Baaghi TV

Blog

  • 
مجتبیٰ خامنہ ای کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم

    
مجتبیٰ خامنہ ای کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم

    ‎ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عدلیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال سے ایران پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں ملک اور عوام کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تمام قانونی ذرائع بروئے کار لائے جائیں۔
    ‎مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ عدلیہ صرف انفرادی مقدمات تک محدود نہیں بلکہ عوامی حقوق کے تحفظ، انصاف کی فراہمی، قانونی آزادیوں، بدعنوانی کے خاتمے، قوانین کے نفاذ اور قومی مفادات کے دفاع کی بھی ذمہ دار ہے۔ ان کے مطابق اگر عدالتی ادارے ان ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں انجام دیں تو عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ جون 2025 اور فروری 2026 میں ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد، زخمیوں اور ملک کو پہنچنے والے نقصانات کی بنیاد پر سیکڑوں بلکہ ہزاروں قانونی مقدمات دائر کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎ایرانی سپریم لیڈر نے میناب اور لامرد میں بچوں کی ہلاکتوں، طبی مراکز، عوامی خدمات کی تنصیبات اور شہری علاقوں پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں سنگین جنگی جرائم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نومولود بچوں سے لے کر بزرگ شہریوں تک کی ہلاکتیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات، جن میں ان کارروائیوں کا اعتراف یا ان پر فخر کا اظہار کیا گیا، ایران کے مؤقف کو قانونی طور پر مضبوط بنانے میں اہم شواہد ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے شواہد مستقبل میں بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی کارروائی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎مجتبیٰ خامنہ ای نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اس نوعیت کی قانونی کارروائیاں نہ صرف متاثرین کے حقوق کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کریں گی۔
    ‎واضح رہے کہ یہ تمام بیانات ایرانی حکام کے مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس حوالے سے الگ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے۔

  • 
سرفراز بگٹی اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات، بلوچستان میں امن اور سیاسی استحکام پر گفتگو

    
سرفراز بگٹی اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات، بلوچستان میں امن اور سیاسی استحکام پر گفتگو

    ‎وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، بلوچستان میں امن و امان اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ملاقات کے دوران بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ صورتحال اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جاری حکومتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے مولانا فضل الرحمان کو صوبائی حکومت کی جانب سے امن، استحکام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
    ‎میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی اور بدامنی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے اور مؤثر ہم آہنگی کے تحت کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
    ‎ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ملکی استحکام، سیاسی ہم آہنگی اور بلوچستان میں امن و ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ قومی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے درمیان رابطے اور تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    ‎ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، قومی معاملات اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم موضوعات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے قومی یکجہتی، امن اور ترقی کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • 
ضلع اسپتال میانوالی کی پرانی عمارت سے قیمتی طبی سامان غائب

    
ضلع اسپتال میانوالی کی پرانی عمارت سے قیمتی طبی سامان غائب

    ‎ضلع اسپتال میانوالی کی پرانی عمارت سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے مالیت کا طبی سامان غائب ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ذرائع کے مطابق لاپتا ہونے والے سامان میں 300 سے زائد ایئر کنڈیشنرز اور چلرز، درجنوں کارڈیک مانیٹرز، جدید کمپیوٹرز، جدید لیبارٹری کا سامان اور توشیبا کمپنی کی الٹراساؤنڈ مشین بھی شامل ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ طبی آلات کے علاوہ اسپتال کے کمروں کا فرنیچر، درجنوں پنکھے، 4 ریفریجریٹرز اور مخیر حضرات کی جانب سے عطیہ کی گئی دو درجن سے زائد وہیل چیئرز بھی اپنی جگہ سے غائب ہیں۔ اس معاملے نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور اسپتال کی املاک کی حفاظت سے متعلق کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
    ‎سوشل میڈیا پر اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے 18 جون کو تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی میں میانوالی سے تعلق رکھنے والے متعلقہ افسران اور نمائندگان کو شامل کیا گیا تاکہ واقعے کی مکمل چھان بین کی جا سکے۔
    ‎تحقیقاتی کمیٹی کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے، تاہم مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود رپورٹ اب تک منظر عام پر نہیں لائی گئی۔ اس تاخیر نے عوامی خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
    ‎تاحال ضلعی انتظامیہ یا محکمہ صحت کی جانب سے غائب ہونے والے سامان کی سرکاری تفصیلات یا تحقیقات کے نتائج جاری نہیں کیے گئے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ اسپتال کی قومی املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور اگر کسی قسم کی غفلت یا بدعنوانی ثابت ہو تو اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

