Baaghi TV

Blog

  • وفاقی آئینی عدالت، بھارت، اسرائیل سے اشیاء کی درآمد پر عائد پابندی درست قرار

    وفاقی آئینی عدالت، بھارت، اسرائیل سے اشیاء کی درآمد پر عائد پابندی درست قرار

    وفاقی آئینی عدالت نے بھارت اور اسرائیل سے کتابوں سمیت دیگر اشیاء کی درآمد پر عائد پابندی درست قرار دیدی۔

    لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے حکومت کو دی گئی تمام ہدایات کالعدم قرار دیدی گئیں، ہائیکورٹ کا حکم "سوموٹو” قرار دیکر ختم کردیا گیا۔وفاقی آئینی عدالت نے بھارت اور اسرائیل سے درآمد پر پابندی درست قرار دیدی، جسٹس عامر فاروق کا تحریر کردہ فیصلہ جاری کردیا گیا، جسٹس علی باقر نجفی کا اضافی نوٹ بھی فیصلے میں شامل ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ کی حکومت کو دی گئی تمام ہدایات کالعدم قرار دیتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا حکم ’’سوموٹو‘‘ قرار دے کر ختم کردیا گیا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو نظرثانی کیلئے افسر مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے پاس اپنے طور پر کارروائی کا اختیار نہیں، خارجہ پالیسی، قومی سلامتی ایگزیکٹو کا اختیار ہیں، عدلیہ مداخلت نہیں کرسکتی۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کن ممالک سے تجارتی تعلقات رکھنے ہیں؟، یہ حکومت کی صوابدید ہے، نجی درخواست گزار شکایات کے حل کیلئے حکومت سے رجوع کرنے میں آزاد ہیں، اگر عدلیہ تجارت سے متعلق احکامات دے گی تو یہ اختیارات سے تجاوز ہوگا۔

  • کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی،تحریر:ملک سلمان

    کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی،تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی دوسال کی کارگردگی کی دھوم ناصرف پنجاب اور پورے پاکستان بلکہ دنیا کے متعدد ممالک تک جاپہنچی۔ فلاحی و ترقیاتی کاموں کی ایسی تاریخ رقم کی, جس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ ایسے میں ہر کوئی مریم نواز کی کارگردگی کا معترف نظر آرہا تھا۔ دو سال کے مختصر دورانیے میں پنجاب کی بے مثال ترقی نے پنجاب اور پاکستانی عوام کو ان کا گرویدہ بنا لیا تھا دیگر صوبوں کی عوام کہتے تھے کہ خداداصلاحیتوں اور عوامی فلاح و بہبود کی تاریخ رقم کرنی والی مریم نواز کو وزیراعظم ہونا چاہئے تاکہ پورے پاکستان کی تقدیر بدل جائے۔
    مریم نواز شریف طلبہ و طالبات کی پسندیدہ سیاسی شخصیت بن چکی تھیں۔

    بدقسمتی سے کتے کے کاٹنے سے ایک بچے کی ہلاکت کا واقع ہوتا ہے تو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف انتظامی افسران کی سخت سرزنش کرتی ہیں کہ پنجاب کے ہر بچے اور شہری کی حفاظت کو پہلی ترجیح بنایا جائے ساتھ ہی انہوں نے انتظامی افسران کو وارننگ جاری کی کہ کہیں بھی انسانی جان کا نقصان ہوا تو متعلقہ افسر کو سزا ملے گی۔
    شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے زخمی کتوں کا علاج معالجہ اور انکی ویکسینیشن کرنے کی بجائے ہمیشہ سے اپنی ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی ماہر بیوروکریسی نے انسانیت اور ضمیر کو مردہ کرکے وحشی جلاد کا روپ دھار لیا اور کتوں کی لاشوں کے ڈھیڑ لگادیے۔ ستھرا پنجاب جس کی دھوم مچی ہوئی تھی اس کے ورکرز کے ہاتھوں میں جھاڑو کی بجائے بندوق دے کر کتے مارنے پر لگادیا گیا جبکہ کچرا اٹھانے والی گاڑیوں میں کتوں کی لاشوں کی تصایر کو قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کے ساتھ شئیر کیا۔

