Baaghi TV

Blog

  • یمنی حوثیوں کی ریڈ سی میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    یمنی حوثیوں کی ریڈ سی میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    حوثی حکومت کے وزیر دفاع میجر جنرل محمد العاطفی کے مطابق یمنی عوام کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    حوثی حکومت کے وزیر دفاع نے کہا کہ حالیہ تنازع میں امریکی اور صہیونی دشمن کے خلاف کارروائیوں نے مختلف محاذوں کے اتحاد کو ظاہر کیا ہے اور مزا حمتی قوتوں کی عسکری حکمت عملی کو مؤثر ثابت کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمتی محور کی کارروائیاں دشمن کے خلاف کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔

    حوثی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک حملے جاری رکھیں گے جب تک جنگ مکمل طور پر بند نہیں ہو جاتی۔ ان کے مطابق وہ اپنے اسلحہ ذخائر کو استعمال کرتے ہوئے حساس فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہیں گے حوثیوں نے ریڈ سی میں بحری آمد و رفت کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے مارچ کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ میں باقاعدہ طور پر شمولیت اختیار کی، جس کے بعد انہوں نے اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

  • حجاج و عمرہ زائرین کے لیے ضابطہ اخلاق جاری

    حجاج و عمرہ زائرین کے لیے ضابطہ اخلاق جاری

    پاکستان علما کونسل، انٹرنیشنل تنظیمِ حرمین شریفین کونسل اور دارالافتا پاکستان نے حجاج کرام اور عمرہ زائرین کے لیے ایک جامع ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے-

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مولانا حافظ محمد طارق محمود، مولانا اسعد زکریا، علامہ طاہر الحسن اور دیگر علما و مشائخ نے زائرین کو سعودی وزارتِ حج و عمرہ کی ہدایات پر عمل کی اپیل کی ضابطہ اخلاق میں واضح کیا گیا کہ حجاج کرام رش کے ایام میں حدودِ حرم میں جہاں بھی نماز ادا کریں گے، انہیں ایک لاکھ نماز کا ثواب ملے گا، لہٰذا ازدحام سے بچنے کے لیے حدودِ حرم کا خیال رکھیں۔

    علما نے سخت تنبیہ کی کہ سعودی عرب میں مقیم افراد بغیر اجازت نامے (حج پرمٹ) کے حج نہ کریں، کیونکہ یہ شرعی اور قانونی طور پر جائز نہیں ہے، اس لیے حج و عمرہ پر روانگی سے قبل مکمل معلومات حاصل کریں اور کسی بھی غیر رجسٹرڈ یا غیر قانونی آن لائن گروپ سے بکنگ نہ کروائیں۔ اگر معلومات نہ ہوں تو سفر کے دوران کسی جاننے والے یا وزارتِ مذہبی امور کے نمائندوں سے رہنمائی لیں تاکہ کسی قسم کی گھبراہٹ کا شکار نہ ہونا پڑے۔

    ضابطہ اخلاق میں زائرین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی نیت کو خالص اللہ کے لیے رکھیں کیونکہ حج و عمرہ دنیا کی نمود و نمائش کے لیے نہیں ہے، اس لیے عبادت کے دوران ویڈیوز اور تصاویر بنانے سے حتی الامکان اجتناب کریں اور ایئرپورٹ پر روانگی میں تاخیر پر پریشان ہونے کے بجائے ذکر و اذکار اور درود شریف پڑھیں۔

    دورانِ حج سیاسی میدان سجانے یا کسی ایسی کوشش کا حصہ بننے کی بھی سختی سے ممانعت کی گئی ہے جس سے حرمین کے امن میں خلل پڑے، اور زائرین کو ایسے افراد یا گروہوں سے مکمل دور رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں قیام کے دوران اپنے گروپ قائد کی ہدایات پر عمل کریں، افواہوں پر توجہ نہ دیں اور رمی جمرات کے دوران جلد بازی سے کام نہ لیں کیونکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں ذمہ دار کون ہوگا۔

