Baaghi TV

Blog

  • 
ٹرمپ کے ایلچی وٹکوف اور کشنر مذاکرات کیلئے اسلام آباد روانہ

    
ٹرمپ کے ایلچی وٹکوف اور کشنر مذاکرات کیلئے اسلام آباد روانہ

    ‎واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں، جس سے خطے میں اہم سفارتی سرگرمیوں کا عندیہ مل رہا ہے۔
    ‎امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ان کے نمائندے پاکستان پہنچ کر ممکنہ مذاکرات میں حصہ لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات خطے کی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہم ہیں اور ان کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔
    ‎صدر ٹرمپ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ وہ خود بھی کسی مرحلے پر پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر معاہدے پر دستخط کی نوبت آتی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنی ممکنہ آمد کو حالات سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ وہ بعد میں کسی تاریخ پر اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ابھی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق آئندہ اقدامات طے کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مذاکرات کس سمت میں جاتے ہیں اور کیا پیش رفت سامنے آتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی ایلچیوں کی اسلام آباد آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان ممکنہ طور پر ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں پاکستان کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • 
جے ڈی وینس پاکستان نہیں آئیں گے، ٹرمپ نے وجہ بتا دی

    
جے ڈی وینس پاکستان نہیں آئیں گے، ٹرمپ نے وجہ بتا دی

    ‎واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے، اور اس فیصلے کی وجہ سیکیورٹی خدشات کو قرار دیا ہے۔
    ‎امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اعلیٰ حکام کی مشاورت کے باوجود یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نائب صدر اس دورے میں شریک نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
    ‎دوسری جانب اطلاعات کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے امریکی ایڈوانس ٹیم پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکی ہے، تاہم اس وفد کی قیادت کون کرے گا، اس بارے میں تاحال باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
    ‎خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی وفد کل شام تک اسلام آباد میں موجود ہوگا، جہاں اہم سفارتی ملاقاتوں کا امکان ہے۔ ان مذاکرات کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں ایران کے حوالے سے سخت مؤقف بھی دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے امریکا کی پیش کردہ ڈیل قبول نہ کی تو سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق امریکا ایک “منصفانہ اور معقول” معاہدہ چاہتا ہے، لیکن انکار کی صورت میں نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے ایک طرف مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری جانب سخت بیانات کے ذریعے دباؤ بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کو عالمی سطح پر خاص اہمیت دی جا رہی ہے، جہاں پاکستان ایک ممکنہ ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

  • ایران کا یورپی یونین پر دوہرے معیار کا الزام

    ایران کا یورپی یونین پر دوہرے معیار کا الزام

    ‎تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یورپی کمیشن کے نائب صدر کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے یورپی یونین پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
    ‎سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز میں غیر مشروط آمدورفت سے متعلق یورپی مطالبات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں منافقت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مطالبات اس وقت بے معنی ہو جاتے ہیں جب ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی حمایت کی جا رہی ہو۔
    ‎انہوں نے کہا کہ جو ممالک اور ادارے امریکا اور اسرائیل کی مبینہ جارحیت کی حمایت کرتے رہے ہیں، وہی اب ایران کو عالمی قوانین اور اصولوں پر لیکچر دے رہے ہیں، جو ایک واضح تضاد ہے۔
    ‎ایرانی ترجمان نے یورپی یونین پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کی کارروائیوں پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب ایران پر تنقید کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرز عمل عالمی سطح پر انصاف اور توازن کے دعووں کے برعکس ہے۔
    ‎اسماعیل بقائی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ یورپی ممالک ایرانی عوام کے ساتھ ہونے والے سلوک کو مختلف انداز میں کیوں دیکھتے ہیں اور اس حوالے سے یکساں معیار کیوں اختیار نہیں کیا جاتا۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ یورپی یونین کی جانب سے عالمی قوانین کا حوالہ دینا اس وقت کمزور پڑ جاتا ہے جب اس کے اپنے رویے میں تضاد موجود ہو۔ ان کے مطابق ایک طرف بعض اقدامات پر خاموشی اور دوسری طرف ایران پر تنقید، عالمی سیاست میں دوہرے معیار کی واضح مثال ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ خطے میں جاری کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سفارتی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • 
لاہور میں گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد، پولیس اہلکار معطل

