ایران کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حمیدرضا حاجی بابائی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر عائد ٹول سے حاصل ہونے والی پہلی آمدنی مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ یہ رقم کس طریقے سے وصول کی گئی یا کن ممالک نے ادائیگی کی۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی۔ اس پیش رفت نے عالمی سطح پر کئی سوالات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ جنگ بندی سے قبل ایران نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کو صرف ان ممالک تک محدود کیا جائے گا جنہیں وہ اپنے دوست ممالک قرار دیتا ہے۔ اسی دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں سے فیس یا ٹول وصول کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کی کوئی واضح شرح یا طریقہ کار سامنے نہیں آیا تھا۔
دوسری جانب ایران کے ایک اور سینیئر رکن پارلیمنٹ علی رضا سلیمی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جہازوں سے فیس وصول کی گئی ہے۔ ان کے مطابق ہر جہاز سے لی جانے والی رقم کارگو کی نوعیت، مقدار اور خطرے کی سطح کے مطابق مختلف ہوتی ہے، اور اس کا فیصلہ ایران خود کرتا ہے۔
اس معاملے پر ماضی میں بھی مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ ایران فی جہاز دو ملین ڈالر تک فیس وصول کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ عالمی تجارت پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور دیگر سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
Blog
-

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے پہلا ٹول وصول
-

خیبرپختونخوا جیل محکمہ میں پہلی بار خواجہ سرا افراد کی بھرتی
خیبرپختونخوا میں پہلی بار دو خواجہ سرا افراد کو جیل محکمہ میں بطور وارڈر بھرتی کر لیا گیا ہے، جو صوبے کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بلال (عرف سوبیہ خان) اور زوہیب احمد نے تمام مراحل کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے اپنی نشستیں حاصل کیں۔ دونوں امیدواروں نے جسمانی ٹیسٹ، تحریری امتحان اور انٹرویو کے مراحل عبور کیے، جس کے بعد انہیں میرٹ پر منتخب کیا گیا۔
محکمہ جیل حکام کے مطابق خواجہ سرا افراد کے لیے 18 نشستیں مختص کی گئی تھیں، تاہم صرف دو افراد نے درخواست دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ کمیونٹی میں سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے آگاہی کی کمی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ایک تقریب کے دوران دونوں امیدواروں کو تقرری کے خطوط دیے۔ اس موقع پر حکام نے واضح کیا کہ بھرتی کا عمل مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا اور دونوں امیدوار تمام معیار پر پورا اترے۔
سوبیہ خان کو سنٹرل جیل پشاور کے خواتین سیکشن میں تعینات کیا گیا ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات ریحان گل خٹک نے کہا کہ محکمہ افراد کو ان کی صلاحیت کی بنیاد پر بھرتی کرتا ہے، نہ کہ ان کی شناخت کی بنیاد پر۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں نئے بھرتی ہونے والے افراد جیل کے ماحول کو مزید پیشہ ورانہ اور انسان دوست بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ٹرانسجینڈر رائٹس نیٹ ورک کی فرزانہ جان نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون اس وقت حقیقی انصاف بنتا ہے جب وہ لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے۔ انہوں نے دیگر اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ اس مثال کی پیروی کریں۔ -

