Baaghi TV

Blog

  • عراق کے مذہبی رہنما مقتدی الصدر کا اپنی فورس تحلیل کرنے کا عندیہ

    عراق کے مذہبی رہنما مقتدی الصدر کا اپنی فورس تحلیل کرنے کا عندیہ

    عراق میں مزہبی رہنما مقتدی صدر نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کی تنظیم ” السلام بریگیڈز (الصدری گروپ کا عسکری ونگ) عراق میں سیکیورٹی اور انتظامیہ کے درمیان رکاوٹ ہے تو میں اس سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے تیار ہوں”۔

    باغی ٹی وی رپورٹ عراق میں مزہبی رہنما مقتدی صدر نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کی تنظیم "اگر السلام بریگیڈز (الصدری گروپ کا عسکری ونگ) اس سلسلے میں رکاوٹ ہے تو میں اس سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے تیار ہوں”۔
    اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں الصدر نے کہا کہ وہ عراقی عوام کو مطلع کریں گے کہ سیاسی، پارلیمانی اور حکومتی پردوں کے پیچھے کیا ہو رہا ہے ،،، اور اس حوالے سے قوم کے سامنے متعدد اہم نقاط پیش کریں گے۔

    الصدر نے مزید کہا کہ یہ لوگ فرقہ وارانہ، نسلی اور جماعتی بنیادوں پر تقسیم کے علاوہ ایک پرانی ریاست کی جڑیں کھودنے پر مصر ہیں۔

    الصدری گروپ کے سربراہ کے مطابق انہوں نے خود کو وزارتی تشکیل سے دور رکھا اور کوشش کی کہ کابینہ خود مختار ٹکنوکریٹس پر مشتمل ہو تاہم بہت کم لوگوں نے ان کی مدد کی۔

    مقتدی الصدر نے اعلان کیا کہ وہ اس بات کا مصمم ارادہ کر چکے ہیں کہ وہ خود کو اُن تمام منصبوں اور عہدوں سے دور رکھیں گے جو غلط معیار کے مطابق ہوں گے۔

    الصدر نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ "ہم امید کر رہے تھے کہ حب الوطنی حکومت کی اولین ترجیح ہو گی۔ تاہم افسوس کی بات ہے کہ عراق کے فیصلے اب بھی پس پردہ ہو رہے ہیں … بعض عناصر علاقائی تنازع کو ایندھن سے بھڑکا رہے ہیں تا کہ عراق کو خطرے میں ڈالا جا سکے”۔

    مقتدی الصدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پر امن مظاہرین کے تحفظ کے لیے جلد حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "انسداد بدعنوانی کونسل کا کام ابھی تک باعث شرمندگی اور سست ہے”۔

    الصدر نے مطالبہ کیا کہ فوج، پولیس اور سیکورٹی اداروں کو زیادہ مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر السلام بریگیڈز (الصدری گروپ کا عسکری ونگ) اس سلسلے میں رکاوٹ ہے تو میں اس سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے تیار ہوں”۔

    یاد رہے کہ مقتدی الصدر کے سیکڑوں پیروکاروں نے چند روز قبل دارالحکومت بغداد اور دیگر کئی صوبوں میں ملک میں مقننہ اور انتظامیہ کی کارکردگی کے خلاف احتجاجی مطاہرے کیے تھے۔

  • آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آئس ہیروئن کہاں بن رہی ہے، منشیات کیس میں عدالت کے ریمارکس

    آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آئس ہیروئن کہاں بن رہی ہے، منشیات کیس میں عدالت کے ریمارکس

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے منشیات کے استعمال کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آئس ہیروئن کہاں بن رہی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کےتعلیمی اداروں میں بڑھتےہوئے منشیات کے استعمال کےخلاف کیس پرسماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کےجسٹس عامرفاروق نےکیس کی سماعت کی، کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ائس ہیروئن کہاں بن رہی ہے،جس سےمنشیات برآمد ہواس کوپکڑا جاتاہےمگرجہاں بن رہی ہواسکاعلم نہیں،

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ سابقہ وزیرداخلہ نےکہا تھا کہ 75فیصد لڑکیاں،45فیصد لڑکےڈرگ استعمال کرتے ہیں،عدالت نےوزارت داخلہ،تعلیم،صحت کےجوائنٹ سیکریٹریزکوذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ،عدالت نے ڈائریکٹراےاین ایف کو بھی آئندہ سماعت پرذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،عدالت نے فریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئےسماعت2ہفتے تک کیلئےملتوی کردی.

