چکوال: سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی (اے پی پی) کے چیئرمین شاہد خاقان عباسی نے سیاست میں برداشت اور تحمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت جلسہ کرنا چاہتی ہے تو اسے جلسہ کرنے دیا جائے۔ انہوں نے یہ بات چکوال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں۔ "ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے، سیاست میں برداشت کے کلچر کو فروغ دینا چاہیے۔ جب ہم اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو یہ باتیں کرتے ہیں، لیکن حکومت میں آنے کے بعد ہم وہی کچھ دہراتے ہیں جو ہم خود اپوزیشن کے خلاف کیا کرتے تھے۔”
انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "میں خود ایک گھنٹہ گھوم کر یہاں پہنچا ہوں۔ یہ صورتحال سیاست کے لیے نقصان دہ ہے اور اس سے جمہوریت کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں لوگوں کو ان کی بات کرنے کا موقع دینا چاہیے، خواہ وہ حکومت کے حق میں ہوں یا خلاف۔ شاہدخاقان عباسی نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کسی نے قانون توڑا ہے یا اس پر کوئی الزام عائد ہوا ہے تو اس کے مطابق ہی ٹرائل ہونا چاہیے۔ "ہم سب نے ٹرائل بھگتے ہیں، میں نے خود 17 سال عدالتوں میں گزارے ہیں۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ قانون اور انصاف کے تقاضے کیا ہوتے ہیں۔”شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاست میں ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے رویے سے بچا جا سکے جو سیاسی ماحول کو خراب کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں تشدد اور انتقامی کارروائیوں کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی بجائے انہیں اظہار رائے کی آزادی دے۔ "اگر کوئی جماعت جلسہ کرنا چاہتی ہے تو اسے کرنے دیا جائے، یہ عوام کا جمہوری حق ہے۔شاہد خاقان عباسی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان جلسے جلوسوں کے دوران تنازعات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ وہ اختلافات کے باوجود برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔شاہد عباسی نے آخر میں کہا کہ سیاست میں مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے نہ کہ طاقت کے استعمال سے۔ "ہمیں سیاست میں تعمیری رویہ اپنانا چاہیے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنا چاہیے تاکہ ملک میں جمہوریت کا عمل مضبوط ہو سکے۔”
Author: صدف ابرار
-

سیاست میں برداشت ضروری ہے، جلسے کی اجازت دیں،شاہد خاقان عباسی
-

پی ٹی آئی جلسے کے شرکاء کے پتھراؤ پر وزیر داخلہ محسن نقوی کا نوٹس، آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب
اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے کے شرکاء کی جانب سے اسلام آباد پولیس پر بلا اشتعال پتھراؤ کے واقعات پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فوری نوٹس لے لیا ہے۔ انہوں نے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی سے اس واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کارکنان کے پتھراؤ سے زخمی ہونے والے ایس ایس پی شعیب خان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ زخمی پولیس اہلکاروں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔محسن نقوی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو بحال رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
-

پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں جلسہ: انتظامی مہلت ختم ہونے کے باوجود احتجاج جاری، پولیس کارروائی کے لیے تیار
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اسلام آباد کے سنگجانی علاقے میں منعقدہ جلسہ انتظامی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جلسے کو شام سات بجے تک ختم کرنے کی مہلت دی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود احتجاج جاری ہے، اور جلسہ گاہ میں کارکنان کی آمد کا سلسلہ ابھی بھی برقرار ہے۔جلسہ گاہ کے داخلی پوائنٹس پر رش بڑھتا جا رہا ہے، جہاں سے کارکنان کی ایک بڑی تعداد داخل ہو رہی ہے۔ جلسہ گاہ کے قریب سنگجانی ٹول پلازہ اور اسلام آباد موٹروے سے آنے والے راستے پر مکمل طور پر ٹریفک جام ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ بہت سے کارکنان نے ٹریفک جام کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پیدل مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ جلسہ گاہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے اہلکار مختلف مقامات پر تعینات ہیں اور جلسہ گاہ کے نزدیک پیٹرولنگ جاری ہے، تاہم اب تک کسی قسم کی براہ راست کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ این او سی (NOC) کے مطابق پی ٹی آئی کو شام سات بجے تک جلسہ ختم کرنے کا وقت دیا گیا تھا، لیکن اس مہلت کے ختم ہونے کے باوجود جلسہ جاری ہے۔انتظامیہ کی جانب سے پی ٹی آئی منتظمین کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اگر جلسے کو جلدی ختم نہ کیا گیا تو پولیس کو کارروائی کرنے کے احکامات مل سکتے ہیں۔ فی الحال، پولیس نے جلسہ گاہ کے اندر جانے سے گریز کیا ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے، کیونکہ اگر پولیس نے کارروائی کی تو صورتحال بگڑ سکتی ہے اور تصادم کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔پولیس کا ایکشن پلان اور حکام کا موقف
پولیس کا منصوبہ ہے کہ اگر جلسہ ختم نہ کیا گیا تو شرکاء کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پولیس کی مدد کے لیے فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) کو بھی طلب کر لیا گیا ہے تاکہ صورت حال کو کنٹرول کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق، پی ٹی آئی کے خلاف این او سی کی خلاف ورزی پر ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ جلسہ ختم نہ ہونے کی صورت میں جلد ہی کارروائی کی جائے گی۔ جلسہ ختم کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے منتظمین کو ایک آخری موقع دیا گیا ہے کہ وہ شرکاء کو منتشر کریں اور مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے تعاون کریں۔ تاہم، اگر صورتحال یونہی برقرار رہی تو پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ -

پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس کے پتھراؤ کی خبریں من گھڑت ہیں: بیرسٹر محمد علی سیف
اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے الزام لگایا کہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ جعلی وفاقی حکومت کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔بیرسٹر محمد علی سیف نے مزید کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنوں کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے اور انہیں جلسہ گاہ جانے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کارکنوں پر بدترین شیلنگ کی جا رہی ہے۔ اگر انتظامیہ کو واقعی وقت کی پروا ہوتی، تو وہ راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کرتیں۔انہوں نے حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو ایک بار پھر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور تاریخ اس "جعلی حکومت” کے مظالم کو یاد رکھے گی۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو جلسے سے دور رکھا گیا ہے اور انہیں تکلیف میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے جلسے کے دوران پولیس پر پتھراؤ کے باعث متعدد اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، تاہم بیرسٹر سیف نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں من گھڑت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنوں کو روکنے کے لیے غیر ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
-

قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 5 بجے، 8 نکاتی ایجنڈا جاری
قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 5 بجے طلب کیا گیا ہے، جس میں متعدد اہم امور زیر بحث آئیں گے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں 8 نکات شامل کیے گئے ہیں، جن میں قانون سازی، وقفہ سوالات اور دیگر اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اجلاس میں سب سے اہم موضوع نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ترمیمی بل ہوگا، جس پر قانون سازی کی جائے گی۔ یہ بل یونیورسٹی کے دائرہ کار اور انتظامی امور میں اہم تبدیلیاں تجویز کرتا ہے، جس کا مقصد تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانا اور ادارے کی فعالیت کو مضبوط کرنا ہے۔اجلاس کے دوران وقفہ سوالات بھی شامل ہے، جس میں ارکان اسمبلی مختلف وفاقی وزارتوں اور اداروں کے کام کاج، پالیسیوں اور عوامی مسائل کے حوالے سے سوالات اٹھا سکیں گے۔ یہ وقفہ عوامی نمائندوں کو حکومت کے امور پر براہ راست سوالات کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اجلاس کے ایجنڈے میں وزیر آباد ضلع میں پاسپورٹ آفس کی عدم دستیابی پر توجہ دلاؤ نوٹس بھی شامل ہے۔ اس نوٹس میں وزیر آباد ضلع میں پاسپورٹ سروسز کی عدم دستیابی کی شکایت پر توجہ دی جائے گی، اور اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔حیدرآباد ایئرپورٹ کی کمرشل پروازوں کے لیے بندش پر بھی اجلاس میں توجہ دی جائے گی۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات اور ایئرپورٹ کی فعالیت کو بحال کرنے کے لیے حکومت کی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اجلاس کے ایجنڈے میں صدر مملکت کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر شکریہ کی تحریک بھی شامل ہے۔ اس تحریک کے ذریعے صدر مملکت کے خطاب کی تعریف کی جائے گی اور ان کے پیغام پر شکریہ ادا کیا جائے گا۔نکتہ اعتراض کے علاوہ، اجلاس میں دیگر معاملات پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ ارکان اسمبلی اس موقع پر مختلف موضوعات پر اپنے نقطہ نظر پیش کر سکیں گے اور عوامی مفاد کے مسائل پر تفصیل سے بات چیت کی جا سکے گی۔ -

