گجرات(نمائندہ باغی ٹی وی) ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز، رورل ہیلتھ سنٹر ز اور بنیادی مراکز میں فراہمی کیلئے 91.4ملین روپے مالیتی ادویات کی خریداری مکمل، ان ہسپتالوں کی ڈیمانڈ کے مطابق سپلائی شروع کر دی گئی ہے، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے افسران سرکاری ہسپتالوں میں بائیومیٹرک نظام کے تحت ڈاکٹرز و عملہ کی حاضری یقینی بنائیں، غیر حاضر افسران و سٹاف کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جائے، ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ ریویو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر زاہد تنویر نے بریفنگ دی، ڈی ایچ اوز ڈاکٹر ایاز ناصر چوہان، ڈاکٹر محمد یوسف، ڈاکٹر زکریا، ڈی ڈی ایچ اوز، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد نے کہا کہ مجموعی طور پر 124مختلف اقسام کی ادویات خریدی گئی ہیں، ہسپتالوں کو فراہمی سے قبل لیبارٹری ٹیسٹنگ کا عمل بھی مکمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس یقینی بنائیں کہ ڈاکٹرز ادویات کے نام کی بجائے اسالٹ تجویز کریں اور مریضوں کو ادویات ہسپتالوں سے ہی فراہم کی جائیں، ایم ایس صاحبان ادویات کا سٹاک ختم ہونے سے مناسب وقت پہلے مجاز اتھارٹی کو آگاہ کریں، کسی ہسپتال میں سٹاک ختم ہونے کی صورت میں قریبی ہیلتھ مرکز سے فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ مانیٹرنگ سٹاف سرکاری ہسپتالوں میں جن مسائل کی نشاندہی کریں انہیں 24گھنٹے میں حل کیا جائے، سی ای او ہیلتھ ٹی ایچ کیو سرائے عالمگیر میں ہفتے میں چار دن بے ہوشی کے ڈاکٹر کی دستیابی یقینی بنائیں، ٹراما سنٹر لالہ موسیٰ میں فوری پیڈیا ٹریشن کی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، زچہ و بچہ کیلئے ایمبولینسوں کا موثر استعمال یقینی بنانے کیلئے شہریوں کو اس سروس بارے آگاہی فراہم کی جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے نارمل ڈلیوری کی تعداد میں اضافہ پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ وزیر اعظم پورٹل، چیف منسٹر پورٹل پر موصول ہونیوالی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنایا جائے، سیٹزن فیڈ بیک کے تحت سو فیصد ڈیٹا اپ لوڈ کیا جائے اور شہریوں کی شکایات کا حل کیا جائے۔ اس سے قبل سی ای او ہیلتھ نے حکومت پنجاب کے مقرر کردہ اعشاریوں کے مطابق محکمہ صحت کی کارکردگی بارے بریفنگ دی۔
Blog
-

حکومتی معاشی اصلاحات ،عمران خان عبدالحفیظ شیخ،شبر زیدی اور حماد اظہر”پاکستان کے لیے کر ڈالوں "میں خصوسی شرکت وگفتگو
اسلام آباد:پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال سے متعلق وزیر اعطم کی معاشی ٹیم جب ایک نجی ٹی وی کے پروگرام "پاکستان کے لیے کر ڈالو” میں مختلف سوالوں کے جواب دے رہی تھی تو اس دوران وزیر پاکستان عمران خان اپنی معاشی ٹیم کا ساتھ دینے کے لیے اس پروگرام میں کود پڑے
بڑی دلسچپی والی بات یہ ہے کہ وزیر اعطم پاکستان اپنی معاشی ٹیم کے ساتھ پروگرام "پاکستان کے لیے کر ڈالیے”میں خودبھی کود پڑے اور مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوا کہا کہ عمران خان کا نہ کوئی بزنس ہے اور نہ انڈسٹری ہے ، جوملک کے لئے بہتر ہوگا وہی کروں گا ‘ عمران خان نے دوٹوک پیغام دے دیا وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ ایمنسٹی سکیم سیاستدانوں اور پبلک آفس ہولڈرز کیلئے نہیں ہے ، مشکل وقت ہے ، ملک کو قرضوں سے نجات دلائیں گے ، عمران خان کا نہ کوئی بزنس ہے اور نہ انڈسٹر ی ہے ، جوملک کے لئے بہتر ہوگا ،وہ میں کروں گا ، بے نامی جائیدادیں ضبط ہوجائیں گی اور سزا بھی ملے گی ۔