    واضح رہے کہ سابق وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی نے بیان دیا تھا کہ اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں 75%طالبات اور 45%طلبہ کرسٹل آئس نشے کے عادی ہیں،اسلام آباد کے بڑے بڑے اسکولوں کے کیفوں میں آئس ہیروئن بک رہی ہے، منشیات کو کینڈی کے ریپر میں دیا جاتا ہے

  • امریکی رپورٹ نے  بھارت میں  مذ ہبی دھشت گردی  کا مکروہ چہرا ننگا کر دیا

    امریکی رپورٹ نے بھارت میں مذ ہبی دھشت گردی کا مکروہ چہرا ننگا کر دیا

    ‎امریکی انتظامیہ کی جانب سے عالمی مذہبی آزادی سے متعلق 2019 کی رپورٹ نے مودی کےبھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے عیاں کر دیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 2 سال سے مذہبی دہشت گردی عروج پر پہنچ چکی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکا کی جانب سے مذہبی آزادی سے متعلق جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہندو قوم پرست دھڑوں نے ‘ہندوتوا’ کے تحت غیر ہندوؤں پر تشدد کیا اور انہیں دہشت اور خوف کا نشانہ بنایا گیا جب کہ مودی حکومت نے گزشتہ دور میں اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‎حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ سیاسی لیڈر کھلے عام ‘ہندوتوا’ کا پرچار کرتے ہیں اور مودی حکومت کا مستقبل میں بھی توجہ نہ دینے کا عندیہ نظر آرہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‎ایک تہائی ریاستی حکومتوں نے گائے کی ذبح پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور ‎گائے ذبح کرنے کی جھوٹی اطلاع پر بھی مسلمانوں کو سرعام تشدد کر کے قتل کیا گیا۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق ‎دودھ، دہی، چمڑے اور گوشت کے کاروبار سے وابستہ افراد پر تشدد ہوا اور ان کاروبار سے وابستہ 10 افراد کو گزشتہ سال قتل کیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں سمیت اقلیتوں کی زبردستی مذہب کی تبدیلی کی تقاریب ہورہی ہیں، غیر ہندوؤں کو "گھر واپسی” نامی تقاریب منعقد کر کے زبردستی ہندو بنایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ‎بھارت کی 10 ریاستوں میں اقلیتوں کے لیے حالات بدتر ہوچکے ہیں، ان میں اتر پردیش، آندھرا پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، اڑیسہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور راجھستان شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکا نے بھارت کو مذہبی دہشت گردی کی فہرست میں بدترین ممالک میں شامل کر رکھا ہے۔

  • متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    بچپن میں جب سنتے تھے کہ شہروں کے اندر کچھ ایسے سینما بھی ہوتے ہیں جن میں بہن بھائی، باپ بیٹی ، ماں بیٹا اکٹھے بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں تو کافی حیرانگی ہوتی تھی. سن شعور کو پہنچا تو ایک دن اپنی بڑی بہن سے پوچھ بیٹھا کہ یہ سب اکٹھے بیٹھ کر دیکھنا کیسے ممکن ہے بھلا…ان کو شرم و حیا نہیں آتی. بہن کہنے لگی تم بھی تو سب کے سامنے بیٹھ کر عینک والا جن، انگار وادی، الفا براوؤ چارلی، آہن وغیرہ دیکھتے رہتے ہو اور صرف یہی نہیں بلکہ ابرارالحق کا دسمبر ، حدیقہ کیانی کی بوہے باریاں، شہزاد رائے کا کنگنا اور عدنان سمیع خان کی ڈھولکی نہ صرف سنتے ہو بلکہ گنگناتے بھی ہو…. تو ایک بار واقعی چلو بھر پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تھی.

