Baaghi TV

Blog

  • برطانیہ میں گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کی پاکستان حوالگی پر غور

    برطانیہ میں گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کی پاکستان حوالگی پر غور

    برطانیہ نے جنسی جرائم میں سزا یافتہ گرومنگ گینگ کے مبینہ سرغنہ شبیر احمد کو پاکستان بھیجنے کے معاملے پر غور شروع کر دیا ہے، جبکہ اس سلسلے میں پاکستانی حکام سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق شبیر احمد کی ممکنہ ملک بدری کے حوالے سے برطانیہ نے پاکستان سے ابتدائی مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم سر کئیر اسٹارمر نے بھی اس کیس کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ہدایت جاری کی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق غیر ملکی مجرموں کو ان کے آبائی ممالک بھیجنے کے لیے متعلقہ ملک کی رضامندی قانونی طور پر ضروری ہوتی ہے، اسی لیے پاکستان سے اس معاملے پر رابطہ کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ شبیر احمد کو 2012 میں جنسی جرائم کے مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی۔ وہ حال ہی میں اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہوا ہے، جس کے بعد اس کی ممکنہ ملک بدری کا معاملہ دوبارہ زیر غور آیا ہے۔برطانوی حکام کی جانب سے تاحال شبیر احمد کی پاکستان حوالگی کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، تاہم اس معاملے پر قانونی کارروائی اور دونوں ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے

  • 
بلوچستان میں مسافر بس کھائی میں گر گئی، 40 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    
بلوچستان میں مسافر بس کھائی میں گر گئی، 40 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    ‎بلوچستان میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک مسافر بس خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی، جہاں تیز رفتاری کے باعث بس بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے میں کم از کم 40 افراد جاں بحق جبکہ 8 سے زائد مسافر زخمی ہو گئے۔
    ‎حکام کے مطابق حادثہ جمعہ کی صبح بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی سرحد کے قریب ژوب ضلع کے پہاڑی علاقے دانہ سر میں پیش آیا۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ بس تقریباً 70 سے 80 فٹ گہری کھائی میں گری، جس کے باعث جانی نقصان انتہائی زیادہ ہوا۔
    ‎ژوب ڈسٹرکٹ ایمرجنسی سینٹر کے سربراہ ثناء اللہ شیرانی کے مطابق حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ لاشوں کو بھی کھائی سے نکالنے کا عمل مکمل کیا گیا۔
    ‎بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ بس کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی اور اس میں اپنی گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے۔ ان کے مطابق ایک دوسری خراب ہونے والی بس کے مسافروں کو بھی اسی گاڑی میں منتقل کر دیا گیا تھا، جس کے باعث بس میں غیر معمولی رش تھا۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ تیز رفتاری معلوم ہوتی ہے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
    ‎یہ حادثہ ایک بار پھر ملک میں شاہراہوں پر ٹریفک قوانین پر عمل درآمد، گاڑیوں کی فٹنس اور اوورلوڈنگ جیسے سنگین مسائل کو اجاگر کرتا ہے، جن کی وجہ سے ہر سال قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔

  • 
ایل نینو شدت اختیار کرے گا، اقوام متحدہ نے دنیا کو شدید موسمی خطرات سے خبردار کر دیا

    
ایل نینو شدت اختیار کرے گا، اقوام متحدہ نے دنیا کو شدید موسمی خطرات سے خبردار کر دیا

    ‎اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے دنیا بھر کی حکومتوں اور امدادی تنظیموں کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ مہینوں میں ایل نینو موسمی نظام کے باعث شدید گرمی، خشک سالی اور غیر معمولی بارشوں جیسے خطرناک موسمی واقعات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
    ‎عالمی موسمیاتی ادارے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایل نینو کی صورتحال پہلے ہی شروع ہو چکی ہے اور جولائی سے ستمبر کے دوران اس کے تیزی سے مضبوط ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ موسمی نظام عام طور پر نومبر سے فروری کے درمیان اپنی شدت کی بلند ترین سطح پر پہنچتا ہے۔
    ‎ڈبلیو ایم او نے بتایا کہ ممکنہ موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے موسمی معلومات اور ابتدائی وارننگ سسٹمز فعال کر دیے گئے ہیں تاکہ حکومتیں، امدادی ادارے، کسان اور دیگر حساس طبقات بروقت حفاظتی اقدامات کر سکیں۔
    ‎ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے کہا کہ موسمی پیش گوئیوں کے مطابق ایل نینو نہایت تیزی سے ایک مضبوط مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث دنیا کے مختلف خطوں میں خشک سالی، شدید بارشوں، زمینی ہیٹ ویوز اور سمندری درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ بروقت موسمی پیش گوئیاں اور مؤثر ابتدائی انتباہی نظام انسانی جانوں کے تحفظ، معیشت کو نقصان سے بچانے اور قدرتی آفات کے اثرات کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ پانی کے ذخائر، زرعی منصوبہ بندی، آفات سے نمٹنے کے انتظامات اور عوامی آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ ممکنہ موسمی چیلنجز کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔

