Baaghi TV

Blog

  • امریکا کا  جیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ سے واپس بلانے کا فیصلہ

    امریکا کا جیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ سے واپس بلانے کا فیصلہ

    امریکا نے یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (سی وی این-78) کو مشرقِ وسطیٰ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیاہے-

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے اس جدید طیارہ بردار بحری جہاز کی واپسی کو اسٹریٹجک ترتیبِ نو کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد خطے میں فوجی تعیناتی کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہےجیرالڈ فورڈ دنیا کے جدید ترین ایئرکرافٹ کیریئرز میں شمار ہوتا ہے اور اسے حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے اظہار کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کو امریکا کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور ممکنہ سفارتی کوششوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی میں کمی کا تاثر بھی دیا جا سکتا ہے تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کرتے ہوئے جوہری معاہدے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف اپنے مقاصد تقریباً حاصل کر چکے ہیں، اس کے پاس میزائل سازی کی صلاحیت انتہائی کم رہ گئی ہے، ایران کے 82 فیصد میزائل تباہ کر دیئے ہیں، ایران کے پاس کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیئں۔

    بدھ کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزوس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ پہلے ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ ہونا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینیٹ کام) نے ایران پر ”مختصر اور طاقتور“ فضائی حملوں کا ایک منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جس کا مقصد مذاکرات میں تعطل توڑنا بتایا جا رہا ہے ان ممکنہ حملوں میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے ان حملوں کے بعد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر مجبور کیا جائے گا تاہم تاحال کسی فوجی کارروائی کا باضابطہ حکم جاری نہیں کیا گیا یران کی بحری ناکہ بندی بمباری کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے اور ایران اس صورت حال میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔

    امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی تیل کی برآمدات رکنے سے اس کے آئل ذخائر اور پائپ لائنز خطرناک حد تک دباؤ میں ہیں تاہم بعض ماہرین نے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے تہران ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے لیکن امریکا اس وقت تک کوئی نرمی نہیں دکھائے گا جب تک جوہری معاملہ حل نہیں ہوتا۔

  • 
آبنائے ہرمز بندش، تیل مہنگا اور پاکستان اسٹاک مارکیٹ متاثر

    
آبنائے ہرمز بندش، تیل مہنگا اور پاکستان اسٹاک مارکیٹ متاثر

    ‎آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید بے چینی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر 115 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے، جبکہ امریکی خام تیل بھی 104 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا بندش عالمی سپلائی چین کو متاثر کرتی ہے، جس کا فوری اثر قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ موجودہ صورتحال نے بھی یہی خدشات بڑھا دیے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب اس غیر یقینی صورتحال کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی حالات کس طرح مقامی مالیاتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
    ‎معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان جیسے درآمدی ممالک کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ اس سے درآمدی بل میں اضافہ اور مہنگائی میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔

  • 
ایران جنگ پر امریکا کے 25 ارب ڈالر خرچ، پینٹاگون کا انکشاف

    
ایران جنگ پر امریکا کے 25 ارب ڈالر خرچ، پینٹاگون کا انکشاف

    ‎امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینیئر عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پر امریکا اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پینٹاگون کی جانب سے اس جنگ کے اخراجات کا باضابطہ تخمینہ سامنے آیا ہے، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔
    ‎غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق پینٹاگون کے کمپٹرولر جولز ہرسٹ نے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس بڑی رقم کا زیادہ تر حصہ اسلحہ، گولہ بارود اور جنگی سازوسامان پر خرچ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ جاری آپریشنز اور دفاعی ضروریات ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس قدر بڑے پیمانے پر اخراجات نہ صرف امریکا کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جنگی اخراجات میں اضافہ اکثر دفاعی بجٹ میں تبدیلی اور دیگر شعبوں پر مالی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے مالی اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہوں گے، خاص طور پر اگر کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی۔ اس کے علاوہ عالمی منڈیوں، خاص طور پر توانائی کے شعبے پر بھی اس کے اثرات پڑنے کا امکان ہے۔

