ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کے انتظامات جاری ہیں، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے باعث موجودہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کریں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق تقریب کے دوران غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ملکی اور غیر ملکی شخصیات کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
تہران میں منعقد ہونے والی تعزیتی تقریب میں ایرانی شوریٰ نگہبان کے ارکان نے شہید رہبر انقلاب کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، اعلیٰ عسکری قیادت اور دیگر اہم سرکاری شخصیات بھی موجود تھیں۔ مختلف ممالک سے آنے والے سرکاری وفود نے بھی تعزیتی اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے مرحوم رہنما کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
ایرانی حکام کے مطابق نماز جنازہ میں دنیا کے مختلف خطوں سے آنے والے وفود سمیت تقریباً ایک سو ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے، جبکہ متعدد سربراہان مملکت اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل بھی تعزیتی اجتماع میں شرکت کریں گے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق نماز جنازہ کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسد خاکی کو پہلے تہران سے قم منتقل کیا جائے گا، اس کے بعد عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا۔ بعد ازاں میت کو دوبارہ ایران واپس لا کر مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا، جہاں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
ایرانی حکومت نے جنازے کے جلوس میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اسی تناظر میں ملک بھر میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں، جبکہ 8 جولائی کو ایران میں یوم سوگ منانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
سرکاری بیانات کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے۔ ان حملوں کے بعد ایرانی قیادت نے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی صاحبزادی، داماد اور نواسی بھی جان کی بازی ہار گئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق وہ اپنے سرکاری دفتر میں فرائض انجام دے رہے تھے جب حملہ ہوا۔
واضح رہے کہ اس خبر میں شامل حملوں، جانی نقصانات اور دیگر دعووں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ مختلف فریقین کی جانب سے اس حوالے سے متضاد مؤقف بھی سامنے آ چکے ہیں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ، مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی خدشات کے باعث شریک نہیں ہوں گے