    معصوم و بے زبان کتوں کے قتل عام نے ہر باضمیر انسان کو دکھی کردیا۔
    گذشتہ دنوں ایک دوست ملنے آئے تو کہنے لگے کہ چند دن قبل ڈپٹی کمشنرز کے انٹرویو تھے تو اس نے ڈی سی شپ سے انکار کردیا کہ اگر ڈی سی لگ کر ان معصوم جانوں کو قتل کرنا ہے تو ایسی ڈی سی شپ سے معذرت۔
    لاکھوں طلبہ و طالبات نے سوشل میڈیا پر
    ” 💔Broken Heart💔“
    کے ساتھ "سٹاپ ڈاگ کلنگ” کے سٹیٹس لگائے۔ ہزاروں طلبہ کے سوشل میڈیا سٹیٹس تھے کہ مریم نواز اگر آپ ان معصوموں کے قتل کا حکم دے رہی ہیں تو
    we no more love you 😞🙏

    اندرون لاہور کی چند خواتین کا انٹرویو وائرل ہورہا ہے کہ کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی، مذکورہ ویڈیو میں خواتین مادر جمہوریت کلثوم نواز کی رحم دلی اور شخصیت کے حوالے سے بتا رہی تھی کہ مرحوم کلثوم نواز تو باقاعدگی سے ان بے گھر کتوں کیلئے روٹی کا اہتمام کرتی تھیں۔مختلف دیہاتوں سے ویڈیوز دیکھنے کو مل رہی ہیں ستھرا پنجاب اور میونسپل کمیٹی کے اہلکار جانوروں کی حفاظت کیلے رکھے گئے پالتو کتوں کو بھی زہر دے کر چلے گئے۔

    سپیشل برانچ اور انٹیلیجنس بیورو سے رپورٹ لیں آپ کو خوفناک حقائق ملیں گے کہ کتوں کو مارنے کے واقعات کے دوران کتنے شہری فائرنگ سے زخمی ہوئے اسی طرح کتوں کو مارنے کیلئے پھینکے گئے strychnine زہر سے چار بچوں کی ہلاکت اور درجنوں بچوں کے ہسپتال میں جانے کی اطلاعات ہیں۔ فائرنگ اور زہر سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کا کون ذمہ دار؟پنجاب بھر کے اضلاع کیلے ایک ہی ٹھیکیدار سے خریدے گئے strychnine زہر کی وجہ سے فضا زہریلی ہوچکی ہے۔

    جب سے کتا مار مہم شروع گئی کی گئی ہے تب سے کتا کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والا کتا اگر مرتا نہیں ہے تو وہ زخموں کی وجہ سے باؤلا ہو جاتا ہے ۔
    گزارش ہے کہ کتوں کو فائرنگ اور زہر سے باؤلا کرنے یا تڑپا تڑپا کر مارنے کی بجائے ویکسینیشن کریں۔

    وزیر اعلیٰ تک کوئی بھی حقائق پہنچانے کی زحمت نہیں کرتا کہ آج تک کسی صحت مند کتے نے کسی شہری کو نہیں کاٹا بلکہ جتنے بھی واقعات ہوئے اس کے پس منظر میں پہلے محلے داروں نے ان کتوں کو زخمی کیا اور پھر وہ انہی زخموں کا علاج نہ ہونے سے باؤلے ہوگئے اور باؤلے پن میں شہریوں پر حملہ کیا۔ بے شمار واقعات ہیں جہاں کتوں نے انسانوں سے دوستی نبھاتے ہوئے جان دے دی۔ لیکن انسان انتہائی ناشکرا ہے 99نیکیاں بھول جاتا ہے اور ایک برائی یاد رکھتا ہے۔

    کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کر دینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں اس لیے کتوں کو مارنے اور ان کے کیلئے شہر سے باہر شیلٹر ہوم بنانے کی بجائے ان کی ویکسینیشن کرنی چاہئے۔ مغربی ممالک میں جتنے بھی شیلٹر ہوم ہیں وہ انسانی آبادی میں بنائے جاتے ہیں صرف موذی مرض میں مبتلا کتوں کیلئے ریہبلیٹیشن سینٹر دوردراز جگہ ہوتے ہیں۔ زخمی اور بیمار کتوں کو ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فرام کیا جائے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹے گے نہیں۔جبکہ صحت مند کتوں کو ویکسینیشن اور ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے نا کہ ان کا قتل عام اور شہرسے باہر جنگل میں چھوڑ آنا۔

    بے زبانوں کا قتل عام حل نہیں بلکہ انکی ویکسینیشن کرنی چاہئے تھی۔
    کتا انسان کے ساتھ جذباتی تعلق رکھتا ہے اور انتہائی وفادار ساتھی سمجھا جاتاہے۔
    کتے اور انسانوں کی دوستی ہزاروں سال پرانی ہے، جس کے باعث کتے انسانوں کے ساتھ رہنے اور ان کی زندگی کا حصہ بننے کے عادی ہو چکے ہیں۔کتے انسانوں کے ساتھ ملنے اور انہیں دیکھنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ہزاروں سالوں سے انسانی ابادی میں رہنے والے کتوں کو ختم کرنے سے ایکو سسٹم بری طرح متاثر ہوگا۔ ماضی میں اسی طرح ان سرکاری بے عقلوں نے چیلوں کا خاتمہ کیا تھا تو بعد میں ہمیں بیرون ملک سے چیلیں امپورٹ کرنی پڑی تھی۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • اسلام آباد میں پولیس کا سرچ آپریشن،20 افغانی، 56 مشکوک افراد گرفتار

    اسلام آباد میں پولیس کا سرچ آپریشن،20 افغانی، 56 مشکوک افراد گرفتار

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فول پروف سکیورٹی انتظامات۔ آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کے احکامات پر اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مشترکہ گرینڈ کومبنگ سرچ آپریشنز جاری ہے

    اسلام آباد تھانہ کرپا، سمبل، سکریٹریٹ، کھنہ، انڈسٹریل ایریا، بنی گالہ اور تھانہ ترنول کے علاقوں میں سرچ آپریشنز کئے گئے۔سرچ آپریشنز ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد قاضی علی رضا کی سپرویژن اور زونل ایس پیز کی زیرِ نگرانی کیے گئے جس میں لیڈیز پولیس نے حصہ لیا۔سرچ آپریشن کے دوران 712 افراد، 1108 گھرانوں، 182 دکانوں، 32 ہوٹلز، 381 موٹر سائیکلز اور 141 گاڑیوں کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی۔20 افغانی، 56 مشکوک افراد، 02 گاڑیاں اور 47 موٹر سائیکلز کو مزید جانچ پڑتال کے لیے متعلقہ تھانوں میں منتقل کیا گیا۔ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے ملزمان کو گرفتار کر کے مختلف بور کے 04 عدد پستول معہ ایمونیشن برآمد کیے۔ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر مؤثر چیکنگ کے لیے خصوصی چیکنگ پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں۔ تمام پٹرولنگ یونٹس اور خصوصی سکواڈ شہر بھر میں گشت کر رہے ہیں۔سینئر افسران فیلڈ میں موجود رہتے ہوئے سکیورٹی انتظامات کا ازخود جائزہ لے رہے ہیں، شہری چیکنگ کے دوران پولیس سے تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔ اسلام آباد پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنا رہی ہے۔

  • بشریٰ بی بی کی آنکھ کا آپریشن، دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا

    بشریٰ بی بی کی آنکھ کا آپریشن، دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا

    بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری کے حوالے سے سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے باضابط اعلامیہ جاری کیا ہے