مون سون کی پیشگی تیاری،ماحولیاتی خطرات سے بچاؤ کے اقدامات پرجائزہ اجلاس
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی نے مون سون کی پیشگی تیاری، موسمیاتی تغیر اور ماحولیاتی خطرات سے بچاؤ کے اقدامات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی.
غیر معمولی موسمیاتی تغیر، بالخصوص گلوف سے بچاؤ کے لیے گلگت بلتستان میں نصب پیشگی وارننگ سسٹم کے مکمل طور پر فعال نہ ہونے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اظہار برہمی کیا. وزیر اعظم نے گزشتہ سال واضح ہدایات کے باوجود سسٹم کی غیر فعالیت اور متعلقہ اداروں کی غیر مؤثر کارکردگی پر انکوائری کے احکامات جاری کر دیئے. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ متعلقہ اداروں کی نااہلی اور کارکردگی میں کمی کسی طور برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوام کی سہولت، خدمت اور خطرات سے بچاؤ کے لیےاقدامات تمام اداروں کا فرض العین ہےجسکی جواب دہی ہو گی۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے نقصان دہ اثرات سے متاثرہ ممالک میں سر فہرست ہے جس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ وفاقی ادارے صوبوں کے ساتھ مکمل تعاون اور ہم آہنگی سے پالیسی کے نفاذ میں درپیش تمام رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کریں۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پچھلے سال مون سون سیزن میں دریاؤں کی گزرگاہوں اور سیلاب کی ممکنہ راستوں میں ناجائز تجاوزات تباہی کا باعث بنی۔ اس سال، اس مسئلہ کے حل کے لئے، پیشگی مؤثر حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے خصوصی ہدایت کی کہ مون سون کے دوران ممکنہ سیلاب سے بچاؤ کے لیے تمام ادارے استعداد کار کو بڑھاتے ہوئے عوام کی سہولت کے لیے وسائل سے بڑھ کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیشگی وارننگ سسٹم کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے لیے تمام ضروری انفراسٹرکچر کی فراہمی اور فعالیت کو یقینی بنانا ناگزیر ہے. وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی اور پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ اور دیگر تمام متعلقہ ادارے صوبوں کی باہمی تعاون سے یکجا ہو کر موثر اقدامات دکھائیں۔
اجلاس کو چیئرمین این۔ڈی۔ایم۔اے، چیئرمین واپڈا اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، چیئرمین این ڈی ایم اے، چیئرمین واپڈا اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
-

نئی دہلی پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت سے خائف
سات ،8 اپریل 2026 کی جنگ بندی پیش رفت کے فوراً بعد بھارتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے غیر معمولی شدت کے ساتھ پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ دی ہندو جیسے اداروں نے 8 اپریل کی صبح ہی “جنرل عاصم منیر کی مغربی ایشیا سفارت کاری کا قریبی جائزہ” کے عنوان سے تنقیدی تحریر شائع کی، جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان ثالثی میں کامیاب نہیں ہوگا، “جنگ کو جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا” اور عالمی قوتیں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اہمیت نہیں دیں گی۔
اسی روز صبح پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پسِ پردہ سفارتی کاوشوں کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنا دی، جبکہ مذاکرات اب اسلام آباد میں دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔جہاں نئی دہلی خود کو “نیٹ سکیورٹی فراہم کرنے والا” پیش کر رہا تھا، وہیں 2026 کی ایران جنگ کے دوران اس کے طرزِ عمل نے اس کا اصل کردار بے نقاب کر دیا۔ ابتدائی حملوں اور ایرانی قیادت کی ٹارگٹ کلنگ پر اس کی خاموشی کو عالمی جنوب میں کشیدگی کی غیر اعلانیہ حمایت سمجھا گیا۔امن کے فروغ کے بجائے بھارت نے فروری 2026 کے آخر میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو “خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری” تک بڑھانے میں عجلت دکھائی، جو علاقائی استحکام کے برعکس محدود مفادات کو ترجیح دینے کا مظہر تھا۔
پاکستان نے مصر اور ترکیہ کے ساتھ مل کر 8 اپریل کی جنگ بندی کو یقینی بنایا، جس نے وسیع تر جنگ کے پھیلاؤ کو روک دیا۔ اس کے برعکس بھارت حاشیے پر چلا گیا، اس کی بحری حکمت عملی محض نمائشی ثابت ہوئی اور وہ اپنے سمندری مفادات کے تحفظ میں بھی مؤثر کردار ادا نہ کر سکا۔کشیدگی کم کرنے کے بجائے نئی دہلی نے دستاویزی مواد پر پابندیاں لگائیں، داخلی آوازوں کو دبایا اور امن کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا تاکہ غیر مستحکم قوتوں کے ساتھ اپنی صف بندی کو چھپا سکے۔عالمی برادری کو “ناقابلِ متبادل بھارت” کے مصنوعی بیانیے کو مسترد کرنا چاہیے۔ 2026 کے تنازع نے واضح کر دیا ہے کہ جب دنیا کو جنگ روکنے اور سفارتی پیش رفت کے لیے ایک ذمہ دار کردار درکار ہوتا ہے تو توجہ اسلام آباد کی طرف جاتی ہے، جبکہ نئی دہلی اپنی ناکام اور جانبدار سفارت کاری کے نتائج سنبھالنے میں مصروف رہتا ہے اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت سے خائف دکھائی دیتا ہے
-

