Baaghi TV

Blog

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    عالمی منڈی میں جمعرات کے روز سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے بعد 4,057.92 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ، گزشتہ سیشن میں یہ جون کے بعد کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی تھی ، جبکہ امریکی سونے کے فیوچرز معمولی کمی کے ساتھ 4,070.10 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے ،جبکہ بدھ کے روز سونا تقریباً سات ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچنے کے بعد 4,029.89 ڈالر پر بند ہوا۔

    دوسری جانب دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 1 فیصد اضافے کے ساتھ 59.76 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.4 فیصد بڑھ کر 1,583.05 ڈالر اور پیلیڈیم 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1,223.80 ڈالر فی اونس ہو گیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا عام طور پر افراط زر سے بچاؤ کے لیے محفوظ سرمایہ سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش کم ہو جاتی ہے کیونکہ یہ کوئی منافع نہیں دیتا،خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے بھی سونے کی منڈی پر اثر ڈالا ہے، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی،تاہم سرمایہ کار اب بھی فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے کہا کہ مرکزی بینک 2 فیصد مہنگائی کے ہدف پر قائم رہے گا، تاہم انہوں نے شرح سود کے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح اشارہ نہیں دیا۔ مارکیٹ میں اس وقت ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے تقریباً 64 فیصد امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

  • مینگو ڈپلومیسی: وزیراعظم شہباز شریف کا 76 ممالک کے سربراہان کو آم تحفے میں دینے کا فیصلہ

    مینگو ڈپلومیسی: وزیراعظم شہباز شریف کا 76 ممالک کے سربراہان کو آم تحفے میں دینے کا فیصلہ

    حکومتِ پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ‘مینگو ڈپلومیسی’ مہم کے تحت دنیا بھر کے 76 ممالک کے سربراہانِ مملکت، اعلیٰ حکومتی شخصیات، سفارت کاروں اور اہم عالمی شخصیات کو اعلیٰ معیار کے پاکستانی آم بطور تحفہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے مطابق اس خصوصی سفارتی مہم کے تحت 34 ٹن سے زائد اعلیٰ معیار کے پاکستانی آم 5 کلوگرام کے 6 ہزار 896 خصو صی پیکنگ باکسز میں دنیا کےمختلف ممالک روانہ کیے جائیں گےاس بار سب سے بڑی کھیپ سعودی عرب، ترکیہ، برطانیہ اور چین کو بھیجی جا رہی ہے، جبکہ دیگر اہم دوست اور شراکت دار ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں آموں کی پیکنگ اور ترسیل بین الاقوامی معیار کےمطابق کی جا رہی ہےتاکہ منزل تک پہنچنے تک ان کی تازگی اور معیار برقرا ر رہے۔

    اس اقدام کا مقصد صرف پاکستانی آموں کو بطور تحفہ پیش کرنا نہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کےاعلیٰ معیار کے زرعی اور باغبانی مصنوعات کو فروغ دینا بھی ہے پاکستانی آم اپنی منفرد خوشبو، ذائقے اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے دنیا بھر میں خاص شہرت رکھتے ہیں، اور یہ مہم ان کی عالمی مارکیٹ میں مزید پذیرائی حاصل کرنے میں معاون ثابت ہو گی “مینگو ڈپلو میسی” پا کستان کی سافٹ ڈپلومیسی کا اہم حصہ ہے، جس کے ذریعے دوست ممالک کے ساتھ خیر سگالی، باہمی اعتماد اور دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سفارتی مہمات نہ صرف پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرتی ہیں بلکہ ملکی زرعی برآمدات میں اضافے، نئی منڈیوں تک رسائی اور پاکستانی آموں کی عالمی طلب بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

  • ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان

    ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 12 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اس دوران کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، شمالی اور مشرقی پنجاب، گلگت بلتستان، جبکہ شمالی اور مشرقی بلوچستان کے چند مقامات پر تیز ہواؤں، گرج چمک اور بارش کی توقع ہے آج صبح ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت کے مطابق اسلام آباد اور مظفرآباد میں کم سے کم درجہ حرارت 22 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں 27، کراچی میں 30، گلگت میں 23 جبکہ مری میں 17 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مطلع جزوی ابرآلود رہنے اور صبح اور رات میں کہیں کہیں بونداباندی کا امکان ہے شہر کا موسم مرطوب، مطلع جزوی ابرآلود رہنے کا امکان ہے شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 29.1 ڈگری سینٹی گریڈ اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہ سکتا ہےہوا میں نمی کا تناسب 78 فیصد ہے اور سمندری ہوائیں 18 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں، شہر میں صبح اور رات میں کہیں کہیں بونداباندی کا بھی امکان ہے جبکہ تیز ہوائیں بھی چلتی رہیں گی۔

  • پنجاب کی تمام تحصیلوں میں الیکٹرک بسیں مہیا کی جائیں گی،وزیر اعلیٰ پنجاب

    پنجاب کی تمام تحصیلوں میں الیکٹرک بسیں مہیا کی جائیں گی،وزیر اعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کا ہدف پنجاب کی تمام تحصیلوں تک ماحول دوست، جدید اور کم کرائے والی سفری سہولتیں پہنچانا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام اس سے مستفید ہو سکیں۔

    لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت عوام کو معیاری اور سستی سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہےمزید 1500 الیکٹرک بسوں کی شمولیت کے بعد پنجاب میں مجموعی طور پر تقریباً 3 ہزار بسیں عوام کی خدمت کے لیے دستیاب ہوں گی۔

    مریم نواز نے کہا کہ مختلف اضلاع اور تحصیلوں میں بسوں کی ضرورت اور طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے بعض علاقوں کو 10، 15 یا اس سے زیادہ بسیں فراہم کی گئی ہیں، تاہم جہاں مزید ضرورت ہوگی وہاں بھی مرحلہ وار بسیں فراہم کی جائیں گی،انہوں نے صوبائی اسمبلی کے ارکان سے کہا کہ اگر ان کے حلقوں میں مزید بسوں کی ضرورت ہے تو وہ حکومت کو آگاہ کریں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جیسے جیسے نئی بسیں موصول ہوتی جائیں گی، انہیں پنجاب کی تمام 147 یا 148 تحصیلوں تک پہنچایا جائے گا اور ہر علاقے کی ضرورت کے مطابق بسوں کی تعداد بھی پوری کی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب ملک کا وہ صوبہ بن چکا ہے جس نے اپنے شہریوں کو ماحول دوست، جدید، اقتصادی اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ الیکٹرک ٹرانسپورٹ فراہم کی ہے ان بسوں سے نہ صرف عوام کو کم کرائے میں بہترین سفری سہولتیں مل رہی ہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد مل رہی ہے خوشی ہے کہ عوام اس منصو بے سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے محکمہ ٹرانسپورٹ، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور پورے محکمے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہایت محنت، ذمہ داری اور بہترین انداز میں اس منصوبے کو آگے بڑھایا ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو شاباش دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی اسی جذبے اور محنت سے عوامی خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت ایک اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ گوجرانوالہ، گجرات، راولپنڈی، ملتان، ساہیوال، بہاولپور، ڈی جی خان، فیصل آباد اور سرگودھا ڈویژنز کی 91 تحصیلوں میں 1500 بسیں چلائی جائیں گی۔ پہلے فیز میں پنجاب کی 91 تحصیلوں میں 1500 بسیں چلائی جائیں گی اجلاس میں تحصیل لیول پر 1500 الیکٹرک بسوں کی خریداری کے لیے پی سی ون منظور دی گئی، اجلاس میں الیکٹرک بسوں، گوجرانوالہ اور فیصل آباد ماس ٹرانزٹ، ای ٹیکسیز، لاہور SRT، الیکٹرک بائیکس، کمانڈ کنٹرول سینٹر اور مری گلاس ٹرین پر بر یفنگ دی گئی۔

    فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں شاہکار ماس ٹرانزٹ سسٹم پر کام تیزی سے جاری ہے۔ گوجرانوالہ اور فیصل آباد ماس ٹرانزٹ کے بارے میں تفصیلی پراگریس رپورٹ پیش کی گئی پنجاب کے اضلاع میں 400 فعال بسیں جلد الیکٹرک ہوں گی۔ اضلاع میں مزید 212 بسیں، 28 اضلاع میں مزید 100 بسیں، 10 جولائی کو افتتاح کے لیے تیار، جبکہ 61 بسیں فوراً لانچ کرنے کا حکم دیا گیا۔

    جھنگ میں 15، کبیر والا 9، بھکر 9، اٹک 9، مانڈی 9، حافظ آباد 9، چنیوٹ 9، لیہ 9، اوکاڑہ 9 اور سیالکوٹ 9 بسیں بھی فوراً فنکشنل کرنے کا حکم دیا گیا۔ مختلف اضلاع میں نئی 189 الیکٹرک بسیں سافٹ لانچنگ کے لیے تیار، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے آن لائن افتتاح کا عندیہ دے دیا۔ مزید 112 بسیں گوجرانوالہ، گجرات، شیخوپورہ، ملتان، مری، وہاڑی، قصور، لودھراں، ننکانہ اور نارووال پہنچ گئیں، 25 جولائی سے چلنا شروع ہوں گی۔

    مزید 488 بسیں 20 جولائی کو چینی بندرگاہ سے پنجاب بھیجی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کوٹ ادو، تلہ گنگ اور تونسہ شریف میں الیکٹرک بس لانچ کو بھی فوری بھیجنے کا حکم دیا۔ وہاڑی اور لودھراں میں بھی بس چلانے کا حکم، جبکہ وہاڑی، لودھراں اور ننکانہ میں الیکٹرک بسوں کی تعداد بڑھانے کی ہدایت کی گئی جہاں جہاں 15 بسوں سے کم ہیں وہاں مزید بسیں بھیجی جائیں، کم از کم 15، 15 بسیں ہونی چاہئیں، مریم نواز شریف۔ پنجاب میں الیکٹرک بسیں بھی لائے ہیں، مینوفیکچرنگ انڈسٹری بھی لائے ہیں۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، 100 انڈیکس 1,300 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، 100 انڈیکس 1,300 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا، جہاں کاروبار کے آغاز میں ہی بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,300 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔

    کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1354 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 85 ہزار 404 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا اور یوں ایک لاکھ 85 ہزار کی نفسیاتی حد بھی عبور کر لی،مارکیٹ کے دوران اتار چڑھاؤ بھی دیکھنے میں آیا، ایک موقع پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 84 ہزار 840 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک آیا، تاہم بعد ازاں تیزی کا رجحان دوبارہ غالب آ گیا اور انڈیکس ایک لاکھ 85 ہزار 714 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔

    مارکیٹ میں کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے شیئرز، جن میں حبکو، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، ایچ بی ایل، ایم ای بی ایل اور یو بی ایل شامل ہیں مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس ایک لاکھ 84 ہزار 50 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جس کے مقابلے میں آج نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹوں میں ایشیائی حصص جمعرات کو دباؤ کا شکار رہے سرمایہ کاروں نے چِپ ساز کمپنیوں میں منافع وصولی کو ترجیح دی، جبکہ کرنسی اور بانڈ مارکیٹوں کی نظریں امریکی روزگار کے اعداد و شمار پر مرکوز رہیں، جن سے شرح سود کے مستقبل کے بارے میں اہم اشارے ملنے کی توقع ہے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی چار ماہ کی نئی کم ترین سطح پر آ گئیں برینٹ خام تیل تقریباً 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 71 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، اس کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قطر میں ایران کے ساتھ مذاکرات کو مثبت قرار دینا اور آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ بھی بتایا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ رواں مالی سال 2026-27 کا آغاز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے مثبت رہا ہے اور حالیہ دنوں میں مارکیٹ مسلسل نئی بلندیاں حاصل کر رہی ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے، معاشی اشاریوں میں بہتری اور کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے مثبت توقعات کے باعث بازارِ حصص میں تیزی کا رجحان برقرار ہے۔

