Baaghi TV

Blog

  • سلسلہ قصص الانبیاء ( تیس حصے ) ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    سلسلہ قصص الانبیاء ( تیس حصے ) ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    سادہ زبان ، دلکش اسلوب اور ایمان افروز واقعات کا حسین امتزاج ۔بچوں ، بڑوں اور خواتین کے لیے تعلیم ، تربیت اور اصلاح کا ایک مکمل نصاب

    انسانی تاریخ کے سب سے روشن، سب سے پاکیزہ اور سب سے مقدس صفحات وہ ہیں جن پر انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیاں رقم ہیں۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جن کے دل نورِ وحی سے روشن، جن کی زبانیں حق کی گواہ ا ور جن کے قدم انسانیت کو اندھیروں سے اجالوں کی طرف لے جانے والے چراغ تھے۔ دارالسلام انٹرنیشنل نے ’’ سلسلہ قصص الانبیاء ‘‘ کے انہی چراغوں کی روشنی کو تیس کتابوں میں سمیٹ کر ایک ایسا روحانی خزانہ پیش کیا ہے جو دل کو بیدار اور روح کو پاکیزہ کرتا ہے۔ یہ سلسلہ صرف کہانیوں پر مشتمل نہیں بلکہ یہ انسان کی پوری اخلاقی، معاشرتی اور روحانی تربیت کا ایک جامع نصاب ہے۔ ہر کتاب اپنے اندر ایک پیغام، ایک نکتہ، ایک نصیحت اور ایک ایمان افروز حقیقت رکھتی ہے۔

