Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • حکومت اور اپوزیشن جماعتیں ذاتی جائیدادیں اور بینک بیلنس بنانے میں مصروف ہیں ،حافظ نعیم الرحمان

    حکومت اور اپوزیشن جماعتیں ذاتی جائیدادیں اور بینک بیلنس بنانے میں مصروف ہیں ،حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمان، نے کہا ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتوں کا اصل مسئلہ پانی، بجلی، گیس اور پٹرول نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کی ملک گیر ممبر سازی مہم کے سلسلے میں لانڈھی نمبر ساڑھے تین پر ضلع کورنگی کے دورے کے دوران کارکنان اور میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اس وقت ملک پر جاگیرداروں، سرمایہ داروں، ڈکٹیٹروں کے آلہ کار اور عدلیہ پر مشتمل حکمران ٹولہ مسلط ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ملک کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی بڑی جائیدادیں ہیں، جن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جاتا۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں صرف اپنی ذاتی جائیدادیں اور بینک بیلنس بنانے میں مصروف ہیں۔ "ملک کے مسائل کے حل کے لیے ان گرتی ہوئی دیواروں کو ایک اور دھکا دینے کی ضرورت ہے،” انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا۔
    حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ ملک پر مسلط حکمرانوں نے آئی پی پیز کے ساتھ ظالمانہ معاہدے کیے ہیں، جن کی وجہ سے عوام اذیت میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کو پاکستان کی غریب عوام کی سب سے بڑی توانا آواز قرار دیا اور کہا کہ ملک کی یوتھ جماعت اسلامی کا حصہ ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی جاری حق دو عوام تحریک اور ممبر سازی مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم پورے ملک میں جاری ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی پورے پاکستان میں 50 لاکھ ممبر شپ کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جماعت اسلامی کی ممبر سازی مہم کا حصہ بنیں اور جماعت اسلامی کا دست و بازو بنیں۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ پورے اعتماد کے ساتھ عوام میں جائیں اور ممبر سازی مہم چلائیں۔ "ہمیں اس ظالمانہ نظام اور کرپٹ ٹولے کے خلاف لڑنا ہوگا اور ایک مضبوط آواز بننا ہوگا،حافظ نعیم الرحمان نے جماعت اسلامی کی راولپنڈی میں 15 دن کے دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دھرنے میں بچوں، بوڑھوں، جوانوں، مردوں اور خواتین نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ہم نے دھرنا ختم نہیں کیا بلکہ مؤخر کیا ہے اور حکومت کا مسلسل تعاقب کر رہے ہیں۔ اگر معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوا تو ہمیں اسلام آباد جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔”

  • پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے کو عوام کی جانب سے مسترد کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔عطا تارڑ نے ایک بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے جلسے میں شرکت کے لیے جن لاکھوں لوگوں کے باہر نکلنے کی توقع کی جا رہی تھی، وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ جلسے کی ناکامی کو چھپانے کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی اور ویڈیو چلائی جا رہی ہے، حالانکہ حقیقت بتانی چاہیے تھی۔ وفاقی وزیر نے مشورہ دیا کہ بہتر ہوتا اگر جلسے کی ڈرون فوٹیج شیئر کر لی جاتی تاکہ سب کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ انہوں نے جلسے کو طنزیہ انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا جلسہ ایسا تھا جیسے "کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا، وہ بھی مرا ہوا۔”عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی چاہے جو بھی کر لے، انہیں اپنے کیسز کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتساب کا عمل رکنے والا نہیں ہے، اور پی ٹی آئی کو توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کے کیسز کا جواب دینا پڑے گا۔

  • خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پنجاب میں جلسہ کرنے اور بنگلہ دیش کا حوالہ دے کر دھمکی دی، جس پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ علی امین گنڈاپور نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ "ہم مینارِ پاکستان میں جلسہ کریں گے، مریم نواز ہم سے پنگا نہ لینا، پنگا لیا تو وہ حال کریں گے کہ بنگلہ دیش بھی بھول جائیں گے۔” ان کے اس بیان کو حزبِ اختلاف اور سیاسی مبصرین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔خواجہ آصف نے علی امین گنڈاپور کے بیان پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "پشتونوں کا لشکر لے کر پنجاب پر حملہ آور ہونے کی دھمکی دینا ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔ اس شخص سے اپنے حلقے میں امن قائم نہیں ہو سکتا، اگر اس کے پاس اتنے لشکر ہیں تو دہشت گردی کو کنٹرول کر لے یا پھر یہ مان لے کہ یہ دہشت گردوں کے حلیف ہیں۔

