Baaghi TV

Blog

  • واشنگٹن کی توجہ، اسلام آباد کا مؤقف  پاکستان کی نئی اسٹریٹجک موجودگی۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    واشنگٹن کی توجہ، اسلام آباد کا مؤقف پاکستان کی نئی اسٹریٹجک موجودگی۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    عالمی سیاست میں توجہ حاصل کرنا اکثر طاقت کے مظاہرے یا جارحانہ سفارت کاری کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے، مگر بعض اوقات مستقل مزاجی، ادارہ جاتی ضبط اور حقیقت پسندانہ مؤقف بھی عالمی طاقتوں کو متوجہ کر لیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں یہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں واشنگٹن میں پاکستان ایک بار پھر سنجیدہ غور و فکر کا موضوع بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی خارجہ پالیسی میں روایتی سفارتی آداب کے بجائے براہِ راست مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی توجہ حاصل کرنا کسی بھی ملک کے لیے ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا دوبارہ امریکی پالیسی ڈسکورس میں جگہ بنانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد نے اپنے بیانیے کو محض دفاعی دائرے سے نکال کر اسٹریٹجک شراکت داری کے فریم میں پیش کیا ہے۔

    یہ پیش رفت آسان نہیں تھی۔ پاکستان کو ایک طویل عرصے سے کئی محاذوں پر سوالات اور دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیاں اکثر عالمی بیانیے میں پس منظر میں چلی گئیں، افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال نے پاکستان کے کردار کو مسلسل جانچ کے عمل میں رکھا، جبکہ جنوبی ایشیا میں بھارت کی فعال سفارت کاری نے توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ان سب کے ساتھ ساتھ اندرونی سیاسی اور معاشی عدم استحکام نے بھی پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا۔
    ان حالات میں جنرل عاصم منیر کی حکمت عملی نمایاں طور پر محتاط مگر مؤثر رہی۔ پاکستان نے خود کو کسی بحران کے ذمہ دار کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست، علاقائی استحکام کے شراکت دار اور عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر فریق کے طور پر پیش کیا۔ یہی وہ نقطہ ہے جس نے واشنگٹن میں دوبارہ سنجیدہ مکالمے کی گنجائش پیدا کی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ کا پاکستان کی جانب مبذول ہونا محض علامتی واقعہ نہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عالمی طاقتیں بدلتے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کو نظرانداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں—خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ جنوبی و وسطی ایشیا ایک بار پھر عالمی اسٹریٹجک مقابلے کا مرکز بن رہا ہے۔

    تاہم یہ لمحہ پاکستان کے لیے صرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک امتحان بھی ہے۔ عالمی توجہ عارضی ہوتی ہے، اگر اسے واضح پالیسی اہداف، معاشی اصلاحات اور علاقائی استحکام کی عملی کوششوں میں تبدیل نہ کیا جائے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب اس اسٹریٹجک موقع کو دیرپا شراکت داری میں ڈھالنا ہے، نہ کہ اسے محض ایک وقتی سفارتی کامیابی تک محدود رکھا جائے۔
    اگر پاکستان اس موقع سے دانشمندی سے فائدہ اٹھاتا ہے تو یہ نہ صرف واشنگٹن بلکہ دیگر عالمی دارالحکومتوں میں بھی اس کی پوزیشن کو مستحکم کر سکتا ہے۔ اور یہی کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی کی اصل کامیابی ہوتی ہے—خاموش، مستحکم اور دیرپا۔

