Baaghi TV

Blog

  • لندن میں غیر قانونی کرپٹو ٹریڈنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 8 مقامات پر چھاپے

    لندن میں غیر قانونی کرپٹو ٹریڈنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 8 مقامات پر چھاپے

    لندن: برطانیہ کے مالیاتی نگران ادارے ایف سی اے نے غیر رجسٹرڈ افراد کی جانب سے مبینہ غیر قانونی کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے دارالحکومت لندن میں 8 مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ یہ کارروائی پولیس اور کسٹمز حکام کے ساتھ مشترکہ طور پر کی گئی، جو اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

    ایف سی اے کے مطابق گزشتہ ہفتے ان تمام مقامات پر "سیز اینڈ ڈسسٹ” نوٹسز جاری کیے گئے اور اہم شواہد بھی اکٹھے کیے گئے، جو جاری تحقیقات میں استعمال ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام برطانیہ میں غیر مجاز کرپٹو سرگرمیوں کے خلاف سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ستمبر 2027 سے اس شعبے کے لیے مزید جامع قوانین نافذ کیے جانے والے ہیں۔ایف سی اے کے قوانین کے مطابق 2020 سے کرپٹو ٹریڈنگ خدمات فراہم کرنے والے تمام اداروں اور افراد کے لیے رجسٹریشن لازمی ہے تاکہ منی لانڈرنگ کے خلاف ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ میں اس وقت کوئی بھی پیئر ٹو پیئر (P2P) کرپٹو ٹریڈر یا پلیٹ فارم رجسٹرڈ نہیں ہے۔

    تحقیقات سے معلوم ہوا کہ چھاپوں کا نشانہ بننے والے افراد پیئر ٹو پیئر ٹریڈنگ میں ملوث تھے، جس میں کرپٹو اثاثے براہ راست افراد کے درمیان خرید و فروخت کیے جاتے ہیں، بغیر کسی مرکزی ایکسچینج کے۔
    ایف سی اے کے انفورسمنٹ ڈائریکٹر اسٹیو اسمارٹ کا کہنا تھا کہ "برطانیہ میں غیر رجسٹرڈ پیئر ٹو پیئر کرپٹو ٹریڈرز غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور مالی جرائم کے خطرات کو بڑھا رہے ہیں۔ ہم اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔”حکام کے مطابق ان مبینہ غیر قانونی ٹریڈرز کا سراغ "مارکیٹ انٹیلی جنس” اور دیگر اداروں کے تعاون سے لگایا گیا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق کرپٹو کرنسیز کو جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے غیر قانونی رقوم کو چھپانے اور منتقل کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ کرپٹو اثاثے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال ایف سی اے نے برطانیہ میں پہلی مرتبہ کرپٹو اے ٹی ایم نیٹ ورک چلانے کے جرم میں ایک ملزم کو سزا دلوائی تھی، جسے عدالت نے چار سال قید کی سزا سنائی تھی

  • موٹر سائیکل چور گینگ نے شہریوں کا جینا حرام کر دیا،ڈی پی او سے نوٹس کی استدعا

    موٹر سائیکل چور گینگ نے شہریوں کا جینا حرام کر دیا،ڈی پی او سے نوٹس کی استدعا

    قصور
    شہر و گردونواح میں موٹر سائیکل چور گینگ متحرک،شہری لاکھوں روپیہ قیمتی موٹر سائیکل سے محروم،ڈی پی او قصور سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور کوٹ غلام محمد کے رہائشی محمد اویس ولد محمد طارق کیساتھ تھانہ سٹی اے ڈویژن قصور کے علاقے سیٹھی کالونی میں موٹر سائیکل چوری کا واقعہ پیش آیا
    شہری محمد اویس نے درخواست دی کہ وہ 18 اپریل 2026 کو رات تقریباً 10 بجے گھر پہنچا اور اپنی ہنڈا 125 موٹر سائیکل (رجسٹریشن نمبر AYV-3842، ماڈل 2024، سرخ رنگ بمعہ سیاہ ٹینکی) گھر کے باہر کھڑی کی تو کچھ دیر بعد موٹر سائیکل اسٹارٹ ہونے کی آواز سن کر باہر نکلا تو ایک نامعلوم شخص موٹر سائیکل لے کر فرار ہو چکا تھا
    اس سے قبل بھی چوروں نے کئی شہریوں کو ان کی قیمتی موٹر سائیکلوں سے محروم کیا ہے
    متاثرہ شہری نے ڈی پی او قصور سے نوٹس لے کر اپنی موٹر سائیکل برآمدگی کی استدعا کی ہے

