میرپورخاص تقریبِ اسناد کی تقسیم
انفارمیشن کمیشن کے سینئر کمشنر محمد سلیم خان (کمشنر کراچی) نےباغی ٹی وی نامہ نگار میرپورخاص کے سید شاہزیب شاہ کو سرٹیفکیٹ سے نوازا۔یہ تقریب میرپورخاص ملک سینٹر میں منعقد ہوئی،جس میں صحافتی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کا مقصد صحافت کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے وال ی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
Blog
-

مسلم ممالک کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر: راشد عمر اولکھ ایڈووکیٹ
نظریات یا مفادات، مذاکرات کار یا ثالث ؟ عالمی شطرنج کے کھیل میں مسلم ممالک کہاں کھڑے ہیں؟
عالمی سیاست کے ایوانوں میں دوستیوں کے نعرے بہت بلند ہوتے ہیں، مگر تاریخ کی گرد جھاڑیں تو ایک ہی سچ نمایاں ہوتا ہے: ریاستیں جذبات، مذہبی نظریات سے نہیں، مفادات سے چلتی ہیں۔ یہاں تعلقات کی بنیاد نہ نظریاتی ہم آہنگی ہوتی ہے، نہ مذہبی قربت—بلکہ سرد حساب کتاب اور قومی مفاد کا بے رحم تقاضا ہوتا ہے۔
مسلم دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی تلخ مگر واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تعین میں کبھی ابہام کا شکار نہیں ہوتیں، وہیں وقت کی مسلم ریاستیں اکثر جذباتی بیانیوں، وقتی نعروں اور غیر مستقل اتحادوں میں الجھ کر اپنے طویل المدتی مفادات کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں۔
سرد جنگ کے ہنگاموں میں United States اور Soviet Union کی کشمکش نے دنیا کو دو بلاکس میں تقسیم کر رکھا تھا۔ Soviet–Afghan War میں پاکستان کو فرنٹ لائن ریاست بنایا گیا۔ اس وقت دوستی کے چرچے تھے، تعاون کے وعدے تھے، اور مشترکہ جدوجہد کا بیانیہ تھا۔ مگر یہ سب کسی اصولی رفاقت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ مفادات کا عارضی اشتراک تھا۔
پاکستان نے بھی اس موقع کو ایک اسٹریٹجک موقع کے طور پر استعمال کیا، مگر جیسے ہی Collapse of the Soviet Union ہوا، تعلقات کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی۔ پاکستان پر عالمی پابندیاں، نیوکلیئر پروگرام کا خاتمہ، بداعتمادی اور فاصلے—یہی اس “دوستی” کا انجام تھا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل کچھ نہیں ہوتا، سوائے مفادات کے۔
ایران کی داستان بھی اسی اصول کی ایک اور شکل ہے۔ ایران جو کبھی امریکہ کا قریبی اتحادی تھا، Iranian Revolution کے بعد یکسر مخالف سمت میں کھڑا ہو گیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے نہ صرف اپنی خارجہ پالیسی بدلی بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد ہی تبدیل کر دی۔ یہ کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ نئے ریاستی مفاد کا تعین تھا—خودمختاری، اثر و رسوخ اور مزاحمت۔
ترکی اگرچہ نیٹو امریکہ اتحاد کا حصہ بنا مگر اس سب کے باوجود کمال دانشمندی سے ترکی نے نیٹو رکن ہونے کے باوجود اپنی پالیسی کو کسی ایک بلاک تک محدود نہیں رکھا۔ شام کے بحران میں اس کی مداخلت، روس کے ساتھ تعلقات، اور مغرب کے ساتھ توازن—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ کامیاب ریاستیں لچکدار ہوتی ہیں، وابستہ نہیں۔
دوسری طرف شام، عراق، یمن اور لیبیا وہ بدنصیب خطے ہیں جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات نے ریاستی ڈھانچوں کو کمزور کر کے انہیں جنگی میدان بنا دیا۔ عراق جنگ کے بعد عراق کا بکھرنا، شام کی خانہ جنگی کا عالمی شطرنج میں بدل جانا، اور یمن کی خاموش تباہی—یہ سب اس امر کی دلیل ہیں کہ جب ریاست کمزور ہو جائے تو اس کے فیصلے اس کے اپنے نہیں رہتے۔
یہ تمام مثالیں ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہیں: کیا مسلم دنیا ہمیشہ دوسروں کے کھیل کا حصہ بنی رہے گی؟
اگر پاکستان، ایران، سعودی عرب، مصر ترکی اور قطر اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک مشترکہ تزویراتی بلاک تشکیل دیں تو یہ عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ توانائی کے ذخائر، جغرافیائی اہمیت، عسکری صلاحیت اور افرادی قوت—یہ سب عناصر اگر یکجا ہو جائیں تو ایک نئی طاقت ابھر سکتی ہے۔