  • 
موناکو بم حملہ: یوکرینی ارب پتی پر حملے کی مرکزی ملزم خاتون نکلی

    
موناکو بم حملہ: یوکرینی ارب پتی پر حملے کی مرکزی ملزم خاتون نکلی

    ‎موناکو میں یوکرینی نژاد ارب پتی تاجر پر ہونے والے بم حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حکام نے مرکزی ملزم کی شناخت ایک یوکرینی خاتون کے طور پر کی ہے، جس نے کارروائی کے دوران مرد کا روپ دھار رکھا تھا۔
    ‎موناکو کے پراسیکیوٹرز کے مطابق 39 سالہ انستاسیا بیریزووسکا اس حملے کی مرکزی ملزم ہے، جس کے خلاف انٹرپول نے ریڈ نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق وہ آخری مرتبہ جرمنی میں مقیم تھی اور اس کے دائیں بازو پر کندھے سے کہنی تک سانپ نما ٹیٹو موجود ہے، جس سے اس کی شناخت میں مدد ملی۔
    ‎تحقیقات کے مطابق بم حملے کے بعد ملزمہ پہلے فرانس فرار ہوئی اور بعد ازاں جرمن رجسٹریشن والی کرائے کی گاڑی کے ذریعے اٹلی پہنچ گئی۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والا دھماکا خیز مواد انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں تیار کیا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کارروائی میں ایک سے زیادہ افراد ملوث تھے۔
    ‎حکام نے بتایا کہ واقعے کے بعد موناکو میں دو افراد کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، تاہم شواہد ناکافی ہونے پر انہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔
    ‎یہ حملہ چار روز قبل موناکو کی ایک پرتعیش رہائشی عمارت کے داخلی حصے میں ہوا تھا، جس کا ہدف یوکرینی نژاد معروف کاروباری شخصیت وادیم یرمولائیف تھے۔ دھماکے میں وہ زخمی ہوئے جبکہ سیکیورٹی اداروں نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کیا۔
    ‎فرانسیسی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر سیکیورٹی کیمروں میں نظر آنے والی مشتبہ شخصیت کو مرد سمجھا گیا تھا، تاہم بعد ازاں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ دراصل ایک خاتون تھی، جس نے شناخت چھپانے کے لیے مردانہ لباس اور حلیہ اختیار کیا تھا۔

  • 
امریکا نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کر دی

    
امریکا نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کر دی

    ‎امریکا نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ملک کو اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے تازہ بیان کو پاکستان اور امریکا کے درمیان انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎خبر ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا دہشت گرد حملوں کے خلاف پاکستان کے دفاع کے حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
    ‎امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اور اس دوران پاکستانی عوام نے بھاری جانی اور مالی نقصان برداشت کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق دہشت گردی کے واقعات نے ہزاروں بے گناہ شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں لیں، جس کے باعث پاکستان کو مسلسل بڑے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ امریکی حکام نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو سرحدی علاقوں میں دہشت گرد حملوں اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کو سفارتی سطح پر ایک مثبت اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔
    ‎پاکستانی حکام متعدد مواقع پر عالمی برادری سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے اور اس مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے حالیہ بیان کو بھی اسی تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں پاکستان کے سیکیورٹی خدشات اور دہشت گردی کے خلاف اس کی کوششوں کا واضح اعتراف کیا گیا ہے۔

  • 
بی آر ٹی یلو لائن کیس، سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو فائنل شوکاز نوٹس جاری

    
بی آر ٹی یلو لائن کیس، سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو فائنل شوکاز نوٹس جاری