  • گوجر خان جی ٹی روڈ کے خستہ حال پل پر گہرے شگاف،کارکردگی پر سوالیہ نشان

    گوجر خان جی ٹی روڈ کے خستہ حال پل پر گہرے شگاف،کارکردگی پر سوالیہ نشان

    گوجر خان(قمرشہزاد)جی ٹی روڈ گوجرخان سرور شہید کالج کے مقام پر واقع پل کا جہلم سائیڈ والا حصہ اس وقت کسی خوفناک حادثے کے لیے ڈیتھ ٹریپ بن چکا ہے۔ پل کے درمیانی ستونوں کے عین اوپر پڑنے والے گہرے اور چوڑے شگاف دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں، جو نہ صرف سڑک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں بلکہ تیز رفتار ٹریفک کے لیے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔ یہ شگاف گٹر کے کھلے ڈھکنوں سے بھی کہیں زیادہ خطرناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں جہاں سے جھانکتا ہوا سریہ کسی بھی گاڑی کا ٹائر پھاڑ کر اسے نیچے ریلوے لائن یا گہری کھائی میں گرانے کے لیے کافی ہے۔

    حیرت انگیز اور لمحہ فکریہ بات یہ ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور موٹروے پٹرولنگ پولیس، جن کی گاڑیاں روزانہ درجنوں بار اس پل سے گزرتی ہیں، اس سنگین خطرے کو دیکھ کر بھی انجان بنی ہوئی ہیں۔ کیا ان افسران کی نظریں ان بڑے شگافوں پر نہیں پڑتیں یا پھر کسی بڑے سانحے کے بعد فوٹو سیشن کے لیے اس مقام کو چھوڑ دیا گیا ہے؟ ان شگافوں میں تیز رفتار گاڑیوں کے ٹائر دھنسنے یا سریہ لگنے سے پبلک ٹرانسپورٹ کی الٹ جانے کا خدشہ موجود ہے، جس کی صورت میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری براہ راست ان غافل افسران پر عائد ہوگی۔

    علاقہ مکینوں اور مسافروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے سوال کیا ہے کہ کیا انتظامیہ کسی خونی حادثے کے بعد ہی حرکت میں آئے گی؟ اگر فوری طور پر ان شگافوں کی مرمت نہ کی گئی اور پل کی مضبوطی کا ازسرنو جائزہ نہ لیا گیا، تو یہ غفلت ایک ایسے سانحے کو جنم دے سکتی ہے جس کا تدارک ناممکن ہوگا۔

  • بسنت پر سیاسی شخصیات کی تصاویر،نک دا کوکا گانے پر پابندی،نوٹس جاری

    بسنت پر سیاسی شخصیات کی تصاویر،نک دا کوکا گانے پر پابندی،نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ،بسنت کے موقع پر سیاسی شخصیات کی تصاویر اور نک دا کوکا گانے پر پابندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے دو فروری کو جواب طلب کر کیا،جسٹس اویس خالد نے پی ٹی آئی ایم پی اے شیخ امتیاز کی درخواست پر سماعت کی،عدالت نے کہا کہ کیا درخواست گزار یہ گانا گنگناتا ہے؟وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ درخواست گزار بھی گائے گا، یہ گانا میں بھی گنگاؤں گا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی آواز تو ویسے بھی بہت سریلی ہے،پابندی تو فحش گانوں پر لگائی گئی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ نک دا کوکا گانے میں فحاشی کا کوئی عنصر موجود نہیں،

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت نے سیاسی شخصیات کی تصویر والی پتنگ اڑانے پر پابندی عائد کی،حکومت نے فحش گانوں کی فہرست میں نک دا کوکا کو بلاجواز شامل کیا،عدالت حکومت کے ان اقدامات کو کلعدم قرار دے،

  • سیوریج لائن حادثہ، لاہور ہائیکورٹ کا انڈ گراؤنڈ پارکنگ منصوبہ روکنے کا حکم

    سیوریج لائن حادثہ، لاہور ہائیکورٹ کا انڈ گراؤنڈ پارکنگ منصوبہ روکنے کا حکم

    لاہور کے علاقے میں سیوریج لائن میں گر کر ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے پر لاہور ہائیکورٹ نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ کے علاقوں میں جاری انڈ گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ کو فوری طور پر روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں اس سانحے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انڈ گراؤنڈ پارکنگ منصوبے کے دوران حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں ڈال دی گئی ہیں، جس کا نتیجہ ماں بیٹی کی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ شہری علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے دوران حفاظتی اقدامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی منصوبے کی وجہ سے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کو پیر کے روز ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ واقعے سے متعلق صوبائی حکومت کا واضح مؤقف اور ذمہ داران کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات پیش کریں۔

