Baaghi TV

Blog

  • وفاقی وزیر خزانہ کی موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات

    وفاقی وزیر خزانہ کی موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس کے موقع پر موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات کی، جس میں معاشی صورتِ حال اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یورو بانڈ کی ادائیگی کامیابی سے مکمل کرلی ہے، تمام قرض دہندگان کی ذمے داریاں بروقت پوری کی جا رہی ہیں، سعودی عرب کی مالی معاونت اہم ہے جو بیرونی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط کرے گی۔محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان نے موجودہ بحران میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کھاد کے زیادہ ذخائر رکھے جس سے کاشت کے اہم سیزن میں مدد ملے گی۔وزیرِ خزانہ نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ رسائی کے لیے درمیانی مدت کی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالی۔ملاقات میں انہوں نے علاقائی صورتِ حال کے تناظر میں توانائی کے شعبے میں حکومتی اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں سپلائی چین کو محفوظ بنانا، مکمل قیمتوں کی منتقلی اور کمزور طبقات کے لیے ہدفی ڈیجیٹل سبسڈیز شامل ہیں،وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے موڈیز کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • جاپان کا زمین کو توانائی فراہم کرنے کے لیے چاند پر سولر رنگ بنانے کا انقلابی منصوبہ

    جاپان کا زمین کو توانائی فراہم کرنے کے لیے چاند پر سولر رنگ بنانے کا انقلابی منصوبہ

    جاپان نے مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک حیران کن خلائی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے تحت چاند کے گرد بڑے پیمانے پر شمسی پینلز کی ایک وسیع انگوٹھی تعمیر کی جائے گی تاکہ وہاں سے بجلی پیدا کرکے زمین تک پہنچائی جا سکے۔

    اس منصوبے کو “لونر سولر رنگ” یا “چاندی شمسی حلقہ” قرار دیا جا رہا ہے۔ تجویز کے مطابق چاند کے خطِ استوا کے گرد ہزاروں شمسی پینلز نصب کیے جائیں گے، جہاں سورج کی روشنی تقریباً مسلسل دستیاب رہتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقام پر توانائی کی پیداوار دن رات اور موسم کی پابندیوں سے آزاد ہو گی، جو زمین پر موجود سولر سسٹمز کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔انجینئرز کے مطابق چاند کا ماحول شمسی توانائی کے لیے نہایت موزوں ہے کیونکہ وہاں فضا موجود نہیں، جس کے باعث بادلوں، دھند یا فضائی رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس طرح سورج کی روشنی براہِ راست شمسی پینلز تک پہنچے گی اور زیادہ بجلی پیدا ہو سکے گی۔منصوبے کے تحت چاند پر پیدا ہونے والی توانائی کو مائیکرو ویوز یا لیزر شعاعوں میں تبدیل کرکے زمین پر موجود خصوصی ریسیونگ اسٹیشنز تک بھیجا جائے گا۔ وہاں اس توانائی کو دوبارہ بجلی میں تبدیل کر کے گھروں، صنعتوں اور دیگر شعبوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو دنیا کو ایک مستقل، ماحول دوست اور قابلِ تجدید توانائی کا ایسا ذریعہ مل سکتا ہے جو عالمی سطح پر بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گا اور تیل، گیس و کوئلے جیسے ایندھن پر انحصار کم کرے گا۔تاہم ماہرین نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ منصوبہ ابھی ابتدائی تصوراتی مرحلے میں ہے اور اس کے سامنے کئی بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ ان میں تعمیراتی سامان کو خلا میں پہنچانا، چاند کی سطح پر وسیع انفراسٹرکچر تعمیر کرنا، روبوٹک نظام تیار کرنا اور ہزاروں کلومیٹر دور زمین تک توانائی کی محفوظ ترسیل شامل ہے۔خلائی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے عالمی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خودکار مشینری اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہو گی۔

    لونر سولر رنگ منصوبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا اب توانائی کے نئے ذرائع تلاش کرنے کے لیے خلا کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اگرچہ اس منصوبے کو عملی شکل اختیار کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، لیکن یہ تصور مستقبل میں زمین کے توانائی نظام کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  • جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ٹرانسپورٹ پر پابندیاں نافذ

    جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ٹرانسپورٹ پر پابندیاں نافذ

    ‎اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے دور کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے جاری ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق 16 اپریل رات 11 بجے سے 26 اپریل تک جڑواں شہروں میں بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہے گی، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    اعلامیے کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام بس اڈے اور ٹرانسپورٹ اسٹینڈز بند رہیں گے جبکہ دیگر شہروں سے آنے اور جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل رہے گی۔ اس دوران دونوں شہروں کے درمیان اور دیگر اضلاع کی طرف جانے والی ٹرانسپورٹ کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہ اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ اہم سفارتی سرگرمیوں کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
    متاثرہ علاقوں میں فیض آباد، پیرودھائی، سبزی منڈی، 26 نمبر، جی نائن، پشاور موڑ اور چور چوک شامل ہیں جہاں تمام بڑے ٹرانسپورٹ مراکز بند رہیں گے۔ ان مقامات پر اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے جبکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا عمل جاری رہے گا۔
    ٹریفک پولیس اسلام آباد کے مطابق 17 اور 18 اپریل کے درمیان رات 12 بجے سے دوپہر 12 بجے تک بھاری ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ شہر کے اندرونی راستوں پر بھی سیکیورٹی کے باعث مختلف مقامات پر ڈائیورشنز متوقع ہیں۔
    حکام نے واضح کیا ہے کہ شہر کے اندر چلنے والی مقامی ٹرانسپورٹ، میٹرو بس سروس، موٹرویز اور تعلیمی ادارے فی الحال معمول کے مطابق کھلے رہیں گے، تاہم صورتحال کے پیش نظر کسی بھی وقت مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

  • اسرائیلی پوسٹ پر سوالات، عمران خان اور جمائما کا ذکر

    اسرائیلی پوسٹ پر سوالات، عمران خان اور جمائما کا ذکر

    ‎اسرائیلی پوسٹ میں جمائما اور عمران خان کا ذکر سامنے آیا ہے، جس کے بعد یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عمران خان اور ان کی سابق اہلیہ کے اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔
    بیان کے مطابق جب پاکستان عالمی سطح پر نمایاں ہو رہا ہے تو اسی وقت اسرائیل کی جانب سے ایسے بیانیے کے ذریعے پاکستان کے تشخص پر سوال اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب دنیا پاکستان کی تعریف کر رہی ہے، اسرائیل ایک ایسے شخص کے حق میں بات کر رہا ہے جو اس وقت قانون کے مطابق جیل میں سزا کاٹ رہا ہے۔
    بیان میں عمران خان کو “گولڈ اسمتھ کی سرمایہ کاری” قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا گیا ہے کہ آخر کون ان کے معاملات کو کنٹرول کر رہا ہے۔

  • ایران کیساتھ معاہدے کے قریب ہیں، ڈیل ہو گئی تو اسلام آباد جاؤں گا، ٹرمپ

    ایران کیساتھ معاہدے کے قریب ہیں، ڈیل ہو گئی تو اسلام آباد جاؤں گا، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ طے پانے کے قریب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے عندیہ دیا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے اور معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں قیادت کی تبدیلی کے بعد حالات میں نمایاں فرق آیا ہے اور اب ایران کے پاس ایک بہتر موقع موجود ہے کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ تعاون کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ کسی جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ دونوں ممالک ایک جامع معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں جو خطے کے لیے خوش آئند ثابت ہوگا۔
    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ ممکنہ طور پر اسلام آباد کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس حوالے سے مؤثر اور قابل تعریف اقدامات کیے ہیں جس سے مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد ملی۔
    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران اب ان نکات پر بھی آمادگی ظاہر کر رہا ہے جن پر وہ پہلے تیار نہیں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ ان کے بقول پیش رفت تیزی سے ہو رہی ہے اور ایران اس بات پر رضامند ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
    سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے، جبکہ پاکستان کے لیے بھی سفارتی سطح پر ایک اہم کامیابی تصور کیا جائے گا۔

