Baaghi TV

Blog

  • بلوچستان بس حادثہ، ٹرانسپورٹ کمپنی اور ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج، کمپنی سیل

    بلوچستان بس حادثہ، ٹرانسپورٹ کمپنی اور ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج، کمپنی سیل

    دھانہ سر میں پیش آنے والے المناک بس حادثے کے بعد پولیس نے تھانہ شیرانی میں ٹرانسپورٹ کمپنی اور کوچ ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر غفلت، لاپرواہی، غیر ذمہ داری اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔

    محکمہ ٹرانسپورٹ نے کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ کوچ کمپنی کو سیل کر دیا ہے، جبکہ حادثے کی جامع تحقیقات کی ذمہ داری سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو سونپ دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران ٹرانسپورٹ کمپنی کی قانونی حیثیت، کوچ کی فٹنس، ڈرائیور کی اہلیت، حفاظتی اقدامات اور حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد تحقیقات کی رپورٹ وزیراعلیٰ بلوچستان کو پیش کی جائے گی، جس کی روشنی میں مزید قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب پولیس کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے دو نامعلوم افراد کی شناخت کے لیے نادرا سے رابطہ کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر تمام جاں بحق افراد کی میتیں ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

  • جائیداد کی نیلامی،بحریہ ٹاؤن نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے خط میں اپیل کر دی

    جائیداد کی نیلامی،بحریہ ٹاؤن نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے خط میں اپیل کر دی

    اسلام آباد: بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کو خط ارسال کرتے ہوئے اپنی قیمتی جائیدادوں کی مبینہ طور پر کم قیمت پر نیلامی کے خلاف مداخلت کی اپیل کی ہے۔

    بحریہ ٹاؤن کے وائس چیف ایگزیکٹو کموڈور (ر) محمد الیاس کی جانب سے لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی اربوں روپے مالیت کی زمینیں اور دیگر املاک ان کی اصل مارکیٹ ویلیو سے کہیں کم قیمت پر نیلام کی جا رہی ہیں، جس سے نیلامی کے عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔خط کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مختلف منصوبوں میں اوورسیز پاکستانیوں، بیواؤں، عام شہریوں اور دیگر سرمایہ کاروں سمیت لاکھوں خاندانوں کی 372 ارب روپے سے زائد کی عمر بھر کی جمع پونجی سرمایہ کاری کی صورت میں موجود ہے، جو موجودہ صورتحال میں شدید خطرے سے دوچار ہے۔بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی آزادانہ، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک املاک کی نیلامی کا عمل فوری طور پر روک دیا جائے۔خط میں کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن خود کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتا اور وہ اپنے تمام دیرینہ قانونی تنازعات کو قانون، باہمی بات چیت اور ثالثی کے ذریعے حل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔انتظامیہ نے مزید واضح کیا کہ اگر کسی قانونی کارروائی کے نتیجے میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف کسی ذمہ داری یا خلاف ورزی کا تعین ہوتا ہے تو ادارہ قانون کے مطابق تمام واجبات اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے بھی تیار ہوگا۔

  • زیر علاج بیٹی کے وارڈ سے زبردستی نکالے جانےپروالد کی ہسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ

    زیر علاج بیٹی کے وارڈ سے زبردستی نکالے جانےپروالد کی ہسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ

    لاہور میں واقع چلڈرن اسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ لگانے والا 28 سالہ شخص شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق زخمی شخص کی شناخت عمران صابر کے نام سے ہوئی ہے، جس کی کمسن بیٹی چلڈرن اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اسپتال کے سیکیورٹی گارڈز نے مبینہ طور پر عمران کو زبردستی وارڈ سے باہر نکال دیا، جس پر وہ شدید ذہنی دباؤ اور دل برداشتگی کا شکار ہو گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ عمران نے اسی حالت میں اسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجے میں اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔واقعے کے فوراً بعد زخمی شخص کو جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے سرجیکل ایمرجنسی میں داخل کر کے علاج شروع کر دیا گیا۔