    میں نے پھر بھی ڈھیٹ بن کر سوال داغا کہ اس کے اندر تو اتنا کچھ برا نہیں ہوتا لیکن سینما فلموں میں تو سنا ہے بہت فحاشی ہوتی ہے…. بہن کہنے لگی جس طرح تم یہ سوچتے ہو کہ یہ کوئی اتنی برائی والی بات نہیں… ٹی وی پر فحاشی کم ہے فلموں میں زیادہ… تو اسی طرح شہروں والے لوگ بھی یہ سوچتے ہیں کہ پاکستانی فلموں میں اتنی فحاشی نہیں ہوتی انڈین اور انگریزی فلموں میں فحاشی زیادہ ہوتی ہے. اس دن کے بعد مجھے سمجھ آ گئی کہ اگر کوئی بری چیز آپ میں رچ بس چکی ہے تو وہ آپ کو بری نہیں لگے گی بالکل اسی طرح جیسے بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہنے والا چرواہا ان کے پیشاب و مینگنی کی بدبو سے پریشان ہوئے بغیر سکون کے ساتھ ان کے قریب سو سکتا ہے….!

    لبرل طبقے نے پہلے ہمیں یہ سکھایا کہ عورت گھر میں قید نہیں کی جا سکتی… پھر مزید دو قدم آگے بڑھ کر پردے پر حملہ کیا کہ یہ معاشرتی ترقی میں رکاوٹ ہے اور اب اس سے اگلا قدم کہ پردے کے احکامات کو ہی داغ قرار دے دیا گیا… تضحیک کا نشانہ بنایا گیا. دکھ یہ نہیں کہ معاشرے میں بےپردگی و بے حیائی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے بلکہ دکھ یہ ہے کہ برائی کو برائی ہی نہیں سمجھا جا رہا… اور اسے معاشرتی ترقی کا نام دیا جا رہا ہے. اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ یہ داغ ہمیں نہیں روک سکتے.

    وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا….!
    کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

    بات سیدھی سی ہے کہ پردہ اس لیے ضروری ہے تا کہ اگر عورت گھر سے باہر نکلے تو کرے… گھر کے اندر رہتے ہوئے تو اس نے چہرہ کھلا ہی رکھنا ہے . لیکن اب اگر عورت کو مستقل بنیادوں پر گھر سے باہر نکال دیا جائے… اسے ہر وہ کام کرنے کی ترغیب دی جائے جو مردوں کے کرنے والے ہیں… ماڈلنگ سے لیکر کرکٹ کھیلنے تک… گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ائیر ہوسٹس سے لیکر سیلز گرل بنانے تک… تو یہ سارے کام کم از کم اسلام کے طریقوں کے مطابق نہیں. اسلام نے صرف مجبوری کی حالت میں یا چند فرائض کی بنیاد پر عورت کو گھر سے باہر آنے کی اجازت دی ہے (پردہ کر کے ).. ورنہ عمومی حکم تو گھر میں ہی رہنے کا ہے لیکن ان داغ دار دماغوں نے نہ صرف گھر میں ٹکنے کو داغ قرار دے دیا بلکہ پردہ کر کے گھر سے باہر آنے کو بھی. ان کی خواہش ہے کہ عورت گھر میں رہنے کی بجائے مرد کے شانہ بشانہ چلے اور ہر وہ کام کرے جو مرد کر سکتے ہیں اور یہ وہ ذہنی لیول ہے جب سوچا جاتا ہے کہ اس میں کون سی برائی ہے بھلا… صرف چہرہ ہاتھ اور پاؤں ننگے ہیں… شرم گاہ، سینہ، ٹانگیں وغیرہ تو ڈھانپی ہی ہوئی ہیں. انا للہ وانا الیہ راجعون.

    میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا لیکن صورتحال کافی تکلیف دہ محسوس ہو رہی تھی جس کی وجہ سے قلم اٹھانا پڑا. معاشرے میں بگاڑ اسی طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک برائی کو اچھائی یا روشن خیالی سمجھ کر اپنایا جاتا ہے اور جب وہ برائی برائی محسوس ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ کہ بگاڑ کی ابتداء ہو چکی. کل تک معاملہ عورت کے گھر سے باہر نکل کر جاب کرنے کا تھا… آج کھیل میں عورت شامل ہو چکی ہے… صرف شامل نہیں ہو چکی بلکہ اسے اپنانے کی دعوت بھی دے رہی ہے. اور مستقبل کی تصویر کیا ہو سکتی ہے.. وہ آپ چشمِ تصور سے دیکھ لیں. یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب آپ کے معاشرے کی رائے عامہ آپ کو پرانے زمانے کا انسان قرار دے کر لات مارنے کے درپے ہوتی ہے تو ایسے موقع پر سب سے مناسب بات یہی ہے کہ ایسی رائے عامہ قائم نہ ہونے دی جائے ورنہ کل آپ بھی یہی کہیں گے کہ پاکستانی فلموں میں تو کوئی فحاشی نہیں ہوتی بہ نسبت انڈین اور انگریزی فلموں کے اس لیے یہ فلمیں اور ڈرامے اپنی بہنوں بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں.