مگر اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ وہی پرانی بیماریاں ہیں: فرقہ واریت، باہمی عدم اعتماد اور قلیل المدتی سوچ۔حالیہ عالمی کشیدگی، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کے تناظر میں پاکستان نے جس فعال سفارتی کردار کا مظاہرہ کیا، وہ محض روایتی بیان بازی نہیں بلکہ ایک نئی حکمت عملی کی جھلک ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی مسلسل سفارتی کاوشیں، روزانہ کی بنیاد پر رابطے، اور سعودی عرب ، قطر اور پھر ترکی کے اہم دورے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان محض ایک ردعمل دینے والی ریاست نہیں رہا بلکہ ایک "فعال ثالث” کے طور پر ابھر رہا ہے۔
اسی تسلسل میں ہمارے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب کا فوری طور پر ایران کا دورہ ایک غیر معمولی تزویراتی اشارہ تھا—یہ پیغام کہ پاکستان نہ صرف خطے کی حساسیت کو سمجھتا ہے بلکہ فوری اور مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ وہ کردار جس کو ادا کرنے کی اس سے توقع کی جا سکتی ہے۔
اگرچہ عالمی سفارت کاری میں “کریڈٹ” اکثر طاقتور ریاستیں لے جاتی ہیں، مگر یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کشیدگی میں کمی، رابطوں کی بحالی اور جنگ بندی کی فضا پیدا کرنے میں پاکستان کی خاموش مگر مسلسل کوششیں ایک اہم عنصر بن رہی ہیں۔ اعتماد بحال ہو رہا ہے، مسلم ممالک کے درمیان بہترین تعلقات اور کوآرڈینیشن اپنا رنگ جما رہی ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع موجود ہے:
وہ مسلم دنیا میں محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک "پل (bridge) اور ممکنہ "قائدانہ کردار” ادا کر سکتا ہے۔
اگر مجوزہ اسلامی بلاک حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو پاکستان کی حیثیت محض ایک رکن کی نہیں ہوگی بلکہ ایک ایسے ملک کی ہوگی جو:
مختلف بلاکس (ایران-سعودی، ترکی-عرب) کے درمیان توازن قائم کر سکتا ہے
ایٹمی طاقت ہونے کے باعث دفاعی اعتماد فراہم کر سکتا ہے
چین، امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان سفارتی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے
یہ کردار پاکستان کو اس پوزیشن پر لا سکتا ہے جہاں وہ نہ صرف اتحاد کا حصہ ہو بلکہ اس کی سمت متعین کرنے والوں میں شامل ہو۔ اور یہ کوئی معمولی بات یا عمومی پیش رفت نہیں۔
بین الاقوامی سیاست شطرنج کی ایک بساط ہے۔ یہاں یا تو آپ چال چلتے ہیں، یا آپ پر چال چلی جاتی ہے۔
مسلم دنیا نے طویل عرصہ مہرے کا کردار ادا کیا ہے، مگر حالات بدل رہے ہیں۔
اگر ریاستیں اپنے مفادات کو سمجھتے ہوئے اجتماعی حکمت عملی اپنائیں، اور پاکستان جیسے ممالک ثالثی سے قیادت تک کا سفر طے کریں، تو ایک نیا عالمی توازن جنم لے سکتا ہے۔
اور موجودہ عالمی حالات میں، جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اگر ریاستیں اپنے انفرادی مفادات سے آگے بڑھ کر اجتماعی حکمتِ عملی اپنائیں تو ایک نیا اور زیادہ متوازن عالمی نظم تشکیل پا سکتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان اپنی عسکری صلاحیت اور اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کے ذریعے سیکیورٹی اور علاقائی استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب اپنی مالی طاقت اور سرمایہ کاری کی استعداد سے اس بلاک کو معاشی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ ترکی اپنی جغرافیائی اہمیت، دفاعی صنعت اور جنگی تجربے کے ساتھ عملی عسکری و سفارتی وزن بڑھا سکتا ہے، قطر اپنے توانائی کے وسیع وسائل اور ثالثی کی مؤثر پالیسی کے ذریعے مالی و سفارتی معاونت فراہم کر سکتا ہے، جبکہ مصر اپنی تاریخی، آبادیاتی اور جغرافیائی اہمیت کے باعث عرب و افریقی دنیا کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح ایران اپنی تزویراتی گہرائی اور علاقائی اثر و رسوخ کے ذریعے اس خطے کی جیو اسٹریٹجک تکمیل کا حصہ بن سکتا ہے۔ اگر یہ تمام عوامل ایک مربوط اور ادارہ جاتی تعاون کے فریم ورک میں یکجا ہو جائیں تو یہ اتحاد محض علامتی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک عملی اور مؤثر تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