  • 
امریکا میں پیٹرول 4 سال کی بلند ترین سطح پر

    
امریکا میں پیٹرول 4 سال کی بلند ترین سطح پر

    ‎امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے بڑھتے ہوئے چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس سے عوام پر اضافی مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکی آٹوموبیل ایسوسی ایشن کے مطابق حالیہ اضافہ خطے میں جاری ایران سے متعلق کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث سامنے آیا ہے، جس نے عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کیا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق امریکا میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی گیلن قیمت بڑھ کر 4.1 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف عام شہریوں بلکہ ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری شعبوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی عالمی سپلائی میں رکاوٹ اور غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتوں میں یہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات براہ راست عالمی منڈی پر پڑتے ہیں، جس سے امریکا سمیت کئی ممالک میں ایندھن مہنگا ہو جاتا ہے۔
    ‎معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اس صورتحال میں امریکی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

  • 
ایران کے پاس طویل جنگ کیلئے وسیع میزائل و ڈرون ذخائر موجود

    
ایران کے پاس طویل جنگ کیلئے وسیع میزائل و ڈرون ذخائر موجود

    ‎ایرانی پارلیمنٹ کے سینئر رکن علاؤ الدین بروجردی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس دشمن کے خلاف طویل عرصے تک جنگ جاری رکھنے کے لیے میزائلوں اور ڈرونز کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ابھی تک اپنی مکمل فوجی صلاحیتوں کو ظاہر نہیں کیا اور کئی اہم دفاعی صلاحیتیں اب بھی خفیہ ہیں۔
    ‎تسنیم نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بروجردی نے بتایا کہ ایران کے پاس موجود اسلحہ ذخیرہ اتنا بڑا ہے کہ وہ برسوں تک جنگی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایران نے اپنی تمام تر طاقت استعمال نہیں کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے پاس مزید صلاحیت بھی موجود ہے۔
    ‎انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ اس وقت تقریباً 120 بحری جہاز آبنائے ہرمز کے قریب گزرنے کے منتظر ہیں، جبکہ کئی ایرانی جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے سمندری راستے مکمل طور پر بند نہیں کیے جا سکے۔
    ‎بروجردی نے باب المندب کی تزویراتی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ راستہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملاتا ہے، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی عالمی بحری راستوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

  • 
ایران جنگ کے اثرات، ملائیشیا نے سرکاری بجٹ میں کٹوتی کر دی

    
ایران جنگ کے اثرات، ملائیشیا نے سرکاری بجٹ میں کٹوتی کر دی

    ‎ایران جنگ کے معاشی اثرات اب عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں اور اسی تناظر میں ملائیشیا نے ایک بڑا مالیاتی فیصلہ کرتے ہوئے تمام وزارتوں کے بجٹ میں کٹوتی کا حکم دے دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کیا گیا ہے۔
    ‎ملائیشیا کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہنگامی ہدایت نامے میں تمام سرکاری اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سال 2026 کے اپنے آپریٹنگ بجٹ میں فوری کمی کریں۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے ضروری ہو گیا ہے کیونکہ ملک کو بڑھتے ہوئے اخراجات اور غیر یقینی معاشی حالات کا سامنا ہے۔
    ‎محکمہ خزانہ کے سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ ملک کا سبسڈی بل 58 ارب رنگٹ سے تجاوز کر سکتا ہے، جو کہ حکومتی اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ حکومت نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ سبسڈی کے لیے مختص بجٹ سے زیادہ اخراجات ہو رہے ہیں، جس نے مالیاتی توازن کو متاثر کیا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ملائیشیا کی معیشت پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔ چونکہ ملائیشیا بھی توانائی کے شعبے میں عالمی منڈی سے جڑا ہوا ہے، اس لیے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے اس کے مالیاتی منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔

  • 
کراچی میں اے لیول کا پرچہ بھی لیک، امتحانی نظام پر سوالات

    
کراچی میں اے لیول کا پرچہ بھی لیک، امتحانی نظام پر سوالات

    ‎کراچی میں تعلیمی نظام ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گیا ہے جہاں میٹرک اور انٹر کے بعد اب اے لیول کا پرچہ بھی امتحان سے قبل لیک ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کیمبرج سسٹم کے تحت ہونے والے اے ایس ریاضی کے امتحان کا پرچہ رات گئے مبینہ طور پر مارکیٹ میں دستیاب ہو گیا، جس نے طلبہ اور والدین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق یہ پرچہ رات تین سے چار بجے کے درمیان لیک ہوا اور بعد ازاں مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے فروخت کیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ریڈٹ ایپ کے ذریعے اس پرچے کو فروخت کیا گیا اور پھر واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا ذرائع کے ذریعے اسے وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا۔
    ‎لیک ہونے والا پرچہ "Pure Mathematics 1” سے متعلق بتایا جا رہا ہے، جس کا کوڈ 9707 تھا۔ اس واقعے نے امتحانی شفافیت اور نظام کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مئی جون سیشن کے امتحانات جاری ہیں۔
    ‎طلبہ اور والدین نے اس صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات محنتی طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہیں اور تعلیمی نظام پر اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