    اعلامیہ کے مطابق بشری بی بی نے دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی شکایت کی،جیل انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ماہرین چشم سے معائنہ کرایا،دائیں آنکھ میں ریٹینل ڈیٹچمنٹ (Retinal Detachment)تشخیص ہوا، تشخیص کے پیش نظر ڈاکٹرز نے سرجری کا مشورہ دیا،16 اپریل کی شام مریضہ کو راولپنڈی کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا، سرجری سے قبل ضروری ٹیسٹ اور طبی معائنہ مکمل کیا گیا،مریضہ نے آپریشن کی رضامندی دی، سرجری پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پینل نے انجام دی، سرجری اور ایک رات ہسپتال قیام کے بعد مطمئن حالت میں مریضہ کو ڈسچارج کر دیا گیا، مریضہ کو واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے،آپریشن کے بعد کے معائنے اور فالو اپ ڈاکٹرز کے مشورے مطابق کیے جائیں گے،

  • نورپور شاہاں میں سی ڈی اے کا بڑا آپریشن، 300 ایکڑ سرکاری زمین واگزار

    نورپور شاہاں میں سی ڈی اے کا بڑا آپریشن، 300 ایکڑ سرکاری زمین واگزار

    سی ڈی اے کی جانب سے غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے

    نورپور شاہان میں قانونی اور شفاف آپریشن کے ذریعے اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین واگزار کرا لی گئی، جس سے دہائیوں پر محیط غیر قانونی قبضے اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ہوا۔600 ایکڑ پر مشتمل قبضہ شدہ علاقے میں سے 300 ایکڑ زمین واپس حاصل کر لی گئی، جبکہ 3,500 سے زائد غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کر کے قانون کے مطابق کارروائی شروع کر دی گئی۔یہ زمین 1961 تا 1964 کے دوران مکمل معاوضے، نقد رقم اور متبادل زمین کی فراہمی کے ساتھ قانونی طور پر حاصل کی گئی تھی، جس سے تمام دعوے دہائیوں پہلے ہی نمٹا دیے گئے تھے۔ازخود نوٹس کیس نمبر 1 برائے 2011 میں واضح کیا گیا کہ حاصل شدہ زمین مکمل طور پر ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور قابضین کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں۔

    تمام قانونی تقاضے مکمل کیے گئے، دعوے طلب کیے گئے، سماعتیں ہوئیں، اور 19 جنوری 2026 کو تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا، جس کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی۔آپریشن نومبر 2025 سے اپریل 2026 تک پیشگی نوٹس کے ساتھ کیا گیا، رہائشیوں کو اپنے سامان، چھتیں، حتیٰ کہ لوہے کے ڈھانچے خود ہٹانے کے لیے وقت دیا گیا، اس کے بعد مشینری استعمال کی گئی۔زمینی شواہد سے ظاہر ہوا کہ قابضین نے کئی مواد رضاکارانہ طور پر خود ہٹایا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کارروائی مرحلہ وار، انسانی ہمدردی پر مبنی اور پیشگی اطلاع کے ساتھ کی گئی۔تجاوزات میں غیر قانونی فروخت، کرایہ داری اور تجارتی استعمال شامل تھا، جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کر دی گئی ہیں۔ماڈل ولیج (1985) کو مکمل طور پر محفوظ رکھا گیا، کارروائی صرف اس کی مقررہ حدود سے باہر موجود غیر قانونی تجاوزات تک محدود رہی۔

    سی ڈی اے، اسلام آباد انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس نے باہمی تعاون سے ریاستی رٹ بحال کرنے اور عوامی اثاثوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کی۔ غیر قانونی زمینوں پر قبضہ اور متوازی جائیداد بازار کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے، قانون کی حکمرانی قائم رہے گی۔