    اس کے ساتھ ہی عدالت نے ڈی جی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کو بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے تاکہ منصوبے کی منظوری، نگرانی اور حفاظتی اقدامات سے متعلق مکمل ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھا جا سکے۔عدالت نے مزید کہا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ منصوبے کے دوران غفلت یا لاپرواہی برتی گئی تو ذمہ دار افسران اور متعلقہ اداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے واقعے سے متعلق مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے۔

  • سپریم کورٹ،جہیز،حق مہر سے متعلق درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ،جہیز،حق مہر سے متعلق درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ نے جہیز اور حق مہر سے متعلق مختلف درخواستیں خارج کر دیں۔

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی،اس دوران چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ حقِ مہر میں لکھی چیزوں کو شوہر ادا کرنے کا پابند ہے، عورت کے ساتھ جب شادی کرتے ہیں تو نکاح نامے کے تحت ادائیگی لازم ہے،اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ حقِ مہر میں 40 تولہ سونا بہت زیادہ ہے، 20 تولہ ادا کرنے کو تیار ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ 20 تولہ سے اور بڑھائیں تو شاید خاتون تصفیے پر آمادہ ہو جائے، عدالت ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی

  • جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سر جھکا ہوا ہوتا ہے،وزیراعظم

    جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سر جھکا ہوا ہوتا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت سنبھالی تو ملک کی معاشی صورتحال ابتر تھی، حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچا، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں ہے، گورنر اسٹیٹ بینک دل بڑا کریں اور تگڑے فیصلے کریں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عظیم کاروباری شخصیات نے ملک کا نام روشن کیا، ایکسپورٹرز پاکستان کے عظیم فرزند ہیں، کاروباری شخصیات نے مشکل حالات میں بہترین کام کیا، کاروباری شخصیات نے ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا،ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت سنبھالی تو کچھ لوگوں نے کہا پاکستان ڈیفالٹ کرچکا ہے، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہمارے لیے چیلنج تھا، حکومت سنبھالی تو ملک کی معاشی صورتحال ابتر تھی، پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہوچکی ہے، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں ہے، حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مل کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا، گورنر اسٹیٹ بینک دل بڑا کریں اور تگڑے فیصلے کریں، گورنر اسٹیٹ بینک کاروباری شخصیات کی بات سنیں، حکومتیں کاروبار نہیں کرتیں، کاروبار پرائیویٹ سیکٹر نے کرنا ہے۔شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دوست ممالک سے قرض لیے انہوں نے ہمیں مایوس نہیں کیا، جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سر جھکا ہوا ہوتا ہے، کوئی کسی سے مانگنے جاتا ہے تو کمپرومائز کرنا پڑتا ہے، چین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی مدد کی۔

  • بھاٹی گیٹ حادثہ، آنکھوں سے بیوی ،بیٹی کو گرتے دیکھا،پولیس نے تشدد کیا،شوہر

    بھاٹی گیٹ حادثہ، آنکھوں سے بیوی ،بیٹی کو گرتے دیکھا،پولیس نے تشدد کیا،شوہر

    لاہور کے تاریخی علاقے بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور اس کی کمسن بچی کے واقعے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

