Baaghi TV

Blog

  • یکم ذیقعد 19 اپریل بروز اتوار کو ہوگی

    یکم ذیقعد 19 اپریل بروز اتوار کو ہوگی

    مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے پاکستان میں ذیقعد کا چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

    چاند دیکھنے کے لیے کمیٹی کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین مولانا محمد عبدالخبیر آزاد نے کی،مولانا عبدالخبیر آزاد نے بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں سے چاند کی رویت کی شہادتیں موصول ہوئیں، جس کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ذیقعد کا چاند نظر آچکا ہے۔ یکم ذیقعد 1447 ہجری کل، یعنی 19 اپریل بروز اتوار کو ہوگی اس موقع پر ملکی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔

    اس سے قبل پاکستان کے قومی خلائی ادارے ‘سپارکو’ نے ماہِ ذوالقعد 1447 ہجری کے چاند کی رویت کے حوالے سے اہم پیش گوئی کی تھی اسپارکو نے بتایا تھا کہ پاکستان میں ذوالقعد کا چاند 18 اپریل کی شام ملک بھر میں نظر آنے کے قوی امکانات ہیں۔

  • آبنائے ہرمز  بھارتی پرچم بردار جہازوں کے لئے بند کر دی گئی

    آبنائے ہرمز بھارتی پرچم بردار جہازوں کے لئے بند کر دی گئی

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھارتی پرچم بردار دو جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے سے روک دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ایرانی گن بوٹس نے بھارتی جہازوں پر فائرنگ کی، تاہم واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا بھارت نے اس واقعے پر ایران سے احتجاج کرتے ہوئے بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز ایرانی گن بوٹس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بھارتی بحری جہازوں کو روکا اور ان پر فائرنگ کی، جس کی وجہ سے انہیں واپس لوٹنا پڑا۔

    بھارت نے ان واقعات پر نئی دہلی میں ایران کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا اور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے بھارتی سیکریٹری خارجہ نے ایران سے بھارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے اقدامات درخواست کی، جس پرایرانی سفیر نے بھارت کے تحفظات ایرانی حکومت تک پہنچانے کی یقین دہائی کرائی ہے۔

    بین الاقوامی شپنگ ڈیٹا اور ٹینکر ٹریکنگ سروس کے مطابق بھارت جانے والے دو جہاز ’جگ ارنَو‘ اور ’سنمار ہیرالڈ‘ آبنائے ہرمز کے شمال میں عمان کے قریب پہنچنے کے بعد واپس پلٹ گئے سنمار ہیرالڈ ایک سُپر ٹینکر ہے جس پر 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لدا ہوا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں بحری جہازوں پر موجود عملہ محفوظ ہے، تاہم حملے کی نوعیت اور تفصیلات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے ہفتے کی صبح امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کی تصدیق کی تھی ایرانی بحریہ کی جانب سے بعض جہازوں کو ریڈیو پیغام بھی بھیجا گیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا اور اس گزرگاہ کے استعمال سے گریز کی ہدایت کی گئی تھی۔

    ہفتے کے روز ایرانی افواج کے مشترکہ کمانڈ ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر‘ نے جاری بیان میں کہا کہ ایران نے ماضی میں معاہدوں اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کے بعد محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، تاہم امریکا نے ناکہ بندی کے بہانے سمندری قزاقی جاری رکھی ہوئی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات کے باعث اب صورتِ حال دوبارہ پہلے جیسی ہو گئی ہے اور آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے سخت انتظام اور مکمل نگرانی میں ہے۔

    ایرانی حکام نے واضح کیا کہ جب تک امریکا ایران سے آنے اور جانے والے جہازوں کی مکمل آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی نہیں بناتا اس اہم عالمی گزرگاہ پر سخت کنٹرول برقرار رکھا جائے گا ایران کے اس سخت مؤقف نے خطے میں جاری تنازعے کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی میں توسیع پر غور کر رہا ہے۔