    رمی جمرات کے معاملے میں معذوروں، بیماروں اور خواتین کے لیے دی گئی شرعی رخصت اور سہولیات کو مدنظر رکھا جائے اور بلاوجہ مشکلات پیدا نہ کی جائیں، مزید برآں، یہ واضح کیا گیا کہ مملکتِ سعودی عرب میں بھیک مانگنا، منشیات لے جانا یا کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونا بہت بڑا جرم ہے جس سے زائرین کو مکمل طور پر دور رہنا چاہیے۔

    کانفرنس کے دوران ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے علما، مشائخ اور سیاسی و مذہبی قائدین نے حجاج و زائرین کے لیے سعودی عرب کی خدمات اور انتظامی تبدیلیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا قرارداد میں واضح کیا گیا کہ پاکستان سمیت تمام ممالک کے حجاج، منتظمین اور حکومتیں مملکتِ سعودی عرب کی حج پالیسی پر عمل درآمد کی پابند ہیں۔

    پریس کانفرنس میں مفتی محمد انتخاب، مولانا اسد اللہ فاروق، حافظ مقبول احمد، مولانا محمد اسلم صدیقی، قاری عبدالحکیم اطہر، مولانا محمد اشفاق پتافی اور دیگر اکابرین بھی شریک تھے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بڑی حد تک مکمل ہو چکے، ترک وزیر خارجہ

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بڑی حد تک مکمل ہو چکے، ترک وزیر خارجہ

    ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا دونوں کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کا عزم موجود ہے،جبکہ دونوں کے درمیان مذاکرات بڑی حد تک مکمل ہو چکے ہیں-

    جنوبی صوبے انطالیہ میں ایک سفارتی فورم کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہاکان فیدان نے کہاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات بڑی حد تک مکمل ہو چکے ہیں، تاہم اب بھی متعدد نکات پر اختلافات برقرار ہیں آئندہ ہفتے ختم ہونے والی جنگ بندی میں توسیع کی جانی چاہیے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد ایک نئی جنگ چھڑ جائے، ہم امید کرتے ہیں کہ فریقین جنگ بندی میں توسیع کریں گے۔

    اس موقع پر ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ مذاکرات میں کئی پیچیدہ مسائل زیر غور ہیں۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بھی عویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا اشارہ دیا ہےصدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں گے، جہاں ایک حتمی معاہدے کو شکل دی جا سکتی ہے، یہ ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کر ے گا بلکہ اسرائیل کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

  • اسحاق ڈار اور پولینڈ کے وزیر خارجہ میں ٹیلیفونک رابطہ

    اسحاق ڈار اور پولینڈ کے وزیر خارجہ میں ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آج پولینڈ کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ راڈوسواف سیکورسکی سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔

    گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت کو سراہا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا،گفتگو کے دوران علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پولینڈ کے وزیر خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے مذاکرات اور سفارتکاری پر مبنی مؤقف کی تعریف کی انہوں نے اسحاق ڈار کو جون 2026 میں پولینڈ کے دورے کی دعوت بھی دی۔

  • ڈویلپمنٹ پروگرام پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مشکور ہوں،خواجہ سعد رفیق

    مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پارٹی میں نام مختلف ضرور ہیں مگر سب ایک فرد کی طرح کام کرتے ہیں اور وہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ڈویلپمنٹ پروگرام پر ان کے شکر گزار ہیں۔

    خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بننے پر انہیں کچھ تحفظات تھے جس کے باعث وہ ٹیم کا حصہ نہیں بنے، تاہم شہباز شریف کی محنت قابلِ ستائش ہے جنہوں نے دن رات ایک کیا اس وقت حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں اور سیاسی و عسکری قیادت نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، اگرچہ بعد میں آئی ایم ایف پروگرام اور مہنگائی جیسے چیلنجز بھی سامنے آئے جبکہ سیلاب جیسی آفات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

    انہوں نےالزام عائد کیا کہ پہلگام واقعےکو بنیاد بنا کر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، تاہم پاکستان کی افواج اور فضائیہ نے بھرپور جواب دے کر اپنی صلا حیتیں دنیا پر واضح کیں،آج عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تاثر ابھر رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ شہباز شریف اور دیگر قیادت عالمی تنازعات میں کردار ادا کریں۔

    انہیوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں، غزہ میں ہونے والے مظالم نے دنیا کو جھنجھوڑ دیا ہے اور یہ حالات ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد بن رہے ہیں جبکہ ایران کی مزاحمت کو بھی سراہا عالمی سطح پر بڑی طاقتیں جیسے چین اور روس بھی اس عمل کا حصہ ہیں اور امید ہے کہ خطے میں امن قائم ہوگا جبکہ مسلم دنیا اب بیدار ہو رہی ہے۔

  • ایرانی حملوں میں تل ابیب کے ہزار سے زائد اپارٹمنٹس  تباہ

    ایرانی حملوں میں تل ابیب کے ہزار سے زائد اپارٹمنٹس تباہ

    اسرائیلی شہر تل ابیب کے میئر رون ہلڈائی نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہر کے ایک ہزار سے زائد اپارٹمنٹس رہائش کے قابل نہیں رہے ہیں-

    تل ابیب کے میئر رون ہلڈائی نے اسرائیلی چینل 12 کو بتایا ہے کہ ایرانی حملوں کے باعث شہر کے ایک ہزار سے زیادہ اپارٹمنٹس شدید نقصان کا شکار ہو چکے ہیں اور اب ان میں رہائش ممکن نہیں رہی ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں نے شہری انفراسٹرکچر کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے بعد متعدد عمارتوں کو خالی کرایا گیا ہے۔

    اس سے قبل رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں کم از کم 26 اسرائیلی شہری ہلاک جبکہ 2600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، دوسر ی جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 3,468 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • ایران جوہری تنازع: اصل کشمکش یورینیم پر، آبنائے ہرمز ثانوی دباؤ کا ہتھیار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    ایران جوہری تنازع: اصل کشمکش یورینیم پر، آبنائے ہرمز ثانوی دباؤ کا ہتھیار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی کشیدگی: ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اعتماد کا بحران
    ممکنہ معاہدہ یا قیاس آرائیاں؟ آنے والے دن عالمی سیاست کے لیے فیصلہ کن مرحلہ
    تجزیہ شہزاد قریشی
    مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سطحی خبروں سے ہٹ کر اصل محرکات کا جائزہ لیا جائے۔ بظاہر توجہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے اور جس کے بارے میں وقتاً فوقتاً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ایران اسے بند یا کھول کر عالمی دباؤ کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ جتنا نمایاں دکھائی دیتا ہے، اتنا سادہ نہیں۔ اس راستے کی کسی بھی ممکنہ بندش یا کشیدگی کا فوری ردعمل عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کی جانب سے سامنے آتا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ مکمل طور پر ایران کے یکطرفہ کنٹرول میں نہیں رہتا۔

    اصل اور بنیادی تنازعہ ایران کے جوہری پروگرام سے جڑا ہوا ہے۔ ایران کی حکمت عملی اس کے سیکیورٹی خدشات کے گرد گھومتی ہے، خاص طور پر اسرائیل اور امریکہ کے ممکنہ اقدامات کے تناظر میں۔ ایران یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ یورینیم افزودگی کے معاملے میں مکمل لچک دکھاتا ہے یا کسی سخت معاہدے کا حصہ بنتا ہے تو اس کی دفاعی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ میں سیاسی تبدیلیاں—مثلاً انتخابات—اس کی پالیسیوں کو مزید غیر یقینی بنا سکتی ہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود رکھا جائے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہے اور ایٹمی پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ یہی بنیادی تضاد کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
    اس تناظر میں مختلف تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ آنے والے دن—خاص طور پر منگل، بدھ اور جمعرات—اہم ثابت ہو سکتے ہیں اور کسی ممکنہ پیش رفت یا معاہدے کی صورت سامنے آ سکتی ہے۔ بعض اطلاعات میں یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پس پردہ سفارتکاری کے نتیجے میں کوئی فریم ورک تیار ہو رہا ہے، جس میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ قیاس بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر معاہدہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو اعلیٰ سطحی امریکی شخصیات، حتیٰ کہ صدر، مختصر دورے پر آ کر اس کی توثیق کر سکتے ہیں۔