    جاں بحق خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے پولیس پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی اطلاع دینے پر انہیں ہی حراست میں لے لیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بیوی و بچی کے قتل کا جھوٹا اعتراف کرانے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا۔جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ جب وہ اپنی اہلیہ اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع دینے کے لیے پولیس اسٹیشن پہنچے تو پولیس نے ان کی بات سننے کے بجائے انہیں گرفتار کر لیا۔ ان کے مطابق ایس پی بلال اور ایس ایچ او زین نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور بار بار یہ کہا جاتا رہا کہ وہ سچ نہیں بول رہے۔غلام مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ کے ساتھ کسی قسم کی لڑائی یا تلخ کلامی نہیں ہوئی تھی، وہ اہلِ خانہ کے ہمراہ سیر کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے بیوی اور بچی کو سیوریج لائن میں گرتے دیکھا، تاہم پولیس افسران ان کے بیان کو جھوٹ قرار دیتے رہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے ان کا موبائل فون بھی تحویل میں لے لیا، جبکہ واقعے کے وقت ان کا ایک بیٹا اپنی والدہ کے پاس موجود تھا۔

    متاثرہ شخص نے مزید الزام عائد کیا کہ پولیس افسران مسلسل یہ کہتے رہے کہ وہ یہ بیان دے کہ اس نے خود اپنی بیوی اور بچی کو قتل کیا ہے۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق پولیس زبردستی دونوں کے قتل کا اعتراف کروانا چاہتی تھی، جبکہ ان کے کزن تنویر کو بھی حراست میں رکھا گیا اور دونوں پر دباؤ ڈالا جاتا رہا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھاٹی گیٹ کے علاقے میں داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے اس واقعے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا۔ بعد ازاں تقریباً دس گھنٹے کی تاخیر کے بعد خاتون اور اس کی بچی کی لاشیں جائے وقوعہ سے تقریباً تین کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں .

  • وادیٔ لیپہ، شدید سردی ،سخت موسم کے باوجود پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے بلند

    وادیٔ لیپہ، شدید سردی ،سخت موسم کے باوجود پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے بلند

    وادیٔ لیپہ، آزادجموں و کشمیر میں شدید سردی اور سخت موسمی حالات کے باوجود پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے بلندہیں

    وادیٔ لیپہ میں شدید برف باری، منجمد درجۂ حرارت اور دشوار گزار زمینی حالات کے باوجود پاک فوج کے جوان پوری پیشہ ورانہ مہارت اور جذبۂ خدمت کیساتھ عوام کی خدمت میں مصروف ہیں،سخت موسم کے باوجود پاک فوج کے دستے دن رات سڑکوں کی بحالی اور برف ہٹانے کے کام میں سرگرم ہیں،امدادی سرگرمیاں اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ ناصرف موجود بلکہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرےگی

    وادیٔ لیپہ کے عوام نے پاک فوج کی بروقت کارروائی، انتھک محنت اور بے لوث خدمت کو دل کی گہرائیوں سے سراہا ،مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ سخت ترین موسم میں بھی عوامی خدمت کو یقینی بنانا پاک فوج کی پیشہ ورانہ پہچان اور قومی فخر ہے،ہمیں پاک فوج پر فخر ہے کیونکہ وہ ہر مشکل گھڑی میں قوم کے کام آتی ہے،شدید برف باری کے باعث سڑکیں بند ہو گئی تھیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو گئے تھے، مگر پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام سڑکیں اور لنک روڈز بحال کر دی، طبی ایمرجنسی کے دوران ایک خاتون کو بروقت ریسکیو کرنا بھی پاک فوج کی عوام دوست خدمات کا روشن ثبوت ہے، مقامی عوام نے پاک فوج کی ان خدمات پر دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کیا

  • افغان سرزمین دہشتگردوں کے ٹھکانے میں تبدیل ،خطے کیلئےسنگین خطرہ

    افغان سرزمین دہشتگردوں کے ٹھکانے میں تبدیل ،خطے کیلئےسنگین خطرہ

    افغان طالبان رجیم کےحمایت یافتہ دہشتگردوں نےخطےکوعدم استحکام کے دہانے پر لا کھڑا کیا