چین کے سفیر کی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات
پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفیر، جناب جیانگ زائیڈونگ نے آج وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔
ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ڈاکٹر احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھے۔
وزیرِ اعظم نے عوامی جمہوریہ چین کے صدر عزت مآب شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم لی چیانگ کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری پر فخر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ چینی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ یہ تعلقات مزید مضبوط سے مضبوط تر ہوں۔
ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستان کی امن کوششوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ چینی سفیر نے وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا اور خطے میں دیرپا امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے صدر شی جن پنگ کے وژن کے مطابق پاکستان کے ساتھ آہنی دوستی کو مزید مستحکم کرنے اور اسے نئی بلندیوں تک لے جانے کے چین کے عزم کا اعادہ کیا۔
-

راولپنڈی: بس ہوسٹس سے مبینہ زیادتی کرنے والا شخص ساتھی سمیت گرفتار
پیرودھائی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بس ہوسٹس خاتون سے مبینہ زیادتی کے واقعے میں ملوث ملزم کو اس کے ساتھی سمیت گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق زیر حراست شخص نے مبینہ طور پر ہوٹل منیجر کے ساتھ ملی بھگت کر کے متاثرہ خاتون کے لیے ہوٹل میں کمرہ حاصل کیا۔ مدعیہ کے بیان کے مطابق ملزم ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا اور اسے مبینہ طور پر بے ہوش کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا۔ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث متاثرہ بس ہوسٹس ڈیوٹی پر جانے کے لیے گھر سے نکلی اور مجبوری کے تحت پیرودھائی کے علاقے میں ایک ہوٹل میں قیام کیا۔مزید بتایا گیا ہے کہ ملزم نے متاثرہ خاتون کو ترنول سے گاڑی کے ذریعے ہوٹل پہنچایا، جہاں وہ آرام کے لیے کمرے میں موجود تھی۔ کچھ دیر بعد ملزم مبینہ طور پر دوبارہ کمرے میں داخل ہوا اور یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
-

لاہور،اچھرہ میں گھر سے تین بچوں کی لاشیں برآمد
لاہور کے علاقے اچھرہ میں گھر سے 3 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں
پولیس کے مطابق بچوں کی عمر 5 سے 9 سال کے درمیان ہیں جنہیں تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا،پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کے والدین گھر سے باہر گئے ہوئے تھے، مزید تفتیش جاری ہے،اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعہ کا نوٹس لے لیا،ایس ایس پی آپریشنز، ایس پی ماڈل ٹاؤن موقع موجود ہیں،پولیس ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا،پولیس کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن شروع، مشتبہ افراد کی چیکنگ جاری ہے،واقعہ کی نوعیت جاننے کیلئے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری ہے،ترجمان ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ علاقہ کے سی سی ٹی وی کیمروں کو قبضہ میں لے لیا گیا، ٹریسنگ جاری ہے،فرانزک اور تفتیشی ٹیموں بھی جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کر رہی ہیں، ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا ،ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، جلد حقائق سامنے لا کر ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی،
-