  • 
افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی تشویش میں اضافہ

    
افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی تشویش میں اضافہ

    ‎افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں اور میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کے تحت شہری آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں افغان شہری عدم تحفظ اور خوف کا شکار ہیں۔
    ‎افغان اخبار ہشت صبح کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے مختلف الزامات کے تحت سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض افراد کو داڑھی منڈوانے، موسیقی سننے اور دیگر سماجی سرگرمیوں کے الزامات پر گرفتار کیا گیا۔ ان دعوؤں کی طالبان حکومت کی جانب سے آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی گئی۔
    ‎دوسری جانب، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سے وابستہ افغانستان کے محقق زمن سلطانی کے مطابق موجودہ حالات میں افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کو مختلف خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، اس لیے ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
    ‎رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت بیرون ملک موجود بعض افغان سفارت خانوں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر اپنی حیثیت مضبوط بنا سکے۔ تاہم اس حوالے سے بھی مختلف ممالک کی پالیسیوں اور مؤقف میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
    ‎پاکستان سے تعلق رکھنے والی نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھی افغانستان میں خواتین اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
    ‎یورپی یونین کے خصوصی نمائندوں اور دیگر عالمی اداروں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق، خواتین کی تعلیم، آزادی اظہار اور شہری آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ عالمی برادری مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ افغان عوام کی فلاح اور بنیادی حقوق کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔
    ‎واضح رہے کہ افغانستان کی صورتحال سے متعلق مختلف فریقین کے بیانات اور دعوے سامنے آتے رہتے ہیں، جن میں سے بعض کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ اس لیے اس معاملے پر مختلف مؤقف موجود ہیں۔

  • 
وینزویلا کے زلزلوں میں 9 ہسپانوی شہری جاں بحق، اسپین نے امدادی سرگرمیاں تیز کر دیں

    
وینزویلا کے زلزلوں میں 9 ہسپانوی شہری جاں بحق، اسپین نے امدادی سرگرمیاں تیز کر دیں

    ‎وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلوں میں ہلاک ہونے والے ہسپانوی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہو گئی ہے۔ اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ ان کی حکومت متاثرہ شہریوں کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گی۔
    ‎وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اپنے بیان میں کہا کہ اسپین وینزویلا کی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا اور زلزلے سے متاثرہ ہسپانوی شہریوں کو قونصلر خدمات اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
    ‎دوسری جانب وینزویلا کے حکام کے مطابق گزشتہ روز زلزلوں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 1,430 تک پہنچ چکی تھی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آج برطانیہ کے وقت کے مطابق دوپہر کے بعد ہلاکتوں اور متاثرین سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے، کیونکہ امدادی کارروائیاں اب بھی مختلف علاقوں میں جاری ہیں۔
    ‎اسپین نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے اپنی ایمرجنسی ملٹری یونٹ (یو ایم ای) کے درجنوں فوجیوں اور فائر فائٹرز کو بھی وینزویلا روانہ کیا ہے۔ یہ خصوصی یونٹ قدرتی آفات کے دوران امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں مہارت رکھتی ہے اور متاثرہ علاقوں میں مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
    ‎ادھر بین الاقوامی امدادی ادارے بھی متاثرہ علاقوں میں خوراک، طبی سہولیات اور عارضی رہائش فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتا ہیں اور ملبہ ہٹانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

  • 
ایران پر حملوں پر ٹرمپ قانونی تنازع کا شکار، کانگریس کی قرارداد کی خلاف ورزی کا الزام

    
ایران پر حملوں پر ٹرمپ قانونی تنازع کا شکار، کانگریس کی قرارداد کی خلاف ورزی کا الزام