  • جیٹ فیول کی قیمت میں کمی

    جیٹ فیول کی قیمت میں کمی

    حکومت نے کمرشل پروازوں کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن ’جیٹ فیول ون‘ کی قیمت میں 23 روپے فی لیٹر کی مزید کمی کردی ہے۔

    تازہ ترین کمی کے بعد ہوائی جہازوں کے ایندھن کی نئی قیمت 471 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے،رواں ہفتے کے دوران یہ قیمتوں میں دوسری بڑی کمی ہے، جس کے بعد محض سات دنوں میں جیٹ فیول مجموعی طور پر 46 روپے فی لیٹر سستا ہوچکا ہے،توقع کی جارہی ہے کہ ایندھن سستا ہونے کے بعد ایئر لائنز کی جانب سے ہوائی کرایوں میں بھی کمی کر کے مسافروں کو ریلیف دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم اب جنگ بندی اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرنے کے بعد حکومت نے ایئر لائنز کو ریلیف فراہم کرنا شروع کردیا ہے۔

  • پاکستان نےیو اے ای کو2 ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا

    پاکستان نےیو اے ای کو2 ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا

    پاکستان نےمتحدہ عرب امارات کو2 ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر ادائیگی کی تصدیق کردی ہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کو 23 اپریل کو یو اے ای کو مزید ڈیڑھ ڈالر ادا کرنے ہیں، یو اے ای کو مکمل ادائیگی کے باوجود ملکی زرمبادلہ ذخائر پر فرق نہیں پڑے گا، بیرونی ادائیگی کا انتظام موجود ہے۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے پاکستان میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ رول اوور کردیے جس کے لیے اسٹیٹ بینک اور سعودی فنڈ برائے ترقی میں باقاعدہ معاہدہ طے پاگیا اور دستخط بھی ہوگئے ۔

    واشنگٹن میں منعقد تقریب کے دوران سعودی فنڈ کے سی ای او سلطان بن عبدالرحمان اور اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے دستخط کیے،وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک اہم مالی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی جس میں امریکا میں پاکستان کے سفیر بھی موجود تھے-

    یہ تقریب عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر منعقد ہوئی،جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ معاہدہ سعودی فنڈ برائے ترقی (ایس ایف ڈی) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے درمیان طے پایا جس کے تحت اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے سعودی ڈپازٹ کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔

  • وزیرِاعظم سے محسن نقوی کی ملاقات

    وزیرِاعظم سے محسن نقوی کی ملاقات

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ملاقات کی ہے-

    ملاقات کے دوران انہوں نے وزیرِ اعظم کو سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے کامیاب سہ ملکی دورے پر مبارکباد پیش کی،وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ان اہم دوروں سے برادر ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعاون اور اقتصادی روابط کو نئی تقویت ملی ہے،وزیرِ داخلہ نے وزیرِ اعظم کو ان کے دوروں کے تناظر میں ملک کی موجودہ امن و امان کی صورتحال اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    واضح رہے کہ غیرملکی دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا دورہ کیا ہے اس دوران وزیراعظم نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، امیرقطر اور ترک صدرطیب اردوان سمیت دیگررہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔

    شہبازشریف بدھ کے روز 4 روزہ دورے پر بیرون ملک روانہ ہوئے تھے دورے کے دوران وزیراعظم نے انطالیہ میں منعقدہ ڈپلومیسی فورم میں بھی شرکت کی اور مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، وزیراعظم نے برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، خطے میں امن کے فروغ اور باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

  • بشریٰ بی بی نے طبی بنیادوں پر سزا معطلی کے لیے نئی درخواست دائر کردی

    بشریٰ بی بی نے طبی بنیادوں پر سزا معطلی کے لیے نئی درخواست دائر کردی

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فوری فیصلے کے لیے متفرق درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

    بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری کے بعد سزا معطلی درخواست پر جلد فیصلہ کرانے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے-

    بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے دائر اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی مؤکلہ کی سزا سات سال ہے جو کہ کم سزا کے زمرے میں آتی ہے، لہٰذا حالیہ طبی صورتحال اور میڈیکل ایمرجنسی کے پیش نظر سزا معطلی کی درخواست پر جلد فیصلہ سنایا جائے درخواست میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری پنڈی کے الشفا آئی اسپتال میں کی گئی، سرجری سے پہلے کسی فیملی ممبر کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر وکیل اور فیملی ممبر کو آگاہ کرنا ضروری ہے، بغیر کسی کو آگاہ کیے بشریٰ بی بی کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اچانک فیملی کو بتایا گیا جس کے بعد فیملی نے جیل میں ملاقات کی بشریٰ بی بی کی فیملی نے ملاقات کے بعد دیکھا کہ ان کو کالی عینک لگا کر بیٹھا دیا گیا ہے اور ان کی میڈ یکل کنڈیشن سیریس نوعیت کی ہے۔

    عدالت عالیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ ڈاکٹروں یا جیل حکام کی جانب سے ابھی تک کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، بشریٰ بی بی خاتون ہیں اور ان کی سزا بھی سات سال ہے جو کم کے زمرے میں آتی ہے۔

    وکیل نے مؤقف اپنایا ہے کہ جیل حکام نے عدالتی حکم کے باوجود مجھے جیل میں بشریٰ بی بی تک رسائی نہیں دی، 15 مئی 2025 سے زیر التوا بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کریں اور بشریٰ بی بی تک فیملی اور وکیل کو رسائی دی جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے ذرائع نے بتایا تھا کہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کا آپریشن نجی اسپتال میں کیا گیا اور انہیں واپس جیل منتقل کردیا گیا ہے جیل ذرائع نے بتایا تھا کہ بشریٰ بی بی نے دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی شکایت کی تھی جس پر جیل انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ماہرین چشم سے ان کا معائنہ کرایا۔

    اس حوالے سے مزید بتایا تھا کہ سرجری سے قبل ضروری ٹیسٹ اور طبی معائنہ مکمل کیا گیا، جس کے بعد مریضہ کی رضامندی سے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پینل نے آنکھ کا آپریشن کیا، سرجری اور ایک رات اسپتال میں قیام کے بعد مطمئن حالت میں مریضہ کو ڈسچارج کر دیا گیا۔

    واضح رہے کہ 17 جنوری 2025 کو احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بالترتیب 14 اور 7 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان پر 10 لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا تھا اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 6 ماہ قید ہوگی، اسی طرح بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ کردیا گیا تھا اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 3 ماہ قید ہوگی۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلہ

    ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلہ

    ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں-

    زلزلے کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے زلزلہ پیما مرکز نے خیبرپختونخوا میں آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.4 ریکارڈ کی جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں آنے والے زلزلے کی شدت 5.5 بتائی گئی، زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش ریجن تھا اور اس کی زیر زمین گہرائی 199 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

    پشاور مردان، دیر اپر، دیر لوئر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالاکوٹ، کاغان اور ہری پور میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اسی طرح صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، شانگلہ، چترال، باجوڑ، کرم، پاراچنار، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان ، ملاکنڈ، سوات، سیدو شریف، بریکوٹ، کالام، سخاکوٹ اور درگئی سمیت دیگر علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف کی فضا قائم ہوگئی تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے علاقے پسنی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جہاں ریکٹر اسکیل پر شدت 4.5 ریکارڈ کی گئی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 13 کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز پسنی سے 48 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا۔

    ادھر کراچی کے علاقے ملیر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 3.4 ریکارڈ کی گئی ہےزلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جب کہ اس کا وقت دوپہر 1 بج کر 13 منٹ ریکارڈ کیا گیا اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

  • اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

    اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایران اور امریکی وفود کی ممکنہ آمد کے پیش نظر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور پولیس کی جانب سے شہریوں کو اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