یہ صرف ایک امکان نہیں—یہ ایک موقع ہے۔
سوال اب بھی وہی ہے:
کیا مسلم دنیا اس موقع کو پہچان پائے گی؟
تاریخ کا اگلا باب اسی جواب کا منتظر ہے۔
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے۔
نقشِ کہن مٹ رہا ہے، نئی تقدیر کے ہاتھ میں
وقت کے ماتھے پہ لکھا اب ترا اعجاز ہے۔ -

روٹ ٹو مکہ اقدام کے تحت پہلی حج پرواز علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے روانہ
لاہور – روٹ ٹو مکہ اقدام کے تحت پہلی حج پرواز SV-5735 مقررہ وقت صبح 10:30 کے بجائے صبح 10:54 پر روانہ ہوئی۔
اس موقع پر ایئرپورٹ پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مولانا طاہر اشرفی اور مملکت سعودی عرب کے سفیر عزت مآب نواف بن سعید نے شرکت کی۔ دیگر معزز شرکاء میں انجینئر جفن بن خلف علی الشمر، جناب ابرار احمد مرزا (وفاقی سیکرٹری مذہبی امور)، میجر جنرل ڈاکٹر صالح بن سعد المیرابہ، جناب خواجہ سلمان رفیق (صوبائی وزیر برائے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر)، اور جناب سردار محمد یوسف (وفاقی وزیر مذہبی امور) شامل تھے۔ ایئرپورٹ کے سینئر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے جن میں ائیرپورٹمینیجر، ڈپٹی ائیرپورٹ مینیجر، سٹیشن مینیجر، ٹرمینل مینیجرز ڈیپارچرز اینڈ ارائیولز، مینیجر ائیرسائیڈ، آفیسر انچارج پی ایس ایس، چیف سیکیورٹی آفیسر اے ایس ایف، اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے امیگریشن شامل ہیں۔ پرواز کی روانگی کے دوران دیگر تمام ائیرپورٹ آپریشنز معمول کے مطابق جاری رہے۔
قبل ازیں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی سے ایئرسیال کی پہلی حج پرواز PF-7700 ایک سو ساٹھ 160 عازمینِ حج کو لے کر سعودی عرب کے لیے روانہ ہوئی۔ افتتاحی تقریب میں گورنر سندھ نہال ہاشمی، وزیر مملکت برائے اوقاف اور صوبائی وزیر مذہبی امور نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایئرپورٹ منیجر، ڈپٹی ایئرپورٹ منیجر اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے افسران بھی موجود تھے۔ معزز مہمانوں نے عازمینِ حج کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ معزز مہمانوں نے روٹ ٹو مکہ سہولت کے تحت فراہم کردہ انتظامات کا بھی جائزہ لیا، جس میں سعودی امیگریشن کاؤنٹرز شامل ہیں۔ انہوں نے ان سہولیات کو سراہتے ہوئے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ ایئرسیال کی پرواز PF-7700 علی الصبح 2:05 بجے روانہ ہوئی، جو کراچی سے پری حج آپریشنز کا آغاز ہے۔
علاوہ ازیں ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پری حج آپریشنز 2026 کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ائیربلو کی پرواز PA-876 کے ذریعے 151 عازمینِ حج کو مدینہ منورہ روانہ کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی تھے۔ دیگر معزز مہمانوں میں میاں محمد کاظم پیرزادہ (صوبائی وزیر آبپاشی)، رانا عبد المنان ساجد (رکن صوبائی اسمبلی)، اور بیگم مقصودہ انصاری (رکن صوبائی اسمبلی) شامل تھے۔اس موقع پر سی او او/اے پی ایم ایم انور ضیاء، ڈائریکٹر حج ریحان عباس کھوکھر، ڈائریکٹر ٹرمینل آپریشنز ایئر بلیو کنور یاسر، ڈائریکٹر کمرشل ایئر بلیو ایم شفیق، جبکہ اے ایس ایف، ایف آئی اے اور اے این ایف کے افسران بھی موجود تھے۔مہمانِ خصوصی نے ایئرپورٹ انتظامیہ اور ڈائریکٹوریٹ حج کی جانب سے عازمینِ حج کو فراہم کی جانے والی سہولیات کو سراہا اور حج کے مقدس سفر کی اہمیت پر زور دیا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی نے عازمینِ حج کو پھولوں کے ہار پہنائے اور نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
-

آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی ،برطانوی میری ٹائم ایجنسی
برطانوی میری ٹائم ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی ہے۔
