Baaghi TV

Blog

  • انٹرنیٹ کو لازمی سروس قرار دینے کے لیے قانون سازی درکار ہوگی،وزارت آئی ٹی

    انٹرنیٹ کو لازمی سروس قرار دینے کے لیے قانون سازی درکار ہوگی،وزارت آئی ٹی

    پاکستان میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو لازمی سروس قرار دینے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں

    وزارت آئی ٹی نے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کو تحریری جواب میں آگاہ کردیا ،وزارت آئی ٹی کی جانب سے کہا گیا کہ انٹرنیٹ کو لازمی سروس قرار دینے کے لیے قانون سازی درکار ہوگی، انٹرنیٹ اب حکمرانی، معیشت، تعلیم اور صحت کے لیے بنیادی اہمیت اختیار کر چکا ہے، انٹرنیٹ کی بندش سے معیشت، سرکاری امور اور سماجی سرگرمیاں شدید متاثر ہو سکتی ہیں، موجودہ آئین اور قوانین میں انٹرنیٹ کو لازمی سروس کا درجہ حاصل نہیں ہے، انٹرنیٹ کو لازمی سروس قرار دینے سے ڈیجیٹل سرکاری خدمات کا تسلسل یقینی بنایا جا سکتا ہے، انٹرنیٹ کو لازمی سروس بنانے سے ڈیجیٹل معیشت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ ملے گا، قومی سلامتی کے معاملات میں حکومت کو عارضی پابندیاں لگانے کا اختیار برقرار رکھنا ہوگا،انٹرنیٹ کو لازمی سروس قرار دینے سے قبل واضح قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک بنانا ضروری ہوگا، ٹیلی کام کمپنیوں کو نیٹ ورک کی مضبوطی، بیک اپ سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی پر مزید سرمایہ کاری کرنا ہوگی، انٹرنیٹ کو لازمی سروس قرار دینے سے قبل تمام متعلقہ اداروں سے مشاورت کی ضرورت ہے، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، وزارتِ قانون، وزارتِ داخلہ اور دیگر اداروں سے مشاورت ضروری ہوگی،انٹرنیٹ قومی ترقی، ڈیجیٹل معیشت اور عوامی خدمات کے لیے بنیادی سہولت بن چکا ہے

  • شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تیاریاں عروج پر

    شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تیاریاں عروج پر

    امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق نمازِ جنازہ کل تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں ادا کی جائے گی، جہاں ملکی و غیر ملکی شخصیات کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔رپورٹس کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو آخری رسومات کے لیے تہران منتقل کر دیا گیا ہے۔ نمازِ جنازہ میں دنیا بھر سے تقریباً 100 ممالک کے مندوبین، متعدد سربراہانِ مملکت، مذہبی رہنما، سیاسی شخصیات اور علمی حلقوں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے، جبکہ ایرانی ذرائع کے مطابق جلوسِ جنازہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد شریک ہو سکتے ہیں۔ایران میں امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں غیر ملکی وفود کی جانب سے شہید رہبرِ انقلاب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی تقریب جاری ہے۔ عراق کی حشد الشعبی کی اعلیٰ قیادت سمیت مختلف ممالک کے سیاسی، مذہبی اور علمی رہنماؤں نے شہید رہنما کے جسدِ خاکی پر حاضری دی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق امام خمینی حسینیہ میں منعقدہ الوداعی تقریب کے دوران شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ہال میں لایا گیا، جہاں ہزاروں سوگواروں نے "لبیک یا خامنہ ای” اور دیگر انقلابی نعروں کے ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہا۔سرکاری اطلاعات کے مطابق نمازِ جنازہ کے بعد شہید رہبرِ انقلاب کے جسدِ خاکی کو تہران سے قم منتقل کیا جائے گا، جہاں عوام آخری دیدار کریں گے۔ اس کے بعد میت کو عراق کے مقدس شہروں نجف اشرف اور کربلا لے جایا جائے گا، جبکہ بعد ازاں جسدِ خاکی کو دوبارہ ایران لا کر مشہد مقدس میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران کے خاتم الانبیا بریگیڈ نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ یا جلوس کے دوران کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش کی تو اس کا نہایت سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔بریگیڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "دشمن شہید رہبرِ انقلاب کے جنازے کو نشانہ بنانے سے قبل دو مرتبہ سوچ لے، کیونکہ ایسی کسی بھی کارروائی کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔”