  • اسلام آباد میں آپریشن پر تصادم، دہشتگردی کی دفعات میں مقدمہ درج

    اسلام آباد میں آپریشن پر تصادم، دہشتگردی کی دفعات میں مقدمہ درج

    ‎اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں واقع علاقے نوری باغ میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران تصادم کے بعد پولیس نے درجنوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق مزار بری امام کے قریب نور پور شاہاں کے علاقے میں وفاقی ترقیاتی ادارے کی درخواست پر درج مقدمے میں مقامی افراد پر سرکاری گاڑیوں کو نذر آتش کرنے، اہلکاروں کو زخمی کرنے، اقدام قتل اور سرکاری امور میں مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے تھے اور متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن غیرقانونی تعمیرات کے خاتمے کے لیے کیا گیا تھا۔
    ‎دوسری جانب متاثرہ افراد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جن گھروں میں رہائش پذیر ہیں وہ انہوں نے باقاعدہ رقم ادا کر کے خریدے ہیں اور انہیں غیرقانونی قرار دینا ناانصافی ہے۔
    ‎سی ڈی اے حکام کے مطابق یہ علاقہ غیرقانونی ہاؤسنگ پر مشتمل ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہاں پراپرٹی ٹیکس بھی لاگو نہیں ہوتا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کے باعث ان جگہوں کو خالی کرانے کی ضرورت تھی۔
    ‎حکام کے مطابق اس آپریشن کے دوران تقریباً 60 کنال زمین واگزار کروائی گئی جبکہ مجموعی طور پر مختلف علاقوں میں اب تک 600 ایکڑ زمین واپس حاصل کی جا چکی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس قسم کے آپریشنز میں شفافیت اور عوامی اعتماد انتہائی اہم ہوتا ہے تاکہ تنازعات سے بچا جا سکے۔

  • جاپان کا ایشیائی ممالک کیلئے 10 ارب ڈالر توانائی پیکج

    جاپان کا ایشیائی ممالک کیلئے 10 ارب ڈالر توانائی پیکج

    ‎جاپان نے اپنے ایشیائی ہمسایہ ممالک، خصوصاً جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 10 ارب ڈالر کی مالی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایران جنگ کے باعث عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق جاپان کی وزیر اعظم ثنائے تاکائیچی نے بدھ کے روز ایشیائی رہنماؤں کے ساتھ ایک آن لائن اجلاس کے بعد اس تعاون کے نئے فریم ورک کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جاپان خطے کے ممالک کے ساتھ مضبوط سپلائی چین روابط رکھتا ہے اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔
    ‎وزیر اعظم کے مطابق یہ فنڈنگ نہ صرف خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری میں مدد دے گی بلکہ سپلائی چین کو برقرار رکھنے اور توانائی کے ذخائر بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جاپان طبی آلات سمیت کئی شعبوں میں جنوب مشرقی ایشیا پر انحصار کرتا ہے، اس لیے خطے کا استحکام جاپان کے لیے بھی اہم ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو ایشیا سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ تقریباً 90 فیصد تیل اور گیس اسی راستے سے خطے تک پہنچتی ہے۔ اس تناظر میں جاپان کا یہ اقدام نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎جاپان کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ 10 ارب ڈالر کی امداد آسیان ممالک کی ایک سالہ خام تیل کی درآمدات کے برابر ہے۔ اجلاس میں شریک ممالک، جن میں فلپائن، ملائیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ، ویتنام، بنگلہ دیش اور جنوبی کوریا شامل تھے، نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں توانائی کے استحکام اور معاشی تحفظ کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