    جنرل اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق عمران صابر کی حالت پہلے سے بہتر ہے اور اسے ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ اسپتال میں پیش آنے والے حالات اور سیکیورٹی عملے کے مبینہ رویے نے واقعے میں کس حد تک کردار ادا کیا۔

  • فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی مدبرانہ بصیرت اور عالمی امن کا معجزہ،تحریر  : جان محمد رمضان

    فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی مدبرانہ بصیرت اور عالمی امن کا معجزہ،تحریر : جان محمد رمضان

    تاریخ کے صفحات جب بھی انسانیت کو بڑی تباہی سے بچانے والے مدبرین کا تذکرہ کریں گے، تو اس میں پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز اور سپہ سالار، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ حالیہ مہینوں میں دنیا جس تیزی سے ایک ہولناک جوہری تصادم اور تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی تھی، اسے روکنے میں پاکستان کی عسکری قیادت نے جو خاموش لیکن انتہائی اثر انگیز سفارتی اور سٹریٹجک کردار ادا کیا، وہ بلاشبہ صدی کا سب سے بڑا امن معجزہ ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی سنگین کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور بحری ناکہ بندیوں نے عالمی معیشت اور امنِ عالم کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ ایسے نازک موڑ پر، جب عالمی طاقتیں مکالمے کے تمام دروازے بند کر چکی تھیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی غیر معمولی بصیرت، فہم و فراست اور "شراکتِ امن” (Peace Diplomacy) کے فلسفے کے تحت دنیا کو ایک ناگزیر تباہی سے بچا لیا۔

    پچھلے کچھ عرصے سے دنیا بلاکس کی سیاست میں تقسیم ہو کر بارود کے ڈھیر پر بیٹھی تھی۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے محاذ پر امریکہ اور ایران کا براہِ راست تصادم سر پر تھا، تو دوسری طرف عالمی توانائی کی سپلائی لائنز اور تجارتی راستے مسدود ہو رہے تھے۔ عسکری ماہرین کا متفقہ خیال تھا کہ اگر ان دونوں طاقتوں کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑ گئی، تو یہ محض علاقائی جنگ نہیں رہے گی، بلکہ اس میں جوہری طاقتیں شامل ہو جائیں گی، جو تیسری عالمی جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔

    اس بھیانک منظرنامے میں دنیا کو ایک ایسے معتبر اور غیر جانبدار ثالث کی ضرورت تھی جس کی بات تہران میں بھی سنی جائے اور واشنگٹن میں بھی وزن رکھتی ہو۔ یہ تاریخی اور کٹھن ذمہ داری پاکستان کے نڈر سپہ سالار نے اپنے کندھوں پر اٹھائی۔

    تہران سے واشنگٹن: فیلڈ مارشل کی بیک چینل ڈپلومیسی فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت اور مخلصانہ سوچ انہیں دنیا بھر کے ملٹری لیڈرز سے ممتاز کرتی ہے۔ انہوں نے رواں سال کے دوران ایک انتہائی مربوط اور پیچیدہ سفارتی مشن کا آغاز کیا:
    ایران کے ساتھ سٹریٹجک ڈائیلاگ: فیلڈ مارشل نے تہران کا اہم دورہ کیا اور ایرانی صدر سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ایرانی قیادت نے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو تسلیم کرتے ہوئے تناؤ میں کمی (De-escalation) کے متبادل طریقوں پر آمادگی ظاہر کی۔
    واشنگٹن اور عالمی طاقتوں سے رابطہ: دوسری طرف، امریکی انتظامیہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے مضبوط عسکری و سفارتی تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے، انہوں نے واشنگٹن کو باور کروایا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
    پاکستان بطور قابلِ قبول ثالث: فیلڈ مارشل کی کامیاب حکمتِ عملی نے پاکستان کو دونوں فریقین کے لیے ایک معتبر اور قابلِ قبول پل بنا دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک پسِ پردہ مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوئے۔