    ہو سکتا ہے کوئی یہ بھی سوچ رہا ہو کہ وہ پرانے وقتوں کی بات تھی جب سینما میں اکٹھے جانا مجبوری تھی یا ٹی وی پر بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر ہی ڈرامے فلمیں دیکھی جاتی تھیں تو اب تو اپنا موبائل ہے جو مرضی دیکھیں… دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے والی بات ہی نہیں کوئی. تو ان کے لیے اتنا عرض کروں گا کہ مان لیا جو کچھ آپ موبائل پر بند کمرے میں دیکھتے ہیں وہ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم لیکن جو واٹس اپ یا فیس بک سٹیٹس آپ لگاتے ہیں وہ بشمول خاندانی افراد ساری دنیا دیکھتی ہے مگر مزید یہ بھی کہ آپ کے گھر میں، آپ کی فیملیز کے ہاتھوں جو جو موبائل پر دیکھا جا رہا ہے وہ بھی اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں.

    میرا بات کرنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اپنی بہنوں بچوں سے موبائل چھین لیے جائیں… یا اپنا موبائل توڑ دیا جائے. اس کا یہ حل ہرگز نہیں. حل ہے تو بس یہی ہے کہ خود احتسابی کا عمل رکنے نہ پائے اور احساس بیدار رہے۔ ایسی رائے عامہ قائم کی جائے جو برائی کو برائی ہی سمجھے. اپنے ذاتی اعمال کا ہر بندہ خود ذمہ دار ہے لیکن یہ نہایت تکلیف دہ بات ہے کہ جس طرح میں بچپن میں سوچتا تھا.. کوئی یہ نہ کہے کہ ایک تیس سیکنڈ کا کلپ ہی تو تھا گانے کا اس کو واٹس اپ اسٹیٹس لگانے سے کیا ہوتا ہے بھلا…. جو ویسے بھی چوبیس گھنٹے کے بعد غائب ہو جائے گا.

  • پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں میں کتنے فوائد؟ جانیے رپورٹ میں

    پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں میں کتنے فوائد؟ جانیے رپورٹ میں

    پھلوں اور سبزیوں میں موجود چھلکے میں چھپے فوائد کی وجہ سے ماہرین غزاء پھل اور سبزیاں چھلکے سمیت کھانے کی تجویز دیتے ہیں .

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پھلوں اور سبزیوں میں موجود چھلکے میں چھپے فوائد کی وجہ سے ماہرین غزاء چھلکے سمیت کھانے کی تجویز دیتے ہیں .
    پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے اتارنے کا مطلب صفائی لیا جاتا ہے جب کہ ہر سبزی اور پھل کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔
    چھلکے کا مطلب بھرپور فائبر کا استعمال ہے اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اینٹی اوکسی ڈینٹس، وٹامن اور معدنیات بھی ان میں بھرپور ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ گودے سے 33 فی صد فائبر چھلکے میں ہوتا ہے اور اینٹی اوکسی ڈینٹس 328 گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔
    مختلف پھلوں اور سبزیوں میں یہ مقدار مختلف ہوسکتی ہے لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ چھلکے کی افادیت اپنی جگہ ہے۔
    پھلوں میں آلو بخارا، خوبانی اور آڑو کے چھلکے میں فائبر 38 فی صد ہوتا ہے۔
    اسی طرح اکثر لوگ سیب کا چھلکا اتار کر کھاتے ہیں جب کہ سیب کا چھلکا فائبر، وٹامن اے اور وٹامن سی سے بھر پور ہوتا ہے۔