    علی امین گنڈاپور نے اپنے خطاب کے دوران نہ صرف پنجاب میں جلسہ کرنے کی دھمکی دی بلکہ اپنے الفاظ پر قائم رہنے کی بات بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ 15 دن میں اپنے لیڈر کو جیل سے رہا کروا کر دکھائیں گے۔ تاہم، خواجہ آصف نے اس بیان کو ‘رنگ بازی’ قرار دیا اور کہا کہ علی امین گنڈاپور نے اپنی تقریر میں یہ بھی بتانا تھا کہ پہلی دفعہ شہباز شریف کو ملنے کس کی ہدایت پر آئے تھے۔خواجہ آصف نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ "ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات قومی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ "اگر علی امین گنڈاپور اپنے بیانات میں سنجیدہ ہیں تو انہیں اپنے الفاظ پر عمل کر کے دکھانا چاہیے اور صرف سیاسی جلسوں میں رنگ بازی سے باز رہنا چاہیے۔”

  • پی ٹی آئی جلسے میں ضوابط کی خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی: آئی جی اسلام آباد

    پی ٹی آئی جلسے میں ضوابط کی خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی: آئی جی اسلام آباد

    اسلام آباد: آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے خبردار کیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی جلسہ کے منتظمین قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کرتے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جلسہ ختم ہونے کے بعد جو بھی قانونی کارروائی ہونی ہوگی، وہ کی جائے گی۔مقامی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ چونگی نمبر 26 پر واقعہ پیش آیا، جس میں جلسے کے دوران وقت کی پابندی کا خیال نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی کارروائی بنتی ہوگی، وہاں کی جائے گی، اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔آئی جی اسلام آباد نے مزید کہا کہ جلسے کے دوران پولیس موقع پر موجود رہی اور منتظمین کو قواعد کی پابندی کی ہدایت کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جلسے کا وقت شام 4 سے 7 بجے تک مقرر کیا گیا تھا، اور مقررہ وقت کے بعد جو بھی قانونی کارروائی ہوگی، وہ کی جائے گی۔آئی جی اسلام آباد نے مزید کہا کہ جلسہ ختم ہونے کے بعد کافی تعداد میں کارکن منتشر ہو چکے ہیں، اور جہاں بھی ضوابط کی خلاف ورزی ہوگی، قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے صحافیوں پر عائد کیے گئے بے بنیاد الزامات پر پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے درخواست دینے کا اعلان کیا ہے۔پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز کے مطابق، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنی حالیہ تقریر میں صحافیوں کو "بکاؤ” اور "دلال” کے الفاظ سے پکارا، جس پر صحافی برادری میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ رپورٹرز نے کہا کہ اس قسم کے الزامات صحافیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں اور انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا۔بیٹ رپورٹرز کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی کارکنان نے جلسہ گاہ میں موجود ڈی این ایس جیز (ڈیجیٹل نیوز جرنلسٹس) کا گھیراؤ کیا، جس کے نتیجے میں جلسہ گاہ میں موجود صحافیوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ رپورٹرز کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات سے صحافیوں کی آزادی اور ان کی حفاظت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ بیٹ رپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے ان الزامات کی تحقیقات کی جائیں اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ اگر فوری طور پر ایکشن نہ لیا گیا تو صحافی برادری احتجاجی مظاہروں کا آغاز کرے گی۔
    واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور نے اپنے خطاب میں میڈیا کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک میں پیسے کی صحافت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو لفافہ صحافی کہہ کر پکارا اور الزام عائد کیا کہ یہ صحافی حکمرانوں سے سوال نہیں کرتے اور اپنے ضمیر بیچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "یہ میڈیا والے نوٹ لے کر صحافت نہیں، دلالی کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "یہاں کا میڈیا صحافی نہیں بلکہ بکاؤ میڈیا بن چکا ہے۔
    خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے ہمیشہ اپنا مینڈیٹ چوری ہونے نہیں دیا اور اپنی سیاسی شناخت کو بچانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے پوری قوم کو خیبرپختونخوا آنے کی دعوت دی تاکہ وہ یہاں کے عوام کی سیاسی بصیرت اور ان کے حوصلے کو دیکھ سکیں۔اپنے خطاب میں علی امین گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی کے کردار اور خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ قوم اور مسلمانوں کے حقوق کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے دنیا بھر میں ثابت کیا ہے کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے اور اس کا مقصد انسانیت کی بھلائی ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکمران امریکا اور قادیانیوں کے غلام ہیں اور حق کی بات کرنے والوں کو دبایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو حق کی آواز نہ اٹھائے، وہ مسلمان نہیں ہو سکتا، اور جابر حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھانا جہاد کے مترادف ہے۔ اگر ظلم بند نہ ہوا تو ہم جانی جہاد کے لیے بھی تیار ہیں۔
    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے این آر او دینے والے حکومتی عناصر کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ این آر او دینے والے بھی کرپشن کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "این آر او دینے والے ہار گئے، اور بانی پی ٹی آئی جیل میں بیٹھ کر بھی جیت گیا۔ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں بھی عزت مل رہی ہے۔” انہوں نے سوال اٹھایا کہ "این آر او سے 25 کروڑ عوام کو کیا فائدہ ہوا؟علی امین گنڈاپور نے ریاستی اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "کوئی بانی پی ٹی آئی کا ملٹری ٹرائل نہیں کر سکتا۔” انہوں نے اپنے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کے اگلے جلسے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ "ہم مینار پاکستان میں جلسہ کریں گے۔” انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "مریم نواز ہم سے پنگا نہ لینا، پنگا لیا تو وہ حال کریں گے کہ بنگلہ دیش بھی بھول جائیں گے۔” انہوں نے کہا کہ "اب قوم دما دم مست قلندر کے لیے تیار ہو جائے۔علی امین گنڈاپور کے خطاب کا اختتام پختونخوا کے عوام کے جذبے اور حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ خطہ ہمیشہ حق کی آواز بلند کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔” ان کے خطاب نے عوام کے اندر ایک نیا جوش و ولولہ پیدا کیا اور ان کے بیانیے کو بھرپور عوامی حمایت ملی۔

