کراچی میں کانگو ہیمرجک فیور کا ایک اور افسوسناک کیس سامنے آیا ہے جہاں 17 سالہ نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔ محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ نوجوان میں گزشتہ روز ہی اس مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد اسے فوری طور پر سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ دورانِ علاج دم توڑ گیا۔
اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوان مویشیوں کی دیکھ بھال سے وابستہ تھا اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے یہ وائرس جانوروں سے منتقل ہوا۔ طبی ماہرین کے مطابق کانگو وائرس عام طور پر چیچڑی کے کاٹنے یا متاثرہ جانور کے خون کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جو بعد ازاں خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ عیدِ قربان کے قریب آتے ہی اس وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ اس دوران بڑی تعداد میں لوگ مویشیوں کے قریب آتے ہیں۔ اسی پیش نظر شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر بھی جاری کی گئی ہیں۔
ایڈوائزری کے مطابق مویشیوں کو ہاتھ لگاتے وقت دستانوں کا استعمال کیا جائے اور جانوروں کی دیکھ بھال کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ اس کے علاوہ مویشی منڈی جاتے وقت ہلکے رنگ کے اور پوری آستینوں والے کپڑے پہننے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ چیچڑی یا دیگر حشرات کو آسانی سے دیکھا جا سکے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس کی علامات میں تیز بخار، شدید جسم درد، پٹھوں میں تکلیف اور جسم کے مختلف حصوں سے خون بہنا شامل ہیں۔ ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ بروقت علاج ممکن بنایا جا سکے۔
Blog
-

کراچی میں کانگو وائرس سے نوجوان جاں بحق
-

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، جنوبی کوریا کا ایران سے اہم رابطہ
جنوبی کوریا نے مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایران کے ساتھ سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں جنوبی کوریا کے خصوصی ایلچی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال زیر بحث آئی، جہاں حالیہ کشیدگی کے باعث کئی ممالک کے بحری جہاز متاثر ہوئے ہیں۔ جنوبی کوریا کے ایلچی نے ایران سے درخواست کی کہ کورین بحری جہازوں کو اس اہم آبی گزرگاہ سے محفوظ گزرنے کے لیے خصوصی اجازت اور سہولت فراہم کی جائے۔
ذرائع کے مطابق جنوبی کوریا نے اس سہولت کے بدلے ایران کو اضافی تجارتی رعایتیں دینے کی پیشکش بھی کی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو فروغ مل سکتا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں بدلتی سفارتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خصوصی ایلچی چونگ بائیونگ ہا ایران کے دورے پر ہیں تاکہ نہ صرف اپنے شہریوں بلکہ اپنے بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے قریب پانیوں میں موجود 26 کوریائی جہاز اور ان پر سوار 173 افراد اس صورتحال سے متاثر ہیں۔
ملاقات کے دوران جنوبی کورین ایلچی نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے، جس سے خطے میں امن کی فضا بحال ہو سکتی ہے۔ انہوں نے تہران اور سیول کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس موقع پر کہا کہ ایران تعاون کے لیے تیار ہے اور ملک میں موجود غیر ملکی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے اسے قومی مفادات کے تحفظ کا اقدام قرار دیا۔ -

ایران کشیدگی کے باوجود امریکی اسٹاک مارکیٹ نئی بلندی پر
نیویارک میں جاری عالمی کشیدگی اور مہنگائی کے دباؤ کے باوجود امریکی اسٹاک مارکیٹس نے حیران کن کارکردگی دکھاتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی۔ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہا اور اہم انڈیکس ایس اینڈ پی 500 نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سرمایہ کاروں کی توجہ جنگی حالات کے بجائے کمپنیوں کے مالی نتائج اور منافع پر مرکوز رہی۔ بڑی امریکی کمپنیوں کی جانب سے متوقع سے بہتر کارکردگی نے مارکیٹ کو سہارا دیا، جس کے باعث ابتدائی خدشات کے باوجود مارکیٹ تیزی کی جانب گامزن رہی۔
ماہرین کے مطابق ایران سے متعلق کشیدگی کے آغاز پر مارکیٹ میں وقتی اتار چڑھاؤ ضرور آیا، تاہم جلد ہی صورتحال بہتر ہو گئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ کارپوریٹ سیکٹر کی مضبوط بنیادیں اور منافع میں اضافے کی توقعات ہیں، جنہیں تقریباً 14 فیصد تک بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جو عام طور پر معیشت کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود وال اسٹریٹ پر اس کے منفی اثرات نمایاں نہیں ہوئے۔ سرمایہ کاروں نے اس صورتحال کو عارضی سمجھتے ہوئے اپنی توجہ طویل المدتی فوائد پر مرکوز رکھی۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقع نے بھی مارکیٹ کو سہارا دیا۔ کم شرح سود سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہے، جس سے مارکیٹ میں پیسہ آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
وال اسٹریٹ میں خوف کی فضا کم ہونے کے بعد سرمایہ کاری میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بڑے سرمایہ کار اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مضبوط کارپوریٹ نظام کسی بھی عالمی بحران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ -

سونے کی قیمت 5 لاکھ سے نیچے، چاندی بھی سستی
پاکستان میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی کے بعد ایک بار پھر فی تولہ نرخ 5 لاکھ روپے سے نیچے آ گئے ہیں، جبکہ چاندی کی قیمت میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں گراوٹ کے اثرات مقامی صرافہ بازاروں تک پہنچے جس کے باعث سرمایہ کاروں اور خریداروں کے لیے بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔
صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونا 5 ہزار 200 روپے سستا ہونے کے بعد 4 لاکھ 93 ہزار 762 روپے کی سطح پر آ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 4 ہزار 458 روپے کی کمی ہوئی ہے، جس کے بعد یہ 4 لاکھ 23 ہزار 321 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں فی اونس قیمت 52 ڈالر کم ہو کر 4 ہزار 714 ڈالر تک آ گئی۔ عالمی سطح پر قیمتوں میں اس کمی نے براہ راست پاکستانی مارکیٹ کو متاثر کیا اور مقامی نرخوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمت میں بھی کمی کا رجحان سامنے آیا ہے۔ فی تولہ چاندی 225 روپے سستی ہو کر 8 ہزار 99 روپے کی سطح پر آ گئی ہے، جو حالیہ دنوں میں ایک نمایاں کمی سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق سونا روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب مہنگائی، سیاسی غیر یقینی صورتحال یا عالمی کشیدگی میں اضافہ ہو۔ تاہم حالیہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر طلب اور رسد میں تبدیلی اور مالیاتی پالیسیوں کے اثرات قیمتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ -

ایلون مسک کا بڑا قدم، پاکستانی نژاد شریک بانی والی کمپنی خریدنے کا منصوبہ
دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اے آئی کوڈ جنریشن اسٹارٹ اپ “کرسر” کو خریدنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کی مالیت تقریباً 60 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے، جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اس خبر کی خاص بات یہ ہے کہ اس کمپنی کے شریک بانیوں میں ایک پاکستانی نژاد نوجوان صالح آصف بھی شامل ہیں، جس پر پاکستانی ٹیک کمیونٹی میں خوشی اور فخر کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کرسر ان چند نمایاں امریکی کمپنیوں میں شامل ہے جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے کوڈنگ کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانے پر کام کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرسر نے کمپنی کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ رواں سال کسی بھی وقت اسے 60 ارب ڈالر میں خرید سکتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ خریداری مکمل نہ ہو سکی تو اسپیس ایکس کرسر کے ساتھ شراکت داری کے لیے 10 ارب ڈالر ادا کرے گی۔
کمپنی کے مطابق اس اشتراک کا مقصد کرسر کی جدید سافٹ ویئر انجنیئرنگ صلاحیتوں کو اسپیس ایکس کے طاقتور سپر کمپیوٹرز کے ساتھ ملا کر ایسے جدید اے آئی ماڈلز تیار کرنا ہے جو دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں انقلاب لا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ معاہدہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں مسابقت کو مزید تیز کرے گا، جہاں پہلے ہی اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی کمپنیاں سرگرم ہیں۔ کرسر کی شمولیت اس دوڑ میں ایک نئی جہت پیدا کر سکتی ہے۔ -