    ایران بھر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ لاکھوں زائرین اور سوگوار مختلف شہروں سے تہران پہنچ رہے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملکی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔

  • مودی کی سرپرستی میں رام مندر فنڈز چوری کا انکشاف،آر ایس ایس کو بڑا دھچکا

    مودی کی سرپرستی میں رام مندر فنڈز چوری کا انکشاف،آر ایس ایس کو بڑا دھچکا

    نئی دہلی: بھارت میں رام مندر کے فنڈز میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات نے ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ مختلف میڈیا رپورٹس اور تجزیوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مندر کو ملنے والے عطیات کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق رام مندر کو ماہانہ تقریباً 40 ملین سے 100 ملین بھارتی روپے تک عطیات موصول ہوتے ہیں، تاہم ان فنڈز کے استعمال میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ بلومبرگ سے منسوب رپورٹس کے مطابق عطیات کے انتظام اور اخراجات کے حوالے سے شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

    بھارتی سیاسی تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ عوام کی جانب سے مذہبی عقیدت کے تحت دیے گئے عطیات کا ایک حصہ مبینہ طور پر اپنے اصل مقصد کے بجائے دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جس پر اپوزیشن اور ناقدین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ادھر بھارتی خبر رساں ادارے دی وائر سے منسوب اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق زیرِ بحث ٹرسٹ میں مودی حکومت کے نامزد افراد اور آر ایس ایس کے نمائندے بھی شامل ہیں،

    سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف مذہبی عطیات کے انتظام بلکہ حکومتی شفافیت اور احتساب کے حوالے سے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔مودی عوام کی آنکھوں میں مسلسل دھول جھونک کر اقتدار بچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے

  • عامر خان 5 جولائی کو تیسری شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے

    عامر خان 5 جولائی کو تیسری شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے

    بالی وڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کی تیسری شادی کی تاریخ سامنے آگئی ہے۔ اداکار 5 جولائی کو اپنی قریبی دوست گوری اسپرٹ کے ساتھ سادگی سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوں گے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی کی تقریب ممبئی میں عامر خان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوگی، جس میں دونوں خاندانوں کے افراد اور چند قریبی دوست ہی شرکت کریں گے۔ایک انٹرویو کے دوران عامر خان نے شادی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "5 جولائی ہمارے لیے ایک خاص دن ہے، اسی روز شادی ہوگی۔ تقریب گھر پر سادگی سے رکھی گئی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ سب ہماری خوشیوں کے لیے دعا کریں تاکہ ہماری نئی زندگی کا سفر خوشگوار رہے۔”

    واضح رہے کہ عامر خان نے اپنی 60ویں سالگرہ کے موقع پر پہلی بار گوری اسپرٹ کو میڈیا سے متعارف کرایا تھا اور ان کے ساتھ اپنے تعلق کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔عامر خان کی پہلی شادی رینا دتہ سے 1986 میں ہوئی تھی، تاہم دونوں کی راہیں بعد ازاں جدا ہوگئیں۔ اس کے بعد انہوں نے 2005 میں فلم ساز کرن راؤ سے شادی کی، جو 2021 میں باہمی رضامندی سے اختتام پذیر ہوئی۔ اب اداکار اپنی زندگی کا نیا سفر گوری اسپرٹ کے ساتھ شروع کرنے جا رہے ہیں۔

  • ژوب ،مسافر بس کھائی میں گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد جاں بحق

    ژوب ،مسافر بس کھائی میں گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد جاں بحق

    ژوب: بلوچستان کے ضلع ژوب میں ایک المناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد جاں بحق جبکہ 14 زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق حادثہ ژوب کے علاقے داناسر میں پیش آیا، جہاں کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک مسافر بس بریک فیل ہونے کے باعث بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں 24 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 14 زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال ژوب منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی بس کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی۔ امدادی ٹیموں نے دشوار گزار علاقے میں کئی گھنٹوں تک ریسکیو آپریشن جاری رکھا اور مسافروں کو ملبے اور کھائی سے نکال کر اسپتال منتقل کیا۔حکام نے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس کے بریک فیل ہونے کے باعث یہ افسوسناک سانحہ پیش آیا۔

