Baaghi TV

Blog

  • جہلم میں انجنئیر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ، جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک، پولیس اہلکار زخمی

    جہلم میں انجنئیر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ، جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک، پولیس اہلکار زخمی

    صوبہ پنجاب کے شہر جہلم کے تھانہ سٹی کی حدود میں انجینیئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ کرنے والا ملزم جوابی کارروائی میں مارا گیا۔

    انتظامیہ کے مطابق، حملہ آور نے گیٹ پر فائرنگ کی، جس کا پولیس نے بھرپور جواب دیا، پولیس کی فائرنگ سے حملہ آور موقع پر مارا گیا، اکیڈیمی انتظامیہ کے مطابق، حملہ تقریباً 10:45 منٹ پر ہوا۔ حملہ آور کی فائرنگ سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا جسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    پولیس کے مطابق جی ٹی ایس چوک میں واقع قرآن ریسرچ اکیڈمی کے باہر فائرنگ کی گئی، پولیس کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک ہوگیا جب کہ پولیس ملازم زخمی ہوا واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ چکی ہے، مسلح حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے فائرنگ شروع کر دی جہلم پولیس نے کہا کہ نامعلوم حملہ آور کو ہلاک کردیا گیا، ملزم کی تاحال شناخت نہیں ہوئی ہے۔

  • ہر روز نہیں دیکھ سکتے کہ کوئی صدر ٹوئٹ میں  دنیا کو دھمکا رہا ہو،برازیلین صدر کی ٹرمپ پر تنقید

    ہر روز نہیں دیکھ سکتے کہ کوئی صدر ٹوئٹ میں دنیا کو دھمکا رہا ہو،برازیلین صدر کی ٹرمپ پر تنقید

    برازیل کے صدر کا کہنا ہے کہ ہر روز نہیں دیکھ سکتے کہ کوئی صدر ٹوئٹ میں جنگوں کا اعلان کر رہا ہو-

    بارسلونا میں منعقدہ ایک ترقی پسند رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےبرازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے رویے میں تبدیلی لائیں، کیونکہ ان کی ناکامی کے باعث ایران میں جنگ کو روکنے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔

    برازیلی صدر نے ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ ہم ہر صبح یہ نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی ہر رات اس کے ساتھ سو سکتے ہیں کہ کسی صدر کا ایک ٹوئٹ دنیا کو دھمکا رہا ہو اور جنگوں کا اعلان کر رہا ہو،کوئی بھی رہنما دنیا کو جنگ کی دھمکی دینے کا حق نہیں رکھتا۔

    اس سے قبل ایک ہسپانوی اخبار ‘ایل پائس’ کو دیے گئے انٹرویو میں بھی لولا دا سلوا نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی تھی انہوں نے کہا تھا کہ عالمی رہنماؤں کو خوف کے ذریعے حکمرانی کے بجائے باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے ٹرمپ کو کسی ملک کو صبح اٹھ کر دھمکیاں دینے کا حق حاصل نہیں ، انہیں اس لیے منتخب نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکی آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔

  • ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے،امریکی صدر

    ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے،امریکی صدر

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے-

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا اشارہ دیا ہےصدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں گے، جہاں ایک حتمی معاہدے کو شکل دی جا سکتی ہے، یہ ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کر ے گا بلکہ اسرائیل کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    امریکی صدر نے لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی کے حصے کے طور پر فوری بند ہوں، انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنا ہوں گی،اسرائیل عمارتوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا اور امریکا اس کی اجازت نہیں دے گا، ان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

  • امریکا اتنا طاقتور نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا تھا ،بیلاروسی صدر کی امریکی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار پر سخت تنقید

    امریکا اتنا طاقتور نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا تھا ،بیلاروسی صدر کی امریکی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار پر سخت تنقید

    بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین جیسی بڑی طاقت سے الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔

    روسی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے امریکا کی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکا اتنا طاقتور نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا تھا اگر امریکا ایران کے خلاف کامیاب نہیں ہو سکا تو وہ چین جیسے مضبوط ملک کا سامنا بھی نہیں کر پائے گا، امریکا کے اصل مفادات تیل اور گیس کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہیں، اور وہ ان وسائل کے حصول کے لیے مختلف خطوں میں مداخلت کرتا رہا ہے۔

    اپنے خلاف عائد ’آمر‘ ہونے کے امریکی الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے لوکاشینکو نے کہا کہ اصل آمریت تو کیوبا، وینزویلا اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں میں نظر آتی ہے امریکا خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے، مگر وہاں نہ حقیقی جمہوریت موجود ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے دعووں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسرائیل کے کہنے پر امریکا نے ایک خودمختار ملک میں اسکول پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

  • پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات، امریکا کا بھارت پر اعتماد کم ہوتا جارہا ہے، عالمی جریدہ

    پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات، امریکا کا بھارت پر اعتماد کم ہوتا جارہا ہے، عالمی جریدہ

    بین الاقوامی جریدے ایشیا ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے بعد امریکا کے لیے بھارت پر اعتماد کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

    ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران اہم سفارتی کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کلیدی حیثیت اختیار کی، اس کے برعکس انڈیا کی سفارت کاری کو اس معاملے میں غیر فعال اور خاموش قرار دیا گیا، بھارتی وزیراعظم مودی نے امریکی صدر ٹرمپ سے زیادہ تر بات چیت تیل اور سپلائی کے نظام تک محدود رکھی، جبکہ پاکستان خطے میں امن کے قیام اور جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف رہا۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد پاکستان مسلسل سفارتی رابطوں میں سرگرم رہا، پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام سے رابطے رکھ کر مذاکرات کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا،عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ان کوششوں کو سراہا گیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیا ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کئی بار وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو سراہا۔

    دوسری جانب بھارت میں اپوزیشن رہنماؤں اور میڈیا کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا سامنا ہے جہاں ان کی خارجہ پالیسی کو موجودہ صورتحال میں غیر مؤثر قرار دیا جا رہا ہے۔

  • روائی سال ابتدائی چار مہینوں میں چار بڑے فضائی حادثات،بھارتی فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں پر سنگین سوالات اٹھ گئے

    روائی سال ابتدائی چار مہینوں میں چار بڑے فضائی حادثات،بھارتی فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں پر سنگین سوالات اٹھ گئے

    اپریل 2026 تک کے دستیاب اعداد و شمار اور رپورٹس کے مطابق، ہندوستانی فضائیہ (IAF) کو 2026 کے ابتدائی چار مہینوں میں چار بڑے فضائی حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    جنوری 2026 سے اپریل 2026 کے وسط تک، مائیکرولائٹ ٹرینر، تیجس فائٹر، اور ایس یو-30 ایم کے آئی (Su-30MKI) سمیت چار طیارے حادثات یا ہنگامی صورتحال کا شکار ہوئے بھارتی فضائیہ کے فائٹر سکواڈرن کی تعداد 42 کی مجاز (Authorized) تعداد کے مقابلے میں کم ہو کر 29 (یا بعض رپورٹوں کے مطابق 27) تک گر گئی ہے، جو کئی دہائیوں میں سب سے نچلی سطح ہے۔

    پرانے طیاروں (جیسے MiG-21) کی ریٹائرمنٹ اور نئے طیاروں کی خریداری میں تاخیر کے باعث، فضائیہ کو سکواڈرن کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس سے اس کی دفاعی صلاحیت (خاص طور پر چین اور پاکستان کے دو محاذوں کے تناظر میں) کمزور ہو رہی ہے۔

    جنوری میں تربیتی پرواز کے دوران مائیکرولائٹ طیارہ کریش ہوا،فروری میں ایچ اے ایل تیجس (HAL Tejas) طیارے کو لینڈنگ کے دوران حادثہ پیش آیا، جس کے بعد پورے تیجس بیڑے کو گراؤنڈ کر دیا گیا، مارچ میں آسام میں ایک ایس یو-30 ایم کے آئی (Su-30MKI) حادثے کا شکار ہوا،اپریل میں پونے ایئرپورٹ پر ایس یو-30 ایم کے آئی کا ایک اور واقعہ، جس نے رن وے بلاک کر دیا۔

    یہ حادثات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب فضائیہ پہلے ہی آپریشنل دباؤ اور بحالی (maintenance) کے چیلنجز سے دوچار ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ہندوستان کی فضائیہ کی لڑاکا صلاحیتوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

  • اسلام آباد سے روٹ ٹو مکہ کی پہلی حج پرواز مدینہ منورہ روانہ

    اسلام آباد سے روٹ ٹو مکہ کی پہلی حج پرواز مدینہ منورہ روانہ

    اسلام آباد سے روٹ ٹو مکہ کی پہلی حج پرواز 270 عازمین کو لے کر مدینہ منورہ روانہ ہوگئی،اسلام آباد سے روانہ ہونے والے پاکستانی عازمین حج نے حکومت پاکستان کی کاوشوں پر شکریہ ادا کیا۔