جیونیوز کے پروگرام ”پاکستان کے لئے کرڈالو“میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ ہمارا یہ مسئلہ ہے کہ ایک تو ہم پوری دنیا میں سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جو ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں، ان میں سے آدھا قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں کیوں پہنچے ہیں؟ ہم یہاں کرپشن اور ٹیکس نہ دینے کی وجہ سے پہنچے ہیں، لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹیکس کیوں دیں کیونکہ ہمارا پیسہ ہم پر خرچ نہیں ہوگا ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی قوم سے کہناچاہتا ہوں کہ ہم آپ کا پیسہ آپ پر خرچ کریں گے ، ہم اپنے خرچے کم کررہے ہیں ، وزیر نے اپنی تنخواہیں کم کی ہیں ، وزیر اعظم ہاﺅس کاخرچہ کم کیاہے ، فوج نے اپنا خرچہ کم کیاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ جو کہتے وہیں کہ ٹیکس کے دائر ے میں آکر ہمیں ادارے تنگ کریں گے تو میں نے اس کے لئے کہہ دیاہے کہ اگر کوئی ادارہ تنگ کرے تو اس کیلئے وزیر اعظم شکایات سیل میں ایک الگ سیکشن بنا دیں گے کہ جس کو کوئی تنگ کرے وہ وہاں کال کرسکتاہے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک ہم پیسے اکٹھے نہیں کریں گے ملک نہیں چل سکتا ، اس کے لئے ہم ہر سطح پر جائیں گے ، اس کااصل طریقہ یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی لے آئیں، ہم کوشش کریں گے کہ ایف بی آر میں ریفارم کریں اور اگر یہ نہ ہوا تو ہم سب کچھ کریں گے ، اس کے لئے متبادل نظام بھی بنانا پڑا تو بنائیں گے کیونکہ ہمارے پاس اس کے علاوہ راستہ ہی نہیں ہے ، اگر یہ نہ کیا تو قرضے بڑھتے جائیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ جن لوگوں نے 30جون تک ایمنسٹی نہ لی تو میں اس کے لئے پاکستانیوں سے خصوصی اپیل کرتا ہوں کہ ملک اس وقت چلتاہے جب ساری قوم اکٹھی ہوجاتی ہے ، میں نے زلزلے اور سیلاب میں دیکھاہے کہ سب نے ملکر ملک کو مشکل وقت سے نکالا تھا ، اس وقت بھی حکومت اور عوام ملکر ملک کو مشکل سے نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس وقت نہیں وہ تیس جون تک رجسٹرڈ کروالیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ تیس جون کے بعد ایمنسٹی سکیم میں کوئی توسیع نہیں ہوگی ، اس وقت حکومت کے پاس جو معلومات ہیں ، وہ اس سے قبل کسی حکومت کے پاس نہیں تھیں ، ہمارے پاس باہر سے بھی معلومات آرہی ہیں، اگر کسی کا پیسہ باہر پڑاہے اور وہ بتا نہیں سکتا کہ یہ کس طریقے سے کمایا ہے تووہ منی لانڈرنگ ہے ، یہ پیسہ پاکستان منگوا سکتاہے ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کا مطلب یہ ہے کہ ملک سے پیسہ چوری کرتے ہیں اور ملک سے باہر بھیجوا دیتے ہیں اور پھر ایک قانون کی مدد سے باہر سے منگوا لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سالانہ دس ارب منی لانڈرنگ ہوتی ہے اور ہم چھ ارب کا آئی ایم ایف سے قرضہ لے رہے ہیں. ہم نے غریب طبقے کیلئے بجٹ میں نوے ارب روپیہ رکھاہے اور بزنس انڈسٹری کو بھی فائد ہ دینے کی کوشش کی ہ ۔وزیراعظم نے ایک تاجر کے سوال کے جواب نے کہاہے کہ اگر کسی کے پاس پیسے اس وقت موجود نہیں ہیں تو وہ بتادے وہ کس تاریخ تک پیسے دیدے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آج جہاں پہنچ گیاہے ، اس کے لئے عوام کواور حکومت کو اپنے آپ کو تبدیل کرناہے ، اللہ کہتاہے کہ میں اس وقت تک اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود کونہیں بدلتی ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہاﺅس کے اخراجات کم کئے جارہے ہیں، وزیر اعظم ہاﺅس کی جگہ پر چائنہ کے ساتھ ملکر ایک بڑی یونیورسٹی بنارہے ہیں ، میں اپنے گھر کے بجلی کے بل خود دیتا ہوں ،انگلینڈ میں مجھے دعوت دی گئی تھی لیکن میں نہیں گیا ، میں نے یہ سوچ نیچے تک لیکر آنی ہے ، اداروں کوٹھیک کرناہے تاکہ لوگوں کویہ احساس ہوکہ یہ ادارے ہمارے دشمن نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں امید رکھنا ہوں کہ وہ قوم جو دنیا میں سب سے زیادہ خیرات دیتی ہے ، وہ ٹیکس دینے کوبھی فرض سمجھے گی ، اچھا ملک تو اس ملک میں آنا ہے ، یہ واحد ملک تھا جو اسلام کے نام پر بناتھا لیکن ہم اس سے دور چلے گئے ، ہم نے اس ملک کو ایک فلاحی ریاست بناناہے ۔کوئٹہ سے ایک تاجر کے سوال پر کہ وزیر اعظم اور کابینہ پہلے اپنے اثاثے خود ظاہر کرے تو وزیراعظم نے کہاہے کہ میر ے سارے اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں ، میرا ایک پیسہ پیسہ پاکستان میں ہے ، میں نے 25سال باہرکمائی کی اور سارا پیسہ ملک میں لیکر آیا ہوں
پی ٹی آئی حکومت کے معاشی بحران پر وزیراعظم کی معاشی ٹیم موجودہ صورت حال پر حکومتی کارکردگی اور اصلاحات پر تاویلیں پیش کرنے لگے. ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے حکومتی پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو کوئی اپنے اثاثے ڈیکلیئر کرے گا اسے قانونی تحفظ حاصل ہوگا.ریونیوکے وفاقی وزیر حماد اظہر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جولوگ اثاثےڈکلیئرڈکریں گےوہ عدالت میں بطورثبوت پیش نہیں کیےجائیں گے.اثاثےڈکلیئرڈکرنےوالوں کوہراساں نہیں کیاجائےگا.انہوں نےکہا کہ یہ حکومت کی پہلی اور آخری ایمنسٹی اسکیم ہے.حماد اظہر نے کہا کہ دیگر کئی ملکوں سے ڈیٹا آرہا ہے. عبد الحفیظ شیں نے کہا کہ بےنامی جائیدادرکھنےوالوں کےپاس موقع ہےٹیکس نظام میں آئیں.چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ تاجر اور کاروباری حضرات بے فکر رہیں کسی کو پریشان نہیں کیا جائے گا.
-

"مریم اورنگزیب فیصل واڈا کی”ماسی”؟
اسلام آباد :پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما اور وفاقی وزیر فیصل واڈا نے پاکسان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کو ماسی قرار دیا .مریم اورنگزیب کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے وفاقی وزیر فیصل واڈانے کہاہے کہ سب کو پتہ ہے کہ مریم اورنگزیب کو کس طرح نواز ا گیا سب کو اس بات کا علم ہے .مریم اورنگزیب ماسی تھیں جس طرح مالشیے ہوتے ہیں، اس طرح ماسیاں بھی ہوتی ہیں۔
فیصل واڈانے کہاہے کہ ہمیں اپوزیشن کا بہت کچھ پتہ ہے لیکن خاموش ہیں، مریم اورنگزیب خود سلیکٹڈ طریقے سے آئیں،ریجکیٹڈ اگر سلیکٹڈ کہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ میر ی وزارت میں تعلیم یافتہ لوگ چپڑاسی کی نوکری چاہتے ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف فیصل واڈا اپوزیشن پر مختلف ٹی وی شوز میں بڑے جارحانہ انداز میں تنقید کررہے ہیں.یہی وجہ ہےکہ اپوزیشن کی طرف سے بیان بازی کی گولہ باری کا نشانہ بھی اکثر و بیشتر فیصل واڈا ہی ہوتے ہیں
-

امریکہ باز نہ آیا تو مزید ڈرون گرا سکتے ہیں، ایرانی نیوی چیف کی دھمکی
ایران نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ باز نہ آیا تو وہ اس کے مزید ڈرون بھی گرائے گا.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی طرف سے یہ یہ دھمکی اس وقت دی گئی ہے جب امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو گلف ممالک کے دورہ پر ہیں. ایران کے نیوی چیف نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر ہماری حدود کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ مزید ڈرون گرانے سے دریغ نہیں کرے گا.