وزیرِ اعظم سے انسانی خلائی مشن پر جانے والے پاکستانی خلا بازنوجوانوں کی ملاقات
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے انسانی خلائی مشن پر جانے والے پاکستانی خلا باز، خرم داؤد اور محمد ذیشان علی کی ملاقات ہوئی. اس موقع پر سپارکو کے خلاباز اتاشی حسنین افتخار بھی موجود تھے.
ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی سید طارق فاطمی، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان نے شرکت کی. ملاقات میں چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائیڈونگ بھی شریک تھے.
وزیرِ اعظم نے خلابازوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں نوجوان خلا بازوں اور خلاباز اتاشی سے مل کر دلی مسرت ہوئی. آپکا خلائی مشن پر تحقیق کیلئے جانا پاکستان کیلئے ایک اہم سنگ میل اور مجھ سمیت پوری قوم کیلئے قابل فخر امر ہے. پر اعتماد ہوں کہ آپ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھنے جا رہے ہیں. آپ کی شبانہ روز محنت کی بدولت آپ نے یہ مقام حاصل کیا جو قابل ستائش ہے. چینی تعاون سے آپکا یہ سفر دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات میں نئی جہتوں کا اضافہ کرے گا.
وزیرِ اعظم نے چین کے سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلائی تحقیق میں پاکستان اور چین کے تعاون سے دونوں ممالک کی دوستی آسمان کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے ستاروں پر کمند ڈالنے کیلئے تیار ہے.چین کے سفیر نے وزیرِ اعظم کی گفتگو کا خیر مقدم کیا اور دونوں ممالک کے خلائی تحقیق میں تعاون کو خوش آئند قرار دیا. خلابازوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کیلئے خلاء میں تحقیق کے فرائض سر انجام دینا باعث عزت، منفرد اعزاز اور باعث افتخار ہے. محنت اور لگن سے قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے.
-

ایران کا آبنائے ہرمز پر ’’خودمختار کنٹرول‘‘ حاصل کرنے پر غور
ایران میں پارلیمنٹ اور قومی سلامتی کونسل کی سطح پر ایک اہم تجویز پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز پر “خودمختار کنٹرول” حاصل کرنے کی بات سامنے آئی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، مہر نیوز ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ایک رکن نے اس تجویز کی تصدیق کی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار ابھی واضح نہیں ہے کہ کون سا ادارہ کرے گا۔ذرائع کے مطابق تہران پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا معاہدے کی ایک شرط ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جہاں سے روزانہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے عالمی معیشت پر فوری اور سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کی اندرونی سیاسی صورتحال میں تبدیلی آئی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ملک کی اعلیٰ قیادت میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، اور اب سخت گیر عناصر، خصوصاً اسلامی انقلابی گارڈز ے بعض حلقے زیادہ بااثر سمجھے جا رہے ہیں۔دوسری جانب نسبتاً معتدل سیاسی شخصیات، جن میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد قالیباف کا نام بھی لیا جا رہا ہے، مبینہ طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے بیانات میں ایران کی موجودہ سیاسی تقسیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال میں تہران کو ایک متحدہ مؤقف پیش کرنے کے لیے وقت دیا گیا ہے، جبکہ جنگ بندی میں توسیع کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔آبنائے ہرمز کا معاملہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات میں ایک مرکزی نکتہ بنتا جا رہا ہے، جس پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
-

دشمن ڈرونز کی نگرانی کے باوجود فائرمشن کامیابی سے مکمل کیا، کیپٹن ارباز خان خلجی
محاذِ جنگ پر دشمن کے ڈرونز کی موجودگی کے باوجود پاک فوج کے بہادر افسر کیپٹن ارباز خان خلجی نے جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معرکہ حق کے دوران اپنا مشن کامیابی سے مکمل کیا۔
کیپٹن ارباز خان خلجی نے اپنے بیان میں کہا کہ محاذ جنگ پر انہیں کسی قسم کا خوف یا ڈر محسوس نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ دشمن کے ڈرونز کی نگرانی کے باوجود انہوں نے فائرمشن کامیابی سے مکمل کیا اور دشمن کے ٹاپ بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج اپنے جوانوں کو ایسے ہی کٹھن حالات اور محاذ جنگ کے تقاضوں کے مطابق تربیت دیتی ہے، جس کی بدولت وہ ہر مشکل صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔کیپٹن ارباز خان خلجی نے مزید کہا کہ معرکہ حق کے بعد ان کا جذبہ پہلے سے بھی زیادہ جوان ہو گیا ہے اور ان کے جوش و ولولے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے قومی موٹو “نصر من اللہ و فتح قریب” پر ان کا ایمان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