  • ٹرمپ پر طنز،یوٹیوب نے ایرانی حکومت کاحامی چینل معطل کر دیا

    ٹرمپ پر طنز،یوٹیوب نے ایرانی حکومت کاحامی چینل معطل کر دیا

    ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے ایرانی حکومت کے حامی ایک چینل کو معطل کردیا ہے، جو لیگو اسٹائل مصنوعی ذہانت (اے آئی) ویڈیوز کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مذاق اڑانے کی وجہ سے خاصی شہرت حاصل کرچکا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق مذکورہ چینل پر ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی تھیں جن میں ٹرمپ کو مختلف طنزیہ اور فرضی حالات میں دکھایا جاتا تھا۔ ان ویڈیوز میں جنگی مناظر، عالمی رہنماؤں کے کردار اور سیاسی واقعات کو لیگو اینیمیشن انداز میں پیش کیا جاتا تھا، جس نے سوشل میڈیا صارفین کی بڑی توجہ حاصل کی۔یوٹیوب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چینل نے پلیٹ فارم کی اسپام اور دھوکا دہی سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی کی، جس کے باعث اسے معطل کیا گیا۔ کمپنی کے مطابق ایسے مواد کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جو صارفین کو گمراہ کرے یا پلیٹ فارم کے قواعد سے متصادم ہو۔

    دوسری جانب چینل انتظامیہ نے یوٹیوب کے فیصلے کو سنسرشپ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مواد کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ طنز و مزاح اور سیاسی تنقید اظہارِ رائے کا حصہ ہیں، جنہیں دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔یاد رہے کہ اس چینل کی ویڈیوز لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہیں اور متعدد کلپس مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہوئے تھے۔

  • امریکی ناکہ بندی ،پاکستانی جھنڈے والا آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کر گیا

    امریکی ناکہ بندی ،پاکستانی جھنڈے والا آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کر گیا

    پاکستانی جھنڈے والے آئل ٹینکر نے آبنائے ہرمز عبور کر لیا ہے، جسے امریکی ناکہ بندی کے بعد خام مال کے ساتھ اس راستے سے گزرنے والا پہلا جہاز قرار دیا جا رہا ہے۔

    امریکی جریدے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی کشیدگی اور سمندری نگرانی کے ماحول میں سامنے آئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکر کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرا، جبکہ یہ جہاز گزشتہ ہفتے کے آخر میں خلیج فارس میں داخل ہوا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت عالمی توانائی منڈیوں اور خطے کی بحری سرگرمیوں کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ امریکی بحری افواج ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے والے جہازوں پر عائد پابندیوں کے نفاذ کے دوران مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔ سینٹکام کے مطابق خلیج عمان میں متعدد جہازوں کا رخ بھی موڑا جا چکا ہے۔سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک (DDG-119) پر تعینات اہلکار مکمل چوکس ہیں اور امریکی افواج ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل یا وہاں سے روانہ ہونے والے جہازوں کے خلاف ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔بیان کے مطابق طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن (CVN-72) بحیرہ عرب میں ناکہ بندی کی کارروائیوں میں شریک ہے۔ اس جنگی جہاز کے ایئر ونگ میں ایف-35 سی اسٹیلتھ فائٹر طیارے، ایف/اے-18 جیٹ، ای اے-18 جی الیکٹرانک حملہ آور طیارے، ای-2 ڈی کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارے، ہیلی کاپٹرز اور لاجسٹک معاون طیارے شامل ہیں۔

    سینٹکام نے ایک آڈیو اور ویڈیو بھی جاری کی ہے، جس میں امریکی بحریہ کے اہلکار ایک ڈسٹرائر سے تجارتی جہازوں کو ایرانی بندرگاہوں کی جانب واپس جانے کا حکم دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن خطے میں کشیدگی کے دوران وسیع تر سمندری نگرانی اور نفاذی اقدامات کا حصہ ہے۔جاری کردہ فوٹیج میں یو ایس ایس مائیکل مرفی (DDG-112) سے لی گئی ویڈیو بھی شامل ہے، جس میں خلیج عمان کے اوپر ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی دکھائی گئی ہے۔

  • موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار قابل تحسین ہے،شہزاد قریشی

    موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار قابل تحسین ہے،شہزاد قریشی

    موجودہ عالمی حالات میں پاکستان نے جس ذمہ داری، دانشمندی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین اور ناقابلِ فراموش ہے