سربراہ ایرانی بحریہ ریئر ایڈمرل حسین خانزادی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ایران امریکا کے مزید جاسوس طیارے اور ڈرون مار گرائے گا اور ہم یہ صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ایران دوبارہ بھی ایسا ردعمل دے سکتا ہے اور دشمن یہ بات جانتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے چار روز قبل آبنائے ہرمز میں امریکا کا بغیر پائلٹ والا ڈرون مار گرایا تھا جس کی مالیت 10 کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے. ایران کی طرف سے ڈرون گرائے جانے کے بعد امریکہ نے ایران پر نئی پابندیوں کا بھی اعلان کر دیا ہے.
-
لودھراں : جواریوں کو گرفتار کر لیا گیا
لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) پرانے بازار میں سٹی پولیس لودھراں نے افغانسان اور بنگلہ دیش میچ پر جواء کھیلنے والے جواریوں پر مخبری پر چھاپہ مارا اور موقع پر پانچ جواری گرفتار کو گرفتار کر لیا گیا ہے ان کے قبضے سے نقدی، لیپ ٹاپ، موبائل فونز برآمد کر لیے ہیں اس کے علاوہ ملزمان کے قبضے سے داؤ پر لگے 7090 روپے، 11 موبائل فونز برآمد ہوئے، تھانہ سٹی پولیس لودھراں نے ایف آئی آر درج کر لی ہے
-

امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں لگا دیں، تازہ پابندیوں میں ایرانی سپریم لیڈر کو ٹارگٹ کیا گیا ہے
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر نئی امریکی پابندیاں لگا دی ہیں. ان پابندیوں کا اعلان ایران کی طرف سے امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد کیا گیا ہے.
Latest sanctions would target #Iran’s Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei – Trumphttps://t.co/MNwckTBoH6
— RT (@RT_com) June 24, 2019
باغی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق امریکہ کی طرف سے تازہ پابندیوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ٹارگٹ کیا گیا ہے. میڈیا رپورٹس میں ابھی امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے نئی پابندیاں لگائے جانے کی اطلاع دی گئی ہے، اس حوالہ سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی.Latest sanctions would target #Iran’s Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei – Trumphttps://t.co/MNwckTBoH6
— RT (@RT_com) June 24, 2019
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل اتوار کو کہا تھا کہ وہ آج پیر کے روز سے ایران پر مزید پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک ایسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کے لیے تیار ہیں جو ایران کی معیشت کو سہارا دے سکے۔
امریکی صدر کا یہ موقف اتوار کی شام NBC ٹی وی چینل کے پروگرام "میٹ دی پریس” میں گفتگو کے دوران سامنے آیا تھا . اسی طرح ٹرمپ نے ہفتے کے روز بھی اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ "ہم پیر کے روز ایران پر سخت اضافی پابندیاں عائد کریں گے اور یہ کہ ایران کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنا ممکن نہیں ہے.دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ایران کی خبر رساں ایجنسی نے وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ پابندیاں تمام نوعیت کی پابندیوں کے سائے میں محض ایک پروپیگنڈا ہے۔ اب مزید کوئی پابندی باقی نہیں رہی۔
ٹرمپ کی طرف سے تازہ پابندیوں کی خبروں پر ابھی ایران کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے.
-
بستی ملوک : مسافر وین حادثے کا شکار
بستی ملوک تھانہ بستی ملوک کے علاقہ اڈا بصیرہ کے قریب موٹروے روڈ پرمسافر وین کوحادثہ ایک خاتون زخمی
،تفصیلات کے مطابق مسافر وین نمبر CU/6842 تیز رفتاری کی وجہ سے پل کی دیوار سے ٹکرا کر پل کے نیچے جاگری۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122بستی ملوک اور موٹروے پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔ریسکیو1122نے معمولی زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جبکہ ایک شدید زخمی خاتون کو ہسپتال منتقل کر دیا مسافر وین کراچی سے ملتان جارہی تھی موٹروے پولیس نے مسافر وین کو کرین کی مدد سے پل میں سے نکال کر اپنی تحویل میں لے لیا.
