Baaghi TV

Blog

  • امریکا میں مسافر طیارہ ڈرون سے ٹکرا گیا

    امریکا میں مسافر طیارہ ڈرون سے ٹکرا گیا

    امریکا میں مسافر طیارہ ڈرون سے ٹکرا گیا-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا کے وفاقی ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے کہا ہے کہ نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اترنے والے جیٹ بلیو کے ایک مسافر طیارے سے مبینہ طور پر ڈرون ٹکرانے کی اطلاع کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں یہ واقعہ پیر کے روز اس وقت پیش آیا جب لاس ویگاس سے آنے والا ایئربس اے 321 طیارہ لینڈنگ کی تیاری کر رہا تھا پائلٹ نے تقریباً 3 ہزار فٹ کی بلندی پر اطلاع دی کہ طیارہ ممکنہ طور پر ایک ڈرون سے ٹکرایا ہے۔

    جیٹ بلیو ایئرلائن نے اپنے بیان میں کہا کہ پرواز محفوظ طریقے سے لینڈ کر گئی، تمام مسافر معمول کے مطابق طیارے سے اتر گئے، اور بعد ازاں جہاز کو تفصیلی معائنے کے لیے سرو س سے ہٹا دیا گیا،معائنے کے دوران نہ تو کسی نقصان کے آثار ملے اور نہ ہی کسی ٹکراؤ کا ثبوت سامنے آیا۔

    اس واقعے پر جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ائیرپورٹ چلانے والے پورٹ اتھارٹی آف نیویارک اینڈ نیو جرسی کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل بھی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی ایک پرواز کو نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اترتے وقت ایک ڈرون کا سامنا کرنا پڑا تھا میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جمعے کے روز پیش آیا تھا پورٹ اتھارٹی نے مئی کے آخر میں ایک ای میل میں کہا تھا کہ ہم اپنی تمام تنصیبات پر بڑھنے والی آمدورفت کی تیاری کر رہے ہیں، کیونکہ نیویارک اور نیو جرسی کا علاقہ 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کے کئی میچوں، بشمول 19 جولائی کو ہونے والے فائنل، کی میزبانی کرے گا۔

    دوسری جانب امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ اس نے اپنے وفاقی شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر رواں ماہ شروع ہونے والے فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد سے امریکا کے تمام 11 میزبان شہروں میں ممنوعہ فضائی حدود سے 500 سے زائد ڈرون قبضے میں لیے ہیں ڈرونز کو ائیرپورٹس کے قر یب نہیں اڑانا چاہیے،کیونکہ پرواز کے دوران پائلٹس کے لیے ڈرون کو دیکھنا اور اس سے بچنا بہت مشکل ہو سکتا ہے،ہر ماہ ائیرپورٹس کے قریب ڈرون دیکھے جانے کی 100 سے زیادہ اطلاعات موصول ہوتی ہیں۔ ایف اے اے نے خبردار کیا ہے کہ بغیر اجازت ڈرون اڑانے والوں کو بھاری جرمانے یا قید کی سزا کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • 
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی

    
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی

    ‎مسقط: آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان کے قریب واقع اہم بحری گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حالیہ حملوں اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے باعث عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے اس بحری راستے پر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
    ‎خبر ایجنسی کے مطابق میرین انٹیلی جنس کمپنی کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز صرف 16 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ہفتے کے روز اس راستے سے 35 جہاز گزرے تھے۔ اس سے قبل جمعہ کو 44 تجارتی جہازوں کی آمدورفت ریکارڈ کی گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چند ہی دنوں میں بحری ٹریفک میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق جہازوں پر حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے اپنی نقل و حرکت محدود کر دی ہے، جبکہ بعض کمپنیاں متبادل بحری راستوں کے استعمال پر بھی غور کر رہی ہیں تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
    ‎دوسری جانب قطر نے بھی احتیاطی اقدام کے طور پر بحری سفر اور سمندری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں، جس سے خطے میں تجارتی نقل و حمل مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    ‎آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی منڈیوں کو تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار فراہم کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحری آمدورفت میں کمی کا سلسلہ برقرار رہا تو اس کے اثرات نہ صرف عالمی توانائی کی منڈیوں بلکہ بین الاقوامی تجارت اور سپلائی چین پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
خیبرپختونخوا میں گرمی کی شدت بڑھنے کا امکان، گلیشیئر پھٹنے کے خطرے پر الرٹ جاری