    عسکری ہیبت اور امن پسندی کا امتزاج
    ایک حافظِ قرآن اور مدبر عسکری رہنما ہونے کے ناطے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت میں جہاں عزم و استقامت کی فولادی جھلک ہے، وہاں انسانیت کی بقا کا درد بھی شامل ہے۔ ان کی یہ سفارتی کامیابی محض لفاظی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کا وہ ناقابلِ تسخیر دفاعی ڈیٹرنس تھا جو انہوں نے مئی 2025ء کے پاک بھارت فضائی و میزائل تصادم کے دوران دنیا کو دکھایا تھا، جس شاندار عسکری کامیابی پر انہیں ملک کا اعلیٰ ترین عسکری رینک "فیلڈ مارشل ” عطا کیا گیا ۔دنیا جانتی ہے کہ جو قیادت اپنے وطن کا دفاع کرنا اور دشمن کو دندان شکن جواب دینا جانتی ہے، جب وہ امن کی بات کرتی ہے تو اس کی آواز میں وزن ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل نے ثابت کیا کہ پاکستان صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں، بلکہ وہ خطے اور دنیا میں "استحکام کا برآمد کنندہ” (Exporter of Stability) ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروا کر دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے واپس لانا ایک ایسا تاریخی کارنامہ ہے جس نے بین الاقوامی سیاست میں پاکستان کے وقار کو بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سٹریٹجک سوچ، تحمل اور مذاکراتی مہارت نے ثابت کر دیا کہ حقیقی لیڈرشپ وہ نہیں جو جنگ کے شعلوں کو ہوا دے، بلکہ وہ ہے جو اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کو انسانیت کے تحفظ اور امن کے لیے استعمال کرے۔
    آج اگر دنیا ایک ہولناک تباہی اور معاشی بربادی سے محفوظ ہے، تو اس کا ایک بڑا کریڈٹ پاکستان کی اس مخلصانہ اور مدبرانہ عسکری سفارت کاری کو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین اور کالم نگار اب کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ دنیا کو صدی کی سب سے بڑی جنگ سے بچانے والی یہ عظیم شخصیت بلاشبہ امن کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی اعزازات کی مستحق ہے۔ سپہ سالار کی اس بصیرت نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

  • مجھے برہنہ کیا، میں روتی رہی،  مجھے تھپڑ مارے ،متعدد بار زیادتی کی گئی، غیر ملکی خاتون کا بیان آ گیا

    مجھے برہنہ کیا، میں روتی رہی، مجھے تھپڑ مارے ،متعدد بار زیادتی کی گئی، غیر ملکی خاتون کا بیان آ گیا

    لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کے کیس میں غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کا مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروائے گئے بیان کا کچھ حصہ منظرِ عام پر آ گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میری عمر 40 سال ہے اور میں اسپین کے شہر ہنڈاس دی لاس کی رہائشی ہوں اور حلف لے کر اپنا بیان ریکارڈ کروا رہی ہوں،غیر ملکی خاتون کا کہنا ہے کہ میری کہانی ویسی ہی ہے جیسے اسٹیفنی نے بتایا، اس گھر میں قیام کے دوران میرا تجربہ مختلف تھا، پہلی رات 4 لوگ اسلحے کے ساتھ آئے اور ہمیں باندھ دیا، ایک شخص جس نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے، اُس نے میرے جسم کے مخصوص حصوں کو چھوا، انہوں نے میرے چہرے پر متعدد گھونسے مارے، رضا ڈار آیا اور اس نے مجھ سے کمپیوٹر اور پیسوں کے بارے میں پوچھا،میں نے بتایا دونوں چیزیں سبز بیگ میں پڑی ہوئی ہیں، اس دوران اسٹیفنی کو واپس لایا گیا اور ہم دونوں سے پاس ورڈ اور کمپیوٹر کے بارے میں پوچھتے رہے، انہوں نے میرے سر پر بہت زور سے پسٹل کا بٹ مارا،وہاں ایک اور شخص موجود تھا جو بہت اچھی انگلش بول رہا تھا جس سے میں نے پوچھا کہ کیا تم لوگ ہمیں مار دو گے، جس پر اس نے کہا کہ اگر تم نے ہمیں پیسے نہ دیے تو زندہ نہیں جاؤ گی۔
    کچھ دیر بعد یہ شخص نیچے چلا گیا اور 3 لوگ بیڈ روم میں آ گئے، ایک بڑی عمر کا شخص رائفل کے ساتھ تھا جس نے 2 لوگوں کو میرے پاس رکنے کا کہا، وہ صرف اردو بول رہے تھے اور زور زور سے ہنس رہے تھے۔

    غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کے مطابق انہوں نے مجھے جنسی تعلق کا کہا جس کا میں نے متعدد بار انکار کیا، مگر کالے کپڑوں میں ملبوس شخص مجھے دوسرے فلور پر لے گیا اور مجھے برہنہ کیا، میں روتی رہی، اس نے مجھے تھپڑ مارے اور منہ بند کرنے کا کہا،میرے ساتھ متعدد بار زیادتی کی گئی، میرے شور مچانے پر وہ رک گیا اور مجھے دوبارہ کپڑے پہنا دیے اور مجھے دوبارہ اس کمرے میں لے جایا گیا جہاں دیگر لوگ موجود تھے۔

  • اسلام آباد، جامعہ حفصہ کے ہاسٹل سے 18 سالہ طالبہ کی لاش برآمد، تحقیقات شروع

    اسلام آباد، جامعہ حفصہ کے ہاسٹل سے 18 سالہ طالبہ کی لاش برآمد، تحقیقات شروع

    اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں واقع لال مسجد سے ملحقہ جامعہ حفصہ کے ہاسٹل سے 18 سالہ طالبہ کی پراسرار حالات میں لاش برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

    پولیس کے مطابق متوفیہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع اَپر دیر سے تھا اور وہ جامعہ حفصہ میں زیرِ تعلیم تھی۔ طالبہ ہاسٹل میں مردہ حالت میں پائی گئی، جس پر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔پولیس نے لاش کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا، جہاں پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ ابتدائی معائنے کے دوران طالبہ کے جسم پر کسی قسم کے تشدد یا ظاہری زخم کے نشانات نہیں پائے گئے۔تفتیشی حکام نے مدرسے کے ہاسٹل میں رہائش پذیر دیگر طالبات کے بیانات بھی قلمبند کر لیے ہیں تاکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔

    تھانہ آبپارہ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کی موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکے گی، جبکہ تمام ممکنہ پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق فی الحال موت کی وجہ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

  • بھارت: بیوی نے شوہر کو قتل کرکے باتھ روم میں دفن کر دیا

    بھارت: بیوی نے شوہر کو قتل کرکے باتھ روم میں دفن کر دیا

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر آگرہ میں پولیس نے ایک خاتون کو اپنے شوہر کے مبینہ قتل اور اس کی لاش گھر کے باتھ روم میں دفن کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتول سریندر شرما گزشتہ 45 روز سے لاپتہ تھا۔ اس کی گمشدگی کی رپورٹ بھی ملزمہ روبی نے خود پولیس کو درج کرائی تھی اور دورانِ تفتیش وہ پولیس کے ساتھ شوہر کی تلاش کا ڈرامہ بھی کرتی رہی۔ اہلِ محلہ کے سامنے بھی وہ خود کو غم زدہ ظاہر کرتی رہی تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہو۔پولیس کے مطابق تحقیقات میں اس وقت اہم پیش رفت ہوئی جب مقتول کے بھائی نے ملزمہ کے بیانات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا، جس کے بعد روبی سے سخت پوچھ گچھ کی گئی۔تفتیش کے دوران ملزمہ کے انکشاف پر پولیس نے مزدوروں کی مدد سے گھر کے باتھ روم کا فرش تڑوایا، جہاں سے سریندر شرما کی لاش برآمد کر لی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ قتل اور لاش چھپانے میں کسی اور شخص کا بھی کردار تھا یا نہیں۔