    ‎امریکا کی جانب سے ایران پر حالیہ فضائی حملوں کے بعد نہ صرف تہران کی جانب سے جوابی کارروائیاں سامنے آئی ہیں بلکہ واشنگٹن میں بھی اس معاملے پر شدید سیاسی اور قانونی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس رو کھنہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کانگریس کی منظور کردہ جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس نے گزشتہ ہفتے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں صدر کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکیں یا مزید کسی بھی عسکری اقدام سے قبل کانگریس سے باقاعدہ منظوری حاصل کریں۔
    ‎اس کے باوجود امریکی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کے روز ایران کے فوجی اہداف پر حملے کیے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنانے کے ایرانی اقدام کے جواب میں کی گئی۔
    ‎ان حملوں کے بعد ایران نے اتوار کے روز بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل دوسرے ہفتے بھی جوابی حملوں کے تبادلے نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور 15 جون کو ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
    ‎ادھر اسرائیل نے بھی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہیں، حالانکہ جمعہ کے روز ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا اور مفاہمتی یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔
    ‎ڈیموکریٹک رکن کانگریس رو کھنہ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حالیہ فوجی کارروائی کانگریس کی واضح ہدایات کے منافی ہے اور اس معاملے پر عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی آئینی ماہرین کے مطابق صدر کے جنگی اختیارات اور کانگریس کے اختیارات کے درمیان قانونی حدود پر فیصلہ عدالتوں اور آئندہ سیاسی پیش رفت سے واضح ہو سکتا ہے۔

  • 
وینزویلا میں زلزلوں کی تباہی، ہلاکتیں 1,430 تک پہنچ گئیں، 50 ہزار افراد لاپتا

    
وینزویلا میں زلزلوں کی تباہی، ہلاکتیں 1,430 تک پہنچ گئیں، 50 ہزار افراد لاپتا

    ‎وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1,430 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق زلزلوں کے تین روز گزرنے کے باوجود تقریباً 50 ہزار افراد اب بھی لاپتا ہیں، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں بے چینی اور تشویش برقرار ہے۔
    ‎ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران ایک 11 سالہ بچے کو زندہ نکال لیا گیا، جس کے بعد موقع پر موجود امدادی کارکن جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور آبدیدہ ہو گیا۔ امدادی اہلکار کا کہنا تھا کہ سب لوگ مل کر محبت اور انسانیت کے جذبے کے تحت کام کر رہے ہیں کیونکہ انسانی جان سب سے زیادہ قیمتی ہے۔
    ‎اقوام متحدہ کے مطابق زلزلوں سے ملک بھر میں تقریباً 1,500 عمارتیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ ادارے نے اس صورتحال کو قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ شمالی وینزویلا کی کم از کم سات ریاستیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق 3,100 سے زائد خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، جبکہ اب تک 430 سے زیادہ آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی دو نمایاں جھٹکے محسوس کیے گئے جن میں آج صبح 4.5 شدت کا زلزلہ شامل تھا، جس سے متاثرہ علاقوں میں خوف کی فضا مزید گہری ہو گئی۔
    ‎دوسری جانب برطانیہ کی رائل ایئر فورس کا پہلا امدادی طیارہ دارالحکومت کاراکاس کے قریب پہنچ چکا ہے، جبکہ یورپی یونین نے وینزویلا کے لیے 50 لاکھ یورو کی ہنگامی امداد اور سیٹلائٹ معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔
    ‎ادھر پوپ لیو نے بھی زلزلہ متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے لیے دعا، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور امدادی کارروائیوں میں مصروف اہلکاروں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں عالمی برادری کو متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