    
لاہور میں گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد، پولیس اہلکار معطل

    تھانہ ڈیفنس اے میں گھریلو ملازمہ اور اس کے بھائی پر مبینہ پولیس تشدد کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اعلیٰ حکام نے فوری کارروائی کی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق 18 سالہ گھریلو ملازمہ پر ایک گھر سے انگوٹھی چوری کرنے کا الزام لگایا گیا، جس پر پولیس نے بغیر ٹھوس شواہد کے اسے اور اس کے بھائی کو حراست میں لے لیا۔ متاثرین کے مطابق دورانِ حراست انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کی ویڈیوز سامنے آنے پر معاملہ سنگین ہو گیا۔
    ‎ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سخت ایکشن لیا اور ایس ایچ او ڈیفنس اے سمیت تھانے کے تمام عملے کو معطل کر کے کلوز لائن کر دیا۔ اس کے ساتھ متعلقہ ایس ڈی پی او کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق تشدد میں ملوث دو اہلکاروں، کانسٹیبل حفصہ اور کانسٹیبل ساجد کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے کی انکوائری ایس پی کینٹ کے سپرد کی گئی ہے اور 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔
    ‎ڈی آئی جی آپریشنز نے واضح کیا کہ پولیس حراست میں کسی بھی قسم کا تشدد یا اختیارات کا ناجائز استعمال ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے ساتھ قانون اور احترام کے مطابق سلوک یقینی بنایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
    ‎دوسری جانب متاثرہ خاندان نے اعلیٰ حکام سے انصاف کی فراہمی اور ذمہ دار اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • 
ایران میں مبینہ جاسوسی، دو غیر ملکیوں سمیت چار افراد گرفتار

    
ایران میں مبینہ جاسوسی، دو غیر ملکیوں سمیت چار افراد گرفتار

    ‎تہران: ایران میں سیکیورٹی اداروں نے مبینہ جاسوسی کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں دو غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ گرفتاریاں ایران کے شمال مغربی علاقے میں عمل میں آئیں، جہاں حکام نے ایک مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد پر الزام ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل سے منسلک ایک جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ تھے اور حساس معلومات حاصل کرنے میں ملوث تھے۔
    ‎ایرانی حکام کی جانب سے جاری ابتدائی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے دونوں غیر ملکی افراد کی شناخت فی الحال ظاہر نہیں کی گئی، جبکہ دیگر دو مقامی افراد بھی زیر حراست ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔
    ‎ایران میں ماضی میں بھی ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جہاں غیر ملکی شہریوں یا مقامی افراد کو جاسوسی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ ایران اکثر مغربی ممالک اور اسرائیل پر اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت اور جاسوسی کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار رہتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق حالیہ گرفتاریوں کا تعلق خطے میں جاری کشیدگی اور بڑھتی ہوئی انٹیلی جنس سرگرمیوں سے ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے باعث اس طرح کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر ایسے واقعات کو سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس کے سفارتی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر گرفتار غیر ملکی شہریوں کا تعلق کسی خاص ملک سے ثابت ہوتا ہے تو اس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
    ‎ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