-

اخبارات و جرائد کے ڈیکلریشن پر 5 ہزار روپے ڈیوٹی لگا دی گئی ہے
پاکستان میں اخبارات و جرائد اور پرنٹنگ پریس کی ڈیکلریشن پر 5 ہزار روپے فی ڈیکلریشن ڈیوٹی لگا دی گئی ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈیوٹی کا فیصلہ فنانس بل 2019ء میں کیا گیا ہے. یہ فیس ڈیکلریشن لینے والے کو ادا کرنا پڑے گی. جب تک یہ ڈیوٹی ادا نہیں کی جائے گی ڈیکلریشن کی تصدیق نہیں کی جاسکے گی.
واضح رہے کہ اخبارات و جرائد پر پانچ ہزار روپے ڈیوٹی لگائے جانے پر اخبارات و جرائد کے مالکان اسے اضافی بوجھ تصور کر رہے ہیں اور ان کی طرف سے خوشی کا اظہار نہیں کیا گیا.
-

پاکستان:میوزک انڈسٹری اپنے زوال کی طرف رواں دواں،فہد شیروانی کا میوزک انڈسٹری سے متعلق اہم بلاگ
لاہور :پاکستان میں میوزک انڈسٹری زوال کی طرف رواں دواں جدید میوزک کے ساتھ کلاسیکل موسیقی بھی دم توڑنے لگی.شاید اس کی وجہ جدید ٹیکنالوجی ہے یا پھر عوام الناس کی عدم دلچسپی اور یا پھر معاشی مسائل .بہر کیف یہ ماننا ہی پڑے گا کہ میوزک انڈسٹری کو شاید اب کوئی سہارا نہ مل سکے.ویسے بھی یہ بات ایک محاورے کے طور پر استعمال ہونے لگی ہے کہ انسان خوش ہو، غمزدہ ہو، پریشان ہو یا پھر جشن منانا چاہتا ہو ایک چیز ایسی ہے جو ہر حالت میں اس کا ساتھ دیتی ہے اور وہ ہے موسیقی۔ روح کی غذا کہلائی جانے والی موسیقی انسان کے موڈ اور مرضی کے مطابق اسے میسر ہوتی ہے۔ موسیقی انسان کی طبعیت پر خوشگوار اثرات چھوڑتی ہے اور اس کا موڈ بدلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
پاکستان میں موسیقی کا شمار بھی اس انڈسٹری میں ہوتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زوال کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ ماضی پر نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ میوزک انڈسٹری نے پاکستان میں بہت سنہرا دور دیکھا۔ اس سنہرے دور میں پاکستان نے لازوال اور صدیوں یاد رہ جانے والے لازوال گیت تخلیق کئے۔ ساتھ ساتھ بے شمار میوزک ڈائریکٹرز، گیت کار اور گلوکار بھی پیدا ہوئے جنہوں نے انمٹ گیت تخلیق کئے۔ پاکستان کی میوزک انڈسٹری کا ماضی مایا ناز موسیقار، گلوکار اور گیت کاروں سے بھرا پڑا ہے۔ جن کی بنائی ہوئی دُھنیں، جن کے گائے ہوئے گانے اور جن کے لکھے گئے الفاظ آج بھی دل میں چاشنی بھر دیتے ہیں۔پاکستان کی میوزک انڈسٹری نے مہدی حسن، احمد رشدی، اے نیّر، نور جہاں ، رونا لیلیٰ ، ناہید اختر جیسے کانوں میں رس بھرتے سریلے گلوکار، نثار بزمی ، ماسٹر عنائت ، ماسٹر عبداللہ، بخشی وزیر ،طافو خاں جیسے سُر لے اور تال کا حق ادا کرنے والے موسیقار اور احمد راہی ، خواجہ پرویز جیسے موتی اگلتے گیت کار پیدا کئے جنہوں نے نہ صرف خطے میں بلکہ دنیا میں ایک نام اور مقام پیدا کیا۔ قوالی کو جلا بخشنے والے اور اسے پوری دنیا میں متعارف کرانے والے استاد نصرت فتح علی خان پاکستان کی میوزک انڈسڑی کا وہ ستارہ ہیں جس کی روشنی سے آج بھی دنیا بھر کےلوگ فیضیاب ہو رہے ہیں۔ دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں استاد نصرت فتح علی خان کے نام سے نہ صرف ڈیپارٹمنٹ ہیں بلکہ ان پر پی ایچ ڈی بھی کرائی جا رہی ہے۔
پاکستان میں میوزک انڈسٹری کے زوال کا سب سے بڑا سبب پاکستان میں فلم انڈسٹری کی زبوں حالی ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان فلم انڈسٹری نے کافی فلمز بنائی ہیں اور یہ فلمز بڑے بڑے پوڈیوسر اور ٹی وی چینلز نے مل کر بنائیں۔لیکن اس کے باوجود وہ کوئی ایک ایسا گانا تخلیق کرنے میں ناکام رہے جس کو عوام میں پذیرائی حاصل ہوئی ہو یا زبان ذدعام ہوا ہو۔ میوزک کو فلم کی کامیابی کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے پاکستان فلموں کی ناکامی کی ایک اہم وجہ میوزک کا اچھا نہ ہونا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ پاکستان کی موجودہ فلم انڈسٹری کوئی ایک گانا ایسا نہ دے سکی جس نے شائقین کے دل میں گھر کیا ہو۔
