Baaghi TV

Blog

  • سب سے زیادہ بھکاری بھارت کی کس ریاست میں

    سب سے زیادہ بھکاری بھارت کی کس ریاست میں

    بھارت میں مندروں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں، ٹریفک سگنلز اور بازاروں کے باہر بھیک مانگتے افراد ایک عام منظر ہیں۔ مگر بھارت کی کس ریاست میں سب سے زیادہ بھکاری پائے جاتے ہیں؟ اور یہ لوگ ایک ماہ میں کتنی کمائی کر لیتے ہیں؟ اس حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

    بھارت میں بھکاریوں سے متعلق سب سے مستند اعداد و شمار 2011 کی مردم شماری میں سامنے آئے تھے۔ اس سرکاری ڈیٹا کے مطابق ملک بھر میں بھکاریوں کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 13 ہزار 670 تھی۔ ان میں 2 لاکھ 21 ہزار 673 مرد جبکہ 1 لاکھ 91 ہزار 997 خواتین شامل تھیں۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار پرانے ہیں، تاہم اس موضوع پر یہی آخری جامع سرکاری ریکارڈ تصور کیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سب سے زیادہ بھکاریوں کی تعداد مغربی بنگال میں پائی جاتی ہے، جہاں یہ تعداد 81 ہزار 244 بتائی گئی۔دوسرے نمبر پر اتر پردیش ہے، جہاں 65 ہزار 835 بھکاری موجود ہیں۔تیسرے نمبر پر آندھرا پردیش ہے، جہاں بھکاریوں کی تعداد 30 ہزار 218 ریکارڈ کی گئی۔بہار میں 29 ہزار 723،مدھیہ پردیش میں 28 ہزار 695،راجستھان میں 25 ہزار 853 بھکاری ہیں،یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھیک مانگنا صرف ایک یا دو ریاستوں کا مسئلہ نہیں بلکہ بھارت کے مختلف علاقوں میں ایک سنجیدہ سماجی چیلنج بن چکا ہے۔

    بھکاریوں کی آمدنی سے متعلق کوئی باضابطہ سرکاری ڈیٹا موجود نہیں، کیونکہ یہ مکمل طور پر مقام، شہر، رش اور لوگوں کے رویے پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم مختلف اندازوں کے مطابق ایک عام بھکاری روزانہ 100 سے 500 بھارتی روپے تک کما لیتا ہے۔اس حساب سے ان کی ماہانہ آمدنی 3 ہزار سے 15 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے۔جبکہ دہلی، ممبئی، کولکتہ اور لکھنؤ جیسے بڑے شہروں میں بعض بھکاری روزانہ 500 سے 1000 روپے تک بھی کما لیتے ہیں، جس سے ان کی ماہانہ آمدنی 15 ہزار سے 30 ہزار روپے تک جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق بھیک مانگنے کے پیچھے صرف غربت ہی وجہ نہیں، بلکہ بے روزگاری، تعلیم کی کمی، معذوری، سماجی ناانصافی اور بعض اوقات منظم بھکاری مافیا بھی اہم عوامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف خیرات نہیں بلکہ مؤثر سماجی اور معاشی پالیسیوں میں پوشیدہ ہے۔

  • اوکاڑہ: گندم خریداری مراکز پر سہولیات اور شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت

    اوکاڑہ: گندم خریداری مراکز پر سہولیات اور شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر مرزا راحیل بیگ کا گندم خریداری مراکز میں انتظامات کا جائزہ، اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ محکمہ خوراک کے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے لیے مناسب بیٹھنے کے انتظامات، صاف پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گندم خریداری مراکز پر آنے والے کاشتکاروں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی اہم ذمہ داری ہے۔ مرزا راحیل بیگ نے مزید ہدایت کی کہ گندم کی خریداری کا عمل شفاف اور میرٹ کے مطابق یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی شکایت کی صورت میں فوری ازالہ کیا جائے گا۔ اسسٹنٹ کمشنر مرزا راحیل بیگ نے کہا کہ حکومتی پالیسی کے مطابق گندم کی خریداری کے عمل کو شفاف اور سہل بنایا جائے گا اور کسی بھی غفلت یا کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

  • ایران میں 6 ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے کا اعلان

    ایران میں 6 ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے کا اعلان

    ایران نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ بندی کے تسلسل کے دوران چھ اہم ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے،