    ’’ سلسلہ قصص الانبیاء علیھم السلام ‘‘ کا آغاز قصہ سیدنا آدم علیہ السلام سے ہوتا ہے، جہاں انسان کی تخلیق، شیطان کا غرور، سجدہ آدم کا عظیم واقعہ اور آزمائش کا پہلا امتحان نہایت مؤثر اسلوب میں سامنے آتا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ انسان کا اصل مقام اطاعت میں ہے غرور میں نہیں۔ پھر سیدنا ادریس علیہ السلام کا قصہ ہے جو قاری کو علم، حکمت اور تہذیب کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہولناک طوفان اور قصہ سیدنا نوح علیہ السلام انسان کے سامنے وہ عذاب کھول کر رکھتا ہے جس نے پوری دنیا کو پانی کے طوفان میں لپیٹ لیا۔موت کی ہوا اور سیدنا ہود علیہ السلام کا قصہ یہ بتاتا ہے کہ قومِ عاد کا غرور جب آسمان کو چھونے لگا تو ایک ہوا نے سب کچھ ملیا میٹ کر دیا ۔ا سی طرح ثمود کی تباہی اور سیدنا صالح علیہ السلام کی کتاب اس بات پر گواہ ہے کہ اللہ کی نشانی کو نقصان پہنچانا کیسے پوری قوم کی بربادی کا سبب بنا۔پھر آتی ہے ہولناک آگ ۔ یہ قصہ سیدنا ا براہیم علیہ السلام کا ایمان، نمرود کا غرور اور اللہ کی قدرت کا ایسا معجزہ ہے کہ جس سے آگ گلِ گلزار بن گئی۔ اس کے بعد عظیم قربانی میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا وہ لمحہ آتا ہے کہ جب باپ بیٹے کی رضا کے ساتھ اللہ کے حکم کے سامنے جھک جاتا ہے۔ یہ داستان انسان کے ایمان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ انوکھے مہمان اور سیدنا اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری اللہ کی رحمت اور قدرت کے نئے پہلو سامنے لاتی ہے، جبکہ پتھروں کی بارش میں قومِ لوط علیہ السلام کی گمراہی اور اس کا ہولناک انجام تاریخ کا ایسا ورق ہے جو آنکھیں نم کر دیتا ہے۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام کی "عجیب بشارت” امید، صبر اور یقین کا درس دیتی ہے، جبکہ ظالم بھائی، بادشاہ کا خواب اور ستاروں کا سجدہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی پاکیزہ زندگی کا ایسا ہمہ گیر بیان پیش کرتے ہیں جو کردار، بصیرت، معافی اور حسنِ اخلاق کا ایک آئینہ بن جاتا ہے۔سیدنا شعیب علیہ السلام کا قصہ "ہولناک عذاب” کے عنوان سے یہ سکھاتا ہے کہ ناپ تول میں کمی جیسا بظاہر معمولی گناہ بھی قوموں کو برباد کر دیتا ہے۔ اس کے بعد پرانی لاش، جادوگروں سے مقابلہ، عبرت کا نشان، سونے کا بچھڑا ، تین سوال اور زمین کی پکڑیہ چھ کتابیں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی عظیم جدوجہد، فرعون کی سرکشی، جادوگروں کی توبہ، بنی اسرائیل کی نافرمانی اور اللہ کے عذاب کے بے شمار عبرت ناک مناظر دکھاتی ہیں ۔ پھر سیدنا الیاس علیہ السلام کی داستان ایک مردِ مجاہد کی طرح سامنے آتی ہے جو ظالم بادشاہ کے سامنے بے خوف کھڑے ہو کر توحید کا پرچم بلند کرتے ہیں۔صندوق کی واپسی اورا ڑنے والا تخت یہ دونوں کتابیں بادشاہوں کے بادشاہ سیدنا دائود اور سیدنا سلمان کی ایسی شان دکھاتی ہیں جو انسانوں، جانوروں، پرندوں، جنّات اور ہواؤں پر حکم چلانے کے باوجود اللہ کے ایک سچے بندے کی عاجزی، عدل اور حکمت کو نمایاں کرتی ہیں۔ صبر کا بدلہ میں سیدنا ایوب کا ایمان انسان کی روح کو پاک کر دیتا ہے۔ ان کا صبر، بیماری کے شدید ترین حالات میں بھی اللہ پر بھروسہ ہر غم زدہ دل کے لیے ایک نعمت ہے۔خوش قسمت قوم سیدنا یونس کی قوم کی توبہ اور اللہ کی رحمت کا ظہور، اللہ کی قبولیت اور محبت کی خوبصورت دلیل ہے۔ اسی طرح انوکھی خوشخبری میں سیدنا زکریا کی دعا اور ان کے بڑھاپے میں عطا ہونے والے فرزند کی بشارت انسان کے دل میں امید کی شمع روشن کر دیتی ہے۔ ظالم ملکہ سیدنا یحیٰ علیہ السلام کی شہادت کا دردناک منظر پیش کرتی ہے، جبکہ پتھر کی گواہی میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات انسانیت کو اللہ کی قدرت کے حیرت انگیز جلوے دکھاتے ہیں۔ ا ور سب سے آخر میں ہے ۔۔۔۔’’ سب سے پیارے: محمد رسول اللہ ﷺ ‘‘ یہ کتاب صرف ایک قصہ نہیں بلکہ تمام قصص کی روشنی کا مرکز ہے۔ یہ کتاب اس محبوب ہستی کی زندگی کا نچوڑ ہے جن کے اخلاق قرآن ہیں ، جن کی زبان حق ہے ، جن کا دل رحمت ہے ، جن کی نگاہیں ہدایت ہیں اور جن کا وجود اللہ کی طرف سے انسانیت کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہے ۔ دارالسلام نے اس عظیم سلسلے کو نہایت سادہ، دلکش، فصیح اور جامع انداز میں ترتیب دے کر ہر عمر کے مسلمانوں کے لیے نورِ ہدایت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ یہ سلسلہ بچوں کے لیے سبق، بڑوں کے لیے عبرت، والدین کے لیے تربیت، خطباء کے لیے مواد اور ہر مسلمان کے لیے ایمان کی غذا ہے۔4کلر باتصویر اور آفسٹ پیپر پر طبع شدہ تیس حصوں پر مشتمل اس سیٹ کی قیمت 6600روپے ہے ۔ انبیاء علیھم السلام کے ایمان افروز حالات وواقعات پر مشتمل یہ حسین گلدستہ دارالسلام انٹرنیشنل کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ پر دستیاب ہے یا براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج ذیل فون نمبر 042-37324034پر رابطہ کریں ۔

  • خواتین کو نشہ دے کر زیادتی کرنے والا بین الاقوامی نیٹ ورکس بے نقاب، 57 ملزمان گرفتار

    خواتین کو نشہ دے کر زیادتی کرنے والا بین الاقوامی نیٹ ورکس بے نقاب، 57 ملزمان گرفتار