    ماہر غذائیت کھیرے کو بھی چھلکے سمیت کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ کینو موسمبی کے چھلکے کھائے نہیں جا سکتے لیکن ان کا استعمال بعد میں کیا جاسکتا ہے۔ ان چھلکوں کو سکھانے کے بعد ان کا استعمال مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔

  • فریال تالپورکوتاحال عدالت کیوں پیش نہ کیا جا سکا؟ اہم خبر آ گئی

    فریال تالپورکوتاحال عدالت کیوں پیش نہ کیا جا سکا؟ اہم خبر آ گئی

    سابق صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر آج انہیں عدالت پیش کیا جائے گا،عدالت کے جج بیٹھے رہے لیکن فریال تالپور کو نیب نے پیش نہ کیا، جج کو بتایا گیا کہ گاڑی خراب ہو گئی ہے، انتظام ہوتا ہے تو عدالت لاتے ہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فریال تالپور کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر آج انہیں عدالت پیش ہونا تھا، تا ہم نیب کی گاڑٍی خراب ہونے کی وجہ سے ابھی تک انہیں عدالت پیش نہیں کیا گیا. جج ارشد ملک نے عدالت میں موجود سحر کامران سے استفسار کیا کہ کہ بتایا گیا ہے کہ فریال تالپور کا میڈیکل ہونا باقی ہے جس پر سحر کامران نے کہا کہ تفتیشی افسر نے بتایا ہے کہ گاڑی خراب ہونے کے باعث پیشی میں تاخیر ہوئی،تفتیشی افسرکے مطابق جیسے ہی گاڑی کا انتظام ہوگا عدالت میں پیش کردیا جائیگا، جس پر جج ارشد ملک نے کہا کہ جب فریال تالپورکو پیش کریں گے تب ہی کیس کی سماعت ہوگی،اتنا کہہ کر جج ارشد ملک اپنے چیمبر میں چلے گئے

    واضح رہے کہ فریال تالپور کی جعلی بینک اکاونٹ کیس میں ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد نیب نے انہیں گرفتار کیا ہے، نیب نے فریال تالپور کی رہائشگاہ کو سب جیل قرار دیا ہے. عدالت نے فریال تالپور کا جسمانی ریمانڈ دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ تفتیش کے وقت وہاں خواتین افسران بھی موجود ہوں.

  • ریلوے کے ریٹائرڈ ڈرائیور کو سنائی شیخ رشید نے خوشخبری

    ریلوے کے ریٹائرڈ ڈرائیور کو سنائی شیخ رشید نے خوشخبری

    وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ منتخب آدمی کو سیلکٹڈ کہنا نامناسب بات ہے، پاک فوج کو دنیا کی عظیم فوج سمجھتا ہوں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منتخب آدمی کو سلیکٹڈ کہنا نا مناسب بات ہے، شہباز شریف اور میری مدر پارٹی ایک ہی ہے، ہم نے کبھی پارٹی نہیں بدلی۔ شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ یہ چاہتے ہیں لندن جانے دو،دفع کریں ان کو جانے دیں ،پاک فوج کو دنیا کی عظیم فوج سمجھتا ہوں،ریلوے میں میراایک سال مکمل ہونے پر بھی رپورٹ جاری کی جائے گی .

    شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے اداروں کو بہتر بنانے کا تہیہ کیا ہوا ہے، 3 سے 4 ارب کا خسارہ کم کرنے کی کوشش کی ہے، تیل کی قیمت بڑھنے سے کرایوں میں اضافہ کیا گیا، 17 لاکھ لیٹر تیل بچایا اور 34 ٹرینیں بھی چلائی ہیں۔ نئی چلائی جانیوالی 10 ٹرینیں منافع میں جا رہی ہیں،

    وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ریلوے کے ریٹائرڈ ڈرئیواز کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ 30فیصدریلوے کے ریٹائرڈ ڈرائیورز کو دوبارہ رکھنے رہ غور کرر ہے ہیں،اسسٹنٹ ڈرائیورز کی ٹریننگ کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے وزیراعظم کو ایوان میں سیلکٹڈ کہنے پر پابندی لگاتے ہوئے کہا تھا کہ یہاں جو بھی بیٹھا ہے وہ منتخب ہو کر آیا ہے،

    وزیراعظم عمران خان کو اپوزیشن جماعتیں سیلکٹڈ وزیراعظم کہتی ہیں.

