ انقلاب کے لیے صرف جوش و جذبہ کافی نہیں ہوتا بلکہ ایک منظم حکمت عملی اور پختہ عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے عمران خان اور پی ٹی آئی کی قیادت کو تنظیمی ڈھانچے کی مضبوطی پر توجہ دینے کی ترغیب دی تاکہ ملک میں حقیقی اور دیرپا تبدیلی لائی جا سکے۔ ان کے اس خطاب کو سیاسی حلقوں میں کافی پذیرائی ملی ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور قیادت کے لیے ایک واضح پیغام موجود ہے۔