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی ایئرلائنز ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ تہران کے دو بڑے ہوائی اڈے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور مہرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ساتھ ساتھ مشہد، بیرجند، گرگان اور زاہدان کے ہوائی اڈے بھی دوبارہ آپریشن شروع کریں گے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے ملک کے مشرقی حصے میں اپنی فضائی حدود کو جزوی طور پر کھول دیا ہے، جس کے بعد فضائی آپریشنز کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا۔

    یاد رہے کہ امریکا و اسرائیل کے حملے کے آغاز کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود شہری پروازوں کے لیے بند کر دی تھی۔ تاہم 8 اپریل سے جاری دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد خطرے کی سطح میں کمی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز 2026 کا انعقاد

    تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز 2026 کا انعقاد

    تربت – تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز کامیابی سے منعقد کی گئی، جو بین الاقوامی سول ایویشن آرگنائزیشن کے معیار اور قومی فضائی حفاظتی تقاضوں کے مطابق تھی۔

    اس مشق کا مقصد کرائسز اینڈ ایمرجنسی رسپانس پلان کی افادیت کا جائزہ لینا تھا، جس میں رابطہ، کمانڈ، ہم آہنگی اور ردعمل کے وقت پر خصوصی توجہ دی گئی۔تقریب میں کمانڈنگ آفیسر پی این ایس صدیق، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ، او سی اے ایس ایف، جی ون آرمی ایف او بی سمیت دیگر اہم نمائندگان نے شرکت کی۔ ایئرپورٹ منیجر محمد الیاس بریچ نے بریفنگ اور ڈی بریفنگ دی جبکہ ایئر سائیڈ پر ہنگامی صورتحال کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا گیا۔ اس مشق میں پی اے اے ریسکیو اینڈ فائر فائٹنگ سروسز، پاکستان آرمی، پاکستان نیوی، اے ایس ایف اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ ایڈمنسٹریشن نے حصہ لیا۔یہ مشق ہنگامی ردعمل کے نظام کو جانچنے، بروقت رسائی کو یقینی بنانے اور معمولی خامیوں کی نشاندہی کے ذریعے فضائی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے میں کامیاب رہی۔

  • بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی کے انکشافات

    بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی کے انکشافات

    بی ایل ایف کی خاتون خود کش بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی نے انکشافات کئے ہیں

    رحیمہ بی بی (دالبندین) کا کہنا ہے کہ شادی اپریل 2025 میں منظور احمد سے ہوئی۔ بعد میں گھر میں ایک نامعلوم خاتون (زرینہ) کی آمد، شوہر کا اس کے ساتھ مشکوک روابط اور موبائل فون کے استعمال پر شکوک پیدا ہوئے۔ خاتون کو کچھ دن بعد افغانستان لے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ نومبر-دسمبر 2025 میں شوہر افغانستان فرار ہو گئے اور مبینہ طور پر رابطے کے بعد گرفتاری بھی ہوئی۔ رحیمہ بی بی نے الزام لگایا کہ شوہر نے ذمہ داری سے انکار کیا اور والدین سے اپیل کی کہ رشتے سے پہلے مکمل جانچ پڑتال کی جائے،رحیمہ بی بی کے مطابق بعد میں معلوم ہوا کہ وہی عورت مبینہ طور پر ایک خودکش حملے سے جڑی تھی۔ ان کے شوہر پر سنگین الزامات اور تعلقات کے دعوے کیے گئے ہیں، جبکہ وہ شہریوں سے اپیل کرتی ہیں کہ رشتہ کرنے سے پہلے مکمل جانچ پڑتال کریں،بیان کے آخر میں وہ کہتی ہیں کہ ان کا شوہر بعد میں مکمل طور پر غائب ہو گیا اور مبینہ طور پر افغانستان چلا گیا، جبکہ وہ خود قانونی اور سماجی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ وہ والدین سے درخواست کرتی ہیں کہ شادی سے پہلے مکمل تصدیق اور احتیاط کو لازمی سمجھیں

    بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ایک خاتون کی گرفتاری کے بعد اہم پریس کانفرنس میں ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے دہشت گرد تنظیموں کے طریقہ کار، خواتین کے استحصال اور خطے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک سے متعلق کئی سوالات کو اجاگر کر دیا ہے۔پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ بعض شدت پسند عناصر خواتین کو سماجی، نفسیاتی اور جنسی استحصال کا نشانہ بنا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق خواتین کو کمزور طبقہ سمجھ کر ان پر ذہنی دباؤ ڈالا جاتا ہے، انہیں مخصوص بیانیے کے تحت متاثر کیا جاتا ہے اور پھر دہشت گرد سرگرمیوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔پریس کانفرنس میں ایک اہم انکشاف یہ بھی کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنی اہلیہ رحیمہ کا موبائل نمبر جان بوجھ کر دہشت گرد تنظیموں اور ایک خاتون خودکش بمبار سے رابطوں کے لیے استعمال کیا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند نیٹ ورک بی ایل اے اور بی ایل ایف اپنے قریبی رشتوں تک کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔حکام کے مطابق زرینہ رفیق نامی خاتون کچھ عرصہ مذکورہ افراد کے گھر میں مقیم رہی، جس کے بعد اسے افغانستان میں موجود تربیتی کیمپ بھیجا گیا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ یہ واقعہ اس تاثر کی نفی کرتا ہے کہ خواتین ہمیشہ گھروں تک محدود رہتی ہیں، جبکہ بعض عناصر اس حقیقت کے برعکس مخصوص سیاسی بیانیہ تشکیل دے کر ریاست اور حکومت کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

    پریس کانفرنس میں ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا گیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ حکام نے کہا کہ سرحد پار موجود تربیتی مراکز اور سہولت کار پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے شواہد مختلف کارروائیوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔حکام نے خواتین کو دہشت گردی میں استعمال کرنے کے ایک منظم ماڈل کی بھی نشاندہی کی، جس کے مطابق پہلے مرحلے میں ذہنی گمراہی، نفرت انگیز سوچ، انتہا پسندی اور نظریاتی تربیت کی جاتی ہے۔دوسرے مرحلے میں بھرتی، عملی تربیت اور کارروائی کے لیے تیاری مکمل کی جاتی ہے۔اگر کارروائی کامیاب ہو جائے تو خاتون کو مزاحمت کی علامت بنا کر مزید بھرتی اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اگر کارروائی ناکام ہو جائے یا گرفتاری عمل میں آ جائے تو تنظیمیں لاتعلقی اختیار کر لیتی ہیں اور ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی جاتی ہے۔

    پریس بریفنگ میں کہا گیا کہ خواتین کو خودکش حملوں یا دہشت گرد سرگرمیوں میں استعمال کرنا بلوچ ثقافت، قبائلی روایات اور مذہبی تعلیمات کے منافی ہے۔ حکام کے مطابق بلوچ معاشرہ خواتین کے احترام، عزت اور تحفظ کا داعی رہا ہے، جبکہ مذہب بھی بے گناہ جانوں کے قتل اور فساد کی اجازت نہیں دیتا۔حکام نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے اور خواتین سمیت نوجوانوں کو گمراہ کرنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں تاکہ دہشت گردی کے خطرات کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔

    پریس کانفرنس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ خواتین اور نوجوانوں کو شدت پسند بیانیوں سے بچانے کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے، تعلیمی و سماجی اداروں کو فعال کردار دیا جائے اور متاثرہ علاقوں میں روزگار و تعلیم کے مواقع بڑھائے جائیں تاکہ انتہا پسند عناصر کو جگہ نہ مل سکے۔

  • امریکا پر اعتماد شکرنی،ایران کا دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ

    امریکا پر اعتماد شکرنی،ایران کا دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ

    ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں دوبارہ نافذ کی جا رہی ہیں۔ ایرانی حکام نے اس اقدام کی وجہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود بار بار اعتماد شکنی اور وعدہ خلافی کو قرار دیا ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مکمل نگرانی قائم کر دی گئی ہے اور اگر مبینہ بحری ناکہ بندی جاری رہی تو اس راستے سے گزرنے والی بحری نقل و حرکت کو غیر مؤثر تصور کیا جائے گا۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ آبنائے ہرمز ٹریفک کے لیے کھلی ہے، تاہم چند گھنٹوں بعد سرکاری میڈیا نے نئی پابندیوں کی تصدیق کر دی۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تہران کے ساتھ مکمل معاہدہ نہیں ہو جاتا۔

    دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ناکام ہونے کے بعد یہ واضح نہیں کہ آئندہ مذاکرات کب اور کہاں ہوں گے۔

    ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ تہران نے محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، لیکن امریکا مبینہ طور پر ناکہ بندی کے نام پر بحری قزاقی اور جہازوں کی غیر قانونی روک تھام جاری رکھے ہوئے ہے۔ترجمان کے مطابق جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز ایرانی افواج کے سخت کنٹرول میں رہے گی۔

  • روس میں عوامی بے چینی میں اضافہ، معروف بلاگرز کی صدر پیوٹن پر کڑی تنقید

    روس میں عوامی بے چینی میں اضافہ، معروف بلاگرز کی صدر پیوٹن پر کڑی تنقید

    روس میں بڑھتی معاشی مشکلات، انٹرنیٹ پابندیوں اور یوکرین جنگ کے طویل اثرات کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ پہلی بار معروف سوشل میڈیا شخصیات اور بلاگرز بھی روسی صدر پر کھل کر تنقید کرنے لگے ہیں۔

    روسی بیوٹی انفلوئنسر وکٹوریہ بونیا نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام میں صدر پیوٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “لوگ آپ سے ڈرتے ہیں، بلاگرز ڈرتے ہیں، فنکار ڈرتے ہیں، گورنرز ڈرتے ہیں، اور آپ ہمارے ملک کے صدر ہیں۔”انہوں نے اپنے پیغام میں روس کے مختلف مسائل کا ذکر کیا، جن میں داغستان میں سیلاب سے نمٹنے میں سست ردعمل، سائبیریا میں مویشیوں کی ہلاکتوں کا مبینہ ناقص انتظام، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑھتی پابندیاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں کے باعث لوگ اپنے پیاروں سے رابطہ بھی نہیں کر پا رہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ “ہم اب آزاد ملک میں نہیں رہ رہے۔”

    وکٹوریہ بونیا کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کی، جسے کروڑوں بار دیکھا گیا جبکہ ہزاروں افراد نے ان کی جرات کو سراہا۔اسی دوران ایک اور معروف روسی انفلوئنسر عائزہ نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹیلیگرام پر پابندیاں روسی معیشت کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ انہوں نے ملک میں ٹیکسوں، عدم مساوات اور اشرافیہ کی دولت پر بھی سوالات اٹھائے۔

    ماہرین کے مطابق روس میں انٹرنیٹ بندشیں اور ٹیلیگرام پر قدغنیں عوامی ردعمل کو مزید تیز کر رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی معاشرے میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں لوگ مسلسل جنگ، معاشی دباؤ اور آزادیوں میں کمی سے تھک چکے ہیں۔

    کریملن کے ترجمان نے بلاگرز کی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا اور ان پر کام جاری ہے۔دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عوام موجودہ صورتحال کو عارضی بحران کے بجائے مستقل نظام سمجھنے لگے تو صدر پیوٹن کی مقبولیت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

  • ایئر انڈیا کا پائلٹ مسافر بن کر "چرس” لے گیا،امریکہ نے واپس بھجوا دیا

    ایئر انڈیا کا پائلٹ مسافر بن کر "چرس” لے گیا،امریکہ نے واپس بھجوا دیا

    بھارتی ایئرلائن ایئر انڈیا کے ایک پائلٹ کو، جو بطور مسافر دہلی سے سان فرانسسکو جانے والی پرواز میں سفر کر رہا تھا، امریکی حکام نے مبینہ طور پر چرس رکھنے کے الزام میں روک لیا اور واپس بھارت بھیج دیا۔

    ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ 14 اپریل کو پیش آیا جب پائلٹ اگلی پرواز کی ڈیوٹی کے لیے جا رہا تھا۔ ایئر لائن کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ عملے کے ایک رکن کو مقامی قوانین کے مطابق امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی اور اسے واپس بھارت بھیج دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ کو پائلٹ کے پاس مبینہ طور پر چرس موجود تھی۔ واقعے کے بعد پائلٹ کو ڈیوٹی شیڈول سے ہٹا دیا گیا ہے۔ترمان کے مطابق یہ پائلٹ "ڈیڈ ہیڈنگ” پر تھا، جس کا مطلب ہے کہ وہ بطور مسافر اپنی آئندہ ڈیوٹی کے مقام پر جا رہا تھا۔ اس معاملے کی اندرونی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    ایئر انڈیا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ قوانین کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتی ہے اور حفاظتی و پیشہ ورانہ معیارات پر سختی سے عمل کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق، قواعد کے مطابق سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