    نجی خبررساں ادارے نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نور خان ائیربیس اور اسلام آباد ائیرپورٹ کے اطراف سیکورٹی ریڈ الرٹ کردی، ائیربیس کے ارگرد علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات اعلیٰ سطح کے وفود کے طیاروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہیں، گھروں کی چھتوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

    سیکیورٹی اقدامات سے متعلق بتایا گیا کہ تھانہ نیوٹان، صادق آباد اور چکلالہ کی حدود میں اسپیشل سیکیورٹی حالات نافذ کردیے گئے ہیں، راولپنڈی پہلے مرحلے میں تین تھانوں کی حدود میں رات 12 بجے سے تاحکم ثانی ریسٹورنٹس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ریسٹورنٹس، پارکس، بیوٹی پارلرز، مارکیٹس بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پولیس ذرائع نے بتایا کہ اسنوکر کلبز، فٹنس جمز، پان شاپس، کھوکھے، باربر شاپس، بینک اور بیکریاں بھی تاحکم ثانی بند رکھی جائیں گی، اسی طرح ڈرون اڑانے، ہوائی فائرنگ، کبوتر بازی پر مکمل پابندی ہوگی اور پولیس نے تمام مارکیٹس میں انتباہی نوٹس تقسیم کرنا شروع کر دیے ہیں،احکامات پر عمل نہ کرنے کی ضرورت میں سخت کارروائی کی تنبیہ بھی کردی گئی، پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کی بندش کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔

    ذرائع نے بتایا کہ روٹس پر واقع عمارتوں کے مالکان سے سرٹیفکیٹس لینے کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور وفود کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات، روٹ پر آنے والے گھروں، دکانوں، پلازوں اور ہوٹلز کے مالکان ذمہ داریوں کے پابند ہوں گے روٹ کے دوران پارکنگ پر پابندی اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کے لیے سختی، مہمانوں کا مکمل ریکارڈ رکھنا اور روزانہ رپورٹ تھانے میں جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چھتوں، بالکنیوں اور کھڑکیوں سے نقل و حرکت محدود ہوگی اور خلاف ورزی پر مالک ذمہ دار ہوگا، کسی بھی مشکوک سرگرمی یا سیکیورٹی خلل کی صورت میں فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی۔

  • غیرملکی کمپنی کا پاکستان میں الیکٹرک وہیکل لانچ کرنے کا اعلان

    غیرملکی کمپنی کا پاکستان میں الیکٹرک وہیکل لانچ کرنے کا اعلان

    پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی بڑی غیرملکی کمپنی نے آئندہ 4 سے 5 سال کے دوران ملک میں 30 سے 40 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کردیا۔

    سی ای اوانڈس موٹرز علی اصغر جمالی نے میڈیا سے گفتگو کرتے بتایا کہ حکومت سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں الیکٹرک وہیکل لانچ کرنے کیلئے بھی تیار ہیں حکومت پانچ کے بجائے دس سالہ کلیئر آٹو پالیسی کا اعلان کرے انڈسٹری کیلئے پانچ کے بجائے دس سالہ آٹو پالیسی دی جائے، پالیسی میں ابہام نہ ہو بالکل واضح ہو،ٹویوٹا آئندہ 5سال میں 30 سے 40 کروڑ ڈالرکی سرمایہ کاری پاکستان میں کرنا چاہتا ہے۔

    الیکٹرک وہیکل کی ٹیکنالوجی کو دنیا اختیار کر رہی ہے،ای وی کا مستقبل ہے ہم بھی ای وی گاڑی لانچ کریں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزیدکہاشرح سودکم ہونے سے پچھلے تین سال میں آٹو فائنانسنگ ڈبل ہوگئی،گاڑی کیلئے بینک لون کی حد پر 30 لاکھ کی پابندی ختم کرکے اسے ایک کروڑتک کیاجائے۔