  • امریکی دعووں کے باوجود ایران کی عسکری طاقت برقرار

    امریکی دعووں کے باوجود ایران کی عسکری طاقت برقرار

    ‎امریکی حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران ایران کی عسکری صلاحیتوں کو بڑی حد تک نقصان پہنچایا گیا، تاہم امریکی میڈیا رپورٹس اس کے برعکس ایک مختلف تصویر پیش کر رہی ہیں۔ تازہ انٹیلیجنس معلومات کے مطابق ایران کی اہم فوجی صلاحیتیں اب بھی برقرار ہیں، جو خطے میں جاری کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
    ‎امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو انٹیلیجنس سے وابستہ حکام نے بتایا کہ اپریل کے آغاز میں ہونے والی جنگ بندی کے وقت ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ان کے لانچ سسٹمز کا تقریباً نصف حصہ محفوظ تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران اب بھی اپنے دفاعی اور جارحانہ نظام کا ایک بڑا حصہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
    ‎اسی طرح پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے حوالے سے بھی اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق اس کا تقریباً 60 فیصد حصہ اب بھی فعال ہے۔ اس میں تیز رفتار حملہ آور کشتیاں شامل ہیں جو خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستوں میں کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق ایران کی فضائی قوت کو نقصان ضرور پہنچا ہے، لیکن یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اندازوں کے مطابق ایرانی فضائیہ کا تقریباً دو تہائی حصہ اب بھی فعال ہے، جو کسی بھی ممکنہ کشیدگی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
    ‎ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ جنگ کے دوران ایران کی روایتی بحریہ کو خاصا نقصان پہنچا، تاہم پاسداران انقلاب کی غیر روایتی بحریہ اب بھی جزوی طور پر موجود ہے۔ یہی بحریہ چھوٹے جہازوں اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
    ‎یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اس آپریشن کو ایران کی عسکری طاقت کے خاتمے کے طور پر پیش کر چکے ہیں۔ تاہم نئی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اب بھی خطے میں ایک مضبوط عسکری قوت کے طور پر موجود ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ متضاد بیانات عالمی سطح پر پالیسی سازی اور سیکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا امکان بھی موجود ہے۔

  • آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے میں 6 ماہ لگ سکتے ہیں

    آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے میں 6 ماہ لگ سکتے ہیں

    ‎امریکی محکمہ دفاع نے کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو مکمل طور پر صاف کرنے میں تقریباً چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
    ‎امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ کارروائی فوری طور پر شروع ہونے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ اس کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خاتمے پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آتے، سمندری راستوں کی مکمل بحالی ممکن نہیں ہوگی۔
    ‎آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق بارودی سرنگوں کی صفائی ایک پیچیدہ اور خطرناک عمل ہے، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس میں طویل وقت لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین اقتصادیات کے مطابق اس صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت برقرار رہے گی۔ اگر تنازع طویل ہوتا ہے تو اس کے اثرات سال کے آخر تک یا اس کے بعد بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام کے بغیر نہ صرف سمندری تجارت متاثر ہوگی بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات مختلف ممالک تک پہنچیں گے۔

  • ایران کا مؤقف، وعدہ خلافی اور ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ


    ایران کا مؤقف، وعدہ خلافی اور ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ


    ‎ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ وعدوں کی خلاف ورزی، اقتصادی و بحری ناکہ بندی اور مسلسل دھمکیاں حقیقی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات اور معاہدے کا حامی رہا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں اعتماد کا فقدان ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
    ‎ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری آپ کے بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان واضح تضاد کو دیکھ رہی ہے۔ ان کے مطابق اس طرز عمل نے مذاکراتی عمل کو متاثر کیا ہے اور اعتماد سازی کے امکانات کو کمزور کیا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت قابل قبول ہو سکتی ہے جب سمندری ناکہ بندی ختم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رہی تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنا ممکن نہیں ہوگا۔
    ‎ایرانی قیادت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تنازع کے حل کا واحد راستہ ایران کے قومی حقوق کو تسلیم کرنا ہے۔ ان کے مطابق یکطرفہ دباؤ، پابندیاں اور طاقت کا استعمال مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
    ‎ادھر ایرانی صدارتی دفتر نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا ہے جن میں قیادت کے اندر اختلافات کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ نائب ترجمان کے مطابق ایرانی قیادت مکمل طور پر متحد ہے اور دشمن عناصر کی جانب سے پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا بے بنیاد ہے۔

  • آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے عالمی فوجی مشن کی تیاریاں تیز

    آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے عالمی فوجی مشن کی تیاریاں تیز

    ‎آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں ایک بڑے کثیرالقومی فوجی مشن کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ عالمی سطح پر اس پیش رفت کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ راستہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں 30 سے زائد ممالک کے فوجی ماہرین اور منصوبہ ساز آج بدھ 22 اپریل کو دو روزہ اہم کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنا ہے تاکہ جنگ بندی کے بعد فوری طور پر اس پر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔
    ‎یہ اہم اجلاس شمالی لندن کے علاقے نارتھ ووڈ میں واقع برطانیہ کے مستقل مشترکہ ہیڈکوارٹر میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں مختلف ممالک کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس مشن کا بنیادی مقصد تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا، شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بحال کرنا اور سمندر میں موجود بارودی سرنگوں کی صفائی کو یقینی بنانا ہے۔
    ‎برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اس عالمی مشن کی قیادت کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے سفارتی اتفاق کو عملی فوجی منصوبے میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے پیرس میں ہونے والے 51 ممالک کے اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں آبنائے ہرمز کو فوری اور غیر مشروط طور پر کھولنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک دفاعی نوعیت کے کثیرالقومی مشن کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔
    ‎برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی کے مطابق یہ کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کا مقصد آئندہ کے لیے ایک واضح اور مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور معیشت کا استحکام جہاز رانی کی آزادی سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس منصوبے کی کامیابی پوری دنیا کے لیے اہم ہوگی۔

  • جنگ بندی کے باوجود عالمی تیل قیمتیں برقرار

    جنگ بندی کے باوجود عالمی تیل قیمتیں برقرار

    ‎امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے باوجود عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی، جس نے عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کی قیمت 91.99 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ کروڈ آئل 101.1 ڈالر فی بیرل کی سطح پر برقرار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، جس کے باعث مارکیٹ میں خدشات برقرار ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق خلیج کے اہم سمندری راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز، میں جاری غیر یقینی صورتحال بھی تیل کی قیمتوں کو متاثر کر رہی ہے۔ دنیا بھر کی تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کے خدشے نے قیمتوں کو نیچے آنے سے روکے رکھا ہے۔
    ‎ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرمایہ کار اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور کسی بھی بڑی جغرافیائی یا سیاسی تبدیلی کے انتظار میں ہیں۔ اسی وجہ سے قیمتوں میں فوری کمی ممکن نہیں ہو رہی۔
    ‎دوسری جانب عالمی طلب اور سپلائی کے عوامل بھی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جبکہ بعض ممالک کی جانب سے پیداوار میں کمی یا اضافہ بھی مارکیٹ کو غیر مستحکم رکھتا ہے۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں مکمل استحکام آتا ہے تو آئندہ دنوں میں قیمتوں میں کمی کا امکان ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

  • ‎پاکستان کی مثبت کوششوں اور خطے میں امن کیلئے ثالثی کردار کو سراہتے ہیں: اسماعیل بقائی

    ‎پاکستان کی مثبت کوششوں اور خطے میں امن کیلئے ثالثی کردار کو سراہتے ہیں: اسماعیل بقائی

    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی صورتحال کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
    ‎ترجمان سے جب پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کی اپیل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، اور اس کی ثالثی کی کوششیں قابل قدر ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی کشیدگی کا آغاز کرنے والا فریق نہیں ہے، بلکہ موجودہ صورتحال اس پر مسلط کی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت اس کے فطری حقِ دفاع کے دائرے میں آتے ہیں۔
    ‎بقائی کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ اگر سفارتی راستہ اختیار کیا جائے تو خطے میں استحکام لایا جا سکتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایران کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ ایک جانب وہ اپنی دفاعی پوزیشن مضبوط رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب سفارتی کوششوں کے دروازے بھی مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے۔