میوزک کو زندہ رکھنے کا کام میوزک بینڈز یا سولو سنگرز کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں گنتی کے چند بینڈز یا سنگرز کے علاوہ سب اس سلسلہ میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کے زیادہ تر سنگرز بس ایک یا دو ہٹ گانے دینے کے بعد رک سے جاتے ہیں اور وہ اپنے انہی چند ہٹ گانوں کو ہر جگہ پرفارم کرتے ہیں۔ انہی چند گانوں کو بار بار سننے کی وجہ سے شائقین میں وہ سنگرز اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ نئے، اچھے اور عمدہ گانوں کے میسر نہ ہونے کے سبب پاکستان میں میوزک کنسرٹ بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں اور لوگوں کا رحجان پاکستانی میوزک سے ہٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں میوزک کمپنیاں بھی اپنا وجود کھو بیٹھی ہیں اور میوزک چینلز بھی بند ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہی ہو گئے ہیں۔
موسیقارو شاعر مبشر حسن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں میوزک انڈسٹری کے زوال کا سبب نئے گلوکاروں کا گائیکی کو سمجھے اور سیکھے بغیر اس فیلڈ میں آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میوزک ایک ایسا شعبہ ہے جس میں سیکھنا اور پریکٹس کرنا لازم و ملزوم ہے بغیر سیکھے گانا گا لینا ایسے ہی ہے جیسے کسی ایسے بندے کو گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا دینا جس کو ڈرائیونگ نہ آتی ہو، جس کا نتیجہ حادثے کی صورت میں نکلتا ہے۔ مبشر حسن کے بقول پاکستان کی میوزک انڈسڑی کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ یہ اناڑیوں کے ہاتھ لگ گئی جس کے باعث آج پاکستان کی میوزک انڈسٹری زوال کا شکار ہے۔ سولو سنگرز میں ساحر علی بگا، آئمہ بیگ، بلال سعید، عاصم اظہر اور فلک شبیر وہ چندنام ہیں جنہوں نے پاکستان میں میوزک انڈسٹری کو بہرحال کسی نہ کسی طرح سے بچا کرکھا ہوا ہے۔ خصوصا ساحر علی بگا، بلال سعید اور عاصم اظہر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کے ہر نئے آنے والے گانے کو پاکستان اور پاکستان سے باہر ملنے والی پذیرائی انتہائی قابل تحسین ہے۔ نوجوانوں میں ساحرعلی بگا، بلال سعید اور عاصم اظہر کے گانوں کی روز بروز بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کی ڈیمانڈ پاکستان میوزک انڈسٹری کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
میوزک انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد اور کمیونٹی کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کی کلچرل منسٹری کو بھی اس شعبے کی ترقی کی طرف توجہ دینی چاہئیے اور ملک کے انسٹیٹوٹس میں اس کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ اس کو باقاعدہ سکھایا جائے جیسے دنیا کے مختلف ممالک میں کیا جا رہا ہے۔
-

دوسری شادی جرم یا معاشرے پر احسان ؟؟ محمد عبداللہ
ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ دوسری شادی پر لاگو شرائط مثلاً بیوی سے اجازت کے ساتھ ساتھ مصالحتی کونسل کی اجازت کے حوالے سے سب سے زیادہ آواز وہ اٹھا رہے ہیں جن کی ابھی ایک بھی نہیں ہوئی اور اگلے کئی سالوں تک دور دور تک ان کی کنوارگی ختم ہونے کے امکانات نظر نہیں آ رہے.