برطانوی میری ٹائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی، آئی آر جی سی کی کشتیوں سے آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی۔میری ٹائم ایجنسی نے مزید کہا کہ فائرنگ کے واقعے میں آئل ٹینکر اور اس کا عملہ محفوظ رہا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کم از کم دو تجارتی جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی، جس دوران فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔اطلاعات کے مطابق ایران نے اس اہم بحری راستے کو مختصر وقت کے لیے دوبارہ کھولنے کے بعد ایک بار پھر بند کر دیا ہے۔ تہران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، جس کے باعث راستے پر دوبارہ پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔
برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب، عمان کے شمال مشرقی علاقے میں ایک واقعہ پیش آیا ہے۔ تنظیم کے مطابق ایک ٹینکر کے کپتان نے رپورٹ کیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی گن بوٹس نے ان کے جہاز کا تعاقب کیا اور فائرنگ کی۔تاہم حکام کے مطابق مذکورہ ٹینکر اور اس کا عملہ محفوظ ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اس سے قبل جب بحری راستہ عارضی طور پر کھولا گیا تھا تو کئی جہاز دوبارہ شپنگ لین میں داخل ہوئے تھے، جسے جنگ شروع ہونے کے بعد جہازوں کی پہلی بڑی نقل و حرکت قرار دیا گیا تھا۔ لیکن تازہ کشیدگی کے بعد یہ قافلہ منتشر ہو گیا ہے۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم کے مطابق حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں موجود بحری قافلہ منتشر ہو چکا ہے اور متعدد جہاز رک گئے یا واپس مڑ گئے ہیں۔دوسری جانب تجارتی جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے ریڈیو پیغامات بھی موصول ہوئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی گئی ہے اور کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کی شہ رگ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
-

سعودی تعاون سے پاکستان میں زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ
اسلام آباد: سعودی عرب کے تعاون سے پاکستان میں شروع کیے گئے جدید آبپاشی منصوبوں کے نتیجے میں گندم، چارہ اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستانی اور سعودی حکام نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اس پیش رفت کا اعلان کیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون اور پانی کے مؤثر استعمال کے حوالے سے تفصیلات پیش کی گئیں۔تقریب میں سعودی عرب کے نائب وزیر زراعت ڈاکٹر سلیمان بن علی الخطیب نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان میں پائیدار زراعت کے فروغ کے لیے اپنا کردار مزید بڑھا رہا ہے اور اسی سلسلے میں گرین پاکستان انیشی ایٹو (GPI) کی بھرپور حمایت کی جا رہی ہے۔
گرین پاکستان انیشی ایٹو پاکستان حکومت اور افواج پاکستان کا مشترکہ زرعی منصوبہ ہے، جس کا مقصد ملک میں زرعی ترقی، بنجر زمینوں کی بحالی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کا فروغ ہے۔حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت اب تک پاکستان بھر میں 1 لاکھ 36 ہزار ایکڑ بنجر زمین قابلِ کاشت بنائی جا چکی ہے، جبکہ سرکاری و نجی شعبے کے 64 شراکت دار اس منصوبے میں شامل ہیں۔
گزشتہ سال سعودی عرب نے پاکستان کو 10 جدید ترین آبپاشی نظام فراہم کیے تھے، جنہیں ریکارڈ مدت میں نصب کیا گیا۔ حکام کے مطابق ان نظاموں کا مقصد پانی کے ضیاع کو روکنا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا اور خشک علاقوں کو سرسبز بنانا ہے۔
گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو کے اسٹریٹیجک پراجیکٹس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل (ر) شاہد نذیر نے کہا “یہ 10 پیوٹ سسٹمز صرف 70 دنوں میں نصب کیے گئے، جو ایک ریکارڈ ہے۔”انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں کی بدولت پہلے غیر آباد زمینوں پر اب گندم، چارہ اور دیگر فصلیں کامیابی سے اگائی جا رہی ہیں۔