    تاہم تاریخی اور سفارتی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو ایسے بڑے معاہدے عموماً طویل مذاکرات کے بعد طے پاتے ہیں اور ان کے لیے مخصوص سفارتی مراکز کا انتخاب کیا جاتا ہے، جیسا کہ Joint Comprehensive Plan of Action کے دوران دیکھا گیا۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اگرچہ پیش رفت ممکن ہے، لیکن چند دنوں میں کسی حتمی اور بڑے معاہدے تک پہنچنا ایک مشکل اور کم امکان والا عمل ہے۔ پاکستان یا کسی اور ملک کا کردار ثالثی یا سہولت کاری تک ہو سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ بحران کی جڑیں گہری اسٹریٹیجک بے اعتمادی میں پیوست ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک اہم دباؤ کا ذریعہ ضرور ہے، مگر اصل فیصلہ کن عنصر ایران کا جوہری پروگرام اور اس پر عالمی طاقتوں کا ردعمل ہے۔ آنے والے دن اہم ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن کسی بھی نتیجے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے محتاط اور حقیقت پسندانہ تجزیہ ہی زیادہ مناسب ہوگا۔

  • ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا،ایرانی صدر

    ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا-

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا ہے کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران کو اس کے پرامن جوہری حقوق سے محروم کرنے کی بات کرے ایران کا بنیادی مؤقف خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے تحفظ پر مبنی ہےایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا ہے ایران کا مؤ قف ہمیشہ دفاعی رہا ہے اور ملک اپنے دفاع کے قانونی اور جائز حق کو استعمال کر رہا ہے۔

    مسعود پزشکیان کے مطابق ایران کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی خطے میں کشیدگی بڑھانا چاہتا ہےدشمن اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ایران پر حملوں کے دوران انفرا اسٹرکچر، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ایسے اقدامات انسانی اصولوں اور عالمی ضوابط کے خلاف ہیں ایران کی تہذیب کو تباہ کرنے اور اسے پتھر کے دور میں دھکیلنے جیسے بیانات دشمن کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتے ہیں۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے،الجزیرہ

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے،الجزیرہ

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر حکام نے انتظامات تیز کر دیے ہیں سخت بیانات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے امکانات مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔

    مذاکرات سے قبل دارالحکومت میں وسیع پیمانے پر تیاریاں جاری ہیں کم از کم دو بڑے ہوٹلز، جن میں سرینا ہوٹل بھی شامل ہے جہاں اس سے قبل بھی اہم مذاکرات ہو چکے ہیں، کو مہمانوں سے خالی کروانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، جبکہ جمعہ تک کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں دی جا رہی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ امریکی فوج کے دو سی 17 گلوب ماسٹر طیاروں کی آمد کے بعد ایئرپورٹ سے ریڈ زون جانے والی سڑک کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے شہر میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک بسوں کی آمدورفت محدود کی جائے گی، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک تاحکم ثانی بند کر دی گئی ہے اس کے علاوہ پنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کو بھی پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران سیکیورٹی کے لیے تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں پنجاب پولیس، رینجرز، اسلام آباد پولیس اور پاک فوج کے دستے شامل ہوں گےریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں کے اطراف پرچم آویزاں کیے جا رہے ہیں اور گرین بیلٹس کو رنگ برنگے پھولوں سے سجایا جا رہا ہے ان تمام اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں جمعہ سے قبل اہم مذاکرات کا انعقاد متوقع ہے اور اس حوالے سے عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔

  • روس کی ایران کو یورینیئم کی پیشکش اب بھی برقرار

    روس کی ایران کو یورینیئم کی پیشکش اب بھی برقرار

    روس کی سرکاری نیوکلیئر کمپنی ’روساتم‘ کے سی ای او، الیکسی لیخاچیف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو سنبھالنے کے لیے تیار ہے، اور یہ پیشکش ابھی تک میز پر ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

    الیکسی لیخاچیف نے کہا کہ روساتم ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 میں بھی روس نے ایران کی درخواست پر افزودہ یورینیم کو اپنے ملک منتقل کیا تھا، اور وہ آج بھی اس نازک معاملے میں تکنیکی اور اعتمادی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں،یہ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی کا بھی معاملہ ہے، جس کے لیے روس تیار ہے۔