    سعودی ایئرلائن کی پرواز ایس وی 5723 دن 11 بجے روانہ ہوئی وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، سعودی ڈپٹی ہیڈ مشن محمد ال علی اور جوائنٹ سیکرٹر ی حج محمد بخش سانگی نے عازمین حج کو رخصت کیا سردار محمد یوسف نے بہترین سہولیات کی فراہمی و تعاون پر خادم حرمین شریفین، ولی عہد محمد بن سلمان، سعودی وزیر حج عمرہ ڈاکٹر توفیق بن ربیعہ اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا –

    وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج 2026 کی پہلی حج پرواز ہے، عازمین کو سرزمین حجاز روانہ کر دیا گیا، ہر حاجی کے لیے یہ لمحہ زندگی کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک ہےانہوں نے سعودی وژن 2030 اور وزیر حج ڈاکٹر توفیق الربیعہ کی کاوشوں کا اعتراف کیا۔

    سردار یوسف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مثالی تعاون سے حج انتظامات مکمل کیے گئے، حکومت پاکستان کی اولین ترجیح عازمین کو سہولت اور باوقار سفر کی فراہمی ہےانہوں نے روڈ ٹو مکہ منصوبے کو عازمین کے لیے انقلابی سہولت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر سعودی امیگریشن اور سفری مراحل مکمل کیے جا رہے ہیں، اس سہولت سے عازمین براہ راست اپنی رہائش گاہوں تک پہنچ سکیں گے۔

    سردار یوسف نے بتایا کہ اسلام آباد سے 36 ہزار اور کراچی سے 29ہزار 800 عازمین مستفید ہوں گے جبکہ پہلی بار لاہور سے بھی 30 ہزار عازمین روڈ ٹو مکہ سہولت حاصل کریں گے، مجموعی طور پر 95ہزار 800 پاکستانی عازمین اس جدید سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے، کل عازمین کا 80 فیصد روڈ ٹو مکہ منصوبے سے مستفید ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حج انتظامات مزید بہتر بنائے گئے، ہر 188 عازمین کے ساتھ تربیت یافتہ ناظم مقرر کیا گیا منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں عازمین کی مکمل رہنمائی یقینی بنائی جائے گی جبکہ ہر حاجی کو سعودی عرب پہنچتے ہی مفت سعودی سم فراہم کی جائے گی۔ لانگ حج کے لیے 40 جی بی انٹرنیٹ سہولت دی جائے گی۔

    وفاقی وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ 24 ہزار حجاج کو ہائی اسپیڈ ٹرین کے ذریعے سفر کی سہولت فراہم کی جائے گی، مکہ اور مدینہ کے درمیان جدید ٹرین سروس کا آغاز کیا گیا ہے اس سال 1 لاکھ 19 ہزار سرکاری حجاج کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے، تمام سرکاری حجاج کو مدینہ میں مرکزیہ کے قریب رہائش دی جا ئے گی، حج صرف عبادت نہیں بلکہ روحانی تربیت کا ذریعہ ہے۔

    سردار یوسف نے حجاج کرام کو صبر اور نظم و ضبط کے ساتھ حج مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سعودی قوانین کی پابندی ہر حاجی پر لازم قرار دے، انہو ں نےخدام الحجاج کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید بھی کی حجاج پاکستان کے سفیر ہیں، مثبت کردار ادا کریں انہوں نے سعودی قیادت کا حجاج کی خد مت پر خصوصی شکریہ ادا جبکہ شاہ سلمان کی سرپرستی میں حجاج کی خدمت کو سراہا گیا۔

  • 66 سال قبل لاپتہ ہونے والے خاندان کا معمہ حل

    66 سال قبل لاپتہ ہونے والے خاندان کا معمہ حل

    امریکا میں 66 سال قبل پر اسرار طور پر لاپتہ ہونے والے ایک خاندان کا معمہ آخر کار چھ دہائیوں کے بعد حل ہو گیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ امریکی ریاست اوریگون کے دریائے کولمبیا کے قریب پیش آیا، جہاں دسمبر 1958 میں کینتھ مارٹن، ان کی اہلیہ باربرا اور تین بیٹیاں کرسمس کی سجاوٹ کے لیے ہریالی جمع کرنے نکلے اور پھر کبھی واپس نہ آئے اس واقعے نے پورے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا کئی دہائیوں تک اسے ریاست کے سب سے بڑے حل طلب کیسز میں سے ایک سمجھا جاتا رہا۔