تقریب میں دکھائی گئی ایک دستاویزی فلم میں پنجاب کے شہر بھکر میں قائم ایک نمایاں منصوبے کو پیش کیا گیا، جہاں سعودی عرب کی فراہم کردہ جدید زرعی ٹیکنالوجی سے صرف تین ماہ میں بنجر زمین کو زرعی فارم میں تبدیل کر دیا گیا۔اس منصوبے کے تحت 5 ارب روپے مالیت کا جدید آبپاشی نظام نصب کیا گیا، جس سے تقریباً 1,500 ایکڑ غیر آباد زمین کو زرخیز زرعی رقبے میں تبدیل کیا گیا۔حکام کے مطابق جدید آبپاشی نظام کے استعمال سے گندم کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
روایتی آبپاشی طریقوں سے پیداوار: 28 سے 30 من فی ایکڑ،جبکہ جدید نظام سے پیداوار: 45 سے 50 من فی ایکڑ ہوئی ہے،یہ اضافہ پاکستان کی غذائی خود کفالت اور زرعی معیشت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میجر جنرل (ر) شاہد نذیر نے کہا کہ حکومت چھوٹے کسانوں کے لیے بھی جدید زرعی نظام جیسے سپرنکلر سسٹم،ڈرِپ اریگیشن متعارف کرا رہی ہے، جن پر سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ بڑے منصوبوں کی کامیابی کو چھوٹے فارموں تک بھی پہنچایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ 2023 سے 2026 کے دوران قائم کیے گئے 64 جدید فارموں میں بلوچستان میں زیتون کے باغات،سندھ میں پام آئل فارمزبھی شامل ہیں، جس سے پاکستان کی زرعی پیداوار میں تنوع پیدا ہو رہا ہے۔ پاکستانی حکام نے کہا کہ یہ منصوبہ سعودی عرب کی غذائی تحفظ حکمتِ عملی سے بھی ہم آہنگ ہے، کیونکہ پاکستان کم فاصلے اور تیز تر لاجسٹکس کے باعث سعودی عرب کو زرعی اجناس کی بروقت اور کم لاگت فراہمی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر سلیمان بن علی الخطیب نے کہا “یہ فصلیں نہ صرف پاکستان کے لیے پائیدار زرعی پیداوار فراہم کریں گی بلکہ سعودی عرب کو برآمد بھی کی جا سکیں گی۔”
ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے ملک میں جدید آبپاشی نظام، بنجر زمینوں کی بحالی اور بین الاقوامی شراکت داری مستقبل کی زرعی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ یہ تعاون نہ صرف زرعی پیداوار بڑھانے میں مدد دے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔
-

اسلام آباد: تشدد کیس میں خاتون کو والدین کے ساتھ جانے کی اجازت
اسلام آباد کی ایڈیشنل سیشن کورٹ ویسٹ میں اینکر پرسن جمیل فاروقی پر مبینہ تشدد اور غیر قانونی حراست کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد خاتون کو والدین کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔تفصیلات کے مطابق طارق مسعود و دیگر کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کی بیٹی عائشہ مسرت کو اس کے شوہر محمد جمیل الدین نے شادی کے بعد گھر میں غیر قانونی طور پر قید کر رکھا ہے اور اسے والدین سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ خاتون کو جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔عدالت نے درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 15 اپریل کو بیلف مقرر کیا اور تھانہ گولڑہ شریف کو ہدایت دی کہ خواتین پولیس کی مدد سے خاتون کو 16 اپریل کو عدالت میں پیش کیا جائے۔گزشتہ روز سماعت کے دوران عائشہ مسرت کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس نے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے شوہر پر مسلسل ظلم و زیادتی اور والدین سے نہ ملنے دینے کا الزام عائد کیا۔ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ وہ بالغ ہے اور اپنی مرضی سے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔عدالت نے خاتون کے بیان کی روشنی میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ چونکہ وہ بالغ ہے اور اپنی آزاد مرضی سے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے، لہٰذا اسے والدین کے ساتھ جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ عدالت نے کیس نمٹا کر فائل ریکارڈ روم منتقل کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔
-

امریکا کی سازش کو ناکام بنا کر ایرانی فوج نے تاریخ رقم کی۔ایرانی سپریم لیڈر