    
خیبرپختونخوا میں گرمی کی شدت بڑھنے کا امکان، گلیشیئر پھٹنے کے خطرے پر الرٹ جاری

    ‎خیبرپختونخوا کے میدانی اضلاع میں رواں ہفتے گرمی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں گلیشیئر پھٹنے کے خطرات کے پیش نظر پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔
    ‎پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بالائی اضلاع میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (Glacial Lake Outburst Flood) کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس سے مقامی آبادی، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
    ‎ترجمان نے ہدایت کی ہے کہ تمام حساس اضلاع کی ضلعی انتظامیہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر الرٹ رہے، جبکہ ریسکیو اور متعلقہ ادارے کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل رکھیں۔
    ‎پی ڈی ایم اے نے سیاحوں اور مسافروں کو بھی احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بالائی علاقوں کا سفر شروع کرنے سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال سے آگاہی حاصل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
    ‎حکام نے نشیبی علاقوں اور دریا، ندی نالوں کے قریب رہنے والے شہریوں کو بھی محتاط رہنے کی تلقین کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر فوری ردعمل کے لیے تیار رہنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

  • 
اسپین امیگریشن کے لیے جعلی پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس بنانے کا انکشاف

    
اسپین امیگریشن کے لیے جعلی پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس بنانے کا انکشاف

    ‎وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اسپین امیگریشن کے لیے مبینہ طور پر جعلی پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس (PCC) تیار کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک منظم گروہ اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہے اور اسپین میں مقیم پاکستانی شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کر کے جعلی دستاویزات فراہم کر رہا ہے۔
    ‎دعوے کے مطابق یہ مبینہ جعلی پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس نیشنل پولیس بیورو (NPB) کے نام پر تیار کیے جاتے ہیں۔ مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان دستاویزات پر بعد ازاں وزارت خارجہ سے اپوسٹیل (Apostille) بھی کروایا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں اسپین میں امیگریشن کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق لالہ موسیٰ کے رہائشی محمد سجاد نے اسپین امیگریشن کے لیے جاری کیے گئے ایک پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے لیے نیشنل پولیس بیورو کے ایک سینئر افسر سے رابطہ کیا۔ مبینہ طور پر افسر نے بتایا کہ متعلقہ سرٹیفکیٹ جعلی ہے کیونکہ نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے اب تک جاری ہونے والے اصل سرٹیفکیٹس کا آخری سیریل نمبر 161855 ہے، جبکہ پیش کیے گئے سرٹیفکیٹ کا سیریل نمبر 162938 درج تھا۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مبینہ جعلسازی سے متعلق اعلیٰ حکومتی حکام کو تاحال آگاہی نہیں، جبکہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو اس سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور امیگریشن نظام پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

  • 
کراچی میں ٹماٹر 300 روپے کلو، قلت کے باعث قیمتوں میں اضافہ

    
کراچی میں ٹماٹر 300 روپے کلو، قلت کے باعث قیمتوں میں اضافہ

    ‎کراچی: شہر میں ٹماٹر کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایک کلو ٹماٹر 300 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ مارکیٹ میں رسد کم ہونے کے باعث شہری مہنگے داموں ٹماٹر خریدنے پر مجبور ہیں۔
    ‎سابق نائب صدر کراچی چیمبر یونس سومرو کے مطابق سندھ میں ٹماٹر کی نئی فصل کی پنیری تیار ہو چکی ہے اور جولائی کے دوران اس کی کاشت کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مون سون بارشوں کے باعث 10 سے 20 فیصد پودوں کے متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، تاہم کاشتکار ہر سال یہ خطرہ مول لیتے ہیں تاکہ فصل کی پیداوار جاری رہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ٹماٹر کی فصل نومبر تک مختلف مراحل میں لگائی جاتی ہے جبکہ اس کی پیداوار اپریل تک جاری رہتی ہے۔ عام طور پر مئی اور جون میں قیمتیں مستحکم رہتی ہیں، لیکن جولائی کے ابتدائی دنوں میں پرانی فصل ختم ہونے اور نئی فصل مارکیٹ میں نہ آنے کے باعث عارضی قلت پیدا ہو جاتی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
    ‎یونس سومرو کے مطابق مقامی طلب پوری کرنے کے لیے ایران سے ٹماٹر درآمد کیے جانے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا موسم جدید اور کنٹرول ماحول میں سال بھر ٹماٹر کی پیداوار کے لیے موزوں ہے، تاہم اس کے لیے سرمایہ کاری اور جدید زرعی انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ کراچی چیمبر اور سندھ حکومت کے درمیان اس حوالے سے بات چیت جاری ہے تاکہ جدید زرعی منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سازگار ماحول فراہم کرے تو نجی شعبہ مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر ایسے منصوبوں پر کام کر سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ صرف سستے قرضوں کے بجائے شراکت داری پر مبنی جدید زرعی نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے، جہاں منافع اور نقصان دونوں میں شراکت ہو۔ ان کے مطابق خوراک کی قلت کے خدشات سے نمٹنے کا واحد مؤثر حل زرعی پیداوار میں اضافہ ہے۔