    یورپ: سات ممالک پر مشتمل ایک بڑے بین الاقوامی پولیس آپریشن میں ایسے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا پردہ فاش کیا گیا ہے جو خواتین کو نشہ آور ادویات دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے تھے اور آن لائن خفیہ چیٹ گروپس کے ذریعے ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی، منصوبہ بندی اور مجرمانہ معلومات کا تبادلہ کرتے تھے۔

    یورپی پولیس ادارے (یوروپول) اور برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق ان گروہوں میں شامل افراد نہ صرف متاثرہ خواتین کو بے ہوش یا نیم بے ہوش کرنے کے طریقے ایک دوسرے کو سکھاتے تھے بلکہ زیادتی کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کرتے تھے، جبکہ مختلف ادویات کے استعمال، ان کی مقدار اور پولیس سے بچنے کے طریقوں پر بھی رہنمائی فراہم کی جاتی تھی۔برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق جرمنی اور برطانیہ کی قیادت میں امریکا، برازیل، کینیڈا، فرانس، ہنگری، نیدرلینڈز اور اسپین کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کا آغاز کیا، جسے "پروجیکٹ میڈوسا” کا نام دیا گیا ہے۔یہ آپریشن رواں سال اپریل میں شروع کیا گیا تھا تاکہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے منظم ہونے والے ایسے جنسی جرائم کا خاتمہ کیا جا سکے، جنہیں حکام نے تیزی سے بڑھتا ہوا عالمی خطرہ قرار دیا ہے۔یوروپول کے مطابق اب تک اس کارروائی کے دوران 150 سے زائد متاثرین اور مشتبہ ملزمان کی شناخت کی جا چکی ہے، جبکہ 270 سے زیادہ نئی تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق اب تک 57 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ متاثرین کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

    برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق زیادہ تر متاثرہ خواتین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے۔ کئی خواتین کو اس وقت اس ہولناک حقیقت کا علم ہوا جب پولیس نے تحقیقات کے دوران ان سے رابطہ کیا۔تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اکثر واقعات میں زیادتی کرنے والا کوئی اجنبی نہیں بلکہ متاثرہ خاتون کا شوہر، ساتھی یا قریبی جاننے والا شخص ہوتا ہے، جبکہ بعض کیسز میں ایک ہی خاتون کو متعدد افراد اجتماعی منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بناتے رہے۔یوروپول کے مطابق مجرم انکرپٹڈ میسجنگ ایپس، بند فورمز اور خفیہ چیٹ گروپس استعمال کرتے ہیں جہاں وہ ایک دوسرے کو نشہ آور ادویات کے استعمال، متاثرہ شخص کو بے ہوش کرنے، شواہد مٹانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے طریقے سکھاتے ہیں۔ان گروپس میں مجرمان اپنے جرائم کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کرتے ہیں، جس سے ایسے رویوں کو معمول کا عمل بنا کر مزید افراد کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

    برطانیہ کے کراؤن پراسیکیوشن سروس کی نمائندہ سیوبھن بلیک نے کہا کہ یہ ان کے پورے پیشہ ورانہ کیریئر میں دیکھے جانے والے "سب سے ہولناک” جنسی جرائم میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کو ان ہی کے گھروں میں، ایسے افراد کے ہاتھوں نشانہ بنایا جاتا ہے جن پر وہ مکمل اعتماد کرتی ہیں، جو اعتماد کی بدترین خلاف ورزی ہے۔

    یہ تحقیقات فرانس کے معروف گیزیل پیلیکو کیس کے بعد سامنے آئیں، جس میں خاتون کے شوہر نے برسوں تک اسے نشہ آور ادویات دے کر بے ہوش کیا اور درجنوں اجنبی مردوں کو اس کے ساتھ زیادتی کی دعوت دیتا رہا۔اس مقدمے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور صنفی امتیاز پر نئی عالمی بحث چھیڑ دی تھی۔ اس کیس میں مرکزی ملزم کو 2024 میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ مزید 50 افراد بھی مختلف سزاؤں کے مستحق قرار پائے تھے۔

    حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں یورپ میں اس نوعیت کے متعدد مقدمات سامنے آئے ہیں۔جرمنی میں ایک شخص کو برسوں تک اپنی بے ہوش بیوی کے ساتھ زیادتی کرنے اور اس کی ویڈیوز آن لائن شیئر کرنے کے جرم میں آٹھ سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔اسی طرح 2025 میں چین سے تعلق رکھنے والے ژین ہاؤ زو کو برطانیہ اور چین میں دس خواتین سے زیادتی کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ اپریل میں پولینڈ میں بھی ایسے ہی ایک مشتبہ ملزم کو گرفتار کیا گیا، جس کا تعلق ایک خفیہ ٹیلیگرام گروپ سے بتایا گیا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے جرائم کا شکار کسی بھی عمر، سماجی حیثیت یا پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین ہو سکتی ہیں۔پولیس نے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کو شبہ ہو کہ اسے نشہ آور ادویات دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے تو وہ بلا خوف متعلقہ حکام سے رابطہ کرے تاکہ متاثرین کو انصاف اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔یوروپول کا کہنا ہے کہ "پروجیکٹ میڈوسا” اپنی نوعیت کا پہلا بین الاقوامی آپریشن ہے، جس کا مقصد ایسے منظم جرائم کو بے نقاب کرنا ہے جو برسوں سے آن لائن خفیہ نیٹ ورکس اور بند دروازوں کے پیچھے پنپ رہے تھے۔

  • ایران، شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات،تعزیتی اجتماع جاری

    ایران، شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات،تعزیتی اجتماع جاری

    تہران: ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع اور نمازِ جنازہ کے لیے ملک بھر میں غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف اسلامی اور علاقائی ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود بھی تہران پہنچ رہے ہیں۔

    ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق وزارتِ تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے آنے والے زائرین اور شہریوں کی سہولت کے پیشِ نظر ملک بھر کے 5 ہزار سرکاری اسکول عارضی رہائش کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ ان اسکولوں میں تقریباً 40 سے 50 ہزار کلاس رومز کو قیام، آرام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مختص کیا گیا ہے تاکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کو توقع ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں 100 سے زائد ممالک کے سرکاری اور غیر سرکاری نمائندے شرکت کریں گے، جبکہ مجموعی شرکاء کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے، جس کے باعث تہران اور دیگر شہروں میں سیکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    تعزیتی تقریبات کے سلسلے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں وہ تعزیتی اجتماع میں شرکت کے بعد وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے انہیں الوداع کیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق مختلف ممالک اور تنظیموں کے نمائندے بھی تعزیتی اجتماع میں شریک ہوئے، جن میں سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید بن عبد الکریم الخریجی کی قیادت میں وفد، افغانستان کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر، وزیر خارجہ امیر خان متقی، طالبان مخالف افغان رہنما احمد مسعود اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا اعلیٰ سطحی وفد شامل تھا۔حماس کے وفد میں اسماعیل درویش، موسیٰ ابو مرزوق، ظاہر جبارین، باسم نعیم اور ڈاکٹر خالد قدومی سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے، جنہوں نے تہران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    روس کی سلامتی کونسل کے سربراہ دیمتری میدودیف تہران پہنچ گئے، جہاں انہوں نے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریب میں شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم امریکا کیخلاف جدوجہد میں فاتح بن کر ابھرے گی، یہ کسی بھی دوسرے ملک کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔دیمتری میدودیف کا کہنا تھا کہ علی خامنہ ای کی شہادت پر روس بھی دوست ملک کے دکھ میں شریک ہے۔روسی وفد نے دورے کے دوران صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی ہے۔

    جمعے کی دوپہر کو مسلح افواج کی قیادت نے الوداعی ہال میں حاضر ہوکر مجاہد عظیم، سپریم کمانڈر، رہبر شہید کو سلام اور خراج عقیدت پیش کیا، اس موقع پر خاتم الانبیا (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی، پولیس کے کمانڈر ان چیف بریگیڈیئر جنرل احمدرضا رادان، وزارت دفاع کے سرپرست، فوج کے چیف کوآرڈینیٹر افسر اور متعدد دیگر افسروں اور کمانڈروں نے الوداعی ہال میں حاضر ہوکر آيت اللہ العظمی شہید سید علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا،فوجی قیادت نے اس موقع پر رہبر انقلاب اسلامی کے خون سے سینچے گئے راستے پر گامزن رہنے کا عہد اور ملک اور انقلاب کی حفاظت کے لیے مکمل تیاری کا اعلان کیا۔