اسلام آباد میں پی ٹی آئی جلسے کے دوران شرائط کی خلاف ورزی پر ضلعی انتظامیہ کی وارننگ
ضلعی مجسٹریٹ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سخت وارننگ جاری کی ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کے دوران شرائط اور ضوابط کی سختی سے پابندی کی جائے۔ضلعی مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پی ٹی آئی کو جلسے کے لیے جاری کردہ خطوط کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جلسے کو منظم اور پُرامن طریقے سے منعقد کرنے کے لیے این او سی میں مذکورہ شرائط اور ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا لازمی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ جلسے کے مقام اور اختتامی وقت کی پابندی انتہائی اہم ہے، اور اس پر مکمل طور پر عمل کرنا ضروری ہے۔

انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلسے کے دوران کسی قسم کی بدامنی یا امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ امن و امان کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی اور اگر جلسے کے شرکاء یا منتظمین نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ضلعی مجسٹریٹ کے اس مراسلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ جلسے کے دوران کسی قسم کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گی اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلسے کو شرائط کے مطابق منعقد کریں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ -

صدر زرداری اور مولانا عبدالخبیر آزاد کی ملاقات
صدر مملکت آصف علی زرداری سے چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے حال ہی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ملک میں امن، دہشتگردی، فرقہ واریت کے خاتمے، مذہبی ہم آہنگی، اور پیغام پاکستان کے فروغ پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران صدر زرداری نے زور دیا کہ پاکستان میں بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی اور امت مسلمہ کے درمیان وحدت کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام علماء کرام اور مشائخ عظام سے درخواست کی کہ وہ مذہبی ہم آہنگی، رواداری، اور پیغام پاکستان کے فروغ کے لیے منبر و محراب کے ذریعے اپنا اہم کردار ادا کریں۔ صدر زرداری نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات میں ہمیں سب کو مل کر پاکستان کو بچانے اور اس کی ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔
چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے قوم کی مکمل حمایت اور مسلح افواج و سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے علماء کرام و اراکین اسمبلی کی کاوشوں کو سراہا، خصوصاً 7 ستمبر 1974ء کو ذوالفقار علی بھٹو شہید کی قیادت میں ختم نبوتؐ کے بل کو منظور کرانے کو ایک تاریخ ساز فیصلہ قرار دیا۔ مولانا عبدالخبیر آزاد نے مزید کہا کہ پیغام پاکستان، پاکستان کا وہ عظیم بیانیہ ہے جس نے دہشتگردی، انتہا پسندی، اور فرقہ واریت کو حرام قرار دیا ہے۔صدر مملکت نے مولانا عبدالخبیر آزاد کی رویت ہلال اور دنیا بھر میں مذہبی ہم آہنگی، اتحاد و وحدت کے حوالے سے خدمات کو بھی سراہا۔ یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان مذہبی ہم آہنگی اور قومی امن و استحکام کی کوششوں کو مزید تقویت دینے کی ایک مثال ہے۔ -