    ایکسپورٹ کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں زیادہ گاڑیاں بنیں علی اصغر جمالی نے کہا ملک میں گاڑیوں کے خام مال کی صنعت ہو تاکہ سستے خام مال سے گاڑی کی قیمت کم رہے، جن ممالک کو ایکسپورٹ کریں وہاں ہماری گاڑی پرٹیکس کم ہو،گاڑیاں درآمد کرنے والے ممالک سے حکومت ترجیحی تجارت کے معاہدے کرے-

  • ننکانہ صاحب: واسا سیوریج سسٹم کی ناقص کارکردگی، شہری زندگی متاثر

    ننکانہ صاحب: واسا سیوریج سسٹم کی ناقص کارکردگی، شہری زندگی متاثر

    احسان اللہ ایاز نامہ نگار باغی ٹی وی ننکانہ صاحب
    واسہ (WASA) کے سیوریج سسٹم کی ناقص کارکردگی بالخصوص ننکانہ صاحب جیسے جسے انٹرنیشنل شہر بھی کہا جاتا واسا کی کارکردگی نے عوامی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اس حوالے سے ایک تفصیلی نوٹ پیش ہےواسہ (WASA) کے سیوریج سسٹم کی ناقص کارکردگی ایک جائزہ بنیادی مسائل اوروجوہات
    واسہ کے نظام میں خرابی کی کئی وجوہات ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کر چکی ہیں فرسودہ انفراسٹرکچر شہروں کی آبادی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہےجبکہ سیوریج کی لائنیں وہی دہائیوں پرانی ہیں جو اب بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہیں
    پلاننگ کا فقدان نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا قیام بغیر کسی جامع نکاسیِ آب کے منصوبے کے کیا جا رہا ہے، جس سے مین لائنوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے
    مشینری کی کمی اکثر علاقوں میں ڈسپوزل پمپس خراب رہتے ہیں یا بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کام نہیں کر پاتے عوامی صحت پر اثرات ناقص سیوریج سسٹم صرف بدبو کا باعث نہیں بنتا بلکہ یہ انسانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہےبیماریوں کا پھیلاؤ گندا پانی سڑکوں پر جمع ہونے سے مچھروں اور مکھیوں کی افزائش ہوتی ہے، جس سے ڈینگی، ملیریا، ہیضہ اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں پینے کے پانی کی آلودگی اکثر مقامات پر سیوریج کی لائنیں اور پینے کے پانی کی پائپ لائنیں ساتھ ساتھ گزرتی ہیں لیکیج کی صورت میں گندا پانی پینے کے صاف پانی میں شامل ہو کر اسے زہریلا بنا دیتا ہے بارشوں کے دوران سنگین صورتحال
    مون سون کے دوران واسہ کی کارکردگی کا پول کھل جاتا ہے معمولی بارش کے بعد بھی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں، جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور قیمتی جانی و مالی نقصان ہوتا ہے
    بجلی کا شارٹ سرکٹ گلیوں میں جمع پانی کی وجہ سے بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ آنے کے واقعات کثرت سے رونما ہوتے ہیں اس بحران سے نکلنے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں نئی پائپ لائنوں کی تنصیب بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے سیوریج لائنوں کا قطر (Diameter) بڑھایا جائےجدید مشینری کا استعمال نالوں کی صفائی کے لیے پرانے طریقوں کے بجائے جدید سکشن اور جیٹنگ مشینوں کا استعمال کیا جائے
    عوامی شعور شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ کچرا اور پلاسٹک کے شاپر نالوں میں نہ پھینکیں، کیونکہ یہ لائنوں کے بند ہونے کی سب سے بڑی وجہ بنتے ہیں واسہ کے سیوریج سسٹم کی بہتری کے لیے صرف ہنگامی اقدامات کافی نہیں، بلکہ ایک طویل مدت اور پائیدار پالیسی کی ضرورت ہے جب تک بجٹ کا درست استعمال اور افسران کی جوابدہی یقینی نہیں بنائی جائے گی، شہری اس اذیت سے نجات حاصل نہیں کر سکیں گے