    افغانستان سے سرحد پار دہشتگردی پرعالمی جریدہ یوریشیا نے بھی پاکستان کےموقف کی تائیدکر دی،امریکی جریدہ یوریشیا ریویو کے مطابق ؛ افغان طالبان رجیم صرف داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک سیکیورٹی خطرہ بن چکا ہے ،اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں القاعدہ، ٹی ٹی پی سمیت 20 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں اگر افغانستان سے پنپنے والی دہشتگردی سے پاکستان متاثر ہوا تو خطے کےدیگر ممالک بھی محفوظ نہیں رہیں گے،پاکستان صرف اپنے شہریوں کو نہیں بلکہ پورے خطے کو دہشتگردی سے محفوظ بنا رہا ہے،اہم یہ نہیں کہ پاکستان اس حوالے سے کیا کررہا بلکہ دیکھنا یہ ہے دنیا افغان طالبان کی دہشتگردی کی روک تھام کیلئے کیا کررہی ہے ،

    ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشتگرد تنظیموں کی سرپرستی دنیا بھر میں بے نقاب ہوچکی ہے،پاکستان متعدد بار دنیا کوافغان طالبان کی دہشتگردی سے متعلق مستند شواہد دے چکا ہے مگر افغان حکام کی ہٹ دھرمی اور انتہاپسندی برقرار ہے ،عالمی برادری ادرا ک کرچکی ہے کہ پاکستان سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے ، افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشتگردوں کی سرپرستی خطے میں عدم استحکام کاباعث اور امن کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے ،

  • بھارت میں ہندوتوا نظریہ پہ کاربند انتہاپسندوں نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا دی

    بھارت میں ہندوتوا نظریہ پہ کاربند انتہاپسندوں نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا دی

    بھارت میں ہندوتوا نظریہ پہ کاربند انتہاپسندوں نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا دی

    بھارت میں ہندوتوا بالادستی کیلئے سفاک مودی سرکار کی سرپرستی میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی زندگی مشکل بنادی گئی،مسلمان و مسیحی عبادت گاہوں پر حملے، ہندوتوا کے بڑھتے اثرات کے باعث اقلیتیں انتہا پسندوں کے تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں، بھارتی جریدہ دی وائر نے بھی انتہا پسندوں کی نئی اشتعال انگیزی کو بے نقاب کرکے مودی سرکار کو آئینہ دکھادیا، دی وائر کے مطابق؛اوڑیسہ میں انتہا پسند ہندو چرچ میں جا گھسے، مسیحی شہریوں کو ہراساں اور عبادت کرنے سے روک دیا گیا،بھارتی انتہاپسندوں کی جانب سے چرچ میں عبادت کی صورت میں تمام مسیحی گھرانوں کو گاؤں سے بیدخل کرنے کی دھمکی دی،واقعہ کے اگلے ہی روزہندوانتہا پسند گروپ نے حملہ کرکے مسیحی برادری کے 2 نوجوانوں کو بے دردی سےزخمی کردیا، چند ہفتے قبل بھی انتہا پسند ہندووں نے پادری پر تشدد کرکے انہیں جوتوں کا ہار پہنایا اور گوبرکھلایا تھا، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نئے قوانین کیخلاف احتجاج کو دی وائر نےنام نہاد ہندو مظلومیت کی سیاست قرار دیدیا

    ہندوستان ٹائمز کے مطابق ؛متعصب وزیراعلیٰ آسام نے بھی نفرت آمیز بیان میں مسلمانوں کو اپنا ووٹ بنگلہ دیش میں ڈالنے کا کہا ہے

    ماہرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں اور کمزور طبقات پر تشدد سماجی ہم آہنگی تباہ کر کے سنگین داخلی انتشار کاباعث بن رہا ہے،آر ایس ایس قانون، انصاف اورمساوات کی بالادستی کے بجائے انتہا پسند ہندو ریاست کا قیام چاہتی ہے،بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی داخلی انتشار کو جنم دےکر علیحدگی پسند تحریکوں کو تقویت دے رہی ہے