Baaghi TV


جرح کے نام پر گواہ کو ہراساں کرنا ناقابل قبول، سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ


لاہور کے علاقے موہلنوال میں واقع 53 کنال 3 مرلہ اراضی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے جرح کے طریقۂ کار پر اہم اصولی فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرح کا حق لامحدود نہیں اور اس کی آڑ میں گواہ کو ہراساں کرنا یا غیر متعلقہ سوالات کرنا ناقابل قبول ہے۔
‎جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کو یہ مکمل قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ غیر ضروری، طویل یا ہراساں کرنے والی جرح کو محدود کرے یا ختم کر دے۔ عدالت نے واضح کیا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے گواہوں کو غیر ضروری دباؤ اور تضحیک سے محفوظ رکھنا عدالتی ذمہ داری ہے۔
‎سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرائل کورٹ اس نتیجے پر پہنچے کہ مزید جرح غیر ضروری یا ہراساں کرنے کے مترادف ہے تو وہ مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر سکتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے بھی اسی بنیاد پر ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی تھی۔
‎عدالت نے ریمارکس دیے کہ گواہوں کو طویل جرح کے ذریعے تھکا کر غلطی پر مجبور کرنا انصاف کے منافی ہے اور عدالتی ریکارڈ کی درستگی کے حق میں ایک مضبوط قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے۔
‎عدالتی فیصلے کے مطابق مذکورہ مقدمے میں مدعی بطور گواہ پیش ہوا، جس پر دو ماہ کے دوران سات سماعتوں میں 30 صفحات پر مشتمل جرح کی گئی۔ سپریم کورٹ نے اس تناظر میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کو سیکشن 151 سی پی سی کے تحت مکمل اختیار حاصل تھا کہ وہ ٹرائل کورٹ کے اقدام کو برقرار رکھے۔

More posts