  • یوکرینی حملوں سے پیٹرول بحران،روس بھارت سے تیل خریدنے لگا

    یوکرینی حملوں سے پیٹرول بحران،روس بھارت سے تیل خریدنے لگا

    روس نے پیٹرول بحران کو دور کرنے کے لیے سمندری راستے کے ذریعے بھارت سے پیٹرول منگوانا شروع کر دیا ہے۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق، تیل کی صنعت سے وابستہ دو ذرائع نے بتایا کہ یہ قدم یوکرین کی جانب سے روس کے بجلی اور توانائی کے نظام پر کیے جانے والے حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس کی وجہ سے روس کے کارخانوں کو نقصان پہنچا ہےاس وقت روس کے تمام علاقوں میں پیٹرول کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے، جس کے باعث پیٹرول پمپس پر لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں، لوگوں کو ناپ تول کر محدود پیٹرول دیا جا رہا ہے اور ملک میں پیٹرول کی قیمتیں ریکارڈ حد تک بڑھ گئی ہیں۔

    اس صورتحال پر روس کے صدارتی محل کریملن نے بھی تصدیق کی ہے کہ روس دوسرے ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور مناسب قیمتوں پر پیٹرول منگوانے کے لیے بات چیت کر رہا ہے،روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی وزراء اور سرکاری حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ یوکرین کے ڈرون حملوں کی وجہ سے کچھ علاقوں میں پیٹرول کی کمی ہوئی ہے، لیکن روس اس مسئلے کو حل کر رہا ہے۔

    تیل کی صنعت سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق اب تک بھارت سے کم از کم 60 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول روس کے لیے روانہ کیا جا چکا ہے، جبکہ ایک اور ذریعے نے بتایا کہ 30 سے 40 ہزار ٹن پیٹرول سے لدے دو بڑے بحری جہاز روس بھیجے گئے ہیں ایک اور ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ روس اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہر مہینے مختلف ممالک سے کل چار لاکھ ٹن پیٹرول منگوانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں اس کا پڑوسی ملک بیلاروس بھی شامل ہے جو پہلے ہی روس کو پیٹرول بھیج رہا ہے گرمیوں کے موسم میں جب پیٹرول کی مانگ بہت زیادہ ہوتی ہے، تو روس میں روزانہ کم از کم ایک لاکھ دس ہزار ٹن پیٹرول استعمال ہوتا ہے۔

    ایک طرف روس بھارت سے بنا بنایا پیٹرول خرید رہا ہے، تو دوسری طرف بھارت بھی روس سے ریکارڈ مقدار میں خام تیل منگوا رہا ہے جون کے مہینے میں بھارت نے روس سے روزانہ 27 لاکھ بیرل خام تیل خریدا، جو بھارت کی کل ضرورت کا آدھے سے زیادہ بنتا ہے بھارت نے یہ قدم آبنائے ہرمز کا سمندری راستہ بند ہونے کی وجہ سے دوسرے ممالک سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد اٹھایا ہے۔

  • مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نمائندگی پر تنازع: اصل مسئلہ کیا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نمائندگی پر تنازع: اصل مسئلہ کیا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایک تاریخ، ایک جدوجہد، پھر کشمیریوں کے درمیان اختلاف کیوں؟

    دھرنوں کے بجائے مکالمہ: مہاجر کشمیریوں کے حقوق اور قومی یکجہتی کا تقاضا

    تجزیہ شہزاد قریشی

    آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ہونے والے احتجاج، جلسے، جلوس اور دھرنوں نے ایک اہم سیاسی اور آئینی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ بحث پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر کے حقِ نمائندگی اور ان کی سیاسی حیثیت سے متعلق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1947 کی تقسیم کے دوران لاکھوں کشمیری اپنے گھروں، زمینوں اور جائیدادوں سے محروم ہو کر پاکستان آئے۔ ان خاندانوں نے بے شمار قربانیاں دیں، مشکلات برداشت کیں اور پاکستان میں نئی زندگی کا آغاز کیا۔ آج ان مہاجر خاندانوں کی تیسری، چوتھی بلکہ بعض مقامات پر پانچویں نسل بھی پاکستان میں آباد ہے۔ ان مہاجرین نے نہ صرف پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا بلکہ کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھنے میں بھی اہم حصہ ڈالا۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص نشستیں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ یہ نظام کئی دہائیوں سے موجود ہے اور ان نشستوں پر انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ اگر یہ طریقہ کار برسوں سے آئینی اور قانونی طور پر تسلیم شدہ ہے تو پھر آج اس پر اعتراضات کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا واضح جواب عوام کے سامنے آنا چاہیے۔

    دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد کشمیری خاندانوں کو آج بھی "مہاجر کشمیری” کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ مقامی آبادی بھی انہیں اسی شناخت سے جانتی ہے، حالانکہ کئی نسلیں گزر چکی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخی، سماجی اور سیاسی طور پر ان کی شناخت آج بھی کشمیر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے بعض حلقے پاکستان میں آباد مہاجرین کی سیاسی نمائندگی پر سوال اٹھا رہے ہیں تو انہیں اپنے مؤقف کی معقول اور منطقی وضاحت کرنی چاہیے۔ اختلاف رائے ہر معاشرے میں موجود ہوتا ہے، لیکن ایسے معاملات کا حل احتجاج اور محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور مذاکرات میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ کشمیر کا مقدمہ ہمیشہ اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ آزاد کشمیر میں رہنے والے کشمیری ہوں یا پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر، دونوں ایک ہی تاریخ، ایک ہی جدوجہد اور ایک ہی مقصد سے وابستہ ہیں۔ اس لیے ایسے اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں باہمی احترام، سیاسی بصیرت اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایکشن کمیٹی، سیاسی جماعتیں، حکومتِ آزاد کشمیر اور متعلقہ ادارے ایک میز پر بیٹھ کر اس مسئلے کا قابلِ قبول حل تلاش کریں۔ دھرنوں، احتجاجوں اور سیاسی کشیدگی سے نہ صرف داخلی ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک منقسم تاثر سامنے آتا ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے ختم کیا جائے اور تمام کشمیریوں کو ایک دوسرے کے وجود، قربانیوں اور حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔

  • برطانیہ میں شدید گرمی، جون 142 سالہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ قرار

    برطانیہ میں شدید گرمی، جون 142 سالہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ قرار

    برطانیہ میں جون 2026 شدید گرمی کے باعث غیرمعمولی طور پر گرم ثابت ہوا، جہاں ملک بھر میں اوسط درجۂ حرارت گزشتہ 142 برس کی تاریخ میں جون کا دوسرا گرم ترین ریکارڈ کیا گیا، انگلینڈ میں یہ اب تک کا گرم ترین جون رہا۔

    برطانیہ کے محکمہ موسمیات کے مطابق جون 2026 ملک کی تاریخ کے گرم ترین مہینوں میں شامل رہا، برطانیہ اور ویلز میں گزشتہ ماہ 1884 کے بعد سے دوسرا گرم ترین مہینہ رہا، سرے چارلووڈ میں درجہ حرارت 35.7 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ، 1976 میں جون کے مہینے میں درجہ حرارت 35.6 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    موسمیاتی ادارے کے مطابق جون کے آخری ہفتے میں شدید ہیٹ ویو کے دوران کئی علاقوں میں درجۂ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جبکہ رات کے وقت بھی درجۂ حرارت غیرمعمولی طور پر بلند رہا اور کئی مقامات پر “ٹراپیکل نائٹس” ریکارڈ کی گئیں، جہاں درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ایسے شدید گرمی کے واقعات کو زیادہ بار بار اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما کر رہی ہیں، جس کے باعث صحت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور پانی کی فراہمی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