  • ہری پور میں گیس پائپ لائن دھماکہ، آٹھ افراد جاں بحق

    ہری پور میں گیس پائپ لائن دھماکہ، آٹھ افراد جاں بحق

    ‎ہری پور کے علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گھی فیکٹری کے قریب گیس پائپ لائن میں اچانک دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ اس المناک حادثے میں آٹھ افراد جھلس کر جان کی بازی ہار گئے جبکہ پانچ افراد زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎مقامی انتظامیہ کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے قریبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور آگ بجھانے کی کارروائیاں شروع کیں۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل کوشش کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا تاہم کولنگ کا عمل جاری رکھا گیا تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کا خطرہ نہ رہے۔
    ‎ڈپٹی کمشنر ہری پور کا کہنا ہے کہ آگ قریبی آبادی تک پھیل گئی تھی جس سے کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔ ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے متاثرہ گھروں کی تلاشی کا عمل جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ پھنسے ہوئے فرد کو بروقت نکالا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ابتدائی طور پر گیس لیکیج کو دھماکے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎علاقہ مکینوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے جبکہ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس پائپ لائنز کی بروقت مرمت اور معائنہ نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح کے حادثات رونما ہوتے ہیں، لہٰذا متعلقہ اداروں کو فوری طور پر اپنی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔

  • پاکستان کی فضائی حدود سے آمدن میں نمایاں اضافہ

    پاکستان کی فضائی حدود سے آمدن میں نمایاں اضافہ

    ‎پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال سے حاصل ہونے والی آمدن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ دیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں غیر ملکی پروازیں پاکستان کی فضائی حدود سے گزرتی ہیں، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری ریونیو حاصل ہو رہا ہے۔
    ذرائع کے مطابق روزانہ تقریباً 700 سے زائد بین الاقوامی پروازیں پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔ ان پروازوں سے اوور فلائٹ چارجز کی مد میں پاکستان کو یومیہ تقریباً 8 لاکھ ڈالر تک آمدن حاصل ہو رہی ہے۔ یہ آمدن ڈالر میں ہونے کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا سبب بھی بن رہی ہے، جو موجودہ معاشی حالات میں خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے بین الاقوامی فضائی راستوں کے لیے نہایت اہم بناتا ہے۔ مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والی بیشتر پروازیں پاکستان کی فضائی حدود کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ یہ راستہ نسبتاً مختصر اور ایندھن کی بچت کا باعث بنتا ہے۔
    پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے فضائی حدود کے استعمال کے لیے باقاعدہ فیس مقرر کی گئی ہے، جو ہر پرواز سے وصول کی جاتی ہے۔ ان فیسز کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن نہ صرف ایوی ایشن سیکٹر کی بہتری پر خرچ کی جاتی ہے بلکہ قومی معیشت کو بھی سہارا فراہم کرتی ہے۔
    حکام کے مطابق اگر فضائی حدود کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے اور عالمی ایئرلائنز کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جائے تو اس آمدن میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور سیکیورٹی کے بہتر انتظامات سے پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط ایوی ایشن حب کے طور پر ابھرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

  • یورپ میں جیٹ فیول کا بحران، صرف 6 ہفتوں کا ذخیرہ باقی

    یورپ میں جیٹ فیول کا بحران، صرف 6 ہفتوں کا ذخیرہ باقی

    ‎عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ یورپ میں جیٹ فیول کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں اور موجودہ صورتحال برقرار رہی تو فضائی سفر شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ یورپ کے پاس اس وقت صرف 6 ہفتوں کا جیٹ فیول ذخیرہ باقی ہے۔ اگر ایران جنگ کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہوتی رہی تو یورپ میں پروازوں کا نظام بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔
    ‎فاتح بیرول نے کہا کہ دنیا ایک بڑے توانائی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں پٹرول، ڈیزل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر ایشیائی ممالک پر پڑے گا جن میں جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، چین، پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ سمیت دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی متاثر ہوگی، جس سے عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق عالمی توانائی سپلائی میں رکاوٹیں اور جیو پولیٹیکل کشیدگی مارکیٹ میں غیر یقینی پیدا کر رہی ہیں، جس کے باعث قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں کمی کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب برطانوی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ خطے میں سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں اور بعض حلقوں کو امید ہے کہ جاری کشیدگی جلد کم ہو سکتی ہے، جس سے توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