  • 
اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کا تبادلہ، نوٹیفکیشن جاری

    
اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کا تبادلہ، نوٹیفکیشن جاری

    ‎وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین جج صاحبان کے تبادلوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت اہم عدالتی شخصیات کو دیگر ہائیکورٹس میں منتقل کیا گیا ہے۔
    ‎جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ جسٹس بابر ستار کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے پشاور ہائیکورٹ منتقل کیا گیا ہے۔ اسی طرح جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا تبادلہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے سندھ ہائیکورٹ کیا گیا ہے۔
    ‎وزارت قانون و انصاف کے مطابق یہ تبادلے آئین کے آرٹیکل 200 کی ذیلی شق 1 کے تحت کیے گئے ہیں، جس کے لیے جوڈیشل کمیشن نے باقاعدہ منظوری دی۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ ججز کے تبادلوں کا فیصلہ کثرت رائے سے کیا گیا تھا۔
    ‎مزید بتایا گیا کہ صدر مملکت کی منظوری کے بعد یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جبکہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر قائم مقام صدر نے پیرا 7 کے تحت ان تبادلوں کی توثیق کی۔
    ‎یاد رہے کہ ایک روز قبل جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کی منظوری دی تھی، جس کے بعد آج باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو عدالتی نظام میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے اور اس کے اثرات مختلف ہائیکورٹس کے امور پر پڑ سکتے ہیں۔

  • 
امریکا ایران سے رابطے میں، معاہدہ قومی سلامتی سے مشروط

    
امریکا ایران سے رابطے میں، معاہدہ قومی سلامتی سے مشروط

    ‎واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی مذاکرات کار ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، تاہم موجودہ جنگی صورتحال میں ایران کو اپنی داخلی قیادت کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس اینا کیلی نے امریکی میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں لیکن کسی بھی ممکنہ معاہدے کو امریکی قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ہی آگے بڑھایا جائے گا۔
    ‎ترجمان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ اسی وقت ممکن ہوگا جب وہ امریکا کے سیکیورٹی مفادات کو مکمل طور پر یقینی بنائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
    ‎اینا کیلی نے مزید کہا کہ موجودہ کشیدگی کے دوران ایران اندرونی سطح پر بھی مشکلات کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی پالیسی پر سختی سے قائم بھی ہے۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو غیر جوہری معاہدے تک پہنچنے کا طریقہ نہیں آتا اور اسے جلد سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اس بیان نے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

  • 
امریکی پابندیوں سے ایرانی ریال تاریخی کم ترین سطح پر گر گیا

    
امریکی پابندیوں سے ایرانی ریال تاریخی کم ترین سطح پر گر گیا

    ‎امریکی ناکابندی اور بڑھتی ہوئی معاشی دباؤ کے باعث ایرانی کرنسی شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے اور ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ کرنسی کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق بدھ کے روز بلیک مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قدر تقریباً 18 لاکھ ریال فی ڈالر تک گر گئی، جو اب تک کی سب سے کم سطح ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس تیزی سے گرتی ہوئی قدر کی بڑی وجہ امریکی پابندیاں، خطے میں کشیدگی اور معاشی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ایران کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے جزوی طور پر الگ کیے جانے اور تیل کی برآمدات پر دباؤ کے باعث ملکی معیشت مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق صرف دو ماہ قبل، جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، اس وقت ایک ڈالر کی قیمت تقریباً 17 لاکھ ریال کے برابر تھی۔ تاہم موجودہ حالات میں ریال کی قدر میں مزید کمی نے عوام اور کاروباری حلقوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
    ‎کرنسی کی اس گراوٹ کے نتیجے میں ایران میں مہنگائی میں اضافہ ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، کیونکہ درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے روزمرہ استعمال کی چیزیں مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پابندیوں اور سیاسی کشیدگی میں کمی نہ آئی تو ریال پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