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ پہلوی خاندان کی باقیات اور امریکا کی سازش کو ناکام بنا کر ایرانی فوج نے تاریخ رقم کی۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ کچھ طاقتیں ایران کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں، ایران کی نیوی دشمنوں کو نئی اور تلخ شکستیں دینے کیلئے تیار ہے۔سپریم لیڈر نے ایرانی فوج کے قیام کے دن پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ فوج قوم کے بیٹے کی مانند ہے جو عوام کے گھروں سے جنم لیتی ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ابھی تک سامنے نہیں آئے تا ہم انکے پیغامات ایکس پر دیئے جا رہے ہیں،ایران امریکا مذاکرات اسلام آباد میں اگلے ہفتے متوقع ہیں،
دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جن نکات پر امریکی حکام اور میڈیا بات کررہے ہیں ان کی تصدیق نہیں ہوسکتی، افزودہ یورینیم کو کسی صورت کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ہماری طرف سے کبھی افزودہ یورینیم منتقلی کی تجویز پیش نہیں کی گئی، جس طرح ایرانی سرزمین ہمارے لیے اہم ہے یہ معاملہ بھی اتنا ہی اہم ہے، ایران آبنائے ہرمز کے حوالے سے ضروری اقدامات کرے گا۔
-

ایران کا آبنائے ہرمز پر نیا مؤقف
ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے بحری نظام کا نفاذ کیا جائے، جس کے تحت خلیجی گزرگاہ سے جہازوں کی آمد و رفت پر مزید سخت نگرانی رکھی جائے گی۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ نئے نظام کے تحت صرف وہی تجارتی جہاز مخصوص بحری راستوں سے گزر سکیں گے جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے باقاعدہ اجازت حاصل ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ان جہازوں کو اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے مقررہ فیس بھی ادا کرنا ہوگی، جبکہ بغیر اجازت گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر امریکا ایرانی جہازوں کے لیے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو حالات فوری طور پر تبدیل ہو سکتے ہیں، اور ایران مزید سخت اقدامات اٹھا سکتا ہے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا ایران سے آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت بحال نہیں کرتا، آبنائے ہرمز سخت کنٹرول میں رہے گی۔
-

جنگ کے بعد بھی بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے،ایاز صادق
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی استنبول میں ترکیہ کے ہم منصب نعمان کُرتُلموش سے اہم ملاقات ہوئی ہے
ملاقات بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کے 152 ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ملاقات میں اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،اسپیکر سردار ایاز صادق نے عالمی امن، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا،اسپیکر قومی اسمبلی نے جنگوں کے خاتمے کے لیے ڈائیلاگ اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا،پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا،ترک اسپیکر نعمان کُرتُلموش نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا۔ترک اسپیکر کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت نے بروقت اقدامات کر کے خطے کو بڑے بحران سے بچا لیا، پاکستان کی امن کے قیام کے لیے کوششیں قابلِ تحسین ہیں، ترک اسپیکر نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف سید عاصم منیر کے کردار کی بھی تعریف کی،ترک اسپیکر نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا،دونوں ممالک نےپارلیمانی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور وفود کے تبادلوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا،اسپیکر قومی اسمبلی کا ترک اسپیکر کی جانب سے پاکستان کے کردار کی تعریف پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے،پاکستان نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے، جنگ و جدل کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، مسائل کا حل ڈائیلاگ سے ہی ممکن ہو سکتا ہے، جنگ کے بعد بھی بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے،پاکستان اپنے برادر اسلامی ممالک کی عزت اور تکریم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،