  • 
ٹرینیڈاڈ میں قبرستان سے درجنوں لاشیں برآمد، زیادہ تر بچے

    
ٹرینیڈاڈ میں قبرستان سے درجنوں لاشیں برآمد، زیادہ تر بچے

    ‎پورٹ آف اسپین: کیریبین ملک ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک قبرستان سے 56 لاشیں برآمد کی ہیں، جن میں اکثریت بچوں کی بتائی جا رہی ہے۔
    ‎مقامی پولیس کے مطابق برآمد ہونے والی لاشوں میں 50 بچے جبکہ 6 بالغ افراد شامل ہیں، جن میں 4 مرد اور 2 خواتین ہیں۔ یہ لاشیں دارالحکومت پورٹ آف اسپین سے تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع علاقے کوموٹو کے ایک قبرستان سے ملی ہیں۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر لاشوں کو غیر قانونی طریقے سے ٹھکانے لگانے کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ بعض لاشوں، خاص طور پر بالغ افراد، پر ایسے نشانات بھی پائے گئے ہیں جو پوسٹمارٹم کے بعد چھوڑے جاتے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ شناختی ٹیگز بھی موجود تھے جو عموماً مردہ گھروں میں استعمال ہوتے ہیں۔
    ‎واقعے کے بعد قبرستان کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے تاکہ شواہد کو محفوظ رکھا جا سکے۔ پولیس نے کہا ہے کہ تمام لاشوں کا مکمل فرانزک معائنہ کیا جائے گا تاکہ ان کی شناخت، موت کی وجوہات اور اس واقعے کے پس منظر کو واضح کیا جا سکے۔
    ‎پولیس کمشنر ایلسٹر گیوارو نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک اور چونکا دینے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے جذباتی اثرات نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے ملک پر پڑیں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائیں گی اور کسی بھی ذمہ دار فرد یا ادارے کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
    ‎یاد رہے کہ ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کو حالیہ برسوں میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کا سامنا رہا ہے، اور حکومت نے اس سے قبل بھی امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے تھے۔

  • ٹرمپ ایران پر فتح کو عالمی نظام کی تبدیلی کا موقع سمجھتے رہے:وال اسٹریٹ جرنل

    ٹرمپ ایران پر فتح کو عالمی نظام کی تبدیلی کا موقع سمجھتے رہے:وال اسٹریٹ جرنل

    ‎واشنگٹن: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ کامیابی کو عالمی نظام کی تشکیل نو کے ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھتے تھے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا خیال تھا کہ اگر امریکا ایران پر برتری حاصل کر لیتا ہے تو اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن کو بھی ازسر نو ترتیب دینے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے ایسی کسی بڑی فوجی کارروائی کی مخالفت کی جس میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا خطرہ ہو، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ محدود دباؤ اور حکمت عملی کے ذریعے نتائج حاصل کرنا چاہتے تھے۔
    ‎اخبار کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تہذیب کے خاتمے سے متعلق بیان دراصل جلد بازی میں دیا گیا تھا اور یہ کسی باقاعدہ قومی سلامتی پالیسی کا حصہ نہیں تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بیان کا مقصد زیادہ تر ایران کو دباؤ میں لانا اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا، نہ کہ کسی وسیع جنگی حکمت عملی کا اعلان۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ کشیدگی کو ایک خاص حد تک لے جا کر اسے مذاکرات کی میز پر لانا چاہتی تھی۔ اس حکمت عملی کے تحت سخت بیانات اور معاشی دباؤ کے ذریعے ایران کو رعایتیں دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پالیسی ایک توازن پر مبنی تھی، جس میں ایک طرف سخت مؤقف اختیار کیا گیا جبکہ دوسری جانب مکمل جنگ سے گریز کیا گیا۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکا خطے میں اپنی برتری قائم رکھتے ہوئے براہ راست بڑے تصادم سے بچنا چاہتا تھا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سوچ نہ صرف امریکا کی خارجہ پالیسی کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے عالمی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی کئی تنازعات کا سامنا کر رہی ہو۔