  • دوسری شادی کرنے والوں کےلیے ایک اور شرط لگا دی گئی،

    دوسری شادی کرنے والوں کےلیے ایک اور شرط لگا دی گئی،

    دوسری شادی کے لیے بیوی سے اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری ہوگی۔ عدالت عالیہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 12 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا جس کے مطابق دوسری شادی کے لیے بیوی سے اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری ہوگی۔
    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کشمیر کے شہری لیاقت علی میر کی بریت کے خلاف پہلی بیوی کی اپیل پر سماعت کی اور بریت کو کالعدم قرار دے دیا۔

    لیاقت علی میر کو ایک ماہ قید اور 5 ہزار روپے جرمانے کی سزا سناتے ہوئے عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جس شخص کے پاس قومی شناختی کارڈ ہے، اس پر تمام قوانین کا اطلاق ہوگا۔

    فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ بیوی کی اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل انکار کردے تو دوسری شادی پر سزا ہوگی، ایڈیشنل سیشن جج میرٹ پر لیاقت علی میر کی دوسری شادی کیس کا فیصلہ کریں۔

    ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ چونکہ نکاح اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہے اس لیے عدالت کا مکمل دائرہ اختیار ہے جب کہ مسلم فیملی لاء آرڈیننس 1961 کے مطابق اجازت کے بغیر شادی کرنے والے شخص کو سزا اور جرمانہ ہوگا۔

    یاد رہے کہ مجسٹریٹ اسلام آباد نے مصالحتی کونسل کی اجازت کے بغیر شادی کرنے والے آزاد کشمیر کے رہائشی لیاقت علی کو سزا سنائی تھی۔

    دلشاد بی بی اور لیاقت علی میر نے 2011 میں پسند کی شادی کی اور 2013 میں لیاقت علی نے بیوی اور مصالحتی کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی تھی۔

  • صرف جاب تلاش نہ کریں کام کریں‎ … عمیر ضیاء

    صرف جاب تلاش نہ کریں کام کریں‎ … عمیر ضیاء

    ”کیپ ٹائون ” کا ان پڑھہ سرجن مسٹر ” ھیملٹن ” جس کو ماسٹر آف میڈیسن کی اعزازی ڈگری دی گئی ____ جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا _____ یہ کیسے ممکن ھوا آئیے بتاتے ہیں ______
    کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔
    دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘
    اس یونیورسٹی نے چند سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو

    ”ماسٹر آف میڈیسن“

    کی اعزازی ڈگری سے نوازا جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔
    جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا
    اور
    نہ ہی لکھ سکتا تھا…..

    لیکن 2003ء کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا:،
    "ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے،
    جو ایک غیر معمولی استاد، اور
    ایک حیران کن سرجن ہے، اور
    جس نے میڈیکل سائنس
    اور
    انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔

    اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ” ہیملٹن ” کا نام لیا،
    اور
    پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا ۔

    یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا“۔
    ”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅں ” سنیٹانی ” میں پیدا ہوا۔
    اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا، اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاﺅں پھرتاتھا،
    بچپن میں اس کاوالد بیمار ہو گیا لہٰذا وہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر "کیپ ٹاﺅن” آگیا۔ ان دنوں ” کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی ” میں تعمیرات جاری تھیں۔
    وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔
    اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ،وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتاتھا
    اور
    خود چنے چبا کر کھلے گراﺅنڈ میں سو جاتاتھا۔
    وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا

    تو

    وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ ……
    اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، ……..
    وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا ، . ……

    وہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا ……
    پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا
    اور
    وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاں آج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔

    یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی۔”پروفیسررابرٹ جوئز” زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھےکہ:

    "جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا،”

    انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا،اسے بے ہوش کیا،
    لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا، زرافے نے گردن ہلا دی،
    چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑ کر رکھے۔

    پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ‘ہیملٹن’ گھاس کاٹ رہا تھا،
    پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ” ہیملٹن” نے گردن پکڑ لی،

    یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر چائے اورکافی کے وقفے کرتے رہے، لیکن
    ” ہیملٹن ”
    زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔

    دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہرا کام کرتا رہا،
    اور
    اس نے اس ڈیوٹی کا کسی قسم کا اضافی معاوضہ طلب کیا
    اور
    نہ ہی شکایت کی۔

    پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا
    اور
    اس نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔

    ” ہیملٹن ” کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔

    1958ء میں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ” ڈاکٹر برنارڈ ” یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کر دیئے۔

    ” ہیملٹن ” ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ” ڈاکٹر برنارڈ”
    کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔

    اب ڈاکٹر آپریشن کرتے
    اور
    آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا….