  • جنگ کے بعد تہران سے دبئی پہلی کمرشل پرواز پہنچ گئی

    جنگ کے بعد تہران سے دبئی پہلی کمرشل پرواز پہنچ گئی

    تہران: ایران کے دارالحکومت تہران سے روانہ ہونے والی ایک کمرشل پرواز کامیابی کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی پہنچ گئی۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطوں کی بحالی کے حوالے سے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق سیفران ایئرلائن کی پرواز نے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً دو بجے لینڈ کیا۔
    ‎یہ پرواز فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے بعد تہران سے متحدہ عرب امارات پہنچنے والی پہلی کمرشل پرواز ہے۔
    ‎فضائی رابطوں کی بحالی کو خطے میں سفری سرگرمیوں کی بحالی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مسافروں اور ایئرلائن انڈسٹری کے لیے بھی اسے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

  • 
چین نے 20 جاپانی کمپنیوں اور اداروں کو برآمدی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا

    
چین نے 20 جاپانی کمپنیوں اور اداروں کو برآمدی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا

    ‎چین نے جاپان کے ساتھ جاری تجارتی اور سفارتی کشیدگی کے دوران 20 جاپانی تنظیموں اور کمپنیوں کو اپنی برآمدی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت ایسے سامان کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے جو فوجی اور شہری دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے مزید 20 جاپانی اداروں کو واچ لسٹ میں بھی شامل کیا ہے۔ واچ لسٹ میں شامل کمپنیوں کو چین سے حساس اشیاء درآمد کرنے سے قبل اضافی جانچ پڑتال اور متعلقہ ضمانتیں فراہم کرنا ہوں گی۔
    ‎چینی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے تحفظ، برآمدی کنٹرول کے مؤثر نفاذ اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کے لیے کیے گئے ہیں۔ وزارت تجارت کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد عام تجارتی تعلقات کو متاثر کرنا نہیں بلکہ حساس ٹیکنالوجی اور اشیاء کی منتقلی کو منظم بنانا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال جاپانی وزیراعظم کے تائیوان سے متعلق بیان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ جاپانی وزیراعظم نے کہا تھا کہ اگر تائیوان پر حملہ ہوا تو ٹوکیو فوجی ردعمل پر غور کر سکتا ہے، جس پر بیجنگ نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔
    ‎خبر ایجنسی کے مطابق چین اس سے قبل بھی فروری میں درجنوں جاپانی کمپنیوں پر اسی نوعیت کی برآمدی پابندیاں عائد کر چکا ہے، جبکہ حالیہ اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی اور تزویراتی کشیدگی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔

  • 
کہوٹہ میں پولیس وین سے 14 قیدی فرار، 4 دوبارہ گرفتار

    
کہوٹہ میں پولیس وین سے 14 قیدی فرار، 4 دوبارہ گرفتار

    ‎کہوٹہ کے علاقے چکیان پوسٹ کے قریب پولیس وین سے 14 قیدی فرار ہونے کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 4 مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا، جبکہ باقی قیدیوں کی تلاش کے لیے وسیع سرچ آپریشن جاری ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق واقعے کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی تاکہ فرار ہونے والے قیدیوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔
    ‎سرچ آپریشن میں پولیس کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے، جبکہ چکیان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ مختلف مقامات پر چیکنگ کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے اور سرچ آپریشن کی خود نگرانی شروع کر دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ باقی مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
    ‎پولیس نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی مشتبہ شخص کے بارے میں معلومات ہوں تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ مفرور قیدیوں کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔

  • تباہی کے بیچ امید کی ایک کرن،تحریر:بینا علی

    تباہی کے بیچ امید کی ایک کرن،تحریر:بینا علی

    وہ تباہی کے بیچ امید کی ایک کرن اور معجزہ بن کر ٹنوں ملبے تلے سے تین دن بعد زندہ نکلی تھی۔وینزویلا میں بدھ کو آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں اب تک تقریباً ایک ہزار افراد کے جاں بحق اور 3 ہزار سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں بلند و بالا عمارتوں کے ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے کا عمل گزشتہ 3 روز سے جاری ہے۔ اسی دوران امدادی ٹیموں کو ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی۔تفصیلات کے مطابق ریسکیو اہلکار لاپتا افراد کی تلاش کے دوران ملبے کے نیچے سے بچے کے رونے کی آواز سننے میں کامیاب ہوئے۔ آواز کی نشاندہی کے بعد ٹیم نے انتہائی احتیاط کے ساتھ کنکریٹ اور دیگر ملبہ ہٹانا شروع کیا۔چند گھنٹے کے محتاط آپریشن کے بعد اہلکار ایک ننھی بچی تک پہنچ گئے اور اسے بحفاظت نکال لیا گیا۔ موقع پر موجود عملے اور مقامی افراد نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔

    بچی کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دی گئی اور بعد ازاں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق بچی کی حالت اب مستحکم ہے اور اسے خطرے سے باہر قرار دیا گیا ہے۔ بچی کے اہلخانہ نے اپنی بیٹی کی بازیابی پر اظہارِ تشکر کیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی سامنے آئی ہے، جسے بڑی تعداد میں صارفین شیئر کر رہے ہیں۔
    فی الوقت متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔

  • مولانا فاروق احمد راشدی کی وفات پر حافظ مسعود اظہر کا اظہار افسوس

    مولانا فاروق احمد راشدی کی وفات پر حافظ مسعود اظہر کا اظہار افسوس

    لاہور( )پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعدیہ سلفیہ کے ڈائریکٹر حافظ مسعود اظہر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ممتاز عالم دین، استاد الاساتذہ، شیخ الحدیث والتفسیر مولانا فاروق احمد راشدی کے انتقال کی خبر نے ملک کی دینی، علمی اور تعلیمی فضا کو سوگوار کر دیا ہے۔ ان کی رحلت سے علم و فضل کا ایک ایسا آفتاب غروب ہو گیا ہے جس کی روشنی سے کئی نسلیں مستفید ہوئیں۔ ان کی جدائی کا غم صرف ان کے خاندان اور شاگردوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک بھر کے علما، طلبہ اور دینی حلقے اس عظیم سانحے پر اشکبار ہیں۔ دل آہوں اور سسکیوں کے ساتھ شیخ الحدیث والتفسیر کو الوداع کہہ رہا ہے، فضا سوگوار ہے اور ہر آنکھ نم ہے ۔

    انھوں نے کہا کہ مولانا فاروق احمد راشدی نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، قرآن و سنت کی تعلیم اور نوجوان نسل کی تربیت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ نے مسلسل چونتیس برس تک صحیح بخاری کی تدریس کا عظیم فریضہ انجام دیا اور ہزاروں طلبہ کو علمِ حدیث کی دولت سے مالا مال کیا۔ آج ملک اور بیرونِ ملک میں ان کے ہزاروں شاگرد دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو درحقیقت ان کے لیے بہترین صدق جاریہ اور ان کی علمی عظمت کا زندہ ثبوت ہیں۔مولانا فاروق احمد راشدی نہ صرف ایک بلند پایہ محدث اور مفسر تھے بلکہ وہ تقوی، اخلاص، عاجزی، بردباری اور حسنِ اخلاق کا عملی نمونہ بھی تھے۔ ان کی شخصیت علم و عمل کا حسین امتزاج تھی۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا ہر شخص ان کے خلوص، شفقت اور روحانی عظمت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا تھا۔ انہوں نے اپنے کردار، تدریس اور دعوت کے ذریعے بے شمار لوگوں کی زندگیاں بدل دیں اور اپنے شاگردوں کے دلوں میں محبت، ادب اور دین کی خدمت کا جذبہ پیدا کیا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام دینی و علمی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کا ساتھ نصیب فرمائے اور تمام پسماندگان، شاگردوں، متعلقین اور اہلِ محبت کو یہ عظیم صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