  • بیرسٹر گوہر کی حکومت پر تنقید، بانی پی ٹی آئی کی جلد واپسی کا اعلان

    اسلام آباد: پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے جلسے پر پارٹی کارکنان اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے بانی پی ٹی آئی کے جذبے اور جنون کی جیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جلسہ بانی پی ٹی آئی کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے اور عوام کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا جنون آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ "کہتے تھے اسلام آباد کو پنجرہ نہیں بنانا، آج پھر حکومت نے اسلام آباد کو پنجرہ بنا دیا۔” انہوں نے حکومت کو "جعلی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ حکومت رات کے اندھیرے میں قانون سازی کرتی ہے اور اپنے آپ کو این آر او دینے کے لیے قانون سازی کرتی ہے۔”
    انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو ایک ناقابل تردید حقیقت قرار دیا اور کہا کہ انہیں تسلیم کرنا پڑے گا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ یہ 90 کی دہائی نہیں کہ کسی کو مائنس کردیا جائے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "بانی پی ٹی آئی کو مائنس نہیں کیا جا سکتا، وہ ایک لیڈر تھے، ہیں اور رہیں گے۔بیرسٹر گوہر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ "8 فروری کو ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، جس ملک کا لیڈر کرپٹ ہو وہ ترقی نہیں کرسکتا۔” انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے، اور عدالتوں میں مرضی کے ججز لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ "مرضی کے کورٹ اور ججز کا وقت گزر چکا، ہم مرضی کی کورٹ اور ججز کی مخالفت کریں گے۔
    جلسے کے دوران، بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی کی عوام دوستی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "بانی پی ٹی آئی عوام کی بات کرتے ہیں، اور وہ جلد ہمارے درمیان ہوں گے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی جلد دوبارہ وزیراعظم بنیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف ان کی مرضی کے فیصلے قبول نہیں کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ملک اور جمہوریت کے لیے نکلے ہیں، حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ عوام کو غیر اہم نہ سمجھیں۔” انہوں نے خبردار کیا کہ "حکمران عوام کا راستہ نہ روکیں، راستہ روکا گیا تو ایسا نہ ہو کہ ملک بند گلی میں چلا جائے۔انہوں نے بتایا کہ "ہم 6 ماہ سے جلسے کا انتظار کر رہے تھے، ہمارا جلسہ ناکام بنانے کے لیے کنٹینر کھڑے کیے گئے، لیکن کنٹینرز کے باوجود ہم سب جلسہ گاہ پہنچے۔” بیرسٹر گوہر نے زور دے کر کہا کہ "آج ثابت ہوگیا کہ پوری قوم قیدی نمبر 804 کے ساتھ ہے۔