    چنانچہ
    بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔

    وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا،
    لیکن
    وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہترسرجن تھا۔

    1970ءمیں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی. …..جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔

    اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا،

    آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے
    اور
    مریض آنکھ کھول کر روشنی کو دیکھتا ہے
    تو
    اس کامیاب آپریشن کا ثواب براہ راست ” ہیملٹن ” کو چلا جاتا ہے، اس کا محسن ‘ہیملٹن” ہوتا ہے“

    ” ہیملٹن ” نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں
    اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔
    وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور
    ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔
    لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے،

    ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا،

    اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت
    اور
    سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا…….

    پھر

    اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں
    اور
    اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔

    وہ میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد تھا۔
    وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی،
    وہ 2005ء میں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیاگیا
    اور
    اس کے بعد یونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد
    اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں
    اور
    اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں….“

    میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا:
    ”تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا“

    نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا:

    ”صرف ایک ہاں سے‘

    جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیاتھا
    اگر وہ اس دن انکار کردیتا، اگر وہ اس دن یہ کہہ دیتا میں مالی ہوں میرا کام زرافوں کی گردنیں پکڑنا نہیں
    تو
    وہ مرتے دم تک مالی رہتا.

    یہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا“ ۔

    ”ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں.

    جبکہ

    ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے“

    ” دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائی ٹیریا ہوتا ہے اور
    یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائی ٹیریا پر پورا اترتا ہے
    جبکہ
    کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔

    "” ہیملٹن”” اس راز کو پا گیا تھا لہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی. یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔

    ذرا سوچو، اگر وہ سرجن کی جاب کے لئے اپلائی کرتا

    تو

    کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں،
    لیکن
    اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی
    اور
    سرجنوں کا سرجن بن گیا اور ہم اس لیے بے روزگار اور ناکام رہتے ہیں کہ صرف جاب تلاش کرتے ہیں، کام نہیں، جس دن "” ہیملٹن”” کی طرح کام شروع کردیا
    تم نوبل پرائز حاصل کر لوگے،
    بڑے اور کامیاب انسان بن جاﺅ گے

  • فلسطینیوں کو جو فارمولہ قبول ہوگا سعودیہ بھی اسی کی حمایت کرے گا.عادل الجبیر

    فلسطینیوں کو جو فارمولہ قبول ہوگا سعودیہ بھی اسی کی حمایت کرے گا.عادل الجبیر

    سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو جو فارمولہ قبول ہوگا سعودیہ بھی اسی کی حمایت کرے گا.

    تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نےکہا ہے کہ جس امن فارمولے کو فلسطینی قوم قبول کرے گی اس پرعرب ممالک بھی اتفاق کریں‌گے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے معاشی مسائل کےحل کی کوششوں کےساتھ ساتھ فلسطینیوں کےدیرینہ سیاسی حقوق کے حل کے لیے بھی موثر انداز میں‌کوشش کی جانی چاہیے تاکہ فلسطینیوں اور اسرائیل کےدرمیان جاری تنازع کو حقیقی معنوں‌میں ختم کیا جا سکے۔

    انہوں‌نے کہا کہ ہر وہ تجویز جس سے فلسطینیوں کے حالات کی بہتری کی راہ ہموار ہو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ یہاں میں یہ کہوں‌گا کہ فلسطینیوں کےسیاسی حقوق کا حل حد درجہ اہم اور ناگزیر ہے۔

    عادل الجبیر نے مزید کہا کہ سعودی عرب سنہ 1967ء کے عرب علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی مملکت کا دارالحکومت بنائے جانے کے مطالبے کی حمایت جاری رکھے گا۔