بہر حال یہ شرائط کسی طور بھی مدینہ کی اسلامی ریاست میں لاگو نہیں تھیں. دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کرنا خالصتا کسی بھی فرد کا ذاتی، انفرادی اور خاندانی ایشو یا عمل ہے گورنمنٹ اور مصالحتی کمیٹیوں اور کونسل کو ان میں دخل دینے کا اختیار بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے. یہ ہمارے برصغیر کا ہی ایشو ہے جس میں دوسری، تیسری شادی کو برائی کی حد تک معیوب سمجھا جاتا ہے. یہاں پر سوکن اور دوسری شادی جیسے لفظوں کو گالی کی حد تک برا سمجھا جاتا ہے اور ان کے حوالے سے ہمارے مقامی معاشرے میں بالکل بھی برداشت یا قبولیت نہیں ہے.
عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ
حالانکہ دوسری شادی کرنے والا نہ تو جہیز وغیرہ کا طالب ہوتا اور نہ ہی دیگر سخت شرائط عائد کرتا ہے جن کی وجہ سے بیٹیوں کے والدین کی زندگیاں عذاب بنی ہوتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ فضول رسموں اور رواجوں میں بھی دوسری شادی کے وقت پیسہ اور وقت برباد نہیں کیا جاتا ہے دوسری طرف کیفیت یہ ہے کہ سینکڑوں یا ہزاروں نہیں لاکھوں بیٹیاں اور بہنیں وطن عزیز میں ایسی ہیں جو جہیز اور لڑکے والوں کی سخت ترین شرائط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے دل میں لاکھوں ارمان لیے والدین کے گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں. پاکستان میں خواتین کی ویسے ہی ماشاءاللہ سے کثرت ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ دوسری شادی پر پہلے ہی والدین ڈرتے رہتے ہیں. ایسے میں جب آپ دوسری ، تیسری شادی کے حوالے سے اتنی سخت شرائط عائد کردو گے تو اس سے معاشرے میں انصاف نہیں پھیلے گا صاحب بلکہ شادیوں کی شرح کم ہوگی اور جس معاشرے میں شادی کی شرح کم ہوتی ہیں وہاں بے حیائی اور زناء کی شرح بڑھ جاتی ہے.
اس کے ساتھ ساتھ گھروں اور خاندانوں کے عائلی مسائل جب آپ ان مصالحتی کونسلوں کے سپرد کرو گے تو اس سے بھی گھروں اور معاشروں میں اصلاح کی بجائے بگاڑ ہی پیدا ہوں گے. کوئی بھی بندہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی بہن، بیوی اور بیٹی کا مسئلہ باہر کے لوگ حل کرتے پھریں.
ہاں آپ اس پر چیک اینڈ بیلنس رکھو کہ کہیں کوئی شوہر اپنی بیوی سے ناروا سلوک تو نہیں کرتا، ظلم و زیادتی کا رویہ تو نہیں روا رکھتا.لہذا جو صاحب استطاعت ہیں ان کو کسی بھی شرط کے بغیر دوسری یا تیسری شادی وغیرہ کی اجازت ہونی چاہیے بلکہ اس عمل کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے. سب سے بڑھ کر جب اسلام نے دوسری شادی پر کوئی قدغن، پابندی یا شرط نہیں لگائی بلکہ کتاب و سنت سے اس پر واضح احکام ملتے ہیں اور اسلام اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اسلام سے بھی آگے نکل کر یہ شرائط اور پابندیاں لگانے والے؟؟

Muhammad Abdullah