  • جنرل فیض حمید اور دیگر ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی، اسحاق ڈار

    جنرل فیض حمید اور دیگر ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی، اسحاق ڈار

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا ہے کہ طالبان کے افغانستان پر غلبے کے بعد لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا کابل کا دورہ پاکستان کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جنرل فیض حمید حکومت کی اجازت کے بغیر کابل نہیں جا سکتے تھے، اور یہ ممکن نہیں کہ صدر اور وزیراعظم کی اجازت کے بغیر 100 سے زائد دہشتگردوں کو رہا کر دیا جائے۔اسحاق ڈار نے دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کا بھی ذکر کیا، جن کے باعث 2017 تک دہشت گرد حملے تقریباً ختم ہو چکے تھے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی رہائی اور واپس آنے کی اجازت دینے کی وجہ سے ملک میں دوبارہ دہشت گردی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
    وزیر خارجہ نے کہا کہ جنرل فیض حمید اور دیگر ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی، اور اگر جنرل باجوہ یا پی ٹی آئی کے بانی بھی ملوث ہوئے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو سزا مل چکی ہے اور مقدمہ چل رہا ہے، ایسے حالات میں انہیں آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کا انتخاب لڑنے کا حق نہیں ہونا چاہیے تھا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ سیلبریٹی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں قانون سے مستثنیٰ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے اور نہ ہی سیاستدانوں کو فوجی امور میں مداخلت کرنی چاہیے۔انہوں نے 9 مئی کے واقعہ پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملوث افراد کو پہلے اس واقعہ میں کلئیرنس حاصل کرنا ہوگی۔اسحاق ڈار نے جنرل مشرف سے تین ہزار سی سی کی گاڑیوں پر پابندی لگانے پر بھی اختلاف کا ذکر کیا۔

  • وزیر دفاع خواجہ آصف کا  بانی پی ٹی آئی پر اسرائیل کے حق میں مہم چلانے کا الزام

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا بانی پی ٹی آئی پر اسرائیل کے حق میں مہم چلانے کا الزام

    اوزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ بیانات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے لندن میں ایک مسلمان کے بجائے یہودی میئر کے امیدوار کی مہم چلائی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی میڈیا نے عمران خان کی سیاسی حمایت کی ہے، جو کہ ان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی صیہونیوں کا "پروڈکٹ” ہیں اور اسرائیلی میڈیا نے ان کی حمایت کر کے پاکستان کے تشخص کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کا مسلم دنیا میں ایک اہم مقام ہے، اور بانی پی ٹی آئی کے چاہنے والے ان کی سیاسی پوزیشن کا بغور جائزہ لیں۔
    وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ ملکی تشخص کو خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور ان کے اسرائیل کے مظالم کی کھل کر مذمت نہ کرنے کی وجہ سے ان پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عمران خان نے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے ان کی سیاسی حکمت عملی پر تشویش کا اظہار کیا۔اس بیان کے بعد، وزیر دفاع نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کبھی اسرائیل کی اس جارحیت کی کھل کر مخالفت نہیں کی۔ ان کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عمران خان کی پالیسیوں نے ملکی وقار کو نقصان پہنچایا ہے اور ان کی اسرائیل کے ساتھ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • ہری پور میں مدرسے کی چھت گرنے سے دو طالبات جاں بحق، تین زخمی