  • کراچی: اینکر مرید عباس قتل کیس، فیصلہ محفوظ، 9 جولائی کو سنائے جانے کا امکان

    کراچی: اینکر مرید عباس قتل کیس، فیصلہ محفوظ، 9 جولائی کو سنائے جانے کا امکان

    کراچی میں معروف ٹی وی اینکر مرید عباس اور خضر حیات کے قتل کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    عدالتی ذرائع کے مطابق مقدمے کا فیصلہ 9 جولائی کو سنائے جانے کا امکان ہے۔ یہ کیس گزشتہ سات برس سے زیرِ سماعت ہے اور اب اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ گیا ہے۔استغاثہ کے مطابق مقدمے کا مرکزی ملزم عاطف زمان اس وقت جیل میں قید ہے، جبکہ شریک ملزم عادل زمان تاحال مفرور ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہے۔

    واضح رہے کہ ٹی وی اینکر مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کو 9 جولائی 2019ء کو کراچی میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔

  • حکومت کا پیٹرولیم لیوی میں 6 روپے 22 پیسے فی لیٹر اضافہ

    حکومت کا پیٹرولیم لیوی میں 6 روپے 22 پیسے فی لیٹر اضافہ

    حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول پر لیوی میں 6 روپے 22 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی شرح کے مطابق پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 70 روپے 36 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں 6 روپے 22 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل پر لیوی 70 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔مٹی کے تیل پر پیٹرولیم لیوی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور یہ بدستور 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر عائد 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی بھی برقرار رکھی گئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اس ردوبدل سے حکومت کو محصولات میں توازن قائم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ صارفین کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ممکنہ اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کی نمایاں کامیابیاں

    وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کی نمایاں کامیابیاں

    وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کی نمایاں کامیابیاں سامنے آئی ہیں

    وزیراعظم کی ٹاسک فورس کے تحت اصلاحاتی عملدرآمد کمیٹی دسمبر2024 میں قائم کی گئی تھی،اصلاحاتی عملدرآمد کمیٹی میں وزارتِ دفاع،بحری اور لاجسٹکس شعبوں، این ایل سی کے ماہرین شامل تھے،ٹاسک فورس نے بحری شعبے میں مجموعی طور پر 99 اصلاحات کی سفارشات پیش کی تھیں،کمیٹی نے بندرگاہوں کے ماسٹر پلان، جہاز رانی، جہاز سازی، اور ماہی گیری سے متعلق اصلاحات پر عملدرآمد کا آغاز کیا،ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں اصلاحاتی عملدرآمد کمیٹی نے 99 میں سے 85 ایکشن پوائنٹس مکمل کر لیے ہیں،دیگر 14 نکات میں سے 11 تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جبکہ 3 پر طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت کام جاری ہے

    اصلاحات میں بندرگاہوں کی استعداد میں اضافہ، اقتصادی زونز کی نگرانی کیلئے جدید نظام شامل ہے،اصلاحات میں کراچی پورٹ کی اراضی سے تجاوزات کا خاتمہ بھی شامل ہے،اصلاحات میں ٹرانس شپمنٹ اور بنکرنگ کیلئے کسٹم رولز کو فروغ دینا بھی شامل ہے، اصلاحات میں مقامی جہاز سازی و مرمت کے نظام کو فروغ دینا بھی شامل ہے،صوبائی سطح پر ماہی گیری کے فروغ کیلئے 5سالہ منصوبہ کو حتمی شکل دی گئی ،8 سال بعد جہازوں کی ری سائیکلنگ بھی شروع کر دی گئی ہے،اصلاحات کے باعث بندرگاہوں کی ڈریجنگ میں خود انحصاری کی جانب اہم قدم کے طور پر نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز کا قیام عمل میں لایا گیا،