  • ‎میرے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جارہے ہیں: ٹرمپ

    ‎میرے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جارہے ہیں: ٹرمپ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ’میرے نمائندے اسلام آباد جارہے ہیں، وہ کل شام مذاکرات کے لیے وہاں ہوں موجود ہوں گے‘۔
    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہاکہ ایران نے کل آبنائے ہرمز میں گولیاں چلانے کا فیصلہ کیاجوسیز  فائر کی خلاف ورزی ہے۔
    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمزبند کرنےکا اعلان کیا جو عجیب بات ہے کیونکہ ہماری ناکہ بندی کی وجہ سے ہرمز پہلے ہی بند ہے۔
    ‎اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایران کو ایک اچھے معاہدے کی پیشکش کررہے ہیں، میں امید کرتا ہوں کہ ایران یہ معاہدہ کرلے گا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا ایران میں ہر پاور پلانٹ اور ہر پُل کو تباہ کردے گا‘۔
    ‎امریکی صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز بند کرکے ایران ہماری مدد کررہاہے لیکن اسے اس کا علم نہیں، آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے ایران کا روزانہ 500 ملین ڈالرکانقصان ہورہا ہے جبکہ امریکا کا کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔
    ‎ٹرمپ نے کہا کہ اب مزید نرمی نہیں دکھائی جائےگی، اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو جوکچھ کرنا پڑا وہ کرنا میرے لیے اعزاز ہوگا، وہ کام پچھلے47 سالوں میں دوسرے صدور کو ایران کے ساتھ کرنا چاہیےتھا، اب وقت آ گیا ہے کہ ایران کی کلنگ مشین کو ختم کیا جائے۔

  • 
ٹرمپ کا ایران پر سیزفائر کی خلاف ورزی کا الزام، امن معاہدے کی امید برقرار

    
ٹرمپ کا ایران پر سیزفائر کی خلاف ورزی کا الزام، امن معاہدے کی امید برقرار

    ‎واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی (سیزفائر) کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے باوجود وہ اب بھی ایک امن معاہدے کے حصول کے لیے پُرامید ہیں۔
    میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران نے سیزفائر کی “سنگین خلاف ورزی” کی ہے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ حالات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کسی نہ کسی صورت میں معاہدہ ہو کر رہے گا۔
    انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ “یہ ہو کر رہے گا، چاہے آسان طریقے سے ہو یا مشکل طریقے سے”، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سفارتی راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
    ‎حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال اور سیزفائر کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے بعد۔ رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، لیکن اب بھی کئی اہم نکات پر اختلافات موجود ہیں جس کی وجہ سے حتمی معاہدہ تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔
    ‎دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی امریکا پر سیزفائر کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ مذاکرات میں بہتر پوزیشن حاصل کی جا سکے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا ایک طرف سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب سفارتی حل کی گنجائش بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اگرچہ جنگ کے خطرات ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، لیکن پس پردہ رابطے اور مذاکرات کسی ممکنہ معاہدے کی طرف اشارہ دیتے ہیں۔
    ‎عالمی سطح پر اس صورتحال کو تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس تنازع کا اثر نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی منڈی پر بھی پڑ سکتا ہے۔

  • یمنی حوثیوں کی ریڈ سی میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    یمنی حوثیوں کی ریڈ سی میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    حوثی حکومت کے وزیر دفاع میجر جنرل محمد العاطفی کے مطابق یمنی عوام کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    حوثی حکومت کے وزیر دفاع نے کہا کہ حالیہ تنازع میں امریکی اور صہیونی دشمن کے خلاف کارروائیوں نے مختلف محاذوں کے اتحاد کو ظاہر کیا ہے اور مزا حمتی قوتوں کی عسکری حکمت عملی کو مؤثر ثابت کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمتی محور کی کارروائیاں دشمن کے خلاف کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔

    حوثی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک حملے جاری رکھیں گے جب تک جنگ مکمل طور پر بند نہیں ہو جاتی۔ ان کے مطابق وہ اپنے اسلحہ ذخائر کو استعمال کرتے ہوئے حساس فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہیں گے حوثیوں نے ریڈ سی میں بحری آمد و رفت کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے مارچ کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ میں باقاعدہ طور پر شمولیت اختیار کی، جس کے بعد انہوں نے اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے۔