  • یوکرینی دارالحکومت پر روس کےحملے،8 افراد ہلاک متعدد زخمی

    یوکرینی دارالحکومت پر روس کےحملے،8 افراد ہلاک متعدد زخمی

    روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر رات بھر ڈرونز اور میزائلوں سے شدید حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوگئے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق روسی افواج نے جمعرات کی شب یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملہ کیا، جس میں ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ حملوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ شہر بھر میں تقریباً 3 درجن مقامات کو نقصان پہنچا، انہوں نے متاثرہ علاقوں کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    دوسری جانب کیف کے میئر ویتالی کلچکو نے بتایا کہ حملوں میں 34 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایمبولینس اسٹیشن کے طبی عملے اور ڈرائیور بھی شامل ہیں ایک رہائشی عمارت کی پہلی سے چھٹی منزل تک کا حصہ براہِ راست میزائل حملے کے باعث منہدم ہوگیا، جبکہ کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق شہر میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، وسطی شیوچینکو بلیوارڈ پر واقع ایک ہوٹل کی بالائی منزل پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ کئی علاقوں میں عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئیں حملوں کے دوران فضائی خطرے کے سائرن بجنے پر شہری بچوں، ضروری سامان اور اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ یہ حملہ جون کے وسط کے بعد یوکرین پر روس کا سب سے بڑا فضائی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملوں کے خدشے کے پیش نظر آئرلینڈ کا اپنا دورہ مختصر کر دیا۔ وہ یورپی یونین کی گردشی صدارت کے سلسلے میں ڈبلن گئے ہوئے تھے، یوکرین کی امریکا میں سفیر اولہا اسٹیفانیشینا نے حملے کو ”کیف کے شہریوں کے لیے ایک اور ہولناک رات“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو پوری رات پناہ گاہوں میں گزارنا پڑی۔

    دریں اثنا روس کے شمال مغربی لینن گراڈ ریجن کے گورنر الیگزینڈر دروزدینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے سات یوکرینی ڈرونز مار گرائے دوسری جانب روس کے سرحدی علاقے بیلگورود میں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ اس کی اہلیہ زخمی ہوگئیں۔

  • افریقی ملک  میں ہم جنس پرستی پر  درجن سے زائد حکومتی عہدیددار گرفتار

    افریقی ملک میں ہم جنس پرستی پر درجن سے زائد حکومتی عہدیددار گرفتار

    مغربی افریقہ کے ملک نائجر میں ہم جنس پرستی کے خلاف ایک نیا اور سخت قانون نافذ کیے جانے کے بعد کم از کم 16 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق، ایک عدالتی عہدیدار نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں کسٹمز اور پولیس فورس کے بڑے افسران کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شامل ہیں نائجر میں پہلے ہم جنس شادیوں پر تو پابندی تھی لیکن اس طرح کے تعلقات پر سزائیں مقرر نہیں تھیں، مگر اب نئے قانون کے تحت حکومت نے جیل لمبی قید کی سزائیں اور بھاری جرمانے نافذ کر دیے ہیں ہم جنس پرستوں کے خلاف یہ آپریشن ابھی جاری ہے اور اب ان جگہوں کو نشانہ بنایا جائے گا جہاں ایک ہی جنس کے لوگ ساتھ رہتے ہیں، جیسے کہ فوج کی بیرکس اور کالجوں کے ہاسٹل۔

    نئے قانون کے سرکاری دستاویزات کے مطابق اگر کوئی شخص ہم جنس پرستی یا اپنی ہی جنس کے کسی فرد کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا قصوروار پایا گیا تو اسے 5 سے 10 سال تک جیل کی سزا کاٹنی پڑے گی اور ساتھ ہی 1 کروڑ سے 10کروڑ فرانک یعنی پاکستانی روپے کے حساب سے لاکھوں روپے کا بھاری جرمانہ بھی دینا ہوگا اگر کوئی لوگ آپس میں ہم جنس شادی کرتے ہوئے پکڑے گئے تو ان کو 10 سے 20 سال تک قید کی سخت سزا دی جا سکتی ہے اس کے علاوہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں چلانے والوں پر 5کروڑ سے50 کروڑ فرانک تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    رائٹرز نے اس پورے معاملے پر جب نائجر کی حکومت کے ترجمان سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا،واضح رہے کہ نائجر سے پہلے اس کے پڑوسی افریقی ممالک سینیگال اور برکینا فاسو بھی پچھلے کچھ مہینوں میں ہم جنس پرستی کے خلاف اسی طرح کے سخت قوانین پاس کر چکے ہیں۔