  • کراچی میں شہریوں کو پولیس افسر بن کر لوٹنے والا 3 رکنی گروہ گرفتار

    کراچی میں شہریوں کو پولیس افسر بن کر لوٹنے والا 3 رکنی گروہ گرفتار

    کراچی کے علاقے قائد آباد میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کو پولیس اور حساس اداروں کے افسران بن کر لوٹنے والے 3 رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں گروہ کا سرغنہ ابوبکر جبکہ اس کے ساتھی نصیر احمد اور محمد حسن شامل ہیں، جو گزشتہ 7 سال سے مختلف نوعیت کے فراڈ میں ملوث تھے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان شہریوں کو فون کالز کے ذریعے خود کو پولیس اور حساس اداروں کا افسر ظاہر کر کے ہراساں کرتے، دھمکاتے اور ان کے بینک اکاؤنٹس سے رقوم منتقل کروا لیتے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گروہ اب تک کروڑوں روپے کا فراڈ کر چکا ہے۔

    تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ گرفتار افراد آن لائن پروڈکٹس کی فروخت کے نام پر بھی شہریوں سے رقم وصول کرتے رہے۔ اس کے علاوہ وہ بڑی مقدار میں اشیاء کا آرڈر دے کر سامان حاصل کرتے اور ادائیگی کیے بغیر فرار ہو جاتے تھے۔حکام نے انکشاف کیا کہ گروہ مختلف موبائل سمز استعمال کر کے شہریوں کو نشانہ بناتا تھا۔ محمد حسن اور نصیر احمد، جو ایک سیلولر کمپنی فرنچائز سے وابستہ ہیں، سرغنہ ابوبکر کو جعلی ناموں پر سمز فراہم کرتے تھے اور غیر قانونی طور پر سمز ایکٹیویٹ کرنے میں بھی ملوث تھے۔پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ مزید تحقیقات اور دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے

  • امریکا میں 35 سال سے مقیم بھارتی نژاد خاتون گرفتار

    امریکا میں 35 سال سے مقیم بھارتی نژاد خاتون گرفتار

    امریکا میں گزشتہ 35 برس سے رہائش پذیر بھارتی نژاد خاتون مینو بترا کو امریکی امیگریشن حکام نے گرفتار کر لیا، جبکہ ان کی ممکنہ ملک بدری کے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 53 سالہ مینو بترا کو 17 مارچ کو ہارلنجن انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ایک عدالتی کام کے سلسلے میں سفر کر رہی تھیں،مینو بترا کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکام کو اپنا قانونی اسٹیٹس اور ورک پرمٹ دکھانے کی کوشش کی، تاہم اس کے باوجود انہیں ہتھکڑیاں لگا کر گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں ایل ویلے حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا،بھارتی میڈیا کے مطابق مینو بترا ٹیکساس میں پنجابی، ہندی اور اردو کی واحد لائسنس یافتہ عدالتی ترجمان ہیں۔ انہوں نے جیل عملے سے گفتگو میں اپنی گرفتاری کو "عجیب اور غیر منطقی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے،مینو بترا نے الزام عائد کیا کہ گرفتاری کے بعد انہیں 24 گھنٹے تک نہ کھانا دیا گیا، نہ پانی فراہم کیا گیا اور نہ ہی ادویات دی گئیں۔ ان کے مطابق اہلکاروں نے ان کی ہتھکڑیوں میں تصاویر بھی بنائیں، جسے انہوں نے تذلیل آمیز رویہ قرار دیا۔

    رپورٹس کے مطابق مینو بترا 1991 میں امریکا گئی تھیں اور جنوبی ٹیکساس میں اپنی زندگی کا بڑا حصہ گزارا۔ انہوں نے اپنے 4 بچوں کی پرورش کی، جبکہ ان کا ایک بیٹا حال ہی میں امریکی فوج میں شامل ہوا ہے۔مینو بترا کے وکیل کے مطابق سن 2000 میں عدالت نے حکم دیا تھا کہ انہیں بھارت واپس نہ بھیجا جائے کیونکہ وہاں انہیں خطرات لاحق تھے، تاہم اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی حکومت انہیں کسی تیسرے ملک بھیج سکتی ہے۔تاحال امریکی حکام کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مینو بترا کو کہاں ڈی پورٹ کیا جائے گا، جس کے باعث معاملہ مزید پیچیدہ صورت اختیار کر گیا ہے۔