  • 
امریکی ریاست کینٹکی میں شدید سیلاب، 4 افراد ہلاک، ایمرجنسی نافذ

    
امریکی ریاست کینٹکی میں شدید سیلاب، 4 افراد ہلاک، ایمرجنسی نافذ

    ‎امریکا کی ریاست کینٹکی میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ مختلف علاقوں میں پل بہہ گئے، سڑکیں زیر آب آ گئیں اور سیکڑوں گھروں میں پانی داخل ہو گیا، جبکہ اب تک کم از کم 4 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے متعدد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے، جبکہ مزید بارشوں کی پیش گوئی کے باعث صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎کینٹکی کے گورنر اینڈی بیشیئر کے مطابق ایک شخص جیکسن کاؤنٹی میں جان کی بازی ہار گیا، جبکہ میڈیسن کاؤنٹی میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں ایک مرد اور ایک خاتون بھی شامل ہیں، جو اپنے زیر آب آنے والے گھر میں ڈوب گئے۔
    ‎گورنر اینڈی بیشیئر نے ریاست میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر رات کے وقت سڑکوں پر نکلنے سے حتی الامکان بچیں۔ انہوں نے کہا کہ اندھیرا ہونے کے بعد حالات مزید خطرناک ہو سکتے ہیں، اس لیے عوام اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔
    ‎حکام کے مطابق ایک موٹر سوار بھی فلیش فلڈ کے تیز ریلے میں بہہ جانے کے باعث ہلاک ہوا۔ امدادی ادارے مسلسل متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو نکالنے اور امدادی سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔
    ‎محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مزید شدید بارشوں کا سلسلہ اتوار کے روز کینٹکی سے مشرق کی جانب بڑھتے ہوئے ریاست ٹینیسی کے مختلف علاقوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ انتظامیہ نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  • 
فرانس میں اسکائی ڈائیونگ طیارہ گر کر تباہ، 11 افراد ہلاک

    
فرانس میں اسکائی ڈائیونگ طیارہ گر کر تباہ، 11 افراد ہلاک

    ‎فرانس کے شمال مشرقی علاقے ٹومبلین میں اتوار کے روز ایک تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں پائلٹ سمیت تمام 11 افراد ہلاک ہو گئے۔ مقامی انتظامیہ نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طیارے میں سوار کوئی بھی شخص زندہ نہ بچ سکا۔
    ‎حکام کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا Pilatus PC-6/B2-H4 Turbo Porter طیارہ ایک اسکائی ڈائیونگ اسکول کی ملکیت تھا۔ طیارے میں ایک پائلٹ، پانچ زیر تربیت طلبہ اور پانچ انسٹرکٹرز سوار تھے، جو اسکائی ڈائیونگ کی تربیت کے سلسلے میں پرواز کر رہے تھے۔
    ‎یہ حادثہ ٹومبلین ایئرپورٹ کے قریب پیش آیا، جو فرانس کے شہر نینسی کے نزدیک واقع ہے۔ طیارہ گرنے کے فوراً بعد ریسکیو، فائر بریگیڈ اور پولیس کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
    ‎پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ سے بچنے کے لیے حادثے کے مقام سے دور رہیں اور غیر ضروری طور پر اس علاقے کا رخ نہ کریں۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ گرنے کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں۔ فرانسیسی حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ماہرین جائے حادثہ سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
    ‎حادثے کے بعد مقامی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا ہے، جبکہ ایوی ایشن حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے گی۔

  • 
کراچی میں شہید رینجرز اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا، دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ

    
کراچی میں شہید رینجرز اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا، دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ

    ‎کراچی میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پاکستان رینجرز (سندھ) کے جوانوں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ حکام کے مطابق شہداء نے دہشت گردوں کے حملے کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور حملے کو ناکام بنایا۔
    سرکاری بیان کے مطابق حملے کی ذمہ داری بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی کالعدم تنظیم جماعت الاحرار پر عائد کی گئی ہے۔
    ‎نماز جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ، ڈی جی رینجرز، شہداء کے اہل خانہ، اعلیٰ سول و عسکری حکام اور دیگر شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور لواحقین سے اظہار تعزیت اور ہمدردی کیا۔
    ‎اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس میں ملوث عناصر کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا جہاں بھی ہوں تعاقب کریں گی اور انہیں انجام تک پہنچایا جائے گا۔
    ‎گورنر سندھ نے اپنے بیان میں دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ادارے متحد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کا بھرپور مقابلہ کرے گا۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ رینجرز کے بہادر جوانوں نے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم ناکام بناتے ہوئے عظیم قربانی دی، پوری قوم ان کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی فورسز مل کر کام جاری رکھیں گے۔
    ‎نماز جنازہ کے بعد شہداء کے جسد خاکی ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دیے گئے، جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔ بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورنر سندھ کے ہمراہ دہشت گرد حملے کی جائے وقوعہ کا بھی دورہ کیا اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