Baaghi TV

Blog

  • پاکستان کے اہم معاشی اشاریے  توقعات سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے، گورنر  اسٹیٹ بینک

    پاکستان کے اہم معاشی اشاریے توقعات سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے، گورنر اسٹیٹ بینک

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے عالمی مالیاتی و سرمایہ کاری اداروں کے سینئر ایگزیکٹوز سے ملاقات کی-

    ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان کے اہم معاشی اشاریے مالی سال کے آغاز پر کی گئی توقعات سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں، اگرچہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے نئے خطرات پیدا کیے ہیں اور معاشی منظرنامے کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال بڑھا دی ہے، تاہم معیشت ماضی کے بحرانوں کے مقابلے میں اب ان ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.7 فیصد رہی، بیرونی کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس سرپلس میں رہا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، بنیادی طور پر انٹربینک فاریکس مارکیٹ سے اسٹیٹ بینک کی خریداری کی وجہ سے 16.4 ارب ڈالر تک مستحکم ہو گئے اسٹیٹ بینک کی مسلسل خریداری اور سرکاری رقوم کی وصولی، بشمول نئے دوطرفہ معاہدوں کے تحت زرمبادلہ کے ذخائر جون 2026 تک مزید مضبوط ہو کر تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

    گورنر نے وضاحت کی کہ بہتر معاشی استحکام نے اقتصادی ترقی میں بتدریج، پائیدار اور وسیع البنیاد بحالی میں مدد دی ہے، مالی سال 2026کی پہلی ششماہی کے دوران حقیقی جی ڈی پی میں 3.8 فیصد کا وسیع البنیاد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں یہ شرح 1.8 فیصد تھی محتاط پالیسی کے رخ کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے ابتدائی حالات آج 2022 کے اوائل میں روس-یوکرین تنازع جیسے بیرونی جھٹکوں کے پچھلے ادوار کے مقابلے میں نمایاں طور پر مضبوط ہیں۔

    تقریب میں جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن، فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل جیسی بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں بھی شریک تھیں، یہ ملاقاتیں 13 سے 18 اپریل 2026 تک عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے موسم بہار کے اجلاس کے موقع پر ہوئیں۔

  • ایک بیان کے بعد  گستاخی کے الزامات اور شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا،حمزہ علی عباسی

    ایک بیان کے بعد گستاخی کے الزامات اور شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا،حمزہ علی عباسی

    ’’پیارے افضل‘‘ ڈرامہ سے غیر معمولی شہرت پانے والے حمزہ علی عباسی نے پنے حالیہ طویل اسلامی پوڈکاسٹ میں انکشاف کیا کہ ایک بیان کے بعد انہیں گستاخی کے الزامات اور شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

    اداکار حمزہ علی عباسی نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی زندگی کے ایک نہایت حساس اور چونکا دینے والے تجربے کا ذکر کیا حمزہ علی عباسی کے مطابق ایک پوڈکاسٹ کے دوران جب ان سے آخرت، اللہ اور ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ان تمام چیزوں پر یقین رکھتے ہیں، لیکن چونکہ انہوں نے اللہ کو دیکھا نہیں، اس لیے سو فیصد یقین کے ساتھ دعویٰ نہیں کرسکتے، ان کے بقول یہی جملہ ان کے لیے مشکل کا باعث بن گیا،اس بیان کے بعد انہیں متعدد وارننگ کالز موصول ہوئیں اور کچھ لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو چکے ہیں۔

    اداکار کے مطابق بعض افراد نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ معافی مانگیں، دوبارہ کلمہ پڑھیں اور حتیٰ کہ اپنا نکاح بھی دوبارہ کریں اس حد تک ردعمل کا سامنا کرنا ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا، تاہم انہوں نے اپنے مؤقف پر وضاحت دیتے ہوئے یہ بات واضح کی کہ ان کا ایمان برقرار ہے اور ان کے الفاظ کو غلط انداز میں لیا گیا۔

  • لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے باوجود صہیونی افواج نے حملے جاری جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر جاری بیان میں جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں متعدد حملوں کا اعتراف کیا ہے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر صیہونی فوج کا قبضہ برقرار ہے۔

    بیان میں اِن حملوں کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُسے جنگ بندی کے باوجود اپنے فوجیوں اور اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کے تحت کارروائیاں کرنے کا اختیار حاصل ہے مزید حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور فوجیوں کو ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان میں ہی اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک ہوگیا ہے فرانس نے اس واقعے کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کرتے ہوئے لبنانی حکومت سے ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    فرانسیسی صدر کے مطابق ہلاک ہونے والے فرانسیسی فوجی کی شناخت فلوریان مونٹوریو کے نام سے ہوئی جب کہ اسی واقعے میں دیگر تین فرانسیسی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ٕ

    اقوام متحدہ کے امن مشن کے مطابق ان کی پٹرولنگ ٹیم جنوبی لبنان کے علاقے غندوریہ میں سڑک کے کنارے بارودی مواد صاف کرنے میں مصرو ف تھی کہ اس دوران نامعلوم افراد کی جانب سے ان پر فائرنگ کی گئی جبکہ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا کہا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات لبنان اور اس کے دوست ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جعمرات کو 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان میں پیش قدمی اور حملے جاری رکھے ہوئے تھے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اسرائیل کو جنگ بندی کی پاسداری کرتے ہوئے لبنان پر حملے روکنے کا حکم دیا تھا تاہم اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری ہیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک ’سیکیورٹی زون‘ قائم کر لیا ہےجنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے ان تمام علاقوں میں بدستور موجود رہے گی۔

  • اسمگلرز نے نے پولیس اہلکار کو گاڑی تلے کچل دیا

    اسمگلرز نے نے پولیس اہلکار کو گاڑی تلے کچل دیا

    کراچی کے علاقے گلشنِ معمار میں تلاشی کے دوران ایک انتہائی افسوسناک واقعے میں چھالیہ اسمگل کرنے والے ملزمان نے پولیس اہلکار کو گاڑی کے نیچے کچل دیا ، 36 سالہ پولیس کانسٹیبل عبدالمنان جاں بحق ہوگیا-

    پولیس کے مطابق معمار موڑ پر معمول کی چیکنگ کے دوران جب ایک مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا، تو اسمگلروں نے رکنے کے بجائے گاڑی کی رفتار بڑھا دی اور ڈیوٹی پر موجود اہلکار کو زوردار ٹکر مار دی کانسٹیبل عبدالمنان کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

    پولیس نے فوری تعاقب کرتے ہوئے دونوں اسمگلروں، آغا جان اور نسیم کو گرفتار کر لیا ہے تلاشی لینے پر معلوم ہوا کہ گاڑی میں بھاری مقدار میں چھالیہ لدی ہوئی تھی اور ملزمان اس پر جعلی نمبر پلیٹ لگا کر اسمنگلنگ کررہے تھے پولیس نے گاڑی قبضے میں لے کر ملزمان کے خلاف قتل اور اسمنگلنگ کی دفعات کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے، شہادت کا رتبہ پانے والے اہلکار کی نمازِ جنازہ ڈی آئی جی ایسٹ زون کے ہیڈ کوارٹرز میں ادا کی گئی۔

  • پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا

    پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا

    وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا ہے-

    ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے نمائندگان سے ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی معاشی بہتری اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی پر تبادلہ خیال کیا، انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا ہے، جلد اس کی ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری متوقع ہے، جس کے بعد اگلی قسط جاری ہوگی-

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس ماہ 1.4 ارب ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے ادا کیا ہےسعودی عرب کے 3 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت اور 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں 2028 تک توسیع ہوئی اضافی مالی معاونت اور ڈپازٹ کی مدت میں توسیع سے بیرونی مالی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی جبکہ پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی اشاریے اور اصلاحات کی رفتار ملک کی ریٹنگ میں بہتری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