جلسہ ختم نہ کرنے پر پولیس کا کریک ڈاون۔ پی ٹی آئی کا پتھراؤ،متعدد گرفتاریاں اور زخمی
اسلام آباد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے کے دوران اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جلسے کے لیے طے شدہ وقت ختم ہونے کے بعد 26 نمبر چونگی پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو جلسے کے این او سی کے تحت مقررہ وقت کے اندر جلسہ ختم کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم اس ہدایت کی خلاف ورزی کی گئی جس پر پولیس کو کارروائی کے احکامات جاری کر دیے گئے۔
دوسری جانب 26 نمبر چونگی پر جلسے کے شرکا نے طے شدہ روٹ کی پابندی نہ کرتے ہوئے متبادل راستے سے جانے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو شرکا کی جانب سے شدید پتھراؤ کیا گیا۔ پتھراؤ کے نتیجے میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ شروع کی اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
انتظامیہ نے حالات کی سنگینی کے پیش نظر ایف سی اہلکاروں اور آنسو گیس شیل اسکواڈ کو بھی الرٹ کر دیا ہے۔ 26 نمبر چونگی کے علاقے میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان شدید کشیدگی کے پیش نظر اضافی فورسز بھی تعینات کی جا رہی ہیں۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی حرکت یا این او سی کی مزید خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔تصادم کے دوران زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے جلسے کے مقام کے اطراف میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس کی مزید نفری بھی علاقے میں پہنچا دی گئی ہے تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جا سکے۔ذرائع کے مطابق، جلسے کے شرکا نے اپنے ساتھ پتھر جمع کر رکھے ہیں، جنہیں وہ پولیس پر حملے کے دوران استعمال کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے جلسے کے شرکا کو منتشر کرنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے اور کسی بھی غیر قانونی اقدام سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔جلسے کے شرکا کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ مقررہ روٹ کے ذریعے جلسہ گاہ پہنچیں، تاہم کچھ گروپس نے اس کی خلاف ورزی کی اور متبادل راستوں کا استعمال کیا، جس کی وجہ سے صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ پولیس نے اس امر پر زور دیا ہے کہ روٹ کی پابندی نہ کرنے والے شرکا کے خلاف کارروائی کی جائے گی تاکہ شہر میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
جلسہ گاہ پہنچنے میں مشکل
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے شہر اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کا آغاز 4 بجے شام ہونا تھا، لیکن مختلف وجوہات کے باعث یہ جلسہ تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی قیادت کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ جلسے کو معاہدے کے مطابق 7 بجے شام تک ختم کیا جائے۔ اگر جلسہ مقررہ وقت تک ختم نہ ہوا تو آئندہ جلسوں کے لیے این او سی جاری نہیں کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اسلام آباد نے واضح کیا کہ معاہدے کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی اور انتظامیہ نے منتظمین سے درخواست کی ہے کہ وہ وقت کی پابندی کریں۔ 7 بجے کے بعد جلسے کی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، اور اگر جلسہ ختم نہ ہوا تو اسے تحریری طور پر غیرقانونی قرار دیا جائے گا۔ لہذا اب 7 بجنے کے بعد انتظامیہ کیا لائحہ عمل اپناتی ہے، اور پی ٹی آئی کی جانب سے کیا رد عمل سامنے آتا ہے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے ،
اسی دوران، پنجاب کے شہر اٹک کی تحصیل حضرو سے پی ٹی آئی کے جلسے کے لیے کوئی ریلی روانہ نہیں ہو سکی۔ حضرو میں رات بھر پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کی افواہیں گردش کرتی رہیں، جس کے بعد کارکنان اور قیادت منظر عام سے غائب ہو گئی۔ اس صورتحال نے جلسے کی تیاریوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ چھچھ انٹرچینج سے موٹروے ایم ون کا داخلی راستہ مکمل طور پر کھلا ہے، اور پی ٹی آئی ضلع اٹک کے صدر و ایم پی اے قاضی احمد اکبر کا تعلق بھی چھچھ سے ہے۔ اس کے باوجود، اٹک کے ضلعی صدر کے اپنے ہی علاقے سے کوئی ریلی روانہ نہیں ہو سکی، جس نے جلسے کی تاخیر میں مزید اضافہ کیا۔
اسلام آباد میں جلسے کی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے 29 مقامات کو سیل کر دیا گیا ہے، اور مختلف داخلی و خارجی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ جلسہ گاہ کی سیکیورٹی کے پیش نظر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی بند کر دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی، حامد رضا اور دیگر اہم قیادت ایران ایونیو پر پہنچ چکے ہیں، مگر راستوں میں رکاوٹوں کی وجہ سے انہیں جلسہ گاہ پہنچنے میں تاخیر کا سامنا ہے۔ بیرسٹر گوہر علی نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کا جلسہ تاریخی ہونے جا رہا ہے اور امید ہے کہ ایک گھنٹے میں جلسہ شروع ہو جائے گا۔
شاہ اللہ دتہ کے مقام پر پی ٹی آئی کارکنوں نے کنٹینرز کو ہٹا دیا ہے۔ گاڑیوں کی ٹکر سے کنٹینرز سڑک سے نیچے گر گئے، جس کے بعد مارگلہ ایوینیو کو کھول دیا گیا۔ مارگلہ ایوینیو سے ٹریفک سنگجانی کی جانب رواں دواں ہے، لیکن ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔
تاہم، پشاور روڈ پر 26 نمبر چونگی کو تھوڑی دیر کے لیے کھولنے کے بعد دوبارہ بند کر دیا گیا ہے۔ موٹروے سے آنے والی ٹریفک کا 26 نمبر چونگی سے اسلام آباد میں داخلہ بند ہے، اور فیض آباد، راولپنڈی سٹیڈیم روڈ، اور آئی جی پی سے نائنتھ ایونیو بھی تاحال بند ہے۔ آئی جے پی روڈ سے متصل داخلی گلیوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں، اور بعض مقامات پر شہریوں نے کنٹینرز پیچھے دھکیل دیے ہیں، جس سے راستوں کی بندش میں اضافہ ہوا ہے۔
راستوں کی بندش کے باعث جڑواں شہروں میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہری متبادل راستوں کا استعمال کر رہے ہیں، لیکن شہر کی ٹریفک کی صورتحال بدتر ہو گئی ہے۔ میٹرو بس سروس بند ہونے کی وجہ سے بھی شہریوں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں، اور شہر میں عمومی زندگی کی رفتار سست ہو گئی ہے۔اس تمام صورتحال میں پی ٹی آئی کے جلسے کی کامیابی اور انتظامی فیصلے شہریوں اور پارٹی کارکنان کے لیے اہم ہیں، جبکہ انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں کہ جلسے کے دوران امن و امان برقرار رہے۔ -