  • ایرانی پاسداران انقلاب کےقائم مقام کمانڈر احمد وحیدی پہلی بار منظرِ عام پر

    ایرانی پاسداران انقلاب کےقائم مقام کمانڈر احمد وحیدی پہلی بار منظرِ عام پر

    تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے قائم مقام کمانڈر احمد وحیدی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ عوامی سطح پر منظرِ عام پر آ گئے۔

    احمد وحیدی نے تہران میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی، جہاں سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کی تیاریوں کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔ایرانی حکام کے مطابق سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔

    اس سلسلے میں سابق سپریم لیڈر کا تابوت جمعرات کی شام جنوبی تہران میں واقع امام خمینی حسینیہ کے قریب قائم تعزیتی مقام پر پہنچایا گیا، جہاں اعلیٰ ایرانی حکام، عسکری شخصیات اور دیگر اہم رہنماؤں نے حاضری دے کر خراجِ عقیدت پیش کیا۔احمد وحیدی کی عوامی تقریب میں شرکت کو حالیہ جنگ کے بعد ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ایران میں سابق سپریم لیڈر کی تدفین کے سلسلے میں سرکاری سطح پر تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔

  • انتہاپسند مودی کے زیراقتداربھارت میں مسلم خواتین کیخلاف نفرت عروج پر

    انتہاپسند مودی کے زیراقتداربھارت میں مسلم خواتین کیخلاف نفرت عروج پر

    انتہاپسند مودی کے زیراقتداربھارت میں مسلم خواتین کیخلاف نفرت عروج پر، ہندوتوا کا اصل چہرہ عالمی سطح پرآشکارہو گیا

    عالمی جریدہ الجزیرہ کے مطابق مصنوعی ذہانت کوبھارت میں مسلم خواتین کے خلاف ہتھیارکے طورپراستعمال کیا جارہا ہےہندوتوا پرکاربند بھارت میں مسلم خواتین کئی سالوں سے آن لائن ہراسانی اورنفرت انگیزمہمات کا نشانہ بنتی رہی ہیں، اے آئی کےذریعے مسلم خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے جعلی اور نازیبا تصاویراورگمراہ کن پروپیگنڈا تیارکیا جارہا ہے، بھارت میں مسلم خواتین کی تصاویراورویڈیوزکوغیراخلاقی تصاویرمیں تبدیل کرکے نازیبا مناظرمیں دکھایا جارہا ہے، صرف مئی 2023 سے مئی 2025 میں 1300ہزارویڈیوزبنائی گئیں جن میں مسلم خواتین کو نازیبا خاکوں میں دکھایا گیا ،

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں 11 طیارے گرائے گئے،ٹرمپ پھر بول پڑے

    پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں 11 طیارے گرائے گئے،ٹرمپ پھر بول پڑے

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ میں طیاروں کے گرائے جانے کا ذکر کر کے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے زخم پھر تازہ کر دیئے ہیں

    صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں 11 طیارے گرائے گئے،امریکی صدر نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ روک کر 3 کروڑ جانیں بچائیں،پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ میں نے جنگ روک کر 3کروڑ افراد کو بچایا،اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل میں ان کی مقبولیت 99 فیصد تک تھی، سمجھ سے بالاہے کہ کوئی یہودی ڈیموکریٹ کو ووٹ کیسے دے سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کےدرمیان جنگ بندی کی بات کئی بار دہراچکے ہیں۔

  • ترکیہ ، اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک نئی بڑی علاقائی رقابت کی شکل اختیار کر رہی

    ترکیہ ، اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک نئی بڑی علاقائی رقابت کی شکل اختیار کر رہی

    مشرقِ وسطیٰ میں ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک نئی بڑی علاقائی رقابت کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

    برطانوی جریدے اکانومسٹ کا کہنا ہے اسرائیل کو شام میں ترکیہ کی بڑھتی موجودگی اور مصر، پاکستان و سعودیہ کیساتھ دفاعی تعلقات پر تشویش ہے اور اب ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے،رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا آرمینیائی نسل کشی تسلیم کرنا کشیدگی بڑھانے کا سبب ہے جبکہ اسرائیلی سیاست دان ترکیہ کا نام ایران کیساتھ لیتے ہیں،امریکا کی جانب سے ترکیہ کوایف-35 طیاروں کی فروخت کا معاملہ پر صدر ٹرمپ کے ممکنہ فیصلے نے اسرائیل کو مزید پریشان کر دیا ہے۔

    اکانومسٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک نئی بڑی علاقائی رقابت کی شکل اختیار کر رہی ہے جہاں دونوں ممالک اب ایک دوسرے کو براہِ راست سکیورٹی خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔

    برطانوی جریدے کے مطابق اسرائیلی سیاست دان ترکیہ کا نام ایران کے ساتھ ایک سانس میں لیتے ہیں۔

  • بھارتی اندرونی اختلافات،کسی بھی وقت ٹوٹ کر چھوٹی ریاستوں میں‌ تقسیم ہو سکتا،سیکیورٹی ذرائع کی بریفنگ

    بھارتی اندرونی اختلافات،کسی بھی وقت ٹوٹ کر چھوٹی ریاستوں میں‌ تقسیم ہو سکتا،سیکیورٹی ذرائع کی بریفنگ

    راولپنڈی میں سیکیورٹی سے متعلق ایک اہم بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے سینئر صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد اور دفاعی امور سے وابستہ بڑے پلیٹ فارمز کے نمائندوں نے شرکت کی۔بریفنگ کا موضوع معمول کے طے شدہ ایجنڈوں سے مختلف تھا۔ بریفنگ میں داخلی سلامتی، سیاسی و سفارتی معاملات یا ادارہ جاتی امور پر گفتگو نہیں کی گئی، بلکہ پوری بریفنگ کا مرکز بھارت اور خطے میں اس کے بالادستی قائم کرنے کے مبینہ عزائم تھے۔

    بریفنگ میں یہ کہا گیا کہ بھارت ایک ناکام اور ناقابلِ عمل ریاست ہے، جو اپنی بنیادی سماجی ساخت، آبادی، آئینی تشکیل اور دفاعی اداروں میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی کا فروغ سوچ کے باعث ناقابلِ مصالحت اختلافات کا شکار ہے، اور کسی بھی وقت چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہونے کی جانب بڑھ سکتا ہے۔بریفنگ میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر بھارت کے مبینہ بالادستانہ عزائم اور توسیع پسندانہ سوچ کا مقابلہ کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔جہاں پاکستان ایک پراعتماد اور ابھرتی ہوئی ریاست کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے، وہیں بھارت بتدریج زوال اور انتشار کے راستے پر گامزن دکھائی دیتا ہے،مذہبی تقسیم، ذات پات، شناختی سیاست اور علاقائی تنازعات بھارت کے قومی اتحاد کو مسلسل کمزور کر رہے ہیں پاکستان کے عالمی کردار میں بہتری کے مقابلے میں بھارت کو اپنے داخلی تضادات چھپانا مشکل ہو گیا ہے۔

    یہ نہایت مضحکہ خیز ہے کہ بھارت، جس کا اپنا ریکارڈ مذہبی اقلیتوں، مسلمانوں، مسیحیوں، سکھوں، دلتوں اور دیگر طبقات کے خلاف امتیازی سلوک اور ریاستی سرپرستی میں مظالم سے بھرا ہوا ہے، پاکستان کو نصیحت کر رہا ہے۔بھارت کو دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے اندرونی حالات کا سامنا کرنا چاہیے، جہاں بی جے پی حکومت کے تحت مسلمانوں اور دیگر مذہبی برادریوں کو تشدد، عبادت گاہوں پر حملوں، امتیازی قوانین، ماورائے عدالت مسماریوں، نفرت انگیز تقاریر اور ریاستی اداروں کے غلط استعمال کا سامنا ہے۔

    پاکستان میں پیش آنے والا واقعہ انتظامی نوعیت کا تھا، نہ کوئی ہجوم گردوارہ مسمار کر رہا تھا اور نہ اسے حکومت کی سرپرستی حاصل تھی۔ چند افراد کے انفرادی عمل پر قانون اپنا راستہ اختیار کر رہا ہے۔بھارت کو چاہیے کہ مسلمانوں، مسیحیوں، دلتوں، سکھوں، آدیواسیوں اور دیگر اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے فوری، قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔نئی دہلی اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کرنے کے بجائے مسلسل پاکستان کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف رہتا ہے تاکہ عوام کی توجہ داخلی مسائل سے ہٹائی جا سکے، بھارت اس وقت اندرونی طور پر شدید کھوکھلا ہو چکا ہے اور وہ ایک ناکام ریاست بننے کے دہانے پر ہے۔بھارت کے موجودہ اندرونی تضادات اور بحران اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت ٹوٹ کر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