    ‎کراچی میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) یلو لائن منصوبے سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اینٹی کرپشن حکام نے منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو فائنل شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق نوٹس انہیں جیل میں باقاعدہ طور پر وصول کرا دیا گیا ہے، جہاں وہ اس وقت اینٹی کرپشن کی تحویل میں ہیں۔
    ‎اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ ضمیر عباسی سے ان پر عائد سنگین الزامات کے حوالے سے تحریری وضاحت طلب کی گئی ہے۔ شوکاز نوٹس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف کی مکمل تفصیلات مقررہ مدت کے اندر جمع کرائیں تاکہ ان کے جواب کا قانونی اور انتظامی سطح پر جائزہ لیا جا سکے۔
    ‎حکام کے مطابق ضمیر عباسی کو جواب جمع کرانے کے لیے 14 روز کی مہلت دی گئی ہے۔ اگر ان کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب غیر تسلی بخش قرار پایا یا الزامات کا مناسب جواب نہ دیا جا سکا تو ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، جس میں انہیں ملازمت سے برطرف کیے جانے کا امکان بھی شامل ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ضمیر عباسی اس وقت اینٹی کرپشن حکام کی تحویل میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں، جہاں ان سے بی آر ٹی یلو لائن منصوبے سے متعلق مختلف معاملات پر تفتیش جاری ہے۔ تحقیقاتی ٹیم منصوبے کے مالی اور انتظامی امور سمیت دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ اگر کسی قسم کی بے ضابطگی یا بدعنوانی ہوئی ہے تو اس کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
    ‎اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات میرٹ اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔ اس کیس میں سامنے آنے والے تمام شواہد اور متعلقہ دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر دیگر متعلقہ افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔
    ‎واضح رہے کہ شوکاز نوٹس کا اجرا ایک انتظامی کارروائی کا حصہ ہے اور اس مرحلے پر عائد الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین ہونا باقی ہے۔ ضمیر عباسی کو قانون کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ کسی بھی حتمی کارروائی کا فیصلہ تحقیقات اور محکمانہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

  • 
وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ پہنچ گئے، صدر اردوان سے اہم ملاقات آج ہوگی

    
وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ پہنچ گئے، صدر اردوان سے اہم ملاقات آج ہوگی

    ‎وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے سرکاری دورے پر استنبول پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کو پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی امور کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎استنبول ایئرپورٹ پر وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات نے کیا۔ اس موقع پر ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید، ترک وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام اور دیگر سفارتی شخصیات بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی ترکیہ پہنچے ہیں۔
    ‎وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان سے تفصیلی ملاقات کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام اہم شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، انفراسٹرکچر اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
    ‎اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنما پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کریں گے۔ بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
    ‎دورے کے دوران علاقائی اور عالمی صورتحال بھی دونوں رہنماؤں کی ملاقات کا اہم حصہ ہوگی۔ پاکستان اور ترکیہ کی قیادت خطے میں امن و استحکام، باہمی تعاون اور مختلف بین الاقوامی امور پر اپنے مؤقف کا تبادلہ کرے گی، جبکہ مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف استنبول میں منعقد ہونے والی ایک اہم بزنس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔ کانفرنس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعت اور نجکاری کے مختلف منصوبوں کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس موقع پر ترک کاروباری رہنما، سرمایہ کار، صنعتکار، سرکاری حکام اور مختلف کمپنیوں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
    ‎حکومتی اعلامیے کے مطابق اس دورے کا مقصد پاکستان اور ترکیہ کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا، اقتصادی روابط میں وسعت لانا اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو نئی جہت دینا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے سے تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی شراکت داری کے فروغ میں مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔

  • 
آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ، مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی خدشات کے باعث شریک نہیں ہوں گے

    
آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ، مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی خدشات کے باعث شریک نہیں ہوں گے

    ‎ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کے انتظامات جاری ہیں، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے باعث موجودہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کریں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق تقریب کے دوران غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ملکی اور غیر ملکی شخصیات کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎تہران میں منعقد ہونے والی تعزیتی تقریب میں ایرانی شوریٰ نگہبان کے ارکان نے شہید رہبر انقلاب کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، اعلیٰ عسکری قیادت اور دیگر اہم سرکاری شخصیات بھی موجود تھیں۔ مختلف ممالک سے آنے والے سرکاری وفود نے بھی تعزیتی اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے مرحوم رہنما کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق نماز جنازہ میں دنیا کے مختلف خطوں سے آنے والے وفود سمیت تقریباً ایک سو ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے، جبکہ متعدد سربراہان مملکت اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل بھی تعزیتی اجتماع میں شرکت کریں گے۔
    ‎سرکاری اعلامیے کے مطابق نماز جنازہ کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسد خاکی کو پہلے تہران سے قم منتقل کیا جائے گا، اس کے بعد عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا۔ بعد ازاں میت کو دوبارہ ایران واپس لا کر مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا، جہاں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
    ‎ایرانی حکومت نے جنازے کے جلوس میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اسی تناظر میں ملک بھر میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں، جبکہ 8 جولائی کو ایران میں یوم سوگ منانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
    ‎سرکاری بیانات کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے۔ ان حملوں کے بعد ایرانی قیادت نے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی صاحبزادی، داماد اور نواسی بھی جان کی بازی ہار گئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق وہ اپنے سرکاری دفتر میں فرائض انجام دے رہے تھے جب حملہ ہوا۔
    ‎واضح رہے کہ اس خبر میں شامل حملوں، جانی نقصانات اور دیگر دعووں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ مختلف فریقین کی جانب سے اس حوالے سے متضاد مؤقف بھی سامنے آ چکے ہیں۔