امریکی فوج نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر ایک اور جہاز کو قبضے میں لے لیا۔
امریکی فوج نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر ایک اور بحری جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی بحرِ ہند میں کی گئی جہاں “میجسٹک ایکس” نامی جہاز ایران سے تیل لے کر جا رہا تھا۔
پینٹاگون کے مطابق اس جہاز نے بین الاقوامی پابندیوں اور بحری ضوابط کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد امریکی بحریہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے روک کر قبضے میں لے لیا۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں امریکی اہلکاروں کو جہاز پر چڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عالمی سطح پر بحری قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی سمندری حدود کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے اقدامات کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک اور مظہر ہے۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے اس واقعے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں تہران اس نوعیت کی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں مزید تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن، ایک نازک توازن. تجزیہ: شہزاد قریشی
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں فضا میں بارود کی بو تو ہے، مگر گولیاں ابھی پوری طرح چل نہیں رہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن موجودہ صورتحال کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہی ہے: نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن۔
یہ ایک عجیب اور پیچیدہ کیفیت ہے۔ ایک طرف بیانات کی سختی، پابندیوں کا دباؤ، اور خطے میں طاقت کے مظاہرے جاری ہیں، تو دوسری طرف پسِ پردہ سفارتکاری بھی خاموشی سے اپنا کام کر رہی ہے۔ دونوں ممالک بظاہر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ کھلی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔
امریکہ، جو پہلے ہی عالمی سطح پر کئی محاذوں پر الجھا ہوا ہے، ایک نئی بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دوسری جانب ایران، جس کی معیشت پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، ایک طویل اور تباہ کن جنگ کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی کے باوجود ایک غیر مرئی حد قائم ہے جسے عبور کرنے سے دونوں فریق گریز کر رہے ہیں۔
یہ صورتحال دراصل “کنٹرولڈ ٹینشن” کی مثال ہے—یعنی کشیدگی کو اس حد تک برقرار رکھا جائے کہ سیاسی اور سفارتی مقاصد حاصل کیے جا سکیں، مگر وہ جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ اس کھیل میں پراکسیز، سفارتی دباؤ، اور عالمی ثالثی سب اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
دنیا کی بے چینی بھی اسی تضاد کا نتیجہ ہے۔ عالمی معیشت پہلے ہی نازک حالت میں ہے، توانائی کی منڈیاں غیر یقینی کا شکار ہیں، اور کسی بھی لمحے ایک چھوٹا سا واقعہ بڑے بحران میں بدل سکتا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے عالمی برادری کو مسلسل اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اصل جنگ میدان میں نہیں بلکہ سفارتی میزوں پر لڑی جا رہی ہے۔ دباؤ، مذاکرات، اور مفادات کا یہ پیچیدہ جال ایک ایسے توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہے جو بظاہر مستحکم دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے نہایت کمزور ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ توازن برقرار بھی رہ سکتا ہے اور کسی اچانک واقعے سے ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ تاہم موجودہ شواہد یہی بتاتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کے کنارے کھڑے ہو کر بھی اس میں چھلانگ لگانے سے گریزاں ہیں۔
یہی اس دور کی سب سے بڑی حقیقت ہے:
جنگ کا خطرہ موجود ہے، مگر امن کی کوشش بھی جاری ہے—اور دنیا اسی درمیانی کیفیت میں سانس لے رہی ہے۔ -

چمن میں کانگو وائرس کا کیس، محکمہ صحت الرٹ
چمن کے علاقے کلی حسن ٹھیکیدار میں کانگو وائرس کا کیس سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت نے فوری الرٹ جاری کر دیا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق 11 سالہ بچی فرشتہ میں خطرناک وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں، جس کے بعد اسے فوری طور پر فاطمہ جناح اسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا جہاں اسے خصوصی طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ بچی کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ مویشیوں کے ذریعے ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے بعد علاقے میں احتیاطی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔
علاقے میں خبر پھیلتے ہی شہریوں میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ فوری طور پر متحرک ہو اور مویشی منڈیوں سمیت متاثرہ علاقوں میں جراثیم کش اسپرے کیا جائے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب سندھ میں بھی کانگو وائرس سے ایک افسوسناک واقعہ رپورٹ ہوا جہاں 17 سالہ نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ نوجوان سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال میں زیر علاج تھا اور اس میں گزشتہ روز وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ نوجوان مویشیوں کی دیکھ بھال سے وابستہ تھا، جہاں سے وائرس منتقل ہونے کا امکان ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کانگو وائرس عموماً چیچڑی کے کاٹنے یا متاثرہ جانور کے خون کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جو بعد ازاں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ عیدِ قربان کے قریب آتے ہی اس وائرس کے پھیلنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ -

آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل جاری: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل جاری ہے اور امریکی بحریہ اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ امریکی مائن سویپرز اس وقت آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے میں مصروف ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جو بھی کشتی بارودی سرنگیں بچھانے یا بجھانے کی کوشش کرے گی، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی افواج کو اس حوالے سے کارروائی کا مکمل اختیار دے دیا گیا ہے تاکہ عالمی بحری راستے کو محفوظ رکھا جا سکے۔
امریکی صدر کے مطابق ایرانی کشتیاں اس علاقے میں بارودی سرنگیں بچھانے میں ملوث ہیں، جس کے بعد امریکا نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب تک ایران کے 159 بحری جہازوں کو سمندر میں تباہ کیا جا چکا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے اس علاقے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے ان الزامات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں تہران اس نوعیت کے دعوؤں کو مسترد کرتا رہا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال نہایت حساس ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت حالات مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ -

خانیوال میں ڈکیتی کی واردات، مزاحمت پر ماں اور بیٹا قتل
خانیوال میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح ملزمان نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کرکے ماں اور بیٹے کو قتل کردیا۔ افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ خانیوال کے نواحی علاقے میں پیش آیا جہاں ملزمان رات کے وقت ایک گھر میں داخل ہوئے اور اہل خانہ کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنانے کی کوشش کی۔ اس دوران گھر کے افراد نے مزاحمت کی جس پر ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ماں اور اس کا بیٹا موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو متعدد گولیاں لگی تھیں جس کے باعث وہ جانبر نہ ہوسکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے گئے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واردات ڈکیتی کی نیت سے کی گئی تاہم دیگر پہلوؤں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی وارداتوں نے لوگوں کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