    ایرانی حکام کے مطابق تعزیتی تقریبات اور نمازِ جنازہ کے موقع پر غیر ملکی وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ سیکیورٹی، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے حوالے سے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں ہزاروں ایرانی مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے، ایران میں ایک ہفتے پر مشتمل تدفینی تقریبات جاری ، حکام کے مطابق میت کو قم، نجف اور کربلا لے جانے کے بعد 9 جولائی کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا

    علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایران میں شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کی، پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے اظہار تعزیت کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ شہید علی خامنہ ای کی قیادت اور بصیرت کو نسلیں یاد رکھیں گی، ایران سے اظہار یکجہتی کیلئے میرے ساتھ اعلیٰ سطح کا وفد بھی گیا، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شامل تھے، بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر ایاز صادق سمیت سینئر ارکان پارلیمنٹ بھی ساتھ تھے، سینئر وفاقی وزراء اور حکومتی اہلکار بھی پاکستان کے وفد کاحصہ تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان ایرانی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

  • بلوچستان بس حادثہ، ٹرانسپورٹ کمپنی اور ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج، کمپنی سیل

    بلوچستان بس حادثہ، ٹرانسپورٹ کمپنی اور ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج، کمپنی سیل

    دھانہ سر میں پیش آنے والے المناک بس حادثے کے بعد پولیس نے تھانہ شیرانی میں ٹرانسپورٹ کمپنی اور کوچ ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر غفلت، لاپرواہی، غیر ذمہ داری اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔

    محکمہ ٹرانسپورٹ نے کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ کوچ کمپنی کو سیل کر دیا ہے، جبکہ حادثے کی جامع تحقیقات کی ذمہ داری سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو سونپ دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران ٹرانسپورٹ کمپنی کی قانونی حیثیت، کوچ کی فٹنس، ڈرائیور کی اہلیت، حفاظتی اقدامات اور حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد تحقیقات کی رپورٹ وزیراعلیٰ بلوچستان کو پیش کی جائے گی، جس کی روشنی میں مزید قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب پولیس کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے دو نامعلوم افراد کی شناخت کے لیے نادرا سے رابطہ کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر تمام جاں بحق افراد کی میتیں ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

  • جائیداد کی نیلامی،بحریہ ٹاؤن نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے خط میں اپیل کر دی

    جائیداد کی نیلامی،بحریہ ٹاؤن نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے خط میں اپیل کر دی

    اسلام آباد: بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کو خط ارسال کرتے ہوئے اپنی قیمتی جائیدادوں کی مبینہ طور پر کم قیمت پر نیلامی کے خلاف مداخلت کی اپیل کی ہے۔

    بحریہ ٹاؤن کے وائس چیف ایگزیکٹو کموڈور (ر) محمد الیاس کی جانب سے لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی اربوں روپے مالیت کی زمینیں اور دیگر املاک ان کی اصل مارکیٹ ویلیو سے کہیں کم قیمت پر نیلام کی جا رہی ہیں، جس سے نیلامی کے عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔خط کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مختلف منصوبوں میں اوورسیز پاکستانیوں، بیواؤں، عام شہریوں اور دیگر سرمایہ کاروں سمیت لاکھوں خاندانوں کی 372 ارب روپے سے زائد کی عمر بھر کی جمع پونجی سرمایہ کاری کی صورت میں موجود ہے، جو موجودہ صورتحال میں شدید خطرے سے دوچار ہے۔بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی آزادانہ، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک املاک کی نیلامی کا عمل فوری طور پر روک دیا جائے۔خط میں کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن خود کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتا اور وہ اپنے تمام دیرینہ قانونی تنازعات کو قانون، باہمی بات چیت اور ثالثی کے ذریعے حل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔انتظامیہ نے مزید واضح کیا کہ اگر کسی قانونی کارروائی کے نتیجے میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف کسی ذمہ داری یا خلاف ورزی کا تعین ہوتا ہے تو ادارہ قانون کے مطابق تمام واجبات اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے بھی تیار ہوگا۔

  • زیر علاج بیٹی کے وارڈ سے زبردستی نکالے جانےپروالد کی ہسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ

    زیر علاج بیٹی کے وارڈ سے زبردستی نکالے جانےپروالد کی ہسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ

    لاہور میں واقع چلڈرن اسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ لگانے والا 28 سالہ شخص شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق زخمی شخص کی شناخت عمران صابر کے نام سے ہوئی ہے، جس کی کمسن بیٹی چلڈرن اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اسپتال کے سیکیورٹی گارڈز نے مبینہ طور پر عمران کو زبردستی وارڈ سے باہر نکال دیا، جس پر وہ شدید ذہنی دباؤ اور دل برداشتگی کا شکار ہو گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ عمران نے اسی حالت میں اسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجے میں اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔واقعے کے فوراً بعد زخمی شخص کو جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے سرجیکل ایمرجنسی میں داخل کر کے علاج شروع کر دیا گیا۔

    جنرل اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق عمران صابر کی حالت پہلے سے بہتر ہے اور اسے ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ اسپتال میں پیش آنے والے حالات اور سیکیورٹی عملے کے مبینہ رویے نے واقعے میں کس حد تک کردار ادا کیا۔

  • فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی مدبرانہ بصیرت اور عالمی امن کا معجزہ،تحریر  : جان محمد رمضان

    فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی مدبرانہ بصیرت اور عالمی امن کا معجزہ،تحریر : جان محمد رمضان

    تاریخ کے صفحات جب بھی انسانیت کو بڑی تباہی سے بچانے والے مدبرین کا تذکرہ کریں گے، تو اس میں پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز اور سپہ سالار، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ حالیہ مہینوں میں دنیا جس تیزی سے ایک ہولناک جوہری تصادم اور تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی تھی، اسے روکنے میں پاکستان کی عسکری قیادت نے جو خاموش لیکن انتہائی اثر انگیز سفارتی اور سٹریٹجک کردار ادا کیا، وہ بلاشبہ صدی کا سب سے بڑا امن معجزہ ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی سنگین کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور بحری ناکہ بندیوں نے عالمی معیشت اور امنِ عالم کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ ایسے نازک موڑ پر، جب عالمی طاقتیں مکالمے کے تمام دروازے بند کر چکی تھیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی غیر معمولی بصیرت، فہم و فراست اور "شراکتِ امن” (Peace Diplomacy) کے فلسفے کے تحت دنیا کو ایک ناگزیر تباہی سے بچا لیا۔

    پچھلے کچھ عرصے سے دنیا بلاکس کی سیاست میں تقسیم ہو کر بارود کے ڈھیر پر بیٹھی تھی۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے محاذ پر امریکہ اور ایران کا براہِ راست تصادم سر پر تھا، تو دوسری طرف عالمی توانائی کی سپلائی لائنز اور تجارتی راستے مسدود ہو رہے تھے۔ عسکری ماہرین کا متفقہ خیال تھا کہ اگر ان دونوں طاقتوں کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑ گئی، تو یہ محض علاقائی جنگ نہیں رہے گی، بلکہ اس میں جوہری طاقتیں شامل ہو جائیں گی، جو تیسری عالمی جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔

    اس بھیانک منظرنامے میں دنیا کو ایک ایسے معتبر اور غیر جانبدار ثالث کی ضرورت تھی جس کی بات تہران میں بھی سنی جائے اور واشنگٹن میں بھی وزن رکھتی ہو۔ یہ تاریخی اور کٹھن ذمہ داری پاکستان کے نڈر سپہ سالار نے اپنے کندھوں پر اٹھائی۔

    تہران سے واشنگٹن: فیلڈ مارشل کی بیک چینل ڈپلومیسی فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت اور مخلصانہ سوچ انہیں دنیا بھر کے ملٹری لیڈرز سے ممتاز کرتی ہے۔ انہوں نے رواں سال کے دوران ایک انتہائی مربوط اور پیچیدہ سفارتی مشن کا آغاز کیا:
    ایران کے ساتھ سٹریٹجک ڈائیلاگ: فیلڈ مارشل نے تہران کا اہم دورہ کیا اور ایرانی صدر سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ایرانی قیادت نے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو تسلیم کرتے ہوئے تناؤ میں کمی (De-escalation) کے متبادل طریقوں پر آمادگی ظاہر کی۔
    واشنگٹن اور عالمی طاقتوں سے رابطہ: دوسری طرف، امریکی انتظامیہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے مضبوط عسکری و سفارتی تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے، انہوں نے واشنگٹن کو باور کروایا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
    پاکستان بطور قابلِ قبول ثالث: فیلڈ مارشل کی کامیاب حکمتِ عملی نے پاکستان کو دونوں فریقین کے لیے ایک معتبر اور قابلِ قبول پل بنا دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک پسِ پردہ مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوئے۔