  • زرافے گنتی کا اندازہ لگانے اور سادہ حساب سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں: تحقیق

    زرافے گنتی کا اندازہ لگانے اور سادہ حساب سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں: تحقیق

    ‎اسپین کے شہر بارسلونا میں ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زرافے اشیاء کی تعداد کا اندازہ لگانے اور سادہ ریاضیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    ‎یہ تحقیق بارسلونا یونیورسٹی، لیپزگ یونیورسٹی اور میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار ایوولوشنری اینتھروپولوجی نے مشترکہ طور پر کی، جبکہ اس کے نتائج معروف سائنسی جریدے Scientific Reports میں شائع کیے گئے ہیں۔
    ‎تحقیق کے دوران بارسلونا چڑیا گھر میں موجود چار زرافوں پر تجربات کیے گئے۔ ان کے سامنے گاجر کے ٹکڑوں سے بھرے دو برتن رکھے گئے، جنہیں بعد میں ڈھانپ دیا گیا۔ اس کے بعد محققین نے بعض برتنوں میں مزید گاجر کے ٹکڑے شامل کیے یا کچھ ٹکڑے نکال دیے تاکہ دیکھا جا سکے کہ زرافے مقدار میں ہونے والی تبدیلی کو کس حد تک سمجھتے ہیں۔
    ‎نتائج سے معلوم ہوا کہ جب کسی برتن میں گاجر کے ٹکڑوں کی تعداد بڑھائی گئی تو زرافوں نے 68 فیصد مواقع پر درست اندازہ لگاتے ہوئے زیادہ گاجروں والا برتن منتخب کیا، جو محض اتفاق سے کہیں بہتر کارکردگی ثابت ہوئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ زرافوں میں مقدار کا اندازہ لگانے اور بنیادی ریاضیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے کی ذہنی صلاحیت موجود ہے۔ اس سے قبل ایسی صلاحیتیں بندروں، ہاتھیوں، ڈولفنز اور کچھ پرندوں میں بھی دیکھی جا چکی ہیں، تاہم زرافوں پر ہونے والی یہ تحقیق ان کی ذہانت کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کرتی ہے۔
    ‎محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے جانوروں کی ذہنی صلاحیتوں، ارتقائی عمل اور ادراکی رویوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی اور مستقبل میں اس شعبے میں مزید تحقیق کی راہیں ہموار ہوں گی۔

  • لاہور ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی اور اغوا کا مقدمہ درج، ایس ایچ او سمیت کئی اہلکار نامزد

    لاہور ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی اور اغوا کا مقدمہ درج، ایس ایچ او سمیت کئی اہلکار نامزد

    ‎لاہور کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کو مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے، زیادتی کا نشانہ بنانے اور ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان طلب کرنے کے سنگین واقعے کا مقدمہ سی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔
    یہ مقدمہ جوڈیشل ریسٹ ہاؤس دھرم پورہ کے چوکیدار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں ایک ایس ایچ او اور دو پولیس اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق، مرکزی ملزم نے ان غیر ملکی خواتین سے بیرونِ ملک دوستی کی اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی، جس کے بعد وہ 29 جون کو لاہور پہنچیں تو ملزم انہیں ڈیفنس میں واقع ایک رہائش گاہ پر لے گیا۔
    وہاں قیام کے دوران ایک خاتون سے زیادتی کی کوشش کی گئی جبکہ دوسری خاتون کو تین ملزمان نے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، اور بعد ازاں خواتین کے ذریعے بیرونِ ملک رابطہ کروا کر 15 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔
    پولیس حکام کے خلاف درج اس مقدمے میں سرکاری رہائش گاہ میں غیر قانونی داخلے، بدسلوکی اور دھمکیوں کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں اور معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