  • ٹرمپ نےجنگ بندی غیرمعینہ مدت کیلئے نہیں 3 سے 5 دن کیلئے کی ہے: وائٹ ہاؤس

    ٹرمپ نےجنگ بندی غیرمعینہ مدت کیلئے نہیں 3 سے 5 دن کیلئے کی ہے: وائٹ ہاؤس

    امریکی میڈیا نے وائٹ ہاؤس حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کی گئی جنگ بندی غیر معینہ مدت کے لیے نہیں بلکہ صرف 3 سے 5 دن کے محدود عرصے کے لیے ہے۔ اس پیش رفت نے خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ایران کو ایک محدود وقت دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی تجاویز پیش کرے اور مذاکراتی عمل کو تیز کیا جا سکے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ مختصر ڈیڈ لائن کا دباؤ ایران کو جلد مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کرے گا۔
    ‎امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس طویل جنگ بندی کے حق میں نہیں ہے اور نہیں چاہتا کہ ایران کو مزید وقت دیا جائے۔ حکام کا خیال ہے کہ اگر جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھایا گیا تو ایران مذاکرات میں تاخیر کر سکتا ہے، جس سے سفارتی عمل متاثر ہوگا۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکمت عملی کے تحت ایک طرف محدود جنگ بندی رکھی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب دباؤ برقرار رکھنے کے لیے دیگر اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں آبنائے ہرمز کی صورتحال کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ایران پر دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
    ‎تاہم امریکی صدر ٹرمپ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ طویل عرصے تک کشیدگی یا ناکہ بندی عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، اسی لیے وہ جلد از جلد کسی معاہدے کو حتمی شکل دینا چاہتے ہیں۔
    ‎یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روکنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رکھی جائے گی جب تک مذاکراتی عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔

  • چین کا نیا تجربہ، فضا میں ڈرون چارج کرنے کی ٹیکنالوجی

    چین کا نیا تجربہ، فضا میں ڈرون چارج کرنے کی ٹیکنالوجی

    ‎چینی سائنس دانوں نے ایک منفرد اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے ڈرونز کو فضا میں ہی چارج کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مائیکروویوز پر مبنی ایک خاص پاور ٹرانسمیشن پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے جو مستقبل میں بغیر پائلٹ طیاروں کی مسلسل پرواز کو ممکن بنا سکتا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق چین کی شی ‌ڈیان یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا نظام ڈیزائن کیا ہے جسے زمینی گاڑی پر نصب کیا جا سکتا ہے۔ یہ گاڑی نہ صرف ڈرونز کو لانچ کرے گی بلکہ انہیں فضا میں رہتے ہوئے توانائی فراہم کر کے ان کی پرواز کا دورانیہ بھی بڑھا سکے گی۔
    ‎سائنس دانوں کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ اس نظام کی مدد سے ایک ڈرون کو تقریباً 15 میٹر کی بلندی پر تین گھنٹے سے زائد وقت تک فضا میں برقرار رکھا جا سکا۔ اس دوران گاڑی پر نصب مائیکروویو ایمیٹر نے توانائی کو ڈرون کے نچلے حصے میں موجود اینٹینا سسٹم تک منتقل کیا، اور یہ عمل اس وقت بھی جاری رہا جب دونوں حرکت میں تھے۔
    ‎تاہم ماہرین نے اس ٹیکنالوجی میں موجود چیلنجز کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق مائیکروویو ایمیٹر اور ڈرون کے درمیان درست سمت برقرار رکھنا ایک مشکل مرحلہ ہے، جس کے لیے جی پی ایس اور ڈرون کے فلائٹ کنٹرول سسٹمز کے درمیان انتہائی درست ہم آہنگی درکار ہوتی ہے۔
    ‎مزید یہ کہ ابتدائی نتائج کے مطابق بھیجی جانے والی توانائی کا صرف 3 سے 5 فیصد حصہ ہی ڈرون تک پہنچ سکا، جبکہ باقی توانائی ضائع ہو گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام ابھی ترقی کے ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