    عسکری ہیبت اور امن پسندی کا امتزاج
    ایک حافظِ قرآن اور مدبر عسکری رہنما ہونے کے ناطے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت میں جہاں عزم و استقامت کی فولادی جھلک ہے، وہاں انسانیت کی بقا کا درد بھی شامل ہے۔ ان کی یہ سفارتی کامیابی محض لفاظی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کا وہ ناقابلِ تسخیر دفاعی ڈیٹرنس تھا جو انہوں نے مئی 2025ء کے پاک بھارت فضائی و میزائل تصادم کے دوران دنیا کو دکھایا تھا، جس شاندار عسکری کامیابی پر انہیں ملک کا اعلیٰ ترین عسکری رینک "فیلڈ مارشل ” عطا کیا گیا ۔دنیا جانتی ہے کہ جو قیادت اپنے وطن کا دفاع کرنا اور دشمن کو دندان شکن جواب دینا جانتی ہے، جب وہ امن کی بات کرتی ہے تو اس کی آواز میں وزن ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل نے ثابت کیا کہ پاکستان صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں، بلکہ وہ خطے اور دنیا میں "استحکام کا برآمد کنندہ” (Exporter of Stability) ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروا کر دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے واپس لانا ایک ایسا تاریخی کارنامہ ہے جس نے بین الاقوامی سیاست میں پاکستان کے وقار کو بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سٹریٹجک سوچ، تحمل اور مذاکراتی مہارت نے ثابت کر دیا کہ حقیقی لیڈرشپ وہ نہیں جو جنگ کے شعلوں کو ہوا دے، بلکہ وہ ہے جو اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کو انسانیت کے تحفظ اور امن کے لیے استعمال کرے۔
    آج اگر دنیا ایک ہولناک تباہی اور معاشی بربادی سے محفوظ ہے، تو اس کا ایک بڑا کریڈٹ پاکستان کی اس مخلصانہ اور مدبرانہ عسکری سفارت کاری کو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین اور کالم نگار اب کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ دنیا کو صدی کی سب سے بڑی جنگ سے بچانے والی یہ عظیم شخصیت بلاشبہ امن کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی اعزازات کی مستحق ہے۔ سپہ سالار کی اس بصیرت نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

  • مجھے برہنہ کیا، میں روتی رہی،  مجھے تھپڑ مارے ،متعدد بار زیادتی کی گئی، غیر ملکی خاتون کا بیان آ گیا

    مجھے برہنہ کیا، میں روتی رہی، مجھے تھپڑ مارے ،متعدد بار زیادتی کی گئی، غیر ملکی خاتون کا بیان آ گیا

    لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کے کیس میں غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کا مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروائے گئے بیان کا کچھ حصہ منظرِ عام پر آ گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میری عمر 40 سال ہے اور میں اسپین کے شہر ہنڈاس دی لاس کی رہائشی ہوں اور حلف لے کر اپنا بیان ریکارڈ کروا رہی ہوں،غیر ملکی خاتون کا کہنا ہے کہ میری کہانی ویسی ہی ہے جیسے اسٹیفنی نے بتایا، اس گھر میں قیام کے دوران میرا تجربہ مختلف تھا، پہلی رات 4 لوگ اسلحے کے ساتھ آئے اور ہمیں باندھ دیا، ایک شخص جس نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے، اُس نے میرے جسم کے مخصوص حصوں کو چھوا، انہوں نے میرے چہرے پر متعدد گھونسے مارے، رضا ڈار آیا اور اس نے مجھ سے کمپیوٹر اور پیسوں کے بارے میں پوچھا،میں نے بتایا دونوں چیزیں سبز بیگ میں پڑی ہوئی ہیں، اس دوران اسٹیفنی کو واپس لایا گیا اور ہم دونوں سے پاس ورڈ اور کمپیوٹر کے بارے میں پوچھتے رہے، انہوں نے میرے سر پر بہت زور سے پسٹل کا بٹ مارا،وہاں ایک اور شخص موجود تھا جو بہت اچھی انگلش بول رہا تھا جس سے میں نے پوچھا کہ کیا تم لوگ ہمیں مار دو گے، جس پر اس نے کہا کہ اگر تم نے ہمیں پیسے نہ دیے تو زندہ نہیں جاؤ گی۔
    کچھ دیر بعد یہ شخص نیچے چلا گیا اور 3 لوگ بیڈ روم میں آ گئے، ایک بڑی عمر کا شخص رائفل کے ساتھ تھا جس نے 2 لوگوں کو میرے پاس رکنے کا کہا، وہ صرف اردو بول رہے تھے اور زور زور سے ہنس رہے تھے۔

    غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کے مطابق انہوں نے مجھے جنسی تعلق کا کہا جس کا میں نے متعدد بار انکار کیا، مگر کالے کپڑوں میں ملبوس شخص مجھے دوسرے فلور پر لے گیا اور مجھے برہنہ کیا، میں روتی رہی، اس نے مجھے تھپڑ مارے اور منہ بند کرنے کا کہا،میرے ساتھ متعدد بار زیادتی کی گئی، میرے شور مچانے پر وہ رک گیا اور مجھے دوبارہ کپڑے پہنا دیے اور مجھے دوبارہ اس کمرے میں لے جایا گیا جہاں دیگر لوگ موجود تھے۔

  • اسلام آباد، جامعہ حفصہ کے ہاسٹل سے 18 سالہ طالبہ کی لاش برآمد، تحقیقات شروع

    اسلام آباد، جامعہ حفصہ کے ہاسٹل سے 18 سالہ طالبہ کی لاش برآمد، تحقیقات شروع

    اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں واقع لال مسجد سے ملحقہ جامعہ حفصہ کے ہاسٹل سے 18 سالہ طالبہ کی پراسرار حالات میں لاش برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

    پولیس کے مطابق متوفیہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع اَپر دیر سے تھا اور وہ جامعہ حفصہ میں زیرِ تعلیم تھی۔ طالبہ ہاسٹل میں مردہ حالت میں پائی گئی، جس پر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔پولیس نے لاش کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا، جہاں پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ ابتدائی معائنے کے دوران طالبہ کے جسم پر کسی قسم کے تشدد یا ظاہری زخم کے نشانات نہیں پائے گئے۔تفتیشی حکام نے مدرسے کے ہاسٹل میں رہائش پذیر دیگر طالبات کے بیانات بھی قلمبند کر لیے ہیں تاکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔

    تھانہ آبپارہ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کی موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکے گی، جبکہ تمام ممکنہ پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق فی الحال موت کی وجہ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

  • بھارت: بیوی نے شوہر کو قتل کرکے باتھ روم میں دفن کر دیا

    بھارت: بیوی نے شوہر کو قتل کرکے باتھ روم میں دفن کر دیا

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر آگرہ میں پولیس نے ایک خاتون کو اپنے شوہر کے مبینہ قتل اور اس کی لاش گھر کے باتھ روم میں دفن کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتول سریندر شرما گزشتہ 45 روز سے لاپتہ تھا۔ اس کی گمشدگی کی رپورٹ بھی ملزمہ روبی نے خود پولیس کو درج کرائی تھی اور دورانِ تفتیش وہ پولیس کے ساتھ شوہر کی تلاش کا ڈرامہ بھی کرتی رہی۔ اہلِ محلہ کے سامنے بھی وہ خود کو غم زدہ ظاہر کرتی رہی تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہو۔پولیس کے مطابق تحقیقات میں اس وقت اہم پیش رفت ہوئی جب مقتول کے بھائی نے ملزمہ کے بیانات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا، جس کے بعد روبی سے سخت پوچھ گچھ کی گئی۔تفتیش کے دوران ملزمہ کے انکشاف پر پولیس نے مزدوروں کی مدد سے گھر کے باتھ روم کا فرش تڑوایا، جہاں سے سریندر شرما کی لاش برآمد کر لی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ قتل اور لاش چھپانے میں کسی اور شخص کا بھی کردار تھا یا نہیں۔