    ہری پور میں مدرسے کی چھت گرنے سے دو طالبات جاں بحق، تین زخمی

    خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور کے علاقے ڈھینڈہ روڈ پر نیو ماڈل سٹی میں واقع ایک دینی مدرسے جامعہ ماریہ قبطیہ للبنات میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے۔ مدرسے کی چھت اچانک گرنے سے دو طالبات جاں بحق اور تین زخمی ہوگئیں۔ حادثے کے وقت مدرسے میں تقریباً 100 طالبات زیر تعلیم تھیں۔ابتدائی معلومات کے مطابق، مدرسے کی عمارت کی چھت کسی فنی خرابی یا دیگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اچانک منہدم ہو گئی۔ چھت گرنے کے وقت زیادہ تر طالبات مدرسے میں موجود تھیں، جس کے نتیجے میں ایک شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔ مدرسے کی عمارت کی بوسیدگی اور چھت کی کمزور حالت کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ریسکیو 1122 کی ٹیمیں، اور تحصیل چئیرمین ہری پور سمیع اللہ خان فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور ملبے تلے دبے طالبات کو نکالنے کی کوشش کی۔ ابتدائی ریسکیو آپریشن کے دوران 5 طالبات کو نکالا گیا، جن میں سے 2 طالبات کی موت واقع ہو چکی تھی جبکہ 3 طالبات زخمی تھیں۔ زخمی ہونے والی طالبات کو فوری طور پر ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ریسکیو ٹیموں کے مطابق، ابھی بھی کچھ طالبات کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے مزید ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ بھاری مشینری اور مقامی افراد کی مدد سے مدرسے کے ملبے کو ہٹانے کا کام کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، ریسکیو آپریشن کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں تاکہ مزید کسی حادثے سے بچا جا سکے۔
    تحصیل چئیرمین سمیع اللہ خان نے موقع پر پہنچ کر انتظامات کا جائزہ لیا اور ریسکیو ٹیموں کو مزید تیز تر کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا اور زخمی طالبات کے بہتر علاج کی یقین دہانی کرائی۔ ہری پور کی ضلعی انتظامیہ نے بھی مدرسے کے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔حادثے کی خبر سن کر والدین اور طالبات کے خاندانوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مدرسے کے باہر بڑی تعداد میں لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا، جو اپنے بچوں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ پولیس کی جانب سے ہجوم کو کنٹرول کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

  • پنجاب میں سیاسی پابندیاں اور خیبرپختونخوا سے قافلوں کو روکنے پر فواد چوہدری کی شدید تنقید

    پنجاب میں سیاسی پابندیاں اور خیبرپختونخوا سے قافلوں کو روکنے پر فواد چوہدری کی شدید تنقید

    سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے میں شرکت کے حوالے سے اہم بیانات دیے ہیں۔ فواد چوہدری نے اسلام آباد میں ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے میں شرکت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب عمران خان نے شرکت کی کال دی ہے تو ہر کارکن اور شہری کو ان کی کال پر لبیک کہنا چاہیے۔ نجی ٹی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور دیگر افراد تحریک انصاف میں اسی لیے شامل ہیں کیونکہ یہ ایک قومی پارٹی ہے اور اس کا ساتھ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے اور پنجاب سے آنے والے قافلوں کو روکا جارہا ہے جبکہ خیبرپختونخوا سے آنے والے قافلوں کو کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں پارٹی کے ایم این ایز اور لیڈرز کو اجازت نہیں دی جا رہی کہ وہ اپنے علاقوں میں قیادت کرسکیں۔ فواد چوہدری نے خاص طور پر حماد اظہر اور میاں اسلم اقبال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی قیادت کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

    فواد چوہدری نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت فارم 47 کے ذریعے آئی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں معمول کی سیاسی سرگرمیاں بحال نہ ہوں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ پنجاب میں سیاسی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں تاکہ ان کی قانونی حیثیت پر کوئی سوال نہ اٹھے۔جلسے کے اختتام پر دھرنے کی خبروں کو رد کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ جلسے کے بعد دھرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ اس وقت خواجہ آصف اور احسن اقبال ایک ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد پاکستان میں تلخیوں کو کم نہ ہونے دینا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نواز شریف نے بھی اسی ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے، جہاں ایک طرف رانا ثناء اللہ کو مفاہمتی بیانات دینے کی ہدایت دی گئی ہے اور دوسری طرف خواجہ آصف اور احسن اقبال کو تلخ بیانات دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔فواد چوہدری نے عمران خان کے ملٹری ٹرائل پر بھی بات کی اور کہا کہ اگر عمران خان کا ملٹری ٹرائل ہوتا ہے تو اس سے عالمی دباؤ میں بے پناہ اضافہ ہوگا، جو پاکستان کے لیے ناقابل برداشت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام بھی ایک دھاگے سے لٹکا ہوا ہے اور اس قسم کے اقدامات سے ملک مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے فواد چوہدری نے واضح کیا کہ اس کی پوری ذمہ داری بطور کابینہ انہوں نے لی تھی اور یہ فیصلہ جنرل فیض حمید کا نہیں بلکہ حکومت پاکستان کا تھا، جسے فوج کی مکمل حمایت حاصل تھی۔