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی کا اہم اجلاس طلب کر لیا
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے اہم اجلاس کی طلبی کا اعلان کر دیا ہے، جو کل اسلام آباد میں ہوگا۔ اس اجلاس کا مقصد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے حکمت عملی تیار کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق، اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے قانونی اور آئینی ماہرین بھی شریک ہوں گے تاکہ آئینی اور قانونی پہلوؤں پر غور و خوض کیا جا سکے۔ اجلاس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ایجنڈے پر بات چیت ہوگی، جس میں صدر کی طرف سے واپس کیے گئے مجوزہ بلوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منگل کو طلب کیے جانے کا امکان ہے، جس میں صدر کی طرف سے واپس بھیجے گئے بلوں کو دوبارہ زیرِ غور لایا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس اجلاس کو اس بات کی تیاری کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا ہے کہ کس طرح مشترکہ اجلاس میں پارٹی کی پوزیشن مضبوط کی جا سکتی ہے۔یہ اجلاس پیپلز پارٹی کے مستقبل کی حکمت عملی اور قانونی چیلنجز کے تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے، اور پارٹی کی قیادت کی جانب سے اس کی کامیابی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
-

سابق صدر عارف علوی کی جانب سے پرانی تصاویر شیئر کرنے پر معذرت
سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے انٹرنیٹ پر پرانی تصاویر شیئر کرنے پر معذرت کی ہے۔ ایک بیان میں، انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ تصاویر کسی پرانے موقع کی تھیں جنہیں اب ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر علوی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ "میں ان پرانی تصاویر کو انٹرنیٹ پر شیئر کرنے کی غلطی پر معذرت چاہتا ہوں”۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تصاویر کی شیئرنگ کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا بلکہ یہ ایک غیر ارادی عمل تھا۔وزیراطلاعات پنجاب، عظمیٰ بخاری نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں اس معاملے کی نشاندہی کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ سابق صدر کی جانب سے پرانی تصاویر کو حالیہ دور کے تناظر میں پیش کرنا ان کے عہدے کی شان کے خلاف ہے۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب عارف علوی کی جانب سے شیئر کردہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں اور اس پر عوامی ردعمل آیا۔ بعد ازاں، ڈاکٹر علوی نے ان تصاویر کو فوری طور پر حذف کر دیا اور عوامی طور پر معذرت کی۔ اس تمام معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک مثال ہے کہ عوامی شخصیات کو سوشل میڈیا پر احتیاط کے ساتھ برتاؤ کرنا چاہیے، خاص طور پر جب ان کا عمل ان کی عوامی امیج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