    گمشدگی کے چند ماہ بعد ہی طویل تلاش کے بعد دو بیٹیوں، ورجینیا اور سوزن کی لاشیں دریا سے مل گئی تھیں، لیکن والدین اور بڑی بیٹی کا کچھ پتا نہ چل سکا، جس کی وجہ سے یہ کیس کئی دہائیوں تک ایک راز بنا رہااس کیس میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب 2024 میں ایک غوطہ خور آرچر میو نے دریائے کولمبیا کی تہہ میں ایک پرانی گاڑی دریافت کی یہ 1954 کا ’فورڈ اسٹیشن ویگن‘ ماڈل تھا جو ریت اور مٹی میں دھنسا ہوا تھا تحقیقات کے بعد تصدیق ہوئی کہ یہ گاڑ ی مارٹن خاندان ہی کی تھی۔

    غوطہ خور آرچر میو کے مطابق میر ے خیال میں گاڑی موڑتے وقت کسی رکاوٹ میں پھنس گئی ہوگی اور ریورس کرتے وقت اچانک بے قابو ہو کر دریا میں جا گری،بعد ازاں 2025 میں گاڑی کے ملبے کے قریب سے مزید انسانی باقیات برآمد ہوئیں جنہیں فرانزک لیب بھیجا گیا، جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی کی مدد سے اب یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ باقیات کینتھ، باربرا اور ان کی بڑی بیٹی باربی کی ہیں، یوں خاندان کے تمام افراد کا سراغ مل گیا۔

    جینیٹکس لیب کی چیف ڈویلپمنٹ آفیسر کرسٹن مٹل مین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے نہ صرف خاندان بلکہ پوری کمیونٹی کو وہ سکون اور جواب مل گیا ہے جس کا وہ دہائیوں سے انتظار کر رہے تھےہڈ ریور کاؤنٹی شیرف آفس نے تمام شواہد کی بنیاد پر اس کیس کو باقاعدہ بند کر دیا ہے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ ایک افسوسناک حادثہ تھا، جس میں گاڑی بے قابو ہو کر دریا میں گر گئی تھی۔

  • ایرانی حملے کی زد میں آنے والے بھارتی بحری جہاز کے کپتان کی آڈیو وائرل

    ایرانی حملے کی زد میں آنے والے بھارتی بحری جہاز کے کپتان کی آڈیو وائرل

    خلیج عمان کے شمال میں ایرانی بحریہ کی جانب سے دو بھارتی بحری جہازوں پر براہِ راست فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی ہے-

    آڈیو میں جہاز کے کپتان کو پاسدارانِ انقلاب کی نیوی سے حملہ روکنے اور جہاز واپس موڑنے کی اجازت کے لیے منتیں کرتے سُنا جاسکتا ہے، مبینہ آڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بھارتی خام تیل بردار جہاز ’سنمار ہیرالڈ‘ سے موصول ہوئی ہے اس آڈیو میں جہاز پر موجود ایک اہلکار کو ایرانی بحریہ سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ آپ نے ہمیں خود گزرنے کی اجازت دی تھی، میرا نام آپ کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، لیکن اب آپ ہم پر فائرنگ کر رہے ہیں، ہمیں واپس مڑنے دیں۔

    بھارتی جہاز سنمار ہیرالڈ عراق سے تقریباً بیس لاکھ بیرل خام تیل لے کر بھارت جا رہا تھا، جبکہ دوسرا جہاز ’جگ آرنَو‘ سعودی عرب سے بھارت کی جانب گامزن تھا،بھارتی بحری جہازوں پر حملوں کی خبر کے بعدبھارت کی وزارتِ خارجہ نے ایرانی سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی کو طلب کیا اور اس واقعے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    بھارتی دفترِ خارجہ نے ایرانی سفیر پر زور دیا کہ وہ بھارت کے تحفظات سے تہران کے حکام کو فوری آگاہ کریں اور بھارت جانے والے جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے عمل کو دوبارہ سہل بنائیں۔

    آبنائے ہرمز اس وقت عالمی سیاست اور جنگی صورتحال کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں سے دنیا کی کل ضرورت کا بیس فیصد خام تیل گزرتا ہےیہ بحران 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن اب بھی بہت سے بنیادی نکات پر بڑے اختلافات موجود ہیں اور ہم حتمی معاہدے سے ابھی کافی دور ہیں۔

  • جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی،ایران کی وارننگ

    جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی،ایران کی وارننگ

    ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی گئی تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

    ایرانی فوج کے بریگیڈئیر جنرل محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتا،ا یران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے، اگر ایران پر مسلط جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار رد عمل زیادہ شدید ہوگا اور حالیہ مہینے میں تیار کیے گئے جدید میزائلوں کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔

    امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 40 روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، جنہیں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