    ممتاز تجزیہ شہزاد قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ سے لے کر یورپ، مڈل ایسٹ اور دیگر عالمی خطوں تک پاکستان کا مثبت امیج بہتر بنانے میں ہماری عسکری قیادت، بالخصوص آرمی چیف، اور ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ سویلین حکومت، وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ نے نہایت اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور مذاکرات کو ترجیح دی ہے، اور حالیہ حالات میں بھی یہی پالیسی دنیا کے سامنے واضح طور پر سامنے آئی ہے۔ اگر آج دنیا ایک بڑے تصادم سے محفوظ ہے اور کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے تو اس میں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ذمہ دارانہ کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    شہزاد قریشی کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بھارت مسلسل پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے، جو دراصل اس کی بوکھلاہٹ اور ناکامی کا ثبوت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری اب پاکستان کے امن پسند کردار کو تسلیم کر رہی ہے، اور بے بنیاد الزامات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ حقیقت کو تسلیم کرے، خطے میں امن کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرے اور پاکستان کے خلاف منفی مہم بند کرے۔ پاکستان ایک ذمہ دار، پرامن اور باوقار ریاست ہے، اور اس کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عزت اور مقام اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مفادات کا محافظ ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب ،اہم سرغنہ کے ہوشربا انکشافات

    طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب ،اہم سرغنہ کے ہوشربا انکشافات

    گرفتار خارجی دہشتگرد نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب کردیا، سرغنہ فتنہ الخوارج کا کہنا ہے کہ پاکستان کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کی وجہ سے شامل ہوا۔

    سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے سرغنہ عامر سہیل عرف مولوی حیدر نے اعتراف جرم کرلیا، کہا کہ افغان صوبہ پکتیکا میں فتنہ الخوارج کے مرکز میں دہشتگردی کی تربیت حاصل کی، افغانستان میں فتنہ الخوارج کے مراکز کو افغان طالبان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ داعش، القاعدہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ بھی ہمارے قریبی روابط تھے، ہمیں افغانستان اور را کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی جاتی تھی، میری تشکیل میں 20 سے زائد خارجی دہشتگردوں میں افغان شہری بھی شامل تھے، بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا۔خارجی عامر سہیل نے بتایا کہ مجھے پشاور میں علاج کی غرض سے آنے کے دوران گرفتار کیا گیا، فتنہ الخوارج کا اسلام اور جہاد سے کوئی تعلق نہیں، فتنہ الخوارج صرف پیسے کیلئے پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہیں۔

    عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ ہے، پاکستان میں دہشتگردی کیلئے طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے گٹھ جوڑ کے شواہد موجود ہیں۔

  • مودی سرکار کی نام نہاد خارجہ پالیسی ناکام،امریکا کا پابندیوں میں رعایت ختم کرنے کا اعلان

    مودی سرکار کی نام نہاد خارجہ پالیسی ناکام،امریکا کا پابندیوں میں رعایت ختم کرنے کا اعلان

    بھارت کی نام نہاد خارجہ پالیسی ناکام، امریکا نے بھارت کو روسی تیل خریدنے کیلئے دی گئی پابندیوں میں رعایت ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کا عوامی مفادات پسِ پشت ڈال کر امریکی دباؤ قبول کرنا بھی بے کار ثابت ہوا اور روسی تیل سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی سے اب بھارت کو توانائی کے شعبے میں نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔رپورٹ کے مطابق روسی تیل کی خریداری پر امریکا کی رعایت نے بھارت کو تیل سپلائی میں خلل کے باوجود اضافی ذخائر حاصل کرنے کا موقع دیا تھا اور بھارتی ریفائنریوں نے تقریباً 3 کروڑ بیرل روسی تیل کے آرڈرز دے رکھے ہیں مگر اب اچانک امریکی وزیر خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ بھارت کے مخصوص مدت تک کیے گئے معاہدے اپنی میعاد پوری کر چکے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اب بھارت کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے متبادل حکمت عملی اپنانا پڑے گی اور عالمی منڈی میں تیل کی صورتحال بھی اس پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