  • سونے  کی قیمتوں میں آج پھر اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں آج پھر اضافہ

    گزشتہ روز تین دن کے وقفے کے بعد سونے کی قیمتوں میں کمی ہوئی تھی، جو آج پھر اضافے کے بعد بڑھ گئی ہے-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 45ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 837ڈالر کی سطح پر آگئی، جس کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی ہفتے کو فی تولہ سونے کی قیمت 5ہزار 500روپے کے اضافے سے 5لاکھ 06ہزار 062روپے کی سطح پر آگئی،فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 3ہزار 858روپے کے اضافے سے 4لاکھ 33ہزار 816 روپے کی سطح پر آگئی۔

    دریں اثنا عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت ایک ڈالر 18سینٹس بڑھ کر 80ڈالر 78 سینٹس پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 118روپے کے اضافے سے 8ہزار 562روپے اور فی 10 س گرام چاندی کی قیمت 101روپے کے اضافے سے 7ہزار 340روپے کی سطح پر آگئی۔

    عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت ایک ڈالر 18 سینٹس بڑھ کر 80 ڈالر 78 سینٹس پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 118 روپے کے اضافے سے 8562 روپے اور فی 10 س گرام چاندی کی قیمت 101 روپے کے اضافے سے 7340 روپے کی سطح پر آگئی۔

  • اسلام آباد انتظامیہ  کی  دکانیں اور بس اڈے بند کروانے کی  خبروں کی تردید

    اسلام آباد انتظامیہ کی دکانیں اور بس اڈے بند کروانے کی خبروں کی تردید

    وفاقی دارالحکومت میں دکانیں اور بس اڈے بند کروانے کی خبروں پر ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کی وضاحت سامنے آ گئی-

    سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں یہ خبر تیزی سے پھیلی تھی کہ اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کی سیکیورٹی کے پیش نظر تمام مارکیٹیں اور بس اڈے بند کیے جارہے ہیں جس کے بعد اسلام آباد انتظامیہ نے فوری وضاحت جاری کی ہے کہ ان کے دائرہ اختیار میں تمام کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسلام آباد میں دکانیں یا بس اڈے بند کروانے کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضع کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ایسے کسی بھی قسم کے احکامات جاری نہیں کیے گئے، شہری غیر تصدیق شدہ خبروں پر دھیان نہ دیں-

  • ایران کا طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    ایران کا طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی،ایران کا مؤقف ہے موجودہ صورتِ حال میں بات چیت آگے بڑھانے کے لیے مناسب ماحول موجود نہیں ہے۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی متعلقہ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ صورتِ حال میں کسی نئے مذاکراتی مرحلے پر اتفاق نہیں ہو سکا یہ تعطل امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان اور مذاکرات میں سخت مطالبات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں پیغامات کا تبادلہ ہوا، تاہم اس کے باوجود کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

    خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ امریکا غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات سے گریز کرے، بصورت دیگر ایران طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا ایران نے اپنا مؤقف امریکی حکام تک پاکستان کے ذریعے پہنچا دیا ہے، جب کہ آئندہ صورتِ حال کا دارومدار دونوں جانب کے فیصلوں پر ہوگا۔

    اس حوالے سے ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، اس وقت فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر توجہ ہے، نہیں چاہتے کہ ایسے مذاکرات ہوں جو ناکامی کی طرف جائیں، جب تک فریم ورک طے نہیں ہوتا، مذاکرات کی تاریخ نہیں دے سکتے درحقیقت بڑی اچھی پیش رفت ہوئی تھی،لیکن پھر زیادہ سے زیادہ والی سوچ نے معاہدہ نہ ہونے دیابین الاقوامی قوانین سے بالاتر کوئی چیز تسلیم نہیں کریں گے، جو بھی وعدہ کریں گے وہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں کریں گے۔

    اس سے قبل، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا،باقر قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام سات دعوے غلط ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے بیانات کے ذریعے نہ ماضی میں کوئی نتیجہ حاصل کیا جا سکا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہوگا۔

    انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے تسلسل کی صورت میں اس آبی گزرگاہ کو کھلا نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس راستے سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت اور مقررہ ضوابط کی پابندی ضروری ہوگی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلے زمینی حقائق کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں نہ کہ سوشل میڈیا پر۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن حد سے زیادہ مطالبات نہیں کرے گا، بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے ہیں، حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    ہفتے کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے 10 ویں روز سے ہی امریکا نے پیغام دینے شروع کردیے، یہ پیغامات سیز فائر اور بات چیت کے لیے تھے، 40 ویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 نکات تسلیم کیے، یہ نکات جنگ روکنے کے فریم ورک کے طور پر دیے، ایران بھی پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات پر راضی ہوا۔

    ایرانی سیکریٹریٹ نے کہا کہ بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا، 21 گھنٹے کی بات چیت کا وہ دور بغیر نتیجہ ختم ہوا، بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن زیادہ مطالبات نہیں کرے گا اور وہ میدان جنگ کی حقیقت کے مطابق چلے گا۔

    ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا۔

    ایرانی سیکریٹریٹ کے مطابق ایرانی قوم کے مفاد پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے، ایران کے مطالبات میں سے لبنان کی سیز فائر بھی شامل تھی، صیہونی حکومت نے شرط کی شروع سے ہی پامالی کی، ایران کے مؤقف پر اسرائیل لبنان میں سیزفائر پر راضی ہوا۔

    ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے کہا کہ پاسداران کے کنٹرول میں آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ کیا، آبنائے ہرمز مشروط طور پر کمرشل جہازوں کے لیے کھولی گئی، خلیج میں امریکی اڈوں کے لیے سامان آبنائے ہرمز سے ہی لے جایا جاتا ہے، یہ ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

    ایرانی سیکرٹیریٹ نے مزید کہا کہ جنگ ختم ہونے تک آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھوڑ سکتے، جہازوں کو فیس ادا کر کے ان روٹس پر جانا ہوگا جو ہم بتائیں گے، امریکا کا محاصرہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جب تک محاصرہ ہے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولیں گے۔

    واضح رہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں بحری آمد ورفت شدید الجھن اور کشیدگی کا شکار ہو گئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ہزاروں جہاز پھنسے ہوئے ہیں جب کہ کئی جہاز راستہ بدل کر واپس جا رہے ہیں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکی ناکا بندی کو بنیاد بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اگرچہ ایران نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھلا رکھے گا، تاہم متعدد بحری جہاز، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، خاص طور پر لراک جزیرے کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے کچھ جہاز خلیج عمان کی طرف آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے، تاہم ان میں سے بعض ایسے جہاز بھی شامل تھے جن پر پابندیاں عائد ہیں-

    بحری ٹریکنگ کے مطابق بڑی تعداد میں جہاز فی الحال راستہ بدل کر مغربی سمت میں واپس جا رہے ہیں، جب کہ ہزاروں بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں اور زیادہ تر کمپنیاں کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے انتظار کی پالیسی اختیار کر رہی ہیں۔

  • غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچپسی میں اضافہ، 3 ماہ کے دوران 220 کمپنیاں رجسٹرڈ

    غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچپسی میں اضافہ، 3 ماہ کے دوران 220 کمپنیاں رجسٹرڈ

    پاکستان کے کارپوریٹ شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق رواں سال جنوری سے مارچ کے دوران 220 ایسی کمپنیوں کی رجسٹریشن ہوئی جن میں غیر ملکی ڈائریکٹرز شامل تھے، اور ان کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ 657 ملین روپے رہا، پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے کمپنیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار ملکی معیشت اور ریگولیٹری نظام پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کی تیسری سہ ماہی (جنوری تا مارچ 2026) میں جن کمپنیوں میں غیر ملکی ڈائریکٹرز شامل تھے، وہ زیادہ تر ٹریڈنگ، سروسز، آئی ٹی، تعمیرات اور مائننگ جیسے شعبوں میں قائم کی گئیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار روایتی اور ترقی پذیر دونوں شعبوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

    اسی مدت کے دوران مجموعی طور پر 10 ہزار 318 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہیں، ان میں 58.6 فیصد پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں جبکہ 37.9 فیصد سنگل ممبر کمپنیاں شامل تھیں، جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

    صوبائی تقسیم کے مطابق 50.2 فیصد کمپنیاں پنجاب میں، 19.0 فیصد اسلام آباد میں، 15.5 فیصد سندھ میں جبکہ باقی 15 فیصد بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں رجسٹر ہوئیں شعبہ جاتی لحاظ سے سب سے زیادہ رجسٹریشن آئی ٹی اور ای کامرس میں ہوئی جن کی تعداد 2065 رہی، اس کے بعد ٹریڈنگ میں ایک ہزار 687 اور سروسز میں ایک ہزار 288 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں،دیگر شعبوں میں رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 934، ٹورازم میں 581، فوڈ اینڈ بیورجز میں 497 اور تعلیم کے شعبے میں 363 کمپنیاں شامل ہیں۔

    ایس ای سی پی کے مطابق اس سہ ماہی میں 95 ہزار 823 کارپوریٹ فائلنگز مکمل کی گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہیں اسی عرصے میں رجسٹریشن کے بعد کی فائلنگز میں 33 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو بہتر کمپلائنس اور مضبوط کارپوریٹ گورننس کی عکاسی کرتا ہے،سیکیورڈ ٹرانزیکشنز رجسٹری میں جنوری تا مارچ کے دوران 6 ہزار سے زیادہ فنانسنگ اسٹیٹمنٹس جمع کرائے گئے جبکہ مالیاتی اداروں نے 5 ہزار سے زیادہ سرچز کیں، جو مالیاتی خدمات کی دستیابی اور مالی شمولیت میں اضافے کی طرف اشارہ ہے۔

  • ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ بارش، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ بارش، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش، تیز ہواؤں اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کی پیشگوئی کی ہے۔

    اس حوالے سے جاری الرٹ کے مطابق اس دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں آندھی اور جھکڑ چلنے کے ساتھ بارش جبکہ بعض مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے بلند و بالا پہاڑی علاقوں میں برف باری متوقع ہے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع بشمول چترال، دیر، سوا ت، کالام، مالاکنڈ، کوہستان، مینگورہ، بٹگرام، ہری پور، پشاور اور مانسہرہ میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    اسی طرح ایبٹ آباد، مردان، صوابی، چارسدہ، کوہاٹ، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈی آئی خان اور وزیرستان میں بھی آندھی اور بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،اسلام آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں جیسے راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین میں بھی آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران گرج چمک، تیز ہواؤں اور بارش کی پیشگوئی ہے۔

    اسی طرح گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں اسکردو، ہنزہ، گلگت، گانچھے، استور، دیامر، کھرمنگ، شگر، غذر، نگر، مظفرآباد، باغ، راولاکوٹ، حویلی، پونچھ، کوٹلی اور وادی نیلم میں بھی بارش اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کا امکان ہے بلوچستان کے کوئٹہ، ژوب، زیارت، قلعہ سیف اللہ، پشین، بارکھان اور کوہلو میں بھی آندھی، تیز ہواؤں اور بارش کی صورتحال متوقع ہے۔

    این ڈی ایم اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں، آسمانی بجلی اور ژالہ باری سے کمزور عمارتوں، درختوں، فصلوں اور بجلی کے نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے،بارش کے باعث سڑکیں پھسلن کا شکار ہو سکتی ہیں جبکہ ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے پہاڑی علاقوں میں برف باری کے باعث سفر مزید مشکل ہو سکتا ہےپہاڑی علاقوں میں مسلسل بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، لہٰذا شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں، احتیاط سے ڈرائیونگ کریں اور موسمی صورتحال سے متعلق ہدایات